طلبہ کو کچھ بھی بات سمجھانے کیلیے انداز تفہیم بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جو ایک طالب علم کو بہتر سے بہتر بنا سکتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ایک طالب علم کو نقصان دے سکتی ہے ۔ ہمارے پیارے آقا  ﷺ کا سمجھانا بھی بڑا دلنشین اور نرالا ہوا کرتا تھا ۔ آپ کے سمجھانے کا انداز مبارک یہ تھا کہ آپ جو بات فرمایا کرتے تھے اس کو دو دو تین تین مرتبہ دہرایا کرتے تھے ۔۔ کبھی آپ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سے سمجھایا کرتے تھے ۔ انسانی فطرت اس بات کی گواہ ہے کہ مثالوں کے ذریعے سے بات بہت جلد سمجھ آ جاتی ہے ۔ پیارے آقا ﷺ بھی اپنے صحابہ کو مثالیں دے کر سمجھایا کرتے تھے ۔ چنانچہ:

(1) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان ، باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان ، باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

(2) حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔"( فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضائل، قرآن پاک پڑھنے کے فضائل، جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔( فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضائل، قرآن پاک پڑھنے کے فضائل، جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

(3)فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ "اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا ، اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ایمان کا بیان، باب قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 ، حدیث نمبر:150)

اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور گویا رحمت کا بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔

اس تشبیہ سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا،زمین کیسی اعلٰی ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے،مگر بارش کی محتاج ہے،دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں۔دوسرے یہ کہ تاقیامت مسلمان علماء کے حاجت مند ہیں کہ ان کی کھیتیوں کو پانی انہیں تالابوں سے ملے گا حضور کی رحمت انہی کے ذریعہ نصیب ہوگی۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ایمان کا بیان، باب قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 ، حدیث نمبر:150)

ان تمام احادیث کریمہ سے کئی چیزیں معلوم ہوتیں ہیں ۔

اول تو یہ کہ حضور ﷺ کا سمجھانے کا خوبصورت انداز کہ آپ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سے سمجھایا کرتے تھے کہ اس سے بات بہت جلد سمجھ میں آ جاتی ہے ۔ اور ایک چیز ہمیں یہ سیکھنے کو ملی کہ ہمیں بھی اگر موقع ملے کسی کو سمجھانے یا کچھ پڑھانے کا تو حتی الامکان مثالوں کے ذریعے سے سمجھایا جائے تاکہ حضور کی اس ادا کر بھی عمل ہو اور سامنے والے کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور ﷺ کی اداؤں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔

نبی کریم   ﷺ کو اللہ تعالی نے بے شمار خوبیوں سے نوازا انہی میں سے دو عظیم اوصاف فصاحتِ لسان اور ملکۂ تفہیم بھی ہیں کہ نہ آپ سے بڑھ کر کوئی فصیح ہے نہ کو مُفہِم ،خود فرماتے ہیں "انا افصح العرب " (شرح السنۃ للبغوی:4/202، المكتب الإسلامی) )یعنی میں اہل عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں،اور صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا اندازِ تفہیم ایسا تھا کہ دوران گفتگو نہ صرف بات سمجھ لی جاتی بلکہ یاد بھی ہو جاتی ہے ،آپ علیہ السلام مختلف انداز سے صحابہ کی تربیت فرمایا کرتے انہی میں سے ایک مؤثر انداز تشبیہ وا مثلہ کے ذریعےتفہیم و تربیت ہے کہ مشاہَد و مرئی چیزوں کے ذریعہ تفہیم سے بات دل میں جلدی قرار پکڑتی ہے۔ بہت ساری احادیث میں تشبیہات کے ذریعے تربیت کی گئی چند امثلہ پیش خدمت ہیں۔

صحابہ کا مقام: مثل أصحابي مثل الملح في الطعام ‌لا ‌يصلح ‌الطعام ‌إلا به (مسند البزار: 13/219 ، مکتبۃ العلوم والحکم) یعنی لوگو! میرے صحابہ کی مثال نمک کی مانند ہے کہ نمک اگرچہ تھوڑا ہوتا ہے لیکن کھانا اس کے بغیر درست نہیں ہوتا۔

یونہی صحابہ تعداد میں کم ہیں لیکن دین کا قیام اور شان و شوکت انہی کے ساتھ ہے۔

اہلبیت کا مرتبہ:مثل ‌أهل ‌بيتي ‌كمثل ‌سفينة ‌نوح من ركب فيها نجا، ومن تخلف عنها غرق یعنی میری اہل بیت سفینہ نوح کی مانند ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو پیچھے رہ گیا غرق ہوگیا۔ (مسند البزار:9/343،مکتبۃ العلوم والحکم)

علم غیر نافع:إن ‌مثل علم لا ينفع، ‌كمثل كنز لا ينفق في سبيل الله یعنی علم غیر نافع کی مثال اس خزانے کی طرح ہے جس سے اللہ کی راہ میں بالکل بھی خرچ نہ کیا گیا ہو۔ (مسند لامام احمد:16/289،مؤسسۃ الرسالۃ)

جس طرح وہ نفع بخش نہیں بلکہ آخرت میں نقصان دہ ہے اسی طرح یہ بھی نقصان دہ ہے۔

بغیر عمل کے دعا:مثل الذي يدعو بغير عمل، ‌كمثل الذي يرمي بغير وتر یعنی عمل(صالح) کے بغیر دعا بغیر ڈوری والی کمان سے چلائے گئے تیر کی طرح ہے۔ (السنن الکبری للنسائی:10/409،الرسالۃ العالمیۃ)

کہ نہ وہ تیر منزل تک پہنچ سکتا ہے اور نہ یہ دعا ۔

نماز کی عظمت: مثل الصلوات الخمس ‌كمثل نهر جار غمر على باب أحدكم، يغتسل منه كل يوم خمس مرات یعنی پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کسی ایک کے دروازہ کے قریب نہر بہتی ہو اور وہ ہر دن اس سے پانچ مرتبہ غسل کرے (صحیح مسلم:2/132،دار الطبعۃ العامرة) اور ایک روایت میں الفاظ ہیں تو کیا اس کا میل کچیل باقی رہے گا؟یعنی نمازی بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔

صحبت کا اثر: ‌مثل الجليس الصالح والجليس السوء، ‌كمثل صاحب المسك وكير الحداد یعنی اچھے اور برے ہم نشین کی مثال ایسے ہی ہے جیسے عطر والا اور لوہار کی بھٹی (صحیح البخاری:3/184،دار التاصیل) مزید تشبیہ کو کھولتے ہوئے فرمایا عطر والے سے تم خالی ہاتھ نہیں لوٹو گے یا تو کچھ خرید لو گے ورنہ(کم ازکم ) خوشبو تو پاؤ گےجبکہ لوہار کی بھٹی یا تو تمہارے کپڑے یا بدن جل آئے گی ورنہ تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔

اللہ پاک ہمیں نبی ﷺ کے ان فرامین سے تربیت لینے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)


اللہ  تبارک وتعالیٰ نے کریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو تمام لوگوں کے لیے معلم اور ہادی و رہبر بنا کر بھیجا، نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے لوگوں تک دینِ اسلام کا پیغام پہنچانے اور ان کی ہدایت کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے اور انہی میں سے ایک طریقہ تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا ہے ۔ آپ ﷺ کا گفتگو کا انداز نہ صرف الفاظ کا مجموعہ تھا بلکہ حکمت، شفقت اور محبت کا اظہار بھی تھا۔ آپ ﷺ کا مقصد لوگوں کو حقیقت سمجھانا اور ان کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لانا تھا۔ یقیناً ہمارے آقا و مولا، نورِ مجسم ﷺ کا اندازِ بیان و تربیت ایسا دلنشین اور پُر اثر تھا کہ ان کی باتیں لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی تھی۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اندازِ مبارک ایسا تھا کہ جو بات آپ ﷺ بیان فرماتے وہ دلوں پر نقش ہو جاتی ۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشادات میں کثیر تعداد میں ایسی تشبیہات بیان فرمائی ہیں ۔ ان تشبیہات کی بدولت دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا عام انسان کے لیے بھی ممکن ہو گیا ہے ۔ یہ تشبیہات صحابہ کرام کے ذہنوں میں راسخ اور ذہنوں میں پختہ ہو گئیں۔ اور آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

(1) مؤمن، منافق اور تلاوتِ قرآن کی تشبیہ:حضور اکرم ﷺ نے مومن اور منافق کی کیفیت کو تلاوتِ قرآن کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایک نہایت جامع تشبیہ بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، سنگترے جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی۔ اور اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، ریحان (ایک خوشبودار پودا) جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، حنظلہ (اندرائن) جیسی ہے، اس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: يريدون أن يبدلوا كلام الله، حدیث نمبر 7560، جلد 9، صفحہ 2959۔)

(2) نیک اور بری صحبت کی تشبیہ: انسان کی صحبت کا اس کی ذات پر جو گہرا اثر ہوتا ہے، اسے آپ ﷺ نے ایک ایسی تشبیہ سے واضح کیا جو روزمرہ کے مشاہدے پر مبنی ہے۔ "اچھے ساتھی اور برے ساتھی کی تشبیہ اس طرح ہے: ایک شخص مشک (کستوری) بیچنے والا ہو اور دوسرا لوہار کی بھٹی چلانے والا ہو۔ مشک والے کے ساتھ رہو گے تو یا تو تم اس سے کچھ خرید لو گے یا کم از کم اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہو گے۔ اور لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھو گے تو یا تو اس کی چنگاریوں سے تمہارے کپڑے جل جائیں گے یا تمہیں اس کی بدبو ہی آئے گی ۔"(صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار وبیع المسک، حدیث نمبر 2101، جلد 3، صفحہ 804۔)

(3) اپنی امت کے لیے فکر و غم کی تشبیہ: نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کی اپنی شدید خواہش اور کوشش کو یوں بیان فرمایا۔ "میری اور تم لوگوں کی تشبیہ اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی۔ جب اس کے گرد روشنی ہو گئی تو پروانے اور دیگر کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انہیں آگ سے روکنے لگا۔ مگر وہ اس کی بات نہ مانتے۔ میں بھی تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جا رہے ہو۔" (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، حدیث نمبر 6483، جلد 8، صفحہ 2515۔)

(4) مؤمنوں کے آپس میں تعلق کی تشبیہ: مسلمانوں کے باہمی اتحاد، ہمدردی اور اخوت کو نبی کریم ﷺ نے ایک جسم کے اعضاء سے تشبیہ دی۔ "مؤمنوں کی آپس میں محبت، رحم دلی اور نرمی میں ان کی تشبیہ ایک جسم کی سی ہے۔ جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔" (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم، حدیث نمبر 2586، جلد 4، صفحہ 1999۔)

(5) علم کی اہمیت اور لوگوں کے مختلف رویوں کی تشبیہ: علم کی اہمیت اور لوگوں کی اس کے متعلق مختلف کیفیات کو آپ ﷺ نے یوں بیان فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم اور ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے، اس کی تشبیہ اس بارش جیسی ہے جو زمین پر برسی۔ بعض زمین صاف اور زرخیز ہوتی ہے جس نے پانی جذب کر کے گھاس اور پودے اُگائے۔ بعض سخت زمین نے پانی کو روک لیا اور لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ اور بعض زمین ایسی تھی جس نے نہ تو پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگا سکی۔" (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب فضل من علم وعلم، حدیث نمبر 79، جلد 1، صفحہ 43۔)

ان تشبیہات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا کتنا آسان ہے، بشرطیکہ انہیں صحیح اور اچھے انداز میں پیش کیا جائے جیسا کہ ہمارے آقا ﷺ نے پیش فرمایا۔ اللہ ہمیں ان ارشادات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو معلمِ انسانیت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کا اندازِ تربیت نہایت حکیمانہ اور دلنشین تھا۔ آپ ﷺ لوگوں کی عقل، مزاج اور فہم کے مطابق بات سمجھاتے، جس میں ایک مؤثر اسلوب "تشبیہ" کا بھی تھا۔ تشبیہ کا مطلب ہوتا ہے ایک چیز کو کسی اور چیز کے جیسا قرار دینا تاکہ سننے والا بات کو واضح طور پر سمجھ سکے۔تشبیہ، صرف زبان کی زینت نہیں بلکہ تربیت کا ایک انتہائی پُراثر ذریعہ ہے۔ حضور ﷺ نے قرآن پڑھنے والے، نیک و بد صحبت، مؤمن و منافق، عالم و جاہل، سب کے کردار کو ایسی عمدہ تشبیہات سے واضح کیا کہ وہ دل میں اُتر جائیں۔

مؤمن ،منافق اور قرآن میں تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ (صحيح البخاری: 5427)

ترجمہ: حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہےاور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے۔اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہےاور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔

مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب "فیضان ریاض الصالحین،جلد:7 "میں اس حدیثِ پاک کی تشریح کا خلاصہ کچھ یوں ہے:علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اس حدیثِ پاک میں حضورﷺ نے معقول چیز کو محسوس چیز سے تشبیہ دی ہے۔ قرآن مجید کا بندے کے ظاہر و باطن پر اثر ہوتا ہے" (یعنی مومنوں میں روحانی درجات کا فرق قرآن سے تعلق کے سبب ہوتا ہے؛ کوئی قاریِ قرآن ہے تو کوئی محض ایمان رکھتا ہے، مگر پڑھتا نہیں۔)

مفسرِ شہیر، مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ اس حدیث کی روشنی میں ارشاد فرماتے ہیں:"تلاوتِ قرآن کا اثر ظاہر و باطن دونوں پر ہوتا ہے جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسے ہی قرآن کی تاثیر" آپ نے اس ضمن میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بھی نقل فرمایا کہ جب انہوں نے انڈے پر "قُلْ هُوَ اللَّهُ" پڑھا تو وہ سونا بن گیا، اور فرمایا: "کلامِ ربانی کے ساتھ زبانِ فرید ہونی چاہیے"۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ محض قرآن پڑھنا کافی نہیں، بلکہ دل اور نیت کا تعلق بھی قرآن سے ہونا چاہیے۔ اگر دل مدینہ کی طرف ہو، تو زبان سے مدینہ کا فیضان نکلتا ہے، اور اگر دل دنیا یا شیطان کی طرف ہو تو وہی اثر ظاہر ہوتا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995)

ہدایت و علم اور بارش میں تشبیہ:وَعَنْ أَبِي مُوسٰى رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللہ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللہ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللہ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ (صحیح بخاری، حدیث: 79)

ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ۔

اچھے اور برے ساتھی کی تشبیہ عطار اور لوہارکے ساتھ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ وَكِيرِ الْحَدَّادِ، لَا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ: إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ: يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ، أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح بخاری، حدیث: 2101)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔

رسولُ اللہ ﷺ کا اندازِ تعلیم ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کی بات کو محبت، حکمت اور مثالوں کے ذریعے سکھایا جائے۔ تشبیہات کی زبان نہ صرف آسان ہوتی ہے بلکہ دل میں اُتر جاتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں کو دین سکھانے کے لیے آپ ﷺ کے طریقے کو اپنائیں، نرمی، وضاحت اور حکمت کے ساتھ۔

اسلام ایک جامع اور مکمل دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ نبی کریم  ﷺ نے تعلیمات اسلام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں سمجھانے کے لیے تشبیہات (مثالوں) کا خوب استعمال فرمایا۔ ان تشبیہات کے ذریعے نہ صرف عقائد اور عبادات کی اہمیت واضح کی گئی بلکہ اخلاق تعلقات اور معاشرتی معاملات کی اصلاح بھی فرمائی گئی۔ زیر نظر احادیث میں بھی مختلف اشیاء سے تشبیہ دے کر ایمان ،نماز حرص تصویر سازی اور تحفے جیسے اہم موضوعات کو واضح کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان ان باتوں کو سمجھ کر اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھال سکے۔

(1)ایمان سمٹ جائے گا: فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)

مفتی صاحب اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)

(2)نماز ہر طرح پاک کر دیتی ہے: ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” پانچوں نمازوں کی مثال اس نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ ‘‘

مفتی احمد خان نعیم الدین مراد آبادی حدیث کے تحت فرماتے ہیں : حضورانور ﷺ نے نماز پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سے ۔ دو وجہ سے: ( 1 ) ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں ، نہر کا پانی جاری ہے ، ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے ، یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:429 )

(3)مال و دولت کی حرص: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “

مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : نہایت نفیس تشبیہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دِین گویا بکری ہے اور اس کی حرصِ مال ، حرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیئے مؤمن کے دِین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:485)

(4)تصویر بنانا حرام: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں

یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے ، یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

(5)تحفہ دیا ہوا واپس لینا کیسا: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: اس حدیث کی بناء پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقًا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے،قے حرام چیز ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)


تربیتِ انسانی میں مثالیں اور تشبیہات ایک مؤثر اور دل نشین طریقہ ہیں۔ جب بات کسی نظری یا مشکل حقیقت کی ہو تو اس کو مثال کے ذریعے واضح کرنے سے سننے والے کے ذہن میں بات جلد بیٹھ  جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ معلمِ کائنات ہیں، آپ نے لوگوں کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت میں تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ آپ کی مثالیں نہ صرف سادہ اور فطری ہوتیں بلکہ سننے والے کی عقل و فہم کے مطابق ہوتیں، تاکہ ہر شخص اپنے درجے کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس اسلوب سے نہ صرف مفہوم واضح ہوتا بلکہ دل پر اثر اور عمل کی تحریک بھی پیدا ہوتی۔لہذا آپ پانچ احادیث پڑھیے اور اپنی عملی اور اخلاقی تربیت فرمائیں :

(1) جنت کا قریب ہونا : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

جنت وجہنم کے قرب کی وجوہات:جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں اور جس طرح اس تسمے میں انگوٹھا داخل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے یوں ہی جنت و دوزخ میں داخلہ بھی بہت سہل، اِسی قُرب و سَہل کو شارِحین نے مختلف انداز سے بیان کیاہے۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طَیِّبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ حدیث میں جنت و دوزخ کی قُرْبَتْ کو جوتے کے تسمے کی قُرْبَتْ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ثواب وعذاب کا حصول بندے کی اپنی کوشش سے ہوتا ہے اور کوشش قدموں کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجو شخص کوئی نیک کام کرے گاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوگااور جو بُرا عمل کرےگا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وعید کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اچھی نیت اور نیک اَعمال کے ساتھ جنت کا حصول نہایت آسان ہے اور اسی طرح خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بُرے اعمال کے ذریعے جہنم کا داخلہ بھی۔ ‘‘ (یعنی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دائمی طورپر نیک اَعمال کرنے سے جنت میں داخل ہونا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح نفس کی اتباع کرنے سے جہنم میں داخل ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوجاتے ہیں ۔) ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

(2)امین اور سچا آدمی :

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔(مسلم وبخاری)

یہ تشبیہ مرکب ہے پورے واقعہ کو پورے واقعہ کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے۔اس شخص سے مراد وہ امین اورسچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں کو اعتماد ہو۔حضور کی سچائی ظہورنبوت سے پہلے ہی عام خاص میں مشہور ہوچکی تھی۔اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہردنیوی اخروی آنے والے عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایااور آپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے سے ہے۔رب فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا عرب میں دستور تھا کہ خطرناک دشمن کی اطلاع دینے والا اپنا کرتہ لاٹھی پر ٹانگ کر لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ ہوشیار ہوجاؤ اسے نذیر عریاں کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے والا۔

یعنی سننے والے دو ٹولہ بن گئے۔ایک ٹولہ نے اس نذیر کا اعتبارکیا اور دشمن لشکر کے حملے سے قبل اندھیرے ہی بھاگ گئے یہ نفع میں رہے۔ تو جیسے نجات و ہلاکت کا دارو مدار اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا مدار حضور کے ماننے اور نہ ماننے پر ہے۔عذابِ الٰہی گویا لشکر ہے،موت سے پہلے تو بہ کرلینا گویا بروقت خطرناک جگہ سے نکل جانا ہے اور آخر تک گناہوں میں ڈٹا رہنا اور حضور کو جھٹلانا گویا خطرناک جگہ میں رہ کر دشمن کے ہاتھوں مارا جانا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:148)

(3) آگ سے بچانا : حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)

انسانوں اورپروانوں کے درمیان وجہ تشبیہ:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)

گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب فرماتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی ) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ (کیونکہ یہاں گرفت مضبوط ہوتی ہے۔)شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ یعنی یہ مذکورہ حال میرا اور تمہارا ہے کہ حدودِ الٰہی جو حرام اور ممنوع اُمور پرمشتمل ہیں اُن سے اِجتناب اور دُوری ضروری ہے ۔میں پوری وضاحت سے اُنہیں بیان کر چکا ہو ں۔جیسے کوئی شخص آگ جلائے اور تم اُس میں گرنا شروع کردو تو میں تمہیں اُس میں گرنے سے روکتا ہوں ۔ ‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)

(4) آدمی کا بھیڑیا : روایت ہے حضرت معاذا بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔ (احمد)

تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)

(5)لوگوں کا سونے اور چاندی کی طرح کا ہونا: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ‘‘ بخاری نے یہ حدیث پاک کہ ” روحیں جمع شدہ لشکر ہیں ۔ “ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)

انسانوں کی مختلف صفات: مذکورہ حدیث پاک کے دو2 جزء ہیں ۔ پہلے جز ءمیں لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں عزت و شرف کے حامل تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و اِکرام کے لائق ہیں ۔ حدیث پاک کے دوسرے جُزء میں روحوں کی ایک دوسرے سے نسبت و تعلق کو بیان کیا گیا ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)

حدیث پاک کی شرح میں ابتداءً پہلے جُزء کی تفصیل بیان ہوگی اور آخر میں دوسرے جُزء سے متعلق بیان ہوگا ۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ‘‘ مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں ہیں مگر سیرت ، اَخلاق اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف ، نیک سے نیکی ظاہر ہوگی اور بد سے بدی ۔ ‘‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’یعنی لوگ عُمدہ اَخلاق اور مَحاسِن صفات میں اپنی قابلیت اور شرافت ذات کے لحاظ سے مُتَفَرِّقْ ہیں جیسے ایک کان وہ ہوتی ہے جو اپنے اندرلعل و یاقوت پیدا کرنے کی استعداد رکھتی ہے اور ایک کان سونا ، چاندی پیدا کرنے کی قابلیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جو لوہا ، تانبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جس میں سے سُرمہ اور چُونا وغیرہ پیدا ہوتا ہے ۔ ‘‘ ایسے ہی انسانوں میں مختلف صفات پائی جاتی ہیں کوئی سخی ہے تو کوئی بخیل ، کوئی شجاع ہے تو کوئی بُزدِل ، کوئی حُسنِ اَخلاق سے آراستہ ہے تو کسی میں کجی کا غلبہ ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)

عزت و شرف والے پانچ شخص:حضورنبی اکرم ، شاہِ بنی آدم ﷺ نے لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے تشبیہ دینے کے بعد فرمایا کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں شریف یعنی عزت دار تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و فضیلت کے مستحق ہیں ۔

شارِحِینِ حدیث نے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے اِس فرمان کے پانچ 5 معنیٰ بیان کیے ہیں: ’’ ( 1 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت یعنی کفر کے زمانے میں خصالِ محمودہ یعنی نرمی اور بُردباری سے متصف تھا اور اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات سے متصف رہا تو وہ باعزت ہے ۔ ( 2 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں تو شریف نہ تھا لیکن اِسلام لانے کے بعد باعزت بھی تھا اور علمِ دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مقام و مرتبہ اس شخص سے بڑھ کر ہے جو زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام میں عزت دار تو ہے لیکن اس نے علمِ دِین حاصل نہیں کیا کیونکہ علم دِین ہی اصل میں انسان کو شرف و اکرام کا مستحق بناتا ہے ۔ علماء فرماتے ہیں: بے قدر عالِم دِین باعزت جاہل سے بہتر ہے کیونکہ علم ایسی شے ہے جو پست کو بالا کردیتی ہے ۔ ( 3 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام دونوں میں شریف ہے اور اس نے علم دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مرتبہ مذکورہ بالا دونوں افراد سے بلند ہے ۔ ‘‘(4 ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں نیک ، قبائل میں برگزیدہ ، اپنے ہم عصروں پر فائق اور اچھی عادات و صفات سے آراستہ تھا ، دِین اسلام میں آنے کے بعد بھی اس سے حمیدہ اَوصاف اور برگزیدہ اَفعال وجود میں آتے ہیں لیکن زمانہ ٔجاہلیت میں وہ ظلمت و کفر میں چھپا ہوا تھا جس طرح سونا چاندی کان میں مٹی سے ملا ہوا ہوتا ہے اور جب انہیں بھٹی میں ڈال کر تپایا جاتا ہے تو یہ صاف ہو کر پوری آب و تاب سے چمکنے لگتے ہیں ۔ اسی طرح جس شخص کی اچھی صفات کفر کے اندھیروں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ، اسلام میں آنے اور ریاضت و مجاہدات کی بھٹی میں تپنے کے بعد اس سے ہر قسم کی مٹی اور گندگی دور ہو جاتی ہے اور وہ علم و معرفت کے نور سے روشن و منور ہوکر لوگوں پر فوقیت و برتری حاصل کرلیتا ہے ۔ ‘‘ ( 5 )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ’’جو لوگ زمانہ ٔکفر میں اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے ، اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نو مسلموں کو حقیر جاننا بہت بُرا ہے اور کفار کا سردارمسلمان ہوکر مسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا نہ جائے گا ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)


انسان  مجرد تصورات کو سمجھنے میں اکثر دشواری محسوس کرتا ہے، مگر جب کوئی بات کسی مثال یا کسی تشبیہ ، جس سے وہ واقف ہو اس کے ذریعہ بیان کی جائے تو وہ دل میں اتر جاتی ہے اور دیر تک ذہن میں باقی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ جلّا شانہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ (پ28، الحشر:21) اسی لیے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو "وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ" کے منصب پر فائز تھے ، جب تعلیم و تربیت فرماتے تو اس میں ایسی تشبیہات اور مثالیں بیان فرماتے کہ وہ بات نہ صرف سمجھ میں آتی بلکہ دل پر بھی نقش ہو جاتی ۔

(1) آگ اور اس کے گرد جمع ہونے والے پتنگے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: میری کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی جب آگ نے ارد گرد کو چمکا دیا تو پتنگے اور یہ جو آگ میں گرا کرتے ہیں (جانور) اس میں گرنے لگے اور انہیں روکنے لگا اور وہ جانور اس پر غالب آئے جاتے ہیں آگ میں گرے جاتے ہیں چنانچہ میں تمہاری کمر پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جاتے ہو  یہ بخاری کی روایت ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:1 ، حدیث نمبر:149)

(2) بخل اور اسراف کرنے والے کو تشبیہ سے ظاہر کرنا: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ

ترجمہ: "حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔"( فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 ، حدیث نمبر:560)

(3) صحابہ کرام کو برا نہ کہو: عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفِهِ

ترجمہ:"روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد(پہاڑ) بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو پہنچے نہ آدھے کو" ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:8 ، حدیث نمبر:6007)

(4) قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال: عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے  جس کی خوشبو بھی اچھی اور  ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال  کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995 )

(5) رب کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کو تشبیہ دینا:وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

ترجمہ:"روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  اللہ ﷺ نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:2263)

ان تمام احادیث ، قرآن اور دیگر سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت دنیا کے تمام معلمین کے لیے ایک ابدی مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نہ صرف دلوں کو مسخر کیا ، بلکہ کردار سازی کی بنیاد بھی رکھی، اور امت کو حق و صداقت کی طرف راغب کیا۔آج اگر ہمیں اپنی نسلوں کو اخلاق، کردار، ایمان اور شعور سے آراستہ کرنا ہے، تو ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسی طرزِ تربیت کو اپنانا ہوگا،جہاں تعلیم صرف زبانی نہیں، بلکہ عمل سے جڑی ہو، جہاں نصیحت محض الفاظ نہیں، بلکہ مثال ہو، اور جہاں اصلاح محض الزام نہیں، بلکہ جذبہ محبت سے آراستہ ہو۔

ہمیشہ انبیاء اکرام علیہم السلام اپنی اپنی   امت کی اصلاح فرماتے آئے۔اور انہیں ہدایت کا راستہ دیکھاتے آئے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی امت کو ھدایت کا راستہ دیکھایا ۔اور مختلف اندازسے امت کی اصلاح فرمائی۔چناچہ ان میں سے یہ انداز بھی اختیار فرمایا ۔کہ نبی کریم ﷺ نے تشبیہ کے ساتھ اپنی امت کو سمجھایا اور اصلاح فرمائی۔ان میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں ۔

(1)سونا،چاندی اور لوگ: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا وَالْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ‘‘ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)

(2)عالم عابد کی مثال: : وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ: ابو امامہ باہلی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر۔ پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دین سکھانے والے پر۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:213)

(3): شیطان اور بھیڑیا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ ترجمہ:حضرت معاذا بن جبل سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے ۔ تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)

(4) جنت و جہنم عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

(5) مال و دولت مثل بھیڑیا : عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ

ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:485)


رسول اللہ ﷺ کا تربیت فرمانا نہایت اچھا کردار اور عملی نمونہ تھا، جس میں آپ ﷺ نے تشبیہات (یعنی مثالوں) کا کثرت سے استعمال فرمایا تاکہ بات آسانی سے دل و دماغ میں اتر جائے۔ تشبیہات ایک ایسا تعلیمی و تربیتی ہنر ہے جو کہ سننے والے کو آسانی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے یاد رکھنے میں بھی آسانی فراہم کرتا ہے۔جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

إنما مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير؛ فحامل المسك إما أن يُحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحًا طيبة، ونافخ الكير إما أن يُحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحًا خبيثة (صحیح البخاری: 5534 صحیح مسلم: 2628)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک (خوشبو) اٹھانے والا اور بھٹی پھونکنے والا (لوہار)۔ مشک والا یا تو تمہیں کچھ خوشبو دے دے گا، یا تم اس سے کچھ خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس کی خوشبو پہنچے گی۔ اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔"

اس مضمون میں ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بری صحبت اور اچھی صحبت کے بارے میں بتا دیا ہے۔ آگے مسلمان کی مرضی کہ وہ بری صحبت اختیار کرے یا اچھی ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اچھی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے بدبختوں سے بچائے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


 آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت فرمایا کرتے تھے، آپ ﷺ آہستہ آہستہ گفتگو فرماتے تاکہ سامنے والے کو بات سمجھ میں آ سکے مزید آسانی کے لیے آپ ﷺ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے فرماتے اس طرح بات اچھی طرح یاد ہو جاتی ہے ، آج ہم آپ ﷺ کا اپنے صحابہ کو تشبیہات سے تربیت فرمانے کے متعلق پڑھتے ہیں :

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ

ترجمہ:ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہیے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب: ہبہ کرنے کا بیان، باب: کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ یا صدقہ واپس لے لے، حدیث نمبر: 2622)

عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ

ترجمہ: کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے ۔( مسند احمد، ٣/٤٥٦، ٤٦٠ ، وسنن الدارمی، الرقاق ٢١ (٢٧٧٢)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال و جاہ کی محبت اور حرص جس کے اندر آ گئی وہ ہلاکتوں سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا، بدقسمتی سے آج امت اسی فتنہ سے دو چار ہے اور اس کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس انتشار اور شدید اختلافات کا یہ امت اور اس کی دینی جماعتیں شکار ہیں ان کے اسباب میں بھی مال وجاہ کی محبت سر فہرست ہے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ (جامع ترمذی، کتاب: فضائل قرآن کا بیان، حدیث نمبر: 2913)

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

مذکور احادیث میں آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو بہت ہی عمدہ انداز سے تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی۔ ان تشبیہات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کہیں ہمارے اندر کوئی ایسا گناہ تو نہیں کہ جو ہمیں ہی نقصان پہنچا رہا ہو اگر ایسا ہے تو ہمیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث کے احکام پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو   ایسی فصاحت و بلاغت عطا فرمائی جو نہ پہلے کسی کو ملی، نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ آپ ﷺ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ صرف الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ دلوں کے قفل کھولتے، روحوں کو جھنجھوڑتے، اور کردار کو نکھارتے تھے۔

نبی ﷺ نے جب لوگوں کو نصیحت کی، تو صرف احکام نہیں سنائے، بلکہ تشبیہات، مثالوں، اور علامتی انداز سے دلوں پر اثر انداز ہونے والی باتیں کیں۔ یہ تشبیہات عقل کو جھنجھوڑ دیتی تھیں، اور دل کو جھکا دیتی تھیں۔ کبھی ایک چراغ کی مثال، کبھی درخت، کبھی مسافر، کبھی چاندنی رات ، یہ سب کچھ تربیت کا ایسا مؤثر انداز تھا جو الفاظ سے بڑھ کر تصویر بن جاتا تھا۔ آئیے اب ہم ایسی ہی احادیث کا ذکر کرتے ہیں جن میں نبی پاک ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے ہماری تربیت فرمائی ، ایسی مثالیں جو نہ صرف سمجھنے میں آسان بلکہ زندگی کو بدل دینے والی ہیں۔

(1) چراغ اور پروانے کی مثال: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے اردگرد روشنی پھیل گئی، تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے۔ وہ انہیں آگ سے بچاتا رہا، اور وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے اس میں گرتے رہے۔ یہی میری اور تمہاری مثال ہے؛ میں تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں اور تم زبردستی اس میں جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری 6483)

نبی ﷺ کی تشبیہ نے یہ واضح کیا کہ وہ ہمیں گمراہی سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن ہم خود اپنے نفس کی پیروی میں تباہی کے دہانے پر ہیں۔

(2) مسافر اور دنیا: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر ہو یا راہ چلتے ہوئے کوئی مسافر۔" (صحیح بخاری 6416)

دنیا کی فانی حیثیت کو ایک مسافر کی حالت سے تشبیہ دے کر ہمیں زہد و تقویٰ کی راہ سجھائی۔

(3) بارش اور زمین کی مثال: آپ ﷺ نی ارشاد فرمایا: "میری اور اس علم کی جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا، مثال ایسی ہے جیسے بارش ہو جو زمین پر برسے، کچھ زمین زرخیز ہو اور وہ سبزہ اگائے، کچھ سخت ہو جو پانی روک کر رکھے، اور کچھ ایسی ہو جو نہ سبزہ اگائے نہ پانی روکے " (صحیح بخاری 79، صحیح مسلم 2282)

لوگوں کی قلبی کیفیت کو زمین کی اقسام سے تشبیہ دی ، کتنے ہی لوگ علم کو قبول کرتے ہیں، اور کتنے اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔

(4) گھر کی دیوار میں دراڑ سے بچنے والا نگہبان: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی حدود کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو ایک کشتی میں قرعہ اندازی سے سوار ہوئے، کچھ اوپر کی منزل میں اور کچھ نیچے کی منزل میں۔ جب نیچے والے پانی لینے اوپر جاتے، تو اوپر والوں کو تکلیف ہوتی۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جگہ سوراخ کر لیتے ہیں تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ اگر ان کو ایسا کرنے دیا جائے تو سب کے سب غرق ہو جائیں گے، اور اگر انہیں روک دیا جائے تو سب بچ جائیں گے۔"(صحیح بخاری 2493)

معاشرتی ذمہ داری اور امر بالمعروف کی اہمیت کو ایک کشتی کے ذریعے واضح کیا۔

(5) مکھی اور شہد کی مکھی کی مثال: آپ ﷺ نی ارشاد فرمایا: "مؤمن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے: ہ صرف پاکیزہ کھاتی ہے، پاکیزہ ہی پیدا کرتی ہے، جہاں بیٹھتی ہے نقصان نہیں دیتی اور اگر کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو اسے نہ توڑتی ہے نہ بگاڑتی ہے۔"(مسند احمد 5836، صحیح الجامع 6651)

ایک سچے مؤمن کا کردار نرمی، فائدہ رسانی اور حسنِ خلق سے مزین ہونا چاہیے۔

(6) دو دوستوں کی خوشبو اور دھوئیں والی مثال: "نیک اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی سی ہے، مشک فروش یا تو تمہیں کچھ دے دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں خوشبو ملے گی۔ اور لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں بدبو محسوس ہو گی۔"(صحیح بخاری 5534، صحیح مسلم 2628)

صحبت کا اثر کیسا ہوتا ہے ، یہ سادہ مگر دلنشین تشبیہ ہمیں اچھے دوست کے انتخاب کی اہمیت سکھاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا اندازِ تربیت صرف الفاظ نہیں، دلوں کو جگا دینے والی تصویری زبان تھی۔ وہ مثالیں دے کر انسان کے شعور کو جھنجھوڑتے تھے، اور عمل کی طرف لے جاتے تھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تشبیہات پر غور کریں، انہیں اپنی زندگی میں اتاریں، اور دوسروں تک بھی ان کا نور پہنچائیں۔


رسول اللہ  ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز نہایت موثر جامع اور حکمت پر مبنی تھا آپ ﷺ لوگوں کی ذہنی سطح فہم و ادراک اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بات فرماتے ، آپ اکثر اوقات مثالیں اور تشبیہیں دے کر بات سمجھاتے تاکہ سننے والا نہ صرف بات یاد رکھیں بلکہ اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھا لے تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ مشکل باتوں کو آسان اور گہری حکمتوں کو عام فہم انداز میں بیان کرتے بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ماہر استاد اپنے شاگرد کو عملی مثال دے کر سمجھا جاتا ہے انداز بیان ہی لوگوں کے دلوں کو متاثر کرتا ہے اور ان کی تربیت میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے :

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔ ( میراۃ المناہ جیح ، شرح مشکات مثابیح جلد 4 حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ہمیں کسی کو دیکھ کر اس سے وہ چیز واپس طلب نہیں کرنی چاہیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس کتے کی طرح ہے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ (کتاب فیضان ریاض الصالحین جلد 7 حدیث نمبر 1000)

پیارے اسلامی بھائیو! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں قرآن پاک نہیں وہ ویران کر کی طرح ہے جیسے کہ ویران گھر میں جالے لگ جاتے ہیں ویران گھر میں جن آ جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کے دل میں قرآن پاک نہیں ہوتا تو انسان کے دل میں بھی شیطان قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ دل شیطان کے قبضے سے چلتا ہے نہ کہ اس انسان کے کہنے پر

اللہ پاک ہمیں قرآن سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین