بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از بنت عبدالستار عطاریہ، جامعۃ المدینہ نارووال
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ
یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) (پ
21، لقمان: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور
وہ نصیحت کرتا تھا اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنابے شک بڑا ظلم ہے۔
یہاں ”یابنی
(اے میرے بیٹے)“ کے الفاظ استعمال ہوئے جو انتہائی شفقت اور محبت والے ہیں اور یہ
سیکھانا ہے کہ تربیت کا آغاز سخت لہجے سے نہیں بلکہ محبت بھرے جملوں سے ہونی چاہئے۔
صراط الجنان
میں ہے کہ بچوں کو ہر وقت کوسنا نہیں چاہیے ہر وقت اللہ سے خیر ہی مانگے نہ جانے
کون سے گھڑی قبولیت کی ہو اور بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کہ اولاد کے لیے
بددعا کی اور وہ قبولیت کے گھڑی تھی اور اس کے نتیجے میں بچے پر واقعی وہ مصیبت آجاتی
ہے جس کی بددعا کی ہوتی ہے۔ (صراط الجنان، 4/292)
حضرت انس رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں
کہا اور نہ کبھی یہ پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا۔ (بخاری،
2/243، حدیث: 2768)
بچوں پر بے جا
سختی مارپیٹ اور ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ ان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے نفسیات اور
دین اسلام دونوں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سخت رویہ اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب
بنتا ہے۔ بچوں پر بےجا سختی کے چند نقصانات درج ذیل ہیں:
بچے پر ہر وقت
کی تنقید اور سختی کی وجہ سے بچہ خود کو دوسروں سے کمزور سمجھنے لگتا ہے اور ان کے
اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ سہمے سہمے رہتے ہیں۔
بےجا سختی
بچوں میں انیزائٹی پیدا کرتی ہے اور باغی بناتی ہے، ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے ایسے
بچے اکثر پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن خوف کی
وجہ سے مختلف سرگرمیوں پر مرکوز نہیں ہو پاتا ہے۔
تربیت کا مطلب
رعب ڈالنا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے جب بچہ محبت محسوس کرتا ہے تو وہ آپ کی بات
دل سے مانتا ہے صرف ڈر سے نہیں نیز اگر بچے تنگ کریں تو انہیں حکمت عملی(strategy)سے
سمجھائیے جیسا کہ غلطی کرنے پر آپ اسے سمجھائیں کہ کوئی بات نہیں غلطیاں تو سب سے
ہوتی رہتی ہیں بجائے اس کے کہ آپ اسے ڈانٹ ڈپٹ کریں اس سے بچہ اگلی دفعہ ڈر کی بنا
پر جھوٹ بولے گا۔ لہذا ہمیں بچوں کا رہنما اور دوست بن کر رہنا چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں
بچوں کی نیک تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
دین اسلام
ہمیں بچوں سے پیار، محبت اور شفقت کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ان پر بے جا سختی
کرنے کی مذمت فرماتا ہے۔ آقا کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں بچوں سے شفقت کرنے کا
درس ملتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے کبھی بھی بچوں پر سختی نہیں فرمائی۔ چنانچہ روایت ہے
حضرت ابو ہریرہ سے، فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کے پاس نیا پھل
لایا جاتا تو اسے آپ اپنی آنکھوں اور لبوں پر رکھتے اور عرض کرتے الہی جیسے تونے
ہم کو اس کی ابتدا دکھائی، ہم کو اس کی انتہا بھی دکھا، پھر وہ پھل کسی اس بچے کو
عطا فرما دیتے جو آپ کے پاس ہوتا۔ (دارمی، 2/32، حدیث: 2078)
ایک اور حدیث
میں فرمایا: روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم ﷺ کی خدمت
میں حاضر ہوا بولا کیا آپ لوگ بچوں کو چومتے ہیں؟ ہم تو نہیں چومتے تو نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: کیا میں تیرے لئے اس کا مالک ہوں کہ اللہ پاک نے تیرے دل سے رحم نکال لیا۔
(مسلم، ص 1267، حدیث: 2317)
یعنی تم لوگوں
کا اپنے بچوں کو نہ چومنا اس لئے ہے کہ رب تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحم و کرم
نکال دیا ہے، جن کے دلوں سے اللہ رحم نکال دے، اس کے دل میں ہم رحمت و کرم کس طرح
ڈالیں، ہم تو اللہ کی رحمتوں کے دروازہ ہیں۔ (مراة المناجيح، 6/778)
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ بچوں پر کتنے شفیق ہیں اور ہمیں بھی
اس سے یہ درس ملتا ہے کہ بچوں سے پیار کیا جائے، انہیں چوما جائے نہ کہ ان پر سختی
کی جائے۔
اگر بچے بات
نہ مانیں تو کیا کیا جائے؟ دیکھیے بچے نازک پھولوں کی مانند ہوتے ہیں وہ سختی سے
نہیں پیار سے سمجھتے ہیں۔ بچے اگر بات نہیں مانتے تو ان کو ڈانٹیں نہ ان کو سب کے
سامنے جھاڑیں، اس سے بچے اور ضدی بن جاتے ہیں، ان کو اکیلے میں سمجھا ئیں۔
بچے کیوں
بگڑتے ہیں؟ پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھیے بچوں کی ہم گھر میں تو اچھی تربیت
کرتے ہیں ان کو معاملات، اخلاقیات سکھاتے ہیں پھر بھی بچے اچھے کیوں نہیں بن پاتے؟
تو دیکھئے کہ وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کے دوست کیسے ہیں، ان کے اسکول
کا ماحول کیسا ہے؟ کیا ہمارے بچے غلط دوستوں کے ساتھ تو نہیں بیٹھتے، اگر ایسا ہے
تو ان کو سمجھائیے اور ان کو دینی ماحول سے وابستہ کیجئے۔
ان کو دعوت
اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں قرآن پاک کی تعلیم دلوایئے۔ اچھی صحبت کی وجہ سے
ہمارے بچے بھی نکھرتے جائیں گے اور معاشرے کا ایک بہترین فرد بنیں گے۔ ان شاء اللہ
الکریم
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں بچوں سے پیار، محبت اور شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از بنت گلزار علی،فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
اسلام نے ہمیں
ہر ایک کے حقوق سے آگاہ کیا ہے جن کی پاسداری کرنا ہر ایک پر لازم ہے۔ آج کل ہمارے
معاشرے میں بعض لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہوتا ہے جن میں سے ایک بچوں
کے حقوق بھی ہیں، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے سختی اور شفقت و
محبت کو پیش نظر رکھیں اور ان دونوں کو اعتدال سے لے کر چلیں بچوں پر زیادہ سختی
کرنے سے وہ باغی اور ضدی ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے والدین کو مشکلات اور پریشانیوں
کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
والدین اس بات
کو بخوبی جانتے ہیں کہ بچے شفقت و محبت سے قریب آتے ہیں جبکہ اس کے مترادف بچوں پر
ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کرنے سے وہ والدین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔بچوں پر بے جا سختی
کا بعض اوقات والدین کو سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے یعنی بچے غلط جگہوں پر جانا،غلط
لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں،گناہوں کے اڈوں میں جانا شروع کر
دیتے ہیں جہاں معاذ اللہ شراب نوشی جیسے برے کام ہو رہے ہوتے ہیں۔
والدین کو
چاہیے کہ بچوں پر ایسی سختی نہ کریں جس سے بعد میں انہیں پچھتاوا ہو لیکن وہ کچھ
بھی نہ کر سکیں۔والدین کو بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے جس سے کوئی والدین کی
تربیت پر انگلی نہ اٹھا سکے۔بعض والدین اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب بچہ بڑا ہو
اور وہ اس کی اخلاقی تربیت کریں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ والدین کو چاہیے
کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ بچہ اپنے بچپن میں جو کچھ
سیکھتا ہے ساری زندگی وہ اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے۔بچے کا ذہن ایک خالی شیشی کی
طرح ہوتا ہی جو کچھ اس میں ڈالا جائے ڈلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسے ساری عمر یاد
رکھتا ہے، اسی لیے والدین کو چاہیے کہ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جائے اس کی اچھی
تربیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
بچوں کی چھوٹی
چھوٹی غلطیوں پر شفقت سے اصلاح کی جائے نہ کہ ان پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے اور
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بچے اس کام کے حریص ہوتے ہیں جن سے انہیں منع کیا جائے،
لہذا بچوں کی ہر بات پر روک ٹوک نہ کی جائے بلکہ وقتا فوقتا پیار سے سمجھایا جائے۔
بعض والدین اپنے بچوں پر شفقت کرنے میں میانہ روی اختیار نہیں کرتے یعنی ایک بچے
پر شفقت زیادہ اور دوسرے پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں تو اس طرح اگر ایک بچے پر سختی
زیادہ کی جائے تو وہ احساس کمتری اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات
بچوں پر سختی کرنے کا سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین
اپنے بچوں کو وہ چیز فراہم نہیں کر پاتے جن کا بچے مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں پھر جب
بچوں کو وہ چیز حاصل نہ ہو تو وہ والدین سے ضد کرتے ہیں جس کی وجہ سے والدین ان پر
سختی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ان سب باتوں کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ بچوں پر جس
قدر سختی کی جائے وہ اتنے ہی ضدی بنتے ہیں لہذا والدین کو حتی الامکان کوشش کرنی
چاہیے کہ بچوں کو پیار سے ڈیل کریں جیسے کہ ہمارے مرشد ہمارے رہبر بچوں کے ساتھ
شفقت سے پیش آتے ہیں۔
عام طور پر
بچے فطرتا ناسمجھ اور شرارتی ہوتے ہیں،ان میں ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ
ہوتا ہے جو انہیں ہر وقت بے چین رکھتا ہے، وہ چیزوں کو چھیڑ چھاڑ کرتے، رکھتے اٹھاتے،
توڑتے جوڑتے ہیں جو انکی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے بچپن وہ عمر ہوتی ہے
جب بچہ گرم لوہے کی مانند ہوتا ہے کہ اسے جس شکل میں ڈھالا جائیگا وہ اسی شکل میں
ڈھل جائے گا یہ وہ دور ہے کہ جب بچے کی تربیت کی جائے۔
تربیت کا
معاملہ بہت توجہ طلب اور محتاط عمل ہے کہ جو اب کرلیا سو کرلیا بعد میں محض
پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا۔ تربیت کے معاملے میں کچھ والدین بہت عقل مندی، سمجھداری
سے کام لیتے ہیں اور تربیت میں نرمی پیار محبت شفقت کرتے ہیں اور بعض ایسے نادان
والدین ہوتے ہیں کہ وہ بے جا سختی کو ہی تربیت سمجھتے ہیں یہ بے جا سختی بچوں میں
احساس کمتری، اسٹریس، ضد، والدین کے خلاف بدگمانی، نا امیدی، مایوسی جیسی خطرناک
مہلک بیماریاں پیدا کرنے کا سبب ہے۔
بے جا سختی
بچوں کو والدین سے دور کردیتی ہے وہ چھپ چھپ کر وہ کام کرنا شروع کردیتے ہیں جن سے
انہیں روکا جائے وہ غلط صحبت کا شکار ہوجاتے ہیں، والدین سے باتیں چھپاتے،جھوٹ
بولتے، ناکرنے والے کام کرجاتے ہیں، یہ عمل بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو شدید نقصان
پہنچاتا ہے۔
وہ نئے تجربات
کرنے سے ڈرتا ہے، لوگوں سے بات کرتے ہوئے گھبراتا ہے الغرض یہ کہ وہ معاشرے کا
بہترین فرد بننے کے بجائے منفی سوچ و منفی کردار والی شخصیت لے کر پروان چڑھتا ہے
اور پھر یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے وہ بچے جنھیں آزادی کے ساتھ کسی
کام کو کرنے کا موقع نہیں ملا وہ کچھ نیا کرنے کا سوچتے ہی نہیں اور اگر سوچتے ہیں
تو اپنی پہلی ناکامی پر ہی مایوس ہوجاتے ہیں جبکہ وہ بچے جنھیں اپنے والدین کا
مکمل ساتھ حاصل ہوتا ہے وہ دنیا کے ہر طوفان سے لڑ سکتے ہیں مستقبل میں اپنے
والدین کا دست و بازو بنتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے بلکہ آگے بڑھتے جاتے ہیں اگرچہ
والدین اولاد پر نگران ہیں لیکن بچوں کے بھی حقوق ہیں بروز قیامت انکے متعلق بھی
سوال کیا جائے گا بچوں پر سختی کرنے میں بعض اوقات یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ان
پر تشدد کیا جاتا ہے، مارپیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کے ظاہری نقصانات کو اگر
ایک طرف کرکے صرف شریعت کی نظر سے دیکھیں تو احادیث طیبہ میں حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ بچوں پر شفقت فرمانے والے
تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا،
وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
بچوں کو ہمیشہ
پیار نرمی شفقت سے سمجھایا جائے، اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی کی جائے، انکی غلطیوں
پر انہیں ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا جائے، نئے تجربات کرنے کے مواقع فراہم
کیئے جائیں ان سے دوستانہ ماحول رکھا جائے تاکہ وہ اپنی کوئی بھی بات بلا جھجک آپ
سے کریں ناکہ اپنے دوستوں سے، انہیں وقت دیں اور ان کیلئے خود رول ماڈل بنیں، اپنے
بچوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ مستقبل میں معاشرے کا بہترین شہری بن کر آپکا
نام روشن کرے۔
بچوں پر بے جا
سختی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ مستقبل کے روشن ستارے ہوتے ہیں ان کے ساتھ نرم
مجازی سے پیش آنا چاہیے، تو یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نرم مجازی کا
مطلب یہ ہے کہ بچے کی ہر بات مان لی جائے اور جو بچہ کہہ رہا ہے وہ کر لیا جائے؟
اس کا جواب یہ
ہے کہ پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا یہ ضد کیسے پیدا ہوتی ہے؟ ہر انسان کی ایک خواہش
ہوتی ہے کہ وہ کچھ حاصل کرے اور خواہش میں ایک چیز موجود ہوتی ہے اور وہ ہے صبر،
جب صبر ختم ہو جائے تو وہ ضد بن جاتی ہے جب بچہ کسی چیز سے ضد کرتا ہے تو والدین
اسے ڈانٹتے ہیں مارپیٹ کرتے ہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے پیار سے سمجھانا
چاہیے، بچوں پر سختی بھی کرنی چاہیے لیکن سختی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو مارا
جائے ان سے بدتمیزی کی جائے جب بچے پر سختی کی جائے تو ان کی شخصیت کو نشانہ نہ
بنایا جائے بلکہ ان کے رویے کو نشانہ بنایا جائے جیسے کہ بچے کو یہ نہ کہیں تم تو ہو
ہی ضدی اور نافرمان، بلکہ یہ کہیں بیٹا آپ جو یہ کر رہے ہیں یہ غلط ہے! کیونکہ
والدین کی بے جا سختی ان کے مستقبل کو خراب کر سکتی ہے جیسے کہ جب بچے سے کوئی کام
غلط ہو جائے تو اسے یہ نہ کہیں کہ آپ سے یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ کہیں کہ اب نہیں
ہو رہا تو کوئی بات نہیں لیکن مستقبل میں یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔
والدین کو
چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر شفقت کریں اور ان سے محبت کریں، آقا علیہ السلام کا بچوں
کے ساتھ حسن سلوک مثالی تھا اب بچوں کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیلتے تھے جو
بچے سخت مزاج ہوں تو ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو درود کی تسبیح دی جائے کیونکہ درود
پاک اکڑ کو توڑتا ہے طبیعت کی سختی ختم کر دیتا ہے اور آقا علیہ السلام کی مٹھاس
پیدا کر دیتا ہے حضور کا نام شہد سے میٹھا ہے۔
ان کا
نام لبوں پر آئے میٹھا میٹھا منہ
ہو جائے
ان کے
بول بہاروں جیسے اور اصحاب ستاروں
جیسے
درود غصہ ختم
کرتا ہے اگر والدین چاہیں کہ اولاد غصہ ختم کر جائے اکڑ ختم ہو جائے تو ان کو کسی
طرح درود پر لے آ ئیں تو ان کی طبیعت میں محبت، رقت آئے گی۔
اگر والدین
چاہتے ہیں کہ بچے ان کی ہر بات مانیں تو اس کے لیے ان کو بچوں کی پسندیدہ شخصیت
بننا پڑے گا یا والدین کو اولاد کے لیول پر آنا ہوگا یعنی جب بچہ کھیلے تو ان کے
ساتھ والدین بھی شریک ہو جائیں تو بچے اپنے والدین سے متاثر ہو جائیں گے اور ان سے
محبت بھی کرنے لگیں گے والدین کی بات بھی مانیں گے اگر آپ بچوں پر سختی کریں گے تو
بچے آپ سے باتیں چھپانے لگ جائیں گے تو سختی کے بجائے ان کے دوست بن کر رہیں تاکہ
بچے والدین سے باتیں شیئر کریں اور ان کی ہر جائز بات مانیں، بچے کی سب سے پہلی
ٹیچر یعنی استاد اس کی ماں ہوتی ہے بچوں کی تربیت کا انحصار فقط اساتذہ کرام پر ہی
نہ چھوڑ دیں بلکہ والدین بھی اس کا مضبوط فالو اپ رکھیں انسان کی شخصیت پر صحبت
بہت اثر رکھتی ہے تو لہذا غور کر لینا چاہیے کہ بچے کو کیسی صحبت مل رہی ہے جب بچہ
بری صحبت میں بیٹھتا ہے تو اس کے اندر بری عادتیں بھی آتی ہیں پھر والدین اس پر
سختیاں کرتے ہیں جو کہ بچے کو بگاڑ دیتی ہیں۔
بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از بنت غلام جیلانی، فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اللہ پاک رحیم
ہے اور رحم دلی اور نرمی کو پسند فرماتا ہے نرمی سے کہی گئی بات انسان کے دل میں
سرائیت کر جاتی ہے اس کے برعکس سخت کلامی اگرچہ کلام درست ہی کیوں نہ ہو انسان کو
ضدی اور بدظن کر دیتی ہے خصوصاً بچے کہ آپ ان کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کریں گےوہ
بھی وہی سیکھیں گے۔ بچے قول سے کم جبکہ فعل سے زیادہ سیکھتے ہیں اس لیے بچوں کی
تربیت سے پہلے والدین کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے، والدین کو معلوم ہونا چاہیے
کہ اپنی اولاد کو کب کہاں اور کیسے سمجھانا ہے اور کب زبان سے اور کب اپنے عمل سے
سمجھانا ہے۔ والدین کی بےجا سختی اور روک ٹوک بچوں کو باغی اور نافرمان کر دیتی
ہے۔ یوں ہی اگر والدین بات بات پر جھوٹ بولتے ہیں اور اپنی اولاد سے یہ توقع رکھتے
ہیں کہ وہ سچ بولے اور جھوٹ بولنے پر اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور مارتے ہیں تو یہ
عقلمندی نہیں بلکہ بے وقوفی ہے۔
بچے
اور آقا کریم ﷺ کا انداز: اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی ﷺ بچوں
سے بہت زیادہ شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
روایت ہے فرماتی ہیں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں بڑے کامل ایمان والا وہ ہے
جو سب میں اچھے اخلاق والا اپنے بال بچوں پر مہربان ہو۔ (ترمذی، 4/278، حدیث: 2621)
معلوم ہوا کہ
اپنے دوست احباب یا گھر کے علاوہ باہر لوگوں میں اپنے حسن اخلاق اور نرم گوئی کا
سکہ بٹھانا کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ کامل ایمان والا تو وہ ہے جس کا خلاق اپنے
اہل و عیال کے ساتھ اچھا اور مہربان ہو۔
حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار وہ بچوں کے پاس سے گزرے توانہیں سلام کیااورفرمایا کہ
رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری، 4/179، حدیث: 6247)
اولاد کے
نافرمان و باغی ہونے میں اکثر قصوروار والدین بھی ہوتے ہیں کہ وہ اولاد کے ساتھ
یکساں سلوک نہیں کرتے اور کسی ایک کو زیادہ محبت و پیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے
دوسری اولاد احساس کمتری کا شکار جاتی ہے اور ماں باپ سے بدظن ہو جاتی ہے۔والدین
کو چاہیے کہ جب انہیں کسی ایک بچے پر پیار آئے اور دوسرا بچہ بھی وہاں موجود ہو تو
وہ دونوں کو پیار کریں کہ ایک کا بوسہ لیں تو دوسرے کو اپنے سینے سے لگا لیں۔
اولاد کی
تربیت کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن برے کاموں سے آپ اپنے بچوں کو روکنا چاہتے
ہیں خود بھی ان سے اجتناب کریں کہ والدین کے اچھے یا برے کاموں کے اثرات اولاد پر
بھی پڑھتے ہیں۔
اپنے گھر میں
اچھا ماحول قائم کریں اور بلا وجہ کےچیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں
کہ بچوں کی اخلاقی تربیت میں والدین کا باہمی رویہ و سلوک بہت زیادہ موثر ہوتا ہے۔
بچوں کی
شرارتوں پر انہیں بار بار ٹوکنے اور نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں ایسے سرگرمیاں
فراہم کریں جس سے ان کی صلاحیتوں میں اور ذہنی نشوونما میں اضافہ ہو۔
بچوں پر بےجا
سختی، ڈانٹ ڈپٹ یا تشدد ان کی نفسیاتی اور جذباتی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
جس سے ان میں بغاوت، ڈر اور ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ محبت، توجہ اور نرمی سے
بچوں کی بہتر تربیت ممکن ہے جب کہ ہر وقت کی تنقید انہیں باغی بنا سکتی ہے۔
خوف
و لالچ سے گریز:بچوں
کو خوف یا لالچ دے کر کام نہ کروائیں ورنہ وہ اس کے عادی ہو جائیں گے۔
جذبات
کی قدر: بچوں
کے جذبات کو سمجھیں اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔
بگاڑ
کی وجہ:تشدد
اور بے جا سختی بچوں میں بگاڑ اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
والدین کو چاہیے
کہ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھیں اور ان کی نفسیاتی ضروریات کا خیال رکھیں
کیونکہ بچے کی نفسیات کی ضروریات میں یہ بھی ہے کہ ان سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ
کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ بچوں کو اپنی بات کہنے اور سیکھنے کا صحیح طریقہ اور وقت
انتخاب کرنے دیں۔ سب کے سامنے انہیں ڈانٹنے یا ٹوکنے سے بہتر ہے کہ اکیلے میں
سمجھائیں، بچوں کو ہمیشہ حوصلہ دیں اور ان سے اس طرح کے جملے ہمیشہ کہیں کہ ڈرنے کی
بات نہیں، ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں، اس بار نہیں ہوا تو کیا ہوا اگلی بار کوشش
کرنا، اچھا برتاؤ کرنے پر بچوں کی تعریف کریں۔
کچھ جگہوں پر
کبھی کبھی سختی بھی ضروری ہوتی ہے بچہ بہت ضدی ہو تو تھوڑا سا سخت ہونا پڑتا ہے
پڑھائی کے وقت ہنسی مذاق نہیں۔ اسلام میں بچوں کے ساتھ نرمی شفقت اور محبت کا حکم
دیا گیا ہے اور ان پر بےجا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ بچوں کے
ساتھ پیار و محبت کا معاملہ فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے
نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
اللہ پاک نرمی
کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو
سختی پر نہیں دیتا۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2593)
آپ ﷺ بچوں کو
چومتے گلے لگاتے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔
تربیت
میں سختی کے بجائے حکمت:بچے معصوم اور ناسمجھ ہوتے ہیں اس لیے انہیں سختی
سے مجبور کرنے کے بجائے نرمی اور سمجھداری سے بات منوانی چاہیے، تربیت میں بےجا
سختی نسلوں تک برے اثرات منتقل کر سکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ
اسلام بچوں کی تربیت میں نرمی محبت اور شفقت کو ترجیح دیتا ہے لہذا ہمیں بچوں پر بےجا
سختی نہیں کرنی چاہیے۔ اپنی اولاد اور بچوں کو خوش کرنا جنت میں داخلے کا سبب بھی
ہے۔
بچے کی
نفسیاتی ضروریات میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ کیا جائے وہ
بچے جو ماں باپ کی محبت سے محروم رہتے ہیں، بسا اوقات نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا
دکھائی دیتے ہیں۔ اچھے کھانوں کپڑوں اور کھلونے کے بجائے بچے اس بات کے زیادہ
محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے والدین پر توجہ دیں اور ان سے محبت کریں، بعض لوگ اپنے
بچوں کے سامنے مال و اسباب کے ڈھیر تو جمع کر دیتے ہیں لیکن انہیں اپنی حقیقی توجہ
اور پیار محبت سے محروم رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے
بچوں سے بے جا سختی کرتے ہیں حالانکہ جس طرح ایک بچے کی اچھی صحت کے لیے متوازن
غذا ضروری ہے اسی طرح بچوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کا ان سے پیار بھی بہت
ضروری ہے۔ بچوں سے غلطی ہو جانے کی صورت میں انہیں پیار اور محبت سے سمجھایا جائے،
ہمیں اپنے بچوں پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔
اولاد اللہ
تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور والدین کے لیے امانت ہوتےہیں۔ ان کی اچھی تربیت والدین
کی اہم ذمہ داری ہے۔ بعض اوقات والدین اصلاح کے نام پر اولاد پر ضرورت سے زیادہ
سختی کرتے ہیں، جس سے بچوں کی شخصیت اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بے وجہ سختی
بچوں کے دل میں خوف، نفرت اور احساس محرومی پیدا کر دیتی ہے۔ اسلام نے بچوں کے
ساتھ محبت، شفقت اور نرمی کا حکم دیا ہے، کیونکہ اچھی تربیت محبت اور حکمت سے ہی
ممکن ہے، نہ کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور سخت رویّے سے کیونکہ یہ رویے بچوں کے ذہن پر
منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔اور اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
1۔ بچوں کا بدتمیز اور نافرمان ہو جانا:والدین کی بے جا سختی اور ہر
وقت کا سخت رویّہ بچوں کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ اور سخت
برتاؤ کی وجہ سے بچے بدتمیز، ضدی اور نافرمان بن سکتے ہیں۔ وہ والدین کی بات کو
سمجھنے اور ماننے کے بجائے اس کے خلاف عمل کرنے لگتے ہیں، جس سے گھر کے ماحول میں
بھی بے سکونی پیدا ہو جاتی ہے۔
2۔ بچوں میں خود اعتمادی کا فقدان: والدین کی بے
وجہ سختی اور ہر وقت تنقید کرنے سے بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ بچے خود کو
کمزور اور ناکام سمجھنے لگتے ہیں اور ہر کام میں خوف اور ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
اس طرح وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتے ہیں، جو ان کی تعلیم، شخصیت اور
مستقبل پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
3۔
جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جانا: جب بچوں کو ہر چھوٹی بات پر سخت سزا یا
ڈانٹ کا خوف ہو تو وہ سچ بولنے کے بجائے جھوٹ کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ بچے اپنے آپ
کو بچانے کے لیے باتیں چھپاتے ہیں، جس سے ان کی عادت خراب ہو جاتی ہے اور ان کے
اخلاق پر منفی اثر پڑتا ہے۔
4۔ پڑھائی میں دل نہ لگنا:جب
بچوں پر ہر وقت سختی اور دباؤ ہوتا ہے تو ان کا ذہن بوجھل ہو جاتا ہے۔ وہ پڑھائی
میں دلچسپی کھو دیتے ہیں اور دل لگا کر سبق نہیں پڑھ پاتے۔ خوف اور ذہنی دباؤ کی
وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ بہتر نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔
5۔ احساس کمتری پیدا ہونا:والدین
کی بے جا سختی اور مسلسل تنقید بچوں کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتی ہے۔ بچے
آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں ہیں یا دوسروں سے کم
ہیں۔ یہ منفی سوچ ان کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے اور وہ زندگی میں آگے بڑھنے، نئے
کام کرنے اور اپنی صلاحیتیں دکھانے سے گھبرانے لگتے ہیں۔
6۔
غلط صحبت کی طرف مائل ہونا:جب بچوں کو گھر میں پیار، توجہ اور
اعتماد نہیں ملتا تو وہ باہر سکون تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ غلط
دوستوں کی صحبت میں آ سکتے ہیں جو ان کے اخلاق اور عادات کو مزید خراب کر دیتے
ہیں۔ اس طرح ان کا مستقبل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
حدیث پاک میں ہے:نبی
کریم ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے
ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگران ہے، اس سے اس کی رعایا کے
بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 2/159، حدیث: 2554)
اس حدیث
مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کے معاملے میں جواب دہ ہونگے لہٰذا والدین
کو چاہیے سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں
تاکہ بچے خود بخود اچھے اخلاق اختیار کریں۔
محبت، شفقت و
نرمی اولاد کا بنیادی حق ہے۔ حضور سید عالم ﷺ بچوں پر بہت ہی شفیق تھے بچوں کو
سلام میں پہل کرتے،ان کو گلے لگاتے، منہ چومتے، پیار سے سونگھتے ان کی نرمی و محبت
سے تربیت فرماتے،لہٰذا اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے
اپنی اولاد کی تربیت پیار، محبت و نرمی سے کی جائے۔
بچے اللہ پاک کی
طرف سے والدین کے لئے عظیم نعمت ہیں ان کی پرورش کرنا نہایت نازک معاملہ ہے،بچوں
کی تربیت مختلف انداز سے ہوتی ہے کسی موقع پر نرمی تو کسی موقع پر سختی سے بچوں کے
ساتھ پیش آیا جاتا ہے بچوں سے ایسے اعتدال کے ساتھ سے پیش آئیے کہ وہ باغی نہ ہو
جائے۔
بعض لوگ بچوں
پر بے جا سختی کرتے ہیں جسکی وجہ سے بچوں کے دلوں میں والدین کے لئے عزت اور
احترام آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور بچے والدین سے دور ہوجاتے ہیں۔
اسلام ہمیں
بچوں کے ساتھ پیار،شفقت اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے، پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: وہ
ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔ (ترمذی،
3/369، حدیث: 1926)
معلوم ہوا
اسلام جہاں ہمیں بڑوں کے ساتھ احترام سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے وہیں بچوں کے ساتھ
شفقت سے پیش آنے اور رحم کرنے کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
عموماً ہمارے
معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں جسکے
نتیجے میں بچے باغی ونافرماں ہوجاتے ہیں،والدین سے باتیں چھپاتے،سختی کے ڈر سے
جھوٹ بولتے ہیں اور بچے ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے
ہیں بری صحبت،چوری جیسے کاموں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
ہمارے اسلاف
کا طرز عمل یہی تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ نہایت نرمی سے پیش آتے تھے بلکہ ہمارے آقا ﷺ
بچوں پر کبھی سختی نہیں فرماتے تھے بلکہ بچوں کو گود میں بٹھاتے،ان کا بوسہ لیتے
اور کبھی کبھار انکے ساتھ کھیلتے بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی
اللہ کو کندھوں پر بھی بٹھاتے تھے۔
حدیث مبارکہ
میں ہے: رسول اللہ ﷺ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کندھے پر بٹھاتے تھے اور فرمایا:
اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر۔ (ترمذی، 5/656، حدیث: 3769)
ہمیں اپنے
انداز پر غور کر لینا چاہیے کہ ہمارا اپنے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک ہے کہیں ہم بلاوجہ
سختی کرکے انہیں خود سے دور تو نہیں کر رہے؟
اگر بچہ کوئی
غلطی کرے تو اسے ڈانٹنے اور مارنے پیٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائے تاکہ وہ آپکی
بات بھی سمجھ جائے اور آپکے لیے اس کے دل میں احترام بھی باقی رہے۔
بچوں پر اتنی
سختی نہ کریں کہ بعد میں آپکو پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑے۔ یاد رکھئے اسلام نے ہمیں
بچوں کے ساتھ بہت زیادہ سختی سے ضرور منع کیا ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ بچے کے
ساتھ اتنی زیادہ نرمی اختیار کی جائے کہ بچہ ضدی بن جائے جہاں اسلام ہمیں ہر جگہ میانہ
روی کا درس دیتا ہے وہی بچوں کے ساتھ بھی اعتدال کا رویہ اپنانے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنی اولاد کی تربیت شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اولاد اللہ
تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور امانت ہے۔ والدین اور اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی
تربیت محبت، شفقت اور حکمت کے ساتھ کریں۔ اگرچہ تربیت کے لیے کبھی کبھی سختی کی
ضرورت پیش آتی ہے، لیکن بے جا سختی بچوں کی شخصیت، ذہنی سکون اور اعتماد کو شدید
نقصان پہنچاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ بچوں کے دل میں خوف، ضد
اور نفرت پیدا کر دیتی ہے، جس سے ان کی صحیح تربیت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام بھی
اعتدال، نرمی اور محبت بھرے انداز تربیت کی تعلیم دیتا ہے، اسی لیے بچوں پر بے جا
سختی ایک قابل مذمت عمل ہے۔
دین اسلام
معاملات زندگی کو آسان طریقے سے سر انجام دینے کا درس دیتا ہے۔ دین اسلام میں
آسانی اور نرمی کا سبق پڑھایا گیا۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں فرماتا ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ
بِكُمُ الْعُسْرَ٘-(پ 2، البقرۃ:185) ترجمہ کنزالعرفان: اللہ تم پر
آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔
بچوں پر بے جا
سختی انکی طاقت سے زائد ان پر بوجھ ڈالنا ہے جبکہ اسلام کی یہ تعلیمات نہیں ہیں۔
بچوں پر بے جا
سختی کے کئی نقصانات ہیں: اس سے بچوں کے دل میں خوف، احساس کمتری اور ضد پیدا ہوتی
ہے۔ وہ والدین اور اساتذہ سے دور ہونے لگتے ہیں اور ان کا اعتماد کمزور ہو جاتا
ہے۔ مسلسل سختی بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے، جس کے
نتیجے میں وہ جھوٹ، بدتمیزی یا باغیانہ رویّے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ محبت اور
نرمی کے بجائے سختی اختیار کرنا بچوں کی صحیح تربیت میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
بچوں پر بے جا
سختی خصوصاً مار پیٹ کے جسمانی نقصانات بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ اس سے بچے جسمانی
کمزوری، چوٹ، زخم اور بعض اوقات مستقل بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ زیادہ خوف
اور دباؤ کی وجہ سے نیند کی کمی، بھوک متاثر ہونا، سر درد اور جسمانی تھکن جیسی
مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بعض بچوں کی نشوونما اور صحت بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے
ان کی روزمرہ زندگی اور تعلیم پر برا اثر پڑتا ہے۔
اس لیے بچوں
کی تربیت میں بے جا سختی کے بجائے محبت، نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ان کی
غلطیوں کو صبر کے ساتھ سمجھایا جائے اور اچھے انداز میں اصلاح کی جائے۔ بچوں کی
حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ ان میں اعتماد پیدا ہو۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے
کہ وہ خود اچھا اخلاق اپنائیں، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔
مناسب نگرانی، دعا اور محبت بھرا ماحول بچوں کی بہترین تربیت میں اہم کردار ادا
کرتا ہے۔
حضور جان
رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک دین آسان ہے اور جو شخص بھی دین پر غلبہ حاصل کرنےکی
کوشش کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں بچوں کی صحیح تربیت کرنے، ان کے ساتھ محبت، نرمی اور شفقت کا معاملہ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ہماری اولاد کو نیک، فرمانبردار اور معاشرے کا مفید فرد
بنائے۔ آمین
اولاد اللہ
پاک کی ایک عظیم نعمت ہے، اور انکی اچھی تربیت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ بے
جا سختی نہ صرف بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان کے دل میں خوف، ضد اور
دوری بھی پیدا کر سکتی ہے۔
بچوں کے جذبات
بہت نازک ہوتے ہیں۔ بچوں سے پیار كرنا رسول اللہﷺ کی سیرت کا حصہ ہے مگر آج بچے
تھوڑا سا شور کرتے ہیں تو انہیں خود سے دور کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی
پیار دینا ہوگا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ خاتم
المرسلینﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے ’الفرح “ کہا جاتا ہے اس
میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ (1)
کچھ والدین
اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت جذباتی ہوتے ہیں کہ جونہی بچے نے کوئی غلطی
کی وہ اس کے احساسات کا خیال کئے بغیر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بچے احساس
کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور والدین کو اپنا مخالف سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایسانہ کیا جائے بلکہ بچوں کی غلطی مثبت اور نرم انداز میں ان پر آشکار کی جائے تا
کہ وہ اپنے آپ کو قیدی تصور نہ کریں اور سمجھانے والے کو اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: اے
عائشہ!، اللہ رفیق ہے اور رفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نرمی
کی وجہ سے وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ (2)
اسی طرح بعض
ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں مثلاً
اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آؤں گی وغیرہ۔ ایسا نہ کیجئے
بچے کا نا پختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور نتیجتاً وہ بھی جوابی
دھمکیوں پر اتر آتا ہے اور سنبھلنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے۔ بچے کو کبھی بھی
آناً فاناً سزا مت دیجئے بلکہ اسکی غلطی سامنے آنے پر سوچئے کہ مجھے اسے کس طرح
سمجھانا چاہے،پھر اس حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھائیے۔ سب کے سامنے نہ
جھاڑیئے بچہ بہت سبکی محسوس کرتا ہے اور اس کے نازک دماغ پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔
اسی طرح بعض مائیں اپنی اولاد کی بار بار کی غلطی پر بددعا تک دے ڈالتی ہیں
(العیاذ باللہ)پھر جب یہ بددعا ئیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی مائیں مصلے بچھا کر
بیٹھ جاتی ہیں۔
اسی طرح ایک بار
کی غلطی پر بچے کو مختلف القابات مثلاً مکار، چور، جھوٹا وغیرہ سے نوازنے والے
والدین بھی سخت غلطی پر ہیں۔ ان القابات کی تکرار سے بچہ یہ سوچتا ہے جب مجھے یہ
لقب مل ہی گیا ہے تو میں کیوں نہ اس کام کو کامل طریقے سے کروں۔ پھر وہ اسی لقب کا
حقیقی مستحق بن کر دکھاتا ہے۔
اگر نرمی کے
باوجود بچہ کسی غلطی کو بار بار کرتا ہے تو مقتضائے حکمت یہ ہے کہ اسے ذرا سختی سے
سمجھایا جائے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سزا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: اللہ
تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے گھر میں کوڑا لٹکائے جس سے اس کے اہل ادب
سیکھیں۔ (3)
لیکن یاد رہے
اگر سزا دینی پڑے تو ہاتھ سے اتنی ضرب لگائے کہ بچہ اسے برداشت کر سکے اور چہرے پر
مارنے سے بچے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چاہیے کہ چہرے پر مارنے سے بچے۔ (4)
لہٰذا اولاد
کی تربیت کے لیے قدر ضرورت سختی ضرور کیجئے مگر ایسی سختی بھی نہ کیجئے کہ پھر وہ
آپ سے ہی بد ظن ہوکر سکون کی تلاش میں گناہوں کی طرف چل پڑے۔
اللہ کریم
ہمیں ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین
حوالہ
جات:
(1) جامع
صغیر، ص 140، حدیث: 2321
(2) مسلم، ص 1398، حدیث: 2593
(3) کنز
العمال، 16/159، حدیث: 44990
(4) ابو داود،
4/222، حدیث: 4493
بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از ام ہانی،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
بےجا سختی اور
مار پیٹ وقت بے وقت بچوں کو ڈانٹتے رہنے سے بچوں کی خود اعتمادی بری طرح متاثر
ہوتی ہے اور زیادہ سختی کرنے سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ والدین کی
عادت ہوتی ہے کہ معمولی سی بات پر بچے کو جھڑک دیتے ہیں اور اچھی خاصی پٹائی بھی
کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں ضد پیدا ہوتی ہے اور وہ باغی ہوجاتے ہیں پھر
کسی کی بھی نہیں سنتے۔
فرمان
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ: برتن میں سوراخ کرنےکے بعد جتنا بھر
لو خالی رہے گا یعنی مار کر ہم بچے کو سمجھا نہیں رہے بلکہ اسے خود سے دور کر رہے
ہیں۔ بچے کی غلطی پر اسے مکار،جھوٹا، چور وغیرہ کے القاب سے نوازنے والے والدین
سخت غلطی پر ہیں بچہ سوچتا ہے جب مجھے لقب مل گیا تو میں کامل طور پر بن کر دکھا
دوں۔
ہےفلاح
و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا
کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
بچے پیار کا احساس
ہیں۔اگر اس احساس کو آپ سختی سے پروان چڑھائیں گے تو یہ احساس بچہ میں سے ختم ہو
جائے گا۔بچوں کے ساتھ پیار بھرا رویہ اپنانا چاہئے۔زیادہ سختی بچے کی ذہنی،جسمانی
اور معاشرتی نشوونما کے لئے درست ثابت نہیں ہوتی۔بچوں پربے جا سختی سے یا تو بچہ
بگڑ جاتاہے یا سہم جاتاہے اور کبھی بھی ویسا نہیں بن پاتا جیسا آپ اسے بنانا چاہتے
ہیں۔
بچے کی شخصیت
میں ڈر یاشر کا غالب آنا دونوں ہی صورتیں بچہ کی شخصیت کوتباہ کرنے کے لئے کافی
ہیں۔بچوں پر بےجا سختی کے درج ذیل نقصانات سامنے آتے ہیں:
نفسیاتی
مسائل: بات
بات پر روک ٹوک بچے میں نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کاسبب بنتی ہے۔اگر آپ کو بچے
کوکسی غلط بات سے روکنا ہے تو اسے اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اس کام سے منع
کریں۔
ڈپریشن:
صرف
بڑے ہی نہیں بلکہ بچے بھی بڑوں کے غلط رویے کی وجہ سے ڈپریشن میں جاسکتے
ہیں۔والدین کی طرف سے پڑھائی پر کی جانے والی سختی بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی
ہے۔
ماں
باپ سے دوری: آپ
کی بچے پربے جاسختی اسے آپ سے دور کرسکتی ہے۔سخت رویہ سے تنگ آکر وہ آپ سے دور
رہنے میں زیادہ آرام دہ محسوس کرے گا۔
اعتماد
کی کمی: اعتماد
میں کمی کی بڑی وجہ بڑوں کا بچوں کے ساتھ غلط رویہ ہوتا ہے۔ایسے بچے جو بہت گھٹے
ہوئے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں اعتماد کی کمی واضح طور پر دیکھی جاسکتی
ہے۔والدین کے سخت رویہ سے وہ ہر کام کرنے سے ڈرنے لگتے ہیں۔بچوں کو اگر ہر کام سے
روکا ٹوکا جائے تو وہ کسی بھی کام کو کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔
احساس
کمتری: اکثر
دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین ان پر زیادہ سختی کرتے ہیں وہ احساس کمتری کا
شکار ہو جاتے ہیں۔تنہائی اور اکیلاپن انہیں زیادہ بہتر لگنے لگتا ہے۔ دوسروں کا
سامنا کرنا ان سے بات کرنا ان کیلئے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔اور بچپن میں ہونے
والی احساس کمتری بڑے ہونے کے بعد بھی آسانی سے ختم نہیں ہوپاتی۔ان چند بیان ہوئے
نقصانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت میں بےجا سختی کی بجائے نرمی اور
شفقت اختیار کرنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے
بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا رہنمائی فرمائی اور آپ ﷺ خود اس کا کس درجہ خیال
رکھتے تھے؟اس کی بیشمار مثالیں کتب حدیث وسیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔حضرت عمروبن
ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا
تناول کرتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر ادھر چلا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے
ارشاد فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
(بخاری، 3/521، حدیث: 5376)
قربان جائیے!
آپ کی شان پر کہ آپ کتنے پیارے اور میٹھے انداز میں تربیت فرماتے تھے ہمیں آپ کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے احسن طریقے سے اسلام کی روشنی میں بچوں کی تربیت کرنی
چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں
توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
Dawateislami