حق تلفی کہتے ہیں کسی کو اس کا جائز حق نہ دینا۔ جو حق، چیز، جگہ، مرتبہ اس کا ہے اس میں کمی کر کے دینا یا بالکل ہی نہ دینا۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(۸۶) (پ 13،ہود: 85، 86) ترجمہ کنز العرفان: لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔

جیسا کہ آپ نے آیت مبارکہ میں پڑھا کہ کسی کو اسکی چیز کم کر کے دینا کیسا ہے؟ اور ساتھ ہی حل بھی بتایا ہوا کہ رب کائنات جو تمام چیزوں کا مالک ہے جسکا ہر ہر کام حکمت والا ہے اس نے جو آپکو دیا ہے وہ آپ کیلئے بہتر ہے۔

حقوق العباد کو ادا نہ کرنا حق تلفی ہے۔ جیسے والدین بچوں کے حقوق ادا نہ کریں، بچے والدین کے حقوق ادا نہ کریں، پڑوسی دوسرے پڑوسی کے حقوق ادا نہ کریں، میاں بیوی بہن بھائی وغیرہا ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کریں۔

حدیث مبارکہ میں ہے: عنقریب میرے بعد کچھ ترجیحی سلوک اور ایسے کام ہونگے جو تمہیں ناپسند ہونگے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسی حالت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہو اور اپنے حقوق اللہ سے مانگتے رہو۔ (بخاری، 4/429، حدیث:7052)

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے: قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)

اللہ اکبر! آپ نے حدیث مبارکہ پڑھی کہ قیامت کے دن ضرور حقداروں کو ان کے حق ملیں گے۔ اس حدیث مبارکہ میں امید اور خوف دونوں ہے کہ حقداروں کو تو بدلہ ملے گا لیکن جنہوں نے زیادتی کی ان کا کیا؟

اللہ پاک ہمیں تمام مسلمانوں کے حقوق بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے اور حق تلفی سے بچائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ