حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں نفلی روزہ رکھے البتہ اپنے شوہر کی اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت کے بغیر کسی غیر شخص کو اس کے گھر میں آنے دے۔ (فیضان ریاض الصالحین، 3/496، حدیث: 282)

اس حدیث سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہ نفلی روزہ رکھے اور نہ ہی نفلی عبادت کرے کہ نفلی روزہ رکھنے سے اس کی خدمت میں کوئی خلل نہ آئے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر کے آگے زبان کھولی اور اس کو برابر کے جواب دیئے اور اس کی عزت کو تار تار کیا فرمایا قیامت کے دن اللہ اس کی زبان کو 70 گز لمبا کر دے گا، اس کے گلے کے ساتھ لپیٹ دے گا اور فرمایا وہ تڑپے گی روئے گی یا اللہ یہ کیا ہوا رب فرمائے گا تو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی تھی تو اس کا احترام نہیں کرتی تھی تو اس کا کہنا نہیں مانتی تھی تو اس کی اطاعت نہیں کرتی تھی تو اس کے حکموں پہ نہیں چلتی تھی اس لیے تم پر یہ عذاب نازل ہوا۔

بیوی کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر بلا وجہ گھر سے چلے جانا جائز نہیں ہے شرعا وہ نافرمانی ہے اور ایسی صورت میں شوہر اپنے بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہے یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے حدیث مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں وعید آئی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ ایک خاتون نبی پاک ﷺ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ! میرا شوہر تجارت کے سلسلے سے غیر ممالک کیا ہے اور مجھے پیغام ملا ہے کہ میرا باپ بیمار ہے تو کیا میں اپنے باپ کی عیادت کرنے کے لیے جا سکتی ہوں تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تو جا سکتی ہے لیکن تیرے لیے بہتر ہے کہ تم اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے پھر کچھ دن بعد اس عورت کو خبر ملی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا ہے تو وہ روتی ہوئی حضور پاک ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ اب تو میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا میں اپنے والد کا آخری بار چہرہ دیکھ آؤں تو حضور پاک ﷺ نے فرمایا: تو اپنے شوہر کی فرمانبرداری کر یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر ہمیں کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تقوی کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں اور وہ کیا ہے فرمایا کہ اگر شوہر بیوی کو حکم دے تو بیوی اس کی اطاعت کرے اور اگر شوہر بیوی کو دیکھے تو خوش ہو جائے اور وہ اگر اپنے بیوی کے متعلق قسم کھا بیٹھے تو بیوی اس کی قسم کو سچا کرے اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو بیوی اپنے نفس اور شوہر کے مال کے معاملے میں بھلائی کرے۔

عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس اور گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کے لیے بناؤ سنگار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی خوبی یہ بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اس سے دیکھے تو وہ اس سے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ،2/414، حدیث: 285)

بیوی میں دس قسم کی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے سونے جاگنے بولنے چلنے دس قسم کی عادتیں ہوتی ہیں یا اخلاقیات خراب ہوتے ہیں یا عبادات کے معاملے میں کمزوریاں ہوتی ہیں بہت ساری اگر شوہر اپنی بیوی کی باتیں سب کو بتاتا پھرے یا بیوی اپنے شوہر کی باتیں سب سے کرتی پھرے تو اس سے گھر کا ماحول خود با خود خراب ہوتا ہے میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی باتیں اپنے کمرے تک ہی محدود رکھیں تاکہ نہ اولاد کے سامنے کریں اور نہ ہی شوہر اپنے والدین کے سامنے اپنی بیوی کی خامیاں بیان کرے انہیں چاہیے کہ اپنے اندر کے حالات کمرے تک ہی محدود رکھیں اگر شوہر کوی پرابلم ہے تو اپنی بیوی سے شیئر کریں اور اگر بیوی کو کوئی پرابلم ہے تو وہ اپنی باتوں کو اپنے شوہر کے ساتھ شیئر کریں۔

نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے شوہر کا حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)

پیاری پیاری اسلامی بہنوں ان احادیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ شوہر کا حق بہت بڑا ہے اور عورت پر ان کی ادائیگی فرض ہے۔ اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں ان حقوق کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


شوہر کی نافرمانی آج کل ہرعورت کا معمول بن چکی ہے۔ اگر شوہر کسی چیز سے اپنی بیوی کو روکیں تو بیوی اسے ایسا سناتی ہے کہ شوہر خود ہی خاموش ہو جاتا ہے الله پاک نے شوہر کو بہت ہی بلند مقام عطا فرمایا ہے اگر ہر عورت کو اس بات کا علم ہو جائیں کہ شوہر کی نافرمانی کی الله پاک کی بارگاہ میں کیا سزا ہے تو کوئی بھی بیوی اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کرے، جب آپ معراج شریف پر گئے تو آپ نے جنت اور جہنم کی سیر کی تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے جہنم میں سب سے زیادہ عورتوں کو دیکھا تو میں نے اللہ پاک سے پوچھا کہ ایسا کونسا گناہ کیا ہے ان عورتوں کو یہ عذاب ملا تو الله تعالی نے فرمایا کہ یہ عورتیں اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی تھی ساری زندگی ان کے ساتھ رہنے کے بعد بھی یہ کہتی تھی کہ تو نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے تو نے آج تک مجھے دیا ہی کیا وہ اپنے شوہر کی بے قدری کیا کرتی تھیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے وہ جہنمی ہے اور جہنم میں سب سے زیادہ عورتیں ہوں گی وہ بھی اپنے شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے اس لیے عورتوں کو چاہیے اپنے شوہر کی نافرمانی سے بچیں۔آج کل شوہر اگر تھکا ہارا کام سے واپس اپنے گھر کو لوٹتا ہے تو بیوی اسے پانی پوچھنے کی بجائے اسے سکون دینے کی بجائے آگے سے شکایتیں کرنا شروع کر دیتی ہے کہ آج تیری ماں نے یہ کیا تیری بہن نے یہ کیا جب سے میری تیرے ساتھ شادی ہوئی ہے تو نے میری زندگی عذاب کر دی ہے تو نے تو میری زندگی جہنم بنادی ہے میں تجھ سے شادی کر کے پچھتا رہی ہوں وغیرہ تو شوہر اس وقت ٹوٹ جاتا ہے اور اس وقت اللہ پاک سخت ناراض ہوتا ہے عورت اگر سارا دن بھر میں تھوڑا سا کام کرے تو وہ سارا دن جتلاتی ہے آج میں نے یہ کیا وہ کیا لیکن شوہر اگر سارا دن بھی تھکا ہوا ہو تو گھر واپس آئے تو اس کی بیوی اس سے یہ پوچھ لے کہ آپ کیسے ہو تو شوہر کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔

احادیث شریف میں آتا ہے: اگر میں کسی کوحکم دیتا ہے کہ خدا کے بعد اگر کسی دوسرے کو سجدہ کریں تو وہ عورت کو حکم دیتا کہ اپنے کے شوہر کو سجدہ کریں لیکن چونکہ غیر کو خدا کو سجدہ حرام ہے اس لیے ایک عورت اپنے شوہر کو سجدہ نہیں کرتی البتہ اس کے لیے اپنے شوہر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)


شریعت مطہرہ میں بیوی پر شوہر کی ہدایت کو واجب قرار دیا گیا ہے بیوی کا شوہر کی نافرمانی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بچوں کو اس کے خلاف ورغلانا شرعا ناجائز حرام ہے آپ علیہ السلام نے متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی ہدایت کو لازم قرار دیا ہے اور نافرمانی پر سخت وعیدات ارشاد فرمائیں ہیں، چنانچہ حدیث شریف میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو خداوند تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)

حدیث شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں؟تو آپ علیہ السلام نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے کیا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ خداوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھرا احسان کریں پھر وہ آپ میں کوئی نہ گوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہیں میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15، حدیث:29)

اسی طرح شریعت مطہرہ میں اولاد پر اپنے باپ اور ماں دونوں کی خدمت اور اطاعت کو فرض کیا گیا ہے والدین یا ان میں سے ایک کی نافرمانی کرنا اور ان کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانا ناجائز وحرام ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسی عورت جو اپنے شوہر کو زبان سے تکلیف پہنچاتی ہو اللہ تعالی اس کی کسی نیکی کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اپنے شوہر کو راضی نہ کر لے اگرچہ دن روزے سے اور پوری رات عبادت الٰہی میں گزارے اور خدا کی راہ میں کتنے غلام آزاد کروائے اور کتنے ہی گھوڑے صدقے میں دے دے سب سے پہلے اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شوہر جب اپنی بیوی کو بلائے اور وہ نہ آئے اس بنا پر شوہر رات بھر اس سے ناراض رہے تو اس پر صبح تک فرشتوں کی لعنت ہے۔ (بخاری، 2/377 ، حدیث: 3237)

حدیث مبارکہ میں ہے کہ تین لوگ ایسے ہیں کہ جن کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی وہ غلام جو مالک سے بھاگ گیا ہو۔یہاں تک کہ واپس آ جائے وہ عورت جو ایسی حالت میں سوئے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور وہ امام جو امامت کرے جب کہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔

ان حدیثوں میں شوہر کو ناراض کرنے پر اور اس کا حکم نہ ماننے پر شدید وعید ہے آپ علیہ السلام ڈرا رہے ہیں کہ کوئی عورت اس حال میں رات نہ بسر کرے جبکہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو نیز اس حدیث میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ بیوی کو شوہر کی ناراضگی زیادہ لمبی نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ فورا شوہر کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔

شوہر کو اللہ نے بڑا بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے لہذا بیوی کو چاہیے کہ اپنے زوج کی عزت و احترام کرے اس کا ادب کرے اس کی نافرمانی ہرگز نہ کرے کہ جو بیوی اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے اس کی بات نہیں مانتی اس پر لعنت برستی رہتی ہے عورت اگر شوہر کا حکم نہ مانے گی اللہ کا قہار کے غضب میں گرفتار ہوگی جب تک شوہر ناراض رہے گا عورت کی کوئی نماز قبول نہ ہوگی اللہ کے فرشتے عورت پر لعنت کریں گے اگر طلاق مانگے گی ضافقہ ہوگی اور جو لوگ عورت کو شوہر کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان بگاڑ پر ابھارتے ہیں وہ شیطان کے پیارے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 22/217)

اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر ۔

لہذا عورت کو مرد کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہے اس کے بجائے اگر عورت چاہے کہ شوہر میری مانے اور میرا فرمانبردار ہو تو یہ درست نہیں جائز درخواستیں اور فرمائشیں مثلا طرح طرح کے کھانوں نت نئے ڈیزائن کے کپڑوں وغیرہ وغیرہ کے طلب پوری کرنا شوہر پر واجب نہیں واجب صرف نان نفقہ ہے البتہ اگر شوہر دیگر فرمائشیں بھی پوری کرتا ہے تو یہ بیوی پر احسان ہوگا۔

شوہر کی نافرمانی کرنے والوں کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی ان کے لیے دنیا میں بھی خسارہ ہے اور آخرت میں بھی۔ آقا ﷺ نے فرمایا: تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی نہ کوئی نیکی آسمان کو چڑھے نشے والا جب تک ہوش میں آئے اور عورت جس سے اس کا خاوند ناراض ہو یہاں تک کہ راضی ہو جائے اور بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کی طرف پلٹ کر اپنے آپ کو ان کے قابو میں دے۔

ایک زوجہ پر ضروری ہے اور شوہر کے حقوق میں سے ہے کہ وہ اپنے زوج کی فرمانبرداری کرے اس کا ہر حکم مانیں اس کی اطاعت کرے حق کے زوجیت کا خاص خیال رکھے جیسا کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جب شوہر عورت کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ بغیر عذر کے انکار کر دے اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (بخاری، 2/377 ، حدیث: 3237)

عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس اور گھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھے میلی کچیلی نہ رہے بلکہ اپنے شوہر کے لیے خوب بناؤ سنگھار کرے کہ اس سے شوہر کا دل خوش ہوتا ہے

حدیث پاک میں شوہر کو خوش رکھنے والی عورت کو بہترین عورت کہا گیا ہے۔ آقا ﷺ نے فرمایا: یعنی اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو اپنے ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے اسے خوش کر دے۔(سنن کبریٰ للنسائی،5/ 310،حدیث: 8961)

اسی طرح جو عورت نافرمان ہو اور اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہو جو اس کے شوہر کو ناراض کرنے کا باعث ہے وہ عورت جنت کی خوشبو نہیں پائے گی یعنی نافرمانی سے محروم ہو جائے گی۔

شوہر کی نافرمانی سے بچنا چاہیے کہ بزرگان دین بھی اگر اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے تو انہیں شوہر کی فرمانبرداری کرنے کی نصیحتیں کیا کرتے تھے، جیسا کہ ایک تابع بزرگ حضرت عبد المالک بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: جب عوف بن ملحم شیبانی نے اپنی بیٹی کی شادی ایاس بن حارث کندی سے کی تو بیٹی کو تیار کیا گیا اور رخصتی کے وقت لڑکی کی والدہ امامہ اس سے نصیحت کرنے کے لیے اس کے پاس آئی اور کہنے لگی پیاری بیٹی! اگر اس بنیاد پر کسی کو نصیحت نہ کرنا درست ہوتا کہ وہ ادب میں اعلی مقام اور حسب نسب بھی عالی شان رکھتا ہے تو میں تجھے بھی نصیحت نہ کرتی لیکن ایسا نہیں نصیحت ایسی چیز ہے جو غافل کی غفلت دور کر دیتی ہے اور سمجھدار کے لیے سوجھ بوجھ کا ذریعہ بنتی ہے اے بیٹی اگر باپ کی مالدار ہونے کی بنا پر یا بیٹی کو باپ کی سخت ضرورت ہونے کی وجہ سے کوئی اور شوہر سے بے نیاز ہو سکتی تو سب سے زیادہ بے نیاز ہوتی ہے مگر ایسا نہیں ہے عورتیں پیدا ہی مردوں کے لیے کی گئی ہیں جیسے مرد عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں بیٹی جس ماحول میں تیری پیدائش ہوئی ہے اور جس گھونسلے میں تو نے پرورش پائی تو اسے خیر باد کہہ کر ہی ایسی جگہ جا رہی ہے جس سے تو انجان ہے اور ایسے ساتھی کی طرف جا رہی ہے جس سے تو نہ مانوس ہے وہ تجھ پر اپنی ملکیت کے سبب بادشاہ بن گیا تو اس کی لونڈی فرمانبردار بن جانا وہ تیرا غلام تابعدار ہو جائے گا اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے نصیحت کی، اپنے شوہر کے راز فاش مت کرنا کسی بھی حال میں اس کی نافرمانی نہیں کرنا اگر تو نے اس کے راز فاش کیے تو اس کی بے وفائی سے بچ نہیں سکے گی اور اگر نافرمانی کرے گی تو اس کا سینہ غصے سے بھر کے بھڑک اٹھے گا۔ (بیوی کو کیسا ہونا چاہیے، ص 26)

شوہر کی نا فرمانی کی ایک وجہ بے علم جہالت بھی ہے کہ جب بندے کو علم ہی نہ ہو وہ کیسے اچھے برے میں فرق کریں یعنی جب بیوی کو شوہر کے حقوق کا علم ہی نہیں ہوگا تو وہ اطاعت کیسے کرے گی علم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے سرتاج کو سرتاج سمجھنے کی بجائے خود کو اس کے سر کا تاج سمجھتی ہے اور اس کی بات ماننے سے انکار کرتی ہے نخرے دکھاتی ہے جس وجہ سے شوہر ناراض ہو جاتے ہیں اور یہ نافرمانی کا سبب بنتا ہے۔

عورتوں میں جو عام کمزوری پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ شوہر کی زرا سی بدسلوکی پر اس کے عمر بھر کے حسن سلوک کو بھلا کر صرف کچھ وقت کے برے سلوک کو یاد کرتی ہیں اور ہمیشہ اسے بھی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ شوہر کی اس قدر اہمیت ہے کہ خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے کئی مقامات پر شوہر کی اہمیت و مقام کو بیان فرمایا ہے۔ حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)

ہمارے معاشرے کی عورت اتنی خود سر ہو گئی ہے کہ شوہر جسے الله اور اس کے رسول نے اتنی اہمیت و عزت دی ہے کہ اس کی بے عزتی و نا فرمانی میں مشغول ہے اپنے شوہر کے حقوق سے بالکل بے خبر اپنی آخرت کو برباد کر رہی ہے ہمیشہ کسی نہ کسی طرح شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے ایسی عورتیں حضور پاک ﷺ کے اس فرمان سے بھی بالکل بے خبر ہیں۔

حضور ﷺ نے فرما یا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف پہنچاتی ہے تو اس کی (جنت والی) بیوی یعنی بڑی آنکھوں والی حور کہتی ہے کہ تجھ پر اللہ کی مار پڑھے (یعنی الله تجھے جنت اور اپنی رحمت سے دور رکھے) اپنے شوہر کو تکلیف مت پہنچا کیونکہ وہ دنیا میں(تیرا مہمان ہے) جو جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس جنت میں آ جائے گا۔ (ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)

شوہر کی نافرمانی کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے آج کسی بھی گھر کی بربادی اور میاں بیوی کے آپسی جھگڑے کی سب سے بھری وجہ سوشل میڈیا ہےاگر بیوی نیٹ استعمال کر رہی ہے اسی وقت شوہر اسے کہے کہ ایک کپ چائے بنا دو تو بجائے اسے وہ دس بہانے بنا دے گی بدتمیزی کرے گی اور بات کرتے ہوئے لحاظ ہی بھول جائے گی ایسی عورتوں کے بارے میں فرمان ہے: زیادہ تر دوزخ میں ڈالی جانے والی عورتیں وہ ہو گی جو نا شکری کی وجہ سے عذاب کی مستحق ہو گی یعنی وہ عورتیں جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہیں۔

اس حدیث میں عبرت ہے ان عورتوں کے بارے جو شوہروں کے ساتھ بدسلوکی اور ناشکری کرتی ہیں وہ اپنے شوہروں کے ساتھ احسان شناسی کا رویہ اختیار کرے شوہر اپنی محنت سے جو کما کر دے اس میں اللہ کا شکر ادا کرو البتہ شوہر اگر آسانی کی وجہ سے بیوی کے جائز حقوق ادا نہیں کرتا تو اس کی ملاقات احسان نا شاسی نہیں ہو گی۔


شریعت مطہرہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت کرنا لازم و واجب قرار دیا ہے۔ بیوی کا شوہر کی نافرمانی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بچوں کو اس کے خلاف ورغلانا شرعاً نا جائز و حرام کام ہے۔ آپ ﷺ کی متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا اور نافرمانی پر سخت وعیدات ارشاد فرمائیں۔

چنانچہ احادیث مبارکہ میں ہے: اگر میں کسی کو (خداوند تعالیٰ کے علاوہ) کسی (اور) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)

احایث شریف میں ہے: میں نے جہنم کو دیکھا اور میں نے آج سے پہلے ایسا منتظر کبھی نہ دیکھا تھا اور میں نے اس (جہنم) میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کیوں؟ تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے۔ پوچھا کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کریں پھر وہ آپ میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہیں میں نے تجھ میں کوئی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15، حدیث:29)

اس حدیث مبارک کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو ہم میں ہر دوسری عورت اس میں مبتلا ہے۔ جب مردو عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کی جانب سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ شادی شدہ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ شوہر کے حقوق میں کمی نہ آنے دیں کیونکہ شوہر کی رضا و ناراضی میں رب کی رضا و نافرمانی پوشدہ ہے۔ اس اہمیت کا اندازہ اس حدیث نبوی سے لگائیے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اے عورتو اللہ پاک سے ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم پکڑ لو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو وہ صبح شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔ (کنز العمال، جز 16، 2/145، حدیث: 44809)

اللہ پاک کا فرمان ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔

عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم و لباس اور گھر کی صفائی کا خیال کرے اور شوہر کیلئے بناؤ سنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی بیان فرمائی کہ اگر اسکا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حدیث: 2857)

عورت ہرگز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے آج کل خواتین اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں۔ انہیں اس حدیث پاک سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ چنانچہ آپ ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق استفسار کیا گیا تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔ (بخاری، 3/463، حدیث: 5197)

شوہر کا مکان اور مال و سامان یہ سب شوہر کی امانتیں ہیں اور بیوی ان کی امین ہے۔ اگر عورت نے جان بوجھ کر نقصان کر دیا۔ تو عورت پر خیانت کا گناہ لازم آئے گا۔ اور خدا کا عذاب ہوگا۔ (جنتی زیور، ص 51)

فرمان آخری نبی ﷺ: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت کیلئے بلائے تو اسے چاہیے کہ فورا چلی جائے۔ اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1163) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کی اطاعت اس کا حکم بجا لانا ہر حالت میں واجب ہے اور ان اسلامی بہنوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جو ہر وقت اپنے شوہر کی نافرمانی اس کے حکم کی بجا آوری میں غفلت برتتی ہیں۔

اللہ سب کو اپنے اپنے حقوق العباد ادا کرنے والی بنائے۔ آمین

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔

اسکے علاوہ کثیر احادیث مبارکہ میں بھی شوہر کی نافرمانی سے بچے رہنے کا ذہین دیا گیا ہے ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے۔

1۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کسی بھی عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں نفل روزہ رکھے البتہ اپنے شوہر کی اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے اور نہ ہی اسکی اجازت کے بغیر کسی شخص کو اسکے گھر میں آنے دے۔

اس سے معلوم ہوا عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے اسکی خدمت میں روزہ رکھنے سے کوئی خلل نہ آئے اور اسکی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو نہ آنے دے۔ (فیضان ریاض الصالحین، 3/496، حدیث: 282)

2۔ فورا حکم بجا لائے جب کوئی آدمی اپنی حاجت کیلئے اپنی بیوی کو بلائے تو وہ آجائے اگرچہ وہ تنور پر روٹیاں کیوں نہ پکا رہی ہو۔ (ترمذی، 2/386 حدیث 1163)

3۔ فرمان مصطفیٰ ﷺ: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ وہ زرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سفید پہاڑ پر لے جائے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)

4۔ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو بچھونے پر بلائے اور وہ نہ آئے شوہر ناراضگی کی حالت میں رات بسر کرے تو اس عورت پر فرشتے صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری، 2/377، حدیث: 3237)

ان احادیث میں شوہر کی نافرمانی کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں نیز ان احادیث سے معلوم ہوا کہ بیوی کو ہر حال میں شوہر کی اطاعت و فرمابرداری کرنا ضروری ہے۔

5۔ اگر میں کسی شخص کو کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)

6۔ تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اسکی نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا حاکم نگران ہے آدمی گھر والوں کے بارے میں نگران ہے عورت اپنے شوہر کے گھر اور اسکی اولاد کی نگران ہے تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اسکی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ (مسلم، ص 116، حدیث: 1892)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر اسکے تمام احباب میں سے سب سے زیادہ حق اسکے شوہر کا ہے عورت جو چاہیے کہ اپنے شوہر کی نافرمانی سے بچے کیونکہ فرمایا گیا کہ اگر عورت اگر اپنے شوہر سے ناراضگی کی حالت میں الگ رہی تو اللہ اور اسکے فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں اللہ پاک تمام بیویوں کو امت کی نیک بیویوں جیسا ادب و احترام صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک کے حقوق بنائے ہیں جس طرح والدین پروسیوں کے حقوق ہیں اسی طرح جب میاں بیوی شادی کے ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت کی جانب سے ان پر حقوق عائد ہوتے ہیں واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا عورت کا شوہر کی نافرمانی کرنا اسکو تکلیف پہنچانا شرعا ناجائز و حرام ہے۔

اس بات کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو خدا کے علاوہ کسی اور کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)

شوہر کی نافرمانی کی بہت سی مثالیں ہیں چند درج ذیل ہیں:

جب شوہر کام کرنے کے لیے باہر نکلے تو عورت گھر میں کسی غیر مرد کو نہ آنے دے اور نہ ہی اس کے بستر پر کسی غیر مرد کو بٹھائے۔

بیوی کو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے اس کا شوہر ناراض ہو کیونکہ شوہر کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔

حدیث نبوی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے عورتو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے شوہر کی رضا کو لازم پکڑو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو صبح شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔ (کنز العمال، جز 16، 2/ 145، حدیث: 44809)

عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش ہو چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی یہ بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ، 2/44، حدیث: 2857) عورت ہر گز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے آج کل خواتین اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں چنانچہ نبی کریم ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق استفسار کیا گیا تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔ (بخاری، 3/463، حدیث: 5197)

نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجالانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)

اسلام نے نکاح کو اللہ کی ایک نعمت اور پاکیزہ ترین رشتہ قرار دیا ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح نکاح سے دوری کو کسی قسم کی نیکی اور فضیلت کا سبب نہیں گردانا بلکہ اسے اللہ کے محبوب بندوں انبیاء اور رسولوں کی صفت بتایا، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ- (پ 13، الرعد: 38) ترجمہ: ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔ جس طرح شوہر کے اوپر بیوی کے حقوق ہیں اسی طرح بیوی کے او پر شوہر کے بھی کچھ حقوق ہیں تا کہ ازدواجی زندگی خیر و سعادت کے ساتھ گزرے۔

حدیث: نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)

وضاحت: مشہور مفسر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احساسات کے شکریہ سے عاجز ہے اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا۔ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی جائز تعظیم کی جائے۔ (مراۃ المناجیح، 5/97)

حدیث: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ وہ زرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سفید پہاڑ پر لے جائے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (مسند امام احمد، 9/353، حدیث 24565)

وضاحت: مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: یہ فرمان مبارکہ مبالغے کے طور پر ہے سیاہ اور سفید پہاڑ قریب قریب نہیں ہوتے بلکہ دور دور ہوتے ہیں مقصد یہ ہے کہ اگر خاوند شریعت کے دائرے میں رہ کر مشکل سے مشکل کام بھی دے تب بھی بیوی اسے کر لے کالے پہاڑ کا پتھر سفید پہاڑ پر پہنچانا سخت مشکل ہے کہ بھاری بوجھ لے کر سفر کرنا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 5/106)

حدیث: شوہر نے عورت کو بلایا اس نے انکار کر دیا اور غصے میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری،2/377، حدیث:3237)اور دوسری روایت میں ہے کہ جب تک شوہر اس سے راضی نہ ہو، اللہ اس سے ناراض رہتا ہے۔ (مسلم، ص 853، حدیث: 1436)

حدیث: جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورعین کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے، اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی، 2/ 392، حدیث: 1177)

حدیث: ایک عورت ہمارے پیارے نبی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میں فلاں بنت فلاں ہوں۔ فرمایا: میں نے تمہیں پہچان لیا اپنا کام بتاؤ۔ عرض کی: مجھے اپنے چچا کے بیٹے فلاں عابد سے متعلق کام ہے۔ فرمایا: میں نے اسے بھی پہچان لیا۔عرض کی اس نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے آپ ﷺ مجھے بتائیں کہ عورت پر شوہر کا حق کیا ہے؟ اگر مجھ میں اس کا حق ادا کرنے کی طاقت ہوئی تو میں شادی کروں گی ورنہ نہیں کروں گی۔ فرمایا:مرد کے حق کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ اگر اس کے دونوں نتھنے خون اور پیپ سے بہتے ہوں اور عورت اسے اپنی زبان سے چاٹے تب بھی شوہر کے حق سے بری نہ ہوئی اگر آدمی کا آدمی کو سجدہ روا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب شوہر اس کے پاس آیا کرے تو وہ اسے سجدہ کیا کرے کیونکہ خدا نے مرد کو عورت پر فضیلت دی ہے۔ یہ سن کر اس عورت نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔ (مستدرک للحاکم، 2/547، حدیث: 2822)

ذرا سوچئے کہ آپ ﷺ نے شوہر کے حقوق کو کتنی اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ اس سے درس حاصل کر یں اور شوہر کے حقوق میں کوئی کمی نہ آنے دیں کیونکہ شوہر کی رضا میں رب کی رضا اور شوہر کی ناراضی میں رب کی ناراضی پوشیدہ ہے۔


جب مرد اور عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کی جانب سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں شادی شدہ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ شوہر کے حقوق میں کمی نہ آنے دی اور ہمارے معاشرے میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں اپنے شوہر کو برا بھلا کہتی نظر آتی ہیں ان کی نافرمانی کرتی ہیں اور اکثر عورتیں شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور ان کے احسان سے مکر جاتی ہیں اسلامی بہنوں کو چاہیے کا شوہر کے حکم میں کمی نہ آنے دیں کیونکہ شوہر کی ناراضگی میں رب کی نافرمانی پوشیدہ ہے ہمارے معاشرے میں یہ چیزیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ بہت زیادہ احادیث مبارکہ میں شوہر کی نافرمانی کرنے والوں کے متعلق وعید آئی ہے آئیے سنتے ہیں:

1۔️فرمان مصطفی ﷺ: جو عورت اپنے گھر سے باہر جائے اور اس کے شوہر کو ناگوار ہو جب تک پلٹ کرنہ آئے آسمان میں ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے اور جن و آدمی کے سوا جس جس چیز پر گزرے سب اس پر لعنت کریں۔ (معجم اوسط، 6/408، حدیث: 9231)

2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے جب تک وہ اس(نافرمانی) سے باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر، 3/136)

3۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک اس عورت کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو خاوند کا شکریہ ادا نہیں کرتی حالانکہ یہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ (الترغیب و الترہیب، 3/102، حدیث: 1944)

4۔ فرمان مصطفی ﷺ: جو مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور بیوی انکار کر دے تو خاوند اس پر رات ناراضگی کی حالت میں بسر کرے تو صبح ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)

5۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس (جہنم) میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول وہ کیوں؟ آپ نے فرمایا: کہ ان کے کفر کی وجہ سے کہا گیا کہ وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا:وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کریں۔ پھر وہ اس میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہیں میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 14/15، حدیث: 29)

شوہر کا مکان اور مال و سامان یہ سب شوہر کی امانتیں ہیں اور بیوی ان کی امین ہے اور اگر جان بوجھ کے نقصان کر دیا تو عورت پر خیانت کا گناہ آئے گا اور آخرت کا عذاب ہوگا۔ (جنتی زیور، ص51)

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ان احادیث یہ سبق ملتا ہے کہ شوہر کا حق بہت بڑا ہے اور عورت پر انکی ادائیگی فرض ہے اللہ ہمیں صحیح معنوں میں ان کی حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی نافرمانی سے بچائے۔آمین


اللہ اوراس کے رسول کے بعد عورت پر جس بندے کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے وہ اس کا شوہر ہے اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر شوہر بیوی کو کسی کام سے منع کر دے تو بیوی پر اس کی بات ماننا لازمی ہے شرط یہ کہ وہ خلاف شرع نہ ہو حدیث میں ہے کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)

اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لیے شوہر کی فرمانبرداری میں ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

بہت سی احادیث مبارکہ میں شوہر کی نافرمانی کرنے والیوں کی مذمت کی گئی:

1۔ شوہر کے ساتھ خیانت: آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں کے بارے میں مت پوچھو کہ ان کی کتنی سخت سزا ہوگی: 1۔ وہ شخص جو مسلمان کی جماعت سے الگ ہو جائے اور اپنے امیر کی نافرمانی کرے 2۔ وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے اور اس کی نافرمانی میں اسے موت آ جائے 3۔وہ عورت جس کا شوہر اس کو ضروریات اور خرچہ دے کر کہیں چلا جائے وہ اس کے مال اور اپنی عفت کے ساتھ خیانت کرے۔

2۔ شوہر کی ناشکری: حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ آقا ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جہنم دکھائی گئی تو دیکھا کہ اس میں ایسی عورتیں ہیں جنہوں نے شوہر کی ناشکری کی اور ان کے احسانات کو فراموش کر دیا اور اگر تم ان میں سے کسی پر احسان کرو پھر تم سے کوئی بات خلاف مزاج دیکھ لے تو کہہ دے گی کہ میں نےتو کبھی بھی تم سے خیراوربھلائی نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/9، حدیث: 129)

3۔ نماز قبول نہ ہونا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس عورت کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے جب تک وہ اس سے (نافرمانی) باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر3/36)

4️۔فرشتوں کا لعنت کرنا: آقا ﷺ نے ارشاد فرمای:ا جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پرلعنت بھیجتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)

5۔ نظر رحمت سےمحرومی: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک اس عورت طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو خاوند کا شکریہ ادا نہیں کرتی حالانکہ یہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ (الترغیب و الترہیب،3/102، حدیث: 1944)

اللہ تمام شادی شدہ عورتوں کو شوہر کی نافرمانی سے بچائے ان کے ہراس حکم پر جو شریعت کے خلاف نہ ہواس پرلبیک کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ہمارے معاشرے میں کچھ عورتیں اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہیں جو عورتیں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہیں اس کی نافرمانی کرتی ہیں بطور سزا ایسی عورت پر اللہ کے فرشتے تک لعنت کرتے ہیں۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس جہنم میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے کہا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرے پھر وہ آپ میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہے میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 29)

حدیث مبارکہ میں ہے: اس عورت کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے جب تک وہ اس نافرمانی سے باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر،3/36)

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا میں جب کوئی عورت اپنے شوہر کو ستاتی ہے تو جنت میں موجود اس کی خوبصورت انکھوں والی حور بیوی اس کی دنیاوی بیوی سے کہتی ہے تیرا ستیاناس ہو اس کو مت ستا یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے اور جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔ (ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)

حضرت امام موسی کاظم سے دریافت کیا گیا کہ جو عورت اپنے شوہر سے بدزبانی کرتی ہے اس پر غضبناک ہوتی ہے کیا اس کی نماز قبول ہوگی اور خدا کے نزدیک اس کا کیا مرتبہ ہے فرمایا جب تک شوہر راضی نہیں ہوگا وہ گنہگار رہے گی۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس عورت کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو خاوند کا شکر ادا نہیں کرتی حالانکہ یہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالی تمام مسلمان بیویوں کو خاوند کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین