10 ذی الحجہ وہ تاریخی مبارک عظیمُ الشان قربانی کا دن ہے،  جب اُمتِ مسلمہ کے مورثِ اعلیٰ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں عطا ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکمِ الہی کی خاطر قربان کرنے کا ایسا قدم اُٹھایا کہ آج بھی اس منشائے خداوندی کی تعمیل پر چشمِ فلک حیران ہے، جبکہ دوسری طرف فرمانبرداری و جاں نثاری کے پیکر آپ علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے رضامندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی گردن اللہ کریم کے حضور پیش کر کے قربانی کے تصور کو ہمیشہ کے لئے اَمر کرنے کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود "رِضا" بھی ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوگئی۔

ان دونوں کی فرمانبرداری اور قربانی کو اسی وقت ربّ نے شرفِ قبولیت بخشا اور آپ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سلامتی کا پروانہ عطا کرکے آپ علیہ السلام کی جگہ ایک دُنبہ بھیج دیا، جسے ربّ نے ذبحِ عظیم قرار دیا ہے، چنانچہ ارشادِباری ہے:

وَفَدَیْنٰہ ُبِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ ترجمہ کنز الایمان:" اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچالیا۔"(پ30، الصٰفٰت: 107)

قربانی کی تاریخی اہمیت پر یہ آیت دلالت کرتی ہے، ارشادِ ربّانی ہے:

ترجمہ کنز الایمان:" اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر۔"(پ17، الحج: 34)

یہ آیتِ مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو دوام بخشنے پر دلالت کرتی ہے کہ سابقہ تمام اُمتوں پر قربانی فرض تھی، قربانی کے دینی فوائد تو بے شمار ہیں، یہ دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دُنیاوی فوائد سے بھی خالی نہیں، کیوں کہ اسلام کا کوئی بھی فعل یا عمل دینی و دنیاوی فوائد سے خالی نہیں ہے۔

1۔قربانی میں اُخوت اور بھائی چارگی:قربانی ہمیں اُخوت اور بھائی چارگی کا پیغام دیتی ہے، قربانی ایک دوست کو دوسرے دوست سے، ایک رشتہ دار کو دوسرے رشتہ دار سے، ایک امیر کو ایک غریب سے ملانے کا سبب ہے، کیونکہ بعض مصروفیات کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے مل نہیں پاتے۔

2۔فضائی ماحول کو خوشگوار بنانا:قربانی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قربانی کے ذریعے فضائی آلودگی اور پلوشن(pollution) میں کمی واقع ہوتی ہے، اگر قربانی میں جانور ذبح نہ ہوں اور تمام جانور موجود ہوں تو گوبراور لید میں اضافہ ہوگا، جس سے فضائی ماحول بھی متاثر ہوگا اور سانس لینے میں بھی دقّت آئے گی۔

3۔ معیشت کی بحالی: قربانی جہاں قربِ خُدا حاصل کرنے اور بھوکوں کا پیٹ بھرنے کا سبب ہے، وہیں قربانی کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشی بحران سے نکالنے کا ایک سبب بھی ہے، قربانی سے ہزاروں کاروبار میں ترقی ہوتی ہے، قربانی کے جانور کے چمڑے سے ہزاروں چیزیں بنائی جاتی ہیں، جس سے معیشت کو ترقی ملتی ہے، مارکیٹ میں خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے، جو معیشت کی بحالی کا سبب ہوتا ہے۔

4۔غریبوں کا فائدہ: ہمارے معاشرے میں غریب طبقہ بھی موجود ہے، جن کو نہ جانے کب گوشت کھانا نصیب ہوتا ہو، قربانی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قربانی کرنے کے بعد بہت سے خوش نصیب لوگ اپنے رشتے داروں، غریبوں اور مسکینوں کو گوشت پہنچاتے ہیں، جس سے وہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اُن کے گھر میں بھی گوشت پکتا ہے۔

5۔دینی مدارس کا فائدہ:بہت سے خوش نصیب لوگ اپنے قربانی کے جانور کی کھال دعوتِ اسلامی کو دیتے ہیں، جنہیں بیچ کر مدارس و جامعات اور مزید دیگر دعوتِ اسلامی کے شعبوں کے لئے اخراجات اکٹھے کئے جاتے ہیں، یوں دین کا کام بھی چلتا رہتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی کئی فوائد ہیں، اِسلام کا کوئی فعل عبث اور بیکار نہیں ہے، صرف سمجھنے کی ضرورت ہے، اللہ پاک ہم سب کو قربانی کی اہمیت و افادیت سے آگاہ فرمائے اور خوش دلی کے ساتھ قربانی کا شوق و جذبہ عطا فرمائے۔آمین 


ہر بالغ،  مقیم، مسلمان مرد و عورت، مالکِ نصاب پر قربانی واجب ہے۔(عالمگیری، جلد 5، صفحہ 292، ابلق گھوڑے سوار، صفحہ6)

حضور جانِ جاناں صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:"جس شخص میں قربانی کرنے کی و سعت ہو، پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے ۔"(ابنِ ماجہ، جلد 3، صفحہ 529، حدیث3123، ابلق گھوڑے سوار، صفحہ 3)

جو بھی چیز میرے ربّ کریم نے مسلمانوں پر فرض و واجب کی ہے، اُس میں بے شمار دینی و دنیوی فائدے ہیں، جیسے نماز ہی لے لیجئے کہ اس کا ثواب بے شمار اور دُنیاوی فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے جسم کی ورزش ہوتی، سجدے سے سر درد اور کینسر سے نجات وغیرہ وغیرہ، غرضیکہ میرے ربّ کریم کا ہر قول و فعل حکمت بھرا ہے، اِنہی فرائض و واجبات میں سے ایک قربانی کرنا بھی ہے اس کے بے شمار دینی فوائد ہیں، جیسے قربانی کرنے والے کو جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے، اِسی طرح اِس کے دُنیاوی فائدے بھی ہیں، ہم یہاں چند ذکر کئے دیتے ہیں۔

1۔غریبوں کی اِمداد:

کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو پورا سال گوشت کھانے کی طاقت نہیں رکھتے، لیکن قربانی کے دنوں میں بفضل اللہ گوشت ایسے لوگوں تک بھی پہنچتا ہے، اِس طرح قربانی غریبوں کی امداد کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

2۔دینی اداروں کی اِمداد:

قربانی کی کھالیں دینی اداروں کے لئے چندے کا ایک نہایت اَہم ذریعہ ہوتی ہیں، سال میں ایک بہت بڑی رقم قربانی کی کھالوں سے دینی اداروں کو پہنچتی ہے، اِس طرح قربانی دینی اداروں کی امداد کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

3۔ذریعۂ روزگار:

قصاب پورا سال ہی ذبح کرنے کا کام کرتے رہتے ہیں، مگر قربانی کے دنوں میں کام بڑھ جاتا ہے، اِس طرح اِن دنوں میں اُجرت بھی زیادہ ہوتی ہے، ہاں!یہ اُن کے لئے ہے، جو ماہر قصاب ہوں نہ کہ وہ جو صرف اِن دنوں میں قصاب بن جاتے ہیں۔

اِسی طرح جانور فروخت کرنے والوں اور ٹرانسپورٹ والوں کے لئے بھی اِن دنوں میں اُجرت زیادہ ہو جاتی ہے۔

4۔مال میں زیادتی:

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو مال اللہ کریم کی راہ میں دیا جائے، وہ کم نہیں ہوتا، بلکہ اِس میں برکت ہوتی ہے اور وہ بڑھتا ہے اور پاک ہوتا ہے۔

5۔مسلم اِتحاد کا ذریعہ:

یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جو پورا سال نہیں، بلکہ مخصوص دنوں میں ہوتی ہے، اِس طرح اجتماعی قربانیوں میں بھی مسلمان شریک ہوتے ہیں اور یہ ایک مسلم اِتحاد کا ذریعہ ہے، اور جب ایک خاص عبادت مخصوص وقت میں ادا کی جاتی ہے، تو اس سے کافروں پر مسلمانوں کا رُعب بھی بڑھتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ قربانی کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


حدیث مبارکہ:

آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اِرشاد فرمایا:"قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔"(ترمذی، جلد 3، صفحہ 162، حدیث مبارکہ1498)

حدیث مبارکہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کہ بقرعید کی 10 تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا، نیز فرمایا:کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ پاک کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تم خُوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔"( ترمذی شریف)

چنانچہ قربانی کے جانور کا پہلا قطرہ گرتے ہی قربانی کرنے والے کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

قربانی پر مال خرچ کرنا افضل ہے:

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:"عید کے دن قربانی کا جانور خریدنے کے لئے پیسے خرچ کرنا، اللہ پاک کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔"(طبرانی)

حدیث مبارکہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اُس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں۔"(المعجم الکبیر)

حدیثِ مبارکہ:

فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم: "قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل خون بہانے سے زیادہ افضل نہیں، مگر جب کہ وہ عمل صلہ رحمی کرنا ہو۔"(المعجم الکبیر، حدیث نمبر 10948، ج11، ص 27)


مخصوص جانور کو مخصوص وقت میں اللہ پاک کا قُرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں،  قربانی قدیم عبادت ہے، تمام امتوں میں ہمیشہ سے رائج رہی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:"اور ہر اُمت کے لئے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی، تاکہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا۔"

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، یہ اس اُمت کے لئے بھی باقی رکھی گئی ہے، قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کرنے کا حکم دیا ہے، حکمِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے جہاں اُخروی فوائد ہیں، وہاں دنیا میں بھی اس کے بہت سے فوائد ہیں:

1۔مویشی منڈیوں میں بھیجنے کے لئے بہت سے لوگ اپنے گھروں، باڑوں یا کیٹل فارم میں جانور پالتے ہیں، جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے کثیر افراد کو ملازم رکھا جاتا ہے، جن کا روزگار قربانی کی سُنت کی برکت سے چلتا ہے۔

2۔جانوروں کو مویشی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے مختلف گاڑیاں، کنٹینرز کرائے پر لئے جاتے ہیں، جن سے ہزاروں افراد روزی کماتے ہیں، جانور لے جانے والی گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پھر مویشی منڈی میں بھی جگہ کے حساب سے کرایہ دیا جاتا ہے، جس سے ملکی خزانے کو فائدہ ہوتا ہے۔

3۔قربانی کی کھالوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں اور انہیں دوسرے ملکوں میں برآمد بھی کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرِّمبادلہ حاصل ہوتا ہے الغرض جانور کے پیدا ہونے سے لے کر قربان ہونے تک قربانی کی سُنت کی برکت سے لاکھوں لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملکی معیشت کو بھی بے پناہ فائدہ ہوتا ہے۔

4۔قربانی کرنے کے بعد کئی خوش نصیب لوگ اپنے رشتے داروں، دوستوں اور غریبوں، مسکینوں کو بھی گوشت پہنچاتے ہیں، جس کی بدولت ان کے گھر میں بھی گوشت پکتا ہے۔

5۔خوش نصیب مسلمان اپنی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو نیز عاشقانِ رسول کے دیگر مدارس و جامعات کو دیتے ہیں، جنہیں بیچ کر کئی مہینے کے اخراجات جمع ہو جاتے ہیں، یوں قربانی کی سُنت پر عمل کرنا علمِ دین کی اشاعت میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔


قربانی کرنا عبادت ہے،  اللہ پاک نے سورہ ٔکوثر کی آیت نمبر 2میں ارشاد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔

ترجمہ کنزالایمان:"تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

لہٰذا ہر صاحبِ نصاب، بالغ شخص پر قربانی کرنا واجب ہے، آخرت میں ثواب کے فائدے کے ساتھ اس کے دنیوی فائدے ہیں، جن میں سے پانچ ملاحظہ ہوں:

1۔راہِ خدا میں پیاری چیز خرچ کرنے کی فضیلت حاصل ہوتی ہے، سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر 92 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان:"تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے، جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔" لہذا جب کوئی سارا سال جانور پال کر یا منڈی میں سب سے اچھا جانور خریدے گا، پھر اسے قربان کرے گا تو اسے اس آیت میں بیان کردہ فضیلت حاصل ہو گی۔

2۔غربت میں کمی آتی ہے، ایک علاقہ میں جب قربانیاں ہوتی ہیں تو اس جانور کے گوشت کے حصّے بنا کر پڑوسیوں میں بھیجے جاتے ہیں تو اس طرح ایک غریب کے گھر میں کافی گھروں سے گوشت آتا ہے، اس طرح غربت میں کمی آتی ہے۔

3۔محبت بڑھتی ہے، حدیث پاک میں ہے: تَہَادَّوْا تَحَابُّوْا یعنی ایک دوسرے کو تحفہ دو، آپس میں محبت بڑھے گی۔"(اراکین شورٰی کی مدنی بہاریں، صفحہ 11)

جب قربانی کے گوشت کو تقسیم کیا جاتا ہے، پڑوسیوں کو تحفۃً بھیجا جاتا ہے تو اس سے معاشرے میں محبت کا بول بالا ہوتا ہے۔

4۔مال کی محبت میں کمی آتی ہے، قربانی کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مال کی محبت کم ہوتی ہے، سخاوت کرنے کی عادت بھی بنتی ہے۔

5۔رشتے داروں پر خرچ کرنے کا موقع ملتا ہے، اللہ پاک قرآن پاک میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 177 میں فرماتا ہے: وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى ۔

ترجمۂ کنزالایمان:"اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتے داروں کو۔"

اس آیت کی تفسیر کے تحت صراط الجنان میں لکھا ہے:حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو ثواب ہیں، ایک صدقہ کرنے کا اور ایک صلہ رحمی کرنے کا۔


اللہ کریم کے ہر ہر حکم میں صَدْہا حکمتیں پوشیدہ ہیں،  قربانی بھی اللہ کریم کا عائد کردہ ایک حکم ہے، جو مخصوص شرائط کے ساتھ واجب ہوتی ہے، قربانی کرنے کے جہاں بے شمار دینی فائدےہیں، وہاں کئی دنیاوی فائدے بھی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) قربانی وہ عظیم فریضہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو حُصُولِ رزق کے مواقع فراہم کرتی ہے، معاشرے میں بسنے والے کئی افراد ایسے ہیں، جن کا روزگار بالخصوص قربانی کے ایّام میں زیادہ چلتا ہے، جیسے جانور فروخت کرنے والے، قصّاب، چمڑے کا کاروبار کرنے والے، وغیرہ

(2) وہ غریب لوگ جو شاید سارا سال گوشت جیسی نعمت سے محروم رہتے ہوں، قربانی کی برکت سے انہیں بھی یہ نعمت میسر آجاتی ہے۔

(3) قربانی کے گوشت کے تین حصّے کرنا مستحب ہے، ایک حصّہ رشتہ داروں کے لئے، ایک غریبوں مسکینوں اور ایک حصّہ اپنے لئے، اس پر عمل کرنے کی برکت سے آپس میں پیار مَحبت، اتفاق، باہمی ہمدردی، صلہ رحمی جیسے جذبات کو فروغ ملتا ہے، جو کامیاب ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینے میں نہایت اہمیت کا حَامِل ہے۔

( (4قربانی کرنے والا جب اپنے مال سے کی ہوئی قربانی کے گوشت کو غریبوں، رشتےداروں وغیرہ میں تقسیم کرتا ہے، تو اس سے بُخل، حِرص، ایک دوسرے کا حق مارنے وغیرہ جیسی عادتیں ختم ہوتیں اور ایثارو خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس سے معاشرے میں بھی اَمْن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے، گویا قربانی نفس کو قربان کرنے کا بھی درس دیتی ہے۔

(5) قربانی کے جانور کی کھالیں کئی دینی و فلاحی اِداروں کے مالی اخراجات پورے کرنے کے کام آتی ہیں، جس سے ان اِداروں کو ترقی میں مدد ملتی ہے۔

نیت کر لیجئے کہ اپنے قربانی کے جانور کی کھال عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کو دیں گے۔ان شاءاللہ کریم


مخصوص جانور کو مخصوص وقت میں اللہ پاک کا قُرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرنا قربانی ہے،  قربانی صاحبِ وُسعت پر شریعت کی طرف سے مقرر کردہ ہے ایک عبادت ہے اور قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اور ہمارے پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی سُنتِ مبارکہ ہے۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:"جس نے خوش دلی کے ساتھ طالبِ ثواب ہوکر قربانی کی، تو وہ آتشِ جہنم سے حجاب(روک) ہو جائے گی۔"

قربانی کرنے کے بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد ہیں، دینی فوائد تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں، آئیے آج اس کے کُچھ دنیاوی فوائد پر نظر ڈالتے ہیں:

1۔قربانی کا جانور مویشی منڈی لانے اور وہاں سے گھر لانے وغیرہ میں گاڑیوں اور کنٹینروں کا استعمال کیا جاتا ہے، تو قربانی کی سُنت کے سبب گاڑیوں والوں کا روزگار چلتا ہے۔

2۔قربانی کے دنوں میں چارے وغیرہ کے اسٹال لگائے جاتے ہیں، اس سے ان کا روزگار بھی چلتا رہتا ہے۔

3۔قربانی کے دن آنے پر ہزاروں قصاب جانور ذبح کرنے اور قیمہ بنانے وغیرہ کا کام کرتے ہیں، اس سے ان کاروزگار چلتا ہے۔

4۔قربانی کی کھالوں سے بہت سی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔

5۔قربانی کی کھالوں سے جو چیزیں بنائی جاتی ہیں، انہیں دوسرے ملکوں میں برآمد کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے۔

6۔بہت سے لوگ قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کے مدارس وغیرہ کو دیتے ہیں، جسے بیچ کر ان مدارس وغیرہ کے کئیں ماہ کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔

7۔پھر مسلمان اپنی قربانی کا گوشت اپنے دوستوں، رشتہ داروں، غریبوں کو دیتے ہیں، اس طرح غریب لوگ بھی گوشت کھا لیتے ہیں۔

اے عاشقانِ رسول!ابھی اپنے قربانی کے دنیاوی فوائد پڑھے، اگر یہ فوائد ہمیں نہ بھی معلوم ہوں تب بھی اللہ اور اس کے رسول کریم و صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرنی چاہئے۔

اللہ پاک ہمیں خوش دلی کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


مخصوص جانور کو مخصوص وقت میں اللہ پاک کا قُرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں،  اس سُنتِ ابراہیمی کو خُوشدلی کے ساتھ بجالانے پر اُخروی فوائد کے ساتھ ساتھ دنیاوی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں، جن میں سے صرف 5 درج ذیل ہیں:

1۔روزگار کے مواقع:

قربانی کے ساتھ لاکھوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے، جانور پالنے والے، ان کی دیکھ بھال کرنے والے، چارہ بیچنے والے، ویٹرنری ڈاکٹرز سب اس کی برکت سے اپنا روزگار کماتے ہیں، پھر دُور دراز سے جانور منڈیوں میں لائے جاتے ہیں، یوں گاڑی والوں کے بھی گھر کا چولہا چلتا ہے، اسی طرح منڈی میں بھی کھانے پینے اور چائے وغیرہ کے سٹالز لگانے والے بھی اپنی روزی کماتے ہیں، قربانی کے دن ہزاروں قصاب جانور ذبح کرنے اور گوشت قیمہ بنانے کا کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، یوں جانور کے پیدا ہونے سے لے کر قربان ہونے تک مختلف لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

2۔ملکی معیشت کو فائدہ:

قربانی کے جانوروں کو منتقل کرنے والے ٹرک ٹول پلازہ سے گزرتے ہوئے ٹول ٹیکس ادا کرتے ہیں، پھر منڈی میں جگہ کے حساب سے کرایہ دیا جاتا ہے، یوں مُلکی خزانے کو فائدہ پہنچتا ہے، اس کے علاوہ کھالوں سے مختلف چیزیں بنا کر بیرون ملک برآمد کی جاتی ہیں، جس سے ملک کو قیمتی زرِّمبادلہ حاصل ہوتا ہے، یوں ملکی معیشت کو زبردست فائدہ پہنچتا ہے۔

3۔غریبوں کا فائدہ:

خوش نصیب مسلمان اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو بھی ثواب کی نیت سے گوشت پہنچاتے ہیں، یوں ان غریبوں کو بھی گوشت کھانا نصیب ہو جاتا ہے، جو سارا سال دال روٹی پر گزارا کرتے ہیں۔ 4۔دینی مدارس:

کئی مسلمان اپنی قربانی کی کھالیں دین کا کام کرنے والی تنظیموں، جامعات، مدارس کو پہنچاتے ہیں، ان کو بیچ کر ان اداروں کا بھی خرچ چلتا ہے اور دینے والا بھی ثواب کا حق دار بن جاتا ہے۔

5۔باہمی محبت کو فروغ:

سعادت مند مسلمان شریعت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے گوشت کا ایک حصّہ اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو بھی پہنچاتے ہیں، یوں آپس کی شکر رنجیاں ختم ہوتیں اور باہمی محبت و بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔

یہ تو چند دنیوی فائدے ذکر کئے گئے ہیں اور اس میں آزاد ذہنیت والے لوگوں کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے، یہ پیسے کسی غریب کو دے دیئے جاتے، یوں اس غریب کی تو مدد ہو جاتی ہے، لیکن باقی فوائد سے محرومی بھی برداشت کرنی پڑتی۔

لیکن ہم نے قربانی اِن فوائد کو حاصل کرنے کی نیت سے نہیں، بلکہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رِضا حاصل کرنے کے لئے کرنی ہے، روایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ (قربانی کے جانور میں) ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔(ابنِ ماجہ جلد 3،531، حدیث3127 مخلصاً)

اللہ کریم ہم سب کو خوش دلی کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

(مزید معلومات کے لئے"ابلق گھوڑے سوار "پڑھئے)

اپنی قربانی کی کھال دعوت اسلامی کو دیجئے۔


قربانی کیا ہے؟

مخصوص ایّام میں مخصوص جانوروں کو بہ نیت تقرّب(ثواب کی نیت سے) ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔(بہارِشریعت)

عید الاضحی کے دن قربانی کرنے سے زیادہ کوئی عمل اللہ کو محبوب نہیں اور جو رقم قربانی میں خرچ کی گئی، اس سے زیادہ کوئی دوسری رقم اللہ کو پیاری نہیں۔

اپنی پسندیدہ چیز کو خُوشدلی کے ساتھ راہِ خدا میں قربان کرنے کا حکم دیا گیا:

قربانی کرنے کے فوائد:

1۔قربانی کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، حکمِ الٰہی پر سر تسلیمِ خم کرنا ہے اور سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی بھی مقصود ہے، جو اِسلام کا بنیادی معنیٰ و مطلوب ہے۔

2۔خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا پایا جاتا ہے، اِرشادِ باری ہے:تو ان (کے گوشت)سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔"(پارہ 17، سورۃ الحج، آیت36) قربانی کے ذریعے ان لوگوں کو بھی گوشت جیسی عمدہ غذا میسر آتی ہے، جو عموماً اِسے نہیں خرید سکتے، قربانی کے جانور کی کھال سے ہزاروں چیزیں بنائی جاتی ہیں، جس سے معیشت کو تقویت ملتی ہے، مارکیٹ میں خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔

4۔قربانی ہمیں بھائی چارگی اور اُخوت کا پیغام دیتی ہے، قربانی ایک دوست کو دوسرے دوست، ایک رشتہ دار کو دوسرے رشتہ دار سے، امیر کو غریب سے ملانے کا سبب ہے۔

5۔قربانی ہمیں اپنا مال، وقت، صلاحیتیں اور اپنی من پسند چیز کو اللہ کی خاطر قربان کر دینے کا درس دیتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں عیدِ قرباں کے علاوہ بھی اخلاص کے ساتھ ساتھ سخاوت و ایثار کرتے ہوئے غرباء کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


گوشت      جنّتیوں کا سب سے اعلی کھانا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ دنیا اور آخرت والوں کے کھانوں کا سردار ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا: سَیِّدُ الْاِدَامِ اللَّحْمُ یعنی گوشت کھانوں کاسردار ہے۔‘‘(المعجم اوسط،۳۲۲/۵،الحديث:۷۴۷۷) امام شافعی فرماتے ہیں : گوشت کھانا عقل کو بڑھاتا ہے۔ابو الشیخ بن حیان فرماتے ہیں میں نے علماءکرام سے سنا وہ فرماتے ہیں : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پسندیدہ ترین کھاناگوشت تھا ۔ (المواھب اللدنیہ ج ۲ ص ۱۷۲ )آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بکری، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، گورخر(جنگلی گدھا)،خرگوش، مرغ، بٹیر، مچھلی کا گوشت کھایا ہے۔(سیرت رسول عربی۵۸۶) لیکن ان میں سب سے زیادہ بکری کی دَستی کا گوشت پسند تھا۔

· بکری حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تے ہیں: پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں (بکری) کا بازو پیش کیا گیا اور آپ کو یہ پسند بھی تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےاسےتناول فرمایا۔(احیاء العلوم، 5/712)

· مرغ حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مرغ کھاتے دیکھا (مسلم،بخاری)( مراٰۃ ج۵ ص ۱۰۰۵)

· بٹیر حضرت سفینہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا (ابوداؤد) (مراٰۃ ۵ج ۱۰۱۷ ص)

· اونٹ آپ نے سفر میں بھی اور گھر میں بھی اونٹ کاگوشت تناول فرمایا۔

· مچھلی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہتے ہیں کہ میں جیش الخبط میں گیا تھا اور امیر لشکر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بہت سخت بھوک لگی تھی دریا نے مری ہوئی ایک مچھلی پھینکی کہ ویسی مچھلی ہم نے نہیں دیکھی اس کا نام عنبر ہے ہم نے آدھے مہینے تک اسے کھایا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ہڈی کھڑی کی بعض روایت میں ہے پسلی کی ہڈی تھی اس کی کجی اتنی تھی کہ اس کے نیچے سے اونٹ مع سوار گزر گیا جب ہم واپس آئے تو حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ذکر کیافرمایا :''کھاؤ اللہ نے تمہارے لیے رزق بھیجا ہے اور تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ'' ہم نے اس میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تناول فرمایا۔ (صحیح البخاري''،کتاب المغازی،باب غزوۃ سِیْفِ البحر...إلخ،الحدیث: ۴۳۶۰و۴۳۶۲، ج۳، ص۱۲۷ ،۱۲۸)

· گورخرآپ نے وحشی گدھے کا گوشت بھی تناول فرمایا۔حضرت ابوقتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وحشی گدھے کو دیکھا تو اسے ہلاک کردیا تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا اس کا کچھ گوشت تمہارے پاس ہے،عرض کیا ہمارے پاس اس کا پاؤں ہے حضور نے قبول فرمایا اور کھایا۔(مسلم،بخاری)

· وحشی گدھا یعنی نیل گائے حلال ہے گھوڑے کی طرح ہوتا ہے جنگلوں میں پایاجاتاہے۔ (مراٰۃج۵ص۱۰۰۱)

· خرگوش حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم نےمَرّالظَہران پر ایک خرگوش کو بھگایا اور میں اسے پکڑ کر ابو طلحہ کے پاس آیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی سرین اور دونوں رانیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجیں جو آپ نےقبول کر لیں۔ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہ) ( مراٰۃ ج ۵ ص ۱۰۰۲)


گوشت کھانا آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پسندیدہ اور عظیم سنت مبارکہ ہے ۔اور کوئی سنت خالی از حکمت نہیں ۔گوشت کی اس سے بڑی اور فضیلت اور کیا ہو گی کہ آقاؤں کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے میں سب سے زیادہ محبوب گوشت تھا اور آپ نے خود اس کے فضائل کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حدیث مبارک میں ہے کہ:

"گوشت سننے کی قوت بڑھاتا ہے،اور یہ دنیا اور آخرت میں کھانوں کا سردار ہے،اوراگر میں اپنے رب سے سوال کرتا کہ وہ مجھے ہر روز گوشت کھلائے تو وہ ضرور ایسا کرتا۔ )احیاء علوم ج:2/ص1293(

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ، بکری،دنبہ ، بھیڑ ، مرغ ، بٹیر ، مچھلی ، خرگوش، اور گائے کا گوشت تناول فرمانا ثابت ہے لیکن آپ کو سب سے زیادہ بکری کی دستی کا گوشت محبوب تھا۔( ترمذی شمائل محمدیہ ، ص102 تا 112)

آئیے اب چند احادیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں جن میں ان جانوروں کے گوشت کا تذکرہ ہےجنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا ہے:

· بکری:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:۔ آقا کریم کی خدمت اقدس میں کہیں سے (بکری کا) گوشت آیا اس میں سے دست کا گوشت آپکی خدمت میں پیش کیا گیا کیونکہ یہ آپ کو پسند بھی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔( مرآۃالمناجی/ج:6/حدیث:4214)

· مرغی:حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرغی کا گوشت تناول فرما رہے تھے۔(بخاری شریف/مسلم شریف ج:3/)

· مچھلی:حضرت عبداللّٰہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث پاک میں ایک مچھلی کا تذکرہ ہے جس کی لمبائی تقریباً پہاڑ کے برابر تھی ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کاایک مہم پر اس کو کھانا اور مہم سے واپسی پراسکا کچھ گوشت ساتھ لے کر جانا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااس کے گوشت کو طلب کرنا اور پھر تناول فرمانا ثابت ہے ۔( مسلم شریف/17/حدیث 1935)

· خرگوش :حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:۔ ایک مرتبہ میں اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک خرگوش کے پیچھے دوڑے آخرکار میں نے اس کو پکڑ لیا پھر اسے ذبح کیا گیا اور آقا کریم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اسے قبول فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ تناول فرمایا۔ ( صحیح بخاری/ ترمذی ص102 تا 112)

· بٹیر :حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا۔ (ترمذی شمائل محمدیہ/ ص 112)

· گائے :صحیح مسلم شریف اور بخاری شریف دونوں میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے کو دیکھا اور اسکا شکار کیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو انہوں نے اسکے پاۓ آپکی خدمت میں پیش کئے جو آپ نے تناول فرمائے۔

ایک روایت میں ہے کہ جو 40دن تک مسلسل گوشت کھائے اسکا دل سخت ہو جاتا ہےاور جو 40دن تک گوشت نہ کھائے اسکے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔(دین ودنیا کی انوکھی باتیں/ج:1/ص419)

تو سنت کی نیت سے گوشت ضرور کھائیےمگر صحت کا خیال رکھتے ہوئے اعتدال رکھیے۔


1. نیل گائے (وحشی گدھا)2. خرگوش3.مرغ4.ٹڈی5.بٹیر 6..بکر ی

1. نیل گائے (وحشی گدھا)

روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہ سے کہ انہوں نے وحشی گدھے کو دیکھا تو اسے ہلاک کر دیا. تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کیا اس کا کچھ گو شت تمہارے پاس ہے عرض کیا ہمارے پاس اس کا پاؤں ہے حضور نے قبول فرمایا اور کھایا..( مراۃ المناجیح جلد 5 صفحہ نمبر 645..حدیث 3929)

2. بٹیر

روایت ہے کہ حضرت سفینہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بٹیر کا گوشت کھایا(مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 654،حدیث نمبر 3945(

3مرغ

حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مرغ کھاتے دیکھا. (مراۃ المناجیح،جلد 5 صفحہ نمبر 647 حدیث نمبر 3933)

4. ٹڈی

حضرت ابن اوفی سے روایت ہے فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ سات (7)غزوات میں گئے ہم حضور کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔( مراۃ المناجیح ،جلد 5،صفحہ 647، حدیث نمبر 3934)

5خرگوش

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جگہ جا رہے تھے، ہم نے مرا لظہران کے مقام پر ایک خرگوش کا پیچھا کیا، لوگ تھک گئے، پھر میں دوڑا حتی کہ میں نے اس کو پکڑ لیا اور حضرت ابو طلحہ کے پاس لایا انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کی سرین اور دو رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجیں، میں ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو قبول کر لیا۔( شرح صحیح مسلم، جلد 6 صفحہ 115، حدیث نمبر 4933)

6.بکری

حضرت ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی ِکریم صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہنڈیا پکائی. آپ کو ران کا گوشت پسند تھا میں نے ران کا گوشت آپ کے آگے کیا. آپ نے فرمایا کہ ایک اور ران آگے کرو میں نے آپ کے آگے کر دی. آپ نے فرمایا :ایک اور ران آگے کرو! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! بکری میں کتنی رانیں ہو تی ہے؟ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر تم خاموش رہتے تو میری طرف ایک کے بعد ایک ران بڑھاتے رہتے جب تک میں کہتا رہتا۔ (شمایل ترمذی (انتخاب حدیث، جہانگیر ی) صفحہ115 حدیث 161)