شوہر کی نافرمانی آج کل ہرعورت کا معمول بن چکی ہے۔ اگر شوہر کسی چیز سے اپنی بیوی کو روکیں تو بیوی اسے ایسا سناتی ہے کہ شوہر خود ہی خاموش ہو جاتا ہے الله پاک نے شوہر کو بہت ہی بلند مقام عطا فرمایا ہے اگر ہر عورت کو اس بات کا علم ہو جائیں کہ شوہر کی نافرمانی کی الله پاک کی بارگاہ میں کیا سزا ہے تو کوئی بھی بیوی اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کرے، جب آپ معراج شریف پر گئے تو آپ نے جنت اور جہنم کی سیر کی تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے جہنم میں سب سے زیادہ عورتوں کو دیکھا تو میں نے اللہ پاک سے پوچھا کہ ایسا کونسا گناہ کیا ہے ان عورتوں کو یہ عذاب ملا تو الله تعالی نے فرمایا کہ یہ عورتیں اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی تھی ساری زندگی ان کے ساتھ رہنے کے بعد بھی یہ کہتی تھی کہ تو نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے تو نے آج تک مجھے دیا ہی کیا وہ اپنے شوہر کی بے قدری کیا کرتی تھیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے وہ جہنمی ہے اور جہنم میں سب سے زیادہ عورتیں ہوں گی وہ بھی اپنے شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے اس لیے عورتوں کو چاہیے اپنے شوہر کی نافرمانی سے بچیں۔آج کل شوہر اگر تھکا ہارا کام سے واپس اپنے گھر کو لوٹتا ہے تو بیوی اسے پانی پوچھنے کی بجائے اسے سکون دینے کی بجائے آگے سے شکایتیں کرنا شروع کر دیتی ہے کہ آج تیری ماں نے یہ کیا تیری بہن نے یہ کیا جب سے میری تیرے ساتھ شادی ہوئی ہے تو نے میری زندگی عذاب کر دی ہے تو نے تو میری زندگی جہنم بنادی ہے میں تجھ سے شادی کر کے پچھتا رہی ہوں وغیرہ تو شوہر اس وقت ٹوٹ جاتا ہے اور اس وقت اللہ پاک سخت ناراض ہوتا ہے عورت اگر سارا دن بھر میں تھوڑا سا کام کرے تو وہ سارا دن جتلاتی ہے آج میں نے یہ کیا وہ کیا لیکن شوہر اگر سارا دن بھی تھکا ہوا ہو تو گھر واپس آئے تو اس کی بیوی اس سے یہ پوچھ لے کہ آپ کیسے ہو تو شوہر کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے۔

احادیث شریف میں آتا ہے: اگر میں کسی کوحکم دیتا ہے کہ خدا کے بعد اگر کسی دوسرے کو سجدہ کریں تو وہ عورت کو حکم دیتا کہ اپنے کے شوہر کو سجدہ کریں لیکن چونکہ غیر کو خدا کو سجدہ حرام ہے اس لیے ایک عورت اپنے شوہر کو سجدہ نہیں کرتی البتہ اس کے لیے اپنے شوہر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)