شوہر
کو اللہ نے بڑا بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے لہذا بیوی کو چاہیے کہ اپنے زوج کی عزت و
احترام کرے اس کا ادب کرے اس کی نافرمانی ہرگز نہ کرے کہ جو بیوی اپنے شوہر کی
نافرمانی کرتی ہے اس کی بات نہیں مانتی اس پر لعنت برستی رہتی ہے عورت اگر شوہر کا
حکم نہ مانے گی اللہ کا قہار کے غضب میں گرفتار ہوگی جب تک شوہر ناراض رہے گا عورت
کی کوئی نماز قبول نہ ہوگی اللہ کے فرشتے عورت پر لعنت کریں گے اگر طلاق مانگے گی
ضافقہ ہوگی اور جو لوگ عورت کو شوہر کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان
بگاڑ پر ابھارتے ہیں وہ شیطان کے پیارے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 22/217)
اللہ قرآن
مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى
النِّسَآءِ (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں
عورتوں پر ۔
لہذا
عورت کو مرد کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہے اس کے بجائے اگر عورت چاہے کہ شوہر
میری مانے اور میرا فرمانبردار ہو تو یہ درست نہیں جائز درخواستیں اور فرمائشیں
مثلا طرح طرح کے کھانوں نت نئے ڈیزائن کے کپڑوں وغیرہ وغیرہ کے طلب پوری کرنا شوہر
پر واجب نہیں واجب صرف نان نفقہ ہے البتہ اگر شوہر دیگر فرمائشیں بھی پوری کرتا ہے
تو یہ بیوی پر احسان ہوگا۔
شوہر
کی نافرمانی کرنے والوں کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی ان کے لیے دنیا میں بھی خسارہ
ہے اور آخرت میں بھی۔ آقا ﷺ نے فرمایا: تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی نہ
کوئی نیکی آسمان کو چڑھے نشے والا جب تک ہوش میں آئے اور عورت جس سے اس کا خاوند
ناراض ہو یہاں تک کہ راضی ہو جائے اور بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کی طرف پلٹ
کر اپنے آپ کو ان کے قابو میں دے۔
ایک
زوجہ پر ضروری ہے اور شوہر کے حقوق میں سے ہے کہ وہ اپنے زوج کی فرمانبرداری کرے
اس کا ہر حکم مانیں اس کی اطاعت کرے حق کے زوجیت کا خاص خیال رکھے جیسا کہ ہمارے
پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جب شوہر عورت کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ بغیر عذر
کے انکار کر دے اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت
بھیجتے ہیں۔ (بخاری، 2/377 ، حدیث: 3237)
عورت
پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس اور گھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھے میلی
کچیلی نہ رہے بلکہ اپنے شوہر کے لیے خوب بناؤ سنگھار کرے کہ اس سے شوہر کا دل خوش ہوتا
ہے
حدیث
پاک میں شوہر کو خوش رکھنے والی عورت کو بہترین عورت کہا گیا ہے۔ آقا ﷺ نے فرمایا:
یعنی اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو اپنے ظاہری اور باطنی حسن و جمال سے اسے خوش کر
دے۔(سنن کبریٰ للنسائی،5/ 310،حدیث: 8961)
اسی
طرح جو عورت نافرمان ہو اور اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہو جو اس کے شوہر کو
ناراض کرنے کا باعث ہے وہ عورت جنت کی خوشبو نہیں پائے گی یعنی نافرمانی سے محروم
ہو جائے گی۔
شوہر
کی نافرمانی سے بچنا چاہیے کہ بزرگان دین بھی اگر اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے تو
انہیں شوہر کی فرمانبرداری کرنے کی نصیحتیں کیا کرتے تھے، جیسا کہ ایک تابع بزرگ
حضرت عبد المالک بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: جب عوف بن ملحم شیبانی نے
اپنی بیٹی کی شادی ایاس بن حارث کندی سے کی تو بیٹی کو تیار کیا گیا اور رخصتی کے
وقت لڑکی کی والدہ امامہ اس سے نصیحت کرنے کے لیے اس کے پاس آئی اور کہنے لگی
پیاری بیٹی! اگر اس بنیاد پر کسی کو نصیحت نہ کرنا درست ہوتا کہ وہ ادب میں اعلی
مقام اور حسب نسب بھی عالی شان رکھتا ہے تو میں تجھے بھی نصیحت نہ کرتی لیکن ایسا
نہیں نصیحت ایسی چیز ہے جو غافل کی غفلت دور کر دیتی ہے اور سمجھدار کے لیے سوجھ
بوجھ کا ذریعہ بنتی ہے اے بیٹی اگر باپ کی مالدار ہونے کی بنا پر یا بیٹی کو باپ
کی سخت ضرورت ہونے کی وجہ سے کوئی اور شوہر سے بے نیاز ہو سکتی تو سب سے زیادہ بے
نیاز ہوتی ہے مگر ایسا نہیں ہے عورتیں پیدا ہی مردوں کے لیے کی گئی ہیں جیسے مرد
عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں بیٹی جس ماحول میں تیری پیدائش ہوئی ہے اور جس
گھونسلے میں تو نے پرورش پائی تو اسے خیر باد کہہ کر ہی ایسی جگہ جا رہی ہے جس سے
تو انجان ہے اور ایسے ساتھی کی طرف جا رہی ہے جس سے تو نہ مانوس ہے وہ تجھ پر اپنی
ملکیت کے سبب بادشاہ بن گیا تو اس کی لونڈی فرمانبردار بن جانا وہ تیرا غلام
تابعدار ہو جائے گا اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے نصیحت کی، اپنے شوہر کے راز فاش مت
کرنا کسی بھی حال میں اس کی نافرمانی نہیں کرنا اگر تو نے اس کے راز فاش کیے تو اس
کی بے وفائی سے بچ نہیں سکے گی اور اگر نافرمانی کرے گی تو اس کا سینہ غصے سے بھر
کے بھڑک اٹھے گا۔ (بیوی کو کیسا ہونا چاہیے، ص 26)