مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق وہ بنیادی اصول ہیں جو ایک خوشگوار اور باہمی احترام پر مبنی رشتے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ حقوق اس لیے اہم ہیں کہ انسان معاشرتی مخلوق ہے اور وہ تنہائی میں زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان حقوق کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے نہ صرف باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں امن اور سکون بھی قائم ہوتا ہے۔ یہ تعلقات ہر شخص کی اخلاقی، جذباتی اور سماجی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔ مصاحبت کے حقوق ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کی عزت کرنی چاہیے، ان کی باتوں کو توجہ سے سننا چاہیے اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

ان اصولوں کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ حسن سلوک کرے، کیونکہ یہ صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک کامیاب معاشرتی زندگی کی ضمانت بھی ہے۔ مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق کے متعلق قرآن پاک کی ایک اہم آیت یہ ہے:جس میں اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے بارے میں بات کی ہے:

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاۙ (۳۶) ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔) بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر، فخرکرنے والا ہو۔(پ5، النسآء:36)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اور بندوں ،دونوں کے حقوق کی تعلیم دی گئی ہے۔

بندوں کے باہمی حقوق:

(1)والدین کے ساتھ احسان کرنا: ان کے ساتھ احسان یہ ہے کہ والدین کا ادب اور اطاعت کرے، نافرمانی سے بچے، ہر وقت ان کی خدمت کے لئے تیار رہے اور ان پر خرچ کرنے میں بقدرِ توفیق و استطاعت کمی نہ کرے۔

(2)رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا: ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے اور قطع تعلقی سے بچے۔

(3،4)یتیموں اور محتاجوں سے حسنِ سلوک کرنا: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی پرورش کرے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے ۔ اور مسکین سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی امداد کرے اور انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائے ۔

(5) ہمسائیوں سے حسنِ سلوک کرنا: قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہوا ور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو ۔

(6) پاس بیٹھنے والوں سے حسنِ سلوک کرنا: اس سے مراد بیوی ہے یا وہ جو صحبت میں رہے جیسے رفیق ِسفر، ساتھ پڑھنے والایا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے حتّٰی کہ لمحہ بھر کے لئے بھی جو پاس بیٹھے اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم ہے۔

(7) مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا: اس میں مہمان بھی داخل ہے۔

(8)لونڈی غلام کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا: ان سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ، سخت کلامی نہ کرے اور کھانا کپڑا وغیرہ بقدرِ ضرورت دے۔

خلاصہ مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق:

(1) باہمی احترام: ایک دوسرے کی عزت کرنا اور ان کے خیالات، جذبات اور شخصیت کا احترام کرنا سب سے اہم ہے۔ کسی بھی رشتے کی بنیاد اسی سے بنتی ہے۔

(2) خیر خواہی اور ہمدردی: اپنے دوست یا ساتھی کی بھلائی چاہنا اور مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا۔ اس کی خوشی میں خوش ہونا اور غم میں شریک ہونا ضروری ہے۔

(3) غلطیوں کو درگزر کرنا: انسان خطا کا پتلا ہے۔ اپنے ساتھی کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرنا اور درگزر سے کام لینا تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔

(4) راز داری: دوست کے راز کو امانت سمجھنا اور کسی بھی صورت میں اسے ظاہر نہ کرنا مصاحبت کا بنیادی حق ہے۔

(5) حسن سلوک اور نرم گفتاری: ہمیشہ نرمی سے پیش آنا اور سخت کلامی سے گریز کرنا چاہیے۔

(6) وعدہ: جو وعدہ کیا جائے اسے پورا کرنا اور اپنی بات پر قائم رہنا اعتماد کی فضا پیدا کرتا ہے۔

(7) انصاف اور سچائی: دوستی اور ہم نشینی میں ہمیشہ سچائی اور انصاف کا دامن تھامے رکھنا۔

(8) بے لوث محبت: اپنے دوست سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا۔

(9) اعتماد: ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور اسے برقرار رکھنا۔

(10) ہمدردی: ایک دوسرے کی مشکلات اور جذبات کو سمجھنا اور ہمدردی کرنا۔

(11) مواصلت: ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر بات کرنا اور اپنے جذبات اور خیالات کو شئیر کرنا۔

(12) وقت دینا: ایک دوسرے کے لیے وقت دینا اور اسے اہمیت دینا۔

ان حقوق پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنے تعلقات کو مضبوط بنا سکتے ہیں، جو نہ صرف ہماری دنیا بلکہ آخرت میں بھی ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

انسان ایک سماجی مخلوق ہے جو معاشرے میں دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے ، زندگی کے بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کا ساتھ ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کو مختلف لوگوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے۔ اگر انسان نیک اور اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھے، تو اُس کا دل صاف ہوتا ہے، اخلاق اچھے بنتے ہیں اور زندگی میں سکون آتا ہے۔ لیکن اگر وہ برے لوگوں کے ساتھ بیٹھے، تو وہ بھی بُری عادتیں سیکھ لیتا ہے۔ دینِ اسلام ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ رہنے اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اچھی صحبت انسان کو سنوارتی ہے، اور بری صحبت بگاڑ دیتی ہے۔

صحبت و ہم نشینی کو بہتر کرنے کے لیے ذیل میں اس کے متعلق چند حقوق و فرائض ذکر کیے جاتے ہیں:

(1) برائی سے بچانے والی مجلس : مصاحبت و ہم نشینی کا دوسرا حق یہ ہے انسان اپنے آپ کو برے دوستوں اور ان کی صحبت سے بچائے ورنہ اس کی شخصیت میں بگاڑ آسکتا ہے اور کل بروز قیامت سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا چنانچہ الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸) ترجمۂ کنز العرفان: ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔(پ19، الفرقان: 28)

(2) حسنِ اخلاق : مصاحبت و ہم نشینی کا تیسرا اور اہم حق یہ کہ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئے کثیر احادیث مبارکہ میں حسن اخلاق اپنانے کی ترغیب دی گئی چنانچہ الله پاک کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: أكملُ المؤمنين إيماناً أحسنُهم خُلُقاً ایمان والوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔ (جامع الترمذی ابواب الرضاع عن رسول اللہ ﷺ حدیث:1162)

(3) باہمی عزت و احترام : دوسروں کی عزت کرنا انسان کو دوسروں کی نظر میں با عزت بنا دیتا ہے، مشہور مقولہ ہے”عزت دو عزت لو“ بالخصوص وہ افراد جن کا انسان کے ساتھ تعلق ہے ان سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آئے حدیث پاک میں پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ليس منَّا من لم يوقِّرْ كبيرَنا، ويرحمْ صغيرَنا، ويعرفْ لعالمِنا حقَّهُ وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کا احترام نہ کرے، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور عالم کا حق نہ پہچانے۔ (سنن ابی داؤد باب اول کتاب الادب، حدیث 4943)

(4) بدگمانی و غیبت سے پاک مجلس : جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو اس صحبت کو ہر طرح کے گناہ مثلا بدگمانی،غیبت وغیرہ سے بچائیں، قرآن و حدیث میں ان سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ، بد گمانی کے بارے میں الله پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ (پ26، الحجرات:12)

غیبت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- ترجمہ کنزالایمان:ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔(پ26، الحجرات:12)

اور حدیث پاک میں ہے: إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ (صحیح البخاری کتاب النکاح حدیث 5144)

الله تبارک و تعالیٰ ہمیں برے لوگوں کی صحبت سے بچنے اور نیک لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


انسان کی فطرت میں ہے اس کا دل تنہائی میں نہیں بلکہ معاشرے میں میل جول میں لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان بچپن سے لے کر بڑھاپے تک دوسروں کے ساتھ رہنا، بات چیت کرنا اور دوست بنانا پسند کرتا ہے۔ اسی میل جول اور صحبت کو ”مصاحبت“ اور”ہم نشینی “ کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ صرف وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں اور اخلاقی حقوق بھی وابستہ ہیں جنہیں جاننا اور اس ہر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

(2) عزت اور ادب: ہم نشین خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کا ادب ضروری ہے۔ دوستوں، استادوں، بزرگوں اور ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی بات کاٹ دی جائے یا ان سے بحث کی جائے بلکہ ان سے ادب سے بات کی جائے۔

(3) اخلاص اور خیر خواہی: ہم نشینی کا ایک بڑا حق یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اگر کسی دوست کی کوئی کمزوری ہو، تو اسے تنہائی میں محبت سے سمجھائیں، نہ کہ محفل میں اس کا مذاق بنائیں۔ صحبت کا حق یہ نہیں کہ صرف خوشی کے وقت ساتھ ہوں، بلکہ دکھ، بیماری اور مشکل میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔

(4) صبر اور برداشت: ‎‎انسان خطا کا پتلا ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں۔ لیکن جو انسان دوسروں کی باتوں کو برداشت نہیں کرتا، وہ کبھی اچھی ہم نشینی قائم نہیں رکھ سکتا۔ اگر کوئی ساتھی غصہ کرے یا کوئی ناپسند بات کہہ دے، تو صبر اور نرمی سے جواب دینا ہی اصل حسنِ اخلاق ہے۔ یہی رویہ تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔

(5) راز داری اور اعتماد: ہر دوست اپنی کچھ باتیں صرف اپنے قریبی ساتھی سے کرتا ہے۔ ایسی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا بدگمانی، جھگڑے اور اعتماد کے ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے۔

ہم نشینی کا ایک اہم حق یہ ہے کہ راز والی بات کو راز ہی رکھا جائے۔ راز فاش کرنے والا دوست کہلانے کے قابل نہیں رہتا۔

ان ساری باتوں سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی صحبت کا انتخاب درست کرے پھر اس کے ساتھ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو کریں، ہنسی مذاق کرے اور اس کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ایک ساتھی کا اچھا ہونا یہ بہت بڑی نعمت ہے اگر ساتھ ہی اچھا ملے تو اس کے لیے شکر ادا کرنا چاہیے اور خود بھی ایک اچھے ہم نشین بننے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ایک اچھا ہم نشین اور ساتھی بنائے اور ہمیں اچھے دوست کے ساتھ رہنا نصیب کرے۔ آمین


اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے یہ اپنے ماننے والوں کو اپنی اتباع کرنے والوں کو ہر لحاظ سے رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام ایک انسان کو معاشرے میں رہتے ہوئے کس طرح زندگی گزارنی ہے اور دوسروں کے حقوق کو کیسے ادا کرنا ہے خواہ اپنے حقوق ہوں،والدین کے حقوق ہوں،بہن بھائیوں کے حقوق ہوں، معاشرے میں رہتے ہوئے پڑوسیوں کے ہمسایوں کے حقوق ہوں ،جانوروں کے حقوق ہوں،پرندوں کے حقوق ہوں۔

الغرض اسلام ہماری ہر لحاظ سے رہنمائی کرتا ہے کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کا کس طرح خیال رکھنا ہے، اسی طرح اسلام ہمیں اپنے ساتھ رہنے والے مصاحبت اختیار کرنے والے اور جو ہمارے ہم نشین ہوتے ہیں ان کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا ہے؟ کس طرح رہنا ہے اور ان کے حقوق کو کیسے ادا کرنا ہے؟ اس کے بارے میں بھی اسلام ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے، ہم نشینی اور مصاحبت کے حقوق کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے بھی ذکر فرمایا اور اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے بھی احادیث مبارکہ میں اس کی تاکید فرمائی اب مصاحبت اورہم نشینی کہ چند حقوق ذکر کیے جاتے ہیں۔ آئیے ملاحظہ کیجیے:

چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) ترجمہ کنز الایمان: اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیرلے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (پ7،الانعام:68)

اِس آیتِ مبارکہ میں کافروں ، بے دینوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو اور اگر بھول کر بیٹھ جاؤ تو یاد آنے پر اٹھ جاؤ۔(تفسیر صراط الجنان پ7،الانعام 68)

مصاحبت اور ہم نشینی کے 5 حقوق

(1) سرک جانا: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب مجلس میں وہ آئے تو دوسرا اس کے لیے سرک جائے جیسا کہ اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔ (شعب الایمان باب فی مقاربة...الخ فصل فی قیام المرء صاحب حدیث نمبر 8933جلد نمبر 6،ص468)

(2) ہم نشین کی تعظیم: اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ہم نشین کی تعظیم کو بہترین نیکی قرار دیا ہے چنانچہ حضور ﷺ کا فرمان ہے: بہترین نیکی ہم نشینوں کی تعظیم کرنا ہے۔ (فردوس الاخبار،ذکر فصول عبارات شتی ،حدیث نمبر: 1438جلد نمبر:1،ص207)

(3)جگہ کشادہ کرنا: اگر ہم کسی مجلس میں جائیں اور وہاں کسی مسلمان بھائی کو بیٹھا دیکھیں تو اس کو وہاں سے اٹھایا نہ جائے البتہ یہ ہے کہ جو مسلمان بھائی بیٹھا ہو وہ تھوڑا سرک جائے اور اپنے ہم نشیں کو جگہ دیں چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اللہ کے آخری نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ” آپ نے (اس بات سے) منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو “اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما (اس بات کو) مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھے( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ فعل کمال درجے کی پرہیزگاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو)(صحیح بخاری کتاب الاستءذان،باب ا قیل لکم......الخ،حدیثِ نمبر: 627جلد: 4ص: 179)

(4)بیٹھنے کی اجازت لینا: اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت سے اور دوسری روایت میں ہے: کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے (یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔ ) (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب:فی الرجل یجلس بین الرجلین بغیر اذنھما حدیث نمبر: 4744-4745، جلد:4، ص:344)

(5)زیادہ حقدار: مدینے والے تاجدار مکی مدنی سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق اور حقدار ہے۔ (سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب: اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع،حدیث نمبر: 4853،جلد نمبر:4 ص:346)

اللہ پاک ہمیں ہم نشینی کے اور مصاحبت کے حقوق پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبی الکریم ﷺ 


زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں کسی نہ کسی کے ساتھ بیٹھنا، ملنا یا وقت گزارنا ہوتا ہے۔ کبھی مجلس میں، کبھی سفر میں، کبھی کام کے دوران اور کبھی دوستوں کے ساتھ۔ اسلام نے ان ملاقاتوں اور میل جول کو محض دنیاوی ضرورت نہیں سمجھا بلکہ ان کے بھی مخصوص حقوق مقرر فرمائے جنہیں ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں مصاحبت کے آداب:

(1) نرمی سے گفتگو: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(پ1، البقرۃ: 83)

تفسیر صراط الجنان:اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں ، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، حضور پرنور ﷺ کی شان، اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا سب شامل ہیں۔

(2) جگہ دینا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گااور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(پ28، المجادلۃ: 11)

تفسیرِ صراط الجنان : شانِ نزول: نبی کریم ﷺ غزوہِ بدر میں حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نور ﷺ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم ﷺ کو یہ چیزگراں گزری توآپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

(3) تمسخر سے پرہیز: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ (پ26،الحجرات: 11)

تفسیرِ صراط الجنان : حضر ت ضحاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت عمار،حضرت خباب ،حضرت بلا ل ،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی غُربَت دیکھ کر ان کا مذاق اُڑایاکرتے تھے ۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مَردوں سے نہ ہنسیں ،یعنی مال دار، غریبوں کا ، بلند نسب والے، دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اُڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور اخلاص میں بہتر ہوں ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ )

(4) سلام کا فروغ:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ
قَالَ:تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ، اور سلام کہو اُن کو جنہیں تم جانتے ہو اور جنہیں نہیں جانتے۔(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث نمبر: 54)

یہ حدیث اسلامی معاشرتی آداب کا نچوڑ ہے۔

(5) خندہ پیشانی: تبسُّمُك في وجهِ أخيكَ صدقةٌ (ترمذی، حدیث 1956) تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔

مسکراہٹ سے ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔

(6) ادبِ عمر و سِن:ليس منا من لم يوقر كبيرنا، ويرحم صغيرنا (ترمذی، حدیث 1920) وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔

مجلس میں عمر اور رتبے کا لحاظ رکھا جائے۔

مصاحبت کے خلاصہ حقوق: سلام میں پہل۔کھانا کھلانا ۔ نرمی اور خوش اخلاقی۔ جگہ کشادہ کرنا۔ تمسخر سے پرہیز۔ دو اشخاص کی خفیہ بات سے اجتناب۔ کسی کی بات نہ کاٹنا۔ مجلس سے اجازت لے کر اٹھنا۔ کسی کا راز فاش نہ کرنا۔ چہرے پر خوشی لانا۔ سب کو شامل رکھنا

اسلام صرف عبادات نہیں، بلکہ انسانوں سے سلوک اور مجلس کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ہم نشینی اور مصاحبت میں حسنِ اخلاق، نرمی، تحمل، کشادگی، ادب اور عزت ۔ یہ سب وہ صفات ہیں جو ایمان کی علامت ہیں اور معاشرتی حسن کی بنیاد۔

مصاحبت کے یہ آداب ہمارے تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں اور معاشرہ باہمی محبت، عزت اور سکون کا گہوارہ بنتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


انسان ایک سماجی مخلوق ہے، وہ دوسروں کے ساتھ رہ کر خوشی، غم، سیکھنے، سکھانے اور ترقی کے مراحل طے کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں فرد کی اصلاح پر زور دیا ہے، وہیں معاشرتی تعلقات، دوستی، ہم نشینی اور ایک دوسرے کے حقوق کی بھی تعلیم دی ہے۔ مصاحبت اور ہم نشینی نہ صرف ایک نعمت ہے بلکہ اس کے کچھ حقوق بھی ہیں جنہیں ادا کرنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔

(1) سلام اور خیر مقدم کا حق: ہم نشین کے ساتھ بیٹھنے سے پہلے اسے سلام کرنا اور خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہنا محبت و مودت کو بڑھاتا ہے۔

(2) اچھے اخلاق سے پیش آنا: نرم لہجہ، خوش گفتاری، اور تحمل مزاجی ہر ہم نشین کا بنیادی حق ہے۔

(3) توجہ سے سننا: جب کوئی ہم نشین بات کر رہا ہو تو اس کی بات پوری توجہ اور احترام سے سننا اس کی عزت افزائی ہے۔

(4) بات میں مداخلت نہ کرنا: کسی کی بات کاٹنا یا دورانِ گفتگو دخل اندازی کرنا خلافِ ادب اور ہم نشینی کے آداب کے خلاف ہے۔

(5) راز داری کا لحاظ رکھنا: مجلس میں کی گئی نجی باتوں کو افشا کرنا خیانت ہے، ہم نشین کا حق ہے کہ اس کی باتیں راز میں رہیں۔

احادیث:

(1) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں دس سال مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کی جب کہ میں لڑکا تھا مگر میرا ہر کام آپﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا تھا، لیکن جو میں نے کیا اس پر کبھی بھی آپ ﷺ نے اُف تک نہ کیا اور نہ یہ فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا یا ایسے کیوں نہ کیا۔(سنن ابی داؤد ، كتاب الادب باب فی الحلم والخلاق التی، الحديث: ٤٧٧، ح ٣٢٤)

(2) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھادیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا پہنچ جائے البتہ سرک جایا کرو اورجگہ کشادہ کردیا کرو۔(بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے رک جائیں اور سے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے) ۔(صحيح البخاری، كتاب الاستشاذان، باب اذا قيل لكم الكمال، الحديث ٦٢٧٠)

مصاحبت اور ہم نشینی انسانی تعلقات کی بنیاد ہیں، جن کے ذریعے محبت، ہمدردی، اور خیر خواہی پروان چڑھتی ہے۔ ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مجلسوں اور محفلوں میں ایک دوسرے کے جذبات، خیالات اور حقوق کا احترام کریں۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ہم نشینی کے دوران زبان کی حفاظت، اخلاق سے گفتگو اور دوسروں کے وقار کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔

اگر ہم سب اپنی مجلسوں میں عدل، رواداری، نرمی اور سچائی کو فروغ دیں تو نہ صرف دلوں میں محبت پیدا ہو گی بلکہ سماج میں اتحاد اور امن کا ماحول قائم ہو گا۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم نشینی کے آداب کو سیکھیں، ان پر عمل کریں، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہماری مجلسیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔


پیارے اسلامی بھائیو: ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ایک دوسرے مسلمان پر لازم ہیں لیکن ایک صحبت میں رہنے والے اور ایک ہم نشین کے بھی حقوق ہیں ، اسلام میں حقوق کو ایک بہت ہی اہمیت حاصل ہے ، ایک دوسرے کے حقوق ادا کر کے آپس کے تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں اور آپس میں محبت بڑھ جاتی ہے ، اپنی صحبت میں رہنے والوں کو آپ سے کوئی بھی کسی قسم کی شکایت وغیرہ نہ ہو، ہم سب کو اپنے معاشرے کے اندر حقوق ادا کرنے میں ایک اچھا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

(1)ایک دوسرے کی چیزوں کا خیال رکھنا :آپ کسی کی یا کوئی آپ کی صحبت میں رہ رہا ہے تو اس کی چیزوں کی حفاظت کریں اس سے اس کا دل خوش ہو گا ۔

(2) عزت کرنا:اگر آپ کسی کی صحبت میں رہ رہے ہیں تو اس کی عزت بھی کریں اس کی ناراضگی سے بچیں اس کے دل میں اپنے لیے جگہ بنائیں ۔

(3) بغیر اجازت کوئی چیز استعمال نہ کریں :اپنے ہم نشین دوست کی اگر آپ نے کوئی بھی چیز استعمال کرنی ہو تو اس کی اجازت طلب کریں پھر کوئی چیز استعمال میں لے کی آئیں ۔

(4) نصیحت کرنا:نرمی اور اخلاق سے برائی سے روکنا اور بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا ۔

(5) ایک دوسرے کا عذر قبول کرنا :اگر ان میں سے کسی ایک سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی غلطی کو تسلیم کرنا یا کوئی زیادتی ہو جائے تو اس کا عذر قبول کرنا اور اس کی غلطی کو معاف کردینا ۔

صحبت و ہم نشینی کے اور بھی کئی سارے حقوق ہیں مثلاً: تعاون اور مدد کرنا و غیبت سے پرہیز کرنا ،حسد سے بچنا ،ایک دوسرے کو سلام اور دعا دینا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اپنی صحبت میں رہنے والو کے اور ہم نشین لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام محض عبادات اور ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر قدم پر رہنمائی دیتا ہے۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی مخلوق ہے، اس لیے روز مرہ کی زندگی میں وہ کئی لوگوں سے ملاقات کرتا ہے، دوستی کرتا ہے، مجلسوں میں شریک ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں اور صحبتوں کو پاکیزہ، بامقصد بنانے کے لیے اسلام نے چند اصول اور حقوق بیان فرمائے ہیں۔ نیک صحبت انسان کو جنت تک پہنچا سکتی ہے، اور بری صحبت جہنم کی طرف کھینچ سکتی ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنی ہم نشینی کے انداز اور دوستوں کے انتخاب پر غور کرنا چاہیے اور ان کے حقوق کو جاننا اور ادا کرنا چاہیے۔

(1) خلوص و خیر خواہی: ہم نشین کا پہلا حق یہ ہے کہ اس سے مخلصی کی جائے، اس کی بہتری چاہی جائے، اور ہر حال میں اس کے ساتھ خیر کا برتاؤ کیا جائے۔

(2) عیب پوشی: اگر کسی مجلس یا ملاقات میں ساتھی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اس پر پردہ ڈالنا اور لوگوں کے سامنے اسے رسوا نہ کرنا ہم نشینی کا اہم تقاضا ہے۔

(3) حسنِ اخلاق: نرمی، خوش اخلاقی اور مسکرا کر بات کرنا ہم نشینی کو دلکش بناتا ہے۔ سخت مزاجی اور تند کلامی سے پرہیز کیا جائے۔

(4) مشکل وقت میں ساتھ دینا: سچا ہم نشین وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے، نہ کہ صرف خوشی کے لمحات کا ساتھی ہو۔

(5) مشورہ دینا اور دل جوئی کرنا: اگر دوست کسی مشکل میں ہو تو اس کو نیک مشورہ دینا اور اس کے دل کو تسلی دینا ہم نشینی کا اعلیٰ وصف ہے۔

صحبت اور ہم نشینی کے یہ آداب اور حقوق دراصل ایک صالح معاشرہ تشکیل دینے کی بنیاد ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا حق پہچانے، اس سے محبت اور خیر خواہی کا سلوک کرے تو معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

اچھی صحبت ایمان کو مضبوط اور اخلاق کو اچھا بناتی ہے، جب کہ بری صحبت ایمان کو کمزور اور اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں نیک صحبت اختیار کرنے اور دوسروں کے لیے نیک ہم نشین بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی اسلامی تعلیمات ہیں۔ 


مصاحبت اور ہم نشینی انسانی تعلقات کے اہم پہلو ہیں جو ہمارے ذہنی اور جذباتی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مصاحبت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنا، بات چیت کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا۔ ہم نشینی بھی اسی طرح کے تعلق کو ظاہر کرتی ہے جہاں دو یا زیادہ افراد ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔

مصاحبت اور ہم نشینی کی اہمیت: مصاحبت اور ہم نشینی ہمیں تنہائی کے احساس سے بچاتی ہے اور ہمیں ایک مضبوط سماجی سپورٹ سسٹم فراہم کرتی ہے۔ یہ تعلقات ہمیں احساسِ تعلق دیتے ہیں، جو ہمارے ذہنی اور جذباتی صحت کے لئے بہت اہم ہے۔ جب ہم کسی کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرتے ہیں، تو ہم اپنے خیالات، احساسات، اور تجربات کو بانٹنے میں آسودہ محسوس کرتے ہیں۔

مصاحبت اور ہم نشینی کے فوائد:

تنہائی کا خاتمہ: مصاحبت اور ہم نشینی تنہائی کے احساس کو کم کرتی ہے اور ہمیں ایک مضبوط سماجی تعلق فراہم کرتی ہے۔

سماجی سپورٹ: یہ تعلقات ہمیں سماجی سپورٹ فراہم کرتے ہیں، جو ہمیں زندگی کے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

احساسِ تعلق: مصاحبت اور ہم نشینی ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا احساس دلاتی ہے، جو ہمارے ذہنی اور جذباتی صحت کے لئے بہت اہم ہے۔

چند حقوق پڑھیے:

عیب چھپانا: اگر صحبت میں کسی کی کمزوری یا خامی معلوم ہو جائے تو اسے چھپانا اور اس کا مذاق نہ اُڑانا۔

وفاداری: مشکل وقت میں ساتھی کا ساتھ دینا اور اس کی پیٹھ پیچھے اس کا دفاع کرنا۔

نصیحت میں خیر خواہی: اگر ساتھی کسی غلطی میں مبتلا ہو تو نرمی سے اور اکیلے میں خیر خواہی کے جذبے سے اصلاح کرنا۔

ایثار و قربانی: ضرورت پڑنے پر اپنی خواہشات پر دوسروں کو ترجیح دینا، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شیوہ تھا۔

نصیحت میں خیر خواہی: اگر ساتھی کسی غلطی میں مبتلا ہو تو نرمی سے اور اکیلے میں خیر خواہی کے جذبے سے اصلاح کرنا۔

ایثار و قربانی: ضرورت پڑنے پر اپنی خواہشات پر دوسروں کو ترجیح دینا، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شیوہ تھا۔

معاف کرنا: اگر دوست سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو اس کو معاف کر دینا اور دل میں کینہ نہ رکھنا۔

دعاؤں میں یاد رکھنا: اپنے ساتھیوں کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا کرنا۔

مصاحبت و ہم نشینی کے آداب کو اپنانا ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہر مسلمان ان حقوق کا خیال رکھے تو محبت، اتفاق، اخوت اور بھائی چارے سے بھرپور ایک مثالی سماج تشکیل پا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلقات کو صرف دنیاوی مفادات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے دین کی بنیاد پر قائم کریں، تاکہ ہماری صحبت بھی باعثِ نجات بن جائے۔ 


اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ اعلیٰ اخلاق، معاشرت اور تعلقات کا بھی مکمل درس دیتا ہے۔ انہی تعلقات میں سے ایک اہم تعلق مصاحبت اور ہم نشینی کا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے، دوستیاں قائم کرتا ہے اور مختلف لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ قرآن و سنت میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم نشین (ساتھ بیٹھنے والا) اس کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کا لحاظ رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام ہمیں نہ صرف اچھا ساتھی بننے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ اچھے ہم نشین کے حقوق ادا کرنے کا شعور بھی دیتا ہے۔

(2) ہم نشین سے حسنِ سلوک: نرمی، خوش اخلاقی اور ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے، تاکہ مجلس خوشگوار بنے۔

(3) عزت و احترام دینا: ہر ہم نشین، چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی عزت کرنا اسلام کی تعلیم ہے۔

(4) کسی کی دل آزاری نہ کرنا: ہم نشینی میں ایسی بات یا رویہ اختیار نہ کیا جائے جو کسی کو تکلیف دے یا شرمندہ کرے۔

(5) راز داری: مجلس کی باتوں کو باہر ظاہر نہ کرنا، بلکہ ان کی حفاظت کرنا۔

(6) اپنے ہم نشین کی بات غور سے سننا: دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا اور درمیان میں نہ بولنا ادب کا تقاضا ہے۔

(7) خیرخواہی: ہم نشین کے لیے دل میں خیر، بھلائی اور اخلاص رکھنا۔

(8) برائی سے روکنا، نیکی کی دعوت دینا: صحبت کا اصل مقصد اصلاح ہونا چاہیے، اس لیے نرمی سے اچھی بات کی نصیحت کرنا بھی ہم نشینی کا حق ہے۔

(9) سلام میں پہل کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا اور خوش دلی سے بیٹھنا۔

(10) مجلس میں برابر کا مقام دینا: کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ ہی اپنی برتری جتانا۔

ان پر عمل کر کے ہم اپنی مجلسوں کو باعثِ خیر بنا سکتے ہیں۔

چند اہم نکات

ادب کا خیال: مجلس میں بیٹھتے وقت ادب و احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے، بے ہودہ باتیں اور شوخی مناسب نہیں۔

نیک مجلس کا احترام: جو مجلس اللہ کے ذکر اور نیک باتوں کے لیے ہو اس کا ادب کرنا چاہیے۔

غلط باتوں سے بچنا: ایسی مجلس میں بیٹھنا جہاں غیبت، جھوٹ یا دین کے خلاف باتیں ہوں، گناہ کا سبب بنتا ہے۔

برکت والی مجلس: وہ مجلس جس میں اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر ہو، وہ باعثِ برکت اور باعثِ نجات ہوتی ہے۔

علم و ادب: علما و نیک لوگوں کی مجلس میں ادب کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ علم و فیض حاصل ہو۔

یہ تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ صحبت اور ہم نشینی میں کن آداب و حقوق کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں فائدہ حاصل کریں۔

ہمیں چاہیے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، مجلس کے آداب کا خیال رکھیں، اور ہم نشین کے حقوق (جیسے ادب، جگہ کا احترام، بات نہ کاٹنا، سلام کرنا) ادا کریں، کیونکہ یہی اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، روحانی اور معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور سماجی تعلقات اس کی فطرت کا لازمی جزو ہیں ۔ انہی تعلقات میں سے ایک اہم تعلق ”مصاحبت“ یعنی ساتھ بیٹھنے، ملنے جلنے اور ہم نشینی کا ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ان کی باتیں سنتا اور ان کے ساتھ معاملات کرتا ہے، وہ تعلقات اس کی شخصیت اور کردار پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ لہٰذا اسلام نے نہ صرف اچھے ساتھی کے انتخاب پر زور دیا ہے بلکہ ہم نشینی کے آداب اور حقوق بھی واضح طور پر بیان کیے ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کے ساتھ بیٹھنے، دوستی کرنے یا وقت گزارنے کے کچھ بنیادی حقوق ہوتے ہیں جن کی پاسداری ہر مسلمان پر لازم ہے۔

(1) احترام اور عزت دینا: ہم نشین کو عزت دینا، اسے نظر انداز نہ کرنا، اس کی بات کو توجہ سے سننا اور اس کی رائے کا احترام کرنا بنیادی اخلاقی تقاضے ہیں۔ اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ عَرَبی ﷺ نے اِرشاد فرمایا: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِہٖ ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔ (بخاری ، 1 / 15 ، حدیث: 10)

(2) خیر خواہی: مصاحبت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے ساتھی کے لیے خیر کا طلبگار ہو۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہے تو اس کی مدد کرے، اگر وہ غلطی پر ہے تو نرمی سے اصلاح کرے۔

(3) عیب پوشی: ہم نشینی کے دوران انسان دوسرے کے راز اور کمزوریاں جان لیتا ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ان باتوں کو چھپایا جائے، ان کا مذاق نہ اڑایا جائے اور نہ ہی انہیں دوسروں میں بیان کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًاسَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے ،تو خُدائے ستّار عَزَّ وَجَلَّ قِیامت کے رو ز اُس کی عیب پوشی فرمائے گا۔(بخاری،،کتاب المظالم والغصب، ۲/۱۲۶، حدیث: ۲۴۴۲)

(4) خوش اخلاقی اور نرمی: ہم نشینی میں سخت کلامی، جھگڑا، یا تحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نرم مزاج اور خوش اخلاق تھے اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دیتے ۔

(5) خدمت اور ایثار: اچھے ساتھی کا حق ہے کہ اگر اسے مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کی جائے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کی بے مثال مثالیں قائم کیا کرتے ۔

(6) معاف کرنا اور درگزر کرنا:انسان خطا کا پتلا ہے، ہم نشین اگر کوئی غلطی کرے تو اسے معاف کر دینا، دل صاف رکھنا اور کینہ نہ پالنا اعلیٰ اخلاقی اقدار میں شمار ہوتا ہے۔

دعا کرنا: اچھے ساتھی کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا کرنا بھی اس کا حق ہے۔ ایک مومن اپنے بھائی کے لیے جو دعا کرتا ہے، اللہ اسے بھی وہی عطا فرماتا ہے۔

مصاحبت اور ہم نشینی کا اثر انسان کی شخصیت، سوچ اور کردار پر نمایاں ہوتا ہے۔ اسلام نے ان تعلقات کو محض وقتی یا رسمی نہیں سمجھا بلکہ ان کے لیے واضح اخلاقی دائرہ متعین کیا ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اچھی صحبت اختیار کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی بہتر ہم نشین بنے، ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے لیے خیرخواہ ہو۔ یہی وہ معاشرتی حسن ہے جو ایک مضبوط، بااخلاق اور پرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے دوست عطا فرمائے کہ جو صراط مستقیم پر چلنے والے اور چلانے والے ہوں ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


انسان اپنی زندگی میں روز ہی نئے سے نئے لوگوں سے ملاقات کرتا ہے ۔ شب و روز لوگوں کے ساتھ گزرتے ہیں ۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں ایک پل کے لیے آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں دوبارہ ان سے ملنا نہیں ہوتا ۔ بعض کچھ عرصہ رہتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں ۔ بعضوں کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا کچھ زیادہ ہوتا ہے ۔ اور کچھ لوگ ہمارے بڑے ہی قریبی ساتھی اور ہم نشین بن جاتے ہیں ۔ اب یہ ہمارے دین اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں تربیت فرماتا ہے اور ہمیں ہمنشینی کے حقوق بیان فرماتا ہے ۔ تاکہ ہمارے رشتے مضبوط رہیں آپس میں پیار محبت اور اتفاق رہے ۔ حقیقت میں انسان اگر شرعی اصولوں کے مطابق ہی ہر قدم اٹھائے تو اس کی زندگی میں سکون آسکتا ہے ۔ لہذا ہم نشینی کے حقوق جاننا بھی نہایت اہم ہے ۔

اول تو یہ کہ انسان یہ غور کرے کہ وہ کس طرح کہ مجلس میں بیٹھتا ہے کیونکہ مجلسیں تین طرح کی ہیں ۔ (۱) غانم (۲) سالم (۳) شاجب ۔غانم وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اور سالم وہ مجلس ہے جس میں خاموشی ہو۔ (یعنی بے ہودہ اور خلاف شرع بات نہ ہو) اور شاجب وہ مجلس ہے جس میں باطل بحثیں ہوں۔ (كنز العمال، كتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث ٢٥٤٤٦ ، ج ۹، ص ٦٣)

درست تو یہی کہ انسان ایسے ہم نشین بنائے ایسے ساتھی رکھے کہ جو اس کو اللہ کی یاد دلاتے ہوں اور اس کا اٹھنا بیٹھنا بھی ایسی مجلس میں ہو کہ جہاں ذکر اللہ ہوتا ہو ۔اس کے علاوہ بھی ہمیں ہمنشینی کے حقوق کا دیہان رکھنا چاہیے مثلا:

(1) اللہ کی رضا: کوئی بھی کام جتنا مرضی اچھا ہو اگر اس سے رب تعالیٰ کی رضا مقصود نہیں تو وہ کسی کام کا نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص ہم نشینی اختیار کر رہا ہے کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کر رہا ہے تو اس میں سب سے اول اللہ تبارک و تعالی کی رضا مقصود ہو۔

(2) ہم نشینوں کی تعظیم کرنا: ایک مسلمان کی تعظیم ویسی ہی لازم ہے اور ہم نشینوں کی تعظیم کے بارے میں آتا ہے کہ ” بہترین نیکی ہمنشینوں کی تعظیم کرنا ہے۔“ (فردوس الاخبار، ذكر فصول اخر فی عبارات شتى الحديث ١٤٣٨، ج ١ ، ص ٢٠٧)

(3) جگہ کشادہ کرنا: اگر کوئی شخص مجلس میں حاضر ہو تو اس مجلس میں پہلے سے موجود شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے آنے والے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرے اور سرک جائے اور اس کو بیٹھنے کی جگہ دے۔ مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر اُدھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے ۔) (شعب الایمان، باب فی مقاربۃ ... الخ، فصل فی قيام المرء لصاحبہ، الحديث ٨٩٣٣، ج ۶، ص ٤٦٨)

(4) کان میں بات نہ کرنا: جب کچھ لوگ آپس میں بیٹھے ہوں تو دو لوگوں کا آپس میں کان میں بات کرنا درست نہیں۔حدیث میں ہے : ”اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی“ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب فی التناجی، الحديث: ٤٨٥١ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)

اس کے علاؤہ بھی ایسی کثیر باتیں ہیں جن مصاحبت و ہمنشینی کے وقت خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قدم پر شریعت کے سنہری اصولوں کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ