محمد
مبشر عبدالرزاق ( درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
اللہ پاک نے حضور اکرم ﷺ کو
ہدایت انسانی کے لیے ہادی برحق اور معلم کائنات بنا کر مبعوث فرمایا ، حضور
اکرم ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی، آپ ﷺ کا اندازِ تربیت انتہائی دلنشین
اور نرالا ہوا کرتا تھا جس پر عمل دنیاوی واخروی کامیابی کا ذریعہ ہے انہی میں سے
ایک پہلو تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے، آئیے ہم بھی رسول اللہ ﷺ اس
اندازِ تربیت کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
(1) علم کی فضیلت: علم ایک نور ہے جو اللہ پاک کی خوشنودی دنیا و آخرت میں
کامیابی اور کثیر فضائل و برکات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، رسول اکرم ﷺ نے
علم دین کی فضیلت کو ایک اعلی تشبیہ کے ساتھ واضح فرمایا چنانچہ :وَعَنْ
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ
عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي
عَلٰی أَدْنَاكُمْ ترجمہ
: روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی
خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے تو حضور ﷺ نے
فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۔( سنن ترمذی ،کتاب العلم، ج 4، ص
314 ، حدیث 2694 ، دار البیروت العلمیہ )
(2) قرآن کریم اللہ پاک کی عظیم
اور لاریب کتاب ہے جس کا پڑھنا ،پڑھانا، سمجھنا یاد کرنا سب رضا الہی اجر عظیم اور
دل کی آباد کاری کا ذریعہ ہے جبکہ قرآن
کریم سے خالی سینہ دل کی ویرانی کا سبب ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کا
فرمان ہے: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ
فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ یعنی جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح
ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
(3) مال ودولت کی حرص: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا
ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ
المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر
بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت
کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔(ترمذی ،کتاب الزھد ،باب 43 ،ج4 ،ص 162 ،حدیث
2383)
حکیم الاُمَّت مُفتِی احمد یار
خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ” ( حدیث مذکور میں ) نہایت نفیس تشبیہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دِین گویا
بکری ہے اور اس کی حرصِ مال ، حرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیے
مؤمن کے دِین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیے بکریوں کو
تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اپنے عزیز
اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے ، پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسےجتن
کرتے ہیں جو بالکل خلافِ اسلام ہیں۔ ( مراۃ المناجیح، ج 7، ص 19)
(4) ہدایت کے ستارے: صحابہ کرام وہ شخصیات ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دیدار
سے اپنی آنکھوں کو روشن کیا جن کا ذکر خیر آنکھوں سکون ،دل کو جِلا بخشتا ہے ،دنیا و آخرت میں کامیابی اور ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَصْحَابِي
كَالنُّجُومِ فَبِاَ يِّہِمْ اِقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ سِتاروں کی مانند ہیں، تم اِن میں سے جس کی بھی اِقْتدا کروگے ہدایت
پاجاؤ گے۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابۃ، 2 / 212، حدیث: 6018)
(5) اللہ پاک کی خوشنودی: ایک عظیم نعمت
ہے جو گناہوں کی بخشش، دخول جنت اور رب
تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی
بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ترجمہ : اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر
اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے
بعد اچانک مل جائے ۔ ( بخاری، کتاب
الدعوات، باب التوبۃ، ج4 ص191 ، حدیث6309)
پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ متعدد احادیث کریمہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی امت کی تربیت فرمائی جو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا عظیم سرمایہ ہے مگر افسوس
ہم ان احادیث کریمہ کا مطالعہ کرنے سے نا
آشنا اور ان پر عمل کرنے سے دور ہیں۔
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے
کہ وہ ہمیں ذوق و شوق کے ساتھ احادیث کریمہ کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
آصف
شوکت علی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
(1)جوتوں سے تشبیہ دینا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمﷺ
نے ارشاد فرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے
تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد2 حدیث
نمبر:105)
(2)برتن اور مشکیزے سے تشبیہ: روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداﷲ
ابن عمرو سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! یہ میرا بچہ ہے کہ میرا پیٹ
اس کا برتن تھا اور میرے پستان اس کے مشکیزے اور میری گود اس کی آرام گاہ اور اس کے ب آپ نے مجھے طلاق دے دی اور اسے مجھ
سے چھیننا چاہتا ہے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی مستحق تو ہے جب تک اپنا
نکاح نہ کر لو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:5 حدیث نمبر:3378)
(3)بخیل اور خرچ کرنے کی مثال : حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل
اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے
تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ
جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ
کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (
فیضان ریاض الصالحین جلد:5 حدیث نمبر:560 )
(4)دوبھوکے بھیڑ یوں سے تشبیہ : ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ
میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور
حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 حدیث نمبر:485 )
(5) دو شخصوں کا شکر: روایت ہے ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی
خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے
فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں
اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دین سکھانے والے پر ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث
نمبر:213)
محمد عثمان
(درجہ ثالثہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ رضویہ
تحصیل سلانوالی ضلع سرگودھا ، پاکستان)
تشبیہ سے مراد دو چیزوں کو آپس
میں مشابہ قرار دینا ہے۔ تشبیہ سے مشابہت ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تشبیہ کو کسی
بات میں خوبصورتی پیدا کرنے اور وضاحت بیان کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
بھی اپنے فرامین میں تشبیہات کو ذکر فرمایا ہے تاکہ معانی و مطالب واضح ہو جائیں
۔جس طرح کسی بات کو مثال کے ذریعے بیان کرنا مستحسن ہے اسی طرح تشبیہ کے ذریعے بیان
کرنا بھی مستحسن ہے۔ آپ ﷺ نے
امت کو وعظ و نصیحت کے لیے بہت سے موثر طریقے اختیار فرمائے ہیں جس میں سے ایک طریقہ
تشبیہ بھی ہے اسی کے متعلق چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
(1) مومن کا عمارت کے مشابہ ہونا
: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے جو ہر مشکل اور تکلیف میں دوسرے
مسلمان بھائی کا ساتھ دیتا ہے، نبی کریم ﷺ نے ایک
مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے عمارت سے تشبیہ
فرمائی ہے چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: عن ابي موسى ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المومن للمومن
كالبنيان يشد بعضه بعضا ، ثم شبك بين اصابعه (صحیح البخاری کتاب الادب باب
تعاون المومنین بعضھم بعضا ،رقم الحدیث 6026 صفحہ نمبر 1109 دارالکتب العلمیہ بیروت)حضرت
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس
کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رکھتا ہے پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو(دوسری انگلیوں میں ڈال کر)قینچی
کی طرح کر لیا۔
(2) عالم کا عابد سے افضل ہونا: ایک عالم عابد سے افضل ہے کیونکہ
عابد عبادت سے صرف اپنی اصلاح کرتا ہے جبکہ عالم اپنے وعظ سے اپنی اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتا ہے، نبی کریم ﷺ نے
اس فضیلت کو تشبیہ کے ذریعے اس طرح
بیان فرمایا : عن
ابي امامة الباهلي، قال: ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان احدهما: عابد
والاخر عالم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فضل العالم على العابد كفضلي على ادناكم ا حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ کے
سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ان میں سے ایک عابد تھا دوسرا عالم تو رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک
عام آدمی پر ۔ (سنن ترمذی ابواب العلم باب
ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادة رقم الحدیث 2685 صفحہ نمبر 632 دار الکتب العلمیہ
بیروت)
(3) قرآن سے دوری کا باعث وبال
ہونا : جس طرح قرآن کریم کو حفظ کرنے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح قرآن کے کسی بھی
حصے کو یاد نہ کرنے کی بھی وعید کو بیان کیا گیا ہے رسول اکرم ﷺ نے
اس شخص کو ویران گھر سے تشبیہ دی ہے۔
عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه
وسلم: ان الذي ليس في جوفه شيء من القران
كالبيت الخرب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی
کریم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ بھی (یاد) نہ ہو وہ شخص ویران گھر کی
طرح ہے ۔ (سنن ترمذی کتاب فضائل القرآن
رقم الحدیث 2913 صفحہ نمبر 677 دار الکتب العلمیہ بیروت)
اگر ہم حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کے ان فرامین کے مطابق عمل کریں گے تو ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو
سکتے ہیں۔ آمین
محمد امیر
عمر (درجہ ثالثہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ رضویہ تحصیل سلانوالی ضلع سرگودھا ، پاکستان)
آپ ﷺ جو
تعلیمات لے کر آئے اب قیامت تک صرف انہی تعلیمات پر عمل کیا جائے گا ، آپ ﷺ نے ہر طریقے سے اپنی امت کو تعلیمات
فراہم کی ہیں، آپ ﷺ کے
موثر اور فصیح طریقوں میں سے ایک طریقہ تشبیہ بھی ہے، تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دیا
جاتا ہے، تشبیہ عموماً تمثیل جیسی ہوتی ہے جس طرح تمثیل سے بات کو
سمجھنا آسان ہوتا ہے اسی طرح تشبیہ سے بھی بات کو سمجھنا آسان ہوتا ہے، آپ ﷺ نے متعدد مقامات پر تشبیہات کو
ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگوں کے لیے معاملات اور مسائل کو سمجھنا آسان ہو جائے اسی کے متعلق چند احادیث ذیل میں پیش کی
جاتی ہیں:
آہستہ تلاوت کا چھپا کر صدقہ کرنے کے مشابہ ہونا: قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ
پڑھی جانے والی کتاب ہے اس کی تلاوت کرنے پر بہت زیادہ اجر ملتا ہے، اس کے اجر کے مختلف درجے ہیں جس طرح چھپا کر
صدقہ کرنا یہ ظاہری صدقہ کرنے سے افضل ہے اسی طرح آہستہ آواز میں تلاوت کرنا بلند
آواز سے افضل ہے ، جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: عن عُقبة بن عامر الجُهني رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله صلَّى
الله عليه وسلم: الجاهِرُ بالقرآن كالجاهِرِ بالصَّدَقَةِ، والمُسِرُّ بالقرآن
كالمُسِرّ بالصَّدَقَة (سنن
ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جا فی من قرا حرفا من القران ، رقم الحدیث2919
صفحہ نمبر678، دارالکتب العلمیہ بیروت )
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا بلند آواز سے قرآن پڑھنے
والا کھلے عام صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستگی سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔
دنیا کا اجنبی شخص یا مسافر کے
مشابہ ہونا: دنیا آخرت کی کھیتی ہے انسان اس دنیا میں جو بھی
عمل کرتا ہے اسے آخرت میں اس کا حساب دینا ہے اگر ہمارے اعمال برے ہوئے تو ہمیں
سزا بھی ملے گی، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے
دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح زندگی بسر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بِمَنْكِبِي، فَقَالَ:كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ(صحیح البخاری کتاب الرقاق،باب
قول النبی ﷺکن فی الدنیا کانک غریب اوعابر سبیل رقم الحدیث 6416، صفحہ نمبر 1172 ،
دارالکتب العلمیہ بیروت) حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا دنیا میں اس طرح
رہو جیسے تم اجنبی یا مسافر ہو۔
گناہوں کے جھڑنے کا پتے جھڑنے کے مشابہ ہونا: زندگی کے نشیب و فراز میں انسان پر مشکلات اور
تکالیف آتی رہتی ہیں جو ان مشکلات کو برداشت کرتا ہے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتا
تو یہ مشکلات انسان پر نفع بخش ثابت ہوتی ہیں اور انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی
ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے مرض سے یا
اس کے علاوہ، الله تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح
خزاں رسیدہ درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔(صحيح البخاري كتاب المرضى والطب باب اشد
الناس بلاء الانبياء ثم الاول فالاول رقم الحديث5648، صفحہ نمبر 1053، دارالکتب
العلمیہ بیروت)
آپ ﷺ نے جو تشبیہات ذکر فرمائی ہیں ان
میں گہرے معنی اور مفہوم پوشیدہ ہیں اگر ہم حضور کے فرامین میں غور و فکر کریں اور
ان پر عمل پیرا ہوں تو ہم ایک اچھے انسان
بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
محمد
رضوان رضا (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ضیائے مدینہ ، کراچی ، پاکستان)
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه
صلی اللّٰه علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس
بہت سی بارش کی طرح ہے جو کسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی
چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس
سےالله نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے
حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے ۔ یہ اس کی مثال
ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا
اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور الله کی وہ ہدایت قبول
نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ،الفصل
الأول ج:1،حدیث نمبر:142،ص:153، مکتبہ قادری پبلشرز)
مذکورہ حدیثِ پاک میں عالم اور
طالب علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حدیثِ
پاک میں علم و ہدایت کو بارش سے تشبیہ دے کر یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ جیسے بارش
سے مردہ (خشک) زمین کو تروتازگی ملتی ہے اسی طرح علم سے مردہ دلوں کو زندگی (ہدایت)
ملتی ہے۔ اس مثال کی تفصیل یہ ہے:
(1) علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنے والا اور
دوسروں تک پہنچانے والا اُس زمین کی طرح ہے جو بارش سے سیراب ہو کر خود بھی سر
سبزوشاداب ہوجائے اور دوسروں کو بھی اپنی پیداوار سے فائدہ پہنچائے۔
(2) جو شخص دین کا علم سیکھ کر خود تو اس پر عمل
نہ کرے مگر دوسروں تک پہنچائے اور اُس کی تعلیم دے تو اُس کی مثال اُس سخت زمین کی
طرح ہے جو خود پانی کا اثر قبول کرکے سر سبزوشاداب نہیں ہوتی مگر اس کے جمع کئے
ہوئے پانی سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
(3) جو شخص علم سیکھنے اور سکھانے کی طرف توجہ ہی
نہ دے تو اُس کی مثال اُس زمین کی طرح ہے جس پر نہ پانی ٹھہرتا ہے اور نہ ہی سبزہ
وغیرہ اُگتا ہے اور نہ ہی اُس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ (عمدة القاری،111/2 ،
فیوض الباری،313/1 ملخصًا)
محمد ریان عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان عطار ڈیفنس لاہور ، پاکستان)
قرآنِ مجید میں اللہ
تعالیٰ نے جگہ جگہ تشبیہات کے ذریعے حقیقت کو واضح فرمایا ہے اور نبی کریم ﷺ
نے اسی طریقے کو اپنی تعلیم و تربیت میں
جاری رکھا۔رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئ تشبیحات عام فہم مثالوں کے ذریعہ
گہرے معانی کو واضح کرتی ہیں جو کہ نہ صرف علمی ہیں بلکہ دل پر اثر کرنے والی بھی
ہیں ، ذیل میں چند احادیث مبارکہ بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں:
قرآن پڑھنے والوں کی تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ حضرت موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے وہ لوگ جو
قرآن پڑھتے ہیں ان کی مثال سنگترے کی سی ہے اس کا مزہ بھی لذیز ہوتا ہے اور اس کی
خوشبو بھی لذیز ہوتی ہے۔ ( صحیح بخاری،باب
فضل القرآن علی سائر السلام ،حدیث نمبر 5020)
اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں کی
فضیلت مذکور ہے جو کے قرآن ہی کی وجہ سے ہے تو اس سے قرآن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
دل کی تشبیہ: وَعَنْ
أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِترجمہ: روایت ہے حضرت ابو
موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے:
دل کی مثال اس پَرْ کی سی ہے جو میدانی زمین
میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔ ( مرآۃالمناجیح شرح مشکاۃ ج،1 ،ایمان کا بیان
،باب،تقدیر پر ایمان لانا،حدیث نمبر،103)
دل گویا کے پتّہ ہے اور دنیا
بڑا میدان اور صحبتیں تیز ہوائیں اگر پتّہ کسی بھاری پتھر کے نیچے آ جائے اور ہواؤں
سے محفوظ رہتا ہے اور اگر ہم کسی صالح کی صحبت میں آ جائیں تو ان شاءاللہ ہم بھی
محفوظ رہیں گے۔ ( مرآۃالمناجیح شرح مشکاۃ ج،1 ،ایمان کا بیان ،باب،تقدیر پر ایمان
لانا،حدیث نمبر،103)
انسانوں اور پروانوں کے درمیان
وجہ تشبیہ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ
عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي
وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ
يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ
النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ
يَدَيَّ حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص
کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں
آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔
(ریاض الصالحین ج،2،باب،سنت اور اسکے آداب ،حدیث نمبر،163)
رسول اللہ ﷺ نے
مخالفین اور جاہلین جو گناہوں کے سبب آگ میں گرتے ہیں نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اس وجہ سے تشبیہ دی گئی ہے کے یہ
دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں
اور اس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ (ریاض الصالحین ج،2،باب،سنت اور اسکے آداب)
دیکھا آپ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے
قرآن پڑھنے والوں کی فضیلت ، دل کی اور انسانوں اور پروانوں کی تشبیحات عام فہم انداز میں سمجھائی۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
انسان محسوسات اور مادی مثالوں
کے ذریعے غیر محسوس اور مجرد حقائق کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ قرآن مجید
میں بھی جابجا تمثیلات اور تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ معانی دلوں میں
راسخ ہوں۔اسی سنتِ الٰہی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے بھی دعوت و تعلیم کے دوران تشبیہات
اور مثالوں کو نہایت حکیمانہ انداز میں اختیار کیا۔ آپ ﷺ کا انداز بیان ایسا تھا
کہ نہ صرف معانی ذہن نشین ہو جاتے بلکہ سننے والا اپنے آپ کو اس مثال کے اندر
موجود پاتا۔
تشبیہ دراصل کسی مجہول مفہوم کو
معلوم حقیقت سے قریب کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب کوئی پیچیدہ بات ایک روزمرہ کی مثال کے
ذریعے بیان کی جاتی ہے تو وہ عام فہم ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس اسلوب کو تعلیم و تربیت میں
استعمال فرمایا تاکہ اعلیٰ دینی حقائق عوام و خواص دونوں کے ذہنوں تک آسانی سے
پہنچ سکیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نہ تو محض خطیبانہ جوش کا نتیجہ تھیں اور نہ ہی ذہنی
مبالغے کی پیداوار، بلکہ وہ حقیقت حال کو سب سے زیادہ قریب کرنے والی جامع مثالیں
ہوتی تھیں۔
چونکہ قرآن کریم نے تشبیہ کو بیان کا ایک مؤثر وسیلہ
بنایا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایمان،
نفاق، عمل صالح اور معاصی کی وضاحت کے لیے متعدد مثالیں دیں۔ آیئے اس کی چند
مثالیں پڑھیے:
(1) نماز کی مثال: آپ ﷺ نے پانچ وقت کی نماز
کو نہر کے کنارے بار بار غسل کرنے والے شخص سے تشبیہ دی۔ ارشاد فرمایا:تمہارا کیا
گمان ہے اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو
کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے کہا: ہرگز نہیں۔ فرمایا: یہی حال پانچ
نمازوں کا ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(المصنف لابن شیبہ،ج5،ص143،حدیث
نمبر:7821،دار کنوز،الریاض،1436ھ)
یہ مثال نہ صرف نماز کی تطہیری حقیقت کو واضح
کرتی ہے بلکہ اس کے تکرار اور دوام کی طرف بھی اشارہ ہے۔
(2) اپنی بعثت کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت
کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جس نے آگ جلائی، پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص
انہیں پکڑ پکڑ کر آگ سے بچاتا ہے مگر وہ خود ہی آگ میں کودنے پر مصر ہیں۔ فرمایا:میری
مثال اس شخص کی مانند ہے جو آگ جلائے، کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگیں اور وہ انہیں
بچاتا رہے لیکن وہ اس کی بات نہ مانیں۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ (جہنم) سے
بچا رہا ہوں مگر تم مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر اس میں جا رہے ہو۔(صحیح البخاری ،محمد بن
اسماعیل ،ج8،ص284، حدیث:6491،دارلتاصیل،القاہرہ،1433ھ)
یہ مثال آپ ﷺ کی شفقت اور انسانوں کی غفلت کو
نہایت اچھے انداز میں بیان کرتی ہے۔
(3) امت اور بارش کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی مثال بارش کی سی
ہے، معلوم نہیں ابتدا بہتر ہے یا انتہا۔(مسند ابو داؤد الطیالسی ،سلیمان بن داؤد
بن الجارور،ج2،ص38،حدیث:682،دار ھجر ،مصر،1419ھ)
یہ تشبیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امت کے
مختلف ادوار میں خیر اور برکت کے امکانات پائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی تشبیہات میں محض
بلاغت نہیں بلکہ حکمت اور تربیت کے اعلیٰ مقاصد پوشیدہ تھے۔ ایک طرف ان سے پیچیدہ
مسائل آسان ہو جاتے، دوسری طرف سامع کے ذہن میں ایک پائیدار نقش ثبت ہو جاتا۔ آپ ﷺ
کی مثالیں مختصر، جامع اور روزمرہ تجربات سے قریب ہوتیں، اس لیے ہر شخص اپنی عقل
کے مطابق فائدہ اٹھاتا۔ یہ اسلوب تربیتِ نبوی کی جامعیت اور ہمہ گیری کو ظاہر کرتا
ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا تشبیہات سے
سمجھانا نہ صرف ایک ادبی کمال تھا بلکہ ایک تربیتی حکمت بھی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے
دین کے بنیادی حقائق کو اس انداز میں واضح کیا کہ وہ ذہن و دل دونوں میں راسخ ہو
گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیوں کے بعد بھی جب ہم وہ تشبیہات پڑھتے ہیں تو یوں
محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہماری روزمرہ زندگی کے عین مطابق ہیں۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اریب یامین(
درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان کنزالایمان کراچی ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ نے
اپنی تعلیمات میں تشبیہات اور مثالوں کا بھرپور استعمال فرمایا ہے تاکہ پیچیدہ باتیں
آسانی سے سمجھی جاسکیں اور دلوں پر گہرا اثر ڈال سکیں ۔ یہ طریقہ نہ صرف سمجھنے میں
مدد گار ہوتا ہے بلکہ انسان کے دل و دماغ میں بات مضبوطی سے بٹھا دیتا ہے آپ علیہ السلام کے کلمات ہماری زندگی گزانے کے عملی
اصول بن جاتے ہیں اور اس انداز سے اخلاقی اصولوں کو اپنانے میں مدد بھی ملتی ہے ۔
تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ نے
اخلاق ، معاملات اور دین کی اہم تعلیمات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔ رسول اللہ ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت فرمانے کا طریقہ درس و تدریس میں ایک خاص حکمت اور خوبصورتی کی
علامت ہے ۔ آپ ﷺ نے
ہر دور اور ہر طبقے کے لوگوں کی فہم کے مطابق ایسی مثالیں استعمال کیں جو دل کو چھو جائیں ۔رسول اللہ ﷺ کی تشبیہات میں منفرد اثر ہوتا
ہے کیونکہ وہ زندگی کے تمام تجربات سے متعلق ہوتی ہیں جس سے سننے والا فوراً سمجھ لیتا
ہے ۔حضور ﷺ کا تشبیہات سے تربیت فرمانے کے خوبصورت انداز
کو درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمایئے :
(1) قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ
الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ
وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ
يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً۔ (مرآۃ المناجیح:5010)
ترجمہ: فرمایا رسول الله ﷺ نے
کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید
لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے
جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۔
اس مثال کے ذریعے سمجھایا گیا
ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔ (مرآۃ المناجیح)
آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہم اس فرمان کے الٹ عمل کر رہے ہیں جس کا نتیجہ
ہم بھگت رہے ہی اسی طرح بری صحبت کا بچوں پر اتنا برا اثر پڑتا ہے کہ وہ والدین کے
نافرمان اور شرابی اور جواری بن جاتے ہیں۔
(2) سَمِعْتُ
رَسُولَ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم يَقُولُ:تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ
كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا،فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ
سَوْدَاءُ،وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى
يَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ: أَبْيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ
مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ
مُجَخِّيًّا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا
أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ"(مرآۃ
المناجیح:5380)
ترجمہ: میں نے رسول الله صلی
الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا
اس میں سیاہ دھبہ پیدا کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا
ہوجاوے گا حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر
ہوجائیں گے ایک سفید جیسے سنگ مرمر، اسے
کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ
ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ وہ نہ بھلائی کو
پہچانے نہ برائی کو برا جانے سوائے اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی۔
مطلب یہ ہے کہ جو شخص فتنوں کو
اچھا سمجھے گا اس کا دل سیاہ ہو جائے گا بے ایمان جیئے گا بے ایمان مرے گا ۔ جو ان
فتنوں سے نفرت کرے گا اس کا دل نورانی ہوگا ۔ معلوم ہوا گناہ سے الفت اور نفرت کا
دل پر اثر پڑتا ہے ۔ پھر کبھی دل کا اثر چہرے پر نمودار ہو جاتا ہے ۔ چہرہ دل کی
کتاب ہے ۔(مرآۃ المناجیح)
آج ہمارے معاشرے میں اس کے
نظارے عام ہیں کہ پسند کرنا دور کی بات صرف بد مذہب کو سنتے ہیں تو وہ بدمذہب ہو رہے ہیں تو پھر پسند کرنے کی نحوست کتنی ہوگی
!
(3)قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ مَا
بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ
الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ
الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا
أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا
وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ
لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ
اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ
لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ
بِهٖ ۔(مرآۃ المناجیح:150)
ترجمہ:فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس
نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع
دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل
تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے
نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا
اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔
اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ
حضور گویا رحمت کے بادل ہیں حضور کا ظاہری و باطنی فیض اور نورانی کلام بارش ، انسانوں
کے دل مختلف قسم کی زمین۔ چنانچہ مومن کا دل قابل کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقوی
کے پودے اگتے ہیں۔ علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب اور خزینے کے گنجینے ہیں جس
سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی ۔ منافقین اور کفار
کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ فائدہ پہنچائیں۔ (مراۃ المناجیح)
اس تشبیہ کے دو فائدے ہیں : (1) کوئی شخص کسی درجے پر
پہنچ جائے حضور سے بے نیاز نہیں ہو سکتا کہ زمین کیسی ہو بارش کی محتاج ہے۔ (2) تا قیامت مسلمان علماء کے محتاج ہیں کہ ان کی
کھیتیوں کو پانی انہی تالابوں سے ملے گا
حضور کی رحمت انہی کے ذریعے ملے گی۔ (مراۃ المناجیح)
اس سے معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت
ایک نہیں ۔ کبھی علم ہوتا ہے ہدایت نہیں جیسے بے دین علماء ۔ کبھی ہدایت ہوتی ہے
بہت سا علم نہیں ہوتا جیسے عوام الناس۔ کبھی ہدایت اور دین دونوں ملتا ہے جیسے علمائے دین۔ اللہ ہمیں دونوں عطا فرمائے۔ امین(مرآۃ المناجیح)
(4)قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا
مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللّٰهُ بِهٖ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰى قَوْمًا،
فَقَالَ: يَا قَوْمِ! إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا
النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ،فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ، فَأَطَاعَهٗ طَائِفَةٌ مِنْ
قَوْمِهٖ فَأَدْلَجُوْا،فَانْطَلَقُوْا عَلٰى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ
طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ
فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا
جِئْتُ بِهٖ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهٖ مِنَ الْحَقِّ(مرآۃ المناجیح:148)
ترجمہ:فرمایا نبی ﷺ نے
کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی
قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں ، بچو بچو کہ اس کی قوم
سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ
گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا
دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا ، انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر
دیا، یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری
اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے
لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔
جیسے نجات و ہلاکت کا دارومدار
اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا
دارومدار حضور کے ماننے نہ ماننے پر ہے۔(مرآۃ المناجیح)
پیارے اسلامی بھائیو ! دیکھا
کتنے پیارے انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اللہ و رسول کی اطاعت
کرنے ، اچھی صحبت اختیار کرنے ، تلاوت قرآن کرنے اور فتنوں سے بچنے کا فرمایا ۔
اللہ ہمیں ان چیزوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اس انداز کو اختیار کرکے اپنے ماتحت افراد کی تربیت
کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد ابدال عطاری (درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر
ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
رسولِ اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے
”جوامع الکلم“ عطا فرمائے، یعنی آپ ﷺ قلیل الفاظ میں کثیر معانی بیان فرماتے۔ آپ کی احادیث میں گہری حکمتیں اور نصیحتیں پوشیدہ
ہیں۔ تعلیم کو قریب اور آسان بنانے کے لیے آپ ﷺ تمثیل اور تشبیہ کے اسلوب کو استعمال فرماتے تاکہ سننے والا بات کو
فوراً سمجھ سکے اور اس کے دل پر اثر کرے۔ ذیل میں اس کے متعلق چند اہم احادیث ذکر
کی جاتی ہیں۔
(1) مسلمانوں کی مثال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم
مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے
ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں
ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری،
کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبھائم، رقم الحديث 6011)
یہ تمثیل واضح کرتی ہے کہ
مسلمان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں۔
(2) نیک اور برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ
الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَجَلِيسِ السُّوءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ترجمہ: نیک ساتھی کی مثال خوشبودار عطر والے کی سی ہے جبکہ برا ساتھی
لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔(بخاری، کتاب الذبائح و الصید ، باب المسک، رقم الحدیث:
5534)
یہ مثال اس بات کی تاکید ہے کہ
انسان اپنے دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے۔
(3) ہدایت اور علم کی مثال:حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ پاک نے جس ہدایت
اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے
اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ
بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتو اللہ
پاک نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور
کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے
نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ پاک کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ پاک نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے
خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ
جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اور اللہ پاک کی وہ ہدایت جس
کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل، باب بیان مثل مابعث النبی من الھد والعلم، صحیح 1253، حدیث: 2282)
اس سے معلوم ہوا کہ لوگ علم سے
مختلف انداز میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(4) قرآن پڑھنے والے کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والا مؤمن خوشبودار پھل کی مانند
ہے، جس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں
اچھے ہیں۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن،باب فضل القرآن علی سائر الکلام 5020 )
یہ مثال قرآن پڑھنے کی عظمت اور
اس کے نورانی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔
(5) میری اور تمہاری مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور میری امت
کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہوئی ہو اور سارے کیڑے مکوڑے اور
پتنگے اس میں گرتے چلے جا رہے ہوں اور میں تمہاری کمروں کو پکڑے ہوئے ہوں اور تم
بلا سوچے اندھا دھند اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب شفقتہ
علی امتہ و مبالغتہ فی تحذیرھم مما یضرھم، رقم الحدیث 5955)
یہ تمثیل اس بات کی دلیل ہے کہ
آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیں جہنم سے بچانے کے لیے ہیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور
اکرم ﷺ نے بات کو سمجھانے کے لیے تمثیل و تشبیہ کا نہایت مؤثر انداز اختیار فرمایا۔
کبھی مؤمن کو خوشبودار پھل سے تشبیہ دی، کبھی برے دوست کو آگ کی بھٹی سے، اور کبھی
امت کو ایک جسم سے۔ یہ اسلوب نہ صرف بات کو واضح کرتا ہے بلکہ دلوں پر گہرا اثر
چھوڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان مثالوں کو یاد رکھ کر اپنی زندگی کو سنواریں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے
برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کو بھیجا جو وحی کے نور سے دلوں کو روشن کرتے اور عملی
زندگی میں معلم و مربی بن کر انسانیت کی تربیت فرماتے۔ان سب ہستیوں کے سردار ہمارے
آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے معلمِ اعظم کا شرف عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کا اسلوبِ تعلیم نہایت
حکمت بھرا اور انسانی فطرت کے مطابق تھا۔ آپ ﷺ مشکل سے مشکل حقیقت کو بھی ایسی
مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے واضح فرماتے کہ سننے والا نہ صرف فوراً سمجھ جاتا
بلکہ وہ بات ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو جاتی ۔ اسی اندازِ مبارک کی روشنی میں ہم ”نبی
کریم ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا“ کے چند روشن نمونے پیش کرتے ہیں۔
(1)مومن مومن کے لیے عمارت کی
طرح ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک
مومن ، دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا
ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل
کرکے اشارہ فرمایا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب
المظالم ، باب: نصر المظلوم ، جلد 02 ، ص: 863 ، حدیث نمبر: 2314، دار ابن کثیر )
یعنی مومن ایک دوسرے کے ساتھ ایسے
جُڑے رہتے ہیں جیسے دیوار کی اینٹیں، جو ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔
(2) میری امت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے ۔
معلوم نہیں کہ اس کی پہلے والی اچھی ہے یا بعد والی ۔ ( مسند احمد ، جلد 19 ، ص: 334،حدیث نمبر: 12327، مؤسسۃ الرسالۃ ) یعنی جیسے بارش کا ایک ایک قطرہ
برکت والا ہوتا ہے ، اسی طرح میری ساری کی ساری امت خیر والی ہے ۔ (مراۃ المناجیح ،ج 08 ، حدیث نمبر: 6287 ملخصاً)
(3) پانچوں نماز کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ
روزانہ اُس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اس پر کوئی کچھ میل رہ جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اسی
طرح ہیں ، اللہ تعالی ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ۔ ( سنن ترمذی ،ابواب امثال عن رسول اللہ ﷺ ، جلد 05 ، ص: 146 ، حدیث نمبر: 3084، دار الرسالۃ
العالمیہ )
یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر
موجود نہر تک تم بآسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دور کرسکتے ہو ،
اسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم بآسانی
نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرسکتے ہو ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، جلد 07 ، حدیث نمبر:
1043 )
(4) قرآن سے خالی دل کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ ( سنن ترمذی ، ابواب فضائل
القرآن، جلد 05 ، ص: 177 ، حدیث نمبر: 2913، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفی البابی
الحلبی، مصر )
جس دل میں قرآن نہ ہو، وہ دل ایسے
ہے جیسے انسانوں اور سامان سے خالی ویران مکان۔
(5) حسد اور خرچ کرنے کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے
آگ لکڑی کو ۔ (الترغیب و الترہیب ، باب
في الترهيب من الحسد وذم الحاسد جلد 02 ، ص: 56 ، حدیث: 1134 ، دار الحدیث، القاہرۃ )
یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا
ہے جس سے نیکیاں ضبط ہوجائیں گی ، حاسد اور بغض والے کی نیکیاں محسود(جس سے حسد کیا
جائے ) کو دے دی جائیں گی ،یہ خالی ہاتھ رہ ج آئے گی ۔ ( مراۃ المناجیح ، جلد 06 ، حدیث نمبر: 5040)
الغرض نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کے
ذریعے نہ صرف بات کو آسان بنایا بلکہ ہمیشہ کے لیے یادگار بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی آپ کی سنت کے مطابق سیکھنے اور
سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تشبیہ ہر زبان میں تعبیروتفہیم
اور اظہاروبیان کا ایک مؤثر ذریعہ رہا ہےیہ ہی وجہ ہے کہ کوئی کتاب خواہ وہ انسانی ہو یا آسمانی اس سے خالی نظر نہیں
آتی ۔ کلام اللہ میں بھی بکثرت تشبیہات کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے بعد سب
سے اہم کلام کلام نبوی ہے حضور علیہ السلام نے بھی تبلیغ میں اس طریقے کو اختیار کیا
ہے بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جس میں نبی پاک علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے
ذریعے سمجھایا ہے کیونکہ جو چیز اس طرح سمجھائی جائے وہ ذہن میں پختہ ہو جاتی ہےاور جلدی سمجھ آ جا تی ہے۔
اس مضمون میں ہم ایسی احادیث کو
بیان کریں گے کہ جس میں حضور علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے ذریعے تعلیم فرمائی
اور ان احادیث کی کچھ وضاحت بھی کریں گے۔
(1) مومن کو کھجور کے درخت
سے تشبیہ دی: ترجمہ: عبداللہ بن عمر سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے اور وہ درخت مومن کے مشابہ ہے مجھے بتاو وہ کونسا درخت ہے؟ تو لوگ باغات کے درختوں میں کھو گئے ( راوی
فرماتے ہیں ) میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں شرم کی وجہ سے
خاموش رہا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ اس درخت کے
بارے میں ہمیں بتا دیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے ۔(
صحيح بخاری كتاب العلم باب الحیاء فی العلم حديث نمبر 131 مکتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو کھجور کے درخت سے اس لیے تشبیہ
دی کہ کھجور کا درخت ہمیشہ ہرا بھرا رہتا
ہے اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس درخت کے پتے
نہیں گرتے گویا کہ اس تشبیہ سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ مسلمانوں کو بھی
ذکر اور تسبیح کے ذریعے سے ہرا بھرا رہنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ کھجور کا درخت
بڑا ہی نافع درخت ہے کھجور کے درخت کا پورا وجود انسان کے لیے نفع بخش ہے گویا کہ
اس کو مومن سے تشبیہ دیکر اس کے نفع مند ہونے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مومن
کو سماج اور معاشرے کے لیے نافع ہونا چاہیے۔
(2) قرآن کی تلاوت کرنے
اور نہ کرنے والوں کو مختلف اشیاء سے تشبیہ:ترجمہ: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی پاک علیہ السلام سے روایت
کرتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا : اس(مومن)کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی
طرح ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور اس (مومن)کی
مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی
خوشبو نہیں ہوتی اور اس فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ پھول کی طرح ہے جس کی
خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایک جڑی بوٹی کی طرح
ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔(صحيح بخارى، كتاب
القران ، باب فضل القران على سائر الكلام، حديث نمبر 5020 ، مكتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں چار افراد کا تذکرہ
ہے:(1) مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کو
سنگترے کے ساتھ تشبیہ دی سنگترے میں دو خوبیاں ہیں ایک تو اس کا ذائقہ بھی عمدہ
ہوتا ہے دوسرا اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن پڑھنے والے مومن میں بھی
دو صفات ہوتی ہیں ایک باطنی یعنی دلی اعتقاد جو کہ ایمان ہے یہ گویا میٹھا ذائقہ
ہے دوسری صفت ظاہری جس کا اثر لوگوں تک پہنچتا ہے اسے خوشبو سے تشبیہ دی گویا قرآن
پڑھنے والا مومن ظاہر و باطن کے لحاظ سے بہتر ہے۔
(2) وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اسے کھجور کے ساتھ
تشبیہ دی کھجور میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں
خوشبو نہیں ہوتی اس طرح قرآن نہ پڑھنے والا مومن ہے کہ ایمان کی بدولت اس کا باطن
تو اچھا ہےلیکن اس کے ظاہر میں کوئی اثر نہیں۔
(3) فاجر(منافق)جو قرآن
پڑھتا اسے گل ریحانہ کے ساتھ تشبیہ دی گل ریحانہ کی جوشبو تو ہوتی ہے مگر اس کا
ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، قرآن پڑھنے والے منافق میں ظاہری اثر تو ہے لیکن باطن یعنی ایمان
کی دولت سے وہ خالی ہےدیکھنے میں وہ مسلمان نظر آتا ہے مگر اندر سے مسلمان نہیں۔
(4) فاجر( منافق) جو قرآن
نہیں پڑھتا اسے حنظلہ بوٹی کےساتھ تشبیہ دی جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی
خوشبو بھی نہیں ہوتی اس طرح وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا نہ اس کا ظاہر اچھا ہے نہ
اس کا باطن اچھا ہے۔
(3) قرآن کو اونٹ کے ساتھ
تشبیہ دی :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:قرآن کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے
جس کے گھٹنے بندھے ہوئے ہوں اگر اس کا مالک ان بندھنوں سے اس کی حفاظت کرے تو اس
کو اپنے پاس روکے رکھے گا اور اس کےبندھنوں کو کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔(صحیح
بخاری، کتاب فضائل قرآن،باب استذکار القرآن،حدیث نمبر 5031،مکتبہ انعامیہ)
مطلب یہ ہے کہ جب تک قرآن کی
تلاوت کی جاتی رہے گی وہ یاد رہے گا اور
جب اس کی تلاوت چھوڑ دی ج آئے گی تو وہ
بھولا دیا جائے گا اس لیے قرآن کو مسلسل پڑھتے رہنا چاہیے بالخصوص حافظ قرآن کو
چاہیے کہ حفظ کے بعد روزانہ باقاعدگی سے اس کو پڑھے ۔
رسول اللہ سے پوچھا گیا کونسا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: جو تندرستی کی حالت میں کیا جائے اس کا تمہیں لالچ بھی ہونیز اس کی وجہ سے مالدار ہونے کی امید اور تنگدستی کا خوف بھی ہو ، صدقہ کرنے میں اتنی تاخیر نہ کی جائے کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے لگے فلاں کے لیے اتنا ، فلاں کے لیے اتنا حالانکہ اب تو وہ فلاں کا ہی ہے ۔( صحیح بخاری حدیث نمبر 2748 مکتبہ انعامیہ)
ابتدا ہے رب ذوالجلال کے بابرکت
نام سے جس نے تمام جہانوں کو پیدا کیا جس میں سب سے عظیم شخصیت محمد رسول
اللہ ﷺ کو مبعوث فرما کر عالم آفتاب کو
جگمگ جگمگ کر دیا۔ اسی محبوب ﷺ کو
کہ جس نے نوع انسانی کو نہ صرف جینے کا سلیقہ سکھایا۔
حضور ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جو کبھی
کوئی کلام فرماتے تو وہ اس انداز میں بیان فرماتے کہ سامنے بیٹھے سامعین اسے اچھی
طرح یاد کر لیتے کہیں بات سمجھ نہ آتی تو مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے
عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺ یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیے تو مصطفی جان رحمت ﷺ وہ
بات اس انداز میں بیان کرتے اور کسی ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بیان کرتے کہ
سامنے بیٹھے سامعین کو بات اچھی طرح سمجھ آ جاتی ۔
اور ویسے بھی جو بات تشبیہات کے ذریعے یا کسی
چیز کی طرف اشارہ کر کے سمجھائی جائے وہ نہ صرف سمجھ آتی ہے
بلکہ عرصہ دراز تک وہ بات یاد بھی رہتی ہےاور وہ سمجھایا ہوا انداز بھی یاد رہتا
ہے۔ چنانچہ کثیر احادیث طیبہ میں مصطفی جان رحمت ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے مثال بیان
فرمانا اور کسی بات کو سمجھانا یہ مذکور ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص روایت کرتے
ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے مومن کی مثال اس سونے
کی ڈلی کی سی ہے جس کے مالک نے اس کو تپایا پھر نہ تو اس کا رنگ بدلا اور نہ وزن
گھٹا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے مومن کی مثال ٹھیک اس شہد کی
مکھی کی سی ہے جس نے عمدہ پھول چوسے، اچھا شہد بنایا اور جس شاخ پر وہ بیٹھی نہ تو
اپنے وزن سے اس کو توڑا نہ خراب کیا۔ (مسند احمد ۱۱/۴۵)
اسی طرح کثیر تشبیہات و تمثیلات
کے ذریعے حضور ﷺ نے کلام فرمایا جو کہ طویل ہے المختصر یہ کہ
حضور ﷺ کا تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے سے کلام فرمانا نہایت ہی موثر اور سمجھانے
والا کلام ہوتا ۔ہمیں بھی چاہیے کہ جب کبھی کلام کریں تو مصطفی جان رحمت ﷺ کی
اس سنت کو اپناتے ہوئے کلام کیا کریں۔
Dawateislami