طلبہ کو کچھ بھی بات سمجھانے کیلیے انداز تفہیم بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جو ایک طالب علم کو بہتر سے بہتر بنا سکتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ایک طالب علم کو نقصان دے سکتی ہے ۔ ہمارے پیارے آقا  ﷺ کا سمجھانا بھی بڑا دلنشین اور نرالا ہوا کرتا تھا ۔ آپ کے سمجھانے کا انداز مبارک یہ تھا کہ آپ جو بات فرمایا کرتے تھے اس کو دو دو تین تین مرتبہ دہرایا کرتے تھے ۔۔ کبھی آپ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سے سمجھایا کرتے تھے ۔ انسانی فطرت اس بات کی گواہ ہے کہ مثالوں کے ذریعے سے بات بہت جلد سمجھ آ جاتی ہے ۔ پیارے آقا ﷺ بھی اپنے صحابہ کو مثالیں دے کر سمجھایا کرتے تھے ۔ چنانچہ:

(1) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان ، باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان ، باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

(2) حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔"( فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضائل، قرآن پاک پڑھنے کے فضائل، جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔( فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضائل، قرآن پاک پڑھنے کے فضائل، جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

(3)فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ "اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا ، اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ایمان کا بیان، باب قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 ، حدیث نمبر:150)

اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور گویا رحمت کا بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔

اس تشبیہ سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا،زمین کیسی اعلٰی ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے،مگر بارش کی محتاج ہے،دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں۔دوسرے یہ کہ تاقیامت مسلمان علماء کے حاجت مند ہیں کہ ان کی کھیتیوں کو پانی انہیں تالابوں سے ملے گا حضور کی رحمت انہی کے ذریعہ نصیب ہوگی۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ایمان کا بیان، باب قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 ، حدیث نمبر:150)

ان تمام احادیث کریمہ سے کئی چیزیں معلوم ہوتیں ہیں ۔

اول تو یہ کہ حضور ﷺ کا سمجھانے کا خوبصورت انداز کہ آپ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سے سمجھایا کرتے تھے کہ اس سے بات بہت جلد سمجھ میں آ جاتی ہے ۔ اور ایک چیز ہمیں یہ سیکھنے کو ملی کہ ہمیں بھی اگر موقع ملے کسی کو سمجھانے یا کچھ پڑھانے کا تو حتی الامکان مثالوں کے ذریعے سے سمجھایا جائے تاکہ حضور کی اس ادا کر بھی عمل ہو اور سامنے والے کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور ﷺ کی اداؤں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔