حمزہ عثمان (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث
اعظم ولیکا کراچی ،پاکستان)
مصاحبت و ہمنشینی کے بنیادی
حقوق: بنیادی طور پر مصاحبت اور
ہمنشینی کے فرد پر دو طرح کے حقوق لازم ہیں۔ اولاً صحبت کے حقوق اور ثانیا ًصاحب
یا شرکائے مجلس کے حقوق۔
شرکائے مجلس کے حقوق میں سب سے
اہم اور بنیادی حق یہ ہے کہ مجلس کے اداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ جس کی تلقین احادیث
مبارکہ میں بارہا آئی ہے اس ضمن میں حضور ﷺ کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں:
حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے
روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی نشست سے نہ
اٹھائے تاکہ وه خود وہاں بیٹھے بلکہ کشادگی پیدا کرو اور جگہ دو۔ (بخاری 6270)
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم
صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص دو افراد کے درمیان انکی اجازت کے
بغیر نہ بیٹھے۔(ترمذی2705)
قال رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم :مجلس
کی بات امانت ہے۔(ابوداؤد 4868)
معلوم ہوا کہ مجلس کی روح آداب
ہیں۔یعنی اگر مجلس اجتماعی اعتبار سے آداب سے خالی ہو تو ایسی مجلس کی کوئی حیثیت
و وقعت نہیں اور اگر کوئی فرد مجلس کے آداب
کو ملحوظ نہ رکھے تو وه شخص اس مجلس سے کوئی نفع نہ اٹھا سکے گا۔
اگرایک زاویہ سے دیکھا جائے تو گویا دنیا میں
ہمارا امتحان حقوق کی ادائیگی ہی ہے(حقوق اﷲ ہوں یا حقوق العباد)اگر کوئی شخص اپنے
حقوق پہچان لےاور پھر ان حقوق کی کما حقہ ادائیگی کرے تو وہی شخص دنیا و آخرت میں
کامیاب و کامران ہے۔ اﷲ عزوجل ہمیں امانت دار بنائے اور ظلم سے بچھائے۔(امین)
محمد فہد عطاری (درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان
ابو عطار کراچی ،پاکستان)
نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے دنیا
میں سب سے اعلیٰ و افضل مقام و مرتبہ عطا فرمایا اور ہدایت کا سرچشمہ بنا کر دنیا
میں مبعوث فرمایا۔ نبی پاک ﷺ نے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کئی طریقے اختیار
فرمائے جن کے ذریعے لوگوں کو آپ ﷺ کی بات سمجھنا آسان ہو جائے۔ ہر زبان میں چند ایسے
طریقے ہوتے ہیں جن کے ذریعے مخاطب با آسانی بات سمجھ لیتا ہے۔ انہی طریقوں میں سے
ایک طریقہ "تشبیہ" ہے۔ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز سے
اس صفت کی بنا پر مشابہت دینا جو دونوں میں پائی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں تک
اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کئی حکمت بھرے طریقے اختیار فرمائے، انہیں طریقوں میں
سے ایک نہایت بلیغ اور مؤثر طریقہ تشبیہ کو بھی اختیار فرمایا ، چند احادیثِ کریمہ
ملاحظہ فرمائیں:
(1)نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی مثال جو قرآن کریم
پڑھتا ہے سنگترے جیسی ہے کہ ذائقہ اچھا اور خوشبو بھی اچھی اور جو قرآن مجید نہ
پڑھے وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کا ذائقہ اچھا لیکن خوشبو نہیں ہوتی۔ ( بخاری، کتاب
فضائل القرآن ،باب فضل القرآن علی سائر الکلام ،ج 3 ،ص 1292، حدیث 5020 دار
الفکر)
اس حدیث پاک میں مومن کو قرآن
کریم پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ مومن کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرکے اپنے
ظاہر و باطن کو معطر کرے۔
(2) الله پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھے اور برے
ہم نشین کی مثال خوشبو والے اور لوہار جیسی ہے کہ مشک سے کوئی فائدہ حاصل کر کے ہی
واپس لوٹو گے یا تو اسے خریدو گے ورنہ خوشبو تو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی تمہارے
جسم یا کپڑے کو جلائے گی ورنہ اس کی بدبو تو تمہیں پہنچے گی ۔ (بخاری کتاب البیوع
باب في العطار وبيع المسك ص 499 حدیث 2101 دار الفکر)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ہمیں
نیک صحبت اختیار کرنی چاہیے کیونکہ نیکوں کی صحبت انسان کو نیک بنا دیتی ہے اور
برے لوگوں کی صحبت انسان کو برا بنا دیتی ہے جیسا کہ فارسی کا مشہور شعر ہے۔
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند
یعنی نیک آدمی کی صحبت تجھے نیک بنا دیتی ہے اور
برے آدمی کی صحبت تجھے برا بنا دیتی ہے۔
(3) مؤمن اور کافر کی آزمائش میں
مثال: الله پاک کے آخری نبی ﷺ نے
ارشاد فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے پودوں کی طرح ہے جنہیں ہوا کبھی جھکاتی اور
کبھی سیدھا کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے کہ ہمیشہ ایک
حالت میں رہتا ہے اور ہوا ایک ہی مرتبہ اسے جٹ سے اکھاڑ پھینکے۔ (بخاری، کتاب
المرضی ، باب ما جاء فی کفارۃ المرض ، ص 1443 ، حدیث :5643 ، دار الفکر)
اس حدیث پاک میں مومن کو نرم کھیتی
سے تشبیہ دی ہے کہ جب ہوا اسے الٹتی ہے تو وہ نرم کھیتی بچھ جاتی ہے جب ہوا اسے سیدھا
کرتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے اسی طرح مومن کے پاس اللہ پاک کا حکم آتا ہے تو وہ
اکڑتا نہیں ہے بلکہ وہ اس پر عمل کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس کافر کو صنوبر سے تشبیہ
دی ہے کہ یہ درخت انتہائی اکڑ والا ہوتا ہے اسے ہواؤں کا کوئی اثر نہیں لگتا لیکن یہ
اچانک ہی اکھڑ کر گر جاتا ہے تو اسی طرح کافر کو دنیا میں بظاہر تکلیفیں نہ پہنچیں
لیکن آخرت میں اسے دردناک عذاب ہوگا۔
حافظ محمد ریحان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ امیر معاویہ شاہدرہ لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کو اعلیٰ
درجے کی فصاحت و بلاغت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کے کلام میں سلاست، وضاحت، سادگی اور
گہرائی تھی۔ آپ ﷺ نے دعوتِ اسلام، نصیحت، تعلیم و تربیت، اور سمجھانے کے لیے مثالی
انداز اپنایا جس میں تشبیہات یعنی مثالوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ یہ مثالیں نہایت
سادہ، فطری اور مخاطبین کے ماحول کے مطابق ہوتیں تاکہ دل و دماغ میں بات اتر جائے۔
تشبیہ کا مقصد محض ادبی حسن پیدا کرنا نہیں بلکہ مفہوم کو واضح کرنا اور سننے
والوں کے ذہن میں بات کو نقش کر دینا ہوتا ہے۔ تشبیہات کے ذریعہ آپ ﷺ کی چند نصیحتیں:
(1) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مثال: رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ
أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ(الترمذی، ج4، ص477، حدیث:
2869)ترجمہ: ”میری اُمّت کی مثال بارش کی طرح ہے، نہ معلوم اس کے اول میں خیر ہے یا
آخر میں۔“
اس تشبیہ سے امت کے ہر دور کے
افراد میں نیکی اور خیر کی امید دلائی گئی ہے۔
(2) نیک اور بُرے ساتھی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ
السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا
أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا
أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (بخاری، ج2، ص905، حدیث: 2101)
ترجمہ: ”نیک ساتھی کی مثال عطار
(خوشبو فروش) کی مانند ہے، اور بُرے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی مانند ہے،
عطار یا تو تمھیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم اچھی خوشبو پاؤ
گے، اور لوہار یا تو تمھارے کپڑے جلائے گا یا بدبو محسوس کرو گے۔“
یہ تشبیہ نہایت عام فہم اور
مؤثر ہے، جو اچھے دوست کے فائدے اور برے دوست کے نقصان کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ تشبیہ قرآن کی ہدایت کے ساتھ
مضبوط وابستگی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
(3) نماز کی مثال: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ
لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا،
هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ،
قَالَ: فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ
الْخَطَايَا (بخاری، ج1، ص88، حدیث: 528) ترجمہ:
”نماز ایسے ہے جیسے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ بار اس میں غسل
کرے تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل رہے گا؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں، فرمایا: ”یہی پانچ نمازیں ہیں،
اللہ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ تشبیہ نماز کی روحانی صفائی
کو جسمانی صفائی کی مثال سے سمجھاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی یہ تشبیہات نہ
صرف بات کو سمجھنے میں آسانی فراہم کرتی ہیں بلکہ سننے والوں کے دل و دماغ پر دیرپا
اثر ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان نصیحتوں کو ہمیشہ یاد
رکھا اور اپنے عمل کا حصہ بنایا۔
قرآنی مثال بھی بطورِ تائید: قرآن پاک میں بھی اللہ پاک نے تشبیہات کے ذریعے بات کو واضح فرمایا:
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا
التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاؕ- ترجمۂ کنزالایمان: ان کی مثال
جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو
پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔ (پ 28، الجمعۃ: 5)
تشبیہات کا انداز، تعلیم و تربیت کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔ نبی کریم ﷺ
کا یہ اسلوب علم و حکمت کی روشنی سے بھرپور ہے ۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
جنید جاوید (درجہ رابعہ جامعہ جامعۃ المدینہ سادھوکی لاہور ، پاکستان)
نبی کریم ﷺ کا
سمجھانے کا طریقہ بہت منفرد اور با کمال تھا۔کبھی آپ مثال کے ذریعے تربیت فرماتے ہیں
تو کبھی تشبیہات کے ذریعے۔ آئیے احادیث میں سے چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل
کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے تشبیہ کے ساتھ تربیت فرمائی:
(1) جنت و جہنم جوتے کے تسموں سے
زیادہ قریب ہے : عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی
اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ
حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں
کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الجنۃ
اقرب۔۔ الخ،4/243/6488)
(2) علم سیکھنے اور سکھانے والے
کی مثال : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے
ارشادفرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس
ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے
اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ
بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا دوسروں
کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان
تھا اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔تو پہلی اس شخص کی مثال ہے جس
نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کو سمجھااور
جس چیز کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو
اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔اور دوسری اس شخص کی مثال ہے
کہ جس نے اس علم کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا
ہےاسے قبول نہ کیا۔)(مسلم،کتاب الفضائل،باب بیان مثل مابعث النبی من
الہدوالعلم،253حدیث/2282)
(3) لوگ سونے چاندی کی کانوں کی
طرح ہیں: ترجمہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے، وہ
زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ
لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ دنیا میں مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ دنیا میں الگ رہتی
ہیں ۔ (مسلم کتاب البروالصلۃ والاداب،باب الارواح جنود، ص1418،حدیث ،2638)
(4) بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک: ترجمہ حضرت سَیِّدُنَا کَعب
بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہرسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے
جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن
کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔(ترمذی، کتاب الزھد،باب43,4/166,حدیث:2383)
(5)سخی اور بخیل کی مثال: حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ
اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور
خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک
لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ
جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ
کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (بخاری کتاب الزکوۃ باب مثل المتصدق و
البخیل،1/482،حدیث/1443بتغیرقلیل )
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں
احادیث پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
محبوب مصطفیٰ (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو
اللہ تبارک و تعالی نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور حضور علیہ الصلاۃ
والسلام کو امت کے لیے رہنما بنا کر بھیجا تو آپ ﷺ نے
اپنی امت کی کئی طرح سے تربیت فرمائی ان میں سے ایک تشبیہات کے ساتھ اپنی امت کی
تربیت فرمائی:
(1) وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی
الله علیہ وسلم نے کہ شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6، کتاب الاطعمہ،حدیث نمبر4022صفحہ نمبر 46
مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ )
(2) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم
الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ
حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.ترجمہ: فرمایا رسولﷲ ﷺ نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی
سی ہے جو دن کا روزہ دار، رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا
ہو نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتی کہ اﷲ کی راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ,
کتاب الجہاد ،حدیث نمبر:3613،صفحہ نمبر 459 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(3) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي
هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس
سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے
کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی
مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:4 ، باب العطایا، حدیث
نمبر:2886 صفحہ نمبر:405 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(4) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ
رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا
إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ
بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ
قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں
نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے
لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے
اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ،باب الانفاق وکراھیت الاحادیث حدیث
نمبر:1768، صفحہ نمبر 81 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(5) عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً
فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا
وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ.ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے
اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (مسلم
،کتاب الفضائل،باب الشفقت علی امتہ ۔۔الخ ،ص 1254،حدیث:2285)
حافظ
محمد حماس (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
دنیا کی کسی بھی زبان میں جب ایک بات کو عام فہم انداز میں سمجھایا جاتا
ہے تو اس میں ایک بہت ہی اہم کردار تشبیہات کا بھی ہوتا ہے یہ ایک بہترین اور
خوبصورت ذریعہ ہے کہ اپنی بات کو با آسانی دوسرے کو سمجھایا جائے ۔ دنیا میں کوئی بھی زبان ہو یا لٹریچر چاہے آسمانی ہو یا انسانی ۔ وہ تشبیہات سے خالی
نہیں ،اللہ رب العزت نے بھی قرآن پاک میں کثیر مقامات پر تشبیہات بیان فرمائی اور نبی
پاک ﷺ نے بھی بہترین انداز میں تشبیہات کو بیان فرما کر جامع انداز کے اندر امت کی
تربیت فرمائی ۔
قارئین کرام ! آئیں نبی پاک ﷺ کے حکمت بھرے فرامین پڑھنے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ
أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر ایک
اپنے بھائی کا آئینہ ہے، پس اگر وہ اُس میں کوئی تکلیف دہ (عیب یا خرابی) چیز دیکھے
تو اُسے اُس سے دور کر دے۔"(سنن ترمذی ، ابواب البر والصلۃ باب ما جاء فی شفقۃ المسلم على المسلم ، حديث
1929 ،ج 4 ص 325)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: أَخَذَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْكِبِي فَقَالَ:كُنْ فِي الدُّنْيَا
كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا:
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو، یا راستہ عبور کرنے والے مسافر کی
طرح۔" (صحيح البخاری بَاب: قَوْلِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: (كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ
غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ) الحدیث 6416 ج8،ص89)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ
كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا،
قَالَ: فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ
الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں
نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر
تمہارے دروازے کے پاس ایسی ایک ندی بہتی ہو جس میں تم روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرو،
تو کیا وہ کبھی تمہارے بدن سے نجاست یا میل کچیل باقی چھوڑے گا؟ لوگ بولے نہیں، وہ
بدن سے کوئی میل نہیں چھوڑتا نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہی
ہے اللہ تعالٰی ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحيح البخاری،كتاب مواقيت
الصلاة،الصلاة الخمس كفارة، ج1، ص112، الحدیث 528، دار طوق النجاح)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:
قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ
سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے اہل
بیت کا مثال نوح کی کشتی کے جیسی ہے جو اس
میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو پیچھے
رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔ (مسند بزار، مسند
ابن عباس، ج11، ص329، الحدیث 5142 مكتبۃ العلوم و الحكم)
قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ
فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو
تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،
حضرات صحابہ کے فضائل،جلد:8 ، حدیث نمبر:6018)
سبحان الله!کیسی نفیس تشبیہ ہے
حضور نے اپنے صحابہ کو ہدایت کے تارے فرمایا اور دوسری حدیث میں اپنے اہلِ بیت کو
کشتی نوح فرمایا،سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری
کا بھی کہ جہاز ستاروں کی رہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں،اسی طرح امتِ مسلمہ
اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کے بھی محتاج ہیں اورصحابہ کرام کی بھی حاجت
مند۔امت کے لیے صحابہ کی اقتداء(پیروی) میں ہی اہتداء یعنی ہدایت ہے۔
اللہ پاک ہمیں نبی پاک ﷺ کے
فرامین پڑھ کر ان پر عمل کر کے اپنی زندگی کو بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبیین ﷺ
زین العابدین (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
اللہ
پاک نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد ﷺ کو ہدایت حکمت اور نور کے ساتھ تمام جہانوں کے
لیے رحمت بنا کر بھیجا ، آپ نے تربیت کے
لیے تشبیہات کا استعمال فرمایا، اسی مناسبت سے چند فرامین پڑھیے:
(1)سورج کی مشابہت حسن اخلاق سے :
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: بے شک حسن اخلاق خطاؤں کو اس طرح مٹادیتا ہے جس طرح سورج کی حرارت برف کو
پگھلا دیتی ہے ۔ (احیاء علوم مترجم جلد 3
ص158 مکتبہ المدینہ )
(2)بد اخلاقی کی مشابہت سرکہ سے
: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا بد اخلاقی عمل کو اس طرح خراب کر دیتی ہے جس طرح سر کہ شہد کو خراب کر دیتا
ہے۔ ( احیاء علوم مترجم جلد 3 ص 156 مکتبۃ المدینہ)
(2)شکر گزار کھانے والے کی
مشابہت صابر روزے دار سے: وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعِمُ
الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ
شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کی طرح
ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، کتاب الاطعمہ،حدیث
نمبر4022صفحہ نمبر 46 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ )
(3) جہاد والےکی مشابہت روزے دار
سے : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا
يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ: فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس
کی سی ہے جو دن کا روزہ دار رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا
ہو نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتی کہ اللہ کی راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ،
کتاب الجہاد ،حدیث نمبر:3613،صفحہ نمبر 459 مکتبہ اسلامیہ)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں
ان احادیث کو پڑھ کر ان پر عمل کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ
علی
اکبر مہروی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
تشبیہ کا مطلب ہے کسی ایک چیز
کو کسی دوسری چیز سے کسی خاص وجہ سے ملانا یا اس سے مشابہ قرار دینا۔ علم بیان کی
اصطلاح میں، جب کسی ایک چیز کو کسی خاص وصف یا خوبی کی بنیاد پر کسی دوسری چیز سے
مشابہ قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔
حضور ﷺ نے
اپنی امت کی تشبیہات سے تربیت فرمائی ہے آیئے ان
کا مطالعہ کرتے ہیں:
حدیث نمبر 1: سخی اور بخیل کی تشبیہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ
اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل
اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے
تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے
نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ
کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں
ہوتا۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث نمبر 560 جلد 5 صفحہ 237 مکتبۃ المدینہ)
حدیث نمبر 2، انسان کے دین کو نقصان : حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر
بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت
کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “ (فیضان ریاض الصالحین حدیث نمبر 485 جلد 4
صفحہ 721 مکتبۃ المدینہ)
حدیث نمبر 3: آپ ﷺ کی
اپنی امت پر شفقت: حضرتِ
سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس
شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور
پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں
تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے)
سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 163
جلد 2 صفحہ 531 مکتبۃ المدینہ)
حدیث نمبر 4،ویران گھر کی طرح : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ
اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضان ریاض
الصالحین حدیث 1000 جلد 7)
حدیث نمبر 5، قرآن پڑھنے والے کی مثال : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری
رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن
کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں
لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو
اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس
کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“( فیضان ریاض الصالحین حدیث 995 جلد 7)
اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا
ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق
زندگی گزارنے اور حضور ﷺ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
محمد
شاہ زیب سلیم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
تربیت انسانی شخصیت کی تعمیر و
تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور مؤثر تربیت وہی ہوتی ہے جو دل و دماغ
دونوں پر اثر ڈالے۔ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس پہلو سے بھی ایک کامل نمونہ ہے کہ آپ نے نہ صرف قول سے بلکہ عمل، مثال اور تشبیہات
کے ذریعے بھی لوگوں کی اصلاح اور تربیت فرمائی۔ آپ ﷺ کی گفتگو عام فہم، سادہ اور بامقصد ہوتی اور آپ اکثر گہرے مفاہیم کو واضح کرنے کے لیے
تشبیہات کا سہارا لیتے تاکہ بات دل نشین ہو جائے اور سننے والا نہ صرف سمجھے بلکہ
اس پر عمل بھی کر سکے۔ آئیے چند ایسی احادیث ملاحظہ ہوں جن میں حضور ﷺ نے تشبیہات سے تربیت فرمائی ہے:
(1)جنت ودوزخ کے قریب ہونا: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ
اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف
رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: جنت تم میں سے ہر
ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض
الصالحین ج2 ص226 ، 227 مترجم مکتبۃ المدینہ )
شرحِ حدیث:مذکورہ حدیث پاک میں
بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔اور
اس تسمے سے مراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں
داخل کرتا ہے جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے
سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں۔(فیضان ریاض
الصالحین ج2 ص226 ، 227 مترجم مکتبۃ المدینہ )
(2)شیطان آدمی کا بھیڑیا: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ
كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ
وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ
روایت ہے حضرت معاذا بن جبل سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان
آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا
ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور
عوام کو لازم پکڑو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح ج1 ، ح184 )
شرحِ حدیث: یہاں تشبیہ یہ ہے کہ
دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری
تاک میں ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج1 ، ح184 )
(3ِ)آگ سے بچانا: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ
كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ
فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ
النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ
يَدَيَّ
حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس
شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور
پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں
تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے)
سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (مسلم کتاب الفضائل باب الشفقۃ علی
امتہ ۔۔۔الخ ،ص1254، ح2285)
(4) اعمال میں جلدی کرنا: عَنْ اَبِیْ
ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا
بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ:یُصْبِحُ الرَّجُلُ
مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ
دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہ ُسےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے
پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے
گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے
بدلے بیچے گا۔ ‘‘(صحیح مسلم، کتاب الایمان ،باب الحث علی المبادرۃ۔۔۔الخ،ص73،
ح118)
(5) عالم کی فضیلت: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ
لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ
عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي
عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ
الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ
وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي
جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ
روایت ہے ابو امامہ باہلی سے
فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک
عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے
میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین
والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں
لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۔ (مشکوٰۃ
المصابیح ،کتاب العلم ،ج1،ص34،ح202)
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
،پاکستان)
اللہ رب العزت نے نبی کریم محمد
ﷺ کو انسانوں کی ہدایت اصلاح اور تربیت کے لیے مبعوث فرمایا، اور آپ ﷺ کو ایسی
حکمت عطا فرمائی جو ہر زمانے ہر قوم اور ہر عقل کو متاثر کرتی ہے۔ آپ ﷺ کا انداز
تربیت نہایت حکیمانہ فطرت کے مطابق اور سامع کی ذہنی استعداد کے مطابق ہوتا تھا۔
ان ہی طریقوں میں سے ایک عظیم طریقہ ”تشبیہات“ کا استعمال تھا۔تشبیہ ایک ادبی اور
تعلیمی فن ہے جس کے ذریعے کسی بات کو مؤثر اور قابل فہم بنانے کے لیے کسی مشابہ چیز
سے مثال دی جاتی ہے۔
(1)دنیا کی مثال :روایت ہے حضرت معاذ بن جبل رضی
اللہ تعالی عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے
جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو
لازم پکڑو۔
خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک
جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں
ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔(مشکاۃ المصابیح، جلد اول کتاب ایمان حدیث 184)
(2)سیاہ خضاب کی حرمت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما راوی، حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آخر
زمانےمیں کچھ لوگ سیاہ خضاب کریں گے جیسا کہ کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نا
سونگیں گے۔(فتاوی رضویہ جلد 23 مکتبہ رضا فاونڈیشن صفحہ 496 )
اس حدیث کے تحت امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں : جنگلی کبوتروں کے سینے اکثر سیاہ نیلگوں ہوتے ہیں
نبی پاک ﷺ نے ان کے بالوں اور داڑھیوں کو ان سے تشبیہ دی ۔(فتاوی
رضویہ جلد 23 مکتبہ رضا فاونڈیشن صفحہ 496 )
حضرت سیدنا عطا بن بیمار رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار دو عالم شاہ بنی آدم، رسول اکرم نور
مجسم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اتنے میں
ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ ہمارے میٹھے مدنی آقا ﷺ نے اس کی طرف اس انداز پر اشارہ کیا جس سے صاف
ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اس کو بال درست کرنے کا فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے
کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا
ہے گویا کہ وہ شیطان ہے۔ ( رہنمائے جدول صفحہ 209 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(3)علم نجوم کا علم: روایت ہے حضرت ابن عباس سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے
جادو کا حصہ حاصل کیا جس نے اسے بڑھایا
اتنا ہی اسے بڑھایا ۔
مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث
کے تحت فرماتے ہیں : علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے
علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار
کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:4598)
(4)بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر
حق: روایت ہے حضرت سعید ابن العاص
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا حق ایسا
ہے جیسے باپ کا حق اولاد پر ۔۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4946)
مفتی احمد یار خان نعیمی اس
احادیث کے تحت فرماتے ہیں : یعنی بڑے بھائی کا حق اس قسم کا ہے جس قسم کا
حق باپ کا اپنی اولاد پر ہے،یہاں تشبیہ نوعیت میں ہے مقدار حق مراد نہیں۔( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:4946)
ان پانچوں احادیث میں تشبیہات
کے ذریعے عملی زندگی کے بنیادی اصول ،ادب ،طہارت دین داری اور خاندانی تعلقات کو
انتہائی مؤثر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتیں کہ ایک مسلمان نہ صرف عبادت گزار
بلکہ کردار گفتار لباس، معاشرت اور عقیدے میں بھی مکمل آئین اسلام پر کاربند ہو۔
انسانی فہم و ادراک کے لیے تشبیہات ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ قرآن مجید میں بھی حقائق کو سمجھانے کے لیے بارہا تشبیہات
اور تمثیلات کا استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ
یہ دل پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی ہیں اور بات کو ذہن نشین کرنے میں آسانی پیدا کرتی
ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی
تربیتِ امت کے لیے اس مؤثر انداز کو اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ کی احادیث میں جابجا ایسی
تشبیہات موجود ہیں جن کے ذریعے آپ نے نہایت
سادہ مگر جامع انداز میں اہم اخلاقی، دینی اور معاشرتی امور کو واضح فرمایا۔
تشبیہات کا مقصد:رسول اللہ ﷺ کا مقصد تشبیہات کے
ذریعے بات کو صرف سمجھانا ہی نہیں تھا بلکہ سامعین کے دلوں میں اثر پیدا کرنا،
جذبات کو ابھارنا اور ان کے ذہنوں میں وہ بات نقش کر دینا تھا تاکہ وہ اس پر عمل
کر سکیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات مختصر مگر پر اثر ہوتیں، جنہیں سننے والا آسانی سے یاد
رکھ سکتا تھا۔
تشبیہی انداز کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے :
(1) نماز
کی اہمیت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو
اور وہ روزانہ پانچ بار اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے
گا؟" صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"نہیں، کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی پانچ
وقت کی نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔" (صحیح
بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 528، صفحہ 255، دارالسلام، ریاض)
(2) مؤمن
کی مثال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مؤمن کی مثال کھجور کے درخت
کی مانند ہے، تم اس کے کسی بھی حصے سے فائدہ حاصل کرو، وہ نفع ہی دیتا ہے۔" (صحیح
بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 61، صفحہ 45، دارالسلام، ریاض)
(3) علم
کے بغیر عبادت کی مثال: نبی ﷺ نے فرمایا: "علم کے
بغیر عبادت کرنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اندھیرے میں تیر چلائے، جو صحیح
جگہ پر نہیں لگتا۔" (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 7947، جلد 8، صفحہ
235، دار الحرمین)
(4) اسلام
کی مضبوطی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی رسی کی گرہیں ایک
ایک کر کے کھلتی جائیں گی، جب ایک گرہ کھلے گی تو لوگ اگلی کو تھامے رکھیں گے، سب
سے پہلے حکومت کی گرہ کھلے گی اور سب سے آخر میں نماز کی۔" (مسند احمد بن
حنبل، حدیث نمبر 22882، جلد 5، صفحہ 251، دارالفکر)۔
تشبیہات کا یہ اسلوب آج کے دور
میں بھی تعلیم و تبلیغ کے میدان میں نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب بات کسی مثال
کے ساتھ بیان کی جاتی ہے تو وہ صرف ذہن ہی نہیں بلکہ دل کو بھی
متاثر کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو نہ صرف علم سکھایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی
فتح کیا اور اس کے لیے آپ نے نہایت سادہ، مگر فکر انگیز مثالیں
استعمال فرمائیں۔ یہ اسلوب ہر معلم، خطیب، والدین اور داعی کے لیے ایک رہنما اصول
ہونا چاہیے تاکہ تعلیم کو صرف معلومات کا انبار بنانے کی بجائے حقیقی تربیت کا ذریعہ
بنایا جا سکے۔
اللہ پاک عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
ارسلان
حسن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
(1) توبہ کی فضیلت: عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ
خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ
قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ
بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ
اَرْضٍ فَلاَۃٍ ترجمہ خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ
چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب
التوبۃ، 4/191، حدیث: 6309)
(2) تسمے سے زیادہ قریب: عَنِ
ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ
وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ
حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی
جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘ ( بخاری ، کتاب
الرقاق ، باب الجنۃ اقرب ، 4/ 243 ، حدیث: 6488)
(3) ایمان کا سمٹنا: قَالَ
رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ
الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔( مشکوٰۃ
المصابیح ، جلد ،1 ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، حدیث: 152)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کی شرح میں لکھتے ہیں مدینہ
پہلے بھی مسلمانوں کا جائے امن بنا اور آیندہ
بھی بنے گا کیوں نہ ہو کہ یہاں دونوں عالم
کے پناہ ﷺ جلوہ فرما ہیں۔ غالبًا یہ واقعہ دجّال کے قریب
ہوگا۔سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے
ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا
ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)
(4) حضور علیہ السلام کی امت پر
شفقت: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً
فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا
وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس
شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور
پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں
تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے)
سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ ( مسلم ، کتاب الفضائل ، باب
الشفقۃ علی امتہ حدیث: 2285)
(5) سونے چاندی کی کانیں: عَنْ
اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ
خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا
وَالْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا
تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی
کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ
جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ
رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا
میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں
۔ ( مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب ،
حدیث: 2638)
اللہ تعالی ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami