لغت میں مسجد کا معنیٰ ہےسجدہ گاہ، عبادت کی جگہ اور اصطلاحِ شرع میں مسجد نام ہے اسلامی عبادت گاہ کا یا وہ جگہ جو نماز ‏کیلئے وقف ہو۔مسجد کی عزت و ‏عظمت اور افضلیت و اہمیت مسلمانوں کے نزدیک ایک اہم امر ہے۔

جو مقام اتنا اہم ہے اس کے حقوق کی پاسداری کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے، مسجد کے چند حقوق پڑھئے اور عمل کی نیت کیجئے:‏

(1)مسجد کی حاضری کے لئے زینت اختیار کرنا ‏: مسجد کی حاضری کیلئے زینت اختیار کرنے کا تو اللہ پاک نے حکم ارشاد فرمایا ‏ہے: ﴿یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان:اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ ‏‏۔ (پ8، الاعراف:31)‏

(2)مسجد کی صفائی رکھنا: مسجد کی صفائی ستھرائی کا خود اللہ پاک نے حکم ارشاد فرمایا: ﴿وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا ‏بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَالْعٰكِفِیْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)﴾ ترجَمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ‏ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔(پ1، البقرۃ: 125)‏

(3)مسجد خوشبو دار رکھنا: حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے محلّوں میں مسجدیں بنانے ‏اور انہیں صاف اور خوشبو دار رکھنے کا حکم دیا۔(ابوداؤد، 1/197، ‏حدیث: 455)‏

(4)مسجد کو شور سے بچانا: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں، بدخصلت لوگوں، خرید و ‏فروخت، جھگڑوں، شوروغوغا، حدیں لگانے اور تلواریں کھینچنے سے دور رکھو۔(ابن ماجہ، 1/410، حدیث: 750)‏

(5)مسجد میں نہ ہنسنا: سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا ‏‏(لاتا)ہے‏۔(جامع صغیر، ‏ص322، حدیث: 5231)‏

(6)مسجد کو بد بودار چیزوں سے بچانا:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو لہسن، پیاز اور گندنا (لہسن سے ملتی جلتی ‏ترکاری) کھائے تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے ‏انسان تکلیف ‏محسوس کرتے ہیں۔‏(دیکھئے: نسائی، ص123، حدیث:704)‏

(7)مسجد میں گمشدہ چیز نہ ڈھونڈنا: جو کسی کو مسجد میں باآواز بلند گمشدہ چیز ڈھونڈتے سُنے تو وہ کہے: اللہ وہ گمشدہ چیز تجھے نہ ‏ملائے کیونکہ مسجدیں اس کام کے لئے نہیں بنائی گئیں۔ ‏(مسلم، ص 224، حدیث: 1260)‏

اللہ پاک ہمیں مسجدوں کو آباد کرنے،ان کے حقوق ادا کرنے،ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے،خوشبودار رکھنے اور ‏مسجدوں کو شور سے بچانے کی توفیق عطا ‏فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم‏

اللہ پاک کے آخری نبی محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس ‏دنیا کے لئے سراپا رحمت ہے اور حضور علیہ السّلام کا ہر ‏فرمان حکمت ‏و بصیرت کا مظہر ہے۔ کریم آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی امت کی اصلاح، ‏تربیت اور راہنمائی کے لئے ایسے ‏الفاظ کا انتخاب فرمایا جو نہایت ‏جامع، بلیغ اور دل میں اتر جانے والے ہوتےہیں۔

لفظ ”اٰمُرُكُمْ“ کے ‏ذریعے آپ نے اپنے فرامین میں نہ صرف حکم دیا بلکہ ‏محبت، شفقت اور اخلاص کا پہلو بھی نمایاں فرمایا۔ ‏یہ لفظ امت ‏کو ان کے اعمال اور ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ‏مؤثر ذریعہ تھا، جس کے ذریعے رسولُ الله صلَّی اللہ ‏علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دین کی ‏اساس کو مضبوط کیا اور امت کے اخلاق و کردار کو سنوارا۔ ‏

نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین ایسے اصول و ضوابط پر مشتمل ہیں جو ‏نہ صرف انفرادی اصلاح کے لئے ہیں بلکہ ایک ‏اجتماعی نظام کی ‏تشکیل کے لئے بھی سنگِ میل ہیں۔ آیئے! چند ایسے فرامینِ مصطفےٰ پڑھئے جن میں حضور علیہ السّلام نے لفظ ‏‏”اٰمُرُكُمْ“ کے ذریعے تربیت فرمائی:‏

(1)توحید ہر کامیابی کی بنیاد: اٰمُرُكُمْ اَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَتَفَرَّقُوا ترجمہ: ‏میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ‏رکھو، اختلافات و تفرقہ ‏بازی میں نہ پڑو۔(صحیح ابن حبان، 7/44، حدیث: 4542)‏

یہ فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ توحید اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد ‏تمام تر کامیابیوں کی بنیاد ہے۔ اس نصیحت میں دین و ‏دنیا کی کامیابی کا راز پوشیدہ ‏ہے، جہاں اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق کی اہمیت ‏کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ ‏

(2)ایمان اور اعمالِ صالحہ کی تلقین: ایک موقع پر جب وفدِ عبد القیس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ‏جنت میں ‏داخلے کے اعمال کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا: اٰمُرُكُمْ بِالاِيمَانِ بِاللَّهِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الاِيمَانُ بِاللَّهِ ‏شَهَادَةُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ وَاِقَامُ الصَّلَاةِ وَاِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَتُعْطُوا مِنَ المَغْنَمِ الخُمُس ترجمہ:میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم ‏دیتا ہوں، کتا تم جانتے ہوں اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟اس بات کی صدقِ دل سے گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے ‏لائق نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰہ دینا اور مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔‏‏‏(بخاری، 4/597، حدیث: 7556)‏

(3)پانچ چیزوں کا حکم:وَاَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ اَمَرَنِي بِهِنَّ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ وَالجِهَادُ وَالهِجْرَةُ وَالجَمَاعَةُ ترجمہ: میں ‏تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے یعنی سننا، اطاعت و فرماں برداری کرنا، راہِ خدا میں ‏جہادکرنا، ہجرت کرنا اور جماعت کو اختیار کرنا۔(ترمذی، 4/394، حدیث: 2872)‏

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا لفظ ”اٰمُرُكُمْ“ فرمانا اُمّت کے لئے ایک راہنمائی کا ‏مینار ہے، جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر ‏پہلو کو سنوارنے ‏کے اصول فراہم کرتا ہے۔

یہ فرامین ایک ایسے کامل نظام کی ‏عکاسی کرتے ہیں جو دنیاوی و اخروی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ ‏اللہ پاک ہمیں اپنے ‏آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ذریعے اپنی زندگیوں کو روشن و منور ‏کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اسلام نے انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں واضح ہدایات فراہم کی ہیں اور اعمال کی قبولیت کو ایمان اور نیت کی بنیاد پر قرار دیا ہے۔ کفار کے اعمال کا ‏انجام قرآن و حدیث میں مختلف مثالوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے اور حق کی طرف رجوع کرے۔ قرآن کریم میں کفار ‏کے اعمال کو بے وقعت اور بے سود قرار دیا گیا ہے اور ان کی حقیقت کو سمجھانے کے لیے متعدد تشبیہیں دی گئی ہیں۔ ‏

کفار کے اعمال کے بارے میں قرآنی مثالیں ‏

(1) کفار کے اعمال کو خاک کا ڈھیر قرار دینا : قرآن کریم میں کفار کے اعمال کی بے قدری کو خاک کے ڈھیر سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہوا کے جھونکوں سے اڑ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‏ ترجمہ کنزالعرفان:‏ اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن میں تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں میں سے کسی شے پر بھی قادر نہ ‏رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ ‏ (سورۃ ابراہیم: 18) ‏

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کفار کے اعمال، چاہے کتنے ہی بڑے نظر آئیں، اللہ کے نزدیک بے فائدہ ہیں۔ ‏

(2) کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دینا: کفار کی دنیاوی کامیابیوں کو ایک سراب سے تشبیہ دی گئی ہے جو دور سے پانی نظر آتا ہے، لیکن قریب جا کر کچھ بھی نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‏

ترجمہ کنزالعرفان:‏ اورکافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو، پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے یہاں تک جب وہ اس کے پاس آتا ہے ‏تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اوروہ اللہ کو اپنے قریب پائے گا تو اللہ اسے اس کا پورا حساب دے گا اور اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے۔ ‏ ‏ (سورۃ النور: 39)‏

یہ آیت کفار کی دنیاداری اور ان کے اعمال کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ‏

(3) کفار کے دلوں پر مہر لگنا‏: کفار کی ہٹ دھرمی اور حق سے انکار کو قرآن مجید میں ان کے دلوں پر مہر لگنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‏ ترجمہ کنزالعرفان:‏ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ البقرہ: 7) ‏

یہ آیت کفار کی اندرونی حالت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ حق کو سننے، سمجھنے، اور قبول کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ‏

(4) کفار کو مکڑی کے جالے کی مثال دینا: کفار کے عقائد کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی گئی ہے جو کمزور اور ناپائیدار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‏ ترجمۂ کنز العرفان ‏: جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا ‏اگر وہ جانتے۔ ‏ ‏ (سورۃ العنکبوت: 41) ‏

یہ آیت کفار کے اعمال اور عقائد کی کمزوری اور ناپائیداری کو بیان کرتی ہے۔ ‏

(5) کفار کے اعمال کو جھاگ کی مانند قرار دینا: کفار کے اعمال کو پانی کے جھاگ سے تشبیہ دی گئی ہے جو وقتی طور پر نظر آتا ہے لیکن جلد ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‏ ‏ ترجمۂ کنز العرفان ‏

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنی اپنی گنجائش کی بقدر بہہ نکلے تو پانی کی رَو اُس پر ابھرےہوئے جھاگ اٹھا لائی اور زیور یا کوئی دوسرا سامان بنانے کیلئے جس ‏پروہ آگ دہکاتے ہیں اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں ۔ اللہ اسی طرح حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے تو جھاگ تو ضائع ہوجاتا ہے اور وہ (پانی) جو لوگوں ‏کو فائدہ دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے ۔اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے ۔ (سورۃ الرعد: 17) ‏

یہ آیت کفار کے اعمال کی عارضی نوعیت اور بے ثباتی کو ظاہر کرتی ہے۔

اسلام انسانیت کی رہنمائی کے لیے ایک کامل اور جامع دین ہے۔ قرآن مجید اور احادیث رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں انسان کے اعمال کے نتائج، ان کے اثرات اور آخرت ‏میں ان کی جزا و سزا کو واضح کیا گیا ہے۔ کفار کے اعمال اور ان کی زندگی کے انداز کو قرآن مجید میں مختلف مثالوں کے ذریعے بیان کیا گیا تاکہ مؤمنین ان سے سبق ‏حاصل کریں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔ ان مثالوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کفار کے رویے، ان کی ہٹ دھرمی، اور ان کے انجام کو ایک عبرت کے طور پر ‏پیش کیا ہے۔ ‏

کفار کے اعمال کے بارے میں قرآنی مثالیں: ‏

(1) کفار کے اعمال کو خاک اور راکھ سے تشبیہ‏: اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی بے وقعتی کو خاک اور راکھ سے تشبیہ دی ہے، جو ہوا میں اڑ جاتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:‏ ترجمہ کنزالعرفان:‏ اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن میں تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں میں سے کسی شے پر بھی قادر نہ ‏رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ ‏ ‏ (سورۃ ابراہیم: 18) ‏

یہ مثال کفار کے ان اعمال کو ظاہر کرتی ہے جو نیت کی خرابی اور ایمان کے فقدان کی وجہ سے اللہ کے نزدیک بے کار ہو جاتے ہیں۔ ‏

(3) کفار کے دلوں پر مہر لگنا‏: کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر لگنے کی مثال قرآن مجید میں دی گئی ہے، جس سے ان کے لیے حق کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‏ترجمہ کنزالعرفان:‏ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پرپردہ پڑا ہواہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ البقرہ: 7) ‏

یہ مثال ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ حق بات کو سننے اور سمجھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں۔ (4) کفار کو گدھے کی مثال دینا: کفار کے اعمال اور ان کے علم کو اس گدھے کی مانند قرار دیا گیا جو کتابوں کا بوجھ اٹھاتا ہے لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‏ ترجمہ کنزالعرفان: ‏ جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا پھر انہوں نے اس کا بوجھ نہ اٹھایاان لوگوں کی مثال گدھے کی مثال جیسی ہے جو کتابیں اٹھائے ہو، ان لوگوں کی کیا ہی بری مثال ہے ‏جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ الجمعہ: 5) ‏

یہ مثال کفار کی علم سے بے عملی اور ان کے حق سے منہ موڑنے کو بیان کرتی ہے۔ ‏

(5) کفار کے اعمال کو سراب سے تشبیہ‏: کفار کی دنیاوی کامیابیاں اور اعمال ایک سراب کی مانند ہیں جو دور سے پانی کی طرح نظر آتا ہے لیکن قریب پہنچنے پر کچھ نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‏ ترجمہ کنزالعرفان:‏ اورکافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو، پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے یہاں تک جب وہ اس کے پاس آتا ہے ‏تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اوروہ اللہ کو اپنے قریب پائے گا تو اللہ اسے اس کا پورا حساب دے گا اور اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے۔‏ ‏ (سورۃ النور: 39) ‏

یہ آیت کفار کے دنیاوی اعمال کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ وہ آخرت میں بالکل بے فائدہ ہوں گے۔

قرآن  مجید انسان کی رہنمائی و ہدایت کے لیے ایک کامل ترین کتاب ہے۔ قرآن مجید ایسی کتاب ہے کہ جو انسان کے اعمال، رویوں اور دیگر معاملات کو بہت ہی ‏جامع و حکیمانہ مثالوں سے واضح کرتا ہے ان مثالوں کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان میں غور و فکر کر کے اپنی اُخروی زندگی کو کامیاب بنائے۔ اسی طرح قرآن مجید ‏میں مختلف مقام پر مختلف انداز میں کفار کے اعمال کو مثال دے کر بیان کیا کہ جو انہوں نے دنیا میں اپنے گمان کے مطابق نیک اعمال کئے اور اس میں اپنی کامیابی ‏تصور کی لیکن حقیقت میں وہ ناکامی ہے اور آخرت میں کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔

قارئین کرام! آئیے کفار کے چنداعمال کی قرآنی مثال کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ‏

(1) اعمال راکھ کی طرح: مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ترجمہ کنز العرفان:‏ اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن میں تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں میں سے کسی شے پر بھی قادر نہ ‏رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ ‏(پ13،سورۃ الابراہیم18)‏

جن کو وہ نیک عمل سمجھتے تھے جیسے کہ محتاجوں کی امداد ،مسافروں کی معاونت ان کے بیماروں کی خبر گیری وغیرہ چونکہ ایمان پر مبنی نہیں اس لیے وہ سب بیکار ہیں اور ‏وہ سب اڑ گئے اور اس کے اجزا منتشر ہو گئے اور اس میں سے کچھ باقی نہ رہا یہی حال ہے کفار کے اعمال کا کہ ان کے شرک و کفر کی وجہ سے برباد اور باطل ہو گیا ۔ ‏ ‏(خزائن العرفان،ص482 مکتبۃ المدینہ) ‏

(2) بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح: وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ترجمہ کنز العرفان:‏ اورکافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو، پیاسا آدمی اسے پانی سمجھتا ہے یہاں تک جب وہ اس کے پاس آتا ہے ‏تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اوروہ اللہ کو اپنے قریب پائے گا تو اللہ اسے اس کا پورا حساب دے گا اور اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے۔‏ ‏(پ18، سورۃ النور39)‏

اس آیت میں ذکر کی گئی مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ظاہری اچھے اَعمال کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو، پیاسا ‏آدمی اسے پانی سمجھ کر اس کی تلاش میں چلا اورجب وہاں پہنچا تو پانی کا نام و نشان نہ تھا تو وہ سخت مایوس ہو گیا ایسے ہی کافر اپنے خیال میں نیکیاں کرتا ہے اور سمجھتا ہے ‏کہ اللہ پاک سے اس کا ثواب پائے گا، لیکن جب میدانِ قیامت میں پہنچے گا تو ثواب نہ پائے گا بلکہ عذابِ عظیم میں گرفتار ہوگا اور اس وقت اس کی حسرت اور اس ‏کا غم اس پیاس سے بدرجہا زیادہ ہوگا۔ ‏(صراط الجنان ج6، ص643) ‏

(3) باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح: وَقَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا

ترجمہ کنزالعرفان:‏ اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ‏ہیں۔ (پ18،سورۃ الفرقان23)‏

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار نے کفر کی حالت میں جو کوئی ظاہری اچھے عمل کیے ہوں گے جیسے صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور یتیموں کی پرورش وغیرہ، اللہ ‏تعالٰی ان کی طرف قصد کرکے روشندان کی دھوپ میں نظر آنے والے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح انہیں بے وقعت بنادے گا۔ مراد یہ ہے ‏کہ وہ اعمال باطل کردیئے جائیں گے، ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہ ہو گاکیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں مُیَسَّر نہ تھا۔ ‏(صراط الجنان ج7، ص14) ‏

ان تمام آیات میں ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے اور بالخصوص اِن آیات میں اُن مسلمانوں کے لیے درس عبرت ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کی ‏مخالفت اور ناشکری کی اور ریاکاری و دکھلاوے میں آ کر نیک اعمال کیے اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت سی نیکیاں جمع کر لی ہیں مگر حقیقت ‏میں ان کے اعمال ضائع ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا ہے۔

اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں قرآن پاک کو سمجھنے کی اور اس پر عمل پیرا ہونے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ تبارک و تعالی نے متعدد مقامات پر کفار کے اعمال کو ضائع اور بے وقعت قرار دیا ہے کفار کے اچھے اعمال انہیں کوئی نفع نہیں دیں گے کیونکہ ایمان کے بغیر ‏کوئی نیکی قابل قبول نہیں جس طرح نماز کے لیے وضو شرط جواز ہے ایسے ہی اعمال کے لیے ایمان شرط قبول ہے کفار جو بھی نیک اعمال کرتے ہیں انہیں گمان ہوتا ‏ہے کہ ان کے اعمال ان کو آخرت میں نفع پہنچائیں گے لیکن جب وہ مر جاتے ہیں تو معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے آئیے قرآن  کریم سے ملاحظہ کرتے ہیں کہ اللہ ‏تبارک و تعالی نے کفار کی خوش فہمی کی کس انداز سے تردید فرمائی ہے ۔

سورۃ النور میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے ‏

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْــٴًـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ

ترجمہ کنز العرفان:اور کافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں دھوپ میں پانی کی طرح چمکنے والی ریت ہو پیاسا اسے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ‏اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا اور وہ اللہ کو اپنے قریب پائے گا تو اللہ اس کا اسے پورا حساب دے گا اور اللہ جلد حساب کر لینے والا ہے۔ (سورۃ النور آیت نمبر ‏‏39) ‏

‏ اللہ تبارک و تعالی نے اس آیت میں کفار کے اعمال کو مثال سے بیان فرما کر یہ واضح کر دیا ہے کہ کافر آخرت میں شدید خسارے میں ہوں گے اور دنیا میں انہیں طرح ‏طرح کی ظلمتوں کا سامنا ہوگا ‏ اسی طرح سورۃ النور میں ہی اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ-ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ ‏نُّوْرٍ

ترجمہ کنز العرفان: یا جیسے کسی گہرے سمندر میں تاریکیاں ہوں جس کو اوپر سے موج نے ڈھانپ لیا ہو اس موج پر ایک اور موج ہو پھر اس موج پر بادل ہو ‏اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ایک کے اوپر دوسرا اندھیرا جب کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے اپنا ہاتھ بھی دکھائی دیتا معلوم نہ ہو اور جس کے لیے اللہ نور نہیں بناتا اس ‏کے لیے کوئی نور نہیں ‏۔ (سورۃ النور، آیت نمبر: 40)‏

اس سے پہلے والی آیت میں بھی اللہ تبارک و تعالی نے کفار کے اعمال کو مثال سے واضح فرمایا ہے اور اس آیت میں بھی کفار کے اعمال کو واضح فرمایا کہ ان کے اعمال ‏برباد ہیں دوسری مثال میں تاریکیوں سے مراد کفار کے اعمال ہیں سمندر کی گہرائیوں سے مراد کفار کے قلوب ہیں اور موج بالائے موج سے مراد وہ جہالت ‏شکوک اور اندھیرے ہیں جو کفار کے دلوں پر چھائے ہوئے ہیں بادلوں سے مراد ان کے دلوں کا زنگ ہے اور وہ مہر ہے جو ان کے دلوں پر لگا دی گئی ہے حضرت ‏ابن عباس اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے کہ جس طرح جو شخص سمندر کے گہرے اندھیرے میں ہو اس کو اپنا ہاتھ دکھائی نہیں دیتا اسی طرح کافر اپنے دل سے ‏نور ایمان کا ادراک نہیں کر سکتا۔

‏ ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ

ترجمہ کنز العرفان: اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے اعمال راکھ کی طرح ہوں گے جس پر آندھی کے دن تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں سے کسی شے پر ‏قادر نہ رہیں گے یہی دور کی گمراہی ہے۔ (سورۃ ابراہیم آیت نمبر 18)‏

‏ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہی نیک اعمال فائدہ دیں گے جو ایمان لانے کے بعد کیے ہوں گے ‏ جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے تو اللہ ‏تبارک و تعالی اس پر ظلم نہیں کرے گا اور اسے آخرت میں بھی جزا دی جائے گی رہا کافر تو اس نے اگر دنیا میں کوئی نیکی کی ہوگی تو اس کی جزا اسے دنیا میں دے دی ‏جائے گی اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہیں ہوگی جس کی اسے جزا دی جا سکے (صحیح مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب ‏جزاءالمومن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ صفحہ نمبر 1508 جلد نمبر 1 رقم الحدیث 2808)‏

‏ سورۃ ھود میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(15)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا ‏یَعْمَلُوْنَ(16) ( سورۃ ہود آیت نمبر 15 16)‏

ترجمہ کنز العرفان: جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو تو ہم دنیا میں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیں گے اور انہیں دنیا میں کچھ کم نہیں دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جن ‏کے لیے آخرت میں کچھ نہیں ہوگا سوائے آگ کے دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب برباد ہو گیا اور ان کے اعمال باطل ہیں۔ امام ضحاک رحمۃ اللہ تعالی علیہ ‏فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر قرطبی صفحہ نمبر 14 جزء نمبر 9)‏

‏ مذکورہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کفار جتنے بھی اچھے اعمال کر لیں انہیں آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر مومن کوئی اچھا عمل ‏کرے گا تو اسے دنیا میں بھی اجر ملے گا اور آخرت میں بھی ملے گا اللہ تعالی ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین‏

خدمتِ دین میں مصروفِ عمل دعوتِ اسلامی عالمی سطح کی وہ دینی تحریک ہے جس کے تحت ملک و بیرونِ ملک میں اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے درمیان مختلف شعبہ جات کے ذریعے دینی کام ہو رہے ہیں۔

فروری 2025ء کی کارکردگی کے مطابق پاکستان بھر میں اسلامی بہنوں کے درمیان دعوتِ اسلامی کے تحت جو جو دینی کام ہوئے اُن کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭روزانہ گھر درس دینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:1 لاکھ 20 ہزار 517 (1, 20, 517)۔

٭روزانہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا بیان / مدنی مذاکرہ سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:1 لاکھ 50 ہزر 400 (1, 50, 400)۔

٭بڑی عمر کی اسلامی بہنوں کے لئے لگنے والے مدرسۃالمدینہ بالغات کی تعداد:12 ہزار 934 (12, 934)۔

٭ان مدرسۃالمدینہ بالغات میں پڑھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:1 لاکھ 11 ہزار 30 (1, 11, 030)۔

٭اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کی تعداد:11 ہزار 228 (11, 228)۔

٭ان اجتماعات میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:4 لاکھ 23 ہزار 343 (4, 23, 343)۔

٭علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:35 ہزار 537 (35, 537)۔

٭ہفتہ وار رسالہ پڑھنے / سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:7 لاکھ 43 ہزار 758 (7, 43, 758)۔

٭اسلامی بہنوں سے وصول ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد:1 لاکھ 16 ہزار 55 (1, 16, 055)۔

٭اسلامی بہنوں میں ہونے والے مدنی کورسز کی تعداد:3 ہزار 215 (3, 215)۔

٭ان مدنی کورسز میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد:47 ہزار 643 (47, 643)۔ 

10 مارچ 2025ء کو عالمی سطح پر ہونے والے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلسِ مشاورت کی اراکین اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق مدنی مشورے کی ابتدا میں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے مختلف نکات پر گفتگو کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭جنتی اعمال کی اہمیت٭شعبہ جات میں کورسز کا نظام٭بیرونِ ممالک میں کورسز اور سیشنز کا نظام٭آئندہ کے اہداف ٭تعلیمی شعبہ جات سے منسلک اسٹاف، طالبات، مدرسۃالمدینہ بالغات کی مدرسات اور دیگر اسلامی بہنوں (جو ایک ملک سے دوسرے ملک شفٹ ہو جائیں) کا ڈیٹا متعلقہ سب کانٹیننٹ نگران یا ملک نگران اسلامی بہنوں کو دیا جائے تاکہ اُن کی قابلیت کے مطابق دینی کام لیا جاسکے۔

کراچی کے علاقے بہادر آباد میں قائم جامع مسجد مصطفیٰ کے قریب دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 1 مارچ 2025ء کو مقامی اسلامی بہنوں کے لئے درسِ قراٰن کا انعقاد کیا گیا ۔

اس دوران نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان کیا جس میں انہوں نے ”حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سخاوت“ کے متعلق اسلامی بہنوں کو مدنی پھولوں سے نوازا اور انہیں پابندی کے ساتھ درسِ قراٰن میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی۔

بعدازاں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں مزید ترقی لانے کے لئے اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی اور انہیں زیادہ سے زیادہ ڈونیشن جمع کروانے کا ذہن دیا۔

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 3 مارچ 2025ء کو اسلامی بہنوں کے دینی کاموں کے سلسلے میں آن لائن مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں سب کانٹیننٹ نگران اسلامی بہنیں شریک ہوئیں۔

دعوتِ اسلامی کی نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت اسلامی بہن نے مختلف مدنی پھولوں کے حوالے سے نگران اسلامی بہنوں کی تربیت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے فرمان پر عمل کیا جائے٭امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے عطا کردہ اوراد و وظائف کا ورد کیا جائے٭امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کو دعوتِ اسلامی اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے لہٰذا اس پیاری تنظیم کی دل و جان سے خدمت ہم پر لازم ہے۔

نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے ڈونیشن کی اب تک کی کارکردگی کا سابقہ کارکردگی کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے سب کانٹیننٹ نگران اسلامی بہنوں کو ا س میں مزید بہتری لانے کی ترغیب دلائی۔

علاوہ ازیں نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت نے اسلامی بہنوں کے دینی کاموں میں درپیش مسائل کا حل بتایااور مدنی پھولوں سے نوازا جبکہ دینی کام کو بڑھانے کے طریقۂ کار پر بھی مشاورت کی۔


ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت 11 مارچ 2025ء کو  سرگودھا، پنجاب کے علاقے علی ٹاؤن میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ”افطار اجتماع“ کا اہتمام کیا گیا جس میں سرکاری و پرائیویٹ کالج کے پرنسپل، ٹیچرز اور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کی شرکت رہی۔

ڈویژن ذمہ دار محمد ہاشم رضا عطاری نے اس اجتماعِ پاک میں سنتوں بھرا بیان کیاجس میں انہوں نے شرکا کو رمضانُ المبارک کی قدر و منزلت کے بارے میں بتایا اس ماہِ مبارک میں خوب خوب عبادت کرنے کا ذہن دیا۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد فاروق عطاری اور یونیورسٹی نگران عبد اللہ شاہ عطاری سمیت دیگر ذمہ دار اسلامی بھائی موجود تھے۔(رپورٹ: شعبہ تعلیم ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

حیدرآباد سندھ میں واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کے کانفرنس روم میں دعوتِ اسلامی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت ”احکامِ روزہ کورس“ کروایا گیا جس میں ٹیچرز حضرات کی شرکت ہوئی۔

اس کورس میں دارالافتاء اہلسنت کے مفتی نوید عطاری مدنی نے روزوں کے مسائل پر ٹیچرز کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں روزے سے متعلق چند اہم چیزیں بیان کیں جن میں سے بعض یہ ہیں:٭روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے٭روزے کی حفاظت کس طرح کی جائے٭روزہ تقوےکا نام ہے٭روزہ قربِ الٰہی پانے کا ذریعہ ہے٭روزہ باطنی عبادت ہے جو کہ اللہ پاک کو پسند ہے٭روزے سے بیماریاں دور ہوتی ہیں٭روزہ ہمارے نفس و روح کو پاک کرتا ہے۔(رپورٹ: جنید عطاری ریجن ذمہ دار شعبہ تعلیم حیدرآباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)