1۔واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیےسجدہ سہو واجب ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد داہنی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کر کے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔(بہار شریعت، جلد 1 ، حصہ 4، صفحہ 708 )

2۔نماز میں اگرچہ دس واجب ترک ہوئے ، سہو کے دو ہی سجدے سب کے لئے کافی ہیں۔

(رد المختار، ج2، ص 655)

3۔قراءَت وغیرہ کسی موقعے پر سوچنے میں تین مرتبہ" سبحان اللہ" کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔(رد المختار، ج2، ص 677)

4۔تعدیلِ ارکان (رکوع، سجود، قومہ، جلسہ میں ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار ٹھہر نا) بھول گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔

(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج1 ، صفحہ 127 )

5۔نفل کا ہر قعدہ قعدہ ا خیرہ ہے، یعنی فرض ہے، اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا، لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے۔

(بہار شریعت، ج1، حصہ 4،ص 712 )

6۔فرض ونفل دونوں کا ایک حکم ہے، یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو واجب ہے۔(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج1 ، صفحہ 126 )

7۔آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدہ تلاوت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج1 ، صفحہ 126 )

8۔کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا، آخر میں یاد آیا تو سجدہ کرے، پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے۔

(الدر المختار، الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج1 ، صفحہ 127 )

9۔قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی۔

(الد رالمختار و رد المختار، کتاب الصلوۃ ، باب سجدہ السہو، ج2 ، صفحہ 657، وغیرھما )

10۔کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدہ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔

(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلوۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو، ج1 ، صفحہ 127 )


(1) واجباتِ نماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(2) اگر سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کیا، تو نماز لوٹانا واجب ہے۔(ایضاً)

(3) جان بوجھ کر واجب ترک کیا، تو سجدہ سہو کافی نہیں، بلکہ نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔

(4) نماز میں اگر چہ دس واجب ترک ہوئے، سہو کے دو ہی سجدے سب کے لئے کافی ہیں۔

(5) تعدیلِ ارکان ( مثلاً رکوع، کے بعد کم از کم ایک بار "سبحان اللہ " کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہونا، دو سجدوں کے درمیان ایک بار "سبحان اللہ " کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا بھول گئی، سجدہ واجب ہے۔

(6) قنوت یا تکبیر قنوت( یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے) بھول گئی، تو سہو واجب ہے۔

(7) قرات وغیرہ کے موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ "سبحان اللہ " کہنے کا وقفہ گزر گیا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(8) سجدہ سہو کے بعد بھی التحیات پڑھنا واجب ہے۔

(9) فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے، سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی، لہذا دوبارہ پڑھیئے ۔

(10) قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا، بلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی، تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا( چپ رہا) جب بھی سجدہ سہو ہے، جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہے، حالانکہ وہ کلام الہی عزوجل ہے۔ 


حدیث پاک:

حدیث پاک میں ہے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہو گئے،بیٹھے نہیں، پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کیا ۔

(1) واجباتِ نماز میں سےجب کوئی واجب بھولنے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔ ( عامہ کتاب)

(2) فرض اور نفل دونوں کا ایک حکم ہے،یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری)

(3) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل وتر کی کسی رکعت میں سورۃ الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی، یاسورت سےپیشتر دو بار الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا، پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیتیں پڑھ کررکوع کیا ، تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔( در مختار، عالمگیری)

(4) الحمد کے بعد سورت پڑھی، اس کے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں، یونہی فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقاً سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصّہ پڑھ لیا، پھر ارادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔( عالمگیری)

5۔الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی، اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری)

6۔فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملا ئی تو سجدہ سہو نہیں اور قصداً ملائی ، جب بھی حرج نہیں، مگر امام کو نہ چاہیے، یوں ہی اگر پچھلی میں الحمد نہ پڑھی، جب بھی سجدہ سہو نہیں، اور رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

7۔تعدیلِ ارکان بھول گیا، تو سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری)

8۔ کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدہ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔

(عالمگیری)

9۔پچھلی رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ سہو واجب نہ ہوا اور اگر قعدہ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا، سجدہ واجب ہوگیا۔( عالمگیری)

10۔تشہد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہوئیں یا چار اور ایک رکن کی قدر خامو ش رہا اور پھر یقین ہوا کہ چار ہو گئیں تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (عالمگیری، بہار شریعت، جلد اول، حصہ چہارم)


سجدہ سہو کون سا سجدہ ہے :

سہو کا لغوی معنی ہے "بھولنا" سجدہ سہو سے مراد بھولنے کا سجدہ ہے یعنی واجبات نماز میں سے جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اسکی تلافی کے لئے سجدہ سہو واجب ہے ۔

طریقہ :

سَجدۂ سَہو کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دائیں طرف سلام پھیرے، بہتر یہ ہے کہ دونوں قعدوں میں درود پاک پڑھے ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے تو یہی دو سجدے کافی ہیں۔

(بہار شریعت، سَجدۂ سہو کا بیان، 1/708)

حدیث مبارکہ :

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوگئے بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کیا ۔ (سننن الترمذی، 1/380،حدیث، 365)

آئیے اب ایسی دس صورتیں ملاحظہ فرماتے ہیں جن سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ۔

1۔ تعدیل ارکان بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔

تعدیل ارکان سے مراد رکوع، سجود، قومہ اور جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار ٹھرنا ہے (بہار شریعت ،سجدہ سہو کا بیان، 1/711)

2۔اگر تشہد کی جگہ سورہ فاتحہ پڑھی تو سجدہ سہو واجب ہے (۔بہار شریعت، 1/714)

3۔نماز میں کسی رکن کو مقدم یا موخر کیا یعنی رکوع کی جگہ سجدہ اور سجدے کی جگہ رکوع کیا تو سجدہ سہو واجب ہے (۔بہار شریعت، 1/714)

4۔ امام نے جہری نماز میں ایک آیت آہستہ پڑھی یا سری میں جہر سے تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے (بہار شریعت، 1/714)

5۔منفرد نے سری نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے (۔بہار شریعت، 1/714)

6۔الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت پڑھ لیااب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے (بہار شریعت، 1/714)

7۔فرض کی پہلی دو رکعتوں اور نفل وتر کی ہر میں سورہ فاتحہ کی ایک بھی آیت رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (بہار شریعت، 1/714)

8۔عیدیں کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں تو سجدہ سہو واجب ہے ۔

(۔بہار شریعت، 1/714)

9۔کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہے نماز فرض ہو یا نفل ۔

( بہار شریعت، 1/713)

10۔قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک کے کن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کا وقفہ ہوا تو سجدہ سہو واجب ہے ( بہار شریعت، 1/713) 


1۔واجباتِ نماز میں سے  اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(در مختار، جلد 2 ، صفحہ655 )

2۔ تعدیلِ ارکان (مثلاً رکوع، کے بعد کم از کم ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار سیدھا کھڑا ہو نا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار "سبحان اللہ " کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری، ج 1، ص 127)

3۔قنوت یا تکبیر قنوت بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری، ج 1، ص 128)

4۔قراءَت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ" سبحان اللہ " کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔(رد المختار)

5۔لازم ہو جاتا ہے سجدہ سہو مقتدی پر، اپنے امام کے سہو کے باعث۔

(مراقی الفلاح مع الطحطاوی، 251)

6۔کسی فرض یا واجب کا تکرار کر دینا مثلاً رکوع دوبارہ کر لیا یا ایک رکعت میں تین سجدے کر لئے۔( مراقی الفلاح)

7۔ عیدین کی سب تکبیریں یا بعض بھول گیا یا زائد کہیں یا غیرِ محل میں کہیں، ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔ ( قانون شریعت، ص 177)

8۔ قعدہ اولی میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے میں اتنی دیر کی کہ جتنی دیر میں "اللھم صلی علی محمد" پڑھ سکے، تو سجدہ سہو واجب ہے، چاہے کچھ پڑھے یا خاموش رہے، دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے ۔(در مختار و رد المختار)

9۔کسی واجب کی صفت کو بدل دینا مثلاً جہری نماز میں امام نے آہستہ قراءت کردی یا سرّی نمازمیں امام نے زور سے قراءت کی۔(مراقی الفلاح مع الطحطاوی)

10۔ پہلی رکعت کا سجدہ نماز کے اخیر میں کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔(مراقی الفلاح مع الطحطاوی)

 سجدہ سہو:

جو چیزیں نماز میں واجب ہیں، ان میں سے کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو اس غلطی کی تلافی سجدہ سہو سے ہوتی ہے، جان بوجھ کر واجب چھوڑ دیا یا سہواً واجب چھوٹ گیا اور سجدہ سہو نہ کیا تو دونوں صورت میں دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہوگا۔

سجدہ سہو واجب ہونے کی دس صورتیں:

(1) قنوت یا تکبیر قنوت بھول گئی، تو سجدہ سہو واجب ہے۔(عالمگیری، ج 1، ص 128)

(2) قراءت وغیرہ سوچنے میں تین مرتبہ "سبحان اللہ " کہنے کی مقدا وقفہ گزر گیا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔( درالمختار، ج 2 ، ص627)

(3) تعدیل ارکان بھول گیا، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔( عالمگیری، ج 1، ص 128)

(4) آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا، تو سجدہ تلاوت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔

( عالمگیری، ج 1 ، ص 128)

(5) کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا، آخر میں یاد آیا تو سجدہ کرے، پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے۔( درمختار، ج 1 ، ص 127)

(6) نفل کا ہر قعدہ ، قعدہ ٔ اخیرہ ہے ، اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا، تو سجدہ کرنے سے پہلے لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے۔( درمختار، ج 2 ، ص 261)

(7) کسی قعدہ میں تشہد سے کچھ رہ گیا، تو سجدہ سہو کرے۔(الفتاوی الھنديہ، ج1، ص 127)

(8) تشہد پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا، پھر یاد آیا تو لوٹ آئے اور تشہد پڑھے اور سجدہ سہوکرے۔(الفتاوی الھنديہ)

(9) تشہد کی جگہ الحمد پڑھی، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔(الفتاوی الھنديہ)

(10) واجبات نماز میں کچھ رد و بدل کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔( عامہ کتب )

اللہ عزوجل ہمیں تمام فرائض و شرائط کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نماز میں کسی واجب کے چھوٹ جانے سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے۔

ایک رکن کو دوسرے رکن میں ادا کرنے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔

سورۃ فاتحہ پڑھنا، اس کے ساتھ کوئی سورت ملانا۔وتر کی تیسری رکعت میں سورت ملانا۔ ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ ایک بار پڑھنا۔ایک سجدے کے بعد دوسرا سجدہ کرنا۔

ارکان ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا۔

تشہد کا پڑھنا۔سلام کہنا۔

وتر میں دعائے قنوت پڑھنا۔

تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیر کہنا واجب ہے۔

واجب بھی عمل کے لحاظ سے فرض کے مساوی ہے۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ فرض کا منکر کافر ہو جاتا ہے جبکہ واجب کا منکر کافر نہیں ہوتا۔

اس کے بعد سورۃ فاتحہ بھی پڑھنا واجب ہےاور اس کے ساتھ کسی سورت کا ملانا یا 3 آیتوں کا پڑھنا۔

سورۃ فاتحہ کو دیگر سورۃ پر مقدم رکھیں۔

رکوع و سجود کو اطمینان سے ادا کریں۔

آخری قعدہ میں التحیات پڑھنا۔

تشہد پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے فوراً کھڑے ہونا اگر تشہد پڑھنے کے بعد بھول سے اتنی دیر بیٹھا رہا جتنی دیر میں ایک رکن ادا ہو سکے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔

نماز کے اختتام پر سلام کا لفظ کہنا۔

وتر میں دعائے قنوت کا پڑھنا بھی واجب ہے۔اسی طرح قنوت کے لیے تکبیر کہنا واجب ہے ۔

دونوں عیدین کی تکبیر واجب ہیں اور ترک واجب پر سجدہ سہو واجب ہے۔

فجر،مغرب عشاء کی دو رکعت میں امام کا بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے۔


1۔بھول کر کسی واجب کو چھوڑنے پر تشہد اور سلام کے ساتھ دو سجدے واجب ہیں۔

(نور الایضاح، ص 193)

2۔بھول کر واجب کی تقدیم و تاخیر، کمی، زیادتی اور ترک سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔

(نور الایضاح، ص 193)

3۔واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب بھولے سے رہ جائے توسجدہ سہو واجب ہے۔

(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 129)

4۔ تعدیلِ ارکان (رکوع کے بعد کم از کم ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار سیدھا کھڑ اہو نا یا دو سجدوں کے درمیان ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئی، سجدہ سہو واجب ہے۔(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 130)

5۔قنوت یا تکبیر قنوت بھول گئی(یعنی وتر کی تیسری رکعت میں قراءت کے بعد قنوت پڑھنے کے لئے جو تکبیر کہی جاتی ہے) وہ اگر بھول گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 130)

6۔ قراءَت وغیرہ کسی موقعے پر سوچنے میں تین مرتبہ" سبحان اللہ " کہنے کا وقفہ گزر گیا، سجدہ سہو واجب ہے۔(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 130)

7۔ قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" تو سجدہ سہو واجب ہے، اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھابلکہ ا س وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوئی، ، تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیا( چپ رہا)، جب بھی سجدہ سہو ہے، جیسے قعدہ و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہے حالانکہ وہ کلام الہی ہے۔(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 131)

حکایت:

حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں سرکار نامدار ، دو عالم کے مالک مختار صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوا، سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا، درود شریف پڑھنے والے پر تم نے سجدہ کیوں واجب بتایا؟ عرض کی:" اس لیے کہ اس نے بھول کر (یعنی غفلت سے) پڑھا، سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ جواب پسند فرمایا۔

(اسلامی بہنوں کی نماز، ص 131)

9۔وہ نماز جس میں آہستہ آواز سے قراءت کرنی ہو، امام اس نماز میں اونچی آواز سے قراءت کر دے یا وہ نماز جس میں اونچی آواز سے قراءت کرنی ہوتی ہے، امام اس نماز میں آہستہ آواز سے قراءت کر دے تو ایسی صورتوں میں بھول کا سجدہ کرنا لازمی ہوتا ہے اور امام کا بھولنا مقتدی پر بھی سجدہ سہو واجب کر دیتا ہے۔( نایاب کستوری، ترجمہ مختصر قدوری، صفحہ نمبر 78 )

10۔اگر آدمی پہلے قعدے سے بھول گیا، پھر وہ بیٹھنے کی حالت کے زیادہ قریب تھا، تو اسے یاد آگیا، تو اس صورت میں حکم ہے کہ وہ لوٹے اور بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور اگر کھڑے ہونے کے زیادہ قریب تھا، تو نہیں لوٹے گا اور بھولنے کا سجدہ یعنی سجدہ سہو کرے گا۔

( نایاب کستوری، ترجمہ مختصر قدوری، صفحہ نمبر 78 )

11۔ اگر نفل کی تیسری رکعت کا سجدہ کر لیا، تو چار پوری کر کے سجدہ سہو کرے، سجدہ سہو اس لئے واجب ہوا کہ اگرچہ نفل میں ہر دو رکعت کے بعد قعدہ فرض ہے مگر تیسری یا پانچویں (علی ھذا القیاس) رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد قعدہ اولی فرض کے بجائے واجب ہوگیا۔

( اسلامی بہنوں کی نماز، ص 105)

12۔ دونوں قعدوں میں تشہد مکمل پڑھنا، اگر ایک لفظ بھی چھوٹا تو واجب ترک ہو جائے گا اور سجدہ سہو واجب ہوگا۔


مضمون کے موضوع کے مطابق یہ جاننا اہم ہے کہ سجدہ سہو ہے کیا ؟

سجدہ سہو کی تعریف:

فقہ حنفی کی مشہور تصنیف بنام بہار شریعت، حصہ چہارم، صفحہ نمبر279 پر مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:" واجباتِ نماز میں سے جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے"

سہو کی تعریف :

"نمازی کو اپنا نماز میں ہونا یاد نہ رہے، تو یہ" سہو" ہے۔"

بہار شریعت، حصہ چہارم پر سجدہ سہو کے واجب ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں بیان فرمائی گئیں ۔

(1) آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا تو سجدہ تلاوت کرے اور سجدہ سہو کرے۔

(2) رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع کیا تو ان صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔

(3) قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراءت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے وہ بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(4) کسی کا قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(5) کسی رکعت کا کوئی سجدہ رہ گیا، آخر میں یاد آیا تو سجدہ کرے، پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے۔

(6) تعدیل ارکان بھول گیا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

تعدیل ارکان:

"نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن کو ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا اور یہ ٹھہرنا" سبحان اللہ " ایک مرتبہ کہنے کی مقدار ہو یہ تعدیل ارکان کہلاتا ہے"

(7) قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا، "اللھم صلی علی محمد" سجدہ سہو واجب ہو گیا، وجہ یہ ہے کہ تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوئی۔

(8) الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی، اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور اب سجدہ سہو واجب ہے۔

(9) پہلی دو رکعتوں میں قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا، سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

(10) منفرد (تنہا نماز پڑھنے والے نے) سری میں جہر سے پڑھا، تو سجدہ سہو واجب ہو گیا۔

اللہ تعالی ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


لائبریری" لاطینی" زبان کا لفظ ہے جو "لائبر "سےبنا ہے اس کا معنی ہے کتاب ،سادہ الفاظ میں یوں سمجھئے کہ لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور معلوماتی مواد کو جمع کیا جاتا ہے۔ اردواور فارسی میں اس کےلئے کتب خانہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جب کہ عربی میں اس کا مترادف لفظ خزانة الکتب ،مکتبہ اور دارالکتب ہے۔لائبریری دراصل ایسا عظیم مقام ہے جہاں ہزاروں سالوں کا فکری و علمی اثاثہ لاکھوں کروڑوں اربابِ علم و دانش کی ذہنی اور قلمی کاوشوں کا ثمرہ اور حاصل جمع ہوتا ہے۔ جہاں الہامی کتب، بعض انسانی استعداد اور شعوری وسعت کے مفاہیم کے لفظی مجموعے، محدّثین و مفسّرین کی تفاسیر و شروحات کا مجموعہ،محققین و مفکرین کی تحقیقات و افکارکا علمی خزانہ، مصنفین و مترجمین کی کتب و تراجم ،انسانی تحریرات کا سرمایہ، علوم و فنون کی دولت،شاعروں، نثرنگاروں، ادیبوں اور خطیبوں کی قلمی فتوحات کا ذخیرہ یکجا ایک چھت کے نیچے میسر ہوتا ہے۔ لائبریری میں داخل ہونے والا لاکھوں نابغہ روزگار صفحہ ہستی کے شاہکار لوگوں سے بغل گیر اور ہم کلام ہوتا ہے اور ان کی فکری روشنی سے جہانِ ذہن و قلب کو جگمگاتا ہے ۔

لائبریری کی اہمیت

لائبریری علم و فکر اور تعلیم و تعلم کا مظہر و مرکز ہے ’’کتب‘‘سفاہت سے معرفت، جہالت سے علم اور ظلمات سے نور کی طرف لے جاتی ہیں ، کسی بھی قوم کو کسی بھی میدان میں عملی تجربات سے قبل نظریات اور اصول چاہئیں جن کی حفاظت و ترویج گاہیں لائبریریز ہیں ،جن کی اہمیت و افادیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہل علم کسی ملک میں پائی جانے والی لائبریرز کو اس ملک کی ثقافتی ، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا نہ صرف پیمانہ بلکہ قومی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا ہو تو وہاں پر موجود تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لیناہوتو وہاں پر موجودلائبریرز کودیکھا جائے۔ جہاں لائبریریز آباد ہوں گی وہاں تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہوں گے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے۔ تاریخ بھی اُنہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہیں۔ مہنگائی کے اِس دور میں نئی کتابیں خریدنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اس لئے ذاتی لائبریری بنانا بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے تو اس اعتبار سے بھی لائبریریزکی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے، پھرہر انسان کی اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے۔ بعض تاریخی کتابیں پسند کرتے ہیں۔ بعض ادبی، بعض سیاسی اور بعض دینی کتابوں کا شوق رکھتے ہیں۔ ایک لائبریری میں مختلف موضوعات سے متعلق کتابیں ہوتی ہیں اور ایک موضوع پر بہت سے کتابیں مل جاتی ہیں اور انسان بیک وقت ایک موضوع پر ہر قسم کے خیالات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ تجزیے، تحقیق، رائے اور بھی بہت سے ذریعے ہیں لائبریری کی افادیت کو بیان کرنے کے لیے مگر مُختصراً یہ کہ جیسے ہر شے کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کتابی کلچر کو بڑھانے کے لیے معاشرے میں لائبریریوں کی ضرورت ہے۔

لائبریری کی ضرورت کیوں ؟

کتاب کی اہمیت وضرورت سے کسی بھی ذی شعور کو انکار کی راہ نہیں ہے ، کتاب پڑھنے سے جہاں ذہن کھلتا ہے فکر و خیال نکھرتے ہیں وہیں پر یہی کتاب زندگی کےنشیب و فراز کی بہترین مددگار بھی ہے مگر یہ سب مُہذب و دینی کتابوں سے ہی حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ وہ کتابیں جو فحاشی کو فروغ دیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جدید ٹیکنالوجی نے ہر کام آسان کر دیا ہے ، ہم ہزارں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ اپنے موبائل لیپ ٹاپ میں رکھ سکتے ہیں ان کو کھولنا، سرچ کرنا اور اپنے مطلوبہ مواد تک پہنچنا نہایت ہی آسان ہو چکا ہے تو پھرلائبریری کی ضرورت کیوں؟تو یاد رہے کہ تعلیم و تعلم کے لئے جہاں کتاب استاد اور تعلیمی ادارے کی سخت ضرورت ہے وہیں لائبریری کا ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ٹیکنالوجی تک پہنچ ہم سے زیادہ ہے مگر اُن کے ہاں ابھی بھی پبلک لائبریریز کھُلی رہتی ہیں، کیوں کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ٹیبلٹ یا موبائل سے پڑھنے کی نسبت کتاب سے پڑھی گئی تحریر جلد سمجھ آ جاتی ہے اور یاد بھی رہتی ہے۔ماہر نفسیات کے مطابق جب ہم کوئی چیز پڑھتے ہیں تو ہمارا ذہن متواتر اس کا موازنہ کرتا رہتا ہے اور اسی کے مطابق نقوش کھینچ لیتا ہے جو کہ مُستقبل کے لیے ہمیں یاد رہ جاتے ہیں۔ بنسبت اسکرین کے پڑھنے سے کتاب سے پڑھنے والے الفاظ کی نقشہ سازی نہایت واضح ہوتی ہے۔ کتاب کی دائیں اور بائیں صفحے اور آٹھ کونے الفاظ کی جگہ کو یاد رکھنے کا سبب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بنسبت اسکرین پہ ریڈنگ کے کتاب پر ریڈنگ بھی آسان ہو جاتی ہے۔ کتاب پر پڑھنا اسکرین پر پڑھنے سے زیادہ جسمانی وجود رکھتا ہے۔اس لیے دُنیا میں ٹیکنالوجی کی اس قدر ترقی کے باوجود لوگ اسکرین سے پڑھنے کے بجائے کتاب سے پڑھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، اور پھر جب بات کتاب پڑھنے کی آتی ہے تو گھر کے بجائے لائبریری کو فوقیت دینا بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ لائبریری ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے جہاں کتاب کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ماہر نفسیات کے مطابق ہم پڑھتے وقت دو طرح سے تھک جاتے ہیں ایک نفسیاتی حوالے سے، دوسرا جسمانی حوالے سے۔ لائبریری میں پڑھنے کا یہ فائدہ ہے کہ انسان نفسیاتی تھکاوٹ کا کم شکار رہتا ہے کیونکہ ہم اپنے ارد گرد لوگوں کو پڑھنے میں مصروف دیکھتے ہیں تو ذہن اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ اُن کی طرح ہم بھی نہیں تھکے ہیں۔لائبریری کا ایک سب سے اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر طالب علم ہر کتاب کو نہیں خرید سکتا، مگر لائبریری میں اُنہیں کئی بہترین کتابیں میسر ہو سکتی ہیں۔ لائبریری صرف کتابیں یا کتب بینی کےلیےایک ماحول مہیانہیں کرتی بلکہ یہ معاشرے کا وہ حصہ ہے جہاں باقاعدہ مُستقبل کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے۔ یہیں پر طلبا اپنی سوچ کے مطابق دوسرےا فراد سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ معلومات بانٹتے ہیں، کتابوں کے اوپر اپنی رائے پیش کرتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں، جس سے ان کی معلومات میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

لائبریری اور کتب کی درجہ بندی

لائبریری میں درجہ بندی (classification) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اگر کتب کی ترتیب درست نہ ہو اور مواد بکھرا ہوا ہو تو لائبریری کے فوائد و ثمرات کماحقہ حاصل نہ ہوں گے،درجہ بندی دراصل اس علمی عمل کو کہتے ہیں کہ جس کے تحت مختلف اقسام کی اجناس،یا علوم میں امتیاز اور تفریق چند خصوصیات کی بنیاد پر کی جائےیعنی کتابوں یا دیگر موجود مواد کو کسی خاصیت کی بنا پر الگ الگ کردیناجیسے علوم کے مطابق کتب کو الگ الگ خانوں میں رکھنا، اس طرح فقہ کی کتب الگ اور حدیث کی کتب الگ ہو جائیں گی، اسی طرح زبان وار، ملک وار، یا فن وار کتب کو الگ الگ رکھا جائے ۔ اب درجہ بندی کیسے کی جائے؟ کونسا طریقہ اپنایا جائے ؟اس میں لائبریری کا عملہ اپنی کتب و مواد کو مد نظر رکھ کر ہی کرے گا کیونکہ مواد کی نوعیت کے حساب سے درجہ بندی میں بھی فرق ہو گا ۔

لائبریری میں موجود کتب کی اقسام

لائبریری میں موجود ،مصادر و مراجع اور کتب کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔عمومی دائرۃ المعارف (General Encyclopedias)

مخصوص دائرۃ المعارف (Specialized Encyclopedia)

عمومی معاجم (General Dictionaries)

مخصوص معاجم (Specialized Dictionaries)

سالانہ کارکردگی پر مبنی کتب (Year Books)

سوانح عمریاں (Biographies)

حوالہ جاتی کتب (Bibliographies)

تحقیقی مجلات(Periodicals)

رسائل و اخبارات(News Papers and Magazines)

نایاب کتابیں (Reserved Books)

فہارس(Indexes)

کتابیں (Books)

مخطوطات(Manuscripts)

تحقیقی مقالات (Theses Dissertations)

لائبریری سے کتاب لینے کے اصول

لائبریریز سے کتاب کا حصول مخصوص نظام کے تحت ہوتا ہے اور یہ نظام لائبریریوں کے منتظمین خود طے کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس نظام میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ جو چیزیں تقریباً لائبریرز میں مشترک ہوتی ہیں وہ پیشِ خدمت ہیں ۔

کتاب کے حصول کی شرائطکتاب حاصل کرنے کے اوقاتلائبریری سے حاصل کردہ کتب کی تعدادکتاب واپس کرنے کی مدتوہ کتابیں جو جاری نہیں کی جاتیں محتاط انداز میں دی جانے والی کتب کتاب ضائع ہو جانے کا تاوان (تحقیق و تدوین کا طریقہ کار،ص 52تا56)

لائبریرین کی خصوصیات

جس طرح لائبریرین کے بغیر لائبریری کا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح اگر لائبریرین میں چند خصوصیات نہ ہوں تو بھی یہ نظام ناکامی کا منہ دیکھتا ہے لہذا لائبریرین کے لئےدرج ذیل چند خصوصیات کا حامل ہونا انتہائی ضروری ہے ۔

لائبریری میں موجود تمام کتابی اور غیر کتابی مواد سے کلّی طور پر شناسائی قارئین کےمزاج ،ذوق و شوق سے آگاہی لائبریری کے مواد کا انتخاب اور اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت و قابلیتقارئین کے سوالات کا تجزیہ کرنےاور احسن طریقےسے اس کا حل نکالنے کی قابلیتقارئین کے لائبریری کے استعمال اور مواد سے مستفیدہونے میں خوشدلی سے مدد اور تعاون کرنا لائبریرین اعلی اخلاق کا مالک ہو نے کے ساتھ ساتھ ملنساری اورصبر و تحمل جیسی خوبیوں سے سرشار ہو ۔

گھر میں لائبریری بنانے کے فوائد

دنیا میں کونسے ایسے والدین ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے دینی و دنیوی معلومات میں آگے بڑھیں ؟ یقیناً کوئی نہیں ۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اپنا زیادہ سے زیادہ وقت علمی سر گرمیوں میں گزارے ،اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے گھر میں ایک خوبصورت، دلکش اور پرسکون لائبریری کا ہونا انتہائی ضروری ہے جس میں دینی و دنیوی ایسی کتب جو معتبر مواد پر مشتمل ہوں اور غیر اخلاقی مواد سے پاک ہوں موجود ہوں ۔ گھر میں لائبریر ی كے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں ۔

گھر میں موجود لائبریری بچوں کی اخلاقی تربیت کرنے میں بہترین معاون ثابت ہوتی ہے۔گھر میں لائبریری کے وجود سے بچوں میں علم دوستی اور سیکھنےکا رجحان پروان چڑھتا ہے۔گھر میں موجود لائبریری بچوں کی ذہنی استعداد میں اضافہ کر کےان کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔کم عمری میں کتب سے آشنائی ہوجائےتو طویل مدتی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔گھر میں لائبریری کا اثر ایسا ہے جیسے بچوں نے کئی سال کی اضافی تعلیم حاصل کر رکھی ہو۔جو بچے ہوم لائبریریوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں ان کا علم اپنے ہم عمر بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔گھر میں موجود لائبریری ہماری ذہنی و فکری نشوونما کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بری صحبت سے بھی دور رکھتی ہے ۔کسی دانشور نے کہا تھا کہ جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں وہ تو زندہ مردوں کا قبرستان ہے۔

ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کتابیں نوعمری میں ایک لڑکے یا لڑکی کی پڑھنے کی صلاحیت،اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی جیسے ہنر کو کس طرح بڑھاتی ہیں۔ اس کے لیے 2011ء سے 2015ء کے درمیان 31ملکوں کے ایک لاکھ 60ہزار نو عمر افراد کا مشاہدہ کیا تھا۔ تحقیق میں نوجوانوں سے سوال کیا گیاکہ جب آپ 16سال کے تھے، اس وقت آپ کے گھر میں اندازاً کتنی کتابیں موجود تھیں؟(ان کتابوں میں نصابی کتب شامل نہیں اور ایک میٹر کے شیلف میں تقریباً40کتابیں رکھی جاسکتی ہیں)تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس گھر میں 80یا اس سے زائد کتابیں موجود ہوں، وہاں بچے اورنوجوان پڑھنے کی صلاحیت،ہندسوں کے علم اور انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے ہنر میں اُن بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے ہوتے ہیں جن کے گھر میں کتابیں نہیں ہوتیں ۔ وہ والدین جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو گھر کی لائبریری کے خاطر خواہ فوائد پہنچیں، وہ گھر میں زیادہ سے زیادہ کتابیں رکھیں ۔

المدینہ لائبریری اورامیراہلسنت

محترم قارئین!شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں: دینی کتب کا مطالعہ اپنی عادت بنالیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ آپ کی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہفتہ وار رسالے کےمطالعہ کا ایسا ذہن دیا ہے کہ آج بلامبالغہ ملک و بیرونِ ملک میں لاکھوں لوگ ہر ہفتے رسالہ پڑھتے اور سنتے ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے قول و عمل دونوں سے مطالعہ اور لائبریری بنانے کی ترغیب دلائی ہے آپ نے اپنے ذوقِ مطالعہ کی تسکین اور تحریری کام کے لئے کتب خانہ بھی بنایا۔جس کی کتابوں میں رفتہ رفتہ اِضافہ ہوتا گیا اور آج علمِ قرآن وحدیث عقائدفقہ اورتصوف کے درجنوں  موضوعات پر سینکڑوں  کتب ورسائل آپ کی لائبریری کی زینت ہیں  جن میں ترجمۂ کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان ، فتاوٰ ی رضویہ ،بہارِ شریعت اور اِحیاء العلوم سرِفہرست ہیں۔آپ نے کتابوں کو محض جمع نہیں  کیا بلکہ مسلسل مطالعہ ،غور وفکر اور عملی کوششیں  آپ کے کردارِ عظیم کا حصہ ہیں اگر آپ بھی اپنی گھر میں ایک خوبصورت اور مختصر المدینہ لائبریری بنانا چاہتے ہیں تو اپنے شہر کے مکتبۃ المدینہ کی طرف رجوع کیجئے اس کے مکمل پیکجز بنے ہوئے ہیں۔ امیرِ اہلسنت اور المدینۃ العلمیہ کی تحریر کردہ 400کتب و رسائل کا مجموعہ المدینہ لائبریری 28ہزار800 میں لے سکتے ہیں ۔

اس کے علاوہ پاکستان کے 10بڑے شہروں میں المدینہ لائبریری کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس لائبریری میں قرآنیات، حدیثِ پاک اور اس کی شرح، فقہی مسائل، تاریخ اسلام اور دیگرسینکڑوں موضوعات پر کتب و رسائل موجود ہیں ۔اگر آپ کتب خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو المدینہ لائبریری سافٹ وئیر بھی موجود ہےجو بہت ہی مفید اور معاون سافٹ وئیر ہے ۔ اس میں کتب کی مخصوص کلیکشن موجود ہے۔ اس سافٹ وئیر میں جو کتب مکتبہ المدینہ سے شائع ہوتی ہیں انہیں سرچ ایبل شکل میں سافٹ وئیر میں ڈھالا گیا ہے اس کی چند خصوصیات پیشِ خدمت ہیں :

20سے زائد اسلامی موضوعات  کی کیٹگری کے تحت علمی وتحقیقی اسلوبِ تصنیف وتالیف کے اعلی معیارکی حاملزیور طبع سے آراستہ مکتبۃ المدینہ کی 500 سے زائد مطبوعاتامیر اہلسنت کی  117 کتابوں کے علاوہ صراط الجنان مکمل ،فتاوی رضویہ مکمل،بہارشریعت مکمل،احیاء علوم الدین مکمل،اللہ والوں کی 7 جلدیں،فیضان فاروق اعظم 2 جلدیں،فیضان ریاض الصالحین 2 جلدیں،27 واجبات حج نیز  اس کے علاوہ ملفوظات امیر اہلسنت اور مدنی مذاکرہ کی موصول ہونے والی قسطیں۔ رسائل دعوت اسلامی  وغیرہ وغیرہ۔ہر کیٹگری  میں حروف تہجی کے اعتبار سے کتابوں کی ترتیبسرچنگ کی بہترین سہولت اور بک مار کنگ  کے ذریعے یادداشت کا تحفظ

کتب اور ہمارےاسلاف

دینی علوم کا عظیم سرمایہ ہمیں جن بزرگوں کے ذریعے ملا ہے انہوں نے کس قدر تکالیف و مصائب برداشت کر کے یہ عظیم سرمایہ ہم تک پہنچایا ہے اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ان لوگوں کی قربانیاں پڑھ کر انسانی عقل حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتی ہے یقیناً یہ لوگ علم دوست تھے۔

امام احمد بن محمد المقری جو زبردست محدث تھے آپ کو ایک کتاب سے حوالہ نقل کرنے کے لیے 70 دن کا سفر کرنا پڑا۔ خود فرماتے ہیں کہ وہ کتاب اس حالت میں تھی کہ" ولو عرضت على خبَّاز برغيف لم يقبلها "اگر وہ کتاب کسی نان بائی کو دے کر ایک روٹی بھی خریدنا چاہتے تو شاید وہ اس پر بھی تیار نہ ہوتا۔(تذکرۃ الحفاظ للذہبی،3/121)خطیب تبریزی کو عربی زبان و قواعد پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ آپ کو ایک مرتبہ ابو منصور کی کتاب "تہذیب اللغہ"کہیں سے مل گئی۔ آپ نے ارادہ کیا کہ اس کتاب کے مندرجات کو کسی ماہر زبان سے تحقیقی طور پر سمجھیں۔ لوگوں نے ابوالعلاء المعری کا نام پیش کیا۔ آپ نے کتاب تھیلے میں ڈالی، اس تھیلے کو بغل میں لٹکایا اور تبریز سے ’’معرہ‘‘ کی جانب چل پڑے۔ آپ کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ سواری کا انتظام کر سکتے۔"فنفذ العرق من ظهره إليها فأثر فيها البلل، وهي ببعض الوقوف ببغداد، وإذ رآها من لا يعرف صورة الحال فيها ظن أنها غريقة، وليس بها سوى عرق الخطيب المذكور"اس لیے دھوپ میں پیدل چلنے سے پسینہ آیا اور اس کا اثر تھیلے اور کتاب تک پہنچا، نتیجتاً کتاب پسینہ سے تر ہو گئی۔ اب اگر کوئی اس کتاب کو دیکھتا اور اسے صحیح صورت حال کا پتہ نہ ہوتا تو وہ یہی خیال کرتا کہ شاید پانی میں بھیگ گئی ہے حالانکہ اس پر صرف خطیب تبریزی کا پسینہ تھا۔ (وفیات الاعیان،6/192)حضرت علی بن احمد کے پاس’’الجمھرۃ فی علم اللغۃ‘‘ کا ایک بہت ہی عمدہ نسخہ تھا۔ ایک مرتبہ غربت نے اسے بیچنے پر مجبور کر دیا۔ شریف مرتضیٰ ابوالقاسم نے 60 دینار میں خرید لیا جب اس کا ورق پلٹا تو اس پر ابوالحسن کے ہاتھ سے لکھے ہوئے اشعار نظر آئے جن کا ترجمہ یہ ہے:میں20 سال تک اس کتاب سے مانوس رہنے کے بعد آج اس کو بیچ رہا ہوں۔ اس کے چھوٹ جانے سے میرا غم بہت بڑھ گیا ہے۔ قرضوں کی وجہ سے اگر عمر قید بھی ہو جاتی تو پرواہ نہ تھی مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کبھی اس کو بیچنا پڑے گا لیکن کیا کروں، کمزوری، ناداری اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی وجہ سے حالات نے یہ دن دکھائے۔ میں بہتے ہوئے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکا اور کسی دل جلے غمزدہ کی طرح یوں کہا :ضرورت کبھی کبھی عمدہ چیزوں کو اپنے آقا سے جدا ہونے پر مجبور کر دیتی ہے حالانکہ وہ انہیں اپنے پاس سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔(وفيات الاعيان، 1 / 337)شریف مرتضیٰ نے جب کتاب پر لکھے ہوئے یہ اشعار پڑھے تو اس کا دل بھر آیا اور اس نے کتاب کا نسخہ واپس کر دیا اور دینار اْن ہی کے پاس رہنے دئیے۔

محترم قارئین!تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی علوم کی تدوین و تالیف، پُرفضا و شاداب مقامات، نہروں کے کنارے یا سایہ دار درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر نہیں ہوئی بلکہ یہ کام خواہشات کی قربانی دے کر ہوا ہے۔ اس کے لیے سخت گرمیوں میں پیاس کی ناقابلِ برداشت تکالیف اٹھانی پڑی ہیں اور رات بھر ٹمٹماتے چراغوں کے سامنے جاگنا پڑا ہے۔

لائبریریوں کی تاریخ

لائبریریوں کی تاریخ جہاں دلچسپ ہے وہیں سبق آموز بھی ہے ،دنیا کی سب سے پہلی لائبریری کب وجود میں آئی؟ شاید اس کا کوئی حتمی جواب تو نہ ملے کیونکہ روز بروز ہونے والی تحقیقات سے کچھ نیا ہی نتیجہ نکل رہا ہوتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ لائبریریز کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی قدیم انسان کی تہذیب ہے۔ شروع سے ہی انسان نے ہر دور میں حاصل ہونے والے علم کا ریکارڈ رکھنے کی کوشش کی ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لائبریریوں کا آغاز اس وقت سے ہوا جب انسان کے پاس لکھنے کے لئے کاغذ قلم نہ تھا اور وہ مٹی کی تختیوں، چمڑے اور ہڈیوں پر تحریر کو محفوظ کرتا تھا۔آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آشور بنی پال،سکندریہ لائبریری ، عیسائیوں ، ایرانی، ساسانی، یونانی، رومی کتب خانے ، عربوں کے کتب خانے یورپ اور برصغیر کے حکمرانوں کے کتب خانے بہت مشہور ہیں۔قدیم دور کے کتب خانوں میں آشور بنی پال، کتب خانہ سکندریہ اور کتب خانہ پرگامم قابل ذکر ہیں۔ اشور بنی پال کی لائبریری میں اس وقت کا لکھا گیا زیادہ تر ادب موجود تھا ۔(سکندریہ کی لائبریری کی داستان،ص16) مصر کے نئے حکمران خاندان نے اقتدار سنبھالا اور سکندریہ کو دانش وروں کا شہر بنا دیا ۔اس خاندان کے حکمرانوں نے علم و فن سے بہت زیادہ محبت کی تھی اور مصر کے قدیم علمی خزانوں کو دوبارہ دریافت کر کے دنیا کے لئے مفید بنایا تھا اگرچہ فرعونوں نے بھی سقارا میں عظیم اہرام تعمیر کر کے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اب سکندریہ نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا اور اس کے علم و کمال نے دنیا کو اپنی طرف کھینچا تھا ، سکندریہ کی مشہور لائبریری "ٹالمی اول" نے شروع کی اور "ٹالمی دوم" کے دورِ حکومت میں مکمل ہوئی ۔ٹالمی دوم نے اپنے ماتحت ریاستوں کے حکمرانوں اور مختلف علوم کے علما کو دعوت دی کہ اس عظیم لائبریری کے لئے کتابیں جمع کریں اور علماکتابیں تحریر کریں ،زیادہ تر کتابیں خریدی گئیں اور لاکھوں کتابیں مختلف علوم کے علما سے تحریر کروائی گئیں کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ سکندریہ کی لائبریری میں کئی لاکھ کتابیں تھیں۔سٹرابولکھتا ہے کہ قدیم "ڈورک" زبان اور قدیم یونانی زبان میں لکھی گئی کتابیں جو کہ نام ور شاعروں اور فلسفیو ں کی تھیں ۔رہوڈس کے بازار سے سونے کے ساتھ تول کر خریدی گئیں اور ان کتابوں کے عوض سونا دیا گیا تھا۔(اقتباس ازسکندریہ کی لائبریری کی داستان،ص38)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کا پہلا منظم کتب خانہ سکندریہ تھا اور اس میں منہ مانگی قیمت پر کتب خرید کر رکھی جاتی تھیں اس میں رکھے گئے مواد کو مضامین کے اعتبار سے رکھا جاتا تھا۔ اس کا قیام 323 ق۔م میں مصر میں عمل میں آیا اور اس میں ذخیرہ کتب 9لاکھ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں کتب خانہ ارسطو، کتب خانہ افلاطون اور پرگامم کا کتب خانہ قدیم ترین ہیں۔افلاطون کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک شاندار کتب خانہ موجود تھا جو اس کی وفات کے بعد کہا ں گیا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے البتہ ارسطو کے کتب خانے کے حوالے سے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ سینکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا جو کہ ایک اندازے کے مطابق4سو رولز پر مشتمل تھا۔ نجی کتب خانوں کا بانی ارسطو کو کہا جا تا ہے۔ ارسطو نے کتب خانوں کی تنظیم و ترتیب سائنسی بنیادوں پر رکھنا شروع کی تھی۔ قدیم یونان کا دوسرا اہم ترین کتب خانہ پرگامم ہے جسے اتالوسی دوم نے 137ء سے 159ء تک قائم کیا۔ پرگامم کا مواد پیپرس رولز اور پارجمنٹ پر مشتمل تھا اور یہ ذخیرہ دولاکھ کے لگ بھگ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں ادب، تاریخ ، سائنس ، ریاضی ، فلسفہ ، مذہبیات ، سیاسیات اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر ذخیرہ کتب زیادہ تھا۔سرزمین روم میں عوامی کتب خانے ، نجی کتب ا ور مخصوص کتب خانے موجود تھے۔ 360ء سے 370ء تک روم میں 28عوامی کتب خانے موجود تھے۔روم کے یہ تمام کتب خانے16ویں صدی تک نیست و نابود ہو گئے۔چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند میں کتب خانے موجود تھے۔کتب خانہ نالندہ یونیورسٹی، وکرم شلا اورسرسوتی بھنڈار برصغیر کے قدیم کتب خانے ہیں۔ پرانے وقتوں کے عظیم کتب خانوں کی دو اہم خصوصیات علم دوستی اور حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور ان کی ہیت و تنظیم میں ہم آہنگی تھی۔

دنیائے جدید کی دس بڑی لائبریریاں

ایسی لائبریریاں بنانا جہاں علم وحکمت ایک عام آدمی کی دسترس میں آجائےیہ یقیناًنوع انسان کی ایک بہت بڑی کاوش ہے، دنیا کی چند بڑی اور چند دلچسپ لائبریریوں کےنام پیشِ خدمت ہیں ۔

امریکی کانگریس کی لائبریریبرٹش لائبریری لندن انگلینڈنیویارک پبلک لائبریری نیویارکرشین ا سٹیٹ لائبریرینیشنل لائبریری آف رشیانیشنل ڈائٹ لائبریری جاپان نیشنل لائبریری آف چائنا نیشنل لائبریری آف فرانسبودلیئن لائبریری،آکسفورڈ برطانیہبوسٹن پبلک لائبریری

ترکی کی عظیم الشان لائبریری

ترکی جہاں اہل علم حضرات کا مرکز ہے وہیں دینی کتب و دلکش لائبریزز کا مظہر بھی ہے ترکی صدارتی کمپلیکس میں بنائی گئی لائبریری میں 40 لاکھ سے زائد کتابیں رکھی گئی ہیں جبکہ وہاں 5 ہزار افراد بیک وقت مطالعہ کر سکتے ہیں ترکی اردو کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کی اس عظیم الشان لائبریری میں ایک کروڑ 20 لاکھ الیکٹرانک اور ساڑھے 5 لاکھ ای کتب کے ساتھ ساتھ تاریخی دستاویزات بھی موجود ہیں ، جہاں بیک وقت 5 ہزار افراد مطالعہ کرسکتےہیں صدارتی کمپلیکس کا کل رقبہ 125 ہزار مربع میٹر ہے، جس کی تعمیر کا آغاز 2016ء میں کیا گیا تھا۔(ترکی اردو ویب سائٹ)

لائبریریاں جو مٹ گئیں

اسلام کی تاریخ جہاں دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے وہیں دردناک حقائق بھی اسی تاریخ کا جُزْوِ لَایُنْفَک ہیں انہی حقائق میں سےایک دردناک حقیقت لائبریریز کو جلانا اور مٹانا بھی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دینی علوم کا کثیر حصہ دنیا سے ختم ہو گیا ،مختصرا ًچند واقعات حسبِ ذیل ہیں ۔

D503 ہجری میں طرابلس (لیبیا) پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا دیا۔D656 ہجری میں ہلاکو خان نے بغداد تاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کو دریائے دجلہ میں پھینکوا دیا۔ دریائے دجلہ میں ڈالی جانے والی کتب کی تعداد 6 لاکھ سےزائد تھی۔Dتاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کئے اور تمام کتب دریا میں ڈا ل دیں جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا۔تاتاریوں کا یہ سیلاب صرف بغداد تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ترکستان ، خراسان، فارس، عراق اور شام سے گزرا اور تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا۔D اسپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیئے گئے۔Cardinal XimenesDنے ایک ہی دن میں 80 ہزار کتب نذر آتش کر دیں۔ Dصلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر، شام،ا سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ و برباد کر دیا۔ ان کتب کی تعداد 30لاکھ سے زائد تھی۔Dقاضی ابن عمار نے طرابلس میں عالیشان کتب خانے کی تاسیس کی جس میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں تھیں۔یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران برباد کر دیا گیا۔Dفاطمین مصرکے دور میں قاہرہ کے قصرشاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا اسے جلا دیا گیا ۔ Dصاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ’’ جو دارالکتب رے ‘‘کے نام سے معروف تھا،اسے جلا کر تباہ کر دیا گیا ۔Dبغدادکے محلہ کرخ میں دارالعلم نام سے ایک لائبریری تھی جس میں دس ہزار سے زائد ایسی کتب تھیں جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں کی لکھی ہوئی تھیں ، دنیا میں اس سے بہتر کوئی کتب خانہ نہ تھا، یہ مایہ ناز کتب خانہ 451ھ میں جلا دیا گیا۔ Dبغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ 385ھ تا 420ھ کئی مرتبہ جلایا گیا۔آخری مرتبہ 448میں اسطرح جلایا گیا کہ اس کا نام بھی باقی نہ بچا۔D549ھ میں ایک گروہ نے ماوراء4 النہر سے آکر نیشا پور کے کتب خانے جلا دیئے۔(ماخوذازویب سائٹ)

ابومعاویہ محمد منعم مدنی (شعبہ سیرت النبی)

اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ)

14 رجب المرجب 1442ھ

27 فروری 2021ء


حضرتِ سیدتُنا مریم  رحمۃ اللہ علیھا کے فضائل و کرامات کے بیان اور مختلف مدنی پھولوں سے معمور تحریری مدنی گلدستہ

فیضانِ بی بی مریم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہَا

اِس رسالے کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کیلئے ’’علامات ترقیم ‘‘(Punctuation Marks) کا اہتمام ٭تقریباً ہرآیت مبارکہ میں ترجمہ ٔکنزالایمان کا التزام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭فکرِآخرت پرمشتمل اِصلاحی موادکی شمولیت ٭قراٰنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، احادیث ودیگر عبارات کےحوالوں(References) کا خاص اہتمام ٭ایک ہی نظرمیں کتاب کے عنوانات دیکھنے کیلئے کتاب کے شروع میں فہرست(Index) ٭جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مصنفین، مکتبوں اورشہرطباعت کی ’’ماخذومراجع‘‘میں تفصیل ٭پورے رسالے کی دارالافتاء اَہلِ سنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی تفتیش ٭اَغلاط کوکم سے کم کرنے کیلئے پورے رسا لے کی کئی بار پروف ریڈنگ

92صفحات پر مشتمل یہ رسالہ 2017ء میں تقریباً40ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکا ہے۔

اس رسالے کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now



اسلامی بہنوں کے شعبہ  کفن دفن کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں صدر کے 2 علاقوں شاہنواز اور خداداد میں کفن دفن تربیت کا سلسلہ ہوا جس میں 29 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

صدر کابینہ مشاورت اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں کی میت کو غسل دینے کے حوالے سے تربیت کی اور کفن پہنانے کا طریقہ سیکھا یا۔آخر میں اسلامی بہنوں نے کتاب تجہیز و تکفین پڑھنے اور غسل میت کا ٹیسٹ دینے کی نیتوں کااظہار کیا۔