واجباتِ نماز  میں سے اگر کوئی واجب بھو لے سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔اگر سجدہ سہو واجب ہو نے کے باوجود سجدہ نہ کیا تو نماز لو ٹانا واجب ہے جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کافی نہیں بلکہ نماز لو ٹانا واجب ہے ۔فرض ترک ہو نے سے نماز جاتی ر ہتی ہے سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہذا دوبارہ پڑ ھیے۔

سنتیں اور مستحبات کے ترک ہو نے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو تا نماز میں اگر چہ دس واجب ترک ہو ئے ہوں سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں۔

سجدہ سہو واجب ہو نے کی دس صورتیں:

1۔ دعائے قنوت پڑ ھنا بھول گئی اور ر کوع میں چلی گئی نہ لوٹے اور سجدہ سہو کر ے۔

2۔تعدیلِ ارکان مثلاً رکوع کے بعد کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سید ھا کھڑا ہو نا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔

3۔ تکبیرِ قنوت بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔

قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑ ھا اللھم صلی علی محمد تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔ اس وجہ سے نہیں کہ درود پڑھا اس وجہ سے کہ قیام میں تا خیر ہو گئی۔

5۔ اگر اتنی د یر یعنی جتنی دیر درود شریف کےمذکورہ الفاظ پڑھنے میں لگتی ہے سکوت یعنی خاموش رہی تب بھی سجدہ سہو واجب ہے۔

6۔قعدۂ اولیٰ کا ترک بھولے سے ہوا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔ اگر چہ نماز نفل ہو ۔( نفل میں چار یا اس سےزیادہ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہیں تب ہر دودو رکعت کے بعد قعدہ کرنا فر ض ہے۔اور ہر قعدہ قعدۂ اخیرہ ہے اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑی ہو گئیں۔تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئیں اور سجدہ سہو کریں۔

7۔دونوں قعدوں میں تشہد مکمل پڑ ھنا اگر ایک لفظ بھی چھوٹا تو واجب ترک ہو جائے گا اور سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔

8۔فرضوں کی تیسری اور چوتھی ر کعت کے علاوہ باقی تمام نمازوں کی ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنا اور ساتھ سورت ملانا یا قرآن ِپاک کی ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آ یتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیات پڑھنا واجب ہے اور اس کا ترک ہو گیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔

9۔قو مہ اور جلسہ واجباتِ نماز میں سے ہیں یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہو نا قو مہ کہلاتا ہے اور دو دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھناجلسہ کہلاتاہے۔ اور ان کا ترک ترک ِ واجب ہےاور اس سے سجدہ سہو وا جب ہو جاتاہے ۔

اللہ تعا لیٰ ہمیں نماز کے احکام سیکھنے اور عمل کی توفیق عطا فر مائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1) واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔

( عامہ کتب، بہار شریعت،حصہ چہارم، ص 278، ج1،شرح الوقایۃ، کتاب الصلاۃ، باب سجودالسہو، ج 1 ، ص22)

(2) وتر میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری، تو اس میں قنوت پڑھ کر قعدے کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور سجدہ سہو کر لے۔

(عالمگیری، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 719، ج 1)

(3) تشہد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رُکن کی قدر خاموش رہا اور سوچتا رہا، پھر یقین ہوا کہ چار ہو گئیں، تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(عالمگیری، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 719، ج 1، الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشرفی سجودالسہو، ، ج1 ، ص128)

(4) شک کی سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے اور غلبۂ ظن میں نہیں، مگر جبکہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہوگیا، تو واجب ہوگیا۔( در مختار، ، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 719، ج 1)

(الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب سجودالسہو، ج 2 ، ص 678)

(5) قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، ”اللھم صلی علی محمد“ تو سجدہ سہو واجب ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی، تو اگر اتنی دیر تک چُپ رہا، جب بھی سجدہ سہو ہے، جیسےقعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہے ، حالانکہ وہ کلام ِالہی ہے۔( در مختار، رد المحتاروغیر ہما ، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 713، ج 1،الدر المختار و رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجودالسہو، ج2، ص657 ، وغیرھما)

( ردالمحتار، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 716، ج 1)

(6) رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدے کی جگہ رکوع یا کسی ایسے رکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نہ تھا یا کسی رکن کو مقدم یا مؤخر کیا، تو سجدہ سہو واجب ہے۔

( عالمگیری، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 714، ج 1)

(7) الحمد کے بعد سورت پڑھی اس کے بعد پھر الحمد پڑی، تو سجدہ سہو واجب نہیں، یوں ہی فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقاً سجدہ سہو واجب نہیں، اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا، پھر اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

( عالمگیری، بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 711، ج 1، الفتاوی الہندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشرفی سجودالسہو، ج1، ص126)



حدیث مبارک :ایک مرتبہ حضور پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوگئے بیٹھے نہیں پھرسلام کے بعد سجدہ سہو کیا۔( بہار شریعت جلد اول)

1۔ تعدیلِ ارکان بھول گیا تو سجدۂ سہو واجب ہے( مسئلہ نمبر 21،

2۔ پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے( مسئلہ نمبر 32)

3۔ تشہد پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا پھر لوٹ آئے تشہد پڑھے اور سجد ہ ٔ سہو کرے یونہی اگر تشہد کی جگہ الحمد پڑھی تو بھی سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔

4۔ رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدے کی جگہ رکوع یا کسی ایسے رکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نہ تھا یا کسی رکن کو مقدم یا مؤخر کیاتو ان سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہوگا۔

(مسئلہ نمبر 35، ص 714)

5۔ فرض و نفل دونوں کا حکم ایک ہی ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ ٔسہو واجب ہوگا (مسئلہ نمبر 9، ص710)

6۔ آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدۂ تلاوت ادا کرے اور سجدہ ٔ سہو بھی کرے (مسئلہ نمبر 18، ص 718 )

7۔ منفرد نے سِری نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر جہر میں آہستہ تو نہیں

( مسئلہ نمبر 41، ص 714)

8۔ کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا آخر میں یاد آیا تو سجدہ کرلے پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے اور سجدے کے پہلے جوا افعال ِ نماز ادا کیے باطل نہ ہونگے ہاں اگر قعدہ کے بعد وہ نماز والا سجدہ کیا تو صرف وہ قعدہ جاتا رہا(مسئلہ نمبر 20، ص 711)


1۔تَعدیلِ ارکان (مَثَلاً رُکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا یا دو سَجدوں کے درمیان ایک بار سبحٰن الله کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئے سجدہ سَہْو واجِب ہے۔

2۔ رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔

3۔ قِراءت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحٰن الله کہنے کا وَقفہ گزر گیا سجدہ سَہْو واجِب ہو گیا۔

4۔ واجِباتِ نَماز میں سے اگر کوئی واجِب بھولے سے رَہ جائے تو سجدۂ سَہْوْ واجِب ہے۔

5۔قُنوت یا تکبیرِ قُنوت (یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراء َت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے وہ اگر) بھول گئی سجدۂ سَہْوْ واجِب ہے

6۔قعدۂ اولیٰ میں تَشَہُّد (تَ۔شَہ۔ہُد) کے بعد اتنا پڑھا اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ توسَجدۂ سَہْو واجِب ہے

7۔کسی قعدہ میں تَشَھُّد سے کچھ رَہ گیا توسَجدۂ سَہْو واجِب ہے نَماز نفل ہو یا فرض ۔

8۔قعدہ اُولیٰ میں پوری اَلتَّحِیَّات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے میں اِتنی دیر کی کہ جتنی دیر میں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد پڑھ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ چاہے کچھ پڑھے یا خاموش رہے دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔

9۔قرأت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا اور اتنی دیر ہوئی کہ تین بارسُبْحٰنَ اللّٰہ کہہ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے

10۔عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیایا زائد کہیں یا غیر محل میں کہیں اِن سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔


 01: الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ سہو واجب ہے۔یوہیں اگر سورت کے پڑھنے کے بعد یا رکوع میں یا رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا تو پھر الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور رکوع کا اعادہ کرے اور سجدۂ سہو کرے۔(عالمگیری)

02: فرض کی آخری رکعتوں میں سورت ملائی تو سجدۂ سہو نہیں اور قصداً ملائی جب بھی حرج نہیں مگر امام کو نہ چاہیے۔ یوہیں اگر پچھلی میں الحمد نہ پڑھی جب بھی سجدۂ سہو واجب نہیں اور رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔(عالمگیری)

03: آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدۂ تلاوت ادا کرے اور سجدۂ سہو کرے۔(عالمگیری)

04: کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا، آخر میں یاد آیا تو سجدہ کر لے ،پھر التحیات پڑھ کر سجدۂ سہو کرے اور سجدہ کے پہلے جو افعال نماز ادا کیے باطل نہ ہوں گے، ہاں اگر قعدہ کے بعد وہ نماز والا سجدہ کیا تو صرف وہ قعدہ جاتا رہا۔(عالمگیری)

05: تعدیل ارکان (یعنی رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ الله کہنے کی مقدار ٹھہرنا) بھول گیا توسجدۂ سہو واجب ہے۔(عالمگیری)

06: جو فعل نماز میں مکرر ہیں ان میں ترتیب واجب ہے لہٰذا خلاف ترتیب فعل واقع ہو تو سجدۂ سہو کرے مثلاً قراءت سے پہلے رکوع کر دیا اور رکوع کے بعد قراءت نہ کی تو نماز فاسد ہوگئی کہ فرض ترک ہوگیا اور اگر رکوع کے بعد قراءت تو کی مگر پھر رکوع نہ کیا تو فاسد ہوگئی کہ قراءت کی وجہ سے رکوع جاتا رہا اور اگر بقدر فرض قراءت کر کے رکوع کیا مگر واجب قراءت ادا نہ ہوا مثلاً الحمد نہ پڑھی یا سورت نہ ملائی تو حکم یہی ہے کہ لوٹے اور الحمد و سورت پڑھ کر رکوع کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز جاتی رہی کہ پہلا رکوع جاتا رہا تھا۔(ردالمحتار)

07: قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا جب بھی سجدۂ سہو واجب ہے جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’درود پڑھنے والے پر تم نے کیوں سجدہ واجب بتایا؟‘‘ عرض کی، اس لیے کہ اس نے بُھول کر پڑھا، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تحسین فرمائی۔(درمختار)

08: کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔(عالمگیری)

09: پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا سجدۂ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں۔(عالمگیری)

10: آخری رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر قعدۂ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ واجب ہوگیا۔(عالمگیری)


حدیث پاک میں ہے:ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوگئے بیٹھے نہیں ،پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کیا۔

اس حدیث کو ترمذی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

واجبات نماز میں سے جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے

واجبات نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا فرائض اور واجبات نماز میں بھولے سے تاخیر ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار ج 2ص655 )

1:️ وتر میں شک ہوا کہ دوسری یا تیسری تو اس میں قنوت پڑھ کر قعدہ کے بعد ایک اور رکعت پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور سجدہ سہو کرے ۔

2:مسافر نے سجدہ سہو کے بعد اقامت کی نیت کی تو چار پڑھنا فرض ہے اور آخر میں سجدہ سہو کا اعادہ کرے ۔

3: امام نے جہری نماز میں بقدر جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سری میں جہر سے تو سجدہ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ۔

4: منفرد نے سرّی نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں

5: قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللّٰہ کہنے کے وقفہ ہوا، سجدہ سہو واجب ہے

6: فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقا سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعت میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا پھر اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے،سورۃ الفاتحہ کے ساتھ ہی اعادہ کیا تو واجب ہے اگر سورت کے بعد دوبارہ فاتحہ پڑھی تو واجب نہیں ۔

7: کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا ،آخر میں یاد آیا تو سجدہ کر لے، پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے اور سجدے کے پہلے جو افعال نماز ادا کیے باطل نہ ہوں گے، ہاں اگر قعدہ کے بعد وہ نماز والا سجدہ کیا تو صرف وہ قعدہ جاتا رہا ۔

8 : عدیل ارکان بھول گیا سجدہ سہو واجب ہے ۔

(بہار شریعت جلد اول حصّہ 4 سجدہ سہو کا بیان)


آج 3مارچ کی شب 8:45 بجے پاکستان بھر میں  اسٹوڈنٹس اجتماعات منعقد کئے جائیں ۔ اسٹوڈنٹس کا مرکزی اجتماع فیضان مدینہ اسلام آباد میں ہوگا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِیخصوصی بیان فرمائیں گے جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں طلبہ جمع ہوکر بذریعہ مدنی چینل اس بیان میں اجتماعی طور پر شرکت کریں گے۔

تما م اسٹوڈنٹس سے اس اجتماع پاک میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔

اجتماعات کے مقامات جاننے کے لئے اپنے علاقے میں موجود دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران سے رجوع فرمائیں۔


خاتونِ جنت حضرت  فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی حیاتِ مبارکہ سے متعلِّق 12بیانات پر مشتمل حسین گلدستہ

شانِ خاتونِ جنّت

اِس کتاب کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کیلئے ’’علامات ترقیم ‘‘(Punctuation Marks) کا اہتمام ٭تقریباً ہرآیت مبارکہ میں ترجمہ ٔکنزالایمان کا التزام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭فکرِآخرت پرمشتمل اِصلاحی موادکی شمولیت ٭قراٰنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، احادیث ودیگر عبارات کےحوالوں(References) کا خاص اہتمام ٭ایک ہی نظرمیں کتاب کے عنوانات دیکھنے کیلئے کتاب کے شروع میں فہرست(Index) ٭جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مصنفین، مکتبوں اورشہرطباعت کی ’’ماخذومراجع‘‘میں تفصیل ٭پوری کتاب کی دارالافتاء اَہلِ سنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی تفتیش ٭اَغلاط کوکم سے کم کرنے کیلئے پوری کتاب کی کئی بار پروف ریڈنگ

501صفحات پر مشتمل یہ کتاب 2013ء سے لیکر09 مختلف ایڈیشنز میں تقریباً63ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکی ہے۔

اس کتاب کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now



دعوت اسلامی کے زیر اہتمام مدنی مرکز فیضان مدینہ جی 11 اسلام آباد میں تربیتی سیشن ہوا جس میں شعبہ اطراف علاقے کے تحت ہونے والے قرآن و حدیث کے شرکا اور 12 ماہ کے عاشقان رسول نے شرکت کی۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمد وقار المدینہ عطاری نے نیکی کی دعوت کے فضائل بیان کئے اور شرکا کو دعوت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوکر مدنی مرکز کے طریقہ کار کے مطابق دینی کام کرنے پر مدنی پھول دیئے۔


27 فروری 2021ء کو شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی کے تحت کراچی کے علاقے نیو چالی میں نیو برانچ کا افتتاح کیا گیا۔ آن لائن اکیڈمی کا افتتاح رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری کے ہاتھوں ہوا۔ خوشی اس موقع پر مدنی حلقے کا انعقاد کیا گیا جس میں رکن شوریٰ نے مدنی پھول بیان کرتے ہوئے شرکا کو ادارے کے ساتھ تعاون کرنے، دینی کاموں میں شرکت کرنے اور اپنی مصروف زندگی سے کچھ نہ کچھ وقت نکال کر آن لائن کے ذریعےمختلف کورسز کرنے کا ذہن دیا۔

اس موقع پر اراکین مجلس شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی، معروف نعت خواں حافظ طاہر قادری اور مقامی شخصیات سمیت دیگر اسلامی بھائی شریک تھے۔


مرکزی مجلس شوریٰ دعوت اسلامی کے نگران مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِینے پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں پروفیسرز سے ملاقات کی۔ نگران شوریٰ نے انہیں نیکی کی دعوت پیش کی اور تعلیمی اداروں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی فروغ دینے کا ذہن دیا اور تعلیمی امور پر بات چیت کی۔

نگران شوریٰ نے پروفیسرز حضرات کو 3 مارچ 2021ء کو ہونے والے اسٹوڈنٹس اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔


یکم مارچ 2021ء کو نگران شوریٰ مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے لاہور میں جنرل ریٹائرڈ اشرف تبسم سابقہ چیئرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن سے ملاقات کی۔ نگران شوریٰ نے انہیں دعوت اسلامی کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے دینی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی اور عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی کے وزٹ کی دعوت دی۔

نگران شوریٰ نے انہیں دینی کاموں میں تعاون کرنے کی بھی درخواست کی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔