گفتگو صرف لفظوں کا تبادلہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، ظرف اور تربیت کا آئینہ ہوتی ہے۔ گفتگو میں مصلحت، شائستگی اور دوسروں کے احترام کا پہلو نمایاں ہو۔

دانشمندوں کا قول ہے کہ ”پہلے تولو، پھر بولو“ ۔ جب ہم الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتتے ہیں، تو ہم نہ صرف غلط فہمیوں کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ بے جا بولنا اور بغیر سوچے سمجھے تبصرہ کرنا اکثر پشیمانی کا باعث بنتا ہے جبکہ نپے تلے الفاظ انسان کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔

عاشقانِ رسول کو محتاط گفتگو کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ محتاط گفتگو کیجئے پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ محتاط گفتگو کیجئے پڑھ یا سن لے اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اور اعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب فرمااور جنت الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download