رعایا
کے حقوق از ہمشیر ہ محمد جہانزیب،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ

رعایا کے حقوق وہ قانونی اور اخلاقی فرائض ہیں جو
ایک ریاست اور حکومت پر عوام کے رفاہ و بہبود کے لئے عائد ہوتے ہیں۔ یہ حقوق ہر
شہری کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہیں۔
اسلامی نظریہ، عالمی انسانی حقوق کے معاہدے، اور مختلف قومی قوانین سب کے سب اس
بات پر متفق ہیں کہ رعایا کے حقوق کی حفاظت اور ان کا فروغ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اسلامی نقطہ نظر اسلامی معاشرت میں رعایا کے حقوق
کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن و سنت میں بار بار یہ ذکر آیا ہے کہ حکمرانوں پر
عوام کے حقوق کی حفاظت فرض ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى
اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا
بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ
سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸) (پ 5، النساء: 58) ترجمہ کنز العرفان: بیشک
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم
لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت
فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ نے بھی
اپنی احادیث میں حکمرانوں کو نصیحت کی کہ وہ رعایا کے حقوق کا خیال رکھیں۔
عالمی انسانی حقوق کی دستاویزات: بین
الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ نے 1948 میں اعلانِ حقوقِ انسان (Universal
Declaration of Human Rights) منظور کیا۔ اس اعلان میں شہریوں کے حقوق،
آزادی، اور بنیادی انسانی وقار کی حفاظت کے اصول وضع کئے گئے ہیں۔ اس کے تحت،
زندگی کا حق، آزادی، اور ذاتی سلامتی جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں، جو کہ ہر شہری کے
لیے لازمی ہیں۔
قانونی تحفظات: مختلف ممالک
میں رعایا کے حقوق کی حفاظت کے لئے خصوصی قوانین موجود ہیں۔ مثلاً، پاکستان میں
آئینِ پاکستان 1973 کے تحت شہریوں کو مختلف حقوق فراہم کئے گئے ہیں جیسے کہ اظہارِ
رائے کی آزادی، تعلیم کا حق، اور عدلیہ تک رسائی۔ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی
اور ذاتی آزادی کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ آرٹیکل 25 میں تمام شہریوں کو
برابری کے حقوق فراہم کئے گئے ہیں۔
اخلاقی و سماجی پہلو: رعایا
کے حقوق کی حفاظت صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک حکمران کا
اخلاقی فرض ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھے اور ان کی مشکلات کا ازالہ
کرے۔ معاشرتی سطح پر، رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے سماجی تنظیمیں اور غیر سرکاری
ادارے بھی کام کر رہے ہیں جو کہ عوامی خدمات کی بہتری کے لئے مختلف پروگرامز اور
مہمات چلانے میں مصروف ہیں۔

رعایا کے حقوق قرآن اور سنت میں:
1۔ زندگی کا حق: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ
فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ
اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-(پ 6، المائدہ: 32) ترجمہ: اور جو کوئی
کسی جان کو بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد (پھیلانے) کے بغیر قتل کرے تو گویا
اُس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو بچا لیا تو گویا اُس
نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔
2۔ آزادی کا حق:اسلام
میں آزادی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
3۔ مساوات کا حق: اسلام
میں تمام انسانوں کو برابر سمجھا گیا ہے: یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا
وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پ
26، الحجرات: 13) ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا
اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک
اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔
حدیث: کوئی عربی کسی
عجمی پر اور نہ ہی کوئی عجمی کسی عربی پر فضیلت رکھتا ہے۔ (مسند امام احمد، 9/127،
حدیث: 23548)
4۔ تعلیم کا حق: اسلام
میں تعلیم کی بہت تاکید کی گئی ہے۔
حدیث: علم حاصل کرنا
ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ، ص 146، حدیث: 224)
5۔ صحت کا حق: اسلام میں صحت
کی حفاظت اور علاج کی تاکید کی گئی ہے۔
حدیث:اللہ نے کوئی
بیماری نہیں بھیجی مگر اُس کے ساتھ شفا بھی بھیجی ہے۔ (بخاری، 4/16، حدیث: 5678)
6۔ ملازمت کا حق: اسلام
میں محنت اور رزق کمانے کی بہت اہمیت ہے۔
7۔ عدلیہ کا حق: انصاف
کی فراہمی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ
یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ
بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ
بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸) (پ 5، النساء:
58) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے
سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک
اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

دین اسلام نے ہر مسلمان کے لیے چاہے وہ مرد ہو یا
عورت کچھ حقوق مقرر کیے ہیں اور معاشرے کا نظام بہترین انداز پر چلنے کا انحصار
معاشرے کے دو افراد پر ہوتا ہے ایک حکمران دوسری رعایا اور شریعت نے ان دونوں کے
لیے حقوق مقرر کیے ہیں لیکن اس موضوع پر صرف رعایا کے حقوق پر اکتفاء کیا جائے گا
کہ حکمرانوں کو رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے تو اس بارے میں دین اسلام نے
ہمیں بہترین تعلیم دی ہے
آئیے ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو: پیارے آقا ﷺ نے
ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ حکمران اور رعایا کی اساس
دین اسلام ہے یعنی یہ دونوں مسلمان ہے تو حکمران کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی زبان
یا ہاتھ سے رعایا کو تکلیف نہ ہو اور رعایا کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے کسی فعل
سے حکمران کو تکلیف نہ ہو۔
کیونکہ معاشرے کا نظام ان دونوں افراد سے مل کر
پروان چڑھتا ہے لیکن حکمران کو یہ بات یاد
رکھنی چاہیے کہ قیامت کے دن حکمران سے ان کے ماتحت کے بارے میں سوال کیا جائے گا
لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ رعایا کے تمام لازم حقوق کا خیال رکھے۔ آئیے رعایا کے
چند حقوق ملاحظہ ہوں جن کا پورا کرنا حکمران پر لازم ہے:
(1)سختی سے بچتے ہوئے نرمی کرنا: حضرت
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنے اُس گھر میں رسول اللہ ﷺ کو
یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر
اُن پر سختی کرے تو تو بھی اُسے مشقت میں مبتلا فرما اور جو میری اُمت کے کسی
معاملے کا ذمہ داد بنے اور اُن سے نرمی سے پیش آئے تو تو بھی اُس سے نرمی والا
سلوک فرما۔ (مسلم، ص 1061، حدیث: 8127)
(2)درگزر کرنا: حضور نبی
مکرم،نور مجسم، ﷺ نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا: اگر وہ اچھاکام کریں تو
قبول کرلو اور اگر برائی کریں تو معاف کر دیا کرو لیکن اگر وہ تم پر غلبہ چاہیں تو
انہیں بیچ دو۔ (الترغیب و الترہیب، 3/167، حديث: 3490)
(3) رعایا کے ساتھ خیرخواہی نہ کرنے پر
وعید:
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے، سیدُ المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا
حکمران بنایا ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو
وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا۔ (بخاری، 4 / 456، حدیث: 7150)
(4)غرباء کی ہم نشینی اور غریب پروری
کرنا: حکمران
کو چاہیے کہ وہ اپنی رعایا میں سے ایسے لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے میں رغبت نہ
رکھے جو بہت دولت مند ہوں بہت طاقتور ہوں بلکہ اپنی رعایا میں ایسے لوگوں کی ہم
نشینی اختیار کرے جو مالی اعتبار سے یا دیگر معاملات کے اعتبار سے کمزور ہوں ویسے
بھی اگر انسان میں غرور و تکبر آجائے تو اس کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ اپنے سے
نچلے طبقے والوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان کی غریب پروری کرنا ان سے ان کے حالات کے
بارے میں پوچھنا اور ان کی مالی اور دیگر معاملات کے لحاظ سے ان کی مدد کی جائے۔
(5)عیب جوئی نہ کرنا: ایک
حکمران کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی رعایا کے معاملات ان کے عیبوں کی جستجو میں
نہ لگا رہے کسی کے عیب ڈھونڈنے کے بارے میں تو سخت وعیدیں قرآن و حدیث میں وارد
ہوئی ہیں، اللہ کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَّ
لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26، الحجرات: 12) ترجمہ کنز الایمان: عیب نہ
ڈھونڈو۔
اس قدر عیب ڈھونڈنا قبیح فعل ہے کہ اللہ کریم نے
قرآن کریم میں اس سے منع فرمایا ہے لہذا حاکم کو چاہیے کہ وہ رعایا کے عیبوں کی ٹوہ
میں نہ لگا رہے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہم میں سے کوئی نہ کوئی
کسی نہ کسی منصب یا ذمہ داری پر فائز ہوگا اور یقینا ہمارے ماتحت میں کچھ لوگ بھی ہوں گے تو ہمیں اپنی رعایا یعنی اپنے
ماتحت کے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہیے جس
میں خیرخواہی بھی ہو، نیکی کی دعوت بھی ہو، نرمی بھی ہو، خوش اخلاقی بھی ہو،الغرض
موقع کی مناسبت سے بہتر سے بہترین رویہ رعایا کے ساتھ اختیار کیا جائے۔

وہ چیزیں جو ہر فرد کو انصاف، عزت، اور حفاظت کی
بنیاد پر حاصل ہیں۔ مثلاً، ہر شخص کا حق ہے کہ اُسے صحیح طور پر سلوک کیا جائے،
اور اس کی زندگی اور مال کی حفاظت کی جائے۔ وہ چیزیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے
ساتھ حسن سلوک اور مدد کرنے کی ذمہ داریوں پر مبنی ہیں۔ اپنے معاشرتی کردار کو ادا
کریں اور قانون کی پاسداری کریں۔ اللہ تمہیں نہ اپنے حقوق کم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
مشکلات اور آزمائشوں کے وقت صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ صبر کرنے والوں کو اللہ کا
بڑا انعام ملے گا۔ علم حاصل کرنے اور اسے پھیلانے کی کوشش کریں۔ علم کا طلب ہر
مسلمان پر فرض ہے۔ اپنے خاندان کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ تمہاری
عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔ معاشرت میں امن اور سکون قائم کرنے کی کوشش کریں۔ پرامن
لوگ اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہیں۔ یہ اصول اسلامی معاشرت کی بنیادیں ہیں جو فرد
اور معاشرے کے بہتر ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ رعایا کو اپنے حکمرانوں اور
ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات میں
حکم ہے کہ عوام کو انصاف، رحم دلی، اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے تاکہ معاشرت
میں محبت اور تعاون کی فضا قائم رہے۔
رعایا کے معنی: رعایا کا مطلب ہے عوام یا لوگ جو
کسی حکمران یا حکومت کے زیرِ نگرانی ہوں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ عام لوگ ہوتے ہیں جو
کسی ملک یا علاقے کے شہری ہوتے ہیں۔
رعایا کے حقوق:
1۔ معاشرتی حقوق: ہمدردی، تعاون، اور ایک دوسرے کے حقوق
کا خیال رکھنا۔
2۔ معاشی حقوق: لوگوں کو معقول اور حلال رزق حاصل کرنے
کا حق ہے۔ خدا رزق دینے والا ہے۔
3۔ امن و سکون: امن کی فضا فراہم کرنا اور کسی کو ظلم و
زیادتی سے بچانا ضروری ہے۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
4۔ خاندانی حقوق: خاندان کے افراد کے درمیان محبت اور
انصاف قائم کرنا۔ تمہاری عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔
5۔صحت و صفائی: عوام کو صحت
مند زندگی اور صفائی کا حق حاصل ہے۔ صاف ستھرائی ایمان کا حصہ ہے۔
6 ۔ ظلم نہ کرنا: حضرت عائذ بن عمر و سے مروی ہے کہ وہ
عبید اللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لڑکے میں نے رسول الله ﷺ کو
فرماتے ہوئے سنا: بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پر ظلم کریں، پس تو اپنے آپ
کو ان میں شامل ہونے سے بچا۔ (مسلم، ص 785، حدیث: 4733)
یہ حقوق اسلامی اصولوں اور قرآن کی تعلیمات پر مبنی
ہیں، جو ایک منصفانہ اور فلاحی معاشرت کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دین اسلام میں زندگی گزارنے کے بہت ہی خوبصورت
انداز بیان ہوئے ہیں۔ دیں اسلام نے زندگی کو بہتر گزرنے کے لیے ہر شخص کے دوسرے پر
چند حقوق لازم فرمائے ہیں کہ جن کو پورا کرنا ہر شخص کے لیے بہت ضروری ہے۔ چاہے وہ
استاد ہو، شاگرد ہو یا کوئی بھی ایسے ہی جس شخص کو حکمرانی کامیاب ملے اس پر بھی
رعایا کہ حقوق ہیں جن کو پورا کرنا حکمران کے لیے ضروری ہیں تاکہ ایک اسلامی معاشرہ قائم ہو سکے۔ جن
میں سے چند یہ ہیں:
انصاف کرنا: حضرت عبد اللہ
بن عمر بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک انصاف کرنے والے
اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت اپنی اہل و عیال
اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔ (مسلم، ص 783، حدیث: 4721)
ظلم نہ کرنا: حضرت عائذ بن
عمرو سے مروی ہے کہ وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لڑکے
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پر
ظلم کریں، پس تو اپنے آپ کو ان میں شامل ہونے سے بچا۔ (مسلم، ص 785، حدیث: 4733 )
خبر گیری کرنا: حضرت عبد الله
بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت اپنےاہل و عیال
اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ (مسلم، ص 783، حدیث: 4721
ملتقطا)
دھوکہ نہ دینا: حضرت
ابو یعلی معقل بن بسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ
فرماتے ہوئے سنا: جب الله اپنے کسی بندے کو رعایا پر حاکم بنائے اور وہ اس حال میں
مرے کہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا ہو تو اللہ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ ایک روایت
میں ہے کہ وہ خیر خواہی اُن کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی کے ساتھ خوشبو بھی نہ
پاسکے گا۔ مسلم شریف کی روایت میں یہ ہے کہ جو مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا
جائے، پھر اُن کے لئے کوشش نہ رے اور اُن سے خیر خواہی نہ کرے تو وہ اُنکے ساتھ
جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 366 بتغير قليل)
محبت کرنا: حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
کہ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں
اور تم ان سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین
حکام وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں، تم اُن پر شکار کرو وہ تم
پر لعنت کریں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول الله! کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے
ذریعے جنگ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم قام کریں، اور جب تم
میں سے کوئی اپنے حاکم کو کسی گناہ میں ملوث دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا
جانے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔ (مسلم، ص 795، حدیث: 4804)

اللہ پاک جب کسی کو حکمرانی عطا کرتا ہے تو ان کے
ذمہ عوام کے کچھ فرائض ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے اور حکمران بروز
حشر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی رعایا کا جواب دہ ہو گا۔ کسی بھی ملک یا سلطنت کا
نظام رعایا اور حکمرانوں سے مل کر چلتا ہے اور دینِ اسلام حکمرانوں کو رعایا کے
ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کرتا ہے جیسا کہ حکمرانوں پر رعایا کی دیکھ بھال
اور ان کے درمیان دُرست فیصلہ کرنا لازم ہے۔
حضرت كعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
حکمران نیک ہو تو لوگ بھی نیک ہو جاتے ہیں اور حکمران بُرا ہوتو لوگ بھی بگڑ جاتے
ہیں۔ (اللہ والوں کی باتیں، 5/491) لہذا ہمیں رعایا کے حقوق و فرائض کا اچھے طریقے
سے خیال رکھنا چاہیے۔
آپ ﷺ نے فرمایا تھا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو
کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ
جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ (بخاری، 4 /456، حدیث: 7150)اس حدیث سے معلوم ہوا
کہ حکام و امراء پر عوام کو دھوکہ دینا اور ان کے حقوق غضب کرنا حرام و کبیرہ گناہ
ہے اور ایسے حکام پر جنت حرام ہے۔
تم میں ہر شخص راعی و نگہبان ہے اور سب سے اس کی
رعایا کے متعلق سوال ہوگا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک انصاف کرنے
والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت، اپنے اہل
و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ (مسلم، ص 783، حدیث:
4721 ملتقطا)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے
حضورِ اقدس ﷺ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! میری امت کا جو شخص بھی کسی پر
والی اور حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی کر اور اگر وہ ان پر
نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔ (مسلم، ص 1061، حدیث: 8127)
حضرت عائذ بن عمر و سے مروی ہے کہ وہ عبید اللہ بن
زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لڑکے میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا: بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پر ظلم کریں، پس تو اپنے آپ کو ان میں
شامل ہونے سے بچا۔ (مسلم، ص 785، حدیث: 4733)
حضرت ابو یعلی معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ اپنے کسی بندے کو رعایا
پر حاکم بنائے اور وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا ہو تو اللہ اس
پر جنت حرام فرما دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ خیر خواہی کے ساتھ اُن کا خیال نہ
رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا۔ (بخاری، 4 /456، حدیث: 7150) مسلم شریف
کی روایت میں یہ ہے کہ جو مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا جائے، پھر اُن کے لئے
کوشش نہ کرے اور اُن سےخیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم،
ص 78، حدیث: 366 بتغير قليل)
پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین حکام
وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم اُن سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں
دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم نفرت کر واور وہ تم سے نفرت
کریں، تم اُن پر پھٹکار کرو وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول
الله ﷺ! کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے ذریعے جنگ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں جب تک وہ
تم میں نماز قائم کریں، اور جب تم میں سے کوئی اپنے حاکم کو کسی گناہ میں ملوث
دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا جانے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔
(مسلم، ص 795، حدیث: 4804)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے اللہ جو میری امت
کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے تو تو بھی اسے مشقت میں
مبتلا فرما اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور اور ان سے نرمی سے
پیش آئے تو تو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما۔ (مسلم، ص 784، حدیث: 4722)
امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی ارشاد فرماتے ہیں
کہ سر کار مکہ مکرمہ، سردار من منور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ ارشاد فرماتا ہے: میری ناراضی اس شخص پر شدت اختیار کرجاتی ہے
جوکسی ایسے شخص پر ظلم کرے جو میرے سوا کسی کو مددگار نہیں پاتا۔ (معجم صغیر، 1/31،
حديث: 71)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، سیدُ
المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حکمران بنایا
ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو وہ جنت کی
خوشبو تک نہ پاسکے گا۔ (بخاری، 4 / 456، حدیث: 7150)
اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو تقریبا ہم میں سے ہر
ایک کسی نہ کسی طرح حاکم حکمران ہے کوئی آفیسر کوئی استاد، کوئی ناظمہ ہے اگر معاشرے کو پرامن اور خوشگوار بنانا چاہتے
ہیں تو اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک و پیار و محبت و نرمی سے پیش آئین اور ان کے
تمام حقوق ادا کریں اور اسی طرح جو احادیث مبارکہ میں ان کے حقوق بیان ہوئے ان پر عمل کریں تو ہم اپنے معاشرے کو پرامن اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

ہر شخص ذمہ دار ہے جو جس منصب پر فائز ہے امانت
داری کے ساتھ اُس کے تقاضوں کو پورا کرنا اُس پر لازم ہے حکمرانی بہت بڑی آزمائش
ہے اگر حکمرانی کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو یہ وبال جان ہے باعث پکڑ ہے اگر
حاکم خوف خدا رکھنے والا ہو، عدل و انصاف سے کام لیتا ہو تو وہ زمین پر اللہ کی
رحمت کا سایہ ہے رعایا کے لئے بہت بڑی نعمت ہے اللہ ہمیں اپنے ماتحت افراد کے حقوق کی اچھے طریقے سے
ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آئیے رعایا کے چند حقوق پڑھیے:
(1)عدل و انصاف کرنا:
حاکم پر لازم ہے کہ رعایا پر عدل و انصاف کرے اور ان پر نا انصافی و بے رحمی سے
بچے اس کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایک گھڑی کا عدل ایسے 60 سال
کی عبادت سے بہتر ہے جس کی راتیں قیام اور دن روزے کی حالت میں گزرے۔ (الزواجر، 2/226)
(2) رعایا پر ظلم نہ کرنا: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قاضی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے پھر جب
وہ ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اسے چمٹ جاتا ہے۔ (مراة
المناجیح، 5/429)
(3)رعایا کے درمیان درست فیصلہ کرنا: رسول
الله ﷺ نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے کہ درست فیصلہ کرے تو اس کو دو
ثواب ہیں اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور غلطی کرے تو اس کو ایک ثواب ہے۔ (مراۃ
المناجیح، 5/422)
(4)نرمی کرنا: حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے حضورِ اقدس ﷺ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا
اے اللہ ! ،میری امت کا جو شخص بھی کسی پر والی اور حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے
تو تو بھی اس پر سختی کر اور اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔ (مسلم،
ص 1061، حدیث: 8127)
(5)غریب پروری: رعایا کا حق
یہ بھی ہے کہ حاکم وقت فاقہ زدہ عوام کی حالت زار سے بے خبر نہ رہے اور پوری کوشش
کرے کہ کوئی شخص بھوک کا شکار نہ ہو، حاکم کو چاہیے کہ وہ بیوہ خواتین اور یتیم
بچوں کا خاص خیال رکھے اور اس بارے میں قیامت کے دن اللہ تعالی کے حضور پیش ہونے
سے ڈرے۔

رعایا کے حقوق وہ قانونی اور احلاقی فرائض ہیں جو
ایک ریاست اور حکومت پر عوام کے فلاح و بہبود کے لیے عائد ہوتے ہیں یہ حقوق ہر
شہری کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہیں
اسلامی نظریہ عالم انسانی حقوق کے معاہدے اور مختلف امید اور ان کا فروغ ریاست کی
ذمہ داری ہے۔
رعایا پر ظلم نہ کرنا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے پھر جب وہ
ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اسے چمٹ جاتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 5/382)
رعایا کے درمیان درست فیصلہ کرنا: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاکم اجتہاد کے ساتھ فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ درست ہو تو اس
کے لیے دو اجر ہیں اگر وہ اجتھاد کے ساتھ فیصلہ کرے اور اس میں غلطی کر جائے تو
بھی اس کے لیے ایک اجر ہے (فیضان فاروق
اعظم، 3/337)
رعایا پر سختی و تنگی نہ کرنا: حضرت
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ جب اپنے اصحاب میں سے بعض کو اپنے
کاموں کے لیے بھیجتے تھے تو فرماتے تھے کہ خوشخبریاں دو متنفر نہ کرو اور آسانی
کرو سختی اور تنگی نہ کرو۔ (مسلم، ص 739، حدیث4: 252)
رعایا کی خبرگیری: ایک
مرتبہ امیر المومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رات کے اندھیرے میں اپنے گھر سے
نکلے اور ایک گھر میں داخل ہوئے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے
چنانچہ صبح جب اس گھر میں جا کر دیکھا تو وہاں ایک نابینا اور اپاہج بڑھیا کو پایا
اور ان سے دریا فرمایا کہ اس آدمی کا کیا معاملہ ہے جو تمہارے پاس آتا ہے بڑھیا نے
جواب دیا ہوا اتنے عرصے سے میری خبر گیری کر رہا ہے اور میرے گھر کے کام کاج بھی
کرتا ہے حضرت ابو طلحہ اپنے اپ کو مخاطب کر کے کہنے لگے اے طلحہ تیری ماں تجھ پر
روئے تو امیر المومنین عمر فاروق کے نقش قدم پر نہیں چل سکتا۔ (مراۃ المناجیح،1/116،
117)
رعایا کی حاجت و ضرورت کو پورا کرنا:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
جسے اللہ مسلمانوں کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت و ضرورت
و محتاجی کے سامنے حجاب کر دے اس طرح کے مظلوموں حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے نہ
دے تو اللہ اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرما دے گا چنانچہ حضرت امیر
معاویہ نے لوگوں کی خدمت پر ایک آدمی مقرر فرما دیا۔ (مراۃ المناجیح، 5/373)

رعایا کی تعریف: رعایا
کا مطلب ہوتا ہے رعیت یا عوام۔ یہ لفظ عام طور پر حکومتی یا سلطنتی نظام میں
استعمال ہوتا ہے اور اس کا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جو کسی حکمران یا ریاست
کے زیر انتظام ہیں۔
حدیث
مبارکہ میں ہے: جب تمہارے اُمراء تم میں سے بہترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار سخی
ہوں اور تمہارا معاملہ آپس کے مشوروں سے طے ہو تا رہے تو تمہارے لیے زمین کی پیٹھ
زمین کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے امراء بد ترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار
بخیل ہوں اور تمہارے معاملات تمہاری عورتیں طے کرنے لگیں تو تمہارے لیے زمین کا
پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، 2/275، حدیث: 5368)
رعایا کے حقوق: قرآن
و اسلام کی روشنی میں رعایا یا عوام کے حقوق درج ذیل ہیں:
1۔ عدالت اور انصاف: ہر
فرد کو انصاف کا حق حاصل ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: اِنَّ
اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۴۲) (پ 6، المائدة: 42) ترجمہ: اللہ
انصاف کرنے والے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
2۔ معاشرتی فلاح: معاشرتی
فلاح و بہبود اور ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض ہے۔ قرآن کہتا ہے: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ
لِلنَّاسِ
(پ 4، آل عمران: 110) ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے
3۔ حفاظت و سلامتی: عوام
کی زندگی، مال اور عزت کی حفاظت ضروری ہے۔ جو شخص کسی کی جان لے گا، یہ گویا پوری
انسانیت کو قتل کرنا ہے۔
4۔ تعلیم و تربیت: تعلیم
کا حق ہر فرد کو حاصل ہے۔ علم کا طلب فرض ہے ہر مسلمان مرد اور عورت پر۔
5۔ آزادی اظہار: ہر
فرد کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق ہے، بشرطیکہ وہ حدود شریعت کے اندر ہو۔
6 ۔ دھوکہ نہ دینا: مسلم شریف کی روایت میں یہ ہے کہ جو
مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا جائے، پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اور اُن سےخیر
خواہی نہ کرے تو وہ اُن کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 366
بتغير قليل)
رعایا کو چاہیے کہ اپنے کاموں میں سچائی اور
ایمانداری اختیار کریں۔ انصاف کے اصولوں کی پیروی کریں اور دوسروں کے حقوق کی
پاسداری کریں۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ دوسروں کی عزت کریں اور ان
کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ جو لوگ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتے ہیں، ان کے لئے جنت
ہے معاشرتی فلاح و بہبود کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اپنی روحانی حالت کو بہتر
بنانے کے لئے دعا اور عبادت میں مشغول رہیں۔ نماز قائم کرو اور زكوة دو۔ رعایا کو
اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ انہیں حکومتی قوانین
اور شریعت کی پیروی کرنی چاہیے، انصاف کی درخواست کرنی چاہیے، اور معاشرتی اور
اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے تاکہ معاشرہ خوشحال اور مستحکم رہے۔

کسی بھی ملک یا سلطنت کا نظام رعایا اور حکمرانوں
سے مل کر چلتا ہے اور دینِ اسلام حکمرانوں کو رعایا کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی
تاکید کرتا ہے جیسا کہ حکمرانوں پر رعایا کی دیکھ بھال اور ان کے درمیان دُرست
فیصلہ کرنا لازم ہے، کیونکہ حضرت ہشام رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت كعب
الاحبار رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ حکمران نیک ہو تو لوگ بھی نیک ہو جاتے ہیں
اور حکمران بُرا ہوتو لوگ بھی بگڑ جاتے
ہیں۔(اللہ والوں کی باتیں، 5/491) لہٰذا حکمران کو رعایا سے اچھا سلوک کرنا چاہئے
تاکہ معاشرے میں امن اور سلامتی قائم ہو۔
حضرت عمرو بن مرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت
معاویہ سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جسے اللہ مسلمانوں
کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت وضرورت کے سامنے حجاب کر
دے تو اللہ اس کی حاجت و ضرورت وحتاجی کے سامنے آڑ فرما دے گا چناچہ معاویہ نے
لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر کر دیا۔ (مراة مناجیح، 5/419)
حاکم پر لازم ہے رعایا پر عدل و انصاف کرے اور ان پر نا انصافی و بے رحمی سے بچے اس
کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ایک گھڑی کا عدل ایسے 60 سال کی
عبادت سے بہتر ہے جس کی راتیں قیام اور دن روزے کی حالت میں گزرے۔ (الزواجر، 2/226)
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مسلمان اپنے بھائی
کی عیادت یا اس کی زیارت کو جاتا ہے تو اللہ ارشاد فرماتا ہے: تو اچھا ہے تیرا
چلنا بھی اچھا ہے اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا۔ (ابن ماجہ، 2/192، حدیث: 1443)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، سید
المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حکمران بنایا
ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو وہ جنت کی
خوشبو تک نہ پاسکے گا۔ (بخاری، 4 /456، حدیث: 7150)
غلاموں میں سے جو تمہارے مزاج کے موافق ہو اسے وہی
کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو
خود پہنتے ہو اور ان میں سے جو تمہارے مزاج کے موافق نہ ہو اسے بھی بیچ دو لیکن
اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔(ابو داود، 4/439، حديث: 5161)
رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاکم اجتہاد کے ساتھ
فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ درست ہوتو اس کے لئے دو اجر ہیں اور اگر وہ اجتہاد کے ساتھ
فیصلہ کرے اور اس میں غلطی کرجائے تو بھی اس کے لئے ایک اجر ہے۔ (فیضانِ فاروق
اعظم،2/337)
اللہ پاک ہم سب پر نظر رحمت فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین ﷺ

حقوق العباد میں سے رعایا کے حقوق بھی ہیں رعایا وہ
لوگ یا قوم ہوتی ہے جو کسی بادشاہ کی سلطنت میں آباد ہوں ہر نگران سے اس کے ماتحت
کے بارے میں پوچھا جائے گا ہر نگران سے اس کے ہر کام کا سوال ہوگا رعایا کے حقوق
کا معاملہ حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے اس لیئے چاہیے کہ
ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے پورا کرے تاکہ بعد میں شرمندگی نہ اٹھانی
پڑے۔ شریعت نے رعایا کے کچھ حقوق متعین کیے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
1)رعایا کی مدد کرنا: پیارے
آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم اُن
سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ
ہیں جن سے تم نفرت کر واور وہ تم سے نفرت کریں، تم اُن پر پھٹکار کرو وہ تم پر
لعنت کریں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول الله ﷺ! کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے
ذریعے جنگ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں، اور جب تم میں
سے کوئی اپنے حاکم کو کسی گناہ میں ملوث دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا
جانے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔ (مسلم، ص 795، حدیث: 4804)
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: میری ناراضی اس شخص پر شدت اختیار
کرجاتی ہے جوکسی ایسے شخص پر ظلم کرے جو میرے سوا کسی کو مددگار نہیں پاتا۔ (معجم صغیر،
1/31، حديث: 71)
2)سزا نہ دینا: سنن ابی داؤد
کی روایت میں اس طرح ہے: غلاموں میں سے جو تمہارے مزاج کے موافق ہو اسے وہی کھلا ؤ
جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان میں سے جو تمہارے مزاج کے
موافق نہ ہو اسے بھی بیچ دو لیکن اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔ (ابو داود، 4/439، حديث:
5161)
3)محبت کرنا: پیارے آقا ﷺ نے
ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم اُن سے محبت
کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں جن سے
تم نفرت کر واور وہ تم سے نفرت کریں، تم اُن پر پھٹکار کرو وہ تم پر لعنت کریں۔
صحابہ کرام نے عرض کی: یارسول الله ﷺ کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے ذریعے جنگ نہ
کریں؟ فرمایا: نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں، اور جب تم میں سے کوئی اپنے
حاکم کو کسی گناہ میں ملوث دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا جانے مگر اس کی
اطاعت سے۔
4)معاف کرنا: حضور نبی مکرم
ﷺ نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا: اگر وہ اچھا کام کریں تو قبول کرلو اور اگر
برائی کریں تو معاف کر دیا کرو لیکن اگر وہ تم پر غلبہ چاہیں تو انہیں بیچ دو۔ (الترغيب
و الترہیب، 3/167، حديث: 3490)
حاکموں کے لیے دعائے مصطفی:ام
المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے اس
گھر میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ جو میری امت کے کسی معاملے کا
ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے تو تو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرما اور جو
میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور اور ان سے نرمی سے پیش آئے تو تو بھی
اس سے نرمی والا سلوک فرما۔ (مسلم، ص 784، حدیث: 4722)

اسلام نے ہر ذمہ دار پر اسکے ماتحت کے حقوق مقرر
کیے ہیں اور ان کو ادا کرنا بھی لازم کیا ہے اور ادا نہ کرنے پر سخت وعیدیں بھی
بیان کیں۔ کوئی بھی حکمران ان حقوق سے روگردانی کر کے اپنی ذمہ داری پر پورا نہیں
اتر سکتا اور نہ ہی ان ذمہ داریوں سے لاپرواہی اسے بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے کسی
بھی مقام کو حاصل کرنے کے لیے اس کام کو پوری زمہ داری سے ادا کرنا پڑتا ہے اور جب
ان حقوق کو پورا کرنا شریعت نے لازم کردیا ہو تو ان حقوق کو پورا کرنا بدرجہ اولیٰ
ضروری ہوگا۔ اسی طرح شریعت نے ہر حاکم پر اسکی رعایا کے متعلق حقوق مقرر کیے ہیں
جن کو پورا کرنا ہر حاکم پر ضروری ہے
تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہرشخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے
ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا،چنانچہ حاکم نگہبان ہے،اس سے
اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
آدمی اپنے اہلِ خانہ پر نگہبان ہے،اس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے سوال کیا جائے
گا۔عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگہبان ہے، اس
سے ا س کے بارے میں پوچھا جائے گا،خادم
اپنے مالک کے مال میں نگہبان ہے، اس سے اس
کے بارے میں سوال ہو گا،آدمی اپنے والد
کے مال میں نگہبان ہے، اس سے اس کے بارے
میں پوچھا جائے گا،الغرض تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ (بخاری، 1/309،
حدیث: 893)
حاکم پر
رعایا کے حقوق بہت سے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
انصاف کرنا:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ
اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ
نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸) (پ
5، النساء: 58) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی
ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ
کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے
والا ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: حضرت عبد الله بن عمرو
بن عاص سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے
ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی حکومت، اپنے اہل و عیال اور
اپنے ماتحت لوگوں میں عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ (مسلم، ص 783، حدیث: 4721
ملتقطا)
رعایا کی ضروریات کا خیال رکھا جائے: حضرت امیر
معاویہ رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: میں نے نبیِّ کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جسے
اللہ مسلمانوں کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت و ضرورت و
محتاجی کے سامنے حجاب کردے(اس طرح کہ مظلوموں، حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے نہ
دے) تو اللہ اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرما دے گا چنانچہ حضرت
معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرما دیا۔(مراٰة المناجیح، 5/373)
رعایا کی نگہبانی کرے: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، سیدُ المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے
کسی رعایا کا حکمران بنایا ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ
ادا نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا۔ (بخاری، 4 /456، حدیث: 7150)
نرمی کرنا: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں، میں نے حضورِ اقدس ﷺ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! میری امت کا جو شخص
بھی کسی پر والی اور حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی کر اور
اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔ (مسلم، ص 1061، حدیث: 8127)