ثمود بھی عرب کا ہی ایک قبیلہ تھا،  یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمین حجر میں رہتے تھے، قومِ ثمود قومِ عاد کے بعد ہوئی اور حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ہیں۔(روح البیان، اعراف،تحت الآیۃ73، 30/189۔190)

جب اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم ثمود کی طرف بھیجا، تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم!اللہ کو پوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔"(پ 12، ہود، 61)

حضرت صالح علیہ الصلوۃ و السلام نے قومِ ثمود کو اللہ پاک کی نعمتیں یاد دلاکر بھی سمجھایا، فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان:" اور یاد کرو جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو تواللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فسادمچاتےنہ پھرو ۔"(پ8، اعراف: 74)

اللہ پاک نےقومِ ثمود کو بہت سی نعمتیں عطا فرمائی تھیں، لیکن قومِ ثمود کی عمریں تین سو برس سے ایک ہزار سال تک ہوتیں، لیکن انہوں نے اس لمبی عمر سے لمبے گناہ کئے اور ربّ پاکٰ کی نافرمانی کی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی۔

ان کی قوم کے لوگ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے سمجھانے پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تحقیر کرنے لگے اور کہنے لگے:

ترجمہ کنزالایمان:"اے صالح!اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے، کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بے شک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو، ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں۔"(پ 12، ہود، 62)

قومِ ثمود کے سردار جندہ بن عمرو نے حضرت صالح علیہ السلام سے عرض کی"اگر آپ سچے نبی ہیں، تو پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات کی اُونٹنی ظاہر کریں، اگر ہم نے یہ معجزہ دیکھ لیا تو آپ پر ایمان لے آئیں گے، حضرت صالح نے اپنے ربّ سے دعا کی، سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور اسی شکل و صورت کی پوری جوان اُونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر بچہ جنا، یہ معجزہ دیکھ کر جندہ تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا، جبکہ لوگ کفر پر قائم رہے۔

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے متکبرسردار کمزور مسلمانوں سے کہنے لگے:کیا تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ حضرت صالح علیہ السلام اپنے ربّ کے رسول ہیں؟انہوں نے کہا:بے شک ہمارا ایساہی عقیدہ ہے، ہم انہیں اور ان کی تعلیمات کو حق سمجھتے ہیں، سرداروں نے کہا :جس پر تم ایمان رکھتے ہو، ہم تو ان کا انکار کرتے ہیں۔

حضرت صالح علیہ السلام نے اس معجزے والی اُونٹنی کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم اس اونٹنی کو تنگ نہ کرنا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، تاکہ اللہ کی زمین پر کھائے اور اسے بُرائی کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا، نہ مارنا، نہ ہنکانا اور نہ قتل کرنا، اگر تم نے ایسا کیا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہیں عذاب پکڑ لے گا۔

انہوں نے اُونٹنی کی کونچیں کاٹیں، اسے ذبح کر دیا اور سرکشی کرتے ہوئے کہنے لگے:

"اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ، جس کی تم وعیدیں سناتے رہتے۔"(تفسیر صراط الجنان، سورہ اعراف، آیت72 تا76)

الغرض انہوں نے اپنے نبی کی بات نہ مانی اور ان کی نافرمانی کی اور رسول کی نافرمانی، ربّ کی نافرمانی ہی ہوتی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور ان کی سُنتیں اپنائیں۔اللہ توفیق عطا فرمائے۔آمین


ثمود عَرب کے ایک قبیلے کا نام ہے،  اس قوم کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا، حضرت صالح علیہ السلام کی تبلیغِ دین کو سُن کر ایک گروہ جو غریبوں پر مشتمل تھا، وہ تو آپ پر ایمان لے آیا، جبکہ دوسرا گروہ جو قوم کے سرداروں پر مشتمل تھا، وہ اپنے کُفر و شرک اور نافرمانی اور سرکشی پر ڈَٹا رہا۔

قومِ ثمود کو اللہ پاک نے بے شمار نعمتوں اور حیرت انگیز تعمیراتی صلاحیتوں سے نوازا تھا، لیکن اتنی نعمتوں کے باوجود اس قوم نے سرکشی اور نافرمانی کو اپنا شعار بنائے رکھا، قومِ ثمود کی جن نافرمانیوں کا ذِکر قرآن پاک میں ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

(1) حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار۔(پ8، الاعراف، 75، 76)

(2) حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب اور عذاب کا مطالبہ۔(پ19، الشعراء، 141،142)

(3)نصیحتوں پر عمل کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ اور معجزے کا مطالبہ۔

قوم نے حضرت صالح علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں، تو اس چٹان سے ایک ایسی اُونٹنی نکالئے، جو حاملہ ہو اور ہرقسم کے عُیوب سے پاک ہو اور نکلتے ہیں بچہ بھی جنے، اللہ پاک نے ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا، لیکن سرکش لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے۔(پ19، الشعراء، 153، 154)

(4 )معجزے کی اونٹنی کا قتل:

حضرت صالح علیہ السلام کے منع فرمانے اور عذابِ الٰہی سے ڈرانے کے باوجود قوم کے کچھ لوگوں نے اُونٹنی کی ٹانگوں کی رَگیں کاٹ کر اسے قتل کر دیا۔(پ8، الاعراف:77، پ27، القمر:29)

(5) حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش :

شہر کے نو فسادی لوگوں نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی، لیکن یہ سب لوگ عذابِ الٰہی کے پتھروں کے ذریعے ہلاک کر دیئے گئے۔(پ19، النمل، 48۔51)

قوم کے بقیہ نافرمانوں پر جو عذاب آیا، اس کا ذکر قرآن پاک میں یوں کیا گیا ہے:

ترجمہ کنز الایمان:توانہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔"(پ8، الاعراف:78)

ترجمہ کنز الایمان:" بےشک ہم نے اُن پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف۴۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی ۔"(پ27، القمر:31)


حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کو قومِ ثمود کہتے ہیں،  قوم ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا، اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے قومِ ثمود کی طرف ان کے نسبی بھائی کو بھیجا، جس کا نام صالح تھا۔

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم! تم اللہ کو مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، جبکہ تمہارے یہ بت عبادت کے لائق نہیں تو اللہ پاک سے معافی مانگو اور شرک سے کنارہ کشی کر کے اسی کی طرف رجوع کرو، بیشک میرا ربّ ایمان والوں کے قریب ہے اور ان کی سننے والا ہے۔"

جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پیغامِ توحید پیش کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اے صالح!اس تبلیغ سے پہلے تم ہمارے درمیان ایسے تھے کہ ہمیں تم سے بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں اور ہم اُمید کرتے تھے کہ تم ہمارے سربراہ بنو گے، لیکن جب تم نے توحید کی دعوت دی اور بتوں کی برائیاں کیں، تو قوم کی اُمیدیں تم سے ختم ہوگئیں، پھر قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا، آپ نے اللہ پاک سے دعا کی تو پتھروں سے بحکمِ الٰہی اُونٹنی پیدا ہوگئی، یہ اُونٹنی ان کے لئے حضرت صالح علیہ السلام کی صداقت پر روشنی اور حضرت صالح علیہ السلام کا معجزہ تھی، اس آیت میں اس اونٹنی کے متعلق احکام ارشاد ہوا، فرمایا:"اسے زمین میں چرنے دو اور کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ دنیا ہی میں گرفتار ہو جاؤ گے۔"

قومِ ثمود نے اللہ پاک کے حکم کی مخالفت کی اور بدھ کے دن انہوں نے اس اونٹنی کی ایڑیوں کی اور ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں، اس کے بعد حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا:"اپنے گھروں میں تین دن یعنی جمعہ تک عیش کر لو، ہفتہ کے دن تم پر عذاب آ جائے گا اور اس کی علامت یہ ہوگی کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے اور دوسرے دن سُرخ اور تیسرے دن سیاہ ہوجائیں گے، پھرہفتے کے دن عذاب نازل ہوجائے گا ، یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے صالح اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بچالیا، بیشک تمہارا ربّ بڑی قوت و غلبہ والا ہے اور پھر ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے، گویا وہ کبھی یہاں رہتے ہی نہیں تھے۔

" سن لو بیشک ثمود نے اپنے ربّ کا انکار کیا، خبردار! لعنت ہو ثمود پر۔

قوم ثمود کی نافرمانیاں

   جب اللہ پاکٰ نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا :اے میری قوم! تم اللہ پاکٰ کوایک مانو، اس  کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراؤ اور صرف اسی کی عبادت کرو کیونکہ اللہ  پاکٰ کے سوا کوئی اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ عبادت کا مستحق ہو، اللہ  پاکٰ ہی تمہارا معبود ہے۔ حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے قوم ثمود کو اللہ پاکٰ کی نعمتیں یاد دلا کر بھی سمجھایا کہ: اے قوم ثمود!   تم اس وقت کویاد کرو، جب اللہ پاک  نے تمہیں قومِ عاد کے بعد ان کا جانشین بنایا، قومِ عاد کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر کے تمہیں ان کی جگہ بسایا،  اللہ  پاکٰ نے تمہیں زمین میں رہنے کو جگہ عطا کی، تمہارا حال یہ ہے کہ تم گرمی کے موسم  میں آرام کرنے کیلئے ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور سردی کے موسم میں سردی سے بچنے کیلئے پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو۔ تم  اللہ پاکٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں کفر ا ور گناہ کرنے سے بچو کہ گناہ، سرکشی اور کفرکی وجہ سے زمین میں فساد پھیلتا ہے اور ربِّ قہار پاک کے عذاب آتے ہیں۔قومِ ثمود کے سردار جندع  بن عمرو نے حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے عرض کی: ’’ اگر آپ سچے نبی ہیں تو پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات کی اونٹنی ظاہر کریں ، اگر ہم نے یہ معجزہ دیکھ لیا تو آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ایمان کا وعدہ لے کر رب پاک سے دعا کی ۔ سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور اسی شکل و صورت کی پوری جوان اونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر بچہ جنا۔ یہ معجزہ دیکھ کر جندع تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا جبکہ باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم کے متکبر سردار کمزور مسلمانوں سے کہنے لگے: کیا تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام اپنے رب کے رسول ہیں ؟ انہوں نے کہا: بیشک ہمارا یہی  عقیدہ ہے، (صراطُ الجنان فی تفسیرِ القرآن)


 ثمود کس نبی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قوم کا نام ہے، اللہ پاک نے اِس قوم کی طرف اپنے جلیلُ القدر نبی حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا۔مدینۂ منورہ سے کم و بیش چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر یہ علاقہ موجود ہے، جسے اب مدائن صالح کہا جاتا ہے، جبکہ اس علاقے کا اصل نام حجر ہے۔

قرآن کریم میں ذکر ہے:ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین۔ "اور حجر والوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔"(پ14، حجر:80)

اس قوم کو ثمود کہنے کی وجہ:

ثمود نامی ایک بڑا آدمی تھا، اس کی نسل اس علاقے میں آ کر آباد ہو گئی تو اس نسل کو قومِ ثمود کہا جانے لگا اور قرآن کریم میں بھی قومِ ثمود سے ہی ذکر کیا گیا ہے، بعض مفسرین نے کہا کہ اس قوم کو عادِ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔

قومِ ثمود کا تعارف:

قومِ ثمود عرب میں آباد تھی، یہ لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے اور ان کے پاس حیران کُن ہنر پہاڑوں کو تراشنا تھا، یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر اِس میں مکان بنا ڈالتے تھے، کہتے ہیں کہ اِن کے ہاتھوں میں پتھر موم کر دیا گیا تھا، ان کے مکانات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم زیادہ قدآور نہ تھی، بہت خوشحال اور طاقتور تھی اور اسی گھمنڈ نے ان کو مغرور اور ظالم بنا دیا تھا، یہ قوم بت پرست اور مُشرک تھی۔

قومِ ثمود کی نافرمانیاں:

1۔ایمان کی دعوت قبول نہ کی:

حضرت صالح علیہ السلام نے اِس قوم کو اللہ پاک کے فرمان سُنا کر ایمان کی دعوت دی، تو اس سرکش قوم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا، بلکہ آپ سے معجزہ طلب کیا۔

معجزہ:

کہ آپ علیہ السلام اس چٹان میں سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور نقص سے پاک ہو، آپ علیہ السلام نے اشارہ کیا، تو ایک اُونٹنی نکل پڑی اور نکل کر اس نے بچہ بھی جنا۔ 2۔آپ علیہ السلام کی بات مان کر پھر گئے:

آپ علیہ السلام نے فرمایا:" کہ یہ معجزہ کی اُونٹنی ہے، ایک روز یہ سارے تالاب کا پانی پی جائے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم یہ بات مان گئی، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے تقریر فرمائی: "اے میری قوم!اللہ کو پُوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی ہے، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بُرائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔"(اعراف"73)

چنددن قومِ ثمود نے برداشت کیا کہ ایک دن اِن کو پانی ملتا تھا، پھر وہ اپنی بات سے پھر ے اور اپنے نبی کی نافرمانی کرتے ہوئے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

3۔آپ کے منع کرنے کے باوجود اُونٹنی کو قتل کر دیا:

قدار بن سالف اس اُونٹنی کے قتل کرنے کو راضی ہوگیا، آپ علیہ السلام منع کرتے رہے، لیکن اس سُرخ رنگ کے پستہ قد آدمی نے بڑی بے رحمی سے اُونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ دئیے، پھر انتہائی سرکشی کے ساتھ اس کو ذبح کردیا اور حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبا نہ گفتگو کرنے لگا۔(القرآن، سورہ اعراف:77)

"پس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ، جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"

4۔نافرمانی کا انجام:

قومِ ثمود کی سرکشی اور نافرمانی کا بھیانک انجام ایک خوفناک چنگھاڑ کی آواز کے بعد شدید ترین زلزلہ سے ہوا، قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔(القرآن، سورہ اعراف، آیت نمبر 78)

تو انہیں زلزلہ نے آ لیا، تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے۔

خلاصہ کلام:

قومِ ثمود کی بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اُتر گئی، کی آج ان کی نسل کا کوئی اِنسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(حوالہ جات:عجائب القران مع غرائب، ص106 تا 103، ترجمہ کنزالایمان، کچھ معلومات مدنی چینل کے سلسلہ مقاماتِ عبرت سے حاصل کی ہے۔)


مختصر تعارف:ثمود بھی  عرب کا ہی ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمینِ حِجر میں رہتے تھے، حضرت صالح علیہ السلام کے والد کا نام عبید اللہ بن آسف بن ماسح بن عبید حاذر ابنِ ثمود ہے اور اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجا، پتھروں اور پہاڑوں کو کھود کر گھر بنانا اس قوم کی بارز ترین صفات میں شامل تھا۔

قومِ ثمود کی نافرمانیاں:

حضرت صالح علیہ السلام نے جب قومِ ثمود کو خداپاک کا فرمان سُنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خُوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی چٹان پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت اور تندرست اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور اس نے ایک بچہ جنا، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔

حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا" اے لوگو! دیکھو یہ معجزے کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا "، قوم نے اس کو مان لیا، چند دن تو قوم نے تکلیف کو برداشت کیا، مگر پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ اُونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

قدار بن سلف:اس قوم میں قدار بن سلف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سلف نے پہلے اُونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے، پھر اس کو ذبح کیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔

زلزلہ کا عذاب:قومِ ثمود کی اِس سرکشی پر عذابِ خُداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی چکنا چور ہو گئی، تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔

حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہو گئی تو آپ کو بڑا صدمہ ہوا اور آپ کو قوم اور ان کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہوگئی کہ آپ نے ان لوگوں کی طرف سے مُنہ پھیر لیا۔

اس واقعے کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک کی سورۃ الاعراف میں فرمایا ہے۔


حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے،  آپ نے جب قومِ ثمود کو خدا پاک کا فرمان سُنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو ، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خُوب بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا، آپ نے فرمایا: کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اُونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی: کہ

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم اللہ کو پُوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی ہے، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اُسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔"(پ8، الاعراف:73)

چند دن تو قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کا پانی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اُونٹنی پی جاتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اُونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اُونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا، پھر اس کو ذبح کردیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا، چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ

ترجمہ کنزالایمان:"پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اےصالح!ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"(پ8، الاعراف: 77)

زلزلہ کا عذاب:

قومِ ثمود کی اس سرکشی پہ عذابِ خُداوندی کا ظُہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اَتھل پَتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی، تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا، قرآن مجید نے فرمایا کہ

ترجمہ کنزالایمان:"تو اُنہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے ۔"(پ8، الاعراف:78)

حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہوگئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا اور آپ کو قومِ ثمود اور ان کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہوگئی کہ آپ نے اُن لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اُس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مُردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہوگئے کہ

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے ربّ کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا، مگر تم خیر خوا ہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں۔"(پ8، الاعراف:79)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قومِ ثمود کی پوری بستی بربادو ویران ہوکر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اُتر گئی، کہ آج ان کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(تفسیر الصاوی، ج2، ص688، پ8، الاعراف:77۔83 تا 79ملخصاً)


اللہ پاک نے ہر قوم کی ہدایت کے لئے اپنے نبیوں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا،  قومِ ثمود کی ہدایت کے لئے اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، آپ نے جب قومِ ثمود کو خدا کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اُونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، آپ نے فرمایا: اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قوم، ثمود کے سامنے تقریر فرمائی کہ

ترجمہ کنزالایمان:"اے میری قوم!اللہ کو پوجو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے روشن دلیل آئی، یہ اللہ کا ناقہ ہے، تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آلے گا۔"(پ8،اعراف: 73)

چند دن تو قوم نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن ان کو پانی نہیں ملتا تھا، کیونکہ اسے دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام انہیں منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا، پھر اس کو ذبح کردیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا، چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ

ترجمہ کنزالایمان:پس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ، جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"(پ8،اعراف: 77)

عذاب:

قومِ ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی، تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہوگئیں اور قومِ ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا، قرآن مجید نے فرمایا کہ

ترجمہ کنزالایمان:"تو انہیں زلزلہ نے آ لیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے۔ (پ8،اعراف: 78)


اللہ ربّ العزت نے اپنے برگزیدہ بندے حضرت صالح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا، ثمود عرب کا  ایک قبیلہ تھا، یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمینِ حجر میں رہتے تھے، حضرت صالح علیہ الصلوۃ و السلام کے والد کا نام عبید بن آسف بن ماسح بن عبید بن حاذر ابنِ ثمود ہے، قومِ ثمود، قومِ عاد کے بعد ہوئی اور حضرت صالح علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کے بعد ہیں۔(روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ، جلد 3، صفحہ 190۔189)

قومِ ثمود سنگ تراشی کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتی تھی، انہوں نے پہاڑوں کی چٹانوں کو کھود کر اور کاٹ کر اپنے لئے رہائش گاہیں تعمیر کر رکھی تھیں، ان کی پائیداری اور پختگی پر بڑا ناز تھا، انہیں یقین تھا کہ کوئی زلزلہ، کوئی سیلاب، کوئی جھگڑ ان کو ہلا نہیں سکتی۔(ضیاء القرآن، صفحہ 577، تحت الآیۃ:9 ، سورہ فجر)

لیکن ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ربّ پاکٰ کا ایسا غضب ناک عذاب نازل ہوا کہ ان کا سارا فخر و غرور خاک میں مل گیا اور جن گھروں کے پختگی اور مضبوطی پر ناز کرتے تھے، انہیں گھروں میں اوندھے منہ ہلاک ہوگئے۔

قومِ ثمود کی نافرمانیاں:

ہوا یوں کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم! تم اللہ پاک کو ایک مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، جبکہ تمہارے یہ بت عبادت کے لائق ہی نہیں، پھر اللہ پاک کی وحدانیت اور اس کی کمالِ قدرت پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا: کہ معبود وہی ہے، جس نے تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین سے پیدا کیا، پھر تمہیں زمین میں بسایا اور زمین کو تم سے آباد کیا، تو اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر شرک سے کنارہ کشی کرکے اُسی کی طرف رُجوع کرو، بے شک میرا ربّ پاک ایمان والوں کے قریب ہے اور ان کی سننے والا ہے۔(تفسیر صراط الجنان، سورہ ھود، تحت الآیۃ:61)

تو قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کا انکار کر دیا، قرآن پاک میں ہے:

اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَؒ۶۸

ترجمہ کنزالایمان:"سن لو بے شک ثمود اپنے ربّ سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر۔"(پ12، ہود،:68)

پھر قومِ ثمود کے مطالبے پر حضرت صالح علیہ السلام کو نشانی کے طورپر اُونٹنی دی، تو قوم نے ماننے کی بجائے اُونٹنی پر ہی ظلم کیا اور اسے قتل کر دیا، چنانچہ قومِ ثمود کے سردار جندہ بن عمرو نے حضرت صالح علیہ السلام سے عرض کیا:اگر آپ سچے نبی ہیں تو پہاڑ کے اس پتھر سے فلاں فلاں صفات کی اُونٹنی ظاہر کریں، اگر ہم نے یہ معجزہ دیکھ لیا تو آپ پر ایمان لے آئیں گے۔"

حضرت صالح علیہ السلام نے ایمان کا وعدہ لے کر ربّ پاک سے دعا کی، سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور اسی شکل و صورت کی پوری جوان اُونٹنی نمودار ہوئی اور پیدا ہوتے ہی اپنے برابر کے بچہ جنا، یہ معجزہ دیکھ کر جندہ تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا، جبکہ باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔(تفسیر صراط الجنان، الاعراف، تحت الآیۃ:73۔79)

پھر قومِ ثمود نے اپنی سرکشی سے اپنے رسول حضرت صالح علیہ السلام کو اس وقت جھٹلایا، جب ان کا سب سے بڑا بدبخت آدمی قدار بن سالف ان سب کی مرضی سے اُونٹنی کی کونچیں(رگیں) کاٹنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا، تو اللہ پاک کے رسول حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا: تم اللہ پاک کی اُونٹنی کے درپے ہونے سے بچو اور جو دن اس کے لئے پانی پینے کا مقرر ہے، اس دن پا نی نہ لو تا کہ تم پر عذاب نہ آئے تو انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا، پھر اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان پر ان کے ربّ پاک نے ان کے اس گناہ کے سبب تباہی ڈال کر اور ان کی بستی کو برابر کر کے سب کو ہلاک کر دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچا۔(تفسیر خازن، الشمس، تحت الآیۃ11 تا 15، ج4، صفحہ 382۔383)

منقول ہے کہ ان لوگوں نے چہارشنبہ(بدھ کے دن) ناقہ(اونٹنی) کی کونچیں کاٹی تھیں، تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: کہ تم اس کے بعد تین روز زندہ رہو گے، پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زرد ہو جائیں گے، دوسرے روز سُرخ، تیسرے روز سیاہ، چوتھے روز عذاب آئے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یکشنبہ(یعنی اتوار) کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی، جس سے ان لوگوں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہوگئے۔(تفسیر خزائن العرفان، الاعراف، تحت الآ یۃ:79)


حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا (پاک)کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔ چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تالاب کا سارا پانی یہ پیئے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ:۔

ترجمۂ کنزالایمان:۔اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔ (پ8، اعراف:73)

چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا (پھر)ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اونٹنی کو قتل کرڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا۔ پھر اس کو ذبح کردیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔ چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان:۔ پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔ (پ8، اعراف:77)

قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی۔ پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی چکنا چور ہو گئی۔ تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ:۔

ترجمہ کنزالایمان:۔ تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیرا۔(پ8،اعراف:78-79)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئی کہ آج اُن کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۸، پ۸، الاعراف: ۷۳۔۷۷تا ۷۹ ملخصاً)


مخصوص جانور کو مخصوص وقت میں اللہ پاک کا قُرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں،  قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سُنت ہے، جو اِس اُمت کے لئے بھی باقی رکھی گئی ہے، حکمِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرنے کے جہاں کے جہاں اُخروی فوائد ہیں، وہیں دُنیا میں بھی اس کے بہت سے فائدے ہیں۔

1۔روزگار کے مواقع:

قربانی کے لئے بہت سے لوگ اپنے گھروں، باڑوں یا کیٹل فارمز میں جانور پالتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین رکھے جاتے ہیں، پھر ان کو مویشی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے گاڑیاں وغیرہ کرائے پر لی جاتی ہیں، اس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، اسی طرح منڈیوں میں جانوروں کے چارے اور مالکوں کے کھانے پینے کے لئے اسٹال لگائے جاتے ہیں، اس پر روزگار ہوتا ہے، اگر جانور بیمار ہو جائیں تو ویٹرنری ڈ اکٹر کو بلوایا جاتا ہے، عید کے دن ہزاروں قصاب جانور ذبح کرتے ہیں، گوشت بناتے ہیں، الغرض مویشی منڈی کے لئے جانور پالنے سے قربانی کرنے تک بے شمار روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

2۔ ملکی خزانے کو فائدہ:

جانور کو لے جانے والی گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پھر مویشی منڈی میں بھی جگہ کے حساب سے کرایہ دیا جاتا ہے، جس سے ملکی خزانے کو فائدہ ہوتا ہے۔

3۔ملکی معیشت کو فائدہ:

قربانی کی کھالوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں اور انہیں دوسرے ملکوں میں برآمد(export) بھی کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرِّمبادلہ حاصل ہوتا ہے، الغرض جانور کے پیدا ہونے سے قربان ہونے تک قربانی کی سُنت کی برکت سے لاکھوں لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور مُلکی معیشت کو بھی بےپناہ فائدہ ہوتا ہے۔

4۔غریبوں کا فائدہ:

ہمارے ملک میں غربت کا ایسا حال بھی ہے کہ جہاں سارا سال گوشت نہیں پکتا، قربانی کرنے کے بعد کئی خوش نصیب لوگ اپنے رشتے داروں، دوستوں اور غریبوں مسکینوں کو بھی گوشت پہنچاتے ہیں، جس کی بدولت ان کے گھر میں بھی گوشت پکتا ہے۔

5۔دینی مدارس کا فائدہ:

خوش نصیب مسلمان اپنی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو نیز عاشقانِ رسول کے دیگر مدارس و جامعات کو دیتے ہیں، جنہیں بیچ کر کئی مہینے کے اخراجات جمع ہو جاتے ہیں، یوں قربانی کی سُنت پر عمل کرنا علمِ دین کی اشاعت میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

اگر ہمیں دنیوی فوائد معلوم نہ بھی ہوں تو اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہمیں قربانی کرنی چاہئے، حدیث پاک ہے:"جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہوکر قربانی کی، تو وہ قربانی اس کے جہنم کی آگ سے حجاب (یعنی روک) ہو جائے گی۔"(معجم کبیر، 3/384، حدیث 2736)


قربانی ہر صاحبِ اِستطاعت مسلمان مرد و عورت پر شرائط پائے جانے کی صورت میں واجب ہوتی ہے،  بلاشبہ یہ ایک دینی فریضہ اور یادگارِ اَسلاف ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ بے شمار دُنیاوی فوائد بھی رکھتی ہے، ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

· معاشی فوائد:قربانی سے پہلے جانوروں کو قربانی کے لئے تیار کرنے، اس سلسلے میں چارے کی فراہمی کے لئے کھیتی باڑی، قربانی کے بعد کھالوں کی پروسیسنگ کے سلسلے میں ورکرز اور چمڑے کا کام کرنے والوں کو روزگار مہیّا ہوتا ہے، جو معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

· طبی فوائد:قربانی کے جانوروں کی جو شرائط شریعتِ مطہرہ نے مقرر فرمائی ہیں، ان کے مطابق قربانی کرنے سے حاصل ہونے والا گوشت صحت کے لئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔

· سماجی فوائد:قربانی کے گوشت کی تقسیم سے لوگوں میں محبت کی فضا قائم ہوتی اور سماجی فاصلے کم ہوتے ہیں۔

· صنعتی ترقی:قربانی کرنے سے چمڑے اور اس سے مُنسلک صنعتوں کو ترقی حاصل ہوتی ہے، ملک میں روزگار کے مواقع میں اِضافہ ہوتا ہے، جو معیشت کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

· غریبوں کی دلجوئی:قربانی کرنے سے گوشت ان لوگوں تک بھی پہنچتا ہے، جو سارا سال گوشت نہیں کھا سکتے، اس طرح ان کی دلجوئی اور خیر خواہی کا بھی ذریعہ قربانی بنتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی رضا کے لئے خوش دلی سے قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے دینی اور دنیاوی منافع عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم 


قرآن کریم میں اِرشادِ باری ہے:فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔

ترجمہ کنزالعرفان:"تو تم اپنے ربّ کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔"(پ30،سورہ کوثر،آیت:2)

یقیناً اللہ کے ہر حکم میں بنی نوع انسان کے لئے کثیر دینی و دنیاوی فوائد ہیں، خواہ انسان کی عقل میں آئیں یا نہ آئیں، اِسی طرح قربانی کے بھی دینی فضائل و ثواب کے ساتھ ساتھ بے شمار دنیاوی فائدے ہیں:

1۔روزگار کے مواقع:

قر بانی کے جانوروں کو بیچنے والوں، ان کی دیکھ بھال کرنے والوں، کنٹینر، سوزوکی، ٹرک والوں، چارہ، جھول وغیرہ بیچنے والوں، جانوروں کی حفاظت کے لئے چوکیدار وں، ویٹرنری ڈاکٹروں، قصائیوں، قیمہ وغیرہ بنانے والوں، ہوٹلز میں قربانی کے گوشت سے مختلف ڈشیں بنانے والوں سمیت لاکھوں لاکھ لوگوں کو اس سنتِ ابراہیمی کی برکت سے روزگار میسر آتا ہے۔

2۔ گوشت کی فراہمی:

قربانی کی بدولت لوگوں کو تازہ اور غذائیت سے بھرپور گوشت مہیا ہوتا ہے، اس کے علاوہ سفید پوش اور متوسط طبقے کو فراوانی کے ساتھ گوشت حاصل ہوتا ہے، نیز بہت سے لوگ غریبوں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے غریب لوگوں کے گھروں میں بھی گوشت پکتا ہے، جو سارا سال گوشت خریدنے کی اِستطاعت نہیں رکھتے۔

3۔باہمی اُخوّت و بھائی چارہ:

قربانی کے موقع پر مسلمانوں میں باہمی اُلفت و محبت اور اُخوت و بھائی چارے کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے، کہیں دوست اَحباب اور عزیز رشتہ دار مل کر اِجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں تو کہیں مل جل کر جانوروں کی دیکھ بھال کرتے نظر آتے ہیں، اسی طرح عیدالاضحیٰ کے دن ایک دوسرے کو گوشت ہدیہ کیا جاتا ہے، دعوت پارٹیز کا سلسلہ ہوتا ہے۔(البتہ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مذکورہ اُموربلکہ تمام ہی معاملات میں شریعت کی پاسداری اور گناہوں سے بچنا لازم ہے۔)

4۔مساجد و مدارس کو فوائد:

قربانی کی کھالیں بیشتر مسلمان دعوتِ اسلامی اور دیگر عاشقانِ رسول کی مساجد اور مدارس میں دیتے ہیں، انہیں بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے جہاں دین کے کاموں میں معاونت ہوتی ہے، وہیں دینے والے کو بھی ثوابِ جاریہ حاصل ہوتا ہے۔

5۔ملکی معیشت کو فائدہ:

قربانی کی کھالوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں اور انہیں دوسرے ملکوں میں برآمد بھی کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرِّمبادلہ حاصل ہوتا ہے، اس کے علاوہ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو کھاد وغیرہ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے، مزید یہ کہ جانور لے جانے والی گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پھر مویشی منڈی میں بھی جگہ کے حساب سے کرایہ جاتا ہے، جس سے ملکی خزانے کو فائدہ ہوتا ہے۔

لہذا خوش دلی کے ساتھ اللہ پاک کی راہ میں عمدہ جانور قربان کیجئے اور اس کے دنیاوی اور اُخروی فائدے حاصل کیجئے۔اللہ کریم ہر عاشقِ رسول مسلمان کی قربانی قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم