سمیع اللہ (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ امام
احمد رضا حیدرآباد ہند)
قراٰنِ مجید ایک ایسی کتاب ہے جس کی تِلاوت کرنا سننا،
باوُضو چُومنا، چھونا، یہاں تک کے دیکھنا بھی ثواب ہیں ۔ یہ ایک ایسی واحد کتاب ہے
کہ جس کا 1 حرف پڑھنے پر 100 نیکیاں ملتی ہیں۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو نماز میں کھڑے ہو کر قراٰن کی تِلاوت کرے اس
کے لئے ہر حَرْف کے بدلے 100 نیکیاں ہیں اور جو نماز میں بیٹھ کر تِلاوت کرے اس کے
لئے ہر حَرْف کے بدلے 50 نیکیاں ہیں اور جو نماز کے علاوہ باوُضُو تِلاوت کرے اس
کے لئے 25 نیکیاں ہیں اور جو بغیر وُضُو تِلاوت کرے اس کے لئے 10 نیکیاں
ہیں۔(احیاء العلوم، 1/366)۔ قراٰنِ پاک کے حُقوق متعلق پارہ نمبر 1 سورة البقرہ کی
آيت نمبر 121 میں اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ
تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ ترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے تو وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں
جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔(پ1،البقرۃ:121) معلوم
ہوا کہ کتابُ اللہ کے بہت سے حقوق بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ان حُقوق کو
سمجھ لیں تو آیئے اُنہی میں سے پانچ حُقوق کو سمجھ لیتے ہیں۔
(1) پہلا حق: اس پر ایمان لانا یہ بات یاد رکھیے کہ اللہ پاک نے جتنی بھی کتابیں نازِل
فرمائے،جتنے صحیفے انبیائے کِرام علیہم السلام پر نازِل فرمائے، ان سب پر ہی ایمان
لانا ایک مسلمان پر لازِم ہے، اللہ پاک کی نازِل کردہ کسی ایک بھی کتاب کا اِنکار
کُفْر ہے۔ البتہ پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانے میں اور قراٰنِ کریم پر ایمان
لانے میں ایک فرق ہے،وہ یہ کہ پچھلی جتنی بھی آسمانی کتابیں ہیں،صحیفے ہیں،ان سب
پر اِجمالی ایمان فرض ہے اور قراٰنِ کریم پر تفصیلی ایمان فرض ہے۔اِجمالی کا مطلب
یہ ہے کہ اللہ پاک نے تورات انجیل زبور اس کے علاوہ جو صحیفے انبیائے کِرام علیہم
السلام پر نازِل فرمائے وہ سب سچ ہے،ہاں! لوگوں نے اپنی خواہش سے ان میں جو اضافے
کردیئے ،ان میں جو تبدیلیاں کردیں،وہ باطل ہیں۔جبکہ قراٰنِ کریم پر تفصیلی ایمان
لازِم ہے،یعنی اَلْحَمْدُ کی الِف سے لے
کر وَالنّاسُ کی سین تک قراٰنِ کریم کا ایک ایک حَرف سچ ہے،اللہ کی طرف سے نازِل
کردہ ہے،اس میں ایک حَرف کی بھی کمی بیشی نہیں،جو شخص قراٰنِ کریم کے ایک لفظ کا
بھی انکار کرے،وہ کافِر ہے،دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
(2) دوسرا حق: اس سے محبّت کرنا اور دِل سے اس کی تعظیم
کرنا۔الحمداللہ!قراٰن مجید سے محبّت کرنا "سنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم ہے"۔ پیارے آقاصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قراٰن مجید سے
بہت محبّت فرماتے تھے۔ ایک روز پیارے آقاصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے گھر
مبارک میں تشریف فرما تھے، کسی نے بتایا کہ کوئی شخص بہت خوبصورت آواز میں قراٰن
مجید کی تِلاوت کر رہا ہے، پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اٹھے، باہر
تشریف لے گئے اور دیر تک تِلاوت سُنتے رہے، پھر واپس تشریف لائے اور فرمایا: یہ
ابو حذیفہ کا غُلام سالم ہے،تمام تعریفیں اللہ پاک کے لئے ہیں جس نے میری اُمّت
میں ایسا شخص پیدا فرمایا۔( ابن ماجہ ، کتاب : اقامۃ الصلاۃ ، ص 216 ، حدیث : 1338)
(3) تیسرا حق: قراٰن مجید کے بیان کردہ آدابِ زندگی اپنانا اور اس کے
بتائے ہوئے اَخلاق کو اپنے کردار کا حصّہ بنانا۔ اللہ پاک کے آخری نبی، مکی مدنی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کتنے قراٰن پڑھنے والے ایسے ہیں کے قراٰن اُن
پر لعنت کرتا ہے۔ عُلمائے کرام نے اس حدیثِ پاک کا ایک معنی یہ بھی لکھا ہے کہ اس
سے مُراد وہ شخص ہے جو قراٰنِ کریم کی تِلاوت تو کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔
(4) چوتھا حق: اس کی تِلاوت کرنا۔ قراٰن مجید کی تِلاوت اس طرح کرے کہ
گویا یہ قراٰن اللہ پاک کی بارگاہ سے سن رہا ہے اور خیال کرے کہ ابھی اس ذات کی
جانِب سے سن رہا ہوں۔
(5) پانچواں حق: قراٰن مجید کو سمجھنا اور سمجھ کر دوسروں تک پہنچانا۔ حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قراٰن مجید کے بے شُمار اَوْصاف بیان فرمائے
ہیں، اُن میں ایک وَصْف یہ بیان فرمایا کہ قراٰن مجید دلیل ہے، یہ یا تو تمہارے حق
میں دلیل بنے گا یا تمہارے خلاف دلیل ہوگا۔ علّامہ قرطبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: جو شخص قراٰن سیکھے مگر اس سے غفلت کرے قراٰن اس کے خِلاف دلیل ہوگا اور اس
سے بڑھ کر اس بندے کے خِلاف دلیل ہوگا جو قراٰن مجید کے حق میں کمی کرے اور اس سے
جاہِل رہے۔(تفسیر قرطبی ، 1/ 19)
نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے کہ تم
میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قراٰن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(بخاری) اگر ہم بھی
چاہتے ہیں کہ بہترین انسان بنیں تو اس حدیثِ پاک پر عمل کرنا ہوگا اور اس حدیثِ
پاک پر عمل کرنے کے لئے ہمیں دعوتِ اسلامی کے 80 سے زائد شعبوں میں سے ایک بہت ہی
اہم شعبہ مدرسۃُ المدینہ میں شرکت کرنا ہوگا۔ الحمدللہ اس میں شرکت کی برکت سے قراٰنِ
کریم کو سیکھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی بھی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں قراٰنِ
کریم کو سیکھنے سمجھنے اس کی زیادہ سے زیادہ تِلاوت کرنے اور اس کے حُقوق ادا کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبیِّ الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
يہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام
ہو جائے
ہر اِک پرچم سے اونچا پرچمِ
اسلام ہو جائے
کسی مسلمان کا برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہونا بلاشبہ
بُرا ہے لیکن اس سے زیادہ برا کسی پر گناہوں کا جھوٹا الزام لگانا ہے۔ ہمارے
معاشرے میں جو برائیاں ناسور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک تہمت و بہتان بھی
ہے۔ جس نے ہماری زندگی کے سکون کو برباد کر دیا ہے۔یاد رہے کہ کسی پر جان بوجھ کر
بہتان لگانا انتہائی برا کام ہے۔ اس کی مذمت احادیث میں بھی بیان کی گئی
ہے۔5احادیث آپ بھی پڑھئے:
(1) نبیِّ
رحمت، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان
کی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ پاک اس وقت تک ردغۃُ
الخبال ( یعنی جہنم کی وہ جگہ جہاں جہنمیوں کا خون اور پیپ جمع ہوگا،اس) میں رکھے
گا جب تک اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہو۔ ( ابوداؤد،3/427،حدیث:3597)
(2) جس نے کسی
مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کیا تو اللہ پاک جہنم کے پل پر
اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پالے۔(ابو داؤد، 4/ 355،حدیث:4883)
(3) جھوٹے گواہ کے
قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ پاک اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن
ماجہ،3/123،حدیث:2373)
(4) نبیِّ پاک صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی پاک دامن عورت پر زِنا کی تہمت
لگانا سو سال کی نیکیوں کو برباد کرتا ہے۔(معجم کبیر،3/169،حدیث:3023)
(5) حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے استفسار فرمایا:
کیا تم جانتے ہو،مفلس کون ہے ؟صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: ہم میں مفلس
وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ ہی مال، ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے
جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فلاں کو گالی دی
ہوگی،فلاں پہ تہمت لگائی ہو گی۔ فلاں کا مال کھایا ہوگا، فلاں کا خون بہایا ہوگا
اور فلاں کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصہ دے دیا جائے
گا۔ اگر اس کے ذمے آنے والے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو
ان لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (
مسلم،ص1069،حدیث:6579)
اللہ پاک ہمیں بہتان لگانےاور الزام تراشی سے محفوظ فرمائے
اور ہمارے اعضاء کو اپنی اطاعت و خوش نودی والے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد شاہد عطاری (درجہ دورۂ حدیث جامعۃُ المدینہ 11 G اسلام آباد پاکستان)
پیارے اور محترم اسلامی بھائیو! ہمیں بحیثیتِ مسلمان یہ
اعزاز حاصل ہے کہ ہمارے پاس الله پاک کا کلام محفوظ ہے جو کہ اللہ پاک کی ہمارے لئے
بڑی نعمت ہے لیکن اس بنا پر ایک بڑی ذمہ
داری بھی ہم پر لازم آتی ہے کہ اس نعمتِ عظمیٰ کے حقوق جتنا ہوسکے ادا کیے جائیں۔
کیوں نہ ہو ممتاز اسلام دنیا
بھر کے دینوں میں
وہاں مذہب کتابوں میں، یہاں قراٰن
سینوں میں
محترم قارئین کرام! ہر مسلمان پر قراٰن کریم کے متعدد حقوق
لازم ہوتے ہیں جن میں سے 5 حاضر خدمت ہیں:
(1 ) ایمان لانا : قراٰن مجید کا پہلا حق یہ ہے کہ زبان سے اقرار کیا جائے کہ قراٰن
اللہ پاک کا کلام ہے۔ اس اقرار سے انسان دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے (یعنی
یہ ایمان کا جز ہے) لیکن زبان سے اقرار کرنے کے ساتھ دل سے تصدیق بھی لازم ہے۔
اکثر صحابۂ کرام علیہم الرضوان ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور ختم قراٰن کرتے تھے۔ قراٰن
سے اس لگاؤ کا سبب یہ تھا کہ انہیں کامل ایمان تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔
(2) تلاوت قراٰن کرنا
: قراٰن پاک کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے۔ یہ
ایک بڑی عبادت ہونے کے ساتھ ایمان کو تازہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لئے قراٰن
مجید کے قدر دانوں کی یہ کیفیت قراٰن مجید میں بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری
ہے: اَلَّذِیْنَ
اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ
بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۱۲۱)ترجمۂ کنزالعرفان:وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے تو وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا
تلاوت کرنے کا حق ہے یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا انکار کریں تو وہی
نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (پ1،البقرۃ:121)
(3) قراٰن مجید میں
تدبر ( غور و فکر) کرنا : کتاب اللہ کا تیسرا حق یہ ہے
کہ اسے سمجھا جائے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے قراٰن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اَنْزَلْنَاۤ
اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ
یَتَفَكَّرُوْنَ ترجمۂ کنزالعرفان: اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ
قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کردو جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے
اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ ( پ14،النحل : 44)
(4) قراٰن مجید پر عمل کرنا :قراٰن مجید کا چو تھا حق یہ ہے کہ اس پر عمل کریں۔ قراٰن مجید محض حصولِ برکت
کیلئے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ تمام انسانوں کیلئے رہنمائی ہے ۔قراٰن پر عمل نہ کرنے
والوں کے لئے وعید بھی قراٰن میں بیان کی
گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ
فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو
اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ کافر ہیں۔ (پ6،المائدۃ:44)
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں
ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں
ہو کر
درس قراٰن گر ہم نے نہ بھلایا
ہوتا
یہ زمانہ زمانے نے نہ دکھایا
ہوتا
(5)قراٰن مجید کو
دوسروں تک پہنچانا: قراٰن پاک کا پانچواں حق یہ ہے
کہ قراٰن مجید کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔ اسی طرح ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی پوری زندگی اس حق کی ادائیگی میں مصروف عمل رہے اور امت
کو بھی یہی تعلیم دی۔ چنانچہ اس حق کو رب کریم نے قراٰن مجید میں بھی بیان فرمایا
ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے : یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ
مِنْ رَّبِّكَؕ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اس کی
تبلیغ فرما دیں۔(پ6،المائدۃ:67)
پیارے اسلامی بھائیو! عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ
اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہو جائیے ! الحمد للہ ! دعوتِ اسلامی ہمیں قراٰن پڑھنا بھی سکھاتی ہے اور قراٰن
سمجھنے کے ذرائع بھی فراہم کرتی ہے اور قراٰن مجید سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور اسے
دوسروں تک پہنچانے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔
خاتمہ :اللہ پاک ہمیں اس عظیمُ الشان کتاب کی قدر کرنے ، اس کی خوب
تلاوت کرنے ، اس سے ہدایت لینے اور اس کا نور اپنے سینے میں اتارنے اور اس کی
ہدایات دنیا بھر میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نصر الله عطّاری (دورہ ٔحدیث
، جامعۃُ المدينہ فیضانِ مدینہ جی الیون اسلام آباد پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ! قراٰنِ کریم اللہ پاک کا آخری اور مکمل کلام ہے، جو ہمارے
لئے ہدایت اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ قراٰنِ حکیم ایک فیصلہ کن
کلام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسی طرح دنیا میں ہمارا عروج و زوال قراٰنِ حکیم ہی سے
وابستہ ہے۔ یہ ہمارے پاس اللہ پاک کی طرف سے نعمتِ عظمیٰ ہے ۔ اور اس نعمت عظمی کے
حقوق بھی ہیں ۔ آئیے چند حقوق ملاحظہ کرتے ہیں :
پہلا حق : قراٰن مجید پر ایمان لانا: پیارے اور
محترم اسلامی بھائیو ! قراٰن مجید پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اس کا
اقرار کیا جائے کہ یہ اللہ پاک کا کلام ہے۔ جبرائیل علیہ السّلام کے واسطے سے اللہ
پاک کے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل
ہوا۔ اور یہ اقرار دل اور زبان دونوں طریقے سےکرنا ضروری ہے ۔ اور اس اقرار کو عملی جامہ پہنانا اور تمام اعضاء جسم پر
نافذ کرنا اور سرتا پاؤں اس اقرار کے تابع عمل کرنا عین ایمان ہے۔ چنانچہ حضورِ
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل ہونے والی کتاب قراٰن مجید پر سب سے پہلے
ایمان لانے والے صحابۂ کرام علیہم الرضوان تھے۔ ارشاد باری ہے: اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ
الْمُؤْمِنُوْنَؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو
اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔(پ3،البقرۃ: 285)
یعنی
قراٰن مجید پر نبی کریم علیہ الصلاۃ و السّلام ایمان لائے اور صحابۂ کرام علیہم
الرضوان بھی ایمان لائے ۔ تو ایمان کی دولت پانے کے بعد اللہ پاک نے مؤمنوں کے
لقب سے نواز دیا۔ چنانچہ انہوں نے اس لقب کی اتنی قدر کی کہ اپنا اٹھنا بیٹھنا اس
قراٰنِ مجید کے مطابق کر لیا اور پوری کائنات کیلئے آئیڈیل اور رہنما بن گئے ۔ آج
بھی اگر نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شخصیت کے بعد کسی ہستی کے عمل سے اسلام اور قراٰن کی اصل تعلیمات سامنے آتی ہیں تو
وہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان ہیں۔ جس کو شاعر نے بیان کیا
یہ راز کسی کو معلوم نہیں کہ مؤمن قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قراٰن
دوسرا حق : قراٰن مجید کی تلاوت کرتا :پیارے اسلامی
بھائیو ! مسلمان ہونے کے ناطے ، ہم پر جو
دوسرا حق عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم قراٰن مجید کی تلاوت کریں اور یہ مؤمن کی
روح کی غذا ہے اور یہ ایمان کو ترو تازہ سر سبز و شاداب رکھنے اور مشکلات و موانع کے مقابلے کے لئے سب سے مؤثر ہتھیار اور
اہم ترین ذریعہ ہے۔ اور اسے بار بار اس طرح پڑھا جائے کہ جس طرح اس کو پڑھنے کا حق
ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ
اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ ترجَمۂ کنزُالایمان: اے محبوب پڑھو
جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی۔(پ21، العنکبوت:45)اسی طرح اللہ پاک پارہ 1
سورہ بقرہ آیت نمبر 21 میں ارشاد فرماتا
ہے: اَلَّذِیْنَ
اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖطترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے
تووہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے۔ قراٰن
مجید پڑھنے کے آداب: ترتیل سے پڑھا جائے، خوش الحانی سے پڑھا جائے، قراٰن
مجید کو یاد کیا جائے اور اس کو روزانہ معمول بنایا جائے ۔ تیسرا حق: قراٰن مجید کا سمجھنا: پیارے اسلامی بھائیو!
ہر مسلمان پر قراٰن مجید کا تیسرا حق یہ ہے کہ جس صدقِ نیت سے اس پر ایمان لایا اور
اس کو درست طریقے سے پڑھا اسی جوش و جذبے کے ساتھ اس کو سمجھے کیونکہ قراٰن فہمی
ایک ایسا عظیم اور انمول علم ہے کہ اس کے حاصل ہو جانے کے بعد انسان جہالتوں اور
خرافات کی انتہا گہرائیوں سے نکل کر ایک
روشن اور مشاہدتی زندگی میں آجاتا ہے اور پھر اس کا عقیدہ ٹھوس
بنیادوں پر قائم ہوجاتا ہے۔ جس میں تزلزل نہیں آسکتا ہے۔ جس طرح صحابۂ کرام رضی
اللہ عنہم نے قراٰن مجید کو اللہ پاک کے
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ارشادات و افعال و تقریرات کی روشنی سے سمجھا۔ جب ہی یہ قراٰن مجید کی سمجھ کامرانی
و رضائے الٰہی کا موجب بن سکتی ہے۔ لیکن
اگر فہم میں بھی عقل کے گھوڑے دوڑائیں اور مَن مانے معنی مراد لیں تو یہ فہم بھی
اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گی ۔
قراٰن
مجید کے نزول کا مقصد اعظم ایمان لانے کے بعد اس کو پڑھ کر سمجھنا ہے تاکہ عمل کے
مدارج اور جملہ وادیاں طے کی جاسکیں۔ لیکن اگر سمجھے گا ہی نہیں تو عمل کیسے کرے
گا ۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن
میں۔ (پ5،النسآء:82)یہاں قراٰنِ پاک کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غور
و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ (ملخصاً صراط الجنان)
چوتھا حق : قراٰن مجید پر عمل کرنا :پیارے اسلامی
بھائیو ! قراٰن مجید پر ایمان لانے اور اسے ترتیل سے پڑھنے اور اس میں تدبر
و تفکر و تفقہ کرنے کے بعد ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ اس پر (یعنی اس کی تعلیمات پر
) عمل پیرا ہوں کیونکہ اس کا ماننا اور اس کی تلاوت کرنا اور اس کا فہم رکھنا
حقیقت میں اس پر عمل کرنے کے لوازمات و مبادیات و اساسیات کا درجہ رکھتے ہیں۔
کیونکہ اصل مقصود و مطلوب تو عمل ہوتا ہے۔ اور یہ اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ
ہم اس پر عمل کریں۔ کیونکہ قراٰن مجید میں
عمل نہ کرنے والوں کے لئے وعید بیان کی گئی
ہے ۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ
اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴)ترجَمۂ
کنزُالایمان: اور جو اللہ کے اتارے پر حُکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں ۔(پ 6،
المائدہ :44)
درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اور
امیر ِاہلسنت اپنے دعائیہ کلام میں لکھتے ہیں:
عمل کا ہو جذبہ عطایا الہی گناہوں
سے مجھ کو بچا یا الہی
ہو اخلاق اچھا، ہو کر دار ہو ستھرا مجھے
متقی تو بنایا الہی
پانچواں حق : قراٰن مجید کو آگے پہنچانا :پیارے اسلامی
بھائیو! قراٰن مجید کا پانچواں حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لانے اور صحیح طریقے سے پڑھنے
اور سمجھنے اور پھر عمل کرنے کے بعد اسے
دوسروں تک پہنچایا جائے۔ جس طرح حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بعثت
کی پہلی گھڑی سے زندگی کی آخری رمق تک اپنے فرضِ منصبی ( تبلیغ) کے لئے انتھک محنتیں اور مشقتیں کیں اور مصا ئب
و آلام برداشت کئے ۔ اور کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا بلکہ اس کو غنیمت خیال
کرتے ہوئے اللہ پاک کا پیغام پہنچایا اور اس کی تلاوت و تبلیغ و تعلیم و تبیین و
توضیح میں آپ مسلسل مصروف رہے۔
اسی
طرح صحابۂ کرام نے ایمان لانے اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قرآن
پڑھنے اور سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد الله کے پاک کے نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ مل کر اور انفرادی طور پر اس (قراٰن) کو آگے پہنچایا۔
چنانچہ ارشاد باری ہے: یٰۤاَیُّهَا
الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ ترجَمۂ
کنزُالایمان: اے
رسول پہنچا دو جو کچھ اُترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے۔(پ6،المائدۃ:67)
پیارے
اسلامی بھائیو ! عاشقانِ رسول کی دینی
تحریک دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔ الحمدُ للہ دعوتِ اسلامی (درست مخارج کے ساتھ) قراٰنِ
پاک پڑھنا بھی سکھاتی ہے اور دعوت اسلامی ہمیں قراٰن مجید سمجھنے کے ذرائع بھی
فراہم کرتی ہے اور سمجھ کر عمل پیرا ہو کر دوسروں تک پہنچانے کے ذرائع بھی فراہم کرتی ہے۔
الله
پاک ہمیں اس عظیم الشان کتاب کی قدر کرنے
اس کی خوب تلاوت کرنے اس سے ہدایت لینے اور اس کا نور اپنے سینوں میں اتارنے اور
اس کی ہدایات دنیا بھر میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
حافظ محمد رمضان عطّاری (درجۂ سابعہ، جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ
سرگودھا ،پاکستان)
قراٰنِ
مجید اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جو
اللہ پاک نے انسانوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے عطا
فرمائی ہے۔ قراٰنِ حکیم کی تلاوت کرنا ،سننا، اس کو دیکھنا ، چھونا ثواب حاصل کرنے
کا ذریعہ ہے ۔ اس کی تلاوت کرنا عقل کو بڑھاتاہے ۔ یہ ہدایت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ
ہے ۔مسلم شریف میں ہے کہ : جس نے قراٰن مجید کی پیروی کی وہ ہدایت پر ہے اور جس نے
اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہے۔ (صراط الجنان، پ4،اٰل عمرٰن ،تحت الآیۃ:103)
قراٰن مجید کے 5 حقوق درج ذیل ہیں:(1) قرآن مجید پر
ایمان لانا: اس پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو سچے دل سے ماننا اور اس کو تسلیم کرنا کہ یہ اللہ پاک ہی کا کلام ہے ۔فرمان باری ہے:
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ- ترجمۂ کنزالایمان: رسول اس پر ایمان لائے جو ان
کے رب کی طرف سے ان کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی (ایمان لائے
)۔(پارہ3،البقرۃ:285)
یعنی
اللہ تعالی کی کتابوں پر ایمان لانا اور
یہ عقیدہ رکھنا کہ جو کتابیں اللہ پاک
نے اپنے رسولوں
پر نازل فرمائیں وہ سب حق سچ اور اللہ پاک
کا کلام ہیں اور یہ کہ قرآن حکیم ہر قسم
کی تبدیلی سے محفوظ ہے : (ملخصاً صراط الجنان،البقرۃ،تحت الآیۃ:285)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ
نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ- ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے
اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پر ہمیشہ) ایمان
رکھو ۔(پ5،النسآء:136)
(2) قراٰنِ مجید کی
تلاوت کرنا: ارشاد باری ہے : اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ
الْكِتٰبِ ترجمہ کنزالعرفان: اس
کتاب کی تلاوت کر جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے۔ (پ21،العنکبوت:45) یعنی اس کی تلاوت عبادت بھی ہے اور اس میں لوگوں
کے لئے تمام قسم کے احکامات و اخلاق کی تعلیم بھی ہے ۔ (ملخص از خزائن العرفان،تحت
الآیۃ:45 ،ص743)
فرمان
آخری نبیِّ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
: حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب تک تمہارا دل لگے
قراٰنِ کریم پڑھتے رہو پھر جب ادھر ادھر ہونے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ۔ (مراۃ
المناجیح،ج3،ص283، حدیث:2086 مطبوعہ قادری
پبلشرز) اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: زیادہ سے زیادہ تلاوت قراٰنِ کریم کرنی
چاہئے مگر جس شخص کا کبھی بھی تلاوت میں دل نہ لگے تو وہ زبردستی تلاوت کرے ان شاءاللہ آہستہ آہستہ دل
لگنا شروع ہو جائے گا۔ ( ملخص از مراۃ المناجیح،تحت الحدیث:2086)
(3) قراٰنِ کریم کو سمجھنا: اللہ پاک
نے قراٰنِ کریم کے احکامات کو سمجھنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے : اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ
تَعْقِلُوْنَۚ(۳) ترجَمۂ
کنزُالایمان: ہم نے اسے عربی قرآن اُتارا کہ تم سمجھو ۔(پ25،الزخرف:3) اس آیت کے تحت مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :عربی زبان میں اس لئے اتارا
کہ اے عرب والوں! تم اس کے معانی و احکام کو سمجھ سکو۔ (خزائن العرفان،تحت
الآیۃ:03 ،ص899)
کیونکہ
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عرب میں تھے ۔ سب سے آخری نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ
الْقُراٰنَ و َعَلَّمَہ یعنی تم میں بہترین شخص وہ
ہے جس نے قراٰن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا ۔ (تلاوت کی فضیلت
، ص: 4 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(4)قراٰنِ حکیم
پر عمل کرنا (Acting
upon the Holy Quran) : علامہ احمد صادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: کہ اے لوگو! قراٰن کے احکامات پر پابندی سے عمل کرو ۔ (صراط الجنان، بنی
اسرائیل ،پ 15، تحت الآیۃ: 86 – 87)
فرمانِ
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی
جب تک کہ قراٰن جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ نہ جائے۔ عرش کے گِرد قراٰن کی ایسی
بھنبھناہٹ ہوگی جیسے شہد کی مکھی (Bee) کی ہوتی ہے ۔ اللہ پاک قراٰن سے فرمائے گا
کہ تیرا کیا حال ہے؟ قراٰن عرض کرے گا: اے
اللہ میں تیرے پاس سے گیا اور تیری ہی طرف لوٹ آیا ہوں۔ میری تلاوت تو کی گئی لیکن
میرے احکامات پر عمل نہ کیا گیا ۔ (صراط الجنان، پ 15، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: 86
- 87) ( مسند الفردوس ، باب لام – الف، 5/
79- حدیث:7513)ایک روایت میں ہے کہ جو قراٰن کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں گمر اہ اور
آخرت میں بد بخت نہ ہوگا۔ (صراط الجنان ، پ 16 ،طہٰ : 123 تحت الآیۃ) پیروی سے مراد احکامِ قراٰن پر صحیح عمل کرنا ہے۔
لہذا ہمیں چاہیئے کہ قراٰن کی تعلیمات پر
عمل کریں۔
(5) قراٰن مجید کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا
:فرمان باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا
الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسول! جو کچھ آپ کی
طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اس کی تبلیغ فرما دیں ۔ (پ6، المائدۃ:67)
یعنی
لوگوں کو نصیحت کرتے رہنا چاہیئے ۔ نصیحت کرنے میں ہی ایک مبلغ اور دوسرے لوگوں کا
فائدہ ہے۔ فرمان ِآخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم ہے: بَلِّغُوْ اعَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً ترجمہ: پہنچا
دو میری طرف سے اگر چہ ایک ہی آیت ہو۔ (شرح ریاض الصالحین ،کتاب العلم ، باب فضل
العلم، ص161،حدیث : 1385)
خلاصہ کلام: اس
کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے قراٰن کے مذکورہ حقوق کو
پورا کرنا چاہیے جو کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
حافظ مزمل عطّاری (مدرس فیضان آن لائن اکیڈمی
”دعوت اسلامی “ ملتان پاکستان)
حقوق
حق کی جمع ہے جس طرح معاشرے میں پڑوسی والدین، زوجین اور اساتذہ وغیرہ کے حقوق
ہوتے ہیں ، بالکل اسی طرح کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کے بھی کچھ حقوق ہیں ۔ جن کا
ادا کرنا ہم مسلمانوں پر ضروری ہے۔
(1) قرآن پر ایمان لانا: قرآن
پاک کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ قرآن پر ایمان لانے کا
مطلب ہے کہ ”اقرار باللسان و تصدیق بالقلب“ زبان سے اس بات کا اقرار کرنا اور دل سے سچا
جاننا کہ یہ آخری آسمانی کتاب ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السّلام کے ذریعے اللہ کے
آخری نبی پر یہ کتاب نازل ہوئی ۔قرآن پر ایمان لانے کے بارے میں اللہ نے قرآن
میں ارشاد فرمایا:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ
مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان: رسول
ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔(البقرۃ:285)
(2) قرآن کی تلاوت کرنا:قرآن
کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس لاریب کتاب کی
تلاوت بھی کی جائے ااور اس عظیم الشان کتاب کی
تلاوت کرنے کے بہت سے فضائل و برکات ہیں۔
اللہ کےآخری نبی نے فرمایا کہ : من قرء من القرآن حرفاًفلہ عشر حسنات ۔جس
نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے دس
نیکیاں ہیں ۔ ( مسند الرویانی،الحدیث
605،ج1،ص397)
(3) قرآن کو سمجھنا: ماننے اور پڑھنے کے بعد تیسرا حق یہ ہے
کہ اس قرآن کو سمجھا جائے اور ظاہر ہے کہ
قرآن اسی لئے نازل ہوا کہ اس کا فہم حاصل کیا جائےکہ قرآن ہمیں کیا بتا رہا ہے؟
اس میں ہمارے لئے کیا پیغام ہے؟ اس میں ہمارے لئے کیا کیا خوشخبریاں ہیں ۔ قرآن کو سمجھنے کے بارے میں اللہ پاک قرآن میں
فرماتا ہے : كَذٰلِكَ
یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۠۲۴۲)ترجمۂ
کنزالایمان: اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنی آیتیں کہ کہیں تمہیں سمجھ ہو
(البقرۃ:242)
(4) قرآن پر عمل کرنا: قرآن
پر ایمان لانے اس کی تلاوت کرنےاور اسے سمجھنے کے بعد قرآن کا چوتھا حق یہ ہے کہ
اس پر عمل کیا جائے ۔ قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر پہلو پر روشنی
ڈالی ہے اور وہ علم ،علم ہی نہیں جس پر
عمل نہ کیا جائے۔ عمل کا حکم تو خود نبی پاک کوبھی دیا گیا اور باقی سب ایمان والوں کو بھی دیا گیا اللہ
نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : اِتَّبِـعْ
مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَۚ-ترجَمۂ کنزُالایمان: اس پر چلو
جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔(الانعام:106)
حضرت
عائشہ رضی اللہُ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضور کی سیرت کیسی تھی تو فرمایا: کان خلقُہٗ القرآنَ۔یعنی
سارا قرآن نبی پاک کے اخلاق کا نمونہ ہے۔ (مسند احمد، الحدیث: 25285، ج7، ص39)
(5) دوسروں تک پہنچانا:ماننے،
پڑھنے،سمجھنے اور عمل کرنے کے بعد قرآن کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان اپنی
صلاحیت کے مطابق قرآن کے احکامات دوسروں تک پہنچائےاور وہ شخص جو قرآن دوسروں کو سکھاتا ہے اسے حدیث کے مطابق بہترین
لوگوں میں شامل کیا گیا ہے ۔اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: خیرکم من تعلم القرآن و علمہ ،
یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن ،الحدیث: 5027 ،ج3،ص410)
اللہ
رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر
عمل کر کے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمین یا رب العٰلمین۔
غلام نبی عطّاری ( درجہ دورة الحديث فیضان مدینہ آفندی
ٹاؤن حيدرآباد پاکستان)
اللہ پاک نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت
سارے اوصاف سے مزین فرما کر دنیا پر دینِ اسلام کی تبلیغ کے لئے بھیجا جن کی کوئی
انتہا نہیں۔ اعلی حضرت رحمۃُ الله علیہ فرماتے :
تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں
تری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا
کیا کہوں تجھے
اور جس شخصیت کو اللہ پاک نے دینِ اسلام کی تبلیغ کے لئے
بھیجا اس مبارک ہستی اور اس کی بارگاہ کے آداب بھی امتیوں کو قراٰنِ کریم کے ذریعہ
سکھائے۔ مثلاً مجلس میں بیٹھنے کے آداب، بات چیت کے آداب، ندا( پکارنے) کے طریقے
وغیرہ جن میں سے 5 آداب بارگاہِ نبوی قراٰنِ کریم کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے:۔
(2،1) یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور
ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں
تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)تفسیر : اس آیت ِمبارکہ میں بھی اللہ پاک نے ایمان والوں کو
اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں ،پہلا ادب یہ
ہے کہ اے ایمان والو! جب نبیٔ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام
فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان
کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو ۔دوسرا
ادب یہ ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ندا کرنے میں ادب کا
پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ
پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور
عظمت والے اَلقاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسولَ اللہ! صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم ، یا نَبِیَّ اللہ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، کیونکہ ترکِ ادب
سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی
، الحجرات ، تحت الآیۃ: 2 ، 8 / 220 ، الجزء السادس عشر)
(3) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں آہستہ
اور پست آواز میں بات کرنے والوں کا مقام و مرتبہ اور اجرو ثواب اس آیت مبارکہ میں
ملاحظہ فرمائیے : اِنَّ الَّذِیْنَ
یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ
امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ
عَظِیْمٌ(۳) ترجمۂ کنز الایمان :بےشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں
رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے
بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(پ26،الحجرات:3) تفسیر: اس کے شانِ نزول میں ہے : جب یہ آیت(لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ) نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق
اور کچھ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بہت احتیاط لازم کر لی اور
سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں بہت ہی پست آواز سے عرض
و معروض کرتے۔
اس آیت سے ہونے والی
معلومات: (1)… تمام عبادات بدن کا تقویٰ ہیں اور حضورِ اقدس صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب دل کا تقویٰ ہے۔ (2)…اللہ پاک نے صحابہ ٔکرام رضی اللہُ عنہم کے دل تقویٰ کے لئے پَرَکھ
لئے ہیں تو جو انہیں مَعَاذَاللہ فاسق مانے وہ اس آیت کا مُنکر ہے۔(3)… حضرت ابو
بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہما کی بخشش یقینی ہے کیونکہ اللہ پاک نے
ان کی بخشش کا اعلان فرما دیا ہے ۔(صراط الجنان، 9/405)
(4) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گھر کے باہر سے
پکارنے والوں کو اللہ پاک نے بے عقل فرمایا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا
یَعْقِلُوْنَ(۴) ترجَمۂ کنزُالایمان:
بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ (پ26،الحجرات: 4) بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت رسولِ کریم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں پہنچے ،اس وقت حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں نے حُجروں کے باہر سے حضورِ اقدس صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پکارنا شروع کر دیا اور حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم باہر تشریف لے آئے، ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جلالت ِشان کو بیان فرمایا گیا کہ سیّد
المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت
اور بے عقلی ہے۔( مدارک ، الحجرات ، تحت الآیۃ: 4 ، ص1151 ، ملخصاً)
(5) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا
وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ
حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ1،البقرۃ:104) جب حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان
میں عرض کیا کرتے۔ ’’رَاعِنَا یارسول
اللہ‘‘ اس کے یہ معنی تھے کہ یا
رسول اللہ ! صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ،
ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلامِ اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔
یہودیوں کی لغت میں یہ کلمہ بے ادبی کا معنی رکھتا تھا اور انہوں نے اسی بری نیت
سے کہنا شروع کردیا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی
اللہُ عنہ یہودیوں کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی
زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنانِ خدا !تم پر اللہ کی لعنت، اگر میں نے اب کسی کی
زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم
ہوتے ہیں جبکہ مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں ، اس پر آپ رنجیدہ ہو کر سرکار ِ دوعالم
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت ِاقدس میں
حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘ کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔
(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 104، 1/ 44-45)
ان آیاتِ مبارکہ سے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
بارگاہ کے آداب معلوم ہوئے اور یہ آداب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
ظاہری حیات کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ آپ کی وفاتِ ظاہری سے لے کر تا قیامت یہی
آداب باقی ہیں۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعظیم و توقیر اور ان کی
جناب میں ادب کا لحاظ کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ
ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ ایسے الفاظ کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ جس لفظ کے
دو معنی ہوا چھے اور برے اور لفظ بولنے میں اس برے معنیٰ کی طرف بھی ذہن جاتا ہو
تو وہ بھی اللہ پاک اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے استعمال نہ کئے
جائیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
بارگاہ کا ادب رب العلمین خود سکھاتا ہے اور تعظیم کے متعلق احکام کو خود جاری
فرماتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں بارگاہِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کے ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا کرے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
سید زین العابدین(تخصص فی التجويد عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدنیہ کراچی پاکستان)
اللہ پاک کی بارگاہ میں پیارے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان اتنی بلند و بالا ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب خود رب
ذوالجلال نے ارشاد فرمائے ہیں:۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ
سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1) وضاحت: اس آیت الله پاک نے
ایمان والوں کو اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب و احترام ملحوظ
رکھنے کی تعلیم دی ہیں۔
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ
فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ
بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور
ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں
تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)وضاحت: اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں: (1) کہ تمہاری آواز
حضور کی آواز سے بلند نہ ہو (2) پکارنے میں ایسے نہ پکاروں جیسے آپس میں ایک دوسرے
کو پکارتے ہو۔ بلکہ تعظیم و توصیف کے کلمات اور عظمت والے القابات سے پکاروں۔
(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا
وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ
حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔(پ1،البقرۃ:104) وضاحت:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء اکرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعظیم و توقیر اور
ان کی جناب میں ادب کا لحاظ کرنا فرض ہے اور بے ادبی (کفر) ہونے کی طرف اشارہ ہیں۔
(4) یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ
لَكُمْ ترجمۂ کنز ُالایمان: اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ
حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔( پ 22، الاحزاب:53 ) وضاحت: اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری کے آداب خود بیان فرمائے اس آیت سے یہ معلوم ہوتا
ہے کہ بغیر اجازت مصطفی کی بارگاہ میں جانا ہے ادبی ہے۔
(5) لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ
بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ
کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے
کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63) وضاحت: تفسیرِ صراط الجنان:
اس آیت میں بھی مصطفی جانِ رحمت کی بارگاہ گا ادب بیان کیا گیا ہے۔
محمد عمرفاروق (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ عالمی مدنی
مرکز کراچی پاکستان)
انسان کو ہر زمانے میں اپنی دینی یاد نیوی ضرورت کو پورا
کرنے کے تحت کسی ایسے شخص کی حاجت ہوتی ہے جو اس کے مقصد کو پورا کر سکے۔ ایک
باشعور شخص جب کسی کے پاس مقصد کے حصول کے لیے جائے گا تو وہاں کے اصول و ضوابط
اور لوازمات کا خیال رکھے گا۔ اسی طرح ملازم جب اپنے سے سیٹھ کے پاس، شاگرد اپنے استاد
کے پاس، مرید اپنے پیر کے پاس جاتا تو ہے تو ان کے بارگاہ کا ادب کرتا ہے۔ اس طرح بارگاہِ
رسالت میں حاضری کے بھی آداب ہیں جن کو رب العالمین قراٰنِ کریم میں بیان فرماتا ہے۔
(1)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ
اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا
ہے۔ (پ26، الحجرات:1) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اجازت کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً
ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کے ادب و احترام کے خلاف ہے جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور
آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ پاک سے ڈرو
کیونکہ اگر تم اللہ پاک سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا اور ویسے
بھی اللہ پاک کی شان یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام اقوال کو سنتا اور تمام افعال کو
جانتا ہے اور جس کی ایسی شان ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
(2) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب
بتانے والے (نبی) کی آواز سےاور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں
خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2)
(3) وہ لوگ جو حضور کو پکارتے تھے اس حال میں کہ نبی حُجرے میں
تھے، وہ عقل نہیں رکھتے، تو لوگوں کو تلقین کی گئی کہ جب وہ بارگاہِ رسالت میں
حاضر ہوں اور حضور اگر حُجرے میں ہوں تو باہر سے آوازیں نہ دو یہاں تک حضور خود کو
حُجرے سے نکل کر آئیں اور پھر تم ان سے اپنی عرض پیش کرو۔ فرمایا: جو ایسا کرتے
ہیں یعنی باہر سے آوازیں دیتے ہیں وہ بے عقل ہیں۔
(4) اللہ نے فرمایا: تو حضور سے راعنا نہ کہو بلکہ انظرنا کہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ رسالت میں حاضری کے وقت ایسے الفاظ نہ بولے
جائیں جن میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی خدشہ ہو، اس کو لانا ممنوع ہے اور ایسے
الفاظ نہ استعمال کیے جائیں جن کے دومعنی ہو اچھے اور برے دونوں۔ اور غور سے ہر
بات کو سننا چاہیے۔ یعنی جب حضور کی بارگاہ میں حاضری ہو تو توجہ سے بیٹھو ۔
(5) اے ایمان والو رسول اللہ کے پکارنے کو ایسا معمولی نہ سمجھو
جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے یعنی جب حضور پکاریں اس پر جواب دینا اور
عمل کرنا واجب ہے اور حضور کو نام لے کر نہ پکارو ۔ جیسے آپس میں ایک دوسرے کا نام
لیتے ہو، بلکہ کہو یا رسول الله ،یا نبی الله۔
اس سے معلوم ہوا کہ ادب صرف اس وقت کے لوگوں پر نہیں بلکہ
تمام انسان، جنات اور فرشتوں سب پر جاری ہے اور آداب خاص وقت تک کے لیے نہیں، بلکہ
ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حضور کا باادب طریقے سے ذکر کرنے اور
روضۂ رسول پر با ادب حاضری کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
تنویر احمد عطاری ( جامعۃُ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم
سا دھوکی لا ہور پاکستان)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔
(پ26،الحجرات:2)
اللہ پاک نے ایمان
والوں کو دو آداب سیکھائے : (1) پہلا: اے ایمان
والواجب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی
بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو
بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو۔ ( 2) دوسرا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ندا کرنے میں ادب
کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ
پکارو بلکہ تمھیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف و تکریم کے کلمات اور
عظمت والے القاب سے عرض کرو۔ جیسے کہو یا رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
، یانبی الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد
ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
(3) شانِ
نزول : کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں منافقین اپنی
آوازیں بلند کیا کرتے تھے تاکہ کمزور مسلمان اس معاملے میں ان کی پیروی کریں، اس
پر مسلمانوں کو بارگاهِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں آواز بلند کرنے
سے منع کر دیا گیا۔ (تاکہ منافق اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوں) ۔(صراط الجنان،9/398)
(4) یہ آیت نازل ہونے کے بعد : حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ
عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں
بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتی کہ بعض اوقات حضور صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے
ہو ۔(ترمذی)
(5) حضرت سلیمان بن حرب رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت
حماد بن زید رضی اللہ عنہ نے حدیث پاک بیان کی تو ایک شخص کسی چیز کے بارے میں
کلام کرنے لگ گیا اس پر حماد بن زید رضی اللہ عنہ غضبناک ہوئے اور کہا: اللہ پاک
نے ارشاد فرمایا: ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔
(پ26،الحجرات:2)
(6) ابو جعفر منصور بادشاہ مسجدِ نبوی میں حضرت امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ سے ایک مسئلہ میں گفتگو
کررہا تھا(اس دوران اس کی آواز کچھ بلند ہوئی) تو امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ نے
اس سے فرمایا: اے مسلمانوں کے امیر اس مسجد میں آواز بلند نہ کر، کیونکہ اللہ پاک
نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا: ترجمہ: اپنی آوازیں نبی ( صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم)کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
اریب بن یامین (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ
کنزالایمان کراچی پاکستان)
اسلام کی خوبصورت تعلیمات میں سے ایک خوبصورت تعلیم وہ ادب
کی بارے میں ہے ۔ دینِ اسلام نے جتنا زور ادب پر دیا اتنا کسی دوسرے دین نے نہیں
دیا۔ دین اسلام نے بڑوں، اساتذہ، ماں باپ ، حاکم، قلم ،صفحات، کتاب، پانی وغیرہ
الغرض ہر چیز کے ادب کو بیان کیا۔ تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ دین ہمیں کائنات
کی جان شہنشاؤں کے شہنشاہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ کے
آداب نہ سکھائے۔
دنیا کے شہنشاؤں کا
اصول یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے
دربار کے آداب خود بتانا ہے اور جب وہ چلا جاتا تو اپنی تعظیم و ادب کے نظام کو
بھی ساتھ لے جاتا ہے لیکن کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے جس کی تعظیم اور اس کی
بارگاہ میں ادب کے اصول و قوانین ساری کائنات کو پیدا فرمانے والے اللہ پاک نازل
کئے ہیں۔ وہ عظیم شہنشاہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ گرامی ہے جن
کی تعظیم و توقیر کرنے کا خود اللہ نے حکم دیا اور قراٰنِ مجید میں آپ کی تعظیم
اور ادب کے باقاعدہ اصول اور احکام بیان فرمائے ۔ جن میں سے 5 یہ ہیں:
(1)حضور حب بلائیں فوراً حاضر ہونا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ
وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر
ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔(پ9،الانفال:24)
(2)ایک دوسری کی طرح حضور کونہ پکارنا :
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ترجمۂ
کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) رسول کے پکارنے
کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(پ18،النور:63)
(3) حضور کی بارگاہ میں آواز بلند نہ کرنا : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور
ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو ۔ (پ26،الحجرات:2)
(4) بے ادبی کے شبہے والے کلمات سے اجتناب کرنا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ
اسْمَعُوْاؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ
حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو ۔(پ1،البقرۃ:104)
(5) قول و فعل میں آگے نہ بڑھنا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ (پ26،
الحجرات:1)
الله ہمیں بارگاہِ نبوی کے آداب سیکھنے اور ان پر عمل کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میر احسان الحق خورشیدی (درجہ دورة الحديث جامعۃُ
المدینہ 11-G
مرکز اسلام آباد پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کسی عظیم
ہستی کے پاس جاتا ہے تو اس کے پاس جانے کے کچھ آداب ہوتے ہیں مثلاً اساتذہ ،
والدین بادشاہ وغیرہ کے پاس جانے کے آداب ہیں ۔ ان آداب کو بجا لانا ضروری ہے جس
طرح ان کے پاس جانے کے آداب ہیں اسی طرح حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں حاضری دینے کے بھی آداب ہیں ۔ یوں تو پورا قراٰن ہی ادبِ مصطفی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیان کر رہا ہے لیکن یہاں پر 5 آداب بیان کئے جاتے ہیں:۔
پہلا ادب: نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مقدم نہ ہو ۔
اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ
سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (پ26، الحجرات:1)
یعنی تم پر لازم ہے کہ نہ تم سے اصلاً تقدیم واقع ہو نہ ہی
قول و فعل میں تقدیم واقع ہو ۔ کیونکہ تقدیم واقع ہونا یعنی حضور سرور عالم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے آگے بڑھنا ہے اوریہ بے ادبی ہے اور احترام کے بھی
مخالف ہے۔
دوسرا ادب : بارگاہِ نبوی میں اپنی آوازیں پست رکھو ۔ اللہ پاک نے
ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور
ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں
تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ (پ26،الحجرات:2) اس آیت میں فرمایا گیا کہ جب بھی حضورِ اکرم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری دو تو ان کے حضور عاجزی سے کھڑے رہو اور
آوازیں نہ دو۔
یہ آیتِ مبارکہ ثابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کی
آواز بات کرنے میں بلند ہو جایا کرتی تھی کیونکہ انہیں ثقلِ سماعت ( یعنی بلند آواز
سنتے تھے) جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ گھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے میں اہلِ نار
میں سے ہوں۔ تو نبیٔ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کا حال دریافت
فرمایا۔ تو نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بتایا گیا کہ وہ بیمار بھی
نہیں ہیں لیکن اس آیت مبارکہ کی وجہ سے اپنے آپ کو اہلِ نار سے بتا رہے ہیں تو نبی
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔
تیسرا ادب : حُجروں کے باہر سے نہ پکارو :۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ
الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا
یَعْقِلُوْنَ(۴) ترجَمۂ کنزُالایمان:
بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔ (پ26،الحجرات: 4)آیتِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ نبیٔ پاک صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حُجروں کے باہر سے آوازیں لگاتے ہیں وہ بے عقل ہے۔ اگر
وہ آوازیں نہ لگاتے اور نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے باہر آنے کا
انتظار کرتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا ۔
چوتھا ادب : انْظُرْنَا کہو۔ ربِّ کریم مصطفی کے ادب کی تعلیم ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ
اسْمَعُوْاؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ
حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو ۔(پ1،البقرۃ:104)حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام کو
کچھ تلقین فرماتے تو کبھی کبھی درمیان میں عرض کرتے ، راعنا یا
رسول الله اس کے معنی تھے کہ یا رسول اللہ ہمارے حال کی رعایت
فرمائیے ۔ یہود کی لغت میں یہ کلمہ ، سوءِ ادب کے معنی رکھتا تھا، انہوں نے اس نیت
سے کہنا شروع کردیا حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ
نے ایک روز یہ کلمہ یہودیوں کی زبان سے سن کر فرمایا کہ اے دشمنانِ خدا لغت تم پر
اللہ کی لعنت ، اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا تو اس کی گردن مار دوں گا
۔ یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں جبکہ مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں ،
اس پر آپ رنجیدہ ہو کر سرکار ِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت
ِاقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘ کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم اور ان کی جناب میں
کلماتِ ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمے میں ترکِ ادب کا شائبہ بھی ہو اس کو زبان
پر لانا ممنوع ہے۔
پانچواں ادب : نبیٔ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کو حاکم بنانا: بارگاہِ نبوی کا ادب سکھاتے ہوئے اللہ پاک نے ارشاد
فرمایا: فَلَا وَ رَبِّكَ لَا
یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ترجمۂ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک
اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ۔ (پ 5 ، النسآء:65)اس آیتِ مبارکہ
میں بھی بارگاہِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب بیان ہوا ہے کہ جو
فیصلہ نبیٔ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرما دیں اگر کوئی اس فیصلے کا
انکار کرے تو وہ مسلمان ہی نہیں۔
خاتمہ: اللہ رب العزت کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں بارگاہ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ادب نصیب فرمائے اور بارگاہِ مصطفیٰ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی باادب حاضری نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami