محمد
عارش رضا قادری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
ہمیشہ انبیاء اکرام علیہم
السلام اپنی اپنی امت کی اصلاح فرماتے
آئے۔اور انہیں ہدایت کا راستہ دیکھاتے آئے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ نے
بھی اپنی امت کو ھدایت کا راستہ دیکھایا ۔اور مختلف اندازسے امت کی اصلاح فرمائی۔چناچہ
ان میں سے یہ انداز بھی اختیار فرمایا ۔کہ نبی کریم ﷺ نے
تشبیہ کے ساتھ اپنی امت کو سمجھایا اور اصلاح فرمائی۔ان میں سے چند احادیث درج ذیل
ہیں ۔
(1)سونا،چاندی اور لوگ: عَنْ اَبِيْ
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي
الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا وَالْاَرْوَاحُ
جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا
اخْتَلَفَ
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی
کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ
جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ
رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا
میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں
۔ ‘‘ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)
(2)عالم عابد کی مثال: : وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ
-صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ
عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي
عَلٰی أَدْنَاكُمْ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ
وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي
جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ
الْخَيْرَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ترجمہ: ابو امامہ باہلی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ
حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو
حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی
پر۔ پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین
والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں
لوگوں کو علم دین سکھانے والے پر۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:213)
(3): شیطان اور بھیڑیا عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ
كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ
وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ ترجمہ:حضرت معاذا بن جبل سے روایت ہے فرماتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے
بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے ۔ تم گھاٹیوں سے بچو
جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)
(4) جنت و جہنم عَنِ
ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ
نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے
ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے
اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘( فیضان ریاض
الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
(5) مال و دولت مثل بھیڑیا : عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ
حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ
ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں
چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ
جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔
“( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث
نمبر:485)
Dawateislami