رحمتِ دو عالم، معلمِ کامل،
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس نہ صرف انسانیت کے لیے سراپا ہدایت
ہے بلکہ آپ کا اسلوبِ تربیت بھی ہر جن و انس کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کا اندازِ
گفتگو، دل نشین حکمتوں سے مزین اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہوتا۔ آپ ﷺ نے دعوت و تربیت کے لیے جو طریقے
اختیار فرمائے، ان میں ایک نہایت پُراثر اور مؤثر انداز (تشبیہات کے ذریعے تربیت دینا)
بھی ہے۔
تشبیہ دینا، ایک ایسا فطری و
فکری وسیلہ ہے جو خشک باتوں میں روح پھونک دیتا ہے، اور مشکل مفاہیم کو عام فہم انداز
میں واضح کر دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب بھی کسی پیچیدہ حقیقت کو سمجھانا چاہا،
تو موقع و محل کے مطابق ایک جامع، مختصر مگر بلیغ مثال پیش فرما کر دلوں پر اثر
ڈال دیا۔ یہی وہ اسلوب ہے جو آج بھی تعلیم و تربیت کی دنیا میں بہترین اور لازوال
تصور کیا جاتا ہے۔ آئیے اب کچھ ایسی احادیث
مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی:
(1) ویران گھر کی طرح: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ
الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ
مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن
عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں
قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )
مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی
آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے
تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا
اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔ (فیضان
ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے
(2) شیطان آدمی کا بھیڑیا: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ
الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ
وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ
بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ رَوَاهُ
أَحْمَدُترجمہ:روایت ہے حضرت معاذ بن
جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا
بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔احمد(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث
نمبر:184)
(3) دین کو نقصان پہنچانے والی
شے: عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ
حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں
چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ
جاہ، انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ،حدیث
نمبر: 485)
رسولِ کریم ﷺ کا
مثالوں کے ذریعے تربیتی اسلوب آج بھی ہمارے لیے رشد و ہدایت کا چراغ ہے۔ آپ کی ہر مثال میں حکمت کا سمندر اور فہم کا
نور پوشیدہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان روشن تعلیمات سے سبق لے کر اپنی زندگی کو
سیرتِ نبوی کے مطابق سنواریں۔
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبد المبین ( تخصص فی الحدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاون لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالی کا احسان ہے جس نے حضور علیہ السلام کی ذات گرامی کو ہماری تعلیم و تربیت کے لیے مبعوث
فرمایا اور تمام عالم کی تربیت و اصلاح کے لیے حضور علیہ
السلام کو معلم اور رحمت بنا کر بھیجا
۔اور حضور ﷺ کو بے شمار اوصاف وکمالات عطا فرمائےاور
حضور ﷺ نے مختلف اندازسے تربیت فرمائی جن
میں سے ایک انداز حضور ﷺ کا
تشبیہات سے لوگوں کی تربیت فرمانا ہے
اوروہ بے شمار احادیث ہیں ان میں سے چند
پیش خدمت ہیں:
(1) حضور ﷺ کا
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو بادلوں کے
ساتھ تشبیہ دینا: حضرت ابو امامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوا سنا کہ تم
قرآن کی تلاوت کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے
لیے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو ، سورہ بقرہ
اور سورہ آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن
اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی
قطاریں ہوں اور اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔ تم سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے
اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مسلم،کتاب
المساجد ومواضع الصلاۃ،باب فضل قرآءۃ القرآن و فضل سورۃ البقرۃ،ج:2، ص 197، رقم
الحدیث:252الناشر:دار الطباعۃ العامرۃ۔ترکیا،الطبعۃ الاولی 1433ھ)
(2) اپنے اصحاب کو ستاروں کے
ساتھ تشبیہ دینا: عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میر ے اصحاب ستاروں کے طرح ہیں تم
نے ان میں سے کسی کی اقتدا کر لی تم ہدایت پا جاؤ گئے۔(جامع بیان العلم وفضلہ،باب
ذکر الاختلاف من اقاویل۔۔۔الخ،ج:2،ص:925،رقم الحدیث:1760،الناشر:دار ابن
الجوزی۔السعودیۃ ،الطبعۃ الاولی،1414ھ۔ٍ1994م)
(3) ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا کو ثرید کے ساتھ تشبیہ دینا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی
کریم ﷺ سے روایت کرتے ، حضور ﷺ نے
فرمایا کہ عورتوں پر حضرت عائشہ کی
فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید
کی فضیلت ہے۔(بخاری،کتاب الاطعمۃ،باب الثرید،ج:5،ص:2067،رقم
الحدیث: 5103، الناشر:دار ابن کثیر،دار
الیمامۃ۔دمشق،الطبعۃ الخامسۃ، 1414ھ-1993م)
(4) حضور ﷺ کا اپنے اصحاب کو نمک کے ساتھ
تشبیہ دینا: حضور ﷺ نے
اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم لوگوں میں اس طرح ہو گئے جیسے نمک کھانے میں ہوتا ہے۔(مصنف
ابن ابى شيبہ،کتاب الفضائل،باب ماجاء فی الکف عن اصحاب النبی ﷺ ،ج:18،ص:168،الناشر:دار کنوز للنشر والتوزیع۔
الریاض، الطبعۃ الاولی،1436ھ۔2015)
محمد
واسق (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
بے شک نبی کریم ﷺ اپنی
امت کے لیے اسوہ حسنہ ہیں اور نبی کریم ﷺ نے امت کی تعلیم کے لیے ہر اس طریقے کو اختیار
فرمایا ہے جو آسان ہو اور صحابہ کرام اور بعد
میں آنے والے لوگ اس کو آسانی سے سمجھ کر
اس پر عمل پیرا ہو سکیں، انہیں طریقوں میں
سے ایک خوبصورت طریقہ نبی کریم ﷺ کا تشبیہات
کے ذریعے تربیت دینا ہے کہ ایسے انداز سے تربیت دینے میں بات احسن طریقے سے مخاطب
کو سمجھ میں آ جاتی ہے۔
تشبیہ کا لغوی معنی کسی چیز کو دوسری چیز کے
مشابہ قرار دینا ،تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانے کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ
ہوں
(1) مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ
وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ، فَأَخْبِرُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا
النَّخْلَةُ، فَلَمَّا قَالُوا: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ صحابہ جنگل کے درختوں کی
طرف سوچا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں
آیا کہ وہ کھجور ہے، لیکن انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 61)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح
کھجور تر و تازہ رہتی ہے اس طرح مومن بھی تروتازہ رہتا ہے۔
(2) برے اور اچھے ساتھی کی مثال: عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّمَا
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ،
وَنَافِخِ الْكِيرِفَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ
الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: نیک
اور بد ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے ، کستوری
والا یا تو تجھے کچھ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا کم از کم اس کی خوشبو
پا لے گا جبکہ بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے
کپڑے جلا دے گا، یا اس کی بدبو تجھے پہنچے
گی۔ (صحیح البخاری، حدیث: 2101)
یہ حدیث صحبت کی اہمیت پر دلالت
کرتی ہے کہ اگر نیک صحبت ہوگی تو نیکی کی
طرف رغبت ہوگی اور اگر بری صحبت ہوگی تو برائی کی طرف رغبت ہوگی۔
(3) علم نہ سیکھنے والے کی مثال: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:مَثَلُ مَا بَعَثَنِي
اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَ
مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ
الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ
بِهَا النَّاسَ وَأَصَابَ طَائِفَةً
مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: جو علم
اور ہدایت اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش ایک زمین پر
پڑی۔ کچھ زمین زرخیز تھی، پانی جذب کیا اور گھاس اگائی؛ کچھ نے پانی محفوظ رکھا جس
سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہےاور کچھ زمین بنجر تھی، نہ پانی روکا نہ کچھ اگایا۔(صحیح
البخاری، حدیث: 79)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے
والا کو خود کو بھی نفع دیتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع دیتا ہے اور علم حاصل نہ
کرنے والا وہ خود کو بھی نفع نہیں دیتا اور دوسروں کو بھی نفع نہیں دیتا۔
(4) منافق اور مؤمن کی مثال: نبیِّ کریم ﷺ نے
فرمایا: مؤمن کی مثال نرم سبز پودے کی طرح
ہے، جسے ہوائیں جھکاتی اور اٹھاتی رہتی ہیں (یعنی آزمائشیں آتی رہتی ہیں)جبکہ
کافر کی مثال سیدھے مضبوط درخت جیسی ہے، جو ایک دم ہی کٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری،
حدیث: 5644)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومنین پہ آزمائشیں آتی
رہتی ہیں جبکہ کافر کے پاس چونکہ ایمان کی دولت نہیں ہوتی تو اسے دائمی عذاب کے ساتھ موت آتی ہے۔
احادیث کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ
بات معلوم ہوئی کہ تشبیہ کلام کو کس قدر موثر بنا دیتی ہے لہذا اساتذہ کو چاہیٔے
کہ وہ اپنے طلبہ کرام کو اپنے کلام میں والدین کو چاہیٔے کہ وہ اپنے اولاد کو اپنی
نصیحت میں تشبیہ دے کر سمجھائیں تاکہ وہ کلام
ان کے ذہنوں میں موثر انداز سے بیٹھ جائے
اور وہ اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
انس
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
رسولِ اکرم ﷺ نے تعلیم و تربیت
کے لیے تشبیہات کا بھی استعمال فرمایا، تاکہ مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم
آسان اور دلنشین انداز میں سمجھائے جا سکیں۔ ذیل میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت
فرمائی۔
(1) انسان کو پروانے کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ
رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ
رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر 2285)
علامہ ابو زکریا یحیٰ بن شرف
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’رسول
اللہ ﷺ نے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں
حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے
منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے
ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ
دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ گرتے
ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ: حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب فرماتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے
اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی
) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ یہاں گرفت
مضبوط ہوتی ہے ۔( فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد 2، صفحہ نمبر 531،532)
(2) مومن کو سونے کی ڈلی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ،
أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ:وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ
الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ،
وَلَمْ تَنْقُصْ
ترجمہ: حضرت عبداللہ ا بن عمرو
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے سنا، نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال
سونے کی ڈلی کی مانند ہے، جسے اگر اس کا مالک آگ میں ڈالے تو نہ اس کا رنگ بدلتا
ہے اور نہ اس کا وزن کم ہوتا ہے۔( مسند احمد، حدیث نمبر 6872)
جس طرح خالص سونا آگ میں ڈالنے سے نہ اس کا رنگ
بدلتا ہے اور نہ ہی اس کا وزن کم ہوتا ہے، اسی طرح ایک سچا مؤمن آزمائشوں اور مصیبتوں
میں ثابت قدم رہتا ہے، اس کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔
(3) مسلمان کو کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ
مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ،
فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ
النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي
أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک درختوں میں ایک ایسا درخت ہے
جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ درخت مسلمان کی مثل ہے، مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
لوگ جنگل کے درختوں کے متعلق سوچنے لگے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے
دل میں یہ بات آئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر (بڑے صحابہ کے درمیان ہونے کی) حیا
کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! آپ ہمیں اس درخت کے متعلق بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ (
صحیح بخاری ، کتاب العلم، حدیث نمبر 61)
کھجور کے درخت کو مسلمان کے مثل
کہنے کی وجہ: نیک مسلمان اور کھجور کے درخت میں کئی باتیں ایک جیسی ہیں مثلاً: نیک
مسلمان بھی کھجور کے درخت کی طرح سایہ دار ہوتا ہے، اُس کا کردار کھجور کی
طرح عمدہ ہوتا ہے ، جیسے کھجور کی لکڑی ایندھن،
شہتیر، لاٹھی، چھڑی بن کر بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ ایسے ہی نیک مسلمان کے اچھے اعمال، سچائی، دیانت داری وغیرہ معاشرے کی
ترقی و خوشحالی کا سبب بنتے ہیں۔ ( ضیاء القاری فی شرح مختصر البخاری ، جلد 1،
صفحہ نمبر 498)
(4) مومن کو شہد کی مکھی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ،
إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ
طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ، وَلَمْ تُفْسِدْ
ترجمہ:قسم ہے اُس ذات کی جس کے
قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے، جو پاکیزہ
چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز پیدا کرتی
ہے، اور جب کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو نہ اسے توڑتی ہے اور نہ ہی نقصان پہنچاتی ہے۔( مسند احمد ، حدیث نمبر 6872)
شہد کی مکھی صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ شہد پیدا کرتی ہے، اور جہاں بیٹھتی
ہے وہاں نقصان نہیں پہنچاتی ۔ اسی طرح مؤمن حلال رزق حاصل کرتا ہے، پاکیزہ اعمال
کرتا ہے، اور دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
نبی پاک ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت کا مقصد دلوں کو متاثر کرنا، مفہوم کو ذہن نشین کرنا اور عمل کی
طرف مائل کرنا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم
تعلیم و تربیت میں سادہ، موثر اور حکمت سے بھرپور انداز اپنائیں جیسا نبی کریم ﷺ نے
انداز اپنایا۔ اگر آج ہم نبی کریم ﷺ کی اس حکمت کو اپنائیں تو معاشرے میں اخلاق،
کردار اور تربیت میں انقلاب آ سکتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
قرآن کریم اللہ عزوجل کا ایک ایسا لاریب کلام ہے جس میں اس نےمختلف امور سے متعلق لوگوں کی راہنمائی فرمائی چنانچہ نیکی کی دعوت کس طرح دی جائے اسکے بارےمیں ارشاد فرمایا: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ
الْحَسَنَةِ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت
کے ساتھ بلاؤ ۔(پ14، النحل: 125 )
حضور ﷺ کی مبارک حیات ِطیبّہ قرآن کے احکامات پر عمل کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہے ، جیسا کہ
اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔(پ21، الاحزاب:21)
لہذا آپ ﷺ کا اندازِتعلیم و تبلیغ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے اور آپ
ﷺ کے اندازتعلیم و تربیت میں ہمیں تشبیہات
کا استعمال بھی نظر آتا ہے اور کسی چیز کی
حقیقت بیان کرنے یا کوئی بات ذہن نشین کرنے کے لیے تربیت کا ایک اصول تشبیہ دے کر سمجھانا
بھی ہے۔ ذیل میں تشبیہات سے تربیت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
(1) ختم نبوت کو محل کی آخری اینٹ سے تشبیہ دی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے
فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاءعلیھم السلا م کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا تو اس کو اچھا اور خوبصورت بنایامگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ
باقی چھوڑ دی تو لوگ اس کے اردگرد گھومتے اور تعجب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ اینٹ
کیوں نہیں لگائی گئی حضور ﷺ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہو ں اور میں خاتم النبیین ہوں
۔(صحیح بخاری ،کتاب المناقب،بَابُ
خَاتِمِ النَّبِيِّينَ صلى الله عليه وسلم،ج2،ص422 حدیث:3535،دارالکتب العلمیہ بیروت)
(2)مسلمان کی کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟عبداللہ کہتے ہیں: لوگ
اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے ،اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت
ہے ،مجھے شرم آگئی پھر صحابہ کرام علیھم
الرضوان نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ
ہی ہمیں بتائیں اس کے بارے میں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔ (صحیح
البخاری،کتاب العلم ،بَابُ
قَولِ الْمُحَدِّثِ: حَدَّثَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا وَأَنْبَأَنَا،ج1،ص24،حدیث:61 دارالکتب
العلمیہ بیروت)
(3)مسلمانوں کو ایک جسم سے تشبیہ:
رسول الله ﷺ نے حکمت و دانائی
کی اہمیت سمجھانے کے لیے اسے گمشدہ خزانے سے تشبیہ دی اور فرمایا: حکمت مؤمن کا گم
شدہ خزانہ ہے لہذا مؤمن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (سنن ترمذی
،ج4،ص 620-621،حدیث نمبر:2882 المكتب الإسلامي بيروت)
(4)صحابہ کرام علیہم الرضوان
کو ستاروں سے تشبیہ:صحابہ
کرام علیہم الرضوان کی شان و عظمت کے بارے میں تربیت
فرماتے ہوئے انہیں تاروں سے تشبیہ دی فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ میرے صحابہ تاروں کی مانند ہیں
تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔ (سنن ترمذی ،ج3،ص
1696،حدیث نمبر:6018 المكتب الإسلامي بيروت)
(5)ظلم کی اندھیرے سے تشبیہ: حضور رحمت عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہو گا۔ (سنن ترمذی ،ج
4،ص121، حدیث نمبر:2149 دار الرسالۃ
العالمیۃ)
محمد
فیضان علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد ، پاکستان)
حضور اکرم ﷺ کی ذات پاک کامل و
اکمل ہے، آپ ﷺ معلم اعظم اور مربی ہیں۔ آپ
ﷺ نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہماری تربیت
فرمائی جس کے لیے آپ نے کئی موثر اور سہل
طرق اختیار فرمائے مثلاً کبھی اشاروں سے،کبھی مثالوں سے اسی طرح ایک اسلوب تشبیہ
کے ذریعے تربیت فرمانا بھی اختیار فرمایا کہ ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر
سمجھایا تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ سکے۔ اسی
مناسبت سے پانچ فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمائیں:
(1) مدینہ کو مکہ سے تشبیہ دی : أَنَّ رَسُولَ اللّٰه ﷺ قَالَ: إِنِّی حَرَّمْتُ
المَدِیْنَةَ کَمَا حَرَّمَ إِبرَاھِیمُ مَکَّةَ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کو حرم بناتا ہوں جیسے حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا۔ (بخاری،کتاب البیوع،رقم الحدیث
2129،ص 554)
(2) سفید بال کو کالے بیل سے تشبیہ دی: عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنہ
قَالَ قاَلَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: إِنَّ الجَنَّةَ لَا یَدْخُلُهَا اِلاَّ نَفْسٌ
مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّركِ اِلاَّ كَالشَعْرَةِ البَيْضَاءِ فِي
جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے
فرمایا: بے شک جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا اور وہ مسلمان شرک کرنے والوں میں سے
اس طرح نمایاں ہوگا جیسے ایک سفید بال کالے بیل کی کھال میں۔(بخاری،کتاب
الرقاق،رقم الحدیث 6528،ص 1602)
(3) فتنوں کو بارش کے قطروں سے تشبیہ دی: عَنْ أُسَامَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ
اللّٰهِ ﷺ: اِنِّی لأَرَی مَوَاقِعَ الفِتَنِ خِلاَلَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ
الْمَطَرِ حضرت اسامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار ﷺ نے فرمایا:
میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے
قطرے۔ (بخاری،کتاب فضائل المدینہ،باب آطام المدینہ،رقم الحدیث 1878،ص 498)
(4) جنتی بالا خانوں کی مثال : عَنْ سَھْلٍ عَنِ النَبِیِّ صلی الله علیہ وآلہ وسلم
قَالَ: إِنَّ أَھْلَ الجَنَّةِ لَيَتَراءَوْنَ الغُرْفَ فِي الجَنَّةِ كَمَا
تَتَرَاءَوْنَ الكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے جیسے
تم آسمانی ستاروں کو دیکھتے ہو۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الصفۃ الجنۃ والنار،رقم
الحدیث 6555،ص 1607)
(5) جنت و دوزخ کے قرب کی مثال : عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنہ قَالَ
رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: الجَنَّةُ أَقْرَبُ اِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ حضرت عبد الله بن مسعود رضی
الله عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ
قریب ہے اور اسی طرح سے دوزخ بھی۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الجَنَّةُ أَقْرَبُ
اِلَى۔۔۔،رقم الحدیث 6488،ص 1594)
پیارے اسلامی بھائیو! حضور ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت فرمانا نہ صرف ایک بہترین طریقہ ہے بلکہ یہ ہماری عقلوں کے مطابق
بھی ہے ۔
الله پاک عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
عثمان سعید( دورہ حدیث مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
تشبیہ و تمثیل ایک ایسا جاندار
اسلوبِ بیان ہے جو صرف معانی کو واضح نہیں کرتا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ پر دیرپا
اثر بھی چھوڑتا ہے۔ آخری نبی ﷺ نے دعوتِ اسلام،تعلیم و تربیت اور اصلاحِ امت
کے لئے تشبیہات کو بھی استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ نے مشکل مضامین کو آسان اور گہرے
مفاہیم کو عام فہم بنانے کے لیے اس اسلوب کو اپنا کر امتِ مسلمہ کے لیے رہنمائی
اور تربیت کی روشن مثالیں قائم کردیں جو نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم
و تربیت کے لیے مفید ثابت ہوئیں بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کےلئے بھی کامیابی و
کامرانی کا ذریعہ بنی ۔ آئیے چند ایسی
احادیثِ مبارکہ پڑھیئے جس میں نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کو استعمال فرما کر
ہماری اصلاح فرمائی:
(1) مسلمان کو دیوار کی اینٹوں کی ساتھ تشبیہ: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایسا ہے جیسے دیوار کی اینٹیں ایک دوسرے کے لیے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں
ہے:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ
كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے
ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دسرے سے قوت پہنچتی ہے۔(صَحِیْحُ
الْبُخَارِیْ،كِتَابُ الْبِیُوعِ ،بَابُ نَصْرِ المَظْلُومِ وَالغَصْبِ،بَابُ
نَصْرِ المَظْلُومِ: حدیث 2446،صفحہ نمبر:529،جلد نمبر:1)
اس حدیث مبارکہ میں مسلمانوں کو
آپس میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کی مدد و نصرت کی ترغیب دی گئی ہے ۔
(2) عورت کی ٹیڑھی پسلی کے ساتھ تشبیہ: حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو
حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اس لیے عورت کو پسلی کے
ساتھ تشبیہ دی گئی۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ
اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ یعنی عورت مثل پسلی کے ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنا
چاہوگے تو توڑ دوگے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہوگے تو اس کے ٹیڑھ پن
کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔(صحیح بخای،كِتَابُ
النِّكَاحِ،بَابُ المُدَارَاةِ مَعَ النِّسَاءِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: إِنَّمَا
المَرْأَةُ كَالضِّلَعِ،حدیث:5184،جلد:2،صفحہ
نمبر:275)
معلوم ہوا کہ ازدواجی زندگی میں
عورت کی نفسیات کو سمجھ کر اس کے ساتھ نرمی و درگزر سے پیش آنا چاہیے ۔
(3) امانت دار شخص کو سو اونٹوں میں سے ایک عمدہ
سواری کے ساتھ تشبیہ: جس طرح سو اونٹوں میں سے سواری
کے قابل ایک اونٹ بڑی مشکل سے ملتا ہے اسی طرح کثیر لوگوں میں سے امانت دار شخص بھی
بڑی مشکل سے ملتا ہے ۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ المِائَةِ لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا
رَاحِلَةً یعنی لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی
ہے، سومیں بھی ایک تیز سواری کے قابل نہیں ملتا۔(صحیح بخاری،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ،حدیث:6498،جلد:2،صفحہ نمبر 489)
اس فرمان عالیشان میں اعلی کردار ،معتبراور کمال صفات والے فرد
بننے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
(4) صدقہ کو پانی سے تشبیہ: انسان بعض اوقات نادانستہ طور پر گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، جن کی
معافی کے لیے شریعت نے مختلف ذرائع بیان کیے ہیں۔ انہی میں سے ایک بہترین عمل صدقہ
دینا ہے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:وَالصَّدَقَةُ
تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ یعنی اور صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ
کو بجھا دیتا ہے۔ (سنن ترمذی،أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ،بَاب مَا جَاءَ فِی حُرْمَۃ الصَّلاَةِ حدیث:2616،جلد
نمبر: 1صفحہ نمبر:652)
اس حدیث پاک سے ہمیں یہ سبق
ملتا ہے کہ صدقہ صرف معاشرتی فلاح کے لیے نہیں بلکہ ہمارے گناہوں کی معافی کا مؤثر
ذریعہ بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے
اسلوبِ بیان کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہوکر لوگوں کو دین کی دعوت دینے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
وقار حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
حضرت محمد ﷺ اللہ
پاک کے آخری نبی ہیں اور ہمارے ہادی و
رہنما ہیں۔ آپ ﷺ نے
زندگی کے ہر معاملے میں ہماری تربیت ورہنمائی فرمائی ہے ۔ کبھی قول سے کبھی فعل سے
کبھی اشاروں سے اور کبھی تشبیہات سے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر
سمجھایا ہے ۔ذیل میں چند احادیث پیش کی جارہی ہیں جن میں تشبیہات سے تربیت فرمائی
ہے :
(1) عَنْ
کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِی
غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ ترجمہ: حضرت کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے
فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں
پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے
ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد4، حدیث:485، باب55 زہدوفقر کی فضیلت، صفحہ721،
مکتبۃ المدینہ)
اس حدیث مبارکہ میں دو بھوکے بھیڑیوں
کے بکریوں کو نقصان پہنچانے کو مال و دولت
کی حرص اور حب جاہ (یعنی اپنی تعریف کو پسند) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔اس سے
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مال کی لالچ اور حب جاہ ایک مسلمان کے لیے کس قدر نقصان
دہ ہے ۔
(2) عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ
رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ
عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ
فَلاَۃٍ ( بخاری شریف، جلد 2،حدیث :6309، صفحہ 460، باب التوبۃ، کتاب
الدعوات) خادِمِ رسول حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش
ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔
اس حدیث پاک میں توبہ کی اہمیت
واضح ہوئی کہ اللہ پاک توبہ کرنے والے سے
کتنا زیادہ خوش ہوتا ہے اور توبہ کرنے والا گویا کہ ایسا ہے جسے اس نے گناہ کیا ہی
نہیں ۔
(3) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ
الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ
مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000 مکتبۃ المدینہ) حضرت
سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان
کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس
کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“
یہاں قرآن کریم کی تلاوت سے غافل انسان کی سینے کو ویران
گھر سے تشبیہ دی ہے ۔اللہ پاک ہمیں قرآن
کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(4) عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ
اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (فیضان ریاض
الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )
اس حدیث پاک میں انسان کو ٹڈیاں
اور پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح کوئی شخص ٹڈیاں اور پروانوں کو آگ میں
گرنے سے بچاتا ہے اس طرح آقا ﷺ مسلمانوں
کو جہنم سے بچاتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اسداللہ
(درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک نے حضور نبی اکرم ﷺ کو
ہدایت انسانی کے لیے مبعوث فرمایا، آپ ﷺ نے اپنے
اعلی کردار عمدہ انداز سے اپنی امت کی تربیت فرمائی انہی میں سے ایک انداز تشبیہات
سے تربیت فرمانا بھی ہے آئیے ! ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے
اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(2)ویران گھر سے مشابہت : ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں
وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
(3)سخی اور کنجوس کی مشابہت : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان
دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے
پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب
خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور
تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:1864)
(4) تحفہ دے کر واپس لینے والوں
کی مشابہت : روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ
نے صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے
کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی
مثال نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:3018)
محمد
عمر رضا (دورہ حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی ، پاکستان)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو
عقل و شعور عطا فرمایا اور اسے حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی۔ مگر یہ بھی
حقیقت ہے کہ انسانی ذہن پر وہی بات زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جو سادہ اور مثال کے
ذریعے بیان کی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن
کریم نے کئی مقامات پر مثالیں بیان فرمائیں تاکہ حقیقتیں اور احکام عوام الناس کے
لیے قابلِ فہم بن جائیں۔ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے بھی اپنی دعوت و
تربیت کے انداز میں کئی اسالیب اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر اسلوب تشبیہات
و تمثیلات کا استعمال فرمایا ہے ۔ آپ ﷺ کسی
حقیقت کو محض بیان کرنے پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ اس کے ساتھ ایسی مثال دیتے جو
سننے والے کے ذہن و دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ۔ یہی حکمت ہے کہ آج بھی وہ
تشبیہات ہم تک حدیث کی صورت میں محفوظ ہیں اور قیامت تک انسانوں کو سبق دیتی رہیں
گی۔ آیئے ذیل میں ہم کچھ مثالیں ملاحظہ
کرتے ہیں :
(1)نیک اور بُرے دوست کی مثال: وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ
كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ
يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا
طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ
مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً
ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ
رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول
الله ﷺ نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی
ہے مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا
تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا
اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5010)
(2)اپنی اور امت کی مثال: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ
رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ
كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ
فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ
النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ
يَدَيَّ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺنے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس
شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور
پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں
تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے)
سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)
(3) قرآن پڑھنے والے کی مثال: وَعَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِيْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ
الْأُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ،وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ
الَّذِيْ لَا يقْرَأ الْقُرْآن مَثَلُ التَّمْرِةِ لَا رِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا
حُلُوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ
الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ
الَّذِيْ يقْرَأ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا
مُرٌّ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِيْ رِوَايَةٍ: الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ
يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالْأُتْرُجَّةِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالتَّمْرَةِ
ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے: اس
مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھا کرتا ہے ترنج کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور لذت بھی اعلیٰ اور اس
مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا چھوارے کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں مزا میٹھا
ہے اور اس منافق کی مثال جو قر آن نہیں پڑھتا،اندرائن(تمہ)کی سی ہے جس میں خوشبو
کوئی نہیں اور مزا کڑوا اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان گھاس کی سی
ہے جس کی خوشبو اچھی اور مزہ کڑوا (مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ
مؤمن جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے ترنج کی طرح ہے اور وہ مؤمن جو قرآ ن پڑھے تو نہیں اس پر عمل
کرے چھوارے کی طرح ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث
نمبر:2114)
(4) دنیا کی حقیقت کو چراگاہ سے
تشبیہ: عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ
رَضِیَ اللہُ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ
الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ وَإِنَّ اللہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْہَا فَیَنْظُرُ
کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُواالدُّنْیَا وَاتَّقُواالنساء فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِی إِسْرَائِیلَ
کَانَتْ فِیْ النساء (مسلم ،کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ
الفقرائ…الخ ص۱۴۶۵،حدیث:۲۷۴۲) ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے
کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہیں اس میں اپنا نائب بنایا ہے ، وہ تمہارے اعمال کودیکھتا
ہے، لہٰذا دنیا اور عورتوں سے بچو، بے شک !بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے
باعث ہوا۔
یہ چند مثالیں ہیں جو ہمیں رسولُ
اللہ ﷺ کے حکیمانہ اسلوبِ تربیت سے ملی ہیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نے صحابۂ کرام کے
دلوں میں دین کی حقیقتوں کو ایسے بٹھا دیا کہ وہ ایمان و عمل کے پیکر بن گئے۔
آج ہمیں بھی چاہیے کہ ہم حضور ﷺ
کی اس سنت کو زندہ کریں۔ جب ہم نصیحت کریں تو مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے بات
سمجھائیں۔ اس سے بات جلدی دل میں اُترتی ہے اور دیرپا اثر ڈالتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں نبیِّ پاک ﷺکی تعلیمات پر عمل
کرنے اور دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ
الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
محمد
رضوان عطاری ( دورہ حدیث مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
نبی اکرم ﷺ کی سیرت
کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے ایسی روحانی اور اخلاقی تربیت
فرمائی جو دلوں میں عشق الٰہی اور محبت رسول ﷺ پیدا کرتی ہے آپ کا ہر کلمہ حکمت کا خزانہ تھا اور آپ کی زبان سے نکلنے والی ہر تشبیہ انسان کی
روح کو جھنجھوڑ دیتی تھی آپ نے محسوسات
اور خیالات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایسی تشبیہات اور امثال پیش کیں جو نہ صرف سننے
والے کو ایک گہرا سبق دیتی تھیں بلکہ اسے عملی زندگی میں بھی نافذ کرنے کی ترغیب دیتی
تھیں۔ آپ ﷺ کی یہ بلاغت ایسی تھی کہ آپ نے چند الفاظ میں بڑے سے بڑا اخلاقی فلسفہ بیان
کر دیا آپ کا مقصد صرف علم دینا نہیں تھا بلکہ دلوں میں وہ علم راسخ کرنا تھا۔
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ
وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا
أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا
أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نیک دوست اور برے دوست کی مثال ایسی
ہے جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی جھونکنے والا، کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں کوئی تحفہ دے گا یا
تم اس سے خرید لو گے یا تمہیں اس کی اچھی خوشبو ہی پہنچے گی اور بھٹی جھونکنے والا
یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تمہیں اس کی ناگوار بدبو محسوس ہو گی۔(صحیح
بخاری باب الذَبَائِحُ وَالصَّيْدُ حدیث نمبر: 5534)
نیک اور برے دوست کی مثال دوستی
ایک ایسا رشتہ ہے جو انسانی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے اسی لیے نبی ﷺ نے
ہمیں دوستوں کا انتخاب کرنے کی اہمیت کو ایک جامع اور موثر تشبیہ کے ذریعے سمجھایا، آپ ﷺ نے فرمایا: نیک اور برے ساتھی کی
مثال ایسی ہے جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی جھونکنے والا ہو اس تشبیہ کو آگے بیان
کرتے ہوئے آپ ﷺ نے
فرمایا: کستوری بیچنے والے کے پاس سے تم
جاؤ گے تو یا تو اس میں سے کچھ خرید لو گے یا پھر اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہو گے
اور بھٹی جھونکنے والے کے پاس سے جب تم جاؤ گے تو یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا
پھر اس کی بدبو تمہیں ضرور محسوس ہو گی ۔
اس تشبیہ کی تفصیلی وضاحت:
محمد
اویس تبسم ( دورہ حدیث جامعۃُ المدینہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ
سیالکوٹ ، پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟یقیناً یہی کہ
اللہ پاک نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ، تو عبادت سے ناواقف انسان کی
تعلیم و تربیت کے لیے اپنے انبیائے کرام
علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر سب سے آخر میں تمام انسانیت کی تعلیم و تربیت کے
لیے اپنے پیارے حبیب سب سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو معلِّم کائنات بنا کر بھیجا۔ رسول کریم
ﷺ کا انداز تربیت کیسا کمال کا تھا کہ کبھی کوئی عمل کر کے دیکھاتے ہیں اور صحابہ کرام سے فرماتے ہیں
یوں کرو ۔ کبھی آپ چند الفاظ میں اس طرح تربیت فرماتے گویا کے سمندر کوزے میں بند
فرما دیتے۔ اور کبھی انسانی فطرت کے مطابق تشبیہات (ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ
کرنے) سے تربیت فرماتے کہ انسان اس چیز کو
جلدی قبول کرتا ہے جس کا انسان مشاہدہ کر چکا ہو۔
آئیں ہم ان احادیث کریمہ کو پڑھنے کی سعادت
حاصل کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے پیاری پیاری تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی ہے ۔
(1) عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ
النَّبِىِّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ
لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ
بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ حضرت سیدنا ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ایک مؤمن دوسرے
مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے ۔ ‘‘ پھر
آپ ﷺ نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو
دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:222)
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی
احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں مذکورہ حدیث
کے تحت فرماتے ہیں: ’’یعنی مؤمنوں کے دنیاوی اور دینی کام ایک دوسرے سے مل جل کر
مکمل ہوتے ہیں جیسے مکان کی دیوار ایک دوسرے سے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔ (آپ ﷺ نے)ایک
ہاتھ شریف کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل کردیں یعنی گتھا دیں یہ سمجھانے کے لیے
کہ جیسے یہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوگئیں ، ایسے ہی مسلمان ایک دوسرے میں
گتھے ہوئے ہیں کہ یہ کبھی بے تعلق نہیں ہو سکتے۔ گتھانے والے یا تو راوی حدیث حضرت
سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ہیں یا حضور ﷺ خود ہیں۔ یہ مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ
مسلمانوں کے بعض کے بعض پر حقوق ہیں۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:222)
(2) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِيْ لَيْسَ فِيْ جَوْفهٖ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ
ﷺ نے کہ جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران
گھر کی طر ح ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
ویران گھر سے تشبیہ دینے سے
مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی
آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے
تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا
اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی
قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی فرماتے ہیں:قرآن کا سینے میں جمع
کرنا گویا اسے آباد کرنا اور قلت وکثرت
کے لحاظ سے مزین کرنا ہے۔ جب دل قرآن کی ضروری تصدیق،اسے حق سمجھنے،اس کے ذریعے اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں غوروفکر کرنے اور
اس کی محبت وصفات میں نظر کرنے سے خالی
ہوگاتو وہ دل ویران گھر کی طرح ہوگا جو
خوبصورتی اور سامان سے خالی ہوتا ہے۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
اﷲ الْقَوِی فرماتے ہیں:ظاہراً اس حدیث سے مراد یہ ہے جسے اتنا بھی قرآن یاد نہ ہو
جس سے نماز درست ہوسکے اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔بعض علما نے اس کو عام رکھا
ہے اور کہا ہے کہ ناظرہ یا حفظ کسی طرح قرآن نہ پڑھتا ہو اس کا سینہ ویران گھر کی
طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث
نمبر:1000)
Dawateislami