Under the supervision of ‘Majlis short courses for Islamic sisters’, a course, namely ‘Blessings of Zakat’ was held in Hounslow (London Region, UK) in previous days. 9 Islamic sisters are having the privilege of attending this spiritual course.

In this course, the attendees (Islamic sisters) were taught about Zakat in the light of the Holy Quran and Hadith, wisdom of Zakat, Zakat on gold, Zakat on paper money and the method calculating Zakat, etc.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, a monthly Madani Mashwarah of responsible Islamic sisters was held in Scotland, UK in previous days. Region Nigran Islamic sister analysed the Kaarkardagi (performance) of the attendees (Islamic sisters), did their Tarbiyyah and motivated them to conduct a Shakhsiyaat Ijtima’. Moreover, she gave them the mindset of making announcements about the donations in every Ijtima’ and collecting donations as much as possible for the progress of the religious activities of Dawat-e-Islami this year.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, Madani Halqahs were held in different cities of East Midlands Kabinah (Birmingham Region, UK) in previous days. These cities included Leicester, Peterborough, Burton, Derby and Nottingham. Approximately, 105 Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Halqahs.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Sunnah-inspiring Bayans and gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of taking part in the religious activities of Dawat-e-Islami practically and collecting donations. 


Under the supervision of Dawat-e-Islami, Madani Halqahs were held in New Castle and Bradford (West Yorkshire Kabina, UK) in previous days. Approximately, 45 Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Halqahs.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Sunnah-inspiring Bayans and provided the attendees (Islamic sisters) the points for taking part in the religious activities of Dawat-e-Islami. She motivated them to keep associating with the religious environment of Dawat-e-Islami and attend the weekly Sunnah-inspiring Ijtima’. Moreover, she gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of attending the next Madani Halqa and acquire the knowledge of Deen.

Under the supervision of ‘Majlis shrouding and burial (Islamic sisters)’, a ‘shrouding and burial Ijtima’ was held in Besos (Barcelona, Spain) in previous days via Skype. Approximately, 12 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual Ijtima’.

Area responsible Islamic sister (Majlis shrouding and burial) delivered a Sunnah-inspiring Bayan and taught the attendees (Islamic sisters) the method of giving Ghusl to the deceased [Islamic sister], cutting the shroud and shrouding the deceased [Islamic sister]. Moreover, she explained the rulings about ‘Mustamal water’ and Israf [waste].


Under the supervision of ‘Majlis Islah-e-A’maal’, ‘Islah-e-A’maal Ijtima’at were held in New Castle, Stockton on Tees and Middlesbrough (West Yorkshire Kabina, UK) in previous days. These areas included. 47 Islamic sisters had the privilege of attending these great Ijtima’at.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Sunnah-inspiring Bayans via Skype, briefed the attendees (Islamic sisters) the details about ‘Nayk A’maal’ and explained the methods of acting upon ‘Nayk A’maal’ with ease. Moreover, she gave them the mindset of becoming the practicing individuals of ‘Nayk a’maal’.


Under the supervision of ‘Majlis Islah-e-A’maal’, an ‘Islah-e-A’maal Ijtima’ was held in Denmark in previous days via Skype. Approximately, 16 Islamic sisters had the privilege of attending this great Ijtima.

The female preacher of Dawat-e-Islami delivered a Sunnah-inspiring Bayan on the topic ‘blessings of Salat’ and encouraged the attendees (Islamic sisters) to remain punctual in Salat. Kabina Nigran Islamic sister provided them the points about Islah-e-A’maal and gave them the mindset of analyzing their deeds through the booklet, ‘Nayk A’maal’ and contemplating about the Judgement Day.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, a Sunnah-inspiring Ijtima’ was held in Holland in previous days via Skype. 24 Islamic sisters from Rotterdam, Den Haag and Amsterdam had the privilege of attending this spiritual Ijtima’.

Kabina Nigran Islamic sister delivered a Sunnah-inspiring Bayan on the topic ‘incidents of the repentant people’ and explained the attendees (Islamic sisters) incidents of the repentant Islamic saints, Fear of Allah and torments of listening to music. She also explained the perilous results of listening to music. Moreover, she gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of repenting of their sins, increasing fear of Allah in their hearts and acting upon the booklet, ‘Nayk A’maal’ to prepare for the Judgement Day.


سہو کے لغوی معنی"بھولنا" کے ہیں، اگر واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو اس کی تلافی کے لئے سجدہ سہو واجب ہے، اگر قصداً کوئی واجب ترک کیا تو سجدہ سہو سے تلافی نہیں ہوگی، بلکہ اعادہ واجب ہے۔

(1 )آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا، تو سجدہ تلاوت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔

( بہار شریعت)

(2) منفردنے سرّی نماز میں جہر سے پڑھا، تو سجدہ سہو واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں۔

( در مختار)

(3) کسی کا قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔

( بہار شریعت )

(4) پہلی دو رکعتوں کےقیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا ، تو سجدہ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں۔( بہار شریعت)

(5) قنوت یاتکبیر قنوت یعنی قراءت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے، بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔( اسلامی بہنوں کی نماز )

(6) عیدین کی سب تکبیر یں بھول گیا یا زائد کہیں یا غیر محل میں کہیں، ان سب سب پر صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ ( عالمگیری)

(7) مسافر نے سجدہ سہو کے بعد اقامت کی نیت کی، تو چار پڑھنا فرض ہے اور آخر میں سجدہ سہو کا اعادہ کرے۔( بہار شریعت)

(8) پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ سے پہلے اور آخری رکعتوں میں مطلقاً قیام میں تشہد پڑھا، تو سجدہ سہو واجب نہ ہوا اور اگر قعدہ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔( بہار شریعت)

(9) قراءَت وغیرہ کسی موقعے پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار" سبحان اللہ" کہنے کا وقفہ ہوا، سجدہ سہو واجب ہے۔ ( اسلامی بہنوں کی نماز)

(10) تعدیلِ ارکان مثلا رکوع کے بعد کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا اور دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا بھول گئی، سجدہ سہو واجب ہے۔( اسلامی بہنوں کی نماز)


(1) جب بھولے سے واجب ترک ہو جائے تو ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ دو سجدے واجب ہیں، یعنی سجدہ سہو ہے۔

(2) شک کی سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔

(3) پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(4) اگر تعدیل ارکان مثلاً رکوع کے بعد تک کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔

(5) قنوت یا تکبیر قنوت یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(6)قراءت وغیرہ کسی موقع پر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(7) قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(8) کسی قعدہ میں تشہد سے کچھ رہ گیا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا چاہے وہ نماز نفل ہو یا فرض۔

(9) قعدہ و رکوع وسجود میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔

سجدہ سہو کا طریقہ:

التحیات پڑھ کر بلکہ افضل یہ ہے کہ درود شریف بھی پڑھ لیجئے، سیدھی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کیجئے، پھر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیجیے۔

اس سے متعلق ایک حکایت:

حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوا،سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا(یعنی پوچھا)، درود شریف پڑھنے والے پر تم نے سجدہ کیوں واجب بتایا؟ عرض کی گئی:"اس لئے کہ اس نے بھول کر (یعنی غفلت سے پڑھا)، سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب پسند فرمایا۔

سجدہ سہو ساقط ہونے کی چار صورتیں:

(1) سجدہ سہو اس وقت واجب ہے کہ وقت میں گنجائش ہو اور اگر نہ ہو مثلاً نماز فجر میں سہو واقع ہوا اور پہلا سلام پھیرا اور سجدہ ابھی نہ کیا کہ آفتاب طلوع ہوگیا، تو سجدہ سہو ساقط ہوگیا۔

(2)یوں ہی اگرقضا پڑھتا تھا اور سجدہ سے پہلے قرصِ آفتاب زرد ہو گیا، تو بھی سجدہ سہو ساقط ہو جائے گا۔

(3) امام سے سہو ہوا، اور سجدہ سہو کیا تو مقتدی پر بھی سجدہ سہو واجب ہے، اگر چہ مقتدی سہو واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا ،اور اگر امام سے سجدہ ساقط ہوگیا تو مقتدی سے بھی ساقط، پھر اگر امام سے ساقط ہونا اس کے کسی فعل کے سبب ہو تو مقتدی پر بھی نماز کا اعادہ واجب ، ورنہ معاف ہے۔

(4) سجدہ تلاوت باقی تھا یا قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنا تھا،مگر قدرے تشہد بیٹھ چکا تھا اور یہ یاد ہے کہ سجدہ تلاوت یا تشہد باقی ہے، مگر قصداً سلام پھیر دیا، تو سجدہ ساقط ہوگیا۔

(الحاشیہ :بہار شریعت، جلد1، حصہ4 ، اور نورالایضا مع مراقی الفلاح، اسلامی بہنوں کی نماز)


جو چیزیں نماز میں واجب مانی گئی ہیں ، ان میں سے جب کو ئی واجب بھو لے  سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔ اس کا طر یقہ یہ ہے۔ کہ التحیات پڑ ھنے کے بعد داہنی طرف سلام پھیر دے ،سجدے کرے پھر التحیات و غیرہ پڑ ھ کر سلام پھیر دے۔( عامہ کتب )

جان بو جھ کر واجب چھوڑ د یا یا سہو واجب چھوٹ گیا اور سجدہ سہو نہ کیا تو دونوں صورتوں میں نماز دو بارہ پر ھنا لازم ہے۔( در مختار و غیرہ )

فرض ترک ہو نے سے نماز جاتی ر ہتی ہے ۔ سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہذٰا پھر پڑ ھے۔( رد المختار)

فر ض ، نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ ( عالمگیر ی)

ایک نماز میں چند واجب ترک ہو ئے تو و ہی دو سجدے کافی ہو ں ہیں۔

سجدہ سہو واجب ہو نے کی دس صورتیں:۔

1۔ واجباتِ نماز اور ارکانِ نماز کو ہمیشہ د ھیان میں ر کھنا لازم ہے۔کہ نماز کی حا لت میں کسی رکن ( فر ض نماز ) کو اپنی جگہ سے ہٹا کر مثلاً پہلے یا بعد میں

پڑ ھا ، یا اسے دو بار کیا حا لانکہ فرض ایک ہی بار ہے یا جو کام نماز میں دو بار کیے جاتے ہیں ان میں تر تیب چھوڑ دی۔ یوں ہی واجباتِ نماز میں ردوبدل کر د یا ان میں تر تیب چھوٹ گئی تو ان سب صورتوں میں بھی سجدہ سہو واجب ہے۔( عامہ کتب )

2۔فرض کی پہلی دو ر کعتوں میں اور نفل و سنت و و تر کی کسی ر کعت میں سورہ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پہلے ہی دو بار الحمد پڑ ھ لی یا پہلے سورت پڑ ھی اور بعد میں الحمد پڑ ھی تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ہاں الحمد کے بعد سورت پڑ ھی اس کے بعد پھر الحمد پڑ ھ لی،یا فر ض کی پچھلی ر کعتوں میں سورہ الحمد دوبارہ پڑ ھ لی تو سجدہ سہو واجب نہیں، یو نہی فر ض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملا ئی تو سجدہ واجب نہیں ۔ ( عالمگیری )

3۔ تعد یل ارکان( یعنی رکوع و سجود اور قو مہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہر نا ) بھو ل جائے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

4۔ د عائے قنوت یا وہ تکبیر بھول گیا جو دعائے قنوت پڑ ھنے کے لیے پڑ ھی جاتی ہے تو سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری)

5۔فرض ونفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ ( عالمگیری)

6۔قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مر تبہ سبحان اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا سجدہ سہو واجب ہو گیا۔( ردالمختار)

7۔ کسی قعدہ میں تشھد سے کچھ رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔نماز نفل ہو یا فرض۔( عالمگیری)

8۔۔قعدہ اولیٰ میں التحیات کے بعد اتنا پڑ ھا اللھم صلی علی محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو سجدہ سہو واجب ہے اس و جہ سے نہیں کہ درود شر یف پڑ ھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری ر کعت کے قیام میں د یر لگی ،تو اگر اتنی د یر تک خاموش ر ہتا تب بھی سجدہ سہو واجب ہے ۔ جیسے قعدہ و ر کوع و سجود میں قرآن پڑ ھنے سے سجدہ سہو واجب ہے حالانکہ وہ کلام ِ الٰہی ہے۔

9۔ اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے اور اگر قیام ہی کی حالت میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی۔

10۔ نفل کا ہر قعدہ، قعدہ اخیرہ ہے یعنی فر ض ہے۔ اگر قعدہ نہ کیا اور بھو ل کر کھڑا ہو گئےتو جب تک اس ر کعت کا سجدہ نہ کیا ہو لو ٹ آ ئے اور سجدہ سہو کریں۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں نماز کے فرائض سنن و واجبات کو صحیح طر یقے سے ادا کر نے کی توفیق فر مائےاور ہماری نمازوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اے عاشقان رسول:

اللہ عزوجل نے مسلمانوں پر نماز فرض فرمائی ہے جس طرح نماز کو پڑھنے کے بہت سے فضائل ہیں اسی طرح نماز کو قضاکرنے اور اس میں غلطیاں کرنے کی وعیدات بھی ہیں۔ اسی لئے نماز میں جو واجبات ہم سے ترک یا غلطیاں ہو جاتی ہیں ان کو درست کرنے کے لئے سجدہ سہو کو واجب کہا گیا ہے آیا اس متعلق کچھ ملاحظہ کرتے ہیں۔

عاشقان نماز کی حکایت :

حضرت سیدنا عبد العزیز ️ رحمۃُ اللہِ علیہ رات کو سونے کے لئے اپنے بچھونے پر آتے اور اس پر ہاتھ پھیر کر فرماتے، تو بہت نرم و عمدہ ہے مگر اللہ پاک کی قسم ! جنت کا بستر تجھ سے زیادہ نرم ہوگا۔ پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے۔

اے جنت کے طلب گارو ! ہمارے بزرگوں کی بھی کیا شان تھی کسی کی نیند جہنم کے خوف سے اڑتی تھی اور کسی کی جنت کے شوق میں، اور آہ !ایک ہم ہیں کہ نیند اگرچہ ہماری بھی کبھی اڑتی ہے مگر اس کا سبب جنت کا شوق یا جہنم کاخوف نہیں صرف اور صرف دنیا کا غم اور ٹینشن ہوتا ہے۔ آہ !

(فیضان نماز، صفحہ نمبر 476)

عفو کر اور سدا کےلئے راضی ہو جا

گر کرم کردے تو جنت میں رہوں گا یا رب !

(وسائلِ بخشش، صفحہ ٨٥)

نماز کا چور:

حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ، قرار قلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحب مُعَطّر پسینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان با قرینہ ہے "لوگوں میں بد ترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے" عرض کی گئ "یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! نماز میں چوری کیسے ہوتی ہے؟" فرمایا "(اس طرح کہ) رکوع اور سجدے پورے نہ کرے۔

(مسند امام احمد بن حنبل ،ج ٨، ️ص ٣٨٩، حدیث ٢٢٧)

سجدہ سہو کب واجب ہے؟

جو چیزیں نماز میں واجب ہیں ان میں سے کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سجدہ سہو واجب ہے۔

آیئے سجدہ سہو واجب ہونے کی 10 صورتیں ملاحظہ کرتے ہیں:

(i) تعدیل ارکان(یعنی ارکان نماز مثلا رکوع، سجود، قومہ، جلسہ وغیرہ کو اطمینان سے ادا کرنا یعنی ان میں کم ازکم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا) بھول گیا️سجدہ سہو واجب ہے۔ (ھندیہ️ ، کتاب قانون شریعت)

(ii)

قراءت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا اور اتنی دیر ہوئی کہ تین بار سبحٰن اللہ کہہ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (ردالمختار)

(iii)دوسری رکعت کو چوتھی سمجھ کر سلام پھیر دیا پھر یاد آیا تو نماز پوری کر کے سجدہ سہو کرے۔ (عالمگیری)

(iv)

قعدہ اولٰی میں پوری التَّحِیات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہونے میں اتنی دیر کی کہ جتنی دیرمیں اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلٰی مُحمّد پڑھ سکے تو سجدہ سہو واجب ہے چاہے ️کچھ پڑھے یا خاموش رہے دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ (در مختار، رد المختار)

(v)

عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیرمیں کہیں ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ (قانون شریعت)

(vi)

ایک رکعت میں تین(3) سجدے کیے یا دو رکوع کیے یا قعدہ اولٰی بھول گیا تو سجدہ سہو کرے۔

(قانون شریعت)

(vii)

اگر قعدہ اخیرہ کرنا بھول گیا اور کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو اسے چھوڑ دے اور بیٹھ جاۓ اور نماز پوری کرے اور سجدہ سہو کرے اور اگر اسی رکعت کا سجدہ کر لیا ہو تو فرض نماز جاتی رہی اگر چاہے تو ایک رکعت اور ملائے سوا مغرب کے اور یہ کل نفل ہو جائے گی، فرض پھر پڑھے۔ (ہدایہ، شرح️ وغیرہ)

(viii)

قنوت یا تکبیر قنوت( یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراء ت کے بعد قنوت کے لئے جو تکبیر کہی جاتی ہے وہ اگر) بھول گئ سجدہ سہو واجب ہے۔ (ایضًا ص ١٢٨، اسلامی بہنوں کی نماز)

(ix)

واجبات نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(در مختار، ج،٢ ، ص٦٠٠)

(x)

دونوں قعدوں میں تَشَہُّد مکمل نہ پڑھنا۔ اگر ایک لفظ بھی چھوٹا تو واجب ترک ہو جائے گا۔ اور سجدہ سہوواجب ہو گا۔ (اسلامی بہنوں کی نماز، ص 105)

اگر کوئی واجب چھوٹ گیا اور اس کے لئے سجدہ سہو نہ کیا اور نماز ختم کر دی تو نماز دہرانہ واجب ہے۔ (قانون شریعت)

اللہ عزوجل ہمیں نماز کے ارکان کو درست ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم