جیت کا درد

Thu, 30 Dec , 2021
4 years ago

زندگی کے اس طویل سفر میں انسان گر جاتا ہے ، بکھرجاتا ہے ، ٹوٹ جاتا ہے، گھبرا جاتا ہے، ہار جاتا ہے، شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسی راتیں آتی ہیں جس میں انسان کو اپنی باتیں سنائی نہیں دیتی، زمین پر نہ کوئی سہارا نہ ہی کسی قسم کا کسی پر اعتماد رہتا ہے، اور کہتے ہیں کہ انسان کا سایہ بھی ساتھ دینا چھوڑ دیتا  ہے، اوپر سے ہم لوگوں کے ساتھ خوش رہنے کی آرزو کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا دل اندر سے ہر لمحے کو جانتا ہے، اور ہر گزرتی ہوئی گھڑی اندر سے توڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ غم ، یہ تکلیف، یہ درد، ہر انسان اس سے گزرتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں شکست آتی ہے اور ایسے الفاظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جو انسان کی روح اور اس کے دل کو مسمار کر دیتے ہیں۔ لوگوں کی ایسی کڑوی باتیں جو انسان کو جیتے جی قبر میں اتار دیتی ہیں۔ مگر حقیقت میں انسان کامل اس وقت ہوا ہے جب انسان گر کر کھڑا ہوا ہے۔ جب اس میں ہمت اور حوصلہ کو پکڑا ہواہے۔ جب اس میں اندھیروں میں اس روشنی کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

پروں کو کھول زمانہ اڑان دیکھتا ہے

زمیں پر بیٹھ کر کیا آسمان دیکھتا ہے

اور جب انسان نے اپنے سے مشکل الفاظ کہے کہ میں کر سکتا ہوں ، یہ ناممکن نہیں۔

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے

اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا

اور جب انسان خود سے کہے کہ میری امید ابھی بھی باقی ہے، میری روح چل رہی ہے ،

امید آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی بس آپ ہی امید کو چھوڑ دیتے ہیں

اور جب انسان اپنے آپ سے کہے کہ اس دنیا کا خدا کل بھی تھا ، اور آج بھی ہے ، اور ہمیشہ رہے گا۔

بہت حوصلے والے تیرا ساتھ کیا دیں گے

زندگی ادھر آجا ہم تجھے گزاریں گے

بنا ٹھوکر کے انسان چمک نہیں سکتا

جو چمکے گا اسی دیے میں تو اجالا ہوگا

جو سو بار بھی گِر کر اٹھنے کی ہمت رکھتا ہے اسے کون گرائے گا ؟جو کبھی ہار نہیں مانتا اسے کون ہرائے گا ؟انسان طاقتور اپنے حوصلے سے بنتا ہے نہ کہ جسم سے ورنہ جنگل کا بادشاہ شیر کے بجائے ہاتھ ہوتا۔

خوشی کے لئے کام کرو گے تو خوشی نہیں ملے گی ,خوش ہو کر کام کرو گے تو خوشی ملے گی

کچھ نہیں ملتا دنیا میں محنت کے بغیراپنا سایہ بھی مجھے دھوپ میں آنے کے بغیر نہیں ملتا

کامیابی تو صبح کی جیسی ہوتی ہے یہ مانگنے سے نہیں جاگنے سے ملتی ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں! کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو اکیلے ہی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ لوگ آپ کے ساتھ تب آتے ہیں جب آپ کامیاب ہو جاتے ہیں۔

جن میں اکیلے چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے ایک دن ان کے پیچھے ہی قافلہ ہوتا ہےاگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو یہ مت ڈھونڈو کہ لوگ کامیاب کیسے ہوئے،بلکہ یہ معلوم کرو کہ جب وہ ناکام ہوئے تب انہوں نے کیا کیا ؟کیونکہ اصل سبق ان کی کامیابی سے نہیں بلکہ ناکامی سے ملے گا آخر میں بس اتنا کہوں گا کہانسان اپنے آپ کو اس شعر کا مصداق بنا دے۔

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے

جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے

مضمون نگار: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری


چڑھتے سورج کو سلام! 

Thu, 30 Dec , 2021
4 years ago

  معاشرے میں پائی جانے والی بعض خرابیاں تو ایسی ہوتی ہیں،جن پر معمولی سی توجہ کرنےسےان کی پہچان اور نشاندہی ہوجاتی ہے۔لیکن کچھ امور ایسے بھی ہیں جن کی طرف بسا اوقات اچھوں اچھوں کی توجہ نہیں ہوتی۔

معاشرے کے راہ و رسم ہوں یا کسی انسان کا زاویہ نظر اور مزاج ،جب تک یہ(شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے) اعتدال میں ہوں تو محمود و خوب ہوتے ہیں،ورنہ افراط و تفریط کی روش اختیار کرنا انہیں مذموم اور باعث عیب بنا دیتا ہے۔

کسی بھی فن اور فیلڈ میں باصلاحیت اور اہل افراد کی پہچان کرنا بڑا اہم اور دشوار کام ہے۔ معاشرے کی فلاح وبہبود اور ترقی کیلئے یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ قابل اور اہل افراد ہی کو آگے بڑھایا جائے اور ان سے ان کی استعداد و قابلیت کے مطابق کام لیا جائے۔

مگر افسوس! معاشرے میں پائے جانے والےافراد کی ایک تعداد ہے جو بھیڑ چال (اندھی تقلید) کو اپنے مزاج کا حصہ بنائے ہوئی نظر آتی ہے اور " چڑھتے سورج کو سلام " والی روش کو اپنائے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔

جو شخص بھی(کسے باشد) عوام الناس کی نظر میں کسی بھی فن یا فیلڈ کے اعتبار سے مشہور ہوگیا،بس پھر (اس کے نااہل ہونے کے باوجود)اسی کے گیت گائے جانا،اسی کو پروموٹ کئے جانا اور قابل افراد کو یکسر فراموش کردینا بعض لوگوں کی طبیعت کا حصہ بنتا چلا جا رہا ہے۔

خدارا ! ملک و ملت کی فلاح و ترقی کے وسیع تر مفاد میں معتدل رویہ و مزاج اختیار کرتے ہوئے ہر ہر معاملے اور فلیڈ میں صرف اہل اور قابل افراد ہی کی حوصلہ افزائی کیجئے اور انہیں ہی میدان عمل میں اپنی کارکردگی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

اللہ کرے دل میں اتر جائے میری بات...!

از: ابو الحقائق راشد علی رضوی عطاری مدنی

4جنوری2021,بروز پیر۔


علم دین اور خواتین

Tue, 28 Dec , 2021
4 years ago

ایک باشعور معاشرہ بنانے کیلئے تعلیم بے حد ضروری ہے۔ اس کے حصول کیلئے عمر کی قید وشرط سے آزاد ہوکر ایک کم سِن بچے بلکہ سو سال کےبوڑھے کو بھی زیورِ علم سے آراستہ ہونا چاہیے۔ تعلیم کی ضرورت واہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اللہ پاک نے اس کے پہلے ہی لفظ میں حصولِ علم کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرمایا : اقراء (پڑھو) یعنی علم حاصل کرو۔ اگر ہم اس حکمِ قرآنی پر عمل نہ کریں تو نتیجۃً ہمارے معاشرے میں جہالت وگمراہی اور بے راہ روی جیسی بُرائیاں جنم لیں گی، جس سے ہمارا خاندانی ، معاشی ، معاشرتی، دینی اور دنیوی نظام تباہ وبرباد ہوسکتا ہے۔

علم کی اہمیت وافادیت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنی ساری مخلوق میں سے انسان کو عزت و شرافت کا تاج پہناکراسے ممتاز فرمایا اور ان میں بھی ایک دوسرے پر نمایاں فضیلت دینے کیلئے ”علم“ کو معیار قرار دیا ہے جیساکہ فرمانِ خُداوندی ہے :اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پارہ، 28المجادلہ:11) حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اس آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالِم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گاجو عالِم نہیں ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: 11، 4/258)

دورِ نبوی میں تعلیم نسواں کا اہتمام: فی زمانہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی اپنی ضرورت کے مسائل سیکھنے چاہئیں۔  دورِ نبوی میں جہاں صحابۂ کرام اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے وہیں صحابیات کا شوقِ علم بھی دیدنی ہوا کرتا تھا، ایک عورت نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوکرعرض کی:مرد حضرات تو آپ کی بارگا ہ میں حاضری دے کرآپ کے ارشادات سن لیتے ہیں،ہمیں بھی ایک دن عطا فرمادیں جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں وہ کچھ سکھائیں جو اللہ پاک نے آپ کو سکھایا ہے ۔ ارشاد فرمایا: تم فلاں دن فلاں مقام پر جمع ہوجایا کرو۔ چنانچہ وہ عورتیں جمع ہوگئیں۔ رسول اﷲ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں اللہ پاک کے سکھائے ہوئے (احکامات) میں سے کچھ سکھایا۔ (بخاری،4/ 510، حدیث: 7310)اسی طرح ایک موقع پر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیمِ نسواں کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:جس کی ایک بیٹی ہو وہ اسے اچھے آداب سکھائے ، اچھی تعلیم دلائے اور جونعمتیں اللہ پاک نے اسے دی ہیں ان میں سے خوب خرچ کرے تو یہ بیٹی اس کیلئےجہنم سے رُکاوٹ بن جائے گی ۔(معجم کبیر،10/197، حدیث10447)

مسلمان خواتین کے علمی کارنامے:اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتینِ اسلام عبادت وریاضت کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث وتفسیر، درس وتدیس، وعظ وتقریر کے ذریعے اپنی خدمات سرانجام دے کر علمی مقام میں کئی مردوں سے ممتاز قرار پائیں۔

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کا شمار بھی انہی خواتین میں ہوتاہے ۔ یوں تو تمام اَزواجِ مطہرات ہی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت بابرکت سے علم وفضل والی تھیں مگر حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کو ان تمام پر علمی برتری حاصل ہے ۔حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے لوگوں میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا سےبڑھ کرکسی کوقرآن،میراث،حلال و حرام، اشعار، عربوں کی رِوایات اورحسب ونسب کا عالِم نہیں دیکھا۔(حلیۃ الاولیاء، 2/60، رقم:1482) آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کا شمار فقہی مسائل میں زبر دست مہارت رکھنے والے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے نیز جن چھ (6) صحابۂ کرام نے سب سے زیادہ احادیثِ مُبارَکہ روایت کی ہیں اُن میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا بھی شامل ہیں کہ جن سے 2210 احادیثِ مُبارَکہ مروی ہیں۔(عمدۃ القاری، 1/72)اسی طرح اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کوبھی علمِ فقہ میں خاصی مَہارت حاصل تھی،آپ کا شمار فقیہ صحابیات میں ہوتا تھا۔(سیر اعلام النبلاء، 3/475)نیز شرعی مُعاملات میں آپ کی طرف رُجو ع کیا جاتاتھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا عابِدہ،زاہدہ،نِہایت عقلمنداورفَہْم وفِراست جیسی عمدہ صفات کی حامِل خاتون تھیں۔(الاصابہ،8/406، ملخصاً)

صحابیات اور تابعیات میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے قرآن وحدیث کے علوم میں بڑا مقام پایا اوراس کی نشر و اشاعت میں بڑھ چڑھ کراپنا کردار ادا کیا ،ان عالی مرتبہ خواتین کے علمی فیضان سےامتِ مسلمہ نے خوب استفادہ کیا۔

حضرتِ حفصہ بنت سیرین : امام حضرت محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی بہن اور مشہور تابعیہ ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہَا نے بارہ سال کی عمر میں قرآنِ مجید پڑھ لیا تھا۔(تہذیب التہذیب، 10/464)علمِ تجوید وقراء ت میں آپ کو وہ مقام اور مہارت حاصل تھی کہ آپ کے بھائی حضرت محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو جب قرآنِ پاک کی قراءت سے متعلق کوئی مشکل پیش آتی تو اپنے شاگردوں سے کہتے کہ جاؤ اور حفصہ سے پوچھ کر آؤ وہ کیسے پڑھتی ہیں ۔(صفۃ الصفوہ، 2/الجزء الرابع21)اسی طرح آپ نے علمِ حدیث کی ترویج واشاعت میں بھی اپنا کردار ادا کیا ۔ اور صحابہ وتابعینِ عظام سےکئی احادیثِ مبارکہ روایت کیں جن میں حضرت سیدنا انس بن مالک اور حضرت سیدتنا اُمِّ عطیہ انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُما وغیرہ شامل ہیں نیز ان سےجن افرادنے روایات نقل فرمائیں ان میں حضرت اِبنِ عون، خالد، قتادہ، ہشام بن حسان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ وغیرہ شامل ہیں۔حضرت امام یحیٰ بن معین رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جو احادیثِ مبارکہ کے صحیح اور ضعیف ہونے کے علم میں ماہر تھے انہوں نے حضرت حفصہ کو ثقہ قرار دیا ہے۔حضرت ایاس بن معاویہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نےحفصہ سے افضل کسی کو نہیں پایا۔(تہذیب التہذیب: 10/463،464)

فاطمہ بنت محمد بن احمدسمرقَنْدِیہ:خواتینِ اسلام کی ایک اورممتاز شخصیت فاطمہ بنتِ محمد بھی ہیں جو بہت بڑی عالمہ اور فقیہہ خاتون تھیں ۔آپ نے علمِ فقہ کی تعلیم اپنے والد حضرت امام محمد بن احمد سمرقندی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے حاصل کی جو مشہورمحدث اور فقیہ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا کو اپنے والدِ گرامی کی لکھی ہوئی کتاب ”تحفۃ الفقہاء“مکمل یادتھی۔ان کی فقہی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب ان کے شوہر صاحبِ بدائع الصنائع ،ملکُ العلماء حضرت علامہ علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کوفتویٰ دیتے وقت کسی علمی مسئلے میں دشواری پیش آتی توحضرت فاطمہ اس مسئلے کاحل پیش کردیتیں اور وہ ان کی بات مان لیا کرتے تھے ،اسی وجہ سے ان کے شوہر احترام وتعظیم کرتے تھے ۔(الجوہر المضیہ، 2/278)

حضرت نفیسہ بنت حسن: یہ حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ کی اولاد سے ہیںآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا پرہیزگاراورصالحہ ہونےکے ساتھ ساتھ قرآنِ پاک کی حافظہ اورتفسیر وحدیث کی عالمہ بھی تھیں۔ آپ کی بھتیجی حضرت زینبرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا فرماتی ہیں کہ میری پھوپھی جان قرآن کی تلاوت کرتے وقت رویا کرتی تھیں، آپ کی علمی شہرت کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد آپ سے علم دین حاصل کرتی تھی۔( الاعلام،8/ 44، نورالابصار، ص207)

اسلامی تاریخ میں ایسی کئی عظیم خواتین کےعلمی کارناموں کا ذکر ملتاہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس دور میں خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بہت اہتمام کیا جاتاتھا۔

لڑکیوں کو کیا سکھائیں ؟:اولاد بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم وتربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے ،اگر انہیں بچپن ہی سے دینی ماحول فراہم کیا جائے تو ایسی بیٹیاں نیک پرہیز گار ،والدین کی فرمانبردار اور پاکیزہ کردار کی حامل بن کر خاندان اور شادی کے بعد سسرال میں ماں باپ کی عزت رکھتی ہیں اور اگراس نازک دور میں اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت نہ کی جائے توجوانی میں یہی بیٹیاں ماں باپ کیلئے باعثِ عار بن سکتی ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اس انتظار میں نہ بیٹھیں کہ ابھی تو میری بیٹی بہت چھوٹی ہے کچھ سمجھدار ہوجائے تو تربیت کریں گے۔ یادرکھئے! بچوں کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کو بہتر بنانے کیلئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ،جواچھی یا بری بات چھوٹی عمر میں بچہ سیکھ لیتا ہے وہ اس کے ذہن میں زندگی بھر کیلئے راسخ ہوجاتی ہےجیساکہ حدیثِ پاک میں ہے:بچپن میں علم حاصل کرنا پتھر پر لکیر کی طرح (پختہ)ہوتا ہے۔(مجمع الزوائد،1/333، حدیث:515)

یادرکھئے! ایک دن کی بچی سے لے کرجوانی تک ماں باپ کی تربیت کی ضرورت رہتی ہے۔آئیے!اس بارے میں چند کارآمد مدنی پھول ملاحظہ فرمائیے :

(1) نومولودبچی کے سامنے بار بار ذِکْرُ اللہ کیجئے تاکہ جب وہ بولے تواس کی زبان سے ادا ہونے والاپہلا لفظ ”اللہ “ ہو اور پھر آہستہ آہستہ کلمہ طیبہ سکھائیے۔حضرتِ سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُماسے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہلواؤ۔( شعب الایمان ،6/397، حدیث: 8649)

(2)جب بچی روئے تو اسے چپ کروانے کیلئے میوزک یا موبائل پر کہانیاں وغیرہ سنا کربہلانے کے بجائے قرآنِ پاک کی تلاوت اور حمد ونعت سنائیے تاکہ بچی کے دل میں ان چیزوں سے انسیت پیدا ہو اور بڑی ہوکر بھی ان میں رغبت باقی رہے ۔

(3) ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے شرعی احکام کی پاسداری ویسے بھی ہم پر لازم ہے مگربچی کوسکھانے کی نیت سے شرعی احکامات کی ادائیگی کرتے رہیے ،نماز وروزے اور ذکرو درود کی کثرت کیجئے،اچھے اخلاق وعادات اپنائیے کہ ماں باپ کی دیکھا دیکھی بچی کے دل میں بھی ان کاموں کاشوق پیدا ہوگا ۔

(4)بچی کے سامنے منفی باتوں اور کاموں سے بھی پرہیز کیجئے مثلاً گانے سننے،جھوٹ بولنے،گالی گلوچ کرنے،غصہ کرنے سے بچوں میں بھی یہ بری عادات منتقل ہوسکتی ہیں ۔

(5)جب بچی پڑھنے لکھنےکے قابل ہوجائے تو کسی اچھے تعلیمی ادارے کا انتخاب کیجئے جس میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی اور اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہو۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فی زمانہ دعوتِ اسلامی نے ملک وبیرون ملک میں دارالمدینہ قائم کرکے ہماری اس مشکل کو آسان کردیاہے۔آپ بھی اچھی تعلیم وتربیت کیلئے اپنے بچوں کو دارالمدینہ میں داخل کروا دیجئےاِنْ شَآءَ اللہ یہ بچے آپ کیلئے دنیا میں باعثِ فخراورآخرت میں عذابِقبر وحشر سے نجات کا ذریعہ بنیں گے ۔

(6)دورانِ تعلیم بچی کی نگہداشت ونگرانی بھی کرتے رہیے، فضول کاموں اوربے کار کھیلوں کے بجائے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بیدار کرنے کیلئے اسلامی معلومات پر مشتمل سوالات پوچھئے اورجواب نہ دینے پر مختصر جوابات دیجئے تاکہ ہمیشہ کیلئے وہ باتیں اس کے ذہن میں راسخ ہوجائیں۔

(7) غلطی پر جھڑکنے یا سختی کرنے کے بجائے پیار محبت سے سمجھائیے،اچھے کارناموں پر دلجوئی اورحوصلہ افزائی کیجئے، بچوں کو بات کرنے پر بار بار ٹوکنے کے بجائے انہیں بولنے کا موقع دیجئے ورنہ دوسروں کے سامنے بات کرنے کاحوصلہ ماند پڑسکتا ہے ۔

(8)لڑکی جب بڑی ہوجائے تو اسے سلیقہ شعار اور ہنر مند بنانے کیلئے کھانے پکانے ،صفائی کرنے وغیرہ جیسے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے،اپنا کام خود کرنےاورسلائی کڑاہی کرنے کےمواقع فراہم کریں،ایسی بیٹیاں ماں باپ کیلئے باعثِ فخر ہوتی ہیں ۔

(9)بڑی عمر کی بچیوں کی تعلیم کیلئے بھی ایسا ادارہ منتخب کیجئے کہ جس میں ان کی عفت وعصمت محفوظ رہےاورشرعی حدود کی پامالی نہ کی جاتی ہو۔اس کیلئے بھی دعوتِ اسلامی کے زیرِاہتمام ملک وبیرون ملک میں جامعات المدینہ (للبنات) قائم ہیں جن میں عقائد واعمال، شریعت وسنت اورظاہر وباطن کی اصلاح وتربیت کی جاتی ہے ۔

فی زمانہ تعلیم ایک لڑکی کیلئے اس کی زندگی کےمختلف گوشوں میں کام آتی ہے مگر یہ بھی یادرہے کہ صرف عصری علوم پر اکتفا کرنا اور ان میں اپنی مہارت وصلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئےکسی اچھے عہدے پر فائز ہونا ہی روشن مستقبل کی ضمانت نہیں بلکہ عورت اگر بیٹی کی حیثیت سےکسی کی لختِ جگر ہے تو کل اسی نے کسی کی شریک حیات بھی بننا ہے، بیوی کے بعد ماں کاکردار نبھاکر اولاد کی تربیت بھی کرنی ہے، پھر اچھی بہو اور ایک اچھی ساس کی حیثیت سے بھی زندگی بسر کرنی ہے تو صرف عصری علوم کے حصول سے ہی ایک عورت اپنی یہ ذمہ داریاں اچھی طرح نہیں نبھا سکتی ہے بلکہ اس کو ایک اطاعت گزار بیوی ،خدمت گزار بہواور ایک سلیقہ شعار ماں بننے کیلئے دینی تعلیمات سے آشنا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ ایک دینی تعلیم یافتہ عورت اپنی اور اپنی اولاد،خاندان اور رفتہ روفتہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے اہم کردار ادا کرسکتی ہے، ماضی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ خواتین اسلام نے ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے افراد کی اصلاح کیلئے اہم کردار ادا کیا۔بالخصوص اگر ایک ماں دینی تعلیم یافتہ ہو، شریعت وسنت کی عالمہ ہو،اچھے اخلاق وکردار کی جامع ہو تو اولاد کی اچھی تربیت کرکے انہیں معاشرے کی ہردلعزیز شخصیت بنانے میں معاون ومددگار ثابت ہوگی۔

از: مولانا فرمان علی عطاری مدنی

( اسکالر اسلامک ریسرچ سینٹر ، دعوتِ اسلامی )


صحابَۂ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے صدقے بعد میں آنے والےمسلمانوں تک دینِ اسلام کی تعلیمات پہنچی،ان کی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ربِّ کریم نےاپنےپاکیزہ کلام میں کہیں ان کو حِزْبُ اللہ تو کہیں رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ وَرَضُوْ عَنْہ کےلقب سے یاد فرمایا اور اللہ کے آخری نبی، محمدِعربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نےانہیں ہدایت کے ستارے قرار دیا۔ (مشکاة ،2/414،حدیث: 6018) یہی وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، یہ وہ خوش نصیب افراد ہیں جنہیں اللہ پاک نے اپنے محبوب کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا، یہی وہ مقدس گروہ ہے، جسےحضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلم نےسب سے پہلےاسلام کی دعوت دی ، یہی وہ پاکیزہ لوگ ہیں جنہوں نےدینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کےلئے کفار کےظلم و ستم کو برداشت کیا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتدائے اسلام کے مشکل دور میں بھوک پیاس برداشت کرکے، پیٹ پر پتھر باندھ کر، قریبی رشتہ داروں،اپنوں اور غیروں کی دشمنیاں مول لےکر بھی پرچمِ اسلام کو سربلند رکھا یقیناً ان کی ان تھک محنتوں اور لازوال قُربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول کےنام لیوا ہیں ، ہرطرف دِینِ اسلام کی بہاریں ہیں۔

کسی شاعر نےکیا خوب لکھا ہے کہ

نمایاں ہیں اسلام کے گلستاں میں ہراِک گُل پہ رنگِ بہارِ صحابہ

رسالت کی منزل میں ہر ہر قدم پر نبی کو رہا انتظارِ صحابہ

امین ہیں یہ قراٰن و دِین خدا کے مدارِ ہُدی اعتبارِ صحابہ

صحابہ ہیں تاجِ رِسَالَت کے لشکر رسولِ خدا تاجدارِ صحابہ

ویسے تو تمام صحابَۂ کرام حضور کے پیارےاور ہماری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں لیکن ان میں کچھ ایسے صحابہ ٔ کرام بھی ہیں جن سے خاص نبی کریم ، رؤف رحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو محبت تھی اور آپ کی بارگاہ میں جب بھی کوئی چیز لائی جاتی تو آپ اس کو اپنےان اصحاب میں تقسیم فرماتےجنہیں آج اصحابِ صفہ کے نام سے یادکیا جاتا ہے ۔ یہ وہ خوش نصیب صحابہ ٔکرام تھے جنہوں نے اپنا گھر بارچھوڑ کر مسجدِنبوی میں ڈیرے ڈالے تھےاورمحبوبِ خدا کی زبان سے نکلنے والے جملوں کو اپنے دلوں کے نگینوں میں بساتے تھے،انہی اصحابِ صفہ کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ یہ اسلام کےمہمان ہیں۔ ([1])

اصحابِ صُفّہ میں شامل چند مشہور صحابہ ٔکرام جن میں حضرت ابو ہُریرہ، حضرت بِلالِ حبشی،حضرت ابوذرغِفاری، حضرت عمار بن یاسِر،حضرت سلمان فارسی،حضرت حُذیفہ بن یمان اور حضرت ابُو سعید خُدری رضی اللہ عنہم کے نام نمایاں ہیں۔

یادرکھئے! بظاہراَصْحابِ صُفّہ بہت غریب تھے،اکثر فاقوں بھری زندگی میں رہتے، نبیِ کریم، رسولِ عظیم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کے پاس جب کوئی تحفہ،صدقہ یا مالِ غنیمت آتا توآپ اسےاصحابِ صفہ پرخرچ فرماتے تھے اور کبھی کبھی ان عظیم لوگوں کے کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے تھے ۔ جیساکہ

(1) حضرتِ سیدنافَضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب نبی ِکریم ،رؤ ف رّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو کچھ صحابۂ کرام نَماز کے اندرحالتِ قیام میں بھوک کی شدت کے سبب گر پڑتےاور یہ اَصحابِ صُفّہ تھے، حتی کہ کچھ لوگ کہنے لگتے:یہ دیوانے ہیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نَماز سے فارِغ ہوکر اُن کی طرف متوجہ ہو ئے اور فرمایا:(اے اصحابِ صُفہ ) اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے لئے اللہ کے ہاں کیا (اجر و ثواب) ہے تو تم اِس بات کو پسند کرو کہ تمہارے فاقے اور حاجت مندی میں مزید اِضافہ ہو ۔([2])

(2) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جواصحابِ صفہ میں سے تھے فرماتے ہیں:میں نے(بھوک کےسبب )اپنی یہ حالت بھی دیکھی کہ میں حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کےمنبر اور اُمُّ الْمُؤمنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ ٔ مبارکہ کے درمیان بیہوش ہو کر گِر پڑتا۔ کوئی آدمی آتا اور میری گردن پر پاؤں رکھ دیتا ۔ وہ سمجھتا کہ مجھ پر جُنُون کی کیفیت طاری ہے حالانکہ مجھے جنون وغیرہ کچھ نہ ہوتا، یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔ ([3])

ان احادیث ِ مبارکہ کو پڑھ کر لگتا ہے کہ واقعی اَصْحابِ صُفّہ دِین کی خدمت کرنے میں اپنی مثال آپ تھے ۔اَصْحابِ صُفّہ علمِ دِین حاصل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ان کے بنیادی کاموں میں سے ایک علم دِین حاصل کرنا تھا۔ کئی روایات میں ان کے علم سیکھنے کا تذکرہ ملتا ہے۔چنانچہ

حضرت سیدنا عُثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ جو اصحابِ صُفّہ میں سے تھے ،ان کا معمول تھا کہ جب لوگ دوپہر کو چلےجاتےتویہ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کی خدمت میں حاضر ہوکر دِین کےمتعلق سوالات (Questions)کرتے اور قراٰنِ کریم سیکھتے اور اس طرح انہوں نے دِین کی سمجھ بُوجھ اورعلم حاصل کرلیا ۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم آرام فرما رہے ہوتےتویہ سیّدنا ابُوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے پاس علمِ دین سیکھنے کے لئے چلےجاتے۔ ([4])

اے عاشقان صحابہ! یقیناً اگر جذبہ سچا ہوتومنزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔اَصْحابِ صُفّہ کاعلمِ دِین سیکھنے کا جذبہ چونکہ سچا تھا اس لئے وہ دلجمعی اور استقامت کے ساتھ اس پرگامزن رہے، فاقوں پر فاقے کرتے رہے، بھوک اور تنگی برداشت کرتے رہے لیکن اپنے مقصد (Purpose)سے پیچھے نہ ہٹے۔غور کیجئے! ایک طرف اَصْحابِ صُفّہ کا حُصُولِ علمِ دِین کا ایسا جذبہ کہ کھانے پینے کا کوئی خاص انتظام موجود نہیں، ضروریاتِ زندگی میسر نہیں ،بدن ڈھانپنے کے لئے پورے کپڑے نہیں لیکن پھر بھی خوب شوق اور لگن سے علم دِین حاصل کرنے میں مصروف رہتے تھے جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ کھانے پینےکی ہر طرح کی سہولیات ہمیں میسر ہیں،حصولِ علمِ دِین کےآسان ذرائع بھی موجود ہیں اور اللہ کریم کے کرم سے دعوت اسلامی کا دینی ماحول بھی موجود ہے جو قدم قدم پر ہماری رہنمائی کرتاہے مگر افسوس!صدکروڑ افسوس! ہم محض نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر اور غفلت و سُستی کی بنا پر اس عظیم سعادت سے محروم ہیں ،یہاں تک کہ فرض و ضروری علم سیکھنے سے محروم ہیں ۔

یادرکھئے!انسان جب تک کسی کام کو کرنے کےلئے ذہنی طور پر تیار نہ ہو وہ کام کتنا ہی آسان کیوں نہ ہو مشکل لگتا ہے مگر جب اُس کا م کو کرنےکاپختہ ذہن بنالیا جائےاور اس کے لئے کوشش کی جائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتاہے۔ لہٰذا علم ِدِین کی اہمیت کو سمجھئے اور دنیا وآخرت کی بہتری کے لئے اس جذبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے علمِ دِین سیکھنے میں مشغول ہوجایئے۔ترغیب کے لئے علمِ دین کے فضائل پر مشتمل دو احادیث ِمبارکہ ملاحظہ کیجئے:چنانچہ

1. اللہ کےآخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نےارشادفرمایا:جسےاس حال میں موت آئےکہ وہ اسلام زندہ کرنے کے لئےعلم سیکھ رہا ہوتوجنت میں اس کےاور انبیائےکرام کےدرمیان ایک درجے کا فرق ہوگا۔([5])

2. ایک اورحدیث ِ مبارکہ میں ارشادفرمایا:فرشتے طالب علم کی رضا کےلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔ طالب علم کے لئے زمین و آسمان کی ہر چیز حتّٰی کہ پانی میں مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں۔ ([6])

علم ِدین حاصل کرنے کے مختلف ذرائع

اِس پُرفتن دَورمیں علمِ دِین سیکھنے کے لئے ”مدنی چینل“ دیکھتے رہئے۔٭ہفتہ وارمدنی مذاکرہ خود بھی پابندی سےدیکھیں اوراپنے گھروالو ں کوبھی دِکھائیں،ا س سےبھی علمِ دین کالازوال خزانہ ہاتھ آئےگا۔٭ہفتہ وارمدنی رِسالے کے مطالعے کا معمول بنا لیں۔٭ماہنامہ فیضانِ مدینہ کا مطالعہ کرنے کی عادت بنا لیجئے۔٭دعوتِ اِسلامی کی ویب سائٹ (www.dawateislami.net) پر بہترین علمی و اصلاحی کتابیں اور دعوت اسلامی کے آفیشل پیج شب و روز میں بہترین اور معلوماتی کالمز پڑھنے کے لئے وِزٹ کیجئے۔ (news.dawateislami.net) ٭مدنی قافلوں میں سفر کیجئے کہ ان کی برکت سے علمِ دین سیکھنے کا شوق پیدا ہوگا۔٭جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیجئےاور ٭ اپنے علاقے کی مساجد میں لگنے والےاسلامی بھائیوں کےمدرسۃ المدینہ میں پڑھنےکی عادت بنا لیجئےکہ یہ بھی علم ِ دین سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ ٭ جو کسی وجہ سے اگر وقت نہیں دے سکتے تو وہ آن لائن کورسز کرنےکی سعادت حاصل کریں،اِن شاءَ اللہ!بے بہا علمِ دین کاخزانہ حاصل آئے گا ۔

طالب دعا:عبدالجبار عطاری مدنی

المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی )

شعبہ ذمہ دار:رسائل دعوت اسلامی



1 شعب الایمان، 7/ 283،حدیث: 458

1 ترمذی ،4/162،حدیث:2375

2 بخاری ،4/515،حدیث:7324

3 فيضان صديق اكبر ،ص 148

1 سنن دارمی ،1/ 112،حدیث:354

1 سنن دارمی ،1/ 108 ،حدیث:342ملخصا


جوں جوں مسلمان اپنے دین سے دورہوتے جارہے ہیں توں توں ان میں اغیارکے رسم ورواج اور تہوار زور پکڑتے جارہے اوریہ غیرشرعی وغیراخلاقی حرکتیں نہ صرف ان کودین اسلام سے دورکررہی ہیں بلکہ دین کاباغی بنارہی ہیں اورساتھ ہی ساتھ یہ ناعاقبت اندیش غیرمحسوس طریقے سے باطل ادیان کی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں۔انہی رسم ورواج میں ایک نیوائیرنائٹ ہے ۔جس کی فحاشی و عریانی پر مبنی تقاریب دنیا بھر میں انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ منائی جاتی ہیں ۔اور صد افسوس کہ غیر مسلموں کی بڑی تعداد کیساتھ ساتھ مسلمانوں کی بھی ایک تعداد شرکت کرتی ہے، تمام عیسائی ممالک اس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں ۔صرف نیویارک (امریکہ) کی تقریب میں ایک لاکھ کے قریب نوجوان شرکت کرتے ہیں ۔ ٹرائی فالگرا سکوائر میں ساٹھ ہزار افراد جمع ہوتے ہیں جب کہ برلن برائیڈن گیٹ پر دنیا کی سب سے بڑی تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں تقریباً 15 لاکھ جوڑے شرکت کرتے ہیں ۔

نیو ائیر نائٹ اورفحا شی وعریانی:

31دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب تمام روشنیاں گل کردی جاتی ہیں ، آسمان پر آتش بازی ہوتی ہے اورشراب کے نشے میں دھت نوجوان بے غیرتی کامظاہرہ کرتے پھرتے ہیں جبکہ دنیابھرکے ٹی وی چینلزان کی’’ حوصلہ افزائی‘‘ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ساتھ ساتھ تمام ممالک کے فائیو اسٹار ہوٹلوں اور فحاشی اور عریانی کے مارے لوگ اپنے گھروں میں ان تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق صرف امریکہ میں171 ارب ڈالر کی شراب پی جاتی ہے،600 ملین کی آتش بازی کی جاتی ہے اور نوجوان اربوں ڈالر رقص گاہو ں میں اڑا دیتے ہیں ۔

نیو ائیر نائٹ کی ابتدا:

نیو ایئر نائٹ کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے شروع میں ہوا ۔ برطانیہ کی ’’رائل نیوی‘‘ کے جوانوں کی زندگی کا زیادہ تر حصہ بحری جہازوں میں گزرتا تھا ۔لہٰذا اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرنے کے لئے مختلف تقریبات منعقدکرتے رہتے ۔انہی تقاریب کے دوران یہ تہوار یعنی نیوایئرنائٹ ایجادہوا۔ برٹش رائل نیوی ((British Royal Neavy سے نیوایئر نائٹ دوسرے جہازوں تک پہنچی اور وہاں سے 1910 ء میں اینا ڈین شہر کے ساحل پرمنتقل ہوئی جہاں سے یہ فحاشی اور بے حیائی کا سامان شہروں میں منتقل ہوگیا ۔ اس وقت دنیا کے 129ممالک میں نیو ایئر نائٹ منائی جاتی ہے ، دنیا کے سات ہزار بڑے شہروں میں فحاشی اور عریانی سے بھر پور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔ 1980ء تک نیو ایئر نائٹ کی تقریبات صرف یورپ تک محدود تھیں لیکن 1980ء کی دہائی میں اس مرض نے آگے پھیلنا شروع کیااورمشرقِ بعیدآیاپھربرصغیرمیں جڑپکڑنے لگا۔

نیو ائیر نائٹ اورپاکستان:

پاکستان میں1992ء میں کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں پہلی ایئر نائٹ منائی گئی ۔کڑے پہرے میں کراچی کے تاجروں،زمینداروں، وڈیروں اوراداکاراؤں نے یہ تقریب منائی جس میں شراب اور رقص کا خصوصی انتظام تھا ۔ابتداً یہ صرف اونچے طبقوں میں تھا مگراب متوسط اورنچلے طبقے میں بھی یہ خودساختہ’’ فریضہ‘‘ انجام دیا جانے لگا ہے۔ الغرض نیو ایئر نائٹ پر رنگ برنگی محفلیں ہوتی ہیں، جام سے جام ٹکراتے ہیں ، بڑے بڑے ہوٹلوں، پلازوں اور امرا کے عشرت کدوں میں ناچ گانے اور عیاشی کے پروگرام رات گئے تک جاری رہتے ہیں ۔ پاکستان میں نیو ایئر نائٹ پر ہونے والی فحاشی وعیاشی کا اندازہ کرنے کے لیے صرف ایک خبرکاخلاصہ ملاحظہ فرمائیے: گزشتہ روز شدید سردی کے باوجود نئے سال کے آغاز کی خصوصی محفلوں کا اہتمام ہوا۔ جہاں ناچ گانے کے پروگرام کے علاوہ جام سے جام ٹکراتے رہے ۔لاہور میں مال روڈ اور فورٹریس اسٹیڈیم کے علاقوں میں نوجوان نعرے بازی کرتے رہے ۔ دوسری جانب نیو ایئر نائٹ پر صوبائی دارالحکومت کے کسی بھی اہم اور غیر اہم ہوٹل میں کمرہ دستیاب نہ تھا ۔ مختلف تنظیموں اور امراء نے اپنی خفیہ محفلیں سجانے کے لیے کئی روز پہلے ہی کمرے بک کروا لیے تھے ۔ پولیس نے درجنوں شرابی گرفتار کرکے ان سے شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔(روز نامہ پاکستان یکم جنوری2002ء)

نیو ائیر نائٹ کی تباہ کاریاں:

نیو ایئر نائٹ کاایک خطرناک پہلو حادثات بھی ہیں جن سے ساری دنیانے جان بوجھ کرچشم پوشی کررکھی ہے۔چند خبروں پر نظرڈالئے:یکم جنوری 2005ء میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کے ایک نائٹ کلب میں نیوایئرنائٹ کی تقریب کے دوران آتش بازی کے نتیجے میں آگ لگ گئی ۔ کم از کم200 افراد جل کر ہلاک اور400سے زائد شدید زخمی ہوگئے ۔پیراگویہ میں 2004ء کے دوران آتش بازی کے سبب 400افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔( نوائے وقت ،یکم جنوری ، 2005ء) بیونس آئرس ارجنٹائن میں 2002ء میں100 افراد ہلاک ہوئے ۔ ٭…برطانیہ میں 2002ء کی نیو ایئر نائٹ نے1362 افراد کو متاثر کیا ۔بے شمار لوگ اپنے اعضا سے محروم ہوگئے۔ چالیس گھروں کو آگ لگی ،500 گاڑیاں تباہ ہوئیں اورآتش بازی سے4825 جانور جل کر مرگئے۔2002ء میں نیو یارک شہر میں15 ہلاک اور 50شدید زخمی ہوگئے۔ ٭…پاکستان میں کثرت شراب نوشی اور زہریلی شراب پینے کے باعث52 افراد موت کے گھاٹ اترگئے۔(روز نامہ نوائے وقت ،یکم جنوری 2005ء )نیو ایئر نائٹ کی شرعی قباحتوں سے قطع نظرصرف ظاہری نقصانات کا یہ ایک سرسری جائزہ ہے جس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ یہ رسم ایجاد کرنے والے اہل مغرب نے در اصل اپنی لادینیت اوربدتہذیبی کے سبب تفریح کا ایک انداز اختیار کیا۔ جبکہ دنیاکاکوئی بھی مذہب ایسی واہیات اور بے ہودہ تفریح کی اجازت کبھی نہیں دے سکتا جس میں جوانیاں برباد ہوں،عزت وعصمت غیرمحفوظ ہوجائے ،جان ومال تلف ہو، ناچ رنگ کے نام پر بدکاری ہو اور جام وسبو چھلکے ،کروڑوں اربوں روپیہ ضائع کردیاجائے اوراخلاقیات کی حدود پھلانگ کربے غیرتی وحیاسوزی کامظاہرہ کیاجائے ۔

مسلمانوں سے گزارش:

مسلمانوں سے گزارش ہے کہ خدارا ! ہوش سے کام لواور اغیارکے رسم ورواج اور تہواروں سے خودکوپاک کرو خواہ نیوائیرنائٹ ہویاویلنٹائن ڈے۔بسنت میلہ ہویاکوئی اورتہواران سے دوررہنے ہی میں اپنی عافیت جانو۔ یہ دنیامیں بھی نقصان دہ ہیں اورآخرت کی خرابی کاباعث بھی ۔ آخرکب تک تم اغیارکے غلام بن کرزندگی گزارو گے ۔کب تک ان کی پیروی کرکے دین ودنیاکوداؤپرلگائے رہوگے۔یادرکھو!ہمارے دشمن (یہودو ؤنصاری) بہت عیار ومکارہیں ان کی تمناوآرزوتو یہی ہے کہ مسلمان اپنے دین سے دوراور بیزار ہوکرمکمل طورپرہماری غلامی کاطوق اپنے گلے میں ڈال لیں!!!مگر نہیں۔ ان شاء اللہ عزوجل ایساکبھی نہیں ہوگا۔ آئیے ، عہدکیجئے کہ ہم ضروراپنے دین پرثابت قدم رہیں گے اوراغیارکے رسم ورواج اورفیشن سے تعلق توڑکرحضوررحمت العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں سے ناطہ جوڑیں گے ۔

ڈاکٹراقبال نے کیاخوب کہاہے:

آج بھی ہوجوبراہیم کاایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِگلستاں پیدا


جامعۃ المدینہ  عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں فارغ التحصیل علماء کے لئے ایک تخصص شروع کیا گیا ہے جس میں فقہ اسلامی کے ساتھ ساتھ طلباء کو جدید تجارت و معیشت کے اہم شعبہ جات کا تعارف، بنیادی معلومات اور دور جدید کے فنانس کے اداروں کے طریقہ کار بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

اس تخصص کا نام ہے” تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی(Specialization in Islamic Economics & Jurisprudence)“

اس تخصص میں یومیہ بنیادوں پر کلاسوں کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا کے مختلف ماہرین افراد ہفتے میں دو دن الگ سے کلاسیں لیتے ہیں ۔ کسی بھی تھیوری کو سمجھنے کے لئے مطالعاتی دورہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اس سلسلے میں اس تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی کے نگران مفتی علی اصغر عطاری صاحب اور تخصص کے استاد مفتی سجاد عطاری صاحب اور تخصص فی الفقہ و الاقتصاد الاسلامی کے طلباء اور دار الافتاء اہل سنت کے چند علماء نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج (پی ایس ای)اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی) کا ایک مطالعاتی دورہ کیا۔

اس موقع پر سب سے پہلے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی)کی طرف سے میٹنگ روم میں تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ اسٹاک ایکسچینج کس طرح کام کرتا ہے اور کون کون سے اہم شعبہ جات پورے نظام کو کنٹرول کرتے ہیں اور خود نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی)کا کیا کام ہوتا ہے؟ اس تعلق سے تفصیلی بریفنگ کے دوران شرکاء کے سوالات اور ان کے جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔

علاوہ ازین نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان (این سی سی پی) کے سی ای او لقمان صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مفتی علی اصغر صاحب کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔

اس دورے کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے آڈیٹوریم میں اسٹاک ایکسچینج کے نظا م، اس کی تاریخ اور موجودہ پوزیشن اور مالکان کے تعلق سے بریف کیا گیا اور آخر میں ٹریڈنگ ہال کا دورہ کراتے ہوئے بروکر ہاوس کس طرح کام کرتے ہیں ؟اس بات پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

آخر میں اسٹاک ایکسچینج کے ایک ڈائریکٹر سابق سی پی ایل سی چیف احمد چنائے صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ۔

مفتی علی اصغر صاحب کے دورے کے اختتام پر یہ تاثرات تھے کہ یہاں تو ہماری توقع سے بڑھ کر سود کا کام ہو رہا ہے اور شریعہ کمپلائنس کمپنیوں میں بھی بہت بہتری کی ضرورت ہے۔ جب تک سودی طریقہ سے دوری نہیں ہوگی مستحکم معیشت کی تشکیل نہیں ہو پائے گی ۔البتہ کچھ چیزیں ایسے بھی دیکھنے کو ملیں جو بہت مثبت تھیں اور علم میں اضافہ ہوا۔

از:ماہرِ امورِ تجارت مفتی علی اصغر عطاری مدنی

مورخہ: 9.12.2021


برِّ عظیم  میں مدوّن ہونے(ترتیب دئیے جانے)والے ”ملفوظات “کی عام طورپر دو قسمیں ہیں : (1)تحریری یادداشت پرمشتمل ملفوظات:بزرگان دین کی بارگاہ میں حاضر ہوکراقوال کوبطوریاداشت محفوظ کردیا جاتاتھا جیسے راحت القلوب، فوائد الفواد (2)مرتب ابواب پرمشتمل ملفوظات:نصیحتوں پرمشتمل ہونے والے اقوال و معمولات وغیرہ کو ابواب کی صورت میں محفوظ کیا جاتا تھا،بطورِ مثال دیکھنے کے لئے لطائف ِ اشرفی اور خزائن جلالیہ ملاحظہ کیجئے ۔

ملفوظات ِ اولیا کی قدر و قیمت:

بزرگان ِ دین کے ملفوظات کی مشائخِ کرام کے یہاں کیا قدر و قیمت رہی ہے ، یہ جاننے کے لئے جلیل ُالقدر اولیا کے چند فرامین ملاحظہ کیجئے :(1)شیخُ الاسلام حضرت بابا فرید الدین مسعودگنج شکررَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا ارشاد ہے : اگر کسی کو شیخِ کامل نہ ملے تو وہ اہلِ سلوک(اولیائے کرام) کی کتاب کا مطالعہ کرے اور اس کی پیر وی کرتا رہے۔(راحت القلوب،ص۱۵)(2) محبوب ِ الٰہی خواجہ نظامُ الدین اولیا رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہحضرت خواجہ امیر حسن علا ء سنجری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :مشائخ کی کتاب اور اشارات جو سلوک کے باب میں فرمائیں وہ مطالعہ میں رکھنی چاہئیں ۔(فوائد الفواد،مجلس بست و ہشتم،ص۴۹)(3)محبوب ِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب میں شیخ ُالاسلام خواجہ فرید الدین رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے دامن سے وابستہ ہوا تو میں نے ارادہ کیا کہ جو کچھ آپ کی زبان سے سنوں گا وہ لکھ لیا کروں گالہذا جو کچھ میں بابا فرید رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہسے سنتا لکھ لیا کرتا،جب اپنی قیام گاہ پر آتا تو کتاب میں لکھ لیتااس کے بعد بھی جو کچھ سنتا لکھ لیتا حتی کہ میں نے یہ بات بابا فرید رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو بتادی ۔اُس کے بعد بابا فرید رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ جب بھی کوئی حکایت یا ارشاہ فرماتے تو مجھے حاضر ہونے کا حکم ارشاد فرماتے اور اگر میں تاخیر سے آتا تو وہ بات دوبارہ دہرادیتے ۔ (فوائد الفواد،،مجلس بست و ہشتم،ص۴۹)

گزشتہ سطور میں ملفوظات اور بالخصوص برعظیم میں موجود ملفوظات کے بارے میں آپ پڑھ چکے، آئیے! ایک نظرچند کتب ِملفوظات کےناموں پر ڈالتے ہیں : (1)انیسُ الارواح اور گنج اسرار:ارشاداتِ خواجہ عثمان ہارونی،(2)دلیل العارفین:ارشادات خواجہ غریب نواز، (3)فوائدالسالکین: ارشادات خواجہ قطب الدین بختیار کاکی(4تا5)راحتُ القلوب،اسرار الاولیا: ارشاداتِ بابا فرید(6)سرور الصدور:ارشاداتِ شیخ حمید الدین ناگوری (7تا10)فوائد الفواد،افضل الفوائد، راحت المحبین اور سیرالاولیا:ارشادات ِ خواجہ نظام الدین اولیا (11)مفتاح العاشقین:ارشاداتِ خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی (12تا14)جامع العلوم، سراج الہدایہ،خزائن جلالیہ: ارشاداتِ مخدوم جہانیاں جہاں گشت (15تا 16) جوامع الکلم،انوار المجالس: ارشاداتِ خواجہ بندہ نواز گیسوداراز (17)لطائف اشرفی: ارشاداتِ مخدوم جہانگیر اشرف سمنانی (18تا 19) معد ن المعانی،خوانِ پُرنعمت: ارشادات ِ خواجہ شرف الدین یحٰی منیری (21تا20) نافع السالکین، مناقب المحبوبین:ارشاداتِ خواجہ سلیمان تونسوی(22)مرآت العاشقین: ارشاداتِ خواجہ شمسُ الدّین سیالوی۔

اللہ پاک نے اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلام کو کس قدر بلند مرتبہ عطافرمایا ہے اور مخلوق کے دل میں اِن حضرات کی کیسی الفت و محبت ڈالی ہے کہ ان پاکیزہ نفوس کودنیا سےرخصت ہوئے ہزاروں سال گزر چکے ہیں مگراِن حضرات کی پاکیزہ سیرت اورملفوظات سے دلوں کی مسند آج بھی آباد ہے ۔

تحریر: مولاناناصرجمال عطاری مدنی

اسکالرالمدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)


عرب میں  ایک چیز یا شخصیت کے متعدد نام رکھنے کا رواج ہے ا ن کے یہاں یہ بات معروف ہے کہ جس ذات کے جتنے کثیر اسماء ہوں گے وہ اتنی ہی زیادہ معظم و مکرم ہے ، ان زائد اسماء کو لقب یا صفت کہا جاتا ہے، اللہ پاک کا ذاتی نام ”اللہ“ ہے مگر صفاتی نام بہت ہیں۔ پاک و ہند میں اللہ پاک کے 99 نام معروف ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےذاتی نام ”محمد و احمد“ ہیں جبکہ صفاتی نام کثیر ہیں۔ ان موضوعات پر علمائے اسلام نے کئی کتب و رسائل لکھے ہیں جن میں اسمائے صفاتیہ کی وجوہات و حکمتوں پر کلام کیا گیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں بھی ہم رسول اللہ ﷺکے ایک ایسے ہی اسم صفت کے معانی اور اس میں موجود حکمت کے بارے میں پڑھے گئے۔

لفظ ’’اُمّی ‘‘ کا لغوی معنی:

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے صفاتیہ میں سے ایک صفت ”اُمّی“ بھی ہے ۔

چونکہ یہ ایک عربی لفظ ہے اس لئے سب سے پہلے لغت عرب سے اس کا معنی دیکھتے ہیں :

اُمّی ، اُم سے نکلا ہے اس کا ایک معنیٰ ہے اصل ،

اُمّی کا ایک معنیٰ ہے جو اپنی جبلتِ اولیٰ پر ہو یعنی جیسا پیدا ہوا ویسا ہی رہے یعنی لکھنے پڑھنے والا نہ ہو،

اُمّی کا ایک معنیٰ ام القریٰ جو کہ مکہ معظمہ ہی کا ایک نام ہے ۔

اُمّی کا ایک معنیٰ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو ۔ (قاموس، تاج العروس و صحاح وغیرہم)

قرآن کریم میں لفظ ’’امی ‘‘ کا استعمال

قرآن کریم میں بھی لفظ اُمی مختلف مقامات پر حسب حال مختلف معانی میں مستعمل ہے مثلاً:

سورہ بقرہ آیت نمبر 78 میں ارشاد ہوا: وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ

اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں کہ جو کتاب کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں

اسی طرح سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں فرمایا:

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ

وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں

قرآن کریم میں سورۂ اعراف کے 2 مقامات پر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’امی ‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا گیا

ایک آیت نمبر 157 میں:

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘

وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں

اور دوسرا مقام اسی سے اگلی آیت نمبر 158 میں :

فَآمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُون

تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ، ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں ،اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔

حدیث پاک میں لفظ ’’امی ‘‘ کا استعمال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنی زبان مبارک سے لفظ امی کے معنیٰ کی وضاحت فرمائی امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر سے حدیث نقل فرمائی حضور انور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:

إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ “ یعنی ہم اہل عرب امی قوم ہیں ہم نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں (بخاری، 1/ 631، حدیث: 1913، دارالکتب العلمیہ بیروت)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ” إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمَيَّةٍ “ یعنی مجھے امی قوم کی طرف (نبی بنا کر) بھیجاگیا۔ (صحیح ابن حبان، 3/ 14 حدیث: 739موسسۃ الرسالہ بیروت)

شارحین کا بیان کردہ معنیٰ

ان دونوں احادیث پر امام ابوالسعادات مبارك بن محمد جزری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

آپ علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ ہماری طرح اپنی پہلی جبلت پر ہیں جس پر پیدا ہوئے تھے، اور (اُمّی کا) ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیا کہ اُمّی وہ ہوتا ہے جو لکھتا نہ ہو مزید فرماتے ہیں یہاں امی سے اہلِ عرب مراد ہیں کیونکہ ان کے ہاں لکھنے لکھانے کا رواج بہت ہی کم تھا یا بالکل ہی نہیں تھا۔ (النہایۃ فی غریب الاثر، 1/ 69، دارالکتب العلمیہ بیروت)

شیخ امام عبدالرحمٰن جوزی رحمہ اللہ آخری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: لفظ امیۃ سے مراد وہ قوم ہے جو لکھنا نہ جانتی ہو (غریب الحدیث لابن جوزی ، 1/ 41، دار الکتب العلمیہ بیروت)

معنیٰ عشق و محبت

لفظ اُمّی کا ایک معنیٰ ہے ”اصل“۔ اس معنیٰ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کائنات کی اصل بنا کر بھیجے گئے، باقی سب تو آپ کی فروعات (یعنی اولاد/امتی /آپ ہی کے دم قدم سے ہے) ہیں ۔

اسی طرح لفظ امام کی اصل بھی یہی مادہ ہے امام کہتے ہیں اس ذات کو جس کی طرف مقتدی جھکیں، جو وہ اشارہ کریں اس کی پابندی کریں غرض ہر معاملے میں وہی رہبر و رہنما ہے ۔

امام عشق و محبت ، امام اہل سنت سیدی امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اس تخیل کو کیسے خوبصورت انداز میں بصورت شعری فرماتے ہیں:

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

(حدائقِ بخشش، ص 206، مکتبۃ المدینۃ)

توجہ طلب بات

اب تک کی گفتگو سے اتنا ثابت ہوا کہ امی اسے کہتے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو، اس معنی کے عموم کو لے کر ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوئی معاذ اللہ رسول مکرم علیہ السلام پوری زندگی ایسے ہی رہے جو کہ سراسر خلافِ واقعہ بات ہے، ان لوگوں کو لفظِ امی کا معنیٰ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ لفظ جسے صفتِ محمودہ کے طور پر قرآنِ کریم نے بیان کیا اس سے لوگ ایک مذموم معنیٰ نکال کر حضور کے لئے ثابت کرتے ہیں، حالانکہ حضور کے امی لقب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی سکھانے والے کے سکھائے سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھے یہ معنیٰ نہیں کہ ربِ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ہی رہنے دیا بلکہ وہ رب اپنے محبوب کی شان میں فرماتا ہے :

وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (۱۱۳)

اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اُتاری اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (النساء ، آیت:4)

صدرالافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی اس آیت کے تحت خزائن العرفان میں لکھتے ہیں:

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا اوریہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ(۴۸)

اور اس (نزولِ قرآن) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل والے ضرور شک لاتے (العنکبوت، آیت:48)

ان آیات سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ پاک نے نزولِ قرآن سے قبل ہی تمام علوم عطا فرمادئے

نزول قرآن سے قبل امی ہونے کی حکمتیں

ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ نزولِ قرآن سے قبل آپ کو صفتِ امِیَّت پر رکھنے میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں ، اب وہ حکمتیں بیان کی جاتی ہیں:

(01)ابھی جو آیت کریمہ گزری اس میں ہی ایک حکمت موجود ہے کہ رسول اللہ اگر آپ لکھتے پڑھتے تو یہود آپ کی ضرور تکذیب کرتے اس لئے کہ ان کی کتب میں آخری نبی کی ایک نشانی اُمی ہونا بیان کی گئی تھی، مگر انہیں شک کا موقع اس لئے نہ مل سکا کہ حضور انور علیہ السلام میں یہ نشانی موجود تھی۔

(02)ایک حکمت یہ تھی کہ رسول اللہ کی رسالت، آپ پر وحی کا نزول اور قرآن پاک کے کلام اللہ ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہ رہے چونکہ یہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلےسے لکھنا پڑھنا جانتے ہیں تو یہ جسے قرآن اور وحی کہتے ہیں وہ خود ان کا اپنا کلام ہے، آپ کے بڑے بڑے دشمنوں تک نے تکذیبِ وحی کے سلسلے میں یہ اعتراض نہ کیا گویا دل سے وہ بھی مانتے تھے کہ یہ جو قرآن پیش کرتے ہیں وہ واقعی کلام اللہ ہے کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔

ہاں مگر کچھ مستشرقین نے تعصب میں آکر رسول اللہ کے اساتذہ کو ثابت کرنے کی سعی لاحاصل ضرور کی مگر ان کا یہ اعتراض اور ان کی یہ تحقیقات کسی قابل نہیں، جب وہ لوگ کہ جو نبی پاک ﷺکو لوگوں کی نظر میں غلط ثابت کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا الزام لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے انہوں نے بھی ایسا کوئی اعتراض ذاتِ گرامی پر نہیں کیا تو صدیوں بعد آنے والے محققین کی تحقیقات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔

خلاصہ کلام

پورے مضمون کا خلاصہ یہ نکلا کہ رسول اللہ امی تھے مگر اس معنیٰ میں کہ آپ کا کوئی دنیاوی استاد نہ تھا آپ کو تمام علوم آپ کے رب کریم نے عطا فرمائے۔

دوسری بات یہ معلوم ہوئی لقبِ اُمّی میں بہت حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اُمّی ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ محمودہ ہے۔

امام اہل السنۃ مجد د المائۃ الحاضرۃ والسابقہ سیدی امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ کیا خوب فرماتے ہیں:

ایسا اُمّی کس لئے منت کشِ استاد ہو

کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمْ نہیں

(حدائق بخشش، ص 106)

از:محمد حسین بشیر حنفی فریدی

ریسرچ اسکالر المدینۃ العلمیۃ (اسلامک ریسرچ سینٹر)


آج بڑی سردی ہے!

Sat, 11 Dec , 2021
4 years ago

فرمانِ مصطَفٰےﷺ:جب سخت گرمی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے: ’’لَاالٰہ الّااللہُ‘‘ آج بڑی گرمی ہے! اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے جہنَّم کی گرمی سے پناہ دے، اللہ عَزَّوَجَلَّ دوزخ سے فرماتا ہے: ’’میرا بندہ مجھ سے تیری گرمی سے پناہ مانگ رہا ہے او رمیں تجھے گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے اسے تیری گرمی سے پناہ دی۔‘‘ اور جب سخت سردی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے:’’ لَاالٰہ الّااللہُ ‘‘ آج کتنی سخت سردی ہے! اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے جہنَّم کی زَمْھَرِیر سے بچا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنَّم سے کہتا ہے : میرا بندہ مجھ سے تیری زَمْھَرِیر سے پناہ مانگ رہا ہے اور میں نے تیری زَمْھَرِیر سے اسے پناہ دی۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانْ نے عرض کی: جہنَّم کی زَمْھَرِیرکیا ہے؟ فرمایا: وہ ایک گڑھا ہے جس میں کافر کو پھینکا جائے گا تو سخت سردی سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ (اَلْبُدُوْرُ السَّافِرَۃِ لِلسُّیُوطی ،ص۴۱۸حدیث۱۳۹۵


آخری اینٹ

Tue, 7 Dec , 2021
4 years ago

اللہ تعالی نے ہم پر احسان کیا کہ ہمیں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی امت میں پیدا کیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو تمام انبیاء پر فضیلت عطا فرماکر تمام انبیاء کا سردار اور خاتم الانبیاء بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔

نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہونا اور قیامت تک آپ کے بعد کسی نبی کا نہ آنا،یہ اسلام کا ایسا بنیادی عقیدہ ہے جس کو مانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔اور جو شخص اس میں کسی بھی قسم کا شک و تردد رکھتا ہے یا تردد رکھنے والے شخص کو مسلمان مانتا ہے تو وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے اور قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

قرآن کریم میں ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہ ِوَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیءٍ عَلِیْمًا۔(الاحزاب،40)

یعنی محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔

1)حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک میرے بہت سےنام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں. جس کے ذریعے اللہ تعالی کفر کو مٹاتا ہےمیں حاشر ہوں کہ قیامت کے دن لوگوں کاحشر میرے قدموں پر ہوگا۔میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(مسلم شریف)

2) حضرت ابو موسی سائیں رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں محمد ہوں اور احمد ہوں۔آخری نبی ہوں، میں حاشر ہوں،میں نبی توبہ اور نبی رحمت ہوں۔(مسلم شریف)

3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے دیگر انبیاء اور رسل پر چھ چیزوں کے ذریعے فضیلت و برتری دی گئی۔پہلی چیز تو یہ کہ مجھے کلمات جامعہ عطا ہوئے۔دوسری چیز یہ کہ رعب و دبدبے کے ذریعے میری نصرت کی گئی،تیسری چیز یہ کہ اموال غنیمت میرے لیے حلال کیے گئے، چوتھی چیز یہ کہ تمام روئے زمین میرے لیے مسجد اور طاہر ومطہر بنائی گئی.پانچویں چیز یہ کہ مجھے تمام جہاں کے لیے رسول بنایا گیا،اور چھٹی چیز یہ کہ میری ذات پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کیا گیا۔ (مشکوة شریف)

4) ابو امامہ باہلی رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں صفِ انبیا میں آخری نبی اور تم امتوں میں آخری امت ہو۔ (سنن ابن ماجہ)

نبی کریم علیہ الصلوة والسلام نے جہاں کئی احادیث میں اپنا آخری نبی ہونا بیان کیا وہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کئی لوگ خود کو میری طرح سمجھیں گے اور نبوت کا جھوٹا دعوی کریں گے۔جیسا کہ سنن ابو داود میں ہے: میری امت میں میرے بعد تیس جھوٹے ہوں گے.ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(مشکوة شریف)

اس فرمان کا ظہور آپ کی مبارک حیات میں ہی سامنے آگیا جب یمن میں اسود عنسی نامی شخص نے دعوی نبوت کیا۔جب نبی کریم علیہ الصلوة والسلام وصال کے قریب تھے تو فیروز دیلمی نے اس بدبخت کا خاتمہ کردیا اور سرکار نے اسی وقت ان کے لوٹنے سے پہلے ہی اس قتل کی خوشخبری صحابہ کرام کو سنادی تھی۔

ایک حدیث میں آپ نے بہت خوبصورت مثال کے ذریعے اس عقیدہ کو واضح کیا۔ارشاد فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک نہایت حسین و جمیل گھر بنایا،مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئیی،پس لوگ اس گھر کے گرد چکر لگاتے ہیں اور اس کے فن تعمیر پر حیرت زدہ ہوکر کہتے ہیں:کاش اس جگہ اینٹ لگادی گئی ہوتی(پھر اس عمارت میں کوئی نقص باقی نہ رہتا،ہر جہت سے باکمال ہوتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(سو عمارت نبوت کی وہ آخری) اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(بخاری)

شریعت کے ساتھ عقل انسانی اور فطرت بھی اس کا تقاضا کرتی ہے کہ نبوت کا اختتام ہوا ہو کیونکہ جو بھی مخلوق موجود ہے اس کی تین حالتیں ہیں اور کوئیی بھی وجود ان تین حالتوں سے مبرا نہیں ہے۔1 ابتدا 2 ارتقا 3 اختتام۔کسی بھی وجود پر نظر ڈال لیجئیے انسان و جن،حیوان و طیور،شجر و حجر جمادات و نباتات میں سے ہر ایک کی پہلے ابتدا ہوتی ہے پھر اس کی افزائیش،نشونما اور ارتقا ہوتا ہے۔پھر بعد ارتقا وہ اختتام کی طرف آتی ہے اور صفحہ ہستی سے معدوم ہوجاتی ہے۔اسی طرح نبوت بھی ایک وجودی چیز ہے جس کی ابتدا اور ارتقا سب مانتے ہیں۔ان دو حالتوں کے بعد اختتام ہوتا ہے اور نبی کریم علیہ الصلوة والسلام پر اس کا اختتام ہوچکا ہے۔اس لئیے قیامت تک آپ کے بعد کوئیی جدید نبی نہیں آئے گا۔

از قلم :حافظ نعمان حسین

shaikhnoman290@gmail.com


فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي یعنی میں ہی تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔ (بخاری،ج1،ص42،حدیث:71)

اس حدیثِ مبارکہ میں اس بات کی صراحت نہیں کہ سرورِ دو عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کیا عطا فرمانے والے ہیں، اس صورت میں اصول کے مطابق معنیٰ یہ ہوگا کہ ہر نعمت کو تقسیم کرنے والے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی ہیں اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے واسطے کے بغیر کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔

فقیہِ اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں :مخلوق میں کسی کو حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بِلا واسطہ کچھ نہیں مل سکتا ۔ بخاری وغیرہ میں صحیح حدیث ہے کہ فرمایا : ”اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي“ ۔ قَاسِمٌ اور يُعْطِي دونوں کا متعلّق محذوف ہے جو عموم کا اِفادہ کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مخلوقات میں جس کو جو کچھ بھی دیتا ہے خواہ وہ نعمت جسمانی ہو یا روحانی ، ظاہری ہو یا باطنی سب حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاتھ سے دلاتا ہے۔اس لئے علامہ احمد خطیب قسطلانی شارح بخاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی نے ”اَلْمَوَاھِبُ اللَّدُنیہ“ میں فرمایا، جسے علامہ محمد بن عَبدُالباقی زُرقانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے باقی رکھا: ھُوَ صَلَّی اللہ ُتَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خِزَانَۃُ السِّرِّ وَمَوْضِعُ نُفُوْذِالْاَمْرِ فَلَا یَنْقُلُ خَیْرٌاِلَّا عَنْہُ وَلَا یَنْفُذُ اَمْرٌ اِلَّا مِنْہُ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔ یعنی حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خزانۃ السر (یعنی پوشیدہ راز) ہیں اور اللہ تعالٰی کے حکم کے نافذ ہونے کا مرکز ، اس لئے ہر چیز حضور ہی سے منتقل ہوتی ہے اور ہر حکم حضور ہی سے نافذ ہوتا ہے۔(فتاویٰ شارح بخاری،ج1،ص351)

حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ دین و دنیا کی ساری نعمتیں علم، ایمان، مال، اولاد وغیرہ دیتا اللہ ہے بانٹتے حضور ہیں جسے جو مِلا حضور کے ہاتھوں مِلا کیونکہ یہاں نہ اللہ کی دَین (یعنی دینے) میں کوئی قید ہے نہ حضور کی تقسیم میں، لہٰذا یہ خیال غلط ہے کہ آپ صرف علم بانٹتے ہیں ورنہ پھر لازم آئے گا کہ خدا بھی صرف علم ہی دیتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج1، ص177)

بعض علما نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے تقسیم میں فقط عِلم کا ذکر کیا ہے لیکن یہ تقسیم صرف عِلم کے ساتھ خاص نہیں، کثیر ائمہ نے اس تقسیم کو عام رکھا ہے کہ علم ہو یا مال ہر نعمت حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی تقسیم فرماتے ہیں ۔

پانچویں صدی ہجری کے بزرگ، شارحِ بخاری امام ابن بطّال مالکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: حضور علیہ الصَّلوٰۃ وَالسَّلام کا یہ فرمان ”اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضور علیہ الصَّلوٰۃ وَالسَّلام اپنے پاس کوئی مال نہیں رکھتے تھے بلکہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان میں تقسیم فرما دیتے اور آپ علیہ الصَّلوٰۃ وَالسَّلام کا یہ فرمان لوگوں کی دل جوئی کے لئے تھا کہ کسی کو کم زیادہ مل رہا ہے تو یہ اللہ تعالٰی کی عطا ہے جس کو میں زیادہ دے رہا ہوں تو وہ بھی اللہ تعالٰی کے مقرر کرنے کی وجہ سے اور کسی کو اس کے مقابلے میں کم دے رہا ہوں تو یہ بھی اللہ تعالٰی کے مقرر کرنے کی وجہ سے۔(شرح ابن بطال علی صحیح البخاری،ج1،ص141ملخصاً)

دسویں صدی ہجری میں وصال فرمانے والے عظیم مُحدّث، حافظ ابنِ حجر ہیتمی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ تعالٰی کے خلیفۂ اعظم ہیں،اللہ تعالٰی نے اپنے کرم کے خزانے اور نعمتوں کے دسترخوان حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاتھوں میں دے دیئے ہیں حضور جسے جو چاہیں عطا فرما دیں۔(الجوهر المنظم، ص 80)

رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم

رزْق اُس کا ہے کھلاتے یہ ہیں

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر

ساری کثرت پاتے یہ ہیں

ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے

مالک کُل کہلاتے یہ ہیں

(حدائقِ بخشش)

ایک پیالہ دودھ سب کو کافی ہوگیا

حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بھوک کی حالت میں راستے میں موجود تھے کہ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور چہرہ دیکھ کر ان کی حالت سمجھ گئے۔ انہیں ساتھ لے کر اپنے مکانِ عالی شان پر تشریف لائے تو دودھ کا ایک پیالہ موجود تھا۔ جو کسی نے بطورِ تحفہ بھیجا تھا۔ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ جاکر اَصحابِِ صُفّہ کو بُلا لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ ایک پیالہ دودھ سے اَہْلِ صُفّہ کا کیا بنے گا، اگر یہ دودھ مجھے عطا ہو جاتا تو میرا کام بن جاتا۔ بہر حال حکمِ رسالت پر عمل کرتے ہوئے اصحابِ صُفّہ کو بُلا لائے۔ اب اِن ہی کو حکم ہوا کہ پیالہ لے کر سب کو دودھ پِلائیں۔ آپ پیالہ لے کر اصحابِ صُفّہ میں سے ایک صاحب کے پاس جاتے، جب وہ سَیر ہو کر پی لیتے تو ان سے پیالہ لے کر دوسرے کے پاس جاتے۔ ایک ایک کر کے جب تمام حاضرین نے سیر ہوکر دودھ پی لیا تو پیالہ لے کر آقائے مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تک پہنچے۔ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پِیالہ لے کر اپنے مبارک ہاتھ پر رکھا، ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ پھر فرمایا: بیٹھو اور پیو۔ حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کردودھ پیا۔ دوبارہ حکم ہوا: پیو، انہوں نے پھر پیا۔سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بار بار فرماتے رہے: پیو، اور حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پیتے رہے یہاں تک عرض گزار ہوئے: اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میرے پیٹ میں اب مزید گُنجائش نہیں ہے۔ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے پیالہ لے کر اللہ پاک کی حمد کی، بِسْمِ اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما (یعنی پی) لیا۔(بخاری،ج 4،ص234، حدیث: 6452 ملخصاً)


اَذان ایک عظیم عبادت،ذکرِ الہٰی کاعُمدہ انداز،اسلامی شعار،باعثِ نُزولِ برکت اوردافعِ مصیبت و وَبا ہے۔پانچ فرض نمازوں بشمول نمازِ جمعہ کےلئےاَذان سنتِ مؤکدہ ہےجبکہ یہ نمازیں جماعتِ مستحبہ کےساتھ مسجد میں وقت پرادا کی جائیں مگرنمازکےعلاوہ بھی کئی مَقاصداورمَواقع کےلئےاَذان کو شرعاًمستحب قرار دیا گیاہے۔دفعِ بَلا اور وَبا کےلئےاَذان بڑا مجرَّب وَظیفہ ہےکہ فقہائےکرام نے کئی مصیبتوں اوروباؤں سےخلاصی پانے کےلئےاَذان کہنےکی ترغیب دلائی ہے۔رنج وغم کودُور کرنےکےلئے اَذان دِلوانےکا حکم تو خود حدیثِ پاک میں صراحت کےساتھ موجودہے۔  

اذان دافعِ رنج و غم ہے :

شیخ علامہ علی قاری رحمۃاللہ علیہ اورمجدِّدِ اعظم،اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ’’مسندالفردوس‘‘کےحوالےسےمولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نےارشاد فرمایا: راٰنی النبیُ حَزیناً، فقال: یاابن ابی طالب انی اراک حزیناً،فَمُر بعضَ اَھلِک یؤذن فی اُذُنِک فانہ درءالھمیعنی مجھےحضورسیِّدعالمﷺنےغمگین دیکھا، ارشاد فرمایا: اے ابوطالب کےبیٹے(علی)! میں تجھےغمگین پاتاہوں اپنے کسی گھروالےسےکہہ کہ تیرے کان میں اَذان کہے،اَذان غم و پریشانی کی دافِع (دُور کرنےوالی)ہے۔(مرقاۃالمفاتیح،کتاب الصلاۃ،باب الاذان،2/310) (فتاویٰ رضویہ،5/668)

اَذان عذاب سےاَمان دِلواتی ہے :

حضرت سیِّدنااَنس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورجانِ عالَمﷺنےارشادفرمایا: جس بستی میں اَذان کہی جائے،اللہ عزوجل اپنے عذاب سےاُس دن اُسےاَمن دیتاہے۔(المعجم الصغیرللطبرانی،باب الصاد،1/179)

اَذان دیناکب کب مستحب !

علامہ سیّدمحمدامین ابن عابدین شامی رحمۃُاللہ علیہ نے’’ردالمحتار‘‘میں’’مَطلب:فی المَواضعِ التی یُنْدَبُ لَھَا الْاَذَانُ فی غَیْرِ الصَّلاۃِ‘‘کےعُنوان سےتحقیق فرمائی ہے کہ نماز کے علاوہ کن کن جگہوں پراَذان کہنا مستحب ہے۔علامہ شامی رحمۃُاللہ علیہ کی اس تحقیق کا خلاصہ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اَعظمی رحمۃُاللہ علیہ کےقلم سے ملاحظہ ہو: بچے اورمغموم(غمگین)کےکان میں، مِرگی والے، غضب ناک ، بدمزاج آدمی یا جانور کےکان میں ،لڑائی کی شدّت اورآتش زدگی(آگ لگنے)کےوقت ،بعد دفنِ میت، جِن کی سرکشی کےوقت ،مسافرکےپیچھے،جنگل میں جب راستہ بھول جائےاورکوئی بتانے والا نہ ہواس وقت اَذان(دینا)مستحب ہے۔ (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب الاذان،2/50،مکتبہ امدادیہ) (بہارِ شریعت،حصہ3،اذان کا بیان،مسئلہ12)

مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُاللہ علیہ’’مراٰۃالمناجیح‘‘میں تحریرفرماتےہیں:نماز کےعلاوہ 9 جگہ اَذان کہنا مستحب ہے۔بچےکےکان میں،آگ لگتے وقت،جنگ میں،جِنات کےغلبہ کےوقت،غمزدہ اورغصّےوالےکےکان میں،مسافرجب راستہ بھول جائے،مِرگی والے کےپاس اورمیت کودفن کرنےکےبعدقبرپر(درمختار و شامی)۔ (مراٰۃالمناجیح،1/399،نعیمی کتب خانہ)

دفعِ وَبا کےلئےاَذان کہنا:

وَبا دُورکرنے کی نیت سےاَذان دینے کے بارےمیں جب امامِ اہلسنت،اعلیٰ حضرت رحمۃُاللہ علیہ سے خاص سوال ہوا کہ دفعِ وبا کےلئے اَذان درست ہے یا نہیں؟ تو مجدِّدِ اعظم،اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: درست ہے،فقیر نےخاص اس مسئلہ میں رسالہ’’نَسِیْمُ الصَّبَا فِیْ اَنَّ الْاََذَانَ یحول الْوَبَا‘‘لکھا۔ (فتاویٰ رضویہ،5/370)

وَبا دُور کرنے کےاِرادے سےاَذان کہنے کےجواز سےمتعلق جب ایک اورمقام پرسوال ہوا کہ:کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوگ وَباءپھیلنے کے وقت و بَلِیّات و آندھی و طوفان شدید وغیرہ کےاَذان کہتےہیں،یہ امرشرعاً جائزہےیا نہیں؟ تواعلیٰ حضرت رحمۃُاللہ علیہ نے جواب دیتےہوئے تحریرفرمایا: جائزہےاورجوازکےلئے حدیثِ صحیح(موجودہے) ۔

مَا مِنْ شَئ اَنْجَی مِنْ عَذَابِ اللہِ مِنْ ذِکْرِِ اللہِ فَاِذَا رَاَیْتُمْ ذٰلِکَ فَافزعوا اِلی ذِکرِ اللہ۔(ذکرِ الٰہی سےزیادہ کوئی شےاللہ عزوجل کےعذاب سے چُھڑانےوالی نہیں۔پھر جب تم عذاب دیکھوتواس(گھبراہٹ کی)حالت میں اللہ عزوجل کےذکر کےذریعےپناہ حاصل کرو۔) (جامع الترمذی،2/173)

اور آیۂ کریمہ: اَلَابِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔(سُن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کاچین ہے۔) (الرعد:28) (فتاویٰ رضویہ،23/174)

صدرالشریعہﷺ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اَعظمی رحمۃُاللہ علیہ بھی’’بہارِشریعت‘‘میں خاص وَبا دُورہونےکی نیت سےاَذان کہنےکاشرعی حکم بیان فرماتےہیں کہ: وَباکےزمانے میں بھی(اَذان)مستحب ہے۔(بہارِ شریعت،حصہ3،اذان کا بیان،مسئلہ12)

تنبیہ:اَذان صرف مَرد حضرات یا سمجھدار بچے ہی دیں،خواتین کو اِس کی اجازت نہیں۔خواتین پردے کی حالت میں نماز،تلاوت،ذکرو تسبیح اوردُرود وغیرہ پڑھیں،وہ بھی اِس احتیاط کےساتھ کہ اُن کی آواز کسی نامحرم(اجنبی مرد) تک نہ پہنچے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کتبہ: ابوالحقائق راشدعلی عطاری مدنی