دعوتِ اسلامی کے تعلیمی شعبے فیضان آن لائن اکیدمی بوائز کے تحت پچھلے دنوں ڈویژن تعلیمی ذمہ داران کی ماہانہ آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مختلف اہم نکات پرمشاورت کی گئی۔

اس میٹنگ میں شعبہ جامعۃالمدینہ آن لائن کے رکنِ مجلس تعلیمی امور مولانا محمد عرفان رضا عطاری مدنی نے ذمہ دار کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے اور 2026ء کے اہداف کے حوالے سے گفتگو کی۔

اس موقع پر مولانا علی ہاشمی عطاری مدنی، مولانا حامد عطاری مدنی، سیّد فرقان عطاری، مولانا غلام علی عطاری مدنی اور مولانا سلیم اللہ عطاری مدنی موجود تھے۔ (رپورٹ:محمد وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (دعوتِ اسلامی) کے تحت ایک سیمینار بنام ”صحت مند ذہن و صحت مند مستقبل“ کا اہتمام کیا گیا جس میں ترقی پسند اور متوازن معاشرے کے حوالے سے ذہنی تندرستی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

اس سیمینار میں مہمانِ خصوصی کے طور پر ڈاکٹر کرنل ملک ایوب اعوان نے شرکت کی اور ذہنی صحت وذاتی ترقی کے متعلق اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی روشنی میں حاضرین کے درمیان گفتگو کی۔

سیمینار نے یونیورسٹی کی تعلیمی قابلیت، جامع تعلیم، اسٹوڈنٹس کی فکری نشو و نما، عصری صحت اور فلاح و بہود کے چیلنجز پر حاضرین کی رہنمائی کی۔(رپورٹ:ابراراحمد کیمرہ مین سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


گزشتہ روز پی ایچ ڈی فورم سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے فیصل آباد میں قائم دعوتِ اسلامی کے دینی تعلیمی بورڈ کنزالمدارس کے ہیڈ آفس کا  دورہ کیا جہاں اُن کے لئے ایک خصوصی سیشن منعقد کیا گیا۔

معلومات کے مطابق اس خصوصی سیشن میں وفد کے تمام اسلامی بھائیوں کی دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے چانسلر و رکنِ شوریٰ مولانا حاجی محمد جنید عطاری مدنی سے ملاقات و میٹنگ ہوئی ۔

سیشن کے دوران رکنِ شوریٰ نے وفد کے اسلامی بھائیوں سے چند اہم عملی نکات پر تبادلۂ خیال کیا اور انہیں دعوتِ اسلامی کی علمی خدمات کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔(رپورٹ:ابراراحمد کیمرہ مین سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جو اکیلے زندگی گزارنے کا اہل نہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ رہ کر خوشی، غم، سیکھنے، سکھانے اور ترقی کے مراحل طے کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں فرد کی اصلاح پر زور دیا ہے، وہیں معاشرتی تعلقات، دوستی، ہم نشینی اور ایک دوسرے کے حقوق کی بھی تعلیم دی ہے۔ مصاحبت  اور ہم نشینی نہ صرف ایک نعمت ہے بلکہ اس کے کچھ حقوق بھی ہیں جنہیں ادا کرنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔

(1) سلام اور خیر مقدم کا حق: ہم نشین کے ساتھ بیٹھنے سے پہلے اسے سلام کرنا اور خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہنا محبت و مودت کو بڑھاتا ہے۔

(2) اچھے اخلاق سے پیش آنا: نرم لہجہ، خوش گفتاری، اور تحمل مزاجی ہر ہم نشین کا بنیادی حق ہے۔

(3) توجہ سے سننا: جب کوئی ہم نشین بات کر رہا ہو تو اس کی بات پوری توجہ اور احترام سے سننا اس کی عزت افزائی ہے۔

(4) بات میں مداخلت نہ کرنا: کسی کی بات کاٹنا یا دورانِ گفتگو دخل اندازی کرنا خلافِ ادب اور ہم نشینی کے آداب کے خلاف ہے۔

(5) راز داری کا لحاظ رکھنا:مجلس میں کی گئی نجی باتوں کو افشا کرنا خیانت ہے؛ ہم نشین کا حق ہے کہ اس کی باتیں راز میں رہیں۔

احادیث کی روشنی میں :

(1) حضرت انس رضی اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ میں دس سال خدمت کی جب کہ میں لڑکا تھا مگر میرا ہر کام آپ ﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا تھا، لیکن جو میں نے کیا اس پر کبھی آپ ﷺ نے اُف تک نہ کیا اور نہ یہ فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا یا ایسے کیوں نہ کیا۔( سنن ابى داود كتاب الادب باب في الحلم والخلاق التي الحديث ٤٧٧، ح ٣٢٤)

مصاحبت اور ہم نشینی انسانی تعلقات کی بنیاد ہیں، جن کے ذریعے محبت، ہمدردی، اور خیر خواہی پروان چڑھتی ہے۔ ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مجلسوں اور محفلوں میں ایک دوسرے کے جذبات، خیالات اور حقوق کا احترام کریں۔

اگر ہم سب اپنی مجلسوں میں عدل، رواداری، نرمی، اور سچائی کو فروغ دیں تو نہ صرف دلوں میں محبت پیدا ہو گی بلکہ سماج میں اتحاد اور امن کا ماحول قائم ہو گا۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم نشینی کے آداب کو سیکھیں، ان پر عمل کریں، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہماری مجلسیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔


پیارے اسلامی بھائیو! ہمارا دین اسلام بڑا پیارا دین ہے جو ہمیں ہر طرح کی رہنمائی عطا کرتا ہے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی حق ہوتا ہے اسی طرح صحبت و ہم نشینی کے حقوق کی بھی دین اسلام کے اندر بہت زیادہ اہمیت ہے یہاں تک کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے تو ہر ایک سوچ لے کہ کس سے محبت کرتا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:5019 )

تو آئیے میں آپ کے سامنے صحبت و ہم نشینی کے چند حقوق ذکر کرتا ہوں :

(1) ذکر کرنے والوں کی مجلس : حضرت ابو رزین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو ، تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو ۔ (شعب الایمان باب فی مقاربہ الحدیث 9024 ج 6 صفحہ 492)

(2)راز داری کرنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:دو شخصوں کا آپس میں بیٹھنا امانت ہے ان میں سے کسی کےلئے حلال نہیں کہ اپنے ساتھی کی ایسی بات (لوگوں کے سامنے) ظاہر کرے جس کا ظاہر ہونا اسے پسند نہ ہو ۔ (الزہد لابن المبارک، باب ما جاء فی الشح، ص 240 ، حدیث 4880)

(3)سب سے اہم چیز: امام غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: دوست کی محبت بڑھانے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں جب کوئی اس کی برائی بیان کرے یا صراحتًا یا اشارتًا اس کی عزت کے درپے ہوتو اس کا دفاع کیا جائے، اپنے دوست کی مدد و حمایت کے لئے کمر بستہ ہوجائے، اس بد گو کو خاموش کروایا جائے اور اس سے سخت کلام کیا جائے۔ ( احیاءالعلوم، 2/656، مکتبۃ المدینہ )

(5) در گزر کرنا: دوست جب آپس میں مل کر ایک معاشرے میں رہتے ہیں تو عموماً ان کے درمیان لغزشیں ہو جاتی ہیں لہٰذا یہ دوستوں کے حقوق میں سے ہے کہ ان لغزشوں کو درگزر کیا جائے اور معاف کر دیا جائے ۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دینِ رحمت نے جہاں حقوقُ اللہ کی تاکید فرمائی، وہیں حقوقُ العباد کی ادائیگی کو بھی کامیاب مؤمن کی علامت قرار دیا۔ ان ہی حقوق میں سے ایک اہم مصاحبت و ہم نشینی یعنی صحبت کے آداب اور حقوق ہیں ، جس کا تعلق انسان کی روز مرّہ زندگی، اخلاق، تعلقات، اور معاشرتی حسن سلوک سے ہے۔

صحبت یا مجلس محض ایک بیٹھک نہیں بلکہ دلوں کے جُڑنے اور کردار سازی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں نیک صحبت اختیار کرنے اور بُری صحبت سے بچنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ صحبت کے ذریعے انسان نیکیوں کی طرف بھی بڑھتا ہے اور خدانخواستہ گمراہیوں میں بھی جا سکتا ہے۔ اس لیے صحبت کے حقوق، آداب، اور اثرات کو سمجھنا، ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔

(1) اللہ پاک کے لئے دوستی: تاجدار کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زبرجد کے بالا خانے ہیں ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں وہ ایسے چمکتے ہیں جیسے بہت روشن ستارہ چمکتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ان بالا خانوں میں کون خوش نصیب رہیں گے ؟ ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک ہی کے واسطے آپس میں بیٹھتے ہیں اور جو اللہ پاک ہی کے واسطے آپس میں ملاقات کرتے ہیں ۔(شعب الایمان للبیہقی ، جلد 6 ، حدیث نمبر 9002 صفحہ 487)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے ، آج میں انہیں اپنے سائے ( یعنی سایہ رحمت) میں جگہ دوں گا ، جب کے میرے سائے کے سوا آج کوئی سایہ نہیں ہے ۔(صحیح مسلم، باب فی فضل الحب فی اللہ ، حدیث نمبر 2566 ، صفحہ 1377)

(2) بد مذہبوں کی صحبت سے بچنا: انسان اپنے ہم نشین کی عادات ، اخلاق اور عقائد سے ضرور متاثر ہوتا ہے، اسی لئے مسلمانوں کو بد مذہبوں کی صحبت سے منع فرمایا گیا ہے ، جس کا رات دن کا مشغلہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور قرآن کریم پر طعن و تشنیع کرنا ہے لہذا ایسے خطرناک اور بھیانک قسم کے قبیح ناسور سے آلودہ مریضوں کی صحبت سے بچو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس ناپاک مرض میں مبتلا ہو جاؤ ۔ سید الکونین خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: بچ اس بات سے جو کان کو بری لگے۔(مسند امام احمد بن حنبل ، جلد 5 ، صفحہ 605 ، حدیث نمبر 16701)

اور بالخصوص دینی معلومات اور عقائد کے متعلق تو بری صحبت سے اجتناب انتہائی ضروری ہے ، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیلِہٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی رکھتا ہے ۔(مسند امام احمد بن حنبل ، جلد 3 ، صفحہ 233 ، حدیث نمبر 7425)

حضرت محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : إِنَّ هٰذَا العِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ ترجمہ: یعنی یہ علم دین ، ہے ، پس تم دیکھو کس سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو ۔ (صحیح مسلم ، مقدمہ ، صفحہ 11)

پیارے اسلامی بھائیو! بری صحبت سے دین و دنیا تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ، برے ماحول میں انسان کی عادات و اطوار بگڑ جاتے ہیں ، اللہ پاک کی نافرمانی زیادہ ہونے لگتی ہے ، رسول اللہ ﷺ کی پیاری پیاری سنتیں پامال ہونے لگتی ہیں ، آہستہ آہستہ انسان فسق و فجور کا مجسمہ بن جاتا ہے ۔ لہذا ہمیں چاہیے بد مذہبوں کی صحبت میں نہ بیٹھیں ۔

(3) عزت و احترام کرنا: صحبت و ہم نشینی کا اہم ترین حق عزت و اکرام ہے ، دوستوں کی صحبت میں دل آزاری یا تَحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ، رسولِ اکرم و نورِ مجسم ﷺ کا ارشاد پاک ہے : لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔ (مسند احمد، جلد 2، حدیث: 23488)

جب دوستی میں عزت و محبت ہو تو وہ باعثِ رحمت بن جاتی ہے ، کبھی کبھار مجلس میں مذاق اور طنز کے پردے میں عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے، جو کہ اخلاقاً اور شرعاً درست نہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صحبتوں میں برکت ہو تو ہمیں ایک دوسرے کی عزت لازمًا کرنی ہوگی۔

(4) خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے ملنا: وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولِ ذیشان ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،جلد 3 ، حدیث نمبر: 1911)

معلوم ہوا خوشی کا مسکرانا جس سے سامنے والا سمجھے کہ میرے آنے سے اسے خوشی ہوئی اس سے وہ بھی خوش ہو جائے، تَمَسّخُر کا مسکرانا مراد نہیں جس سے آنے والے کو تکلیف ہو کہ یہ تو گناہ ہے۔

(5) راز داری اور خیانت سے بچنا:صحبت کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو باتیں مجلس میں ہوں، اُنہیں باہر افشا نہ کیا جائے، مگر یہ کہ وہ بات دین یا اصلاح کے لیے ضروری ہو۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ: مَجْلِسًا يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ، أَوْ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ، أَوْ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ بِغَيْرِ حَقٍّ

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجالس امانت ہوتی ہیں، سوائے تین مجلسوں کے:(1) ایسی جس میں ناحق خون بہانے کا ارادہ ہو (2) یا ناجائز جنسی فعل جائز کیا جائے(3) یا کسی کے مال کو ناحق ہتھیایا جائے ۔(سننِ ابی داؤد، باب المجالس ، حدیث نمبر 4869)

مصاحبت و ہم نشینی کا معاملہ محض دنیاوی تعلقات کا نہیں بلکہ یہ ایک دینی و اُخروی ذمہ داری بھی ہے۔ جس طرح اچھے دوست انسان کو جنت کی راہ دکھاتے ہیں، ویسے ہی بُری صحبت جہنم کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلقات کی بنیاد تقویٰ، اخلاص، دین داری اور پر رکھیں۔ نہ صرف دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں بلکہ خود بھی ایسی صحبت اختیار کریں جو دین و دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک صحبت نصیب فرمائے اور ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ


ہمیں زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کی صحبت حاصل کرنا پڑتی ہے اور ان کے ساتھ مصاحبت رکھنا پڑتی ہے مگر اس ہم نشینی اور مصاحبت کے چند حقوق ہیں کہ جن کو ادا کرنا لازمی ہے تاکہ بندہ اس مصاحبت کے ذریعے گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے چنانچہ آئیے ہم بھی مصاحبت و ہم نشینی کے چند حقوق پڑھتے ہیں:

(1) مومن کو مصاحب بنانا : جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : مصاحبت نہ کرو مگر مومن کی۔ ( یعنی صرف مومن کامل کے پاس بیٹھا کرو۔)(سنن ابی داود ‘‘ ،کتاب الادب، باب من یؤمران یجالس،الحدیث: 2832 ،ج 2،ص 321)

(2)فاجر سے مصاحبت نہ رکھنا : حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: ایسی چیز میں نہ پڑو جو تمہارے لیے مفید نہ ہو اور دشمن سے الگ رہو اور دوست سے بچتے رہو مگر جبکہ وہ امین ہو کہ امین کے برابر کوئی نہیں اور امین وہی ہے جو اﷲ (عزوجل) سے ڈرے اور فاجر کے ساتھ نہ رہو کہ وہ تمہیں فجور سکھائے گا اور اس کے سامنے بھید کی بات نہ کہو اور اپنے کام میں ان سے مشورہ لو جو اﷲ (عزوجل) سے ڈرتے ہیں ۔ (شعب الایمان ‘‘ ، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ،الحدیث: 2995 ،ج 2 ، ص 257)

(3) اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا : جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے: اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے آج میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا، آج میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔(صحیح مسلم ‘‘ ،کتاب البر والصلۃ ۔۔۔ إلخ،باب فضل الحب فی اللہ تعالٰی،الحدیث: 37 (2566) ،ص 1388)

(4) ضرورت کے وقت مال خرچ کرنا : اﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے: جو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں اور آپس میں ملتے جلتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ، ان سے میری محبت واجب ہوگئی۔(الموطأ للامام مالک،کتاب الشعر،باب ماجاء فی المتحابین فی اللہ ، الحدیث: 1828 ،ج 2 ،ص 238)

(5) حقارت سے نہ دیکھنا : جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسے کے ساتھ نہ رہو جو تمہاری فضیلت کا قائل نہ ہو، جیسے تم اس کی فضیلت کے قائل ہو۔ ( یعنی جو تمہیں نظر حقارت سے دیکھتا ہو اس کے ساتھ نہ رہو یا یہ کہ وہ اپنا حق تمہارے ذمہ جانتا ہو اور تمہارے حق کا قائل نہ ہو۔) (حلیۃ الاولیاء ، رقم: 12335 ،ج 10 ، ص 22)

اللہ پاک ہمیں ان حقوق کو ادا کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


الحمدللہ رب العالمین ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اور مسلمان ہیں ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں وہ دین کامل کی رہنمائی ملی جس نے زندگی کے ہر موڑ پر ہر ایک کے لیے ایسے حقوق و فرائض بنائے کہ جس پر عمل کر کہ نہ صرف وہ بندہ خود کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ پورا معاشرہ ترقی کر سکتا ہے اور امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج ہم انہیں حقوق میں سے ہم نشینی کے حقوق پر کچھ گفتگو کریں گے ۔ ہم نشینی کے پانچ حقوق ملاحظہ کیجیے:

(1) اچھی گفتگو: پیارے اسلامی بھائیو جب کوئی ہمارا ہم نشین بنتا ہے تو ہمارا قریبی ہو جاتا ہے اور اس سے بے تکلفی خود بہ خود قائم ہو جاتی ہے اب ہمیں چاہیے کہ اگر کوئی ہمارا ہم نشین بنا ہے تو اس سے بے تکلفی میں حد سے تجاوز نہ کریں یعنی اس سے اچھی گفتگو کریں ایسا نہ ہو کہ ہم بے تکلفی میں اس کو گالیاں بکتے رہیں اس سے فحش گفتگو کریں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے مہذب انداز میں گفتگو کریں۔

(2) راز داری: اے عاشقانِ رسول ! یاد رکھیں کہ اس فانی دنیا میں رہتے ہوئے بعض اوقات ہم پر طرح طرح کے غم و آزمائشیں بھی آ جاتی ہیں تو اس صورت میں ہم اپنے ہم نشین کو دل کے غم سنا کر دل ہلکا کر لیتے ہیں اب ہمیں بھی چاہیے کوئی ہم سے اپنا دکھ شیئر کرے تو اس کو سن کے دوسرے کو نہ سناتے پھریں بلکہ اس کے راز و غم کو اپنے پاس امانت سمجھ کر رکھیں اور اس کے راز کسی کو نہ بتائیں۔

(3) سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا: صحبت اور گفتگو کا آغاز ہی سلام سے ہونا چاہیے اور یہ عمل حدیث پاک میں فرمایا گیا ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم جنت میں نہ جاؤ گے حتی کہ مؤمن بن جاؤ اور مؤمن نہ بنو گے حتی کہ آپس میں محبت کرو، کیا میں تمہیں اس پر رہبری نہ کروں کہ جب تم وہ کرلو تو اس میں محبت کرنے لگو ؟ فرمایا : اپنے درمیان سلام عام کرو ۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد 6 ، اچھی باتوں کا بیان ، حدیث نمبر 4631)

اسلامی معاشرت میں سلام کا رواج محبت ، اپنائیت اور اخوَّت کو بڑھاتا ہے ۔ جب ہم کسی مجلس میں داخل ہوں یا کسی اسلامی بھائی سے ملاقات کریں تو سلام کرنا اور اسکا جواب دینا ہمارا پہلا حق بنتا ہے ۔

(4) امر بالمعروف و نہی عن المنکر: پیارے اسلامی بھائیو ہمارے رہبر ہمارے خالق ہمارے مالک اللہ پاک نے ہمیں بھلائی کا کام کرنے اور برائی سے منع کرنے کا حکم دیا ہے، اب ہمیں چاہیے کہ جب کوئی ہمارا ہم نشین بنے تو اسے وقتاً فوقتاً نیکی کی دعوت دیں اور اگر اس میں کوئی برائی پائیں تو حکمت عملی کے ساتھ اس کو برائی سے منع کریں ۔اور ہم نشینی کا حق ادا کریں ۔

(5) اصلاح اعمال: اے عاشقانِ اولیاء! ہمارے اسلاف یعنی ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ علیھم اجمعین کا یہ حسین طریقہ کار ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے مریدین اور اہل محبت کو جو ان کے ہم نشین بنتے تھے ان کو نصیحت فرماتے اور ان کے اعمال کی اصلاح فرماتے تھے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے ہم نشین کے اعمال کی اصلاح کرتے ہوئے اس کو آقا کریم ﷺ کی سنتوں کے قریب کر دیں تب ہی ہم حقیقی طور پر اس کی ہم نشینی کا حق ادا کر پائیں گے۔

اے عاشقانِ رسول ! گزشتہ بیان کردہ حقوق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اپنے ہم نشین کے حقوق ادا کرنے چاہئیں اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے اس کے اعمال کی اصلاح بھی کرنی چاہیے تب ہی ہم حقیقی طور پر اپنے ہم نشین کا حق ادا کر پائیں گے ۔

اگر ہم اسلام کے بتائے ہوئے ان حقوق پر عمل کریں گے تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔

اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


مصاحبت اور ہم نشینی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی اہمیت کو قرآن و سنت میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انسان فطری طور پر معاشرتی مخلوق ہے، جو دوسروں کے ساتھ تعلقات اور تعلقات کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں معاشرتی روابط اور ہم نشینی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے۔

(1) قرآن کریم سے مصاحبت و ہمنشینی کے حقوق

قرآن میں دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ سلوک اور ہم نشینی کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ترجمۂ کنز الایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔(پ26، الحجرات: 10)

یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، ایثار، اور تعاون کا رشتہ ہونا چاہیے۔

(2) مصاحبت و ہم نشینی کے حقوق

اسلام میں مصاحبت و ہم نشینی کے کچھ اہم حقوق درج ذیل ہیں:

(۱) حسن سلوک: اسلام میں ہم نشینی کا اولین حق حسن سلوک ہے۔ چاہے آپ کا تعلق اپنے اہل خانہ، دوستوں یا کسی بھی دوسرے فرد سے ہو، آپ کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ یہ بات قرآن اور حدیث دونوں میں آئی ہے۔

(۲) ایک دوسرے کی مدد کرنا : دوسروں کے ساتھ مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی اسلام میں مصاحبت کا ایک اہم حق ہے۔

(۳) عیب پوشی اور معافی: ہم نشینی میں دوسروں کے عیبوں کو چھپانا اور معاف کرنا بہت ضروری ہے۔

(۴) حقوق کی پاسداری: ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا اور ان کی پاسداری کرنا بھی اسلام میں ہم نشینی کا اہم جز ہے۔ اس میں مالی حقوق، جسمانی حقوق اور اخلاقی حقوق شامل ہیں۔

(۵) صبر و تحمل: مصاحبت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا بھی ضروری ہے۔ زندگی کے مختلف مراحل میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ صبر سے پیش آنا پڑتا ہے، خصوصاً جب کسی کے ساتھ اختلافات یا مشکلات پیش آئیں ۔

(۶) معاشرتی ہم آہنگی اور برکت: مصاحبت و ہم نشینی کا مقصد صرف فرد کی فلاح نہیں، بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی ہے۔ جب افرد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے روابط میں حسن سلوک اختیار کرتے ہیں، تو معاشرہ بھی امن اور سکون کا گہوارہ بنتا ہے ۔

اسلام میں مصاحبت و ہم نشینی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، اور اس کے حقوق کی پاسداری ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں، حقوق کا خیال رکھیں، اور عیب پوشی کی کوشش کریں۔ جب ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں گے تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی، بلکہ پورا معاشرہ بھی امن و سکون کا گہوارہ بنے گا۔ان شاءاللہ

اللہ پاک ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے اور اسے انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی دوسروں کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ یہ تعلقات خاندانی ہوں یا معاشرتی، دوستی کی صورت میں ہوں یا پیشہ ورانہ، ہر شعبے میں باہمی میل جول، حسنِ سلوک اور رواداری ناگزیر ہے۔ اسی باہمی ربط و ضبط کی ایک نہایت اہم صورت مصاحبت و ہم نشینی ہے، یعنی کسی کے ساتھ وقت گزارنا، اٹھنا بیٹھنا اور ایک دوسرے کے معاملات میں شریک ہونا وغیرہ۔ دینِ اسلام نے مصاحبت اور ہم نشینی کے آداب و حقوق پر غیر معمولی تاکید کی ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو امن، محبت اور ہم آہنگی کا بہترین نمونہ ہو۔

قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں بہترین مصاحبت اور ہم نشینی کی تعلیمات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔

مصاحبت و ہم نشینی کے چند اہم اور جامع حقوق درج ذیل ہیں جن کی پاسداری سے باہمی تعلقات میں استحکام اور خیر و برکت پیدا ہوتی ہے:

(1) حسنِ اخلاق اور نرم گفتاری: ہم نشین سے ہمیشہ انتہائی حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے۔ بات چیت میں نرمی، شائستگی، اور ہر قسم کے ادب و آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے۔ سخت کلامی، بدتمیزی، بے جا تنقید اور جھوٹ سے مکمل پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ رویے تعلقات میں کڑواہٹ اور فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بدکلام اور بے حیا نہیں ہوتا۔(جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ ، باب ماجاء فی اللعن، حدیث نمبر: 1977، جلد: 4، صفحہ: 349)

(2) عزت و احترام اور قدر دانی: ہر ہم نشین کی عزت کرنا اور اس کے مقام و مرتبے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس کی رائے کو اہمیت دینا، اسے حقیر نہ سمجھنا اور اس کی ذات کا احترام کرنا مصاحبت کا بنیادی اصول ہے۔ اس کی بات کو توجہ سے سننا اور مناسب جواب دینا چاہیے وہ آپ کے ہم پلہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ یہ باہمی احترام کا تقاضا ہے۔

(3) عیب پوشی، خیر خواہی اور نصیحت: ہم نشین کے عیوب اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنا اور انہیں دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرنا، اس کے حقوق میں سے ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کی تعریف کرنا، اس کے حق میں بھلائی کی دعا کرنا اور اسے بہترین الفاظ میں یاد کرنا نیک مصاحبت کی علامت ہے۔ اگر کوئی ہم نشین کسی غلطی یا گمراہی کا شکار ہو تو اسے حکمت، محبت اور نرمی سے نصیحت کی جائے، نہ کہ رسوا کرنے والے انداز میں ۔

(4) مالی و جانی تعاون اور غمگساری: ضرورت پڑنے پر ہم نشین کی مالی اور جانی مدد کرنا بھی مصاحبت کے اہم حقوق میں شامل ہے۔ بیماری، پریشانی، مالی تنگی یا کسی بھی مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا، غم بانٹنا اور حسبِ استطاعت ہر ممکن تعاون کرنا انسانیت کا تقاضا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مومن آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، جب جسم کا کوئی حصہ دکھتا ہے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب رحمۃ الناس و البھائم، حدیث نمبر: 6011، جلد: 8، صفحہ: 8؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفھم، حدیث نمبر: 2586، جلد: 4، صفحہ: 1999)

(5) حقوق کی پاسداری اور بدگمانی سے پرہیز: ہم نشین کے حقوق کا ہر حال میں خیال رکھنا، اس کے لیے وہی پسند کرنا جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور ہر طرح کی بدگمانی سے بچنا اشد ضروری ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ (پ26، الحجرات:12)

اس آیت میں بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو ہم نشینوں کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ اور فساد کا باعث ہے۔

(6) امانت داری اور راز داری کی پاسبانی: ہم نشین کی امانتوں کی حفاظت کرنا اور اس کے رازوں کو فاش نہ کرنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر کسی نے آپ پر بھروسہ کر کے کوئی ذاتی یا حساس بات بتائی ہے تو اسے ہرگز کسی دوسرے کے سامنے ظاہر نہ کریں، کیونکہ یہ خیانت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: مجلسیں امانت ہوتی ہیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی نقل الحدیث، حدیث نمبر: 4868، جلد: 4، صفحہ: 308؛ جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ ، باب ماجاء فی المجالس بالأمانۃ، حدیث نمبر: 1946، جلد: 4، صفحہ: 326)

(7) معافی، درگزر اور رواداری: اگر ہم نشین سے کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد ہو جائے تو اسے معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے۔ انتقام کے بجائے صلح صفائی ، برداشت اور اعلیٰ ظرفی سے کام لینا چاہیے۔ اسلام ہمیں معافی اور عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔ (پ9، الاعراف: 199)

مصاحبت و ہم نشینی ایک ایسا عظیم تعلق ہے جس کی بنیاد مضبوط اخلاقی اصولوں، باہمی احترام، سچی خیر خواہی اور رواداری پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم ان حقوق کی پاسداری کریں، اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں تو ہمارے باہمی تعلقات مستحکم ہوں گے، معاشرہ ایک پر امن اور محبت بھری فضا کا گہوارہ بن جائے گا اور ہم دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین مصاحبت اور ہم نشینی کے آداب و حقوق کو احسن طریقے سے بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو فرد کی نجی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان کی فطرت میں سماجی تعلقات یعنی میل جول، صحبت اور ہم نشینی شامل ہے۔ چونکہ انسان کا دوسرے انسانوں سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے، اس لیے اسلام نے "مصاحبت" اور "ہم نشینی" کے بھی خاص آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرے میں امن، محبت، اور باہمی احترام قائم رہے۔

(1) حسنِ اخلاق اور خوش زبانی: اسلام نے مصاحبت کے وقت”حسنِ اخلاق“ کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(پ1، البقرۃ: 83)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَن كانَ يُؤْمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ، فليَقُلْ خَيْرًا أو لِيَصْمُتْ "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے" (صحیح بخاری: 6136)

یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نشینی میں زبان کا نرم استعمال لازم ہے۔

(2) سلام اور خیرمقدم کا حق: اسلامی معاشرت میں سلام کو رواج دینے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ دلوں کو جوڑتا ہے۔أفشوا السلام بينكم "آپس میں سلام کو عام کرو" (صحیح مسلم: 54)

ہم نشینی کی ابتدا سلام سے ہو اور دوسروں کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا جائے، یہ محبت کو بڑھاتا ہے۔

(3) مجلس کے آداب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا يُقيمُ الرَّجلُ الرَّجلَ مِن مجلسِه، ثمَّ يجلسُ فيه "کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے" (صحیح بخاری: 6270)

مجلس میں سب کو برابری کا حق حاصل ہے۔ کسی کو نیچا دکھانا، طنز کرنا یا مذاق اڑانا سخت منع ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔ (پ26،الحجرات: 11)

(4) غیبت اور عیب جوئی سے گریز: مصاحبت اور ہم نشینی کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے عیب چھپائے جائیں، ان کی غیر موجودگی میں ان کی عزت کی حفاظت کی جائے۔ وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- ترجمہ کنزالایمان:ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔(پ26، الحجرات:12)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:من ستر مسلمًا ستره الله في الدنيا والآخرة "جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا" (صحیح مسلم: 2580)

(5) امانت داری: ہم نشینی میں کی گئی گفتگو کو دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:المجالس بالأمانة "مجالس امانت ہوتی ہیں" (سنن أبو داود: 4868)

کسی کی بات کو اس کی اجازت کے بغیر دوسروں تک پہنچانا گناہ ہے۔

(6) سچائی، اخلاص اور خیر خواہی: اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نشینی میں دھوکا، فریب، جھوٹ یا دوغلا پن نہ ہو بلکہ سچائی اور خیر خواہی ہو۔الدِّينُ النَّصِيحَةُ "دین تو خیر خواہی کا نام ہے" (صحیح مسلم: 55)

سچے مسلمان کی صحبت دوسروں کے لیے باعثِ رحمت اور خیر کا ذریعہ ہوتی ہے۔

(7) مشکلات میں ساتھ دینا: مصاحبت کا ایک اہم حق یہ ہے کہ خوشی و غم میں ایک دوسرے کے ساتھ دیا جائے۔ حدیث شریف میں ہے:المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً "مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتا ہے" (صحیح بخاری: 2446)

مصاحبت اور ہم نشینی محض وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باہمی ذمہ داری اور تعلق ہے، جسے اسلامی آداب کے مطابق نبھایا جائے تو معاشرہ امن، محبت، بھائی چارے اور خلوص کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخلاق، گفتگو، رویے اور طرزِ نشست سے دوسروں کو راحت پہنچائیں اور ان کے حقوق کا مکمل خیال رکھیں۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو حسنِ اخلاق اور عدل و انصاف سے منظم کرتا ہے۔ ان پہلوؤں میں "مصاحبت" یعنی ساتھ بیٹھنا بھی شامل ہے۔ آج کے تیز رفتار، ڈیجیٹل دور میں جہاں انسان حقیقی روابط سے کٹتا جا رہا ہے، وہاں "مصاحبت کے حقوق" کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ آئیے ہم ان حقوق کو جانتے ہیں اور احادیث سے واضح کرتے ہیں :

آئیے ہم احادیث مبارکہ سے واضح کرتے ہیں :

(1) اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی۔(سنن ابی داود، كتاب الادب، باب فی التناجی، الحديث: ٤٨٥١، ج 4، ص ٣٤٦)

(2) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔(سنن ابی داؤد، کتاب آداب، چکر لگانے کا باب، حدیث: 4825، جلد 4، صفحہ 339)

(3) مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرکا جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔)(اہل ایمان، قریب آنے کا باب ... اپنے ساتھی کے لیے کھڑے ہونے والے شخص کا حصہ، حدیث 8933 - 6 - صفحہ 468)

(4) حضرت ابن عمر رضی لله تعالی عنہا نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے ۔ اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فعل کمال درجہ کی پر ہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو ) ۔(صحیح البخاری، کتاب طلب اجازت، باب: اگر آپ کو بتایا جائے... وغیرہ، حدیث 06270، جلد 4، صفحہ 179)

مصاحبت کا حق صرف ساتھ بیٹھنے یا ہنسنے بولنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ دل کی پاکیزگی، زبان کی نرمی، اور خلوص پر مبنی رشتہ ہے۔ اگر ہم اپنے ہر تعلق میں ان اصولوں کو اپنائیں تو معاشرہ امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔چاہے مجلس ہو یا میٹنگ، کلاس روم ہو یا چیٹ روم ہر جگہ اسلامی ادبِ مصاحبت کی ضرورت ہے۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں اور احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامینﷺ