One of the eight religious activities of Islamic sisters is Dars at home. In this connection, approximately, 87 Islamic sisters from the different areas of Badalona and Barcelona Divisions, Spain had the privilege of giving or listening to Dars at home in June 2021. On the other hand, 28 Islamic sisters were motivated the give Dars at home, upon which they expressed the intention of giving Dars at home.


طاقت کسی اچھے  آدمی کو ملے تو نعمت، بُرے کو ملے تو ایک نشہ، ایسا نشہ جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور آدمی کو فساد کی طرف لے جاتا ہے، جو افراد اور قومیں طاقت دینے والے کی شُکرگزار ہوئیں، وہ تاریخ میں نیک نام ٹھہریں اور جنہوں نے ناشکری کی، بربادی اور ہلاکت نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا، قرآن مجید ان کے مِٹ جانے کی خبر دیتا ہے، تاکہ ہم اِن سرکشوں و نافرمانوں اور ناشُکروں جیسے نہ ہو جائیں، نعمت ملنے پر اس ذات پاک کا شکر ادا کریں۔

یہ کہانی ایک نافرمان قوم کی تباہی کی کہانی ہے، جس میں نصیحت بھی ہے اور عبرت کا مقام بھی ان کے لئے، جو صراطِ مستقیم کو اپنی منزل بنانا چاہتے ہیں۔

سیدنا نوح علیہ السلام کے پوتے کا نام ثمود تھا، ثمود کا خاندان حجاز اور تبوک کے درمیان حجر نامی مقام پر آباد تھا، جسے مدائن صالح کہا جاتا ہے، یہ لوگ جسمانی لحاظ سے بہت طاقتور تھے، پہاڑوں کو تراش کر اِن میں گھر بناتے تھے، جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ اللہ نے انہیں سرسبز زمین بھی دی تھی۔

پھر یہ قبیلہ نافرمان ہو گیا، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بُتوں کی عطا کردہ نعمتیں خیال کرنے لگے، حرام کو حلال سمجھنے لگے، کمزوروں پر ظلم کرنے لگے، اپنا وقت تماشے، ناچ گانوں میں بسر کرنے لگے۔

پھر اللہ نے انہی میں سے حضرت صالح کو نبوت عطا فرمائی، نبوت ملنے سے پہلے بھی حضرت صالح بہت نیک اور سچائی اور امانت کے اعتبار سے بہت مشہور تھے۔

نبوت ملنے پر آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا، قرآن کریم میں ہے:

"صالح نے کہا: کہ اے میری قوم!اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اسی میں آباد کیا، اسی سے مغفرت مانگو، اس سے توبہ کرو، بیشک میرا ربّ نزدیک(بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا ہے۔"

آپ کی قوم نے آپ کا یہ پیغام سنا، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ ایک ایسی قوم تھی، جسے شرک نے اندھا کررکھا تھا اور ان میں سے ایک کہنے لگا"کہ تم جادوزن ہو، بھلا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟"

ان کی جاہلانہ باتوں کے باوجود سیّدناصالح نے اپنا کام صبر اور بُردباری سے جاری رکھا، جب قوم نے دیکھا یہ باز نہیں آرہے تو اُنہوں نے آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ایک ترکیب سوچی اور طے کیا کہ ایک ایسا مطالبہ کیا جائے، جسے یہ پورا نہ کر سکیں اور کہا کہ "اپنے ربّ سے کہو کہ سامنے والی چٹان سے اُونٹنی برآمد کرے، ہم ایمان لے آئیں گے،" سیّدنا صالح نے دعا کی اور اللہ نے اُسی وقت چٹان کو حکم دیا، چٹان حرکت کرنے لگی اور پھٹ گئی اور اس میں سے اُونٹنی نکلی، اس عظیمُ الشّان قدرت کو دیکھ کر ان میں سے کُچھ سجدے میں گرگئے، لیکن کُچھ بے اثر گمراہی پر اڑے رہے۔

اس اُونٹنی کے پانی پینے کا ایک دن ہوتا اور دوسرا دن ان لوگوں کے پینے کا، ان میں سے ایک سردار نے جس کا نام قدار بن سالف تھا، اُونٹنی کو مارنے کی تجویز پیش کی، چنانچہ اُنہوں نے اُونٹنی کو تلاش کیا اور اس پر تیر اور نیزے چلا کر اسے ہلاک کر دیا۔

سیّدنا صالح کو معلوم ہوا تو وہ بہت غمگین ہوئے اور انہوں نے حکمِ الٰہی سے تین دن تک عذاب کے آنے کا وعدہ فرمایا، "اب تم تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھاؤ، یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے، جب مہلت کا پہلا دن آیا تو ان کے چہرے زرد ہو گئے، جب دوسرا دن آیا تو ان کے چہرے سُرخ ہوگئے، جب تیسرا دن آیا، تو ان کے چہرے سیاہ ہو گئے، جبکہ چوتھا دن آیا اور سورج طلوع ہوا تو آسمان سے ایک شدید آواز آئی اور ساتھ ہی زلزلہ آ گیا، جس سے ان کی روحیں پرواز کر گئیں، قرآن کریم میں اللہ نے قومِ ثمود کی تباہی کا نقشہ یوں کھینچا ہے:"اور ثمود کی قصّے میں بھی عبرت ہے، جب ان سے کہا گیا کہ کچھ دن تک فائدہ اٹھا لو، لیکن انہوں نے اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی، جس پر انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے تیزوتند کڑاکے نے ہلاک کر دیا، پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے، نہ بدلہ لے سکے۔"اللہ نے ان کو اس طرح ملیامیٹ کردیا گویا وہ کبھی اپنے گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔


Under the supervision of Dawat-e-Islami, Sunnah-inspiring Ijtima’at were held in different areas of Barcelona, Spain via Skype in the first week of July 2021. Approximately, 68 Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Ijtima’at.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Bayans on the topic ‘how to develop greed for good deeds’ and gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of performing goods in order to better their Akhirah. Moreover, she provided them the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and encouraged them to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the weekly Ijtima’ regularly and take part in the religious activities practically.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, Sunnah-inspiring Ijtima’at were held in different areas of Badalona, Spain via Skype in the first week of July 2021. Approximately, 162 Islamic sisters had the privilege of attending these spiritual Ijtima’at.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Bayans on the topic ‘how to develop greed for good deeds’ and gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of developing good deeds within themselves, treating relatives well and performing goods in order to better their Akhirah. Moreover, she provided them the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and encouraged them to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami, attend the weekly Ijtima’ regularly and take part in the religious activities practically.


حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے،  آپ نے جب قومِ ثمود کو خدا کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی، تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالئے، جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اُونٹنی نکل پڑی، جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی، اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی بھر کر جمع ہوتا تھا، آپ نے فرمایا: کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے، ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا، قوم نے اس کو مان لیا، پھر آپ نے قومِ ثمود کے سامنے تقریر فرمائی، چند دن قومِ ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا، پھر ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اُونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سُرخ رنگ کا بُھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زِنا کار عورت کا لڑکا تھا، ساری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اُونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا، پھر اس کو ذبح کردیا اور اِنتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السّلام سے بے ادبا نہ گفتگو کرنے لگا، چنانچہ خداوندِ قدوس کا ارشاد ہے کہ:

ترجمہ کنزالایمان:"پس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے ربّ کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو، اگر تم رسول ہو۔"

قومِ ثمود کی اس سرکشی پر عذابِ خُداوندی کا ظہور اِس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی، پھر شدید زلزلہ آیا، جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی اور قومِ ثمود کاایک ایک آدمی گھٹنوں کے بَل اوندھا گر کر مر گیا۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قومِ ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اُتر گئی کہ آج ان کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(عجائب القران مع غرائب القران، صفحہ 103۔105)

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے اور اپنے خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے سدا کے لئے راضی ہو جائے۔اللہم آمین


فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم: جب تم مرسلین علیہم السلام پر دُرود بھیجو تو مجھ پر بھی دُرود بھیجو کیونکہ میں تمام جہانوں کے ربّ کا رسول ہوں۔"

قومِ ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی اور قومِ ثمود اور قومِ عاد یہ دونوں آپس میں چچا زاد بھائی ہیں اور یہ عرب کے ایک قبیلے میں رہتے تھے، ان کے قد بہت بڑے بڑے تھے اور ان کے سر گنبدوں کی مانند بڑے بڑے تھے اور یہ قوم پہاڑوں کو تراش تراش کر اس میں مکان بناتے تھے اور یہ ان مکانوں میں آباد تھے، مگر اس قومِ ثمود نے اللہ تبارک و پاکٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور ربّ پاک کی نافرمانی کی اور اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے تھے۔

جب حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں نیکی کی دعوت دی اور انہیں دین کی طرف بلایا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور سوچا کہ ہم تو پتھروں کو تراش لیتے ہیں، کیوں نہ ہم ان سے ایسی بات کا مطالبہ کریں، جو پہاڑیوں سے متعلق ہو، انہوں نے آپ علیہ السلام سے ایک اُونٹنی کو پہاڑ میں سے نکالنے کو کہا اور کہا کہ وہ اُونٹنی حمل والی ہو۔

اللہ تبارک و پاک نے پہاڑ سے ایک ایسی اُونٹنی کو نامود فرما یا، مگر وہ قوم پھر بھی آپ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے اور اُونٹنی کو بھی قتل کر دیا۔

1۔یہ قوم ربّ پاک کی نافرمانی کرتی تھی۔

2۔ اور یہ قوم لواطت کا برا فعل کرتے تھے۔

3۔اور اس قوم نے جنتی اُونٹنی کو قتل کیا تھا۔

4۔اور یہ قوم اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلاتی تھی اور کہتی تھی کہ کہاں ہے، اللہ پاک کا عذاب!

5۔جب اس قوم پر عذاب آیا تو اس کے شہر نیست و نابود ہو گئے اور لوگوں کے لئے عبرت بن گئے۔

اللہ تبارک و پاکٰ سے دعا ہے کہ اس بیان میں جو غلطی و کوتاہی ہو گئی ہو، اُسے اپنی رحمتِ کاملہ سےمعاف فرمائے اور اس بیان کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین یا رب العالمین


حضرت صالح،  سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے اور قومِ ثمود کے پیغمبر تھے، قومِ ثمود کا دوسرا نام عادِثانی بھی ہے، حضرت صالح عرب انبیاء میں تیسرے نبی تھے، حضرت صالح کی عمر دو سواسّی سال تھی اور نجف کے وادی السلام قبرستان میں دفن ہوئے، قرآن مجید میں حضرت صالح کا ذکر ہے 9 دفعہ آیا ہے۔

حضرت صالح تقریباً سولہ سال کی عمر میں نبوت کے لئے مبعوث ہوئے، منقول ہے کہ 120 سال کی عمر تک اپنی قوم کی طرف دعوت دی، لیکن انہوں نے حضرت صالح کی دعوت قبول نہ کی

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا (پ8، الاعراف، 73)

حضرت صالح علیہ السلام ان سے فرماتے تھے: میں تمہارے خداؤں سے ایک درخواست کرتا ہوں، تم لوگ میرے اللہ سے درخواست کرو ، حضرت صالح نے جب بتوں کے خداؤں سے درخواست کی تو کوئی جواب نہ آیا اور جب بُت پرستوں نے جناب حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اللہ سے درخواست کریں کہ پہاڑ کے اندر سے ایک منٹ میں باہر آئے اور ایسا ہی ہوا علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود سے اس اونٹنی کو نہ مارنے کی درخواست کی، لیکن انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے اور اونٹنی کومار ڈالا، اس کا ذکر قرآن پاک میں کچھ یوں ہے:

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۶۵(پ12،ھود، 65)

قومِ ثمود کی طرف سے ناقہ صالح کو مارنے ڈالنے کے بعد حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں خبردار کیا کہ تین دن بعد وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے، بعض اقوال کی بناء پر پہلے دن ان کا چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، دوسرے دن سُرخ، تیسرے دن کالا ہو گیا، جب ان کو ہلاک کرنے کا حکم آ گیا تو اللہ پاک نے اپنی رحمت سے حضرت صالح اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے، بچالیا اور وہ چار ہزار لوگ تھے اور یہ بھی کہا گیا کہ جو لوگ عذابِ خداوندی سے محفوظ رہ گئے تھے، وہ مکہ یا فلسطین کے شہر ہجرت کر گئے، اس قوم سے ہمیں یہ سبق ملا کہ جب بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کے دامن کو چھوڑ کر نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے، تو اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے، ہمیں ہر وقت کسی ایسے ولی اللہ سے وابستہ رہنا چاہئے، جو ہمیں ہر وقت اللہ کی نافرمانی سے بچا سکے، آج کے دور میں وہ ہستی امیر اہلسنت کی ذات ہے، جن کی نظرِ عنایت سے لاکھوں نمازی، مسلمان ہوئے، ہمیں بھی چاہئے کہ ان کے فرمان پر عمل کرکے اپنی آخرت سنوار یں۔

جو غافل تھے ہوشیار ہوگئے، جو سوئے تھے بیدار ہوگئے

جس قوم کی فطرت مردہ ہو، اس قوم کو زندہ کون کرے


قومِ ثمود انہیں ثمود اس لئے کہا جاتا ہے،  اس قوم کے جد ِّاعلیٰ کا نام ثمود تھا، اس قوم کا دوسرا نام عادِثانی بھی ہے، اسے صالح کی قوم بھی کہا جاتا ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا، ان کے بارے میں قرآن پاک کی کئیں آیات ہیں، جن میں ان کی نافرمانیوں اور عذابات کا ذکر ہے: قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِيْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ (پ8، الاعراف، 76)

ترجمۂ کنز الایمان:" متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے۔

یہ قومِ عاد کے چچا زاد بھائی تھے، حجاز اور شام کے درمیان آباد تھے، حجر سے وادی قریٰ تک بڑے بڑے شہر آباد کئے، سنگ تراشی میں استاد تھے، بہت قد آور اور مالدار تھے۔(الفجر، صفحہ 89، آیت9۔10)

حضرت صالح علیہ السلام جب ان کی طرف نبی بن کر تشریف لائے، اس قوم نے آپ کی مخالفت کی اور ہلاک ہوگئے، حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائیں، سمجھایا کہ اللہ پاک نے تمہیں قومِ عاد کا جانشین بنایا، ان کو ہلاک کر کے تم کو ان کی جگہ بسایا، تمہیں رہنے کے لئے جگہ دی، تم گرمی میں آرام کے لئے ہموار زمین میں محلات بناتے ہو، سردی سے بچنے کے لئے پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو، اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور کفر گناہ کرنے سے بچو، اللہ کی نافرمانی سے ان کا عذاب نازل ہوتا ہے۔

اس قوم نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا، ان کی نافرمانی کی، حضرت صالح علیہ السلام کے معجزے سے جو اونٹنی ظاہر ہوئی تھی، پھر سے حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا:اس اونٹنی کو تم لوگ تنگ نہ کرنا، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین سے کھائے اور اسے برائی کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا، نہ مارنا، نہ ہنکانا، نہ قتل کرنا، اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر عذاب آ جائے گا۔

اس قوم کے دو شخصوں نے مل کر اسے ذبح کر دیا اور وہ کہنے لگے:لے آؤ وہ عذاب، جس کی وعید سناتے ہو، ان نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے کہا: پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہوں گے، دوسرے دن سُرخ، تیسرے دن سیاہ ہو جائیں گے، ایسا ہی ہوا اور وہ لوگ اتوار کے دن دوپہر کے قریب اوّلاً ہولناک آواز میں گرفتار ہوئے، جن سے ان کے جگر پھٹ گئے، ہلاک ہوگئے، پھر سخت زلزلہ آیا، ان کی ہلاکت سے حضرت صالح علیہ السلام مؤمنوں کے ساتھ اس بستی سے نکل کر جنگل میں چلے گئے، پھر ان کی ہلاکت کے بعد مکہ روانہ ہوگئے۔(صراط الجنان، پارہ 8، سورہ اعراف، آیت 73۔79 کی تفسیر)

قومِ ثمود کی نافرمانیاں ازبنت عبدالمجید (فیضان اصحابِ صفہ، کراچی)

ثمود عرب کےایک قبیلے کا نام ہے، ایک قوم کے مطابق یہ نام ان کے جدِّ اعلٰی ثمود بن عاد بن عوس بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت سے رکھا گیا تھا ، قومِ ثمود کا دوسرا نام عادِ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتاہے:

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ۵۰وَ ثَمُوْدَا فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ۵۱

ترجمۂ کنز الایمان:" اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا اور ثمود کو تو کوئی باقی نہ چھوڑا۔(پ27، النجم: 51-50)

لیکن یہ قومِ ثمود اور آلِ ثمود کے نام سے زیادہ معروف ہیں، رشتے میں یہ لوگ قومِ عاد کے چچازاد تھے۔

قومِ ثمود کو اللہ پاک کی طرف سے حیرت انگیز ہنرعطا کیا گیا، اللہ پاک نے اس قوم کو انتہائی زرخیز زمین عطا کی تھی، جس کی وجہ سے ان کی فصلیں خوب ہوتیں اور باغات سر سبزو شاداب اور میووں سے بھرے ہوتے تھے، فنِ تعمیر میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، سنگلاخ پہاڑوں اور پتھریلی چٹانوں کو تراش کر نہایت خوبصورت، روشن، ہوادار، مضبوط اور بلند و بالا مکانات بنا لینا ان کے تعمیراتی ہنرو کمال کامنہ بولتا ثبوت تھا، آج بھی عرب شریف میں ان کی ہستیوں اور تعمیر کردہ مکانات کے آثار موجود ہیں، جنہیں"مدائن صالح" کہا جاتا ہے۔

حضرت صالح علیہ السلام کا عظیم معجزہ:

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کو اللہ پاک کی وحدانیت پر ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ ونصیحت میں مصروف عمل رہتے تھے، آپ علیہ السلام کے بار بار اصرار و تبلیغ و نصیحت سے تنگ آکر قوم کے سردار لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا کوئی ایسا مطالبہ کیا جائے، جسے یہ پورا نہ کرسکیں، چنانچہ ایک دن قبیلے کے لوگ اپنی مجلس میں جمع تھے، اسی دوران آپ علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے تو آپ کی قوم نے یہ مطالبہ کر دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو اس پہاڑ کی چٹان سے ایک ایسی اونٹنی نکال دیجئے، جو دس ماہ کی حاملہ ہو اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو اور نکلتے ہی بچّہ جنے۔

آپ علیہ السلام نے سوال کیا قوم سے:اگر میں تمہارا سوال پورا کر دوں تو ضرور تم سب اللہ پاک کی وحدانیت اور رسالت پر ایمان لے آؤ گے؟ تو آپ کی قوم نے عرض کی: ضرور ہم ایمان لے آئیں گے اور بت پرستی چھوڑ دیں گے، پھر حضرت صالح علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی اور اس چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو اُسی وقت چٹان پھٹی اور اس میں ایک انتہائی خوبصورت ، تندرست، اونچے قد والی اُونٹنی نکل آئی، جو حاملہ تھی اور نکل کر ایک بچہ بھی جنا، آپ کی قوم یہ معجزہ دیکھ کر حیرت میں پڑگئی اور قوم کا ایک سردار ایمان لایا، باقی قوم وعدے سے پھر گئی۔

پھر اس قوم نے حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی سے بدسلوکی کی اور اس کو قتل کر دیا، پھر آپ نے اپنی قوم سے فرمایا:تین دن تک اپنے گھروں میں عیش کرو، ہفتے کے دن تم عذاب میں آ جاؤ گے۔

قر آن پاک میں اِرشاد ہے۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ۶۵

ترجمۂ کنز الایمان:" تو انہوں نے اس کی کوچیں کاٹیں(پاؤں کاٹ دئیے) تو صالح نے کہا اپنے گھرو ں میں تین دن اور برت لو(فائدہ اٹھا لو)یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔(پ12، ھود، 65)


تعارف:

ترجمہ کنزالایمان:"ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا، جبکہ ان سے ان کے ہم قوم صالح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں۔"( پ 19، الشعراء، 142)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا نام قومِ ثمود تھا اور قومِ ثمود ایک نافرمان قوم تھی۔

قومِ ثمود کی نافرمانیاں:

قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کو اس وقت جھٹلایا، جب انہوں یعنی قومِ ثمود سے فرمایا: کیا تم شرک کرنے پر اللہ پاک کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ 141۔142، 6/297)

قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام جو کہ ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، ان کی نصیحتوں کے جواب میں کیا کہا:

ترجمۂ کنزالایمان:"بولے تم پر تو جادو ہوا ہے، تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو تو کوئی نشانی لاؤ، اگر سچے ہو۔"( پ19، الشعراء:154)

چنانچہ پارہ 19، سورۃالشعراء، آیت نمبر 156، 157 میں اِرشاد ہے:

ترجمہ کنزالایمان:" اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا۔"156 "اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے۔" 157

مدارک، سورۃالشعراء ، تحت الآیۃ 156,157 کا خلاصہ:

" حضرت صالح علیہ السلام نے اس اُونٹنی کے بارے میں اپنی قوم کو فرمایا: کہ تم اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ نہ چھونا، نہ اس کو مارنا اور نہ اس کے پاؤں کی رگیں کاٹنا، ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب پکڑ لے گا۔"

لیکن قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود اونٹنی کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں، تو صبح کو پچھتاتے رہ گئے۔

ترجمہ کنزالایمان:"تو انہیں عذاب نے آلیا ہے، بے شک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔"(پ19، الشعرا: 158)

جس عذاب کی انہیں خبر دی گئی تھی، اس نے انہیں پکڑ لیا۔

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحتوں کے جواب میں کہا:تم ان میں ہو، جن پر بار بار بکثرت جادو ہوا ہے، جس کی وجہ سے عقل و حواس قائم نہیں ہیں۔( معاذ اللہ پاک)

تم تو ہم جیسے ہی آدمی ہو کہ جیسے ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، اسی طرح تم بھی کھاتے پیتے ہو، اگر تم رسالت کے دعوے میں سچے ہو تو اپنی نشانی لاؤ۔(خازن، سورۃالشعراء، آیت نمبر153/154)

آیتِ قرآنی:قالَ ھٰذِہ نَاقَۃٌلَّھَاشِرْبٌ وَّ لَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْم۔(پ19،الشعراء: 155)

ترجمہ کنزالایمان:"فرمایا یہ ناقہ ہے، ایک دن اس کے پینے کی باری اور ایک معین دن تمہاری باری۔"

آیت مبارکہ میں جس اُونٹنی کا ذکر ہے، یہ اونٹنی قوم کے معجزہ طلب کرنے پر ان کی خواہش کے مطابق حضرت صالح علیہ السلام کی دعا سے پتھر سے نکلی تھی، اس کا سینہ ساٹھ گز کا تھا، جب اس کے پینے کا دن ہوتا تو وہ وہاں کا تمام پانی پی جاتی اور جب لوگوں کے پینے کا دن ہوتا تو اس دن نہ پیتی۔( بحوالہ سورہ الشعراء، آیت نمبر155، صفحہ نمبر828)


قوم ثمود کا تعارف: ثمود عرب کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ نام ان کے جد اعلی ثمود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ انہیں عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے: وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ۵۰وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ۵۱

ترجمہ كنز الايمان: اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا- اور ثمود کو تو اس نے (کسی کو) باقی نہ چھوڑا(پ27،النجم:50،51)از سیرت الانبیاء

لیکن یہ قوم ثمود اور آل ثمود کے نام سے زیادہ معروف ہیں- رشتے میں یہ لوگ قوم عاد کے چچازاد تھے

حضرت صالح علیہ السلام کا تعارف: ایک عرصہ تک کا قوم ثمود سرکشی اور گمراہی کے دلدل میں دھنستی رہی، پھر اللہ رب العزت نے انہیں اس سے نجات دلانے اور راہ ہدایت پر گامزن کرنے کے لیے ایک عظیم ہستی حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ آپ علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے ارم کی اولاد میں سے تھے،جیسا کہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ علیہ آپ علیہ السلام کا نسب نامہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، صالح جن عبید بن آسف بن کاشح بن عبید بن حاذر بن ثمود بن عاد (بن عوص) بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام، مزید لکھتے ہیں: حضرت صالح علیہ السلام حسب و نسب دونوں اعتبار سے اپنی قوم میں سب سے بہتر اور افضل تھے

آپ علیہ السلام کا معجزہ اور قوم کا اراده نافرمانی: آپ نے جب قوم کو خدا پاک کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ علیہ السلام سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا یا تو وہ فورا ہی پھٹ گئی اور اس سے ایک نہایت ہی خوبصورت اور تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چلتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا آپ نے فرمایا کہ: اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ

يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۷۳

ترجمہ کنز الایمان: اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا(پ8،الاعراف:73)از عجائب القرآن

چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن ان کو پانی نہیں ملتا تھا کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی جاتی تھی اس لئے ان لوگوں نے طے کر لیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

قوم کی سرکشی اور نا فرمانی: چناچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے تیار ہو گیا حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا پھر اس کو ذبح کر دیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا چناچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے:

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۷۷

ترجمۂ کنز الایمان: پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔ (پ8، الاعراف:77)از عجائب القرآن

حدیث مبارکہ میں قوم ثمود کی نافرمانی اور اس کے انجام کا تذکرہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ پاکٰ عنہ فرماتے ہیں:جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقام حجر سے گزرے تو ارشاد فرمایا:اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو، کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے معجزے کا مطالبہ کیا (تو اللہ پاکٰ نے ان کے لیے اونٹنی بھیجی)جو اس گھاٹی سے باہر آتی اور اسی کے اندر چلی جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی اور لوگ اس دن اس اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے۔پھر انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاکٰ نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر فرد کو ہلاک کر دیا سواۓ ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔ عرض کی گئی: یا رسول اللّٰہ!صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا (مسند امام احمد، مسند جابر بن عبد اللہ،14/5،حدیث:14162،) از سیرت الانبیاء

اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر: حضرت عبد اللّٰہ بن زمعہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا جس نے(حضرت صالح علیہ السلام کی) اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اور ارشاد فرمایا: اس اونٹنی کے درپے ہونے والا شخص (ظاہراً) بہت عزت و شوکت والا تھا جیسے ابو زمعہ ہے (بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب قول الله پاک:والی ثمود اخاھم صلحا،432/2،حدیث:3377)از سیرت الانبیاء


حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا نام قومِ ثمود تھا، آپ نے قومِ ثمود کو جب ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کو ایک معجزہ دکھانے کا کہا کہ آپ اس پہاڑ سے ایک گابھن  اُونٹنی نکالیں، جو صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ ہر عیب سے بھی پاک ہو، چنانچہ آپ نے چٹان کو اشارہ کیا تو وہ فوراً پھٹ گئی اور اس میں سے ایک بہت ہی خوبصورت اُونٹنی کا ظُہور ہوا، جس نے نکل کر ایک بچہ بھی جنا اور وہ دونوں ایک ساتھ میدانوں چرتی پھرتی رہیں۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا، جس میں کئیں چشموں کا پانی جمع ہوتا تھا، آپ نے اپنی قوم سے فرمایا: کہ اے قوم !یہ معجزہ والی اونٹنی ہے، ایک دن یہ تالاب کا پانی پئے گی اور ایک دن تم، قومِ ثمود اس پر راضی ہو گئی، کُچھ دنوں تک ہی اِس قوم نے اس تکلیف کو برداشت کیا اور ان لوگوں نے اُونٹنی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

چنانچہ اس قوم کا ایک بہت ہی خوبصورت آدمی سناری قوم کے حکم سے اس اُونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا، حضرت صالح علیہ السلام منع کرتے رہے، لیکن اس نوجوان نے پہلے اُونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے اور آخرکار اسے ذبح کر دیا اور حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو بھی کرتا رہا، قومِ ثمود کی اس نافرمانی پر عذابِ الٰہی نازل ہوا اور وہ یوں کہ پہلے ایک چنگھاڑ کی آواز آئی ، پھر زوردار زلزلہ آیا، جس سے پوری قوم اتھل پتھل ہو گئی اور ساری عمارتیں تہس نہس ہو گئی، ایک بھی آدمی نہ بچا، جب حضرت صالح علیہ السلام نے یہ دیکھا تو انہیں اس قوم سے شدید نفرت ہو گئی اور آپ اس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے، چلتے وقت اپنی قوم سے یہ فرما کر روانہ ہوئے:کہ اے میری قوم! بے شک میں نے تمہیں اپنے ربّ کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا، مگر تم خیر خواہی کے غرضی ہی نہیں۔"


جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے، اللہ پاک اپنے بندوں کو صراط مستقیم پر چلانے کے لیے اور ان کی اصلاح کے لیے مختلف زمانوں میں، مختلف علاقوں میں اور مختلف قوموں میں انبیائےکرام کو بھیجتا رہا ہے۔ انسان جب گردش حالات اور اپنی فطری کمزوریوں کے باعث سیدھے رستے سے بھٹک جاتے، خدائے یکتا کی عبادت کے بجائے طرح طرح کے معبودوں کی پرستش کرنے لگتے اور شرک و کفر میں حد سے بڑھ جاتے تو اللہ پاک ان میں اپنا کوئی نبی بھیج دیتا۔ جو اپنی قوم کو سیدھی راہ پر چلنے کی تلقین کرتا۔ نتیجتا کچھ لوگ پیغمبروں پر ایمان لے آتے اور کچھ سرکشی میں اس قدر بڑھ جاتے کہ اللہ کا عذاب انھیں نیست و نابود کردیتا۔

ایسی ہی ایک بدبخت قوم، حضرت صالح علیہ اسلام کی قوم تھی۔ جسے قوم ثمود کہا جاتا ہے۔یہ لوگ ثمود بن رام بن سام بن نوح  کی اولاد میں تھے اور حجاز و شام کے درمیان سرزمین حِجْر میں رہتے تھے۔ یہ قوم، قوم عاد کے بعد ان کی جانشین ہوئی۔ مال، اولاد اور مویشیوں کی کثرت تھی۔ جس کے زعم میں مبتلا ہوکر خدائے واحد کے سوا طرح طرح کے معبود بنا رکھے تھے۔ گرمیوں میں زمین ہموار کرکے مکان بناتے اور سردیوں میں پہاڑوں کو تراش کر جائے مسکن بناتے۔ اس قوم کی ہدایت کی خاطر اللہ پاک نے حضرت صالح علیہ اسلام کو مبعوث فرمایا۔

"وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا" (پ8 ،الاعراف:73)

ترجمہ کنز العرفان: "اور قومِ ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا ۔"

حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو خدائے واحد کی عبادت کا پیغام دیا۔ قومِ ثمود کے سردار جندع بن عمرو نے حضرت صالح  سے عرض کی: ’’ اگر آپ سچے نبی ہیں تو پہاڑ کے اس پتھر سے ایک اونٹنی ظاہر کریں جو حاملہ ہو، اگر ہم نے یہ معجزہ دیکھ لیا تو آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح  نے رب پاک سے دعا کی ۔ سب کے سامنے وہ پتھر پھٹا اور ایک جوان اور انتہائی خوبصورت اونٹنی نمودار ہوئی اور ایک ساعت بعد بچہ جنا۔ یہ معجزہ دیکھ کر جندع تو اپنے خاص لوگوں کے ساتھ ایمان لے آیا جبکہ باقی لوگ اپنے وعدے سے پھر گئے اور کفر پر قائم رہے۔

حضرت صالح نے فرمایا۔ "اللہ پاک کے حکم سے اس اونٹنی کی پانی پینے کی باری ایک دن اور ایک دن تمہاری باری ہے۔ خبردار اس کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ ایک سخت دن کی آفت تمھیں گھیر لے گی۔"

اس نصیحت پر قوم نے کچھ عرصہ من و عن عمل کیا۔ اور اس کے دودھ سے بے بہا فائدہ اٹھایا۔ مگر جلد ہی اپنے منہ مانگے معجزے سے قوم بے زار ہوگئی۔

قومِ ثمود میں ایک صدوق نامی عورت تھی، جو حسین اور مالدار تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں۔ چونکہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اونٹنی سے اس کے جانوروں کو دشواری ہوتی تھی اس لئے اس نے مصدع ابن دہر اور قیدار کو بلا کر کہا کہ’’ اگر تو اونٹنی کو ذبح کر دے تو میری جس لڑکی سے چاہے نکاح کر لینا۔ یہ دونوں اونٹنی کی تلاش میں نکلے اور ایک جگہ پا کر دونوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی کونچیں کاٹ دی۔ اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سرکشی کرتے ہوئے کہنے لگے: اے صالح! اگر تم رسول ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے رہتے ہو۔ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا کہ تم تین دن کے بعد ہلاک ہو جاؤ گے۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ، تیسرے دن سیاہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، تین دن بعد ایک خوفناک چنگھاڑ سے ان کے جگر پھٹ گئے اور ہلاک ہو گئے۔

ان کی ہلاکت سے پہلے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مومنوں کے ساتھ اس بستی سے نکل کر جنگل میں چلے گئے۔ پھر ان کی ہلاکت کے بعد وہاں سے مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ روانگی کے وقت ان کی لاشوں پر گزرے تو ان کی لاشوں سے خطاب کر کے بولے: " اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب پاک کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔"یوں قوم ثمود اپنی نافرمانیوں کے باعث صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی۔