شعبہ کفن دفن کے زیر اہتمام کراچی کی کابینہ فیضان مدینہ میں
مدنی مشورےکاانعقاد
اسلامی بہنوں کے شعبہ
کفن دفن کے زیر اہتمام کراچی کی کابینہ فیضان مدینہ میں مدنی مشورےکاانعقادہواجس
میں کفن دفن زون سطح ذمہ دار اسلامی بہن سمیت18 ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی ۔
زون سطح ذمہ دار اسلامی بہن نے ذمہ دار اسلامی بہنوں کوکفن دفن اجتماع
کےحوالےسےنکات بتائے ۔ آخر میں اسلامی بہنوں کوڈویژن و علاقہ سطح پر تقرری کاہدف دیاجس پراسلامی بہنوں نےاپنی نیت
کااظہارکیا۔
حضرت سیِّدَتُنا
عائشہ صِدِّیقہ رضی
اللہ عنہا کی سیرتِ طیّبہ پر مشتمل 142 قراٰنی آیات
اور 592 احادیثِ مبارَکہ کی مدد سے تیار کی گئی ا
ایک مستند اور جامع ترین کتاب
فیضانِ عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنھا
اِس کتاب کی چندخصوصیات:
٭ اس کتاب میں سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضی
اللہ عنہا کے مقام ومرتبے،
علمی شان وشوکت، شانِ فقاہت، محدِّثانہ و مفسِّرانہ بصیرت، عشق رسول، اُمورِ خانہ
داری، اُمُّ المؤمنین اور حضورکا تعلُّق، وصالِ پُرملال، منقول تفسیرومروی احادیث،
خصوصِیَّات، اَفضلیت، حیات وسیرت اور دیگر کئی موضوعات پر مشتمل 23 بیانات یکجا کر
دئیے گئے ہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ
عَنْہَا کے فضائل پر مشتمل اَحادیثِ مقدَّسہ بیان کی گئی
ہیں اگرچہ ان میں ضمناً کسی اور کی فضیلت بھی مذکور ہو، نیز صحابہ وسلف صالحین سے
منقول آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا کے فضائل بھی
درج کئے گئے ہیں۔٭اَحادیث واَقوال اور دیگر مواد کی کم وبیش1283 تخارج، 142 قراٰنی
آیات، 592 احادیثِ مبارَکہ، 161فرامینِ عائشہ، سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ
اللّٰہُ عَنْہَا کے متعلِّق 114فرامین، 29حیرت انگیز حکایات،
26مدَنی بہاروں اورسینکڑوں مدَنی پھولوں کے ساتھ اس کتاب کو مزیَّن کیا گیا ہے۔٭مختلف
مقامات پر اَحادیث وغیرہ میں مخصوص عربی جملے مع مفہوم ذِکر دئیے گئے ہیں۔٭ اس
کتاب کو مرتَّب کرنے کے لئے عربی، اُردو
اور فارسی کی کم وبیش215کتب سے اِستفادہ کیا گیا ہےجن میں امیر اہل سنت علامہ محمد
الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ کے کم وبیش 24 اور اَلْمَدِیْنَۃُ
الْعِلْمِیَّۃ (اسلامک ریسرچ
سینٹر)کے 41کتب ورسائل شامل ہیں۔٭حیاتِ
مبارَکہ کے مختلف پہلوؤں میں حتَّی المقدور اَحادیث کو ترجیح دی گئی ہے بصورتِ دیگر
تفسیر، تاریخ، سیرت وغیرہ کتب کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔٭آیاتِ مبارَکہ قراٰنی رسم
الخط میں لکھی گئی ہیں نیز آیات کے حوالوں کے اِہتمام کے ساتھ ساتھ ’’ترجمۂ
کنزالایمان ‘‘ کا التزام کیا گیا ہے۔٭اَحادیثِ مبارَکہ کی تخریج اصل مأخذسے کرنے
کا التزام کیا گیا ہے اورباقی حوالہ جات میں جوکتب دستیاب ہوسکیں ان سے تخریج کی
گئی ہے۔٭ حتَّی الامکان آسان اور عام فہم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں تاکہ زیادہ
سے زیادہ اسلامی بہنیں مستفید ہو سکیں۔ ٭اگرکہیں مشکل اور غیر معروف الفاظ ضروری تھے توان پر اِعراب لگاکرہلالین میں معانی
ومطالب لکھ دئیے ہیں۔ ٭علاماتِ ترقیم (رُموزِ اَوقاف)کابھی خیا ل رکھا گیا ہے اور بطورِ وضاحت مفیدوضروری
حواشی بھی تحریرکئے گئے ہیں۔٭ ترغیب وتحریص کے لئے کئی مقامات پر احادیث ، واقعات،
اور اَقوال سے حاصل شدہ درس کو مدَنی پھولوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔٭اس کتاب
کو دارالافتا اہلسنّت کے مدَنی اسلامی بھائی محمد کفیل رضا العطاری المدنی سَلَّمَہُ
الْغَنِی نے عقائد، کفریہ عبارات،
اخلاقیات، فقہی مسائل اور عربی عبارات وغیرہ کے حوالے سے مقدور بھر مُلاحَظہ کر لیا
ہے۔٭کتاب کی تین فہرستیں بنائی گئی ہیں:(۱)…ضمنی (۲)…تفصیلی
(۳)…حکایات۔ ضمنی فہرست آغازِ کتاب میں اورتفصیلی و حکایات آخرمیں دی گئی ہے۔
601صفحات پر مشتمل یہ کتاب
2013ء سے لیکر3 مختلف ایڈیشنز میں تقریباً33ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکی ہے۔
اس کتاب کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ
بھی کی جاسکتی ہے۔
دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 3 مارچ 2021ء کو
اسلام آباد میں مدنی حلقہ ہوا جس میں سرکاری سطح کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران
عطاری مَدَّظِلُّہُ
الْعَالِینے سنتوں بھرا بیان کیا
اور انہیں دعوت اسلامی کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کا تعارف پیش کرتے ہوئے انہیں دینی
ماحول سے وابستہ ہونے اور اپنی اولاد کو نیکی کے کاموں کی طرف راغب کرنے کی ترغیب
دلائی۔
اس موقع پر اراکین شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب
عطاری اور حاجی وقار المدینہ عطاری بھی موجود تھے۔
انٹرنیشنل سطح پر اسٹوڈنٹس اجتماع کا انعقاد، نگران
شوریٰ مولانا عمران عطاری نے بیان فرمایا
شعبہ تعلیم دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 3 مارچ
2021ء کو انٹرنیشنل سطح پر اسٹوڈنٹس اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرون ملک میں 525 مقامات پر اسٹوڈنٹس اور
ایجوکیشن سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
مدنی مرکز فیضان مدینہ اسلام آباد سے مرکزی مجلس
شوریٰ کے نگران مولانامحمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِینے مدنی چینل کے ذریعے سنتوں بھرا بیان کیا۔ نگران شوریٰ کا جوانی میں عبادت کرنے کے حوالے سے مدنی پھول بیان کرتے ہوئےکہنا تھا کہ حضرت
علامہ زین الدین عبد الرحمن ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں عبادت کے تعلق سے
ارشاد فرماتے ہیں: جس شخص نے اللہ کو اس
وقت یاد رکھا جب وہ جوان وتندرست تھاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا
اُس وقت خیال فرمائے گا جب وہ بوڑھا اور کمزور
ہوجائیگااور اُسے بُڑھاپے میں اچھی قوت، اچھی سماعت، اچھی بصارت ، طاقت ، ذہانت
عطا فرمائیگا۔ نگران شوریٰ نے مزید کہا کہ حضرت سیدنا ابو طیب طبری رحمۃ اللہ علیہ نے 100 سال سے زیادہ عمر پائی ہے، آپ ذہنی اور
جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا تھے،آپ سے کسی نے صحت کا راز پوچھا تو فرمایا کہ
میں جوانی میں اپنی جسمانی صلاحیتوں کو گناہوں سے محفوظ رکھا اورآج میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے
انہی میرے لئے باقی رکھا۔مولانا عمران عطاری نے شرکا کو ترغیباً ارشار فرمایا کہ
ہمیں جوانی میں عبادت کے ذریعے اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کو راضی کرنا چاہیئے
کیونکہ جوانی رب کو راضی کرنے کے لئے ہے۔ آپ نے جوانی پر حدیث پاک بیان کرتے ہوئے
فرمایا کہ ہمارے آقا مکی مدنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ”
اپنی جوانی میں عبادت کرنے والے نوجوان کو بُڑھاپے میں عبادت کرنے والے بوڑھے پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے مرسلین کو تمام
نبیوں پر“۔مولاناعمران عطاری نے اسٹوڈنٹس کو ہر معاملات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر تَوَکُّل کرنے اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ
دینی تعلیم حاصل کرنے کی بھی ترغیب دلائی۔
3مارچ 2021ء کو چیمبر آف کامرس اسلام آباد
میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا محمد
عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ
الْعَالِی ،اراکین شوریٰ کے مولانا عبد الحبیب عطاری اور
حاجی وقار المدینہ عطاری سمیت ادارے کی مختلف شخصیات نے شرکت کی۔
میٹنگ میں شرکا کو دعوت اسلامی کا تعارف پیش کیا
گیااور مختلف اہم امور زیر غور آئے۔میٹنگ کے بعد چیمبر آف کامرس کی جانب سے دعوت
اسلامی کو شیلڈز بھی پیش کی گئی۔
اِسلام کے احکامات میں نماز اہم ترین رُکن
ہےاور ہر عاقل و بالغ پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئی ہے، اسکا صحیح ہونا
انتہائی ضروری ہے، مگر افسوس !کہ دین سے دوری اور غفلت کے سبب آج روزانہ پانچ وقت
ادا کی جانے والی نماز جیسی عبادت کے مسائل سے لوگ پوری طرح واقف نہیں ہیں اور یہی
وجہ ہے کہ لوگ نماز کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔
چناچہ قرآن پاک کی سورۃ الماعون میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:فَوَیْلٌ
لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ
صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) ترجمہ کنزالایمان:تو ان نمازیوں
کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ۔(پارہ 5، آیت 5، 6)
بہر حال انسان بشر ہے، اپنی بشریت کی وجہ سے جہاں بہت سے معاملات میں اس سے بھول چوک ہو جاتی
ہے، اسی طرح عبادات میں بھی ہو جاتی ہے، لیکن سجدہ سہو( دو سجدے) کرنے سے اسکی کمی
پوری ہو جاتی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے تو
وہ دو سجدے کرے"۔(صحیح بخاری)
سجدہ سہو:
سجدہ سہو میں لفظ سہو سے مراد "بھولنا"
ہے، اگر کوئی شخص فرض چھوڑ دے تو سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا بلکہ اسے نماز لوٹانی
پڑے گی اور واجبات میں سے ، اگر واجبات غلطی سے بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب
ہوجاتا ہے، واجبات کی تعداد 25 ہے ، لہٰذا سجدہ سہو کے 25 واجبات میں سے 10 یہاں
ذکر کیے جا رہے ہیں:
01: تکبیرِ تحریمہ میں لفظ "اللّٰہ اکبر" کہنا۔
02: فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ
باقی تمام نمازوں کی ہر رکعت میں الحمد
شریف پڑھنا ، سورت ملانا۔
03: الحمد
شریف کا سورت سے پہلے پڑھنا۔
04: الحمد
شریف اور سورت کے درمیان "آمین" اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا اور انکے علاوہ کچھ نہ پڑھنا۔
05:قراءَت کے فوراً بعد رُکوع کرنا۔
06: ایک سجدے کے بعد بالترتیب دوسرا سجدہ
کرنا۔
07: سجدے ہر رکعت میں دو ہی کرنا۔
08: وتر میں تکبیرِ قُنوت پڑھنا۔
09: چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت پر قعدہ
نہ کرنا۔
10: سجدہ سہو واجب ہو تو سجدہ سہو کرنا۔
سجدہ سہو کا طریقہ :
التحیات پڑھ کر بلکہ افضل یہ ہے کہ درود شریف
بھی پڑھ لیجئے، سیدھی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کیجئے، پھِر تشہد ، درود شریف اور
دعا پڑھ کر سلام پھیر دیجئے۔
الحمدللہ! اللہ عزوجل کا مسلمانوں پر خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے
آخری نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں
نہ صرف نماز کا طریقہ بتایا بلکہ غلطی اور( نسیان )یعنی بھولنے کی صورت میں اِسکی
تلافی کا طریقہ بھی واضح فرما دیا۔
٭جو چیزیں نماز میں واجب مانی گئی ہیں ، ان میں سے جب کو ئی واجب
بھو لے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے، اس کا طر یقہ یہ ہے کہ التحیّات پڑ ھنے کے بعد داہنی
طرف سلام پھیر دے ،دو سجدے کرے ، پھر التحیات و غیرہ پڑ ھ کر سلام پھیر دے۔( عامہ
کتب)
٭جان بو جھ کر واجب چھوڑ د یا یا سہو اً واجب چھوٹ گیا اور
سجدہ سہو نہ کیا تو دونوں صورتوں میں نماز کا دو بارہ پڑ ھنا لازم ہے۔( در مختار و غیرہ)
٭فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی ر ہتی ہے ، سجدہ سہو سے اس کی تلافی
نہیں ہو سکتی، لہذا پھر پڑ ھے۔( رد المختار)
٭فر ض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب
ہے۔ ( عالمگیر ی)
٭ایک نماز میں چند واجب ترک ہو ئے تو و ہی دو سجدے کافی ہیں۔(رد
المختار)
سجدہ سہو واجب ہو نے کی دس صورتیں:
1۔ واجباتِ
نماز اور ارکانِ نماز کو ہمیشہ د ھیان میں ر کھنا لازم ہے کہ نماز کی حا لت میں
کسی رُکن ( فر ض نماز ) کو اپنی جگہ سے ہٹا کر مثلاً پہلے یا بعد میں پڑ
ھا یا اسے دو بار کیا، حا لانکہ فرض ایک ہی بار ہے یا جو کام نماز میں
دو بار کیے جاتے ہیں، ان میں تر تیب چھوڑ دی، یوں ہی واجباتِ نماز میں رَدوبدل کر
د یا ، ان میں تر تیب چھوٹ گئی تو ان سب صورتوں میں بھی سجدہ سہو واجب ہے۔( عامہ
کتب)
2۔فرض کی پہلی دو ر کعتوں میں اور نفل و سنت و وِ تر کی کسی ر کعت میں
سورۃ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی یا سورت سے پہلے ہی دو بار الحمد
پڑ ھ لی یا پہلے سورت پڑ ھی اور بعد میں الحمد پڑ ھی، تو ان سب صورتوں میں سجدہ
سہو واجب ہے، ہاں الحمد کے بعد سورت پڑ ھی، اس کے بعد
پھر الحمد پڑ ھ لی یا فر ض کی پچھلی ر کعتوں میں سورۃ الحمد
دوبارہ پڑ ھ لی تو سجدہ سہو واجب نہیں، یو نہی فر ض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملا ئی
تو سجدہ واجب نہیں ۔ ( عالمگیری)
3۔ تعد
یلِ ارکان( یعنی رکوع و سجود اور قو مہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ
کہنے کی مقدار ٹھہر نا ) بھو ل جائے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔
4۔فرض نماز میں پہلا قعدہ بھو ل گیا تو جب تک سید
ھا کھڑا نہ ہوا ہو، لوٹ آئے اور سجدہ سہو نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لو
ٹے اور آ خر میں سجدہ سہو کر ے اور سیدھا کھڑا ہو کر لو ٹ آ یا، تب بھی
کھڑا ہو جائے اور بعد میں سجدہ سہو کر لے۔
( دُرِّ مختار ، غنیہ)
5۔ قعدہ
اخیرہ بھو ل گیا تو جب تک اس ر کعت کا سجدہ نہ کیا ہو، لو ٹ آ ئے اور سجدہ سہو کرے اور اگر اس ر کعت کا
سجدہ کر لیا تو سجدے سے سر اُ ٹھا تے ہی وہ فر ض نفل ہو گیا، لہذا اگر چاہے تو مغرب کے علاوہ اور نمازوں میں ایک ر
کعت اور ملالے ، تاکہ ر کعتیں دو ہو جائیں، تنہا ر کعت نہ ر ہے، اگر چہ وہ فجر یا
عصر کی نماز ہو، مغر ب کی نماز میں اور نہ
ملائے کہ چار پوری ہو جائیں ۔
6۔ نفل
کا ہر قعدہ، قعدہ اخیرہ ہے یعنی فر ض ہے، اگر قعدہ نہ کیا اور بھو ل کر کھڑا ہو
گیا تو جب تک اس ر کعت کا سجدہ نہ کیا ہو لو ٹ آ ئے اور سجدہ سہو کرے اور واجب
نماز فر ض کے حکم میں ہے، لہذا وِ تر کا پہلا قعدہ بھو ل جائے تو وہی حکم ہے جو
فرض کے قعدہ اولیٰ کے بھو ل جانے کا ہے۔
7۔ التحیّات
پڑ ھنے کی مقدار قعدہ اخیرہ کر چکا تھا اور کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ
نہ کیا ہو لو ٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے، اس حالت میں سجدہ سہو سے
پہلے التحیات نہ پڑ ھے۔
8۔قعدہ اولیٰ میں التحیات کے بعد اتنا پڑ ھا اللھم صلی علی محمد تو سجدہ سہو واجب ہے، اس و جہ سے نہیں کہ درود
شر یف پڑ ھا، بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری ر کعت کے قیام میں د یر
لگی ،تو اگر اتنی د یر تک خاموش ر ہتا، تب بھی سجدہ سہو واجب ہے ۔، جیسے قعدہ و ر
کوع و سجود میں قرآن پڑ ھنے سے سجدہ سہو واجب ہے حالانکہ وہ کلام ِ الٰہی ہے۔
9۔ د
عائے قُنوت یا وہ تکبیر بھول گیا جو دعائے قُنوت پڑ ھنے کے لیے کہی جاتی ہے تو
سجدہ سہو واجب ہے۔
10۔ جس
کو نماز میں تعداد رکعت میں شک ہو مثلاً یہ شک کہ تین ہو ئیں یا چار اور بالغ ہو
نے کے بعد پہلا واقع ہے تو یہ نماز توڑ دے اور نئے سرے سے پڑھے اور اگر یہ شک پہلی
بار نہیں، بلکہ پیشتر سے ہو چکا ہے تو اگر غالب گمان کسی طرف ہو یعنی ایک طرف
زیادہ دِل جمتا ہے تو اسی پر عمل کر ے اور اگر دل کسی طرف نہیں جمتا تو کم کی جانب
اختیار کرے مثلاً تین اور چار میں شک ہو تو تین قرار دے، دو اور تین مین شک ہو تو
دو اور تیسری چوتھی دونوں میں قعدہ کرے کہ اِحتمال ہے یہ تیسری نہ ہو چو تھی ہو
،اور چوتھی میں قعدہ کے بعد سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے اور گمان غالب ہونے کی
صورت میں سجدہ سہو نہیں، مگر سو چنے میں ایک رُ کن کی مقدار و قفہ ہو گیا تو سجدہ
سہو واجب ہو گیا۔ ( سنّی بہشتی زیور ، ص 249)
سجدہ سہو واجب ہو نے کی دس
صورتیں درج ذ یل ہیں:
1۔ واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھو لے
سے رہ جائے تو سجدہ سَہْو واجب ہے۔
2۔تعدیلِ ارکانِ مثلاً( رُکوع کے بعد کم از
کم ایک بار سبحان
اللہ کہنے کی مقدار سید ھا کھڑا
ہو نا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا )بھول گئے، تو سجدہ سہو
واجب ہے۔
3۔قُنوت یا تکبیرِ قُنوت بھول گئےتو سجدہ سہو
واجب ہے۔
4۔قراءَت و غیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین
مر تبہ سبحان
اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا تو
سجدہ سہو واجب ہے۔
5۔قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑ ھا اللھم صلی علی محمد تو سجدہ سہو واجب ہے۔
6۔قعدہ رکوع و سُجود میں قرآن پڑ ھنے سے سجدہ
سہو واجب ہے۔
7۔اگر اتنی د یر تک سُکوت کیا کہ تیسری ر کعت
کے قیام میں تا خیر ہو ئی، جب بھی سجدہ سہو واجب ہے۔
8۔کسی قعدہ میں تشہد سے کچھ رہ گیا، تو سجدہ
سہو واجب ہے۔
9۔کسی واجب کو متغیر کر دیا یعنی جَہر ی نماز
میں آہستہ اورآہستہ والی نماز میں بلند آواز سے قراءَت کر دے تو سجدہ سہو واجب ہے۔
10۔کسی فر ض کو مُکرر یعنی دو مر تبہ بھولے
سے ادا کر ے، سجدہ سہو واجب ہے۔
(اسلامی
بہنوں کی نمازحنفی ،صفحہ نمبر 129۔130۔131)
(1) تکبیرِ تحریمہ میں لفظ" اللہ اکبر" کہنا۔
(2)
فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ باقی تمام نمازوں کی ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنا، سورت ملانا یا قرآن پاک کی ایک بڑی آیت جو چھوٹی
تین آیتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا۔
(3)
الحمد شریف کا سورت سے پہلے پڑھنا۔
(4)
الحمد شریف اور سورت کے درمیان" آمین" اور "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھنا۔
(5)
قراءَت کے فوراً بعد رُکوع کرنا۔
(6)ایک
سجدے کے بعد بالترتیب دوسرا سجدہ کرنا۔
(7)
تعدیلِ ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار" سبحان اللہ" کہنے کی مقدار ٹھہرنا۔
(8)
قومہ یعنی رکوع سے سیدھی کھڑی ہونا (بعض اسلامی بہنیں کمر سیدھی نہیں کرتیں) اس
طرح ان کا واجب چھوٹ جاتا ہے۔
(9)
جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھی بیٹھنا ایک بار سبحان اللہ کی مقدار( بعض اسلامی
بہنیں جلد بازی کی وجہ سے برابر سیدھے بیٹھنے سے پہلے ہی دوسرے سجدے میں چلی جاتی
ہیں، اس طرح ان کا واجب ترک ہو جاتا ہے، چاہے کتنی ہی جلدی ہو، سیدھا بیٹھنا لازمی ہے، ورنہ نماز مکروہِ تحریمی واجب
الا عادہ ہوگی)۔
(10)
قعدہ اُولٰی واجب ہے اگر چہ نماز نفل ہو،(نفل
میں چار یا اس سے زیادہ رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہیں، تب ہر دو
دو رکعت کے بعد قعدہ کرنا فرض ہے، اور ہر قعدہ قعدہ اَخیرہ ہے، اگر قعدہ نہ کیا اور بُھول کر کھڑی ہو گئیں
تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کرے لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے۔(اسلامی بہنوں کی
نماز)
(1) واجبات نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدہ
سہو واجب ہے۔
( درمختار، ج 2، ص655)
(2)
تعدیلِ ارکان (مثلاً رکوع کے بعد کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا یا
دو سجدوں کے درمیان ایک بار سبحان اللہ
کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا)بھول گئی، سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری، ص 127)
(3)قُنو
ت یا تکبیرِ قُنوت(یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءَت کے بعد قُنوت کے لئے جو تکبیر
کہی جاتی ہے وہ اگر) بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (ایضا ً، ص 128)
(4)
قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ" سبحان اللہ" کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ
واجب ہوگیا۔( ردالمختار، ج 2، ص 677)
(5)
کسی قعدہ میں تشہد کا کوئی حصّہ بھول جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔( درمختار)
(6)
سورت پہلے پڑھی، اس کے بعد الحمد
یا الحمد و سورت
کے درمیان دیر تک یعنی تین بار" سبحان اللہ"
کہنے کی قدر چپ رہا، سجدہ واجب ہے۔( در مختار)
(7)
الحمد کا ایک لفظ بھی رہ گیا، تو سجدہ
سہو کرے۔( در مختار)
(8)ایک
سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا، تو جب یاد آئے کرلے اگرچہ سلام کے بعد بشرطیکہ کوئی
فعل منافی نہ صادر ہوا ہو اور سجدہ سہو کر ے۔ ( در مختار)
(9)
ایک رکعت میں تین سجدے کئے یا دو رکوع یا قعدہ اولٰی بھول گیا، تو سجدہ سہوکر لے۔
( در مختار)
(10)
قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب
ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر
ہوئی، تو اگر اتنی دیر تک سُکوت کیا( چپ رہا)، جب بھی سجدہ سہو ہے، جیسے قعدہ و
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہے حالانکہ وہ کلامِ الٰہی ہے۔
( بہار شریعت، حصہ 4، ص 62، در مختار و رد المختار،
ص657)
حکایت:
حضرت
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ
علیہ کو خواب میں
سرکارِ نامدار ، دو عالم کے مالک مختار صلی
اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوا، سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے اِستفسار فرمایا، درود
شریف پڑھنے والے پر تم نے سجدہ کیوں واجب بتایا؟ عرض کی:" اس لیے کہ اس نے
بھول کر (یعنی غفلت سے) پڑھا، سرکارِ عالی وقار صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ جواب پسند فرمایا۔
(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 129 تا 191،بہار شریعت،
حصہ سوم، ص 519 تا 520)
سجدہ
سہو کن صورتوں میں واجب ہے؟ سجدہ سہو کیا ہے؟ آئیے پڑھتے ہیں، سجدہ کیا ہے۔۔
جو
چیزیں نماز میں واجب پائی جاتی ہیں، ان میں سے اگر کوئی چیز بھولے سے رہ جائے تو
اس کی تلافی کے لیے سجدہ واجب ہوتا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات پڑھنے کے بعد
دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرے ، پھر التحیّات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
صورتیں:
مسئلہ1::
جان بوجھ کر کوئی واجب چھوڑ دیا، سہواً واجب چھوٹ گیا اور سجدہ سہو نہ کیا، تو
دونوں صورتوں میں نماز کا دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔
مسئلہ2:
فرض ترک کرنے سے سجدہ سہو سے ادائیگی نہ ہو گی، بلکہ نماز دہرانی پڑے گی۔
مسئلہ3:
دعائے قُنوت یا تکبیر بھول گئی جو دعائے قُنوت پڑھنے کے لئے پڑھی جاتی ہے، تو سجدہ
سہو واجب ہے۔
مسئلہ4:
فرض اور نفل دونوں کا ایک حکم ہے، یعنی نوافل میں بھی واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو
واجب ہے۔
مسئلہ5:
تعدیلِ ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ وجلسہ میں کم از کم ایک بار" سبحان اللہ" کہنے کی مقدار ٹھہر نا بھول
گئی تو سجدہ واجب ہوگیا۔(عالمگیری)
مسئلہ6:
وتر کی نماز میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری، تو اس آخری رکعت میں دعائے قُنوت
پڑھ کر قعدہ کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں دعائے قُنوت پڑھے اور سجدہ سہو
کرے۔( عالمگیری)
مسئلہ7:
جس پر سجدہ سہو واجب تھا، اسے یہ یاد ہی نہ رہا کہ سجدہ سہو کرنا ہے اور نماز ختم
کرنے کے لئے سلام پھیر دیا تو ابھی نماز سے باہر نہ ہوئی، لہذا جب تک کوئی ایسا
کام جو نماز کو فاسد کر دیتا ہے نہ کیا ہو، اسے حکم ہے کہ وہ سجدہ سہو کرے، پھر
اپنی نماز پوری کرے۔( درمختار، وغیرہ)
مسئلہ8:
فرض نماز میں پہلا قعدہ بھول گئی تو جب تک سیدھی کھڑی نہ ہوئی ہو، لوٹ آئے، تو
سجدہ سہو نہیں، اگر سیدھی کھڑی ہوگئی تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اور سیدھی
کھڑی ہو کر لوٹ آئی، تب بھی کھڑی ہو جائے اور بعد میں سجدہ سہو کرے۔( درمختار، وغیرہ)
مسئلہ9:
ایک نماز میں چند واجب ترک ہو ئے تو وہی دو سجدے کافی ہیں۔
مسئلہ10:
التحیّات پڑھنے کی مقدار قعدہ اخیرہ کر چکی تھی اور کھڑی ہوگئی، تو جب تک اس رکعت
کا سجدہ نہ کیا ہو، لوٹ آئے اور سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دے، اس حالت میں سجدہ
سہو سے پہلے التحیّات نہ پڑھے۔(درمختار، سنی بہشتی زیور، صفحہ نمبر246-247-248۔249)
خلاصہ:
(1)
واجبات میں سے کوئی واجب رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔
(2)
سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کیا تو نماز لوٹانا واجب ہے۔
(3)
نماز میں اگر دس واجب ترک ہوئے، تو نماز کیلئے دو سجدہ سہو کافی ہوں گے۔
(4)
قُنوت یا تکبیر ِقُنوت بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔
(5)
قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا تو سجدہ
سہو واجب ہو گیا۔
(6)
قعدہ اولیٰ کے بعد یعنی تشہد کے بعد "اللھم
صلی علی محمد"اتنا پڑھا تو بھی سجدہ سہو واجب ہو گیا، اس
وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی۔
(7)
تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوئی تو اگر اتنی دیر تک سُکوت کیا تو سجدہ سہو ہے۔
(8)
قعدہ میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو ہے۔
(9)
تشہد میں التحیات واجب ہے ، نہ پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے۔
(10)
واجب چھوٹ گیا تو سجدہ سہو ہے۔( اسلامی بہنوں کی نماز، صفحہ نمبر129,130,131)
واجبات
نماز میں سے کوئی واجب ترک ہو جائے تو سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔
سجدہ سہو واجب ہونے کی چند صورتیں:
(1)تعدیلِ
ارکان( مثلاً رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئے، سجدہ سہو واجب ہے۔
( عالمگیری، کتاب الصلاة، الباب الثانی عشرہ 1/ 128)
(2)
دعائے قُنوت یا تکبیرِ قُنوت بھول گئے ، سجدہ سہو واجب ہے ۔
(3)
قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو
واجب ہو گیا۔
(4)
رکوع و سجدہ و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔
( ردالمختار، کتاب الصلاۃ ، باب سجود السہو،2/457)
(5)
قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب
ہے، اس وجہ سے کہ فرض یعنی تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوئی، اس وجہ سے نہیں کہ درود
شریف پڑھا۔( در المختار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، 457/2)
(6)فرضوں
کی تیسری یا چوتھی رکعت کے علاوہ باقی تمام نمازوں کی ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنا،سورت ملانا یا قرآن
پاک کی ایک بڑی آیت جو چھوٹی تین آیتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا بھول
گئے، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔( نماز کے
احکام)
(7)
امام نے جہری نماز میں بقدرِ جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سِرّی میں جہر
سے تو سجدہ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔
( عالمگیری ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر، 128/1)
(8)
مُنفرد نے سِرّی نماز میں جہر سے پڑھا، تو سجدہ سہو واجب ہے اور جہری میں آہستہ، تو
نہیں۔
( بہار شریعت، سجدہ سہو کا بیان، 714/1)
(9)
قعدہ اولیٰ واجب ہے اگرچہ نماز نفل ہو، ( دراصل دو نفل کا ہر قعدہ، قعدہ اخیرہ ہے
اور فرض ہے، اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے۔
( بہار شریعت، حصہ4، ص 52)
اگر
نفل کی تیسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کر کے سجدہ سہو کرے، سجدہ سہو اس لئے
واجب ہوا کہ اگرچہ نفل میں ہر دو رکعت کے بعد قعدہ فرض ہے، مگر تیسری یا پانچویں
رکعت کے بعد قعدہ اولٰی فرض کی بجائے واجب ہو گیا۔(ملخصاً حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی
الفلاح، ص 466)
(10)
دونوں قعدوں میں تشہد مکمل پڑھنا، اگرچہ ایک لفظ بھی چھوٹا تو واجب ترک ہو گیا اور
سجدہ سہو واجب ہوگا۔( نماز کے احکام)
نوٹ:اگر کسی نے سجدہ سہو واجب ہونے کے
باوجود نہ کیا تو نماز لوٹانا واجب ہے۔
Dawateislami