یاد رکھئے ہمسائیگی کچھ حقوق کا تقاضا کرتی ہے ،ایک مسلمان جن باتوں کا مستحق ہوتا ہے ان تمام کا اور ان سے کچھ زائد کا مسلمان ہمسایہ مستحق ہوتا ہے۔ پڑوسی کی چند اقسام ہیں: سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا پڑوسی تین قسم کے ہیں : (1) وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے۔ ( 2)وہ وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں ۔ (3)وہ پڑوسی جس کے تین حق ہوتے ہیں۔

مسلمان رشتہ دار کے تین حق ہیں: حق پڑوس، حق اسلام اور رشتہ داری کا حق۔

مسلمان پڑوسی کے دو حق ہیں حق پڑوس اور حق اسلام۔

مشرک پڑوسی کا صرف ایک حق ہے حق پڑوس ۔

اس حدیث پاک میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضور علیہ السلام نے مشرک کے لیے بھی صرف پڑوس کےباعث حق ثابت فرمایا ہے۔ یہاں پر پڑوسیوں کے کچھ حقوق لکھے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں ۔

حسن سلوک : پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کر تو ( کامل ) مسلمان ہو جائے گا۔

مشکل وقت میں ساتھ دے: پڑوسی کا یہ بھی حق ہے کہ مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔ اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آئے تو فوراً ان کی عیانت (مدد) کرے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے تو ان کی عیادت کریں۔

تکلیف نہ پہنچائیں: پڑوسی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ان کو تکلیف نہ پہنچائی جائے، اگر ان کی طرف سے کوئی لغزش ہو تو اس کو معاف کر دے۔ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے پڑوسی کے کتے کو مارا تو درحقیقت تم نے اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچائی ۔

پڑوسی کی عزت کریں: ان کا یہ بھی حق ہے ان کی عزت کی جائے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :جو الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ وہ پڑوسی کی عزت کرے۔

عیوب کو چھپائے: اگر اپنے پڑوسی کے تم پر کوئی عیوب ظاہر ہوں تو ان کی پردہ پوشی کرو اور ان کے حالات کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو۔ ان کےخلاف کوئی بات نہ سنو۔

ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پڑوسیوں کے حقوق کو سمجھنے کی اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)


دینِ اسلام نے جہاں ہمیں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر عبادات کا درس دیا ہے وہیں حقوقُ العباد کی ادائیگی کا خیال رکھنے کی بھی بہت تاکید فرمائی ہے، والدین، اساتذہ، عزیز و اقارب اور عام رشتہ داروں میں سے ہر ایک کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ اسی طرح پڑوسیوں کو بھی دینِ اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور ان کے بھی بہت سے حقوق بیان کئے گئے ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰى وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰكِیْنِ وَالْجَارِذِی الْقُرْبٰى وَالْجَارِالْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ ترجَمۂ کنز الایمان : اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔ (پ5، النسآء:36)

پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق 4فرامینِ مصطفٰے پڑھئے:

(1)وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے امن میں نہ ہو۔ (مشکاۃ، 2/212،حدیث: 4963) یعنی صالحین اور نجات پانے والوں کے ساتھ وہ جنت میں نہ جائےگا اگرچہ سزا پا کر بہت عرصہ کے بعد وہاں پہنچ جائے گا۔(دیکھئے:مراٰة المناجیح،6/556)

(2)کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔(مشکاۃ، 1/547،حدیث:2964)یعنی اگر تمہاری دیوار میں پڑوسی کیل وغیرہ گاڑنا چاہے اور تمہارا اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے منع نہ کرو۔(مراٰۃ المناجیح، 4/326)

(3)اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسیوں کے لئے اچھے ہوں۔ (مشکاۃ، 2/215، حدیث:4987)

(4)مشہور مفسر حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: پڑوسی کے 11 حق ہیں:(۱)اس کو تمہاری مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرو (۲)اگر معمولی قرض مانگے تودے دو (۳)اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو (۴)وہ بیمار ہو تو مزاج پُرسی بلکہ ضرورت ہو تو تیمارداری کرو (۵)مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ (۶)اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو (۷)غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو (۸)اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے (۹)گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیہ بھیجتے رہو۔ نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں (۱۰)اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو (۱۱)اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کر سکتا ہے جس پر اللہ رحم فرمائے۔(مراٰۃ المناجیح،6/52، 53)

ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں کہ جن میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ان کے ساتھ بُرا سلوک کرنے پر وعیدیں بیان کی گئیں ہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے قرب و جوار میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی اور پیار و محبت کے ساتھ پیش آئیں۔ اللہ کریم ہمیں اپنے پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنّتُ الفردوس میں اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوسی بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حرام کمانے اور کھانے کی مذمت پر 5 احادیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو:

اللہ پاک نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا گیا۔انہیں نعمتوں میں ایک نعمت رزقِ حلال ہے۔ افسوس ہماری مسلمانوں کی اکثریت حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر ہی مال و دولت کمانے میں مصروف ہے جبکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:﴿یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں ۔ (پ18،المؤمنون:51)

حرام مال کی تعریف جو مالِ حرام ذریعے سے حاصل کیا جائے وہ حرام مال ہے۔

(1) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جسم جو حرام سے پلا بڑھا تو آگ اس سے بہت قریب ہوگی۔ (شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان فصل في طیب مطعم والملبس 5/56، حدیث 5759)

( 2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے منہ میں مٹی ڈال لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں ایسی چیز ڈالے جسے اللہ پاک نے حرام کر دیا ہے۔ (شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔الخ،فصل فی طیب المطعم والملبس،5/ 57،حدیث: 5763)

(3)رسولُ اللہ نے فرمایا: بیت المقدس پر اللہ پاک کا ایک فرشتہ ہے جو ہر رات ندا دیتا ہے کہ جس نے حرام کھایا اس کے نفل قبول ہیں نہ فرض ۔( الكبائر للذهبي، الكبيرة الثامنۃ والعشرون،ص134)

(4)رسولُ اللہ سے فرمایا: ہر وہ گوشت (جسم) جو حرام سے پروان چڑھے آگ اس کی زیادہ حقدار ہے۔ (سنن الترمذی ، کتاب السفر، باب ما ذکرنی سے فضل الصلاة ، 2/118، حدیث :614)

(5) فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جس شخص نے دس درہم میں کپڑا خریدا اور اس اس کی قیمت میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر ہو گا اللہ پاک اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ (المسند للامام احمد بن حنبل مسند عبد الله بن عمر)


بہت سے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے مال کہاں سے کمایا، کن ذرائع سے کمایا بلکہ ان کی اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کیا جائے چاہے وہ مال چوری کا ہو یا رشوت کا ہو یا کسی کا حق مار کر حاصل کیا ہو یا سود سے حاصل کیا ہو یا یتیم کا مال ہو یا جھوٹ دھوکے سے حاصل کیا ہو وغیرہ ۔ حالانکہ قراٰن مجید میں اللہ پاک کا فرمان ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو ۔(پ5، النسآء:29)اس آیت میں باطل طریقے سے مراد وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ جیسے سود، چوری اور جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا ، جھوٹی وکالت ، خیانت اور غصب کے ذریعے حاصل کرنا یہ سب باطل طریقے میں داخل اور حرام ہے۔

حرام کمانے اور کھانے کی مذمت پر احادیث ملاحظہ ہو:

(1) اعمال قبول نہ ہوں گے:تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا :اے سعد!اپنی غذا پاک کر لو مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جان ہے بندہ حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40 دن کے اعمال قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہو اس کے لیے آگ زیادہ بہتر ہے۔ (المعجم الاوسط، حدیث 6495)

(2) جنت کا حرام ہونا :حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : الله پاک نے اس جسم پر جنت حرام فرمادی جو حرام غذا سے پلا بڑا ہو۔( کنز العمال، الجزء الرابع حدیث 9257 3)

(3)خاک کا حرام مال سے بہتر ہونا :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: منہ میں خاک ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ کوئی شخص حرام مال اپنے منہ میں ڈال لے ۔(شعب الایمان، حدیث :5379)

(4) ناجائز مال کا گواہ بننا : رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص ناجائز راستوں سے مال جمع کرتا ہے تو وہ اس بیمار کی طرح ہے جو جتنا بھی کھا لے پیٹ نہیں بھرتا اور وہ ناجائز مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن کر آئے گا۔ (صحیح البخاری ، حدیث :2687)

(5) جہنم کا توشہ : حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا جو شخص حرام مال حاصل کرے گا اور اس کو اپنی ضرورت میں خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہیں ہوگی اور اگر اس مال کو صدقہ کرے گا تو قبول نہیں کیا جائے گا اور ترکہ میں اس مال کو چھوڑ کر مرے گا تو وہ مال اس کےلیے جہنم کا توشہ ہوگا۔ (مسند احمد ، حدیث :3672)


اللہ پاک کی رضا پانے حصولِ جنت اور دنیا آخرت کی سرخروئی و کامیابی کے لئے ہر طرح کے گناہ سے بچنا ضروری ہے۔ پھر بعض گنا ‏ہوں کا تعلق ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے جیسے حرام کھانا اور حرام مال کمانا بھی ہے اس کی احادیث میں شدید مذمت بیان کی گئی ‏ہے۔ چنانچہ آپ بھی حرام کمانے اور کھانے کی مذمت پر 5 احادیث پڑھیے:

‏(1) دعا قبول نہ ہونا :جب حضور نبی رحمت ، شفیع امت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دنیا پر مر مٹنے والے کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا : بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ‏کہ بکھرے بال، گرد آلود چہرے اور سفر کی مشقت برداشت کرنے والا شخص اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے اور دعا کرتا ہے: اے میرے ‏رب! اے میرے رب ! اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی ؟ جبکہ اس کا کھانا حرام ، لباس حرام اور غذا حرام ہے۔

‏ (2) فرض اور نفل قبول نہ ہونا : بیت المقدس پر اللہ پاک کا ایک فرشتہ ہے جو ہر رات ندا دیتا ہے کہ جس نے حرام کھایا اس کے نفل قبول ہیں نہ فرض ۔( الكبائر للذہبی، الكبيرة الثامنۃ والعشرون،ص134)

‏ (3) نماز قبول نہ ہونا :جس شخص نے دس درہم میں کپڑا خریدا اس کی قیمت میں ایک درہم حرام کا ہوں تو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر ہوگا اللہ پاک اس کی نماز قبول نہیں ‏فرمائے گا۔

‏(4) جہنم میں پھینک دے گا: جس نے کسی گناہ کے ذریعے مال حاصل کیا پھر اس سے صلہ رحمی کی یا صدقہ کیا یا راہِ خدا میں خرچ کیا تو اللہ پاک اس تمام کو جمع کر کے جہنم میں پھینک دے ‏گا۔ ‏

(5) اللہ پاک راضی ہوگا : جس نے رزقِ حلال کی تلاش میں تھک کر شام کی وہ اس حال میں رات گزارے گا کہ بخش دیا گیا ہو گا اور صبح اس حال میں کر لے اللہ پاک اس راضی ہوگا۔ 


اسلام اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کی تعلیمات دیتا ہے۔ زندگی کی بہتری کے لئے اسلامی تعلیمات انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ خواہ انسان کی ذاتی زندگی ہو یا معاشرتی زندگی، اسلام نے ہر ہر مرحلے کے اصول و قوانین مقرر فرما دئیے ہیں۔ جن کی رعایت کر کے انسان نہ زندگی کو خوشگوار و پر سکون بنا سکتا ہے بلکہ پورا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ انسانی زندگی کے کئی گوشے جن سے بچنا اور احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے انہی میں سے حرام مال کمانا اور کھانا بھی ہے۔

حرام مال کی تعریف : جو مال حرام کے ذریعے حاصل کیا جائے وہ حرام مال ہے۔ (الحدیقۃ الندیہ،5/16)

حرام مال کے متعلق احکام : (1)حرام ذریعے سے مال حاصل کرنا گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔(ظاہری گناہوں کی معلومات ،ص 99)

(2)مالِ حرام میں کوئی پیسہ اپنے کھانے ، پہنے یا کسی اور مصرف (یعنی کام) میں لگانا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ، 23/561 بتغير قلیل )

(3) حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلاً ( یعنی بالکل) جائز نہیں نہ نیک کام (مثلاً مسجد و مدرسہ وغیرہ کی تعمیر) میں لگا سکتے ہیں نہ کسی اور کام (مثلاً خرید و فروخت ) میں ۔ (فتاویٰ رضویہ ، 23 / 580بتغیر قلیل )

احادیث کریمہ میں حرام مال کھانے اور کمانے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے کیونکہ دینِ اسلام ہمیں ایثار، ہمدردی اور نفع رسانی یعنی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا درس دیتا ہے اور اس میں (یعنی حرام مال کھانے اور کھانے میں) دوسروں کے حقوق کو دبایا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان کو اس فعلِ بد سے بچنا لازمی ہے لہذا حرام مال کھانے اور کمانے کے مذمت پرد احادیث کریمہ پڑھئے اور لرز یئے!

فرض و نفل کا قبول نہ ہونا : حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : بیت المقدس پر اللہ پاک کا ایک فرشتہ ہے جو ہر رات ندا دیتا ہے کہ جس نے حرام کھایا اس کے نہ نفل قبول ہیں نہ فرض ۔( الكبائر للذهبي، الكبيرة الثامنۃ والعشرون،ص134)

دعا قبول نہ ہونا: نبی اکرم حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دنیا پر مر مٹنے والے کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا: بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بکھرے بال، گرد آلود چہرے اور سفر کی مشقت برداشت کرنے والا شخص اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے اور دعا کرتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی؟ جبکہ اس کا کھانا حرام، لباس حرام اور غذا حرام ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الزکات،باب قبول الصدقت من الکسب الطیب وتربیتھا ،حدیث:1015، ص506 ،بتغیرقلیل)

دوزخ کا سامان: حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے : جس نے حرام مال کمایا اور صدقہ کر دیاتو قبول نہ ہوگا اور اگر اسے پیچھے چھوڑ گیا تو دوزخ کا سامان ہوگا۔( کتاب الضعفاء للعقيلی،باب الصاد،2/599،حدیث:751:صباح بن محمدالاحمسی،بتغيرقليل)

جنت میں داخل نہ ہو گا:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جنت میں وہ جسم نہ جائے گا جو حرام سے غذا دیا گیا ۔(مرآة المناجيح ،جلد : 4 حدیث: 2787)

جہنم میں داخلہ: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس نے کہاں سے مال کمایا تو اللہ پاک کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ وہ اسے جہنم کے کس دروازے سے داخل کرے گا۔ (قوت القلوب لابي طالب مکی ،2/475)

معزز قارئین !ہر بیماری کے چند اسباب ہوتے ہیں جن سے بچ کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حرام مال کمانے اور کھانے کے بھی چند اسباب ہیں جن کو ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے اس کو ذہن نشین کر لیجئے تاکہ اس مذموم بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا۔ جا سکے : علم دین کی کمی، مال و دولت کی حرص ، راتوں رات امیر بننے کی خواہش، مفت خوری کی عادت اور کام کاج سے دور بھاگنا ، بری صحبت۔

الله پاک ہمیں حرام مال سے بچنے اور حلال مال کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


الحمد لله ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ذریعہ معاش پر نظر رکھیں کہ کہیں ہم حرام تو نہیں کما رہے (معاذ الله) لہذا ہمیں اپنے آمدنی کے ذرائع پر نظر رکھنی پڑے گی اور جب ہمارے سینوں میں حلال کمانے اور حرام سے بچنے کے حوالے سے احادیث ہونگی تو ہمارا حرام سے بچنا آسان ہو جائے گا۔ تو آئیں کچھ احادیث اس حوالے سے پڑھ لیتے ہیں۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جو حرام سے اُگا ہو اور جو گوشت حرام سے اُگے وہ (آگ) اس سے بہت قریب ہے۔

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ جس گوشت یعنی ( جسم کے حصے) کی نشونما حرام سے ہو وہ جنت میں نہ جائے گا۔ لہذا ہمیں (جو جنت کے طلبگار ہیں) حرام سے بچنے کی بھر پور کوشش کرنی ہے۔

اور بعض اوقات بندہ جب نہیں جانتا کہ یہ ذریعہ حصول مال جائز و حلال ہے یا حرام تو اس کی لاعلمی اسے حرام میں مبتلا بھی کر سکتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے بازاروں میں کئی لوگ خرید و فروخت کے معاملے میں دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں جو کہ ناجائزو حرام ہے کیونکہ اس متعلق آقا علیہ صلاۃ و السّلام کا فرمان موجود ہے۔ جس میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دھوکہ کی بیع سے منع فرمایا : ابو ہریره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پتھر پھینکنے کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔

ان احادیث سے بھی حرام کمانے کی ممانعت اور مذمت کا معلوم ہوتا ہے اور اپنی کمائی کو پاک وصاف رکھنے کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ یاد رہے! خرید و فروخت حرام نہیں لیکن خرید و فروخت میں کوئی ایسا پہلو پایا جائے جیسے (دھوکہ ، جھوٹ ، ملاوٹ وغیرہ) تو ان سے بھی آپ کی کمائی درست نہیں۔

یاد رہے کہ حرام کمانے کا ایک وبال یہ بھی ہے کہ حرام کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی اس حوالے سے مسلم شریف میں ہے: فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جو دعا کرے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یا رب یا رب کہتا ہے ( دعا کرتا ہے) مگر حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، لباس حرام اور غذا حرام پھر اس کی دعا کیونکر مقبول ہو؟ (یعنی اگر قبول دعا کی خواہش ہو تو کسب حلال اختیار کرو )۔

پیارے اسلامی بھائیو! میں آخر میں اپنی تحریر کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک آخری حدیث پیش کرتا ہوں۔

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا س کہ جو اس نے حاصل کیا ہےوہ حلال سے ہے یا حرام سے۔ (صحیح بخاری ، ج 3، حدیث :2059)

ہمیں اُس زمانے سے پناہ مانگنی چاہئے ، یاد رکھیں مالِ حرام جس تیزی سے آتا ہے اسی تیزی سے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں مالِ حرام اگرچہ شکلیں نہیں بگاڑتا لیکن نسلیں بگاڑ دیتا ہے۔ اور انسان حلال کھاتا ہے اور حرام انسان کو کھا جاتا ہے۔

دعا ہے ، اللہ رب العزت ہمیں حرام سے بچا کر حلال طیب کمانے اور کھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک نے اس دنیا اور ہر چیز کے بنانے کے بعد کچھ چیزوں کو حرام رکھا اور کچھ کو حلال بھر جس چیز کو حلال رکھا تو اُسکے اپنا نے اور استعمال کرنے کا حکم دیا۔ اور جس چیز کو حرام رکھا۔ تو اس سے بچنے کا حکم دیا۔ اور یہ حلال وحرام کا سلسلہ ہر چیز میں رکھا تاکہ ہر انسان حرام سے بچ کر حلال کے ذریعے اپنے رب کو راضی کر سکے۔ اور اپنی ضروریات کو پورا کر سکے۔

اللہ و رسول نے حلال کمانے اور کھانے کی فضیلت اور حرام کمانے اور کھانے کی وعیدیں بھی ارشاد فرمائیں۔ تاکہ انسان حلال کمانے اور کھانے کی فضیلتیں پانے کے لئے کوشش کرتا رہے۔ اور حرام کمانے اور کھانے سے اجتناب کرتا رہے۔ حرام کمانے اور کھانے کے بارے میں بہت سی وعیدیں کتبِ احادیث میں موجود ہیں ۔ چنانچہ ان میں سے کچھ احادیثِ مبارکہ پیش خدمت ہیں:

مالِ حرام کا وبال: حرام کی کمائی سے کوسوں دُور رہنے میں ہی بھلائی ہے کیونکہ اس میں ہرگز ہرگز ہرگز برکت نہیں ہوسکتی۔ ایسا مال اگرچہ دنیا میں بظاہر کچھ فائدہ دے بھی دے مگر آخرت میں وبالِ جان بن جائے گا لہٰذا اس کی حِرْص سے بچنا لازِم ہے، چُنانچِہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شَخص حرام مال کماتا ہے اور پھر صدَقہ کرتا ہے اُس سے قَبول نہیں کیا جائے گا اور اُس سے خَرچ کرے گا تو اِس کے لیے اُس میں بَرَکت نہ ہوگی اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ ے گا تو یہ اس کے لیے دوزخ کا زادِ راہ ہوگا۔(شرح السنۃ،کتاب البیوع، باب الکسب،4 /205،حدیث:2023)

چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم حرام کمانے اور کھانے سے اجتناب کرتے رہیں ورنہ یہ وبال ہم پر بھی آسکتا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلاماسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خدا میں عرض گزار ہوئے: اے میرے رحیم وکریم پروردْگار! تو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا ؟اللہ پاک نے آپ علیہ السّلام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ !اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی : میرے مولیٰ ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ ارشاد ہوا: یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں حرام مال ہے۔ (عیون الحکایت ، ص213)

مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بے شک بندہ سے بے صبری کر کے اپنے آپ کو حلال روزی سے محروم کر دیتا ہے اور اس کے باوجود اپنے مقدر سے زیادہ حاصل نہیں کر پاتا۔ (المستطرف ، 1/ 124)

اللہ ربُّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حرام سے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


خدا کی بندگی و اطاعت میں رزقِ حلال کی بنیادی حیثیت ہے۔ تقوی و خوف خدا کا سب سے بڑا پہلو اللہ پاک کی نافرمانی سے بچنا ہے اور نافرمانی والے کاموں میں رزق حرام شدید اور گھٹیا ہے ۔ ، افسوس کے لوگ حلال و حرام کمائی کا خیال رکھنے میں بہت بے پرواہ ہو چکے ہیں۔

رزقِ حرام کمانا اسلام میں سخت ناجائز و حرام ہے۔ اور اس سے حاصل ہونے والی ہر چیز منحوس ہے۔ چنانچہ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠(۱۸۸) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔(پ2،البقرۃ:188)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ! ترجمہ کنز العرفان : اے ایمان والو ! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ البتہ یہ (ہو) کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔

قارئین کرام! چند احادیث طیبہ حرام کمانے و کھانے کی مذمت پر ملاحظہ ہو :

احادیث طیبہ میں حرام کمانے و کھانے کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے اور بہت سخت وعیدات بیان کی گئی ہے۔

حرام کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فر مایا : اللہ پاک ہے۔ پاک چیز کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اس نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا۔اور فرمایا : ﴿یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں ۔ (پ18،المؤمنون:51)پھرنبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال غبار آلود ہیں وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے اور کہتا ہے۔ یارب ! یا رب ! اور اس کا کھانا پینا حرام ہو اس کا لباس حرام ہے۔ اس کی غذا حرام ہو کو اس کی دوا سے کہاں قبول ہوگی۔ (مسلم، کتاب الزکاۃ باب قبول الصدقة من الكسب الطيب ،ص 506،حدیث : 1015)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام کمانے اور کھانے والی کی دعا قبول نہیں ہوتی اور جو شخص اپنی کمائی و کھانے کو حلال رکھتا ہے۔ وہ مُستَجابُ الدَّعْوات بن جاتا ہے۔ چنانچہ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سعد رضی اللہُ عنہ سے ارشاد فرمایا : اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُستَجابُ الدَّعْوات ہو جاؤ گے ، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی جان ہے ! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہتر ہے ۔ ( معجم الاوسط، من اسمه : محمد، 5 / 34، حدیث : 6495)

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ جو اپنی غذا کو پاک کر لیتا ہے وہ مستجاب الدَّعْوات بن جاتا ہے اور حرام کا ایک لقمہ کھانے سے بندے کے چالیس دن کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔

ایک اور حدیث پاک میں حرام کھانے والے کا نہ نفل قبول ہے اور نہ ہی فرض۔ چنانچہ ارشاد فرمایا : بیت المقدس پر اللہ پاک کا ایک فرشتہ ہے جو ہر رات ندا دیتا ہے کہ جس نے حرام کھایا اس کے نہ نفل قبول ہیں نہ فرض ۔( الكبائر للذهبي، الكبيرة الثامنۃ والعشرون،ص134)

اسی طرح ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا: جس شخص نے دس درہم میں کپڑا خریدا اور اس کی قیمت میں ایک درہم حرام کا ہے تو جب تک وہ کپڑا اس (کے جسم) پر ہو گا اللہ پاک اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمر ، 2/417،حدیث:5736)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ جسم جو حرام سے پلا بڑھا ہو تو آگ اس سے بہت قریب ہوگی۔(شعب الایمان التاسع والثلاثون من شعب الایمان،5/56،حدیث:5759)

30 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا ایک درہم اللہ پاک کے نزدیک حالتِ اسلام میں 30 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔ (سنن الدار قطنی کتاب البیوع ،3/19، حدیث :2821)

کوئی صدقہ قبول نہیں : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: حرام مال کا کوئی صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مسلم ،ص 115 ،حدیث :224)

جہنمی شخص ہے : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: رشوت لینے والا اور دینے والا جہنمی شخص ہیں ۔( معجم الاوسط ،1/550، حدیث: 2026)

ایک اور جگہ اسی طرح و رشوت کی مذمت پر ارشاد فرمایا: رشوت لینے والے اور دینے والے پر رسولُ اللہ نے لعنت بھیجی ہے۔ (ابو داؤد ، 3/420، حدیث: 3580)

حلال و حرام سے متعلق صحابہ کی احتیاطیں!

خلیفۂ اول امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ نے اپنے غلام کی کمائی سے دودھ نوش فرمایا(یا کوئی چیز کھائی)،پھر غلام سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے عرض کی :’’میں نے ایک قوم کے لئے کہانت کی تھی ( یعنی فال کھولی تھی)تو انہوں نے بطورِ اجرت مجھے یہ دودھ دیا۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہُ عنہ نے اپنی انگلی منہ میں ڈال کر قے کردی۔ راوی کہتے ہیں: آپ رضی اللہُ عنہ نے اتنی شدت سے قے کی کہ میں سمجھا آپ کی جان نکل جائے گی۔ پھر آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:’’ اے اللہ پاک !جو کچھ رگوں نے روک لیا اور آنتوں میں مل گیا میں اس سے تیری بارگاہ میں معذور ہوں۔‘‘(صحیح بخاری کتاب مناقب، الانصار باب ایام الجاهليہ : 2/571، حدیث: 3842)

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے غلطی سے صدقہ کی اونٹنی کا دودھ پی لیا تو(معلوم ہونے پر)انگلی ڈال کر زبردستی قے کردی۔

قارئینِ کرام! جیسا کہ آپ نے ابھی حرام مال کمانے و کھانے کی مذمت پر احادیث طیبہ کا مطالعہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام کھانے و کمانے پر کتنی سخت وعیدات وارد ہیں ۔ کہ جو بندہ حرام کماتا و کھاتا ہے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی اس کی نفل و فرض حتی کہ کوئی بھی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اس کا دیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہوتا ۔ ایک حرام کا لقمہ کھانے سے 40 دن کے اعمال قبول نہیں ہوتے، حرام خور شخص کے آگ زیادہ قریب ہے۔ حرام خور شخص پر رسولُ اللہ کی لعنت ہے ۔

قارئینِ کرام! ہمیں ان وعیدات کو پڑھ و سن کر ڈر جانا چاہیے اور اگر ہمارے مال میں کسی بھی طرح حرام مال شامل ہو رہا ہے تو اللہ کے حضور سچی توبہ کیجئے اور آئند اپنے مال کو پاکیزہ و طیب بنائیں۔

دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں رزقِ حلال کمانے اور حلال و طیب کھانے اور رزقِ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فر مائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام زندگی کے ہر پہلو پر ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔ چاہے عبادات کا معاملہ ہو یا معاملات کا ۔ الغرض کوئی بھی پہلو ہو قراٰن و حدیث ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ وہی ایک چیز حلال کمانا اور حرام سے بچنا بھی ہے۔ چنانچہ الله کریم اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸)﴾ترجمہ کنزالایمان: اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔

مذکورہ بالا آیت میں اللہ نے ہمیں حلال اور طبیب کھانے کا حکم فرمایا اور وہی ہمیں حرام کھانے سے منع فرماتا ہے۔ الله کریم اپنی لاریب کتاب میں ارشاد فرماتا ہیں: ﴿وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠(۱۸۸) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔(پ2،البقرۃ:188)

حرام مال کمانے کی مذمت میں احادیث کریمہ ملاحظہ ہو :

اللہ رب العزت نے جس مال کو ہم پر حرام کیا ہے اس میں سے ایک سود کا مال بھی ہے۔

امام بخاری اپنی صحیح میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : آج رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور مجھے زمین مقدس (بیت المقدس) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے، یہاں ایک شخص کنارہ پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے، یہ کنارہ کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شخص نے ایک پتھر ایسے زور سے اُس کے مونھ میں مارا کہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارہ والا مونھ میں پتھر مارکر وہیں لوٹا دیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا، یہ کون شخص ہے؟ کہا، یہ شخص جو نہر میں ہے، سود خوار ہے۔ (بخاری شریف، حديث :2085)

اسی طرح اللہ پاک نے سود کو بھی مسلمان پر حرام فرمایا ہے ، آئیے سود کی مذمت میں پیارے آقا کے فرامین پڑ ھتے ہیں :

(مشکوۃ شریف میں) حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ روایت کرتے ہیں کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا ایک درہم جس کو جان کر کوئی کھائے وہ چھتیس (36) مرتبہ زنا کرنے سے بھی سخت ہیں۔ (مشکوۃ المصابيح )

امام احمد و ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ''شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) ہیں، ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا، اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ اُنھوں نے کہا، یہ سود خوار ہیں۔

محترم قارئین کرام مسلمان ہونے کے ناتے مذکورہ تمام افعال سے ہمیں بچنا چاہیے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح کسبِ حلال کے بے شمار فضائل ہیں ۔ وہیں رزق حرام کمانے اور کھانے پر بہت ہی سخت وعیدیں بھی ہیں۔ بد قسمتی سے آج کل کسب حلال بہت ہی کم گھروں تک محدود رہ گیا۔

ہر شخص اپنے عہدے کے مطابق اس میں خیانت کر کے اپنی روزی کو حرام بنا رہا ہے۔ ہمارے مسلمان بھائی بلا ضرورت جھوٹ بول کر معاذ اللہ جھوٹی قسمیں تک کھا کر اپنا مال فروخت کرتے ہیں ۔ رشوت سود، دھوکہ بازی حتی کہ جس گناہ کا سہارا لینا پڑ جائے لیتے ہیں اور مال کماتے ہیں۔ غور کریں ! آپ اتنا ہی کھاتے ہیں جتنی آپ کے پیٹ میں گنجائش ہے۔ آپ اُسی قدر پہنتے ہیں جس قدر آپکی جسامت ہے باقی آپ کی کمائی آپکے اہل و عیال کھاتے ہیں۔ اور وبال آپ پر آئیگا ۔ لہٰذا ! اپنے جسم نازک پر رحم کریں ۔ خدارا اسے جہنم کا ایندھن بنبے سے بچائیں ۔ جس نے پیدا کیا ہے اُسی نے رزق کا بھی وعدہ فرمایا ہے۔ جو کچھ آپ کے نصیب میں ہے آپ کو مل کر رہے گا۔ اب یہ فیصلہ آپ پر ہے کہ اسے کس طرح حاصل کرتے ہیں۔

اس ضمن میں چند فرامین آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئیگا کہ آدمی پر واہ بھی نہ کرے گا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیا ہے ، حلال سے یا حرام سے (صحیح بخاری)

آہ !حقیقت یہ ہے کہ اب وہ دور آ چکا ہے حلال و حرام میں فرق نہیں کیا جاتا ہے۔ انسان مال کی محبت میں اندھا ہو چکا ہے اسے بس مال چاہیے۔ چاہے وہ کسی راستے سے آئے۔ اب اگر کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ پیسے کہاں سے ملے؟ تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے کے آم کھاؤ گھٹلیاں مت گنو ۔

(2) عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو بندہ مالِ حرام حاصل کرتا ہے اگر ا س کو صدقہ کر دے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اسکے لیے اُس میں برکت نہیں اور چھوڑ کر مرے گا تو جہنم میں جانے کا سامان ہے۔ اللہ پاک برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا ہاں نیکی سے برائی کو مٹا دیتا ہے۔ بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا ۔ (احمد)

(3) حضرت جابر رضی اللہ سے روایت ہے کہ مدنی تاجدار ہم بے کسوں کے مددگار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو گوشت حرام سے اُگا ہے (یعنی پلا بڑھا)جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو گوشت حرام سے اُگا ہے اُس کے لیے آگ زیادہ بہتر ہے ۔ (دارمی، بیھقی)

(4) پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان خوشبودار ہے ۔ الله پاک ہے اور پاک ہی کی دوستی رکھتا ہے اور اللہ پاک نے مؤمنین کو بھی اُسی کا حکم دیا ہے جس کا رسولوں کو حکم دیا۔ اپنے رسولوں سے فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔ (پ18،المؤمنون:51) اور فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ ۔ (پ،2 ، البقرۃ:172)پھر نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال غبار آلود ہیں ،وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے :یا رب! یا رب! اور اس کا کھانا پینا حرام ہو، اس کا لباس حرام ہو، اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کہاں قبول ہو گی۔(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیّب وتربیتہا، ص506، حدیث: 1015)

(5) حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :جس نے عیب والی چیز کو بیچا اور اُسکے سبب کو ظاہرہ نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ پاک کی ناراضگی میں ہے فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ (ابن ماجہ )

الله پاک سے دعا ہے کہ رزقِ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حرام کمانا اور کھانا اللہ پاک کی بارگاہ میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ اور احادیث میں اس کی بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سعد رضی اللہُ عنہ سے ارشاد فرمایا : اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُستَجابُ الدَّعْوات ہو جاؤ گے ، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی جان ہے ! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہو اس کے لئے آگ زیادہ بہتر ہے ۔ (معجم الاوسط، من اسمہ : محمد، 5 / 34، حدیث : 6495)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال پَرا گندہ اور بدن غُبار آلودہ ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر یارب ! یا رب ! پُکار رہا ہے حالانکہ اُس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غِذا حرام ہو، پھر اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ (مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الكسب الطبيب و تربيتها ،ص 506،حديث : 1015)

مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ بات اخذ کرنے کو ملتی ہے کہ حرام کے کمانے والے ، حرام کا لقمہ لینے والے، دونوں جہاں میں رسوائی کا باعث ہے۔ کیونکہ ایک شخص جس کا ذریعہ معاش حرام کاموں سے ہے وہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ الله کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے کہ کوئی شخص حرام مال کھائے پھر اسمیں سے خدا کی راہ میں صدقہ دے تو یہ صدقہ قبول نہیں کیا جائیگا اور اگر اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرے تو برکت سے خالی ہوگا ۔

لہذا جس گھر میں برکت نہیں وہ گھر ناچاقیوں کا شکار ہوگا ۔ وہ گھر سکون اور اطمینان سے خالی ہوگا اور جس گھر میں بے انتہا قیمتی اشیاء موجود ہو لیکن سکون نہ ہو تو وہ گھر گھر نہیں بلکہ ایک قید خانہ ہوتا ہے۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے پاکیزہ کمائی کھائی، سنت پر عمل کیا ، لوگوں کو اپنی ایذا رسانی سے محفوظ رکھا ، جنت میں داخل ہوگا ۔(ترمذی)

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کے اندر چار خصلتیں پائی جائیں اسے اس دنیا سے اٹھ جانے کا کوئی نقصان نہیں ۔(1) امانت کی حفاظت (2) تول کی صداقت (3) حسن اخلاق اور (4) طہارت طعام۔ (مسند امام احمد)

حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: خدا اس بندے کو پسند کرتا ہے جو ایمان دار ہو اور کسی ہنر سے روزی کے کماتا ہو ۔ (طبرانی)