
عائلی
زندگی، اسلام میں ایک مقدس تعلق ہے جسے استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر
استوار کیا گیا ہے۔ اسلام نے شوہر اور بیوی کے درمیان حقوق و فرائض کی وضاحت کرکے
ایک مثالی ازدواجی زندگی کی طرف رہنمائی کی ہے۔ بیوی پر یہ لازم ہے کہ وہ شوہر کی
اطاعت کرے، جب کہ شوہر پر یہ لازم ہے کہ وہ بیوی کی ضروریات اور خوشیوں کا خیال
رکھے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ تاہم، شوہر کی نافرمانی کے موضوع پر اکثر ایک
سخت اور یکطرفہ نظر ڈالی جاتی ہے، جب کہ اس مسئلے کے مختلف پہلو بھی غور طلب ہیں۔
شوہر کی نافرمانی کے اسباب: شوہر کی نافرمانی کئی اسباب کی
بنا پر ہوسکتی ہے:
1۔ گھریلو مسائل اور غلط فہمیاں: بعض اوقات غلط
فہمیوں، سماجی یا معاشی دباؤ یا دیگر گھریلو مسائل کی وجہ سے ازدواجی تعلقات میں
تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔
2۔ شوہر کا غیر متوازن رویہ: اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ
انصاف نہ کرے، سخت رویہ اپنائے، یا اپنے فرائض میں کوتاہی کرے، تو بیوی کا ردعمل
بھی منفی ہوسکتا ہے۔
3۔ تعلیمی اور معاشرتی فرق: اگر بیوی اور شوہر کی تعلیمی یا
سماجی سطح میں فرق ہو تو اس کی وجہ سے بھی بعض اوقات نافرمانی اور عدم اطاعت کی صورت
پیدا ہوسکتی ہے۔
اسلام
میں ازدواجی زندگی کو حسن سلوک اور محبت سے گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ-(پ 4،
النساء: 19) ترجمہ: اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔
رسول
اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر
سلوک کرتا ہے۔

شریعت
مطہر ہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے،بیوی کا شوہر کی
نافرمانی کرنا،اس کو تکلیف پہنچانا،بچوں کو اس کے خلاف ورغلانا شرعا ناجائز و حرام
ہے،آپ ﷺ نے متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کو لازم قراردیا ہے اور
نافرمانی پر سخت وعیدات ارشاد فرمائیں ہیں
قرآن کریم
میں ادشاد باری تعالیٰ ہے: فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى
وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً (پ 4،
النساء: 3) ترجمہ:اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہونکاح کرلو،دودوعورتوں سےاور تین تین
عورتوں سے اورچار چار عورتوں سے،پس اگر تم کو احتمال ہو کہ عدل نہ رکھو گےتو پھر
ایک ہی بی بی پر بس کرو۔
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:جب عورت (بغیر کسی وجہ
کے) اپنے شوہر کے بستر سے علیحدہ ہو کر رات گذارتی ہے،تو جب تک وہ عورت (شوہر کی
طرف)واپس نہ آجائے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث:
5193)
عورت
ہرگز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے۔ آج کل خواتین
اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں۔ انہیں اس حدیث پاک سے عبرت
حاصل کرنی چاہیے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق
استفسار کیا گیا تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔
(بخاری،3/463، حدیث:5197)
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:اگر میں کسی کو (خدا تعالی کے علاوہ)کسی (اور) کے سامنے سجدہ
کرنے کا حکم کرتا تو بیوی کو خاوند کہ سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا۔ (ابن ماجہ،2/411،
حدیث: 1853)
حضرت
عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں:میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے
آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس جہنم میں عرتوں کو مردوں کی نسبت
زیادہ پایا لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں؟ تو آپ نے بتایا کہ انکے کفر
کی وجہ سے کہا گیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا کفر کرتی ہیں؟ رسول ﷺ نے فرمایا:وہ
خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگرچہ آپ ان میں سے کسی کہ
ساتھ زمانہ بھر احسان کریں،پھر وہ آپ میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہیں
میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15، حدیث:29)
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب عورت بغیر کسی
وجہ کے اپنے شوہر کے بستر سے علیحدہ ہو کر رات گزارتی ہے تو جب تک وہ عورت شوہر کی
طرف واپس نہ آ جائے
فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)

اللہ
اور اس کے رسول ﷺ کے بعد عورت پر جس بندے کی اطاعت و فرمانبرداری کرنالازم قرار
دیا گیا ہے وہ اس کا شوہر ہے اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کرنے کا
حکم دیا گیا ہے مرد کو عورت پر حاکم و نگہبان بنایا گیا ہے، جیسا کہ اللہ پاک قرآن
مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى
النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا
مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ
اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں
عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں
نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت
رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
اس
آیت سے ایک بات یہ واضح ہے مرد کو عورت پر ترجیح حاصل ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ
میں بھی شہوہر کی اطا عت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
1۔️اگر
شوہر بیوی کو کسی کام سے منع کر دے تو بیوی پر اس کی بات ماننا لازم ہے شرط یہ کہ
وہ شریعت کے خلاف نہ ہو حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کے
سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی،
2/386، حدیث: 1162)
اس سے
معلوم ہوا کہ عورت کے لیے شوہر کی فرمانبرداری میں ہی دنیاوآخرت کی کامیابی ہے۔
لہذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے کا حکم مانے اور اس کی نا فرمانی سے بچے۔
کیونکہ شوہر کی رضا میں رب تعالی کی رضا اور نافرمانی میں رب تعالیٰ کی نافرمانی
پوشیدہ ہے۔
2۔️شوہر
کی ناراضی اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے، ناراض شوہرجب تک بیوی سے راضی نہ ہو، اللہ
اس سے ناراض رہتا ہے۔ (مسلم، ص 853، حدیث: 1436)
3۔️
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شوہر جب اپنی بیوی کو بلائے اور وہ نہ آئے اس بنا پر شوہر
رات بھر اس سے ناراض رہے تو اس پر صبح تک فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/377 ،
حدیث: 3237)
4۔ ایسی
عورت پر فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ اگر وہ شوہر کی اجازت کے بغیر جائے اور اسکے شوہر کو
ناگوار گزرے تو جب تک وہ پلٹ کر واپس نہ آئے آسمان میں ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے
اور جن و آدمی کے سوا جس جس چیز پر گزرے سب اس پر لعنت کریں۔ (معجم اوسط، 6/408،
حدیث: 9231)
5۔️
دنیا میں جب کوئی عورت اپنے شوہر کو ستاتی ہے تو جنت میں موجود اس کی خوبصورت آنکھوں
والی حورعین بیویاں اس کی دنیاوی بیوی سے کہتی ہے کہ تیرا ستیاناس ہو اس کو مت ستا
یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے اور جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آنے
والا ہے۔(ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)

جب
مرد اور عورت شادی کے ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت کی جانب سے ان پر ایک
دوسرے کے حقوق عائد ہو جاتے ھیں لہذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ہر حکم پر
لبیک کہے اور اس کی نا فرمانی سے بچے۔ کیونکہ شوہر کی رضا اور نافرمانی میں رب
تعالیٰ کی رضا اور نافرمانی پوشیدہ ہے قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ میں متعدد جگہ
ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیشہ شوہر کی
نافرمانی سے بچا جائے۔
اَلرِّجَالُ
قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ
بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ
لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے
کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے
مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس
طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
اس
آیت سے ایک بات یہ واضح ہوئی کہ میاں بیوی کے حقوق ایک جیسے نہیں بلکہ مرد کے حقوق
عورت سے زیادہ ہیں اور ایسا ہونا عورت کے ساتھ نا انصافی یا ظلم نہیں بلکہ عین
انصاف اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے۔
1۔ حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ فرماتے ہیں: شوہر نے عورت کو بلایا اس نے
انکار کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے
رہتے ہیں۔ (بخاری، 2/388، حدیث:3237)
2۔ حضرت
معاذ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا
دیتی ہے تو حور عین کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے،اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس
مہمان ہے،عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی، 2/ 392، حدیث:1177)
3۔ طبرانی
معاذ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: عورت ایمان کا مزہ نہ پائے گی جب تک
حق شوہر ادا نہ کرے۔ (معجم کبیر، 20/52، حدیث:90)
4۔ ایک
روایت میں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: اے عورتو! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا
مندی کی تلاش میں رہو اس لئے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو
تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔ (کنز العمال، 2/145، حدیث:44809)
5۔
رسول الله ﷺ نے فرمایا: تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی
نیکی بلند نہیں ہوتی: (1) بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ نہ آئے اور
اپنے کو انکے قابو میں نہ دے دے (2) وہ عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو (3) نشہ
والا جب تک ہوش میں نہ آئے۔ (شعب الایمان، 6/417، حدیث:8727)
یہ
چند احادیث مبارکہ ذکر کی گئی ہیں کہ عورت پر حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کی نافرمانی
سے بچے۔ جو عورت اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ یاد
رہے! شوہر کو ناراض کر کے یا اسکی نافرمانی کر کے الله کی ناراضگی کا وبال اپنے سر
نہ لے کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے نہ دنیا میں چین نہ آخرت میں راحت۔
لہذا
تمام نیک بیویوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کریں، ان کے
حقوق کی ادائیگی میں مصروف رہا کریں، ان کی نافرمانی سے بچتی رہا کریں اور جب وہ
گھر موجود نہ ہوں تو الله کے فضل سے ان کے مال اور عزت کی حفاظت کرتی رہیں۔

جب
ایک مرد اور عورت شادی کے بعد ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے لیے
میاں بیوی کے حقوق رکھتے ہیں جو کہ دونوں کو ہر صورت ادا کرنے ہوتے ہیں تو آجکل جو
کہ زیادہ تر دیکھا جا رہا ہے کہ مرد تو اپنے حقوق پورے کرنے کی کوشش میں رہتا ہے
لیکن اگر کبھی قسمت ساتھ نہ دے تو بیوی اسے طرح طرح کے طنز و طعن کستی ہے لیکن
اصولا بیوی کو چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں شوہر کا ساتھ دے لیکن وہ ساتھ دینے کی
بجائے اس کی نافرمانی پر اتر آتی ہے حالانکہ ہمارا اسلام اس بات کی بالکل اجازت
نہیں دیتا کہ شوہر کی نافرمانی کی جائے درحقیقت شریعت اسلامیہ میں میاں بیوی دونوں
پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں اور بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی رضا میں
راضی رہے اور کبھی اس کی نافرمانی نہ کرے چونکہ شوہر کی رضا اور نافرمانی میں اللہ
کی رضا اور نافرمانی پوشیدہ ہے اسلام میں اللہ اور رسول ﷺ کے بعد عورت پرسب سے
زیادہ حق مرد کا ہے اسی طرح شوہر کے حقوق کا ذکر اللہ پاک نے قرآن پاک میں کئی
مرتبہ کیا ہے۔ چنانچہ
قرآن پاک
میں ارشاد ہوتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا
فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ
اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ
اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں
عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں
نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت
رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
جیسا
کہ آیت مبارک سے بھی معلوم ہوا کہ مرد وعورت کو ایک دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے تو
آئیے اس کے بارے میں چند احادیث مبارکہ بھی ملاحظہ کر لیتے ہیں کہ کیوں کر بیویوں
کو شوہروں کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
1۔ شوہر کی رضا: شادی کے بعد عورت کو شوہر کو راضی
رکھنا چاہیے۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے جنتی عورتوں کی پہچان کے حوالے سے ارشاد
فرمایا: ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت جب وہ شوہر کو ناراض کر
دے یا اسے تکلیف دی جائے یا اسکا شوہر اس پر غصہ کرے تو وہ (عورت) کہے کہ میرا یہ
ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک سوؤں گی نہیں جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں۔ (معجم
صغير، 1/64: حديث:118)
2۔ نفلی روزے نہ رکھے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی
موجودگی میں نفلی روزہ رکھے البتہ اپنے شوہر کی اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے اور نہ
ہی اسکی اجازت کے بغیر کسی شخص کو اسکے گھر میں آنے دے۔ (فیضان رياض الصالحين،
3/496، حديث:282)
3۔ شوہر کا حکم: اگر کوئی شخص اپنی حاجت کیلئے اپنی
بیوی کو بلائے تو وہ آجائے اگرچہ وہ تنور پر روٹیاں کیوں نہ پکا رہی ہو۔ (ترمذی،
2/386، حدیث:1163)
4۔ امانت کی حفاظت: شوہر کا مکان اور مال و سامان یہ سب
شوہر کی امانتیں ہیں اور بیوی ان کی امین ہے۔ اگر عورت نے جان بوجھ کر نقصان کر
دیا تو عورت پر خیانت کا گناہ لازم آئے گا اور خدا کا عذاب ہوگا۔ (جنتی زیور، ص 51)
5۔ شوہر کو خوش رکھنا: عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم، لباس
اور گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کیلیے بناؤ سنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل
خوش رہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی یہ بیان فرمائی کہ اگر اسکا
شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حديث: 2857)

حقوق
زوجیت کے حوالے سے روایات میں بہت سے حقوق بیان کیے گئے ہیں ہماری اکثریت اس سے نا
آشنائی کی وجہ سے ان حقوق کو ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے آئیں ہم سنتی ہیں کہ آیت
مبارکہ اور حدیث مبارکہ میں شوہر کی نافرمانی پر کیا مذمت آئی ہے تاکہ ہم ان
نافرمانیوں سے بچ کر ثواب کا خزانہ حاصل کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: فَالصّٰلِحٰتُ
قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: تو نیک بخت
عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا
حکم دیا ۔
حدیث
مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب
خاوند اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے چنانچہ خاوند ناراضگی کی حالت میں
رات گزارے تو اس عورت پر فرشتے صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔(بخاری، 3/462، حدیث:
5193)
اس سے
یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر تو عورت کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے شوہر کے پاس نہیں آتی
تو اس صورت میں اس پر لعنت نہیں ہوگی۔
صحیحین
کی ایک روایت میں ہے کہ جب عورت خاوند کے بستر سے علیحدہ رات گزار دے تو فرشتے صبح
تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں بشرط کہ خاوند کو اس کی علیحدگی ناپسند ہو۔ (بخاری،
3/462، حدیث: 5193)
ایک
روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری
جان ہے کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو آسمان
والی ذات اللہ تبارک و تعالی اس عورت سے اس وقت تک ناراض رہتی ہے جب تک خاوند اس
سے راضی نہ ہو جائے۔(بخاری، 3/462، حدیث: 5193)
عورت
شرعی مجبوری کی وجہ سے ہی جدا ہے مگر اسے چاہیے کہ اپنے شوہر کی اصلاح بھی کرے کہ
فلاں مسئلے کی وجہ سے میں انکار کر رہی ہوں احسن طریقے سے اپنے شوہر کی رہنمائی
کرے کہ جو کام میٹھی زبان سے ہوتا ہے وہ سخت زبان سے نہیں ہو سکتا۔
ایک
روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی
عورت کا خاوند موجود ہو تو اس کے لیے اس کی اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا جائز
نہیں اور وہ کسی کو اس کی اجازت کے بغیر گھر نہ آنے دے۔ (فیضان رياض الصالحين،
3/496، حدیث: 282)
یہاں
شوہر کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شوہر کے حقوق کس قدر بلند
ہیں کہ عبادت جو کہ اللہ کے لیے ہے اسے بھی عورت شوہر کی مرضی کے بغیر ادا نہیں کر
سکتی۔ عبادت سے مراد نفل عبادت فرض میں شوہر کی نافرمانی جائز ہے۔
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جب خاوند بیوی کو اپنے نفسانی حاجت کے لیے بلائے تو اسے آنا
چاہیے اگرچہ تنور پر ہی کیوں نہ ہو۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1163)
حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی عورت
دنیا میں اپنے شوہر کو ایذا پہنچاتی ہے تو حور عین اس کی بیوی سے کہتی ہے اللہ
تجھے ہلاک کرے اسے نہ ستا۔وہ تمہارے پاس ہیں عنقریب وہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس
آئے گا۔ (ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)
نیک
مرد کو جنت میں حور ملے گی تو اس نیک مرد کی حور اس شخص کی بیوی سے کہتی ہے اسے نہ
ستا کہ یہ عنقریب تجھ سے جدا ہو کر مجھے مل جائے گا اور عورتوں کے حوالے سے ہے کہ
اگر وہ جنت میں چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہے اگر وہ نیک ہے ورنہ کوئی اور نیک
مرد انہیں عطا کیا جائے گا۔

جب
ایک عورت شادی کہ رشتہ میں آ جاتی ہے تو اب اس کے لئے سب سے زیادہ جو اس کے اوپر
حقوق ہیں وہ اس کے شوہر کے ہیں۔اب وہ عورتیں جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے اپنے
شوہر سے جگھڑا کرے وہ سوچے کہ میں کس راستے پر جارہی ہوں۔اللہ اور اس کے رسول کی
ناراضگی والا رستہ اختیار کر رہیں ہوں،آپ ﷺ نے متعدد احادیث میں عورت پر اپنے
شوہر کی اطاعت کو لازم قراردیا ہے اور نافرمانی پر سخت وعیدات ارشاد فرمائیں ہیں،چنانچہ
حدیث شریف میں ہے:
وعن
أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد
لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» رواه الترمذي
(مشكاة
المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)
ترجمہ:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو (خداوندتعالیٰ کے علاوہ)کسی (اور)کے سامنے سجدہ
کرنے کاحکم کرتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنےکاحکم کرتا۔
حدیث
شریف میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے
ہیں:میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس
(جہنم) میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ
وہ کیوں؟ تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے، کہا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر
کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی
ہیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کریں، پھر وہ آپ میں کوئی
ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہے میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15،
حدیث:29)
صحیح
بخاری میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جب
عورت (بغیر کسی وجہ کے) اپنے شوہر کے بستر سے علیحدہ ہو کر رات گذارتی ہے،تو جب تک
وہ عورت (شوہر کی طرف)واپس نہ آجائے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (بخاری،
3/462، حدیث: 5193)

ہمارا
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس میں ہر شخص کی رہنمائی کی گئی ہے کہ وہ کس
طرح زندگی گزارے۔اسلام نے عورت کو بھی زندگی گزارنے کے کچھ اصول عطا فرمائے ہیں۔جس
طرح عورت پر ماں باپ کی اطاعت لازم ہے اور ان کی نافرمانی گناہ ہے اسی طرح عورت پر
شوہر کی فرمانبرداری لازم ہے اور اس کی نافرمانی پر اس کو سزا ملے گی۔شریعت مطہرہ
نے شوہر کے کچھ حقوق عطا فرمائے ہیں۔اگر عورت ان حقوق کو ادا نہ کرے گی تو وہ شوہر
کی نافرمانی کرے گی۔
شوہر
کے حقوق اللہ نے قرآن پاک میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے: فَالصّٰلِحٰتُ
قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: تو نیک بخت
عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا
حکم دیا ۔
حدیث
مبارکہ میں اس عورت پر جس کا شوہر اس سے ناراض ہو اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے
لعنت وارد ہے۔ حدیث مبارکہ میں فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف
بلائے اور وہ اس کے پاس نہ جائے اور وہ شخص رات بھر اس سے ناراض رہے تو فرشتے صبح
تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)
حدیث
مبارکہ میں فرمایا گیا ہے: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب کوئی
شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر آنے کے لیے کہے اور وہ عورت انکار کر دے تو جو ذات
آسمان میں ہے یعنی جس کی قدرت آسمان میں بھی ہے وہ اس عورت سے اس وقت تک ناراض
رہتی ہے جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہیں ہو جاتا۔
اس
حدیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ اگر عورت شوہر کی نافرمانی کرے گی
یعنی اگر شوہر اس سے ناراض ہوگا تو رب بھی اس سے ناراض ہوگا یعنی رب کی رضا کا ایک
ذریعہ شوہر کی رضا بھی ہے۔
ایک
اور حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا: کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو اذیت نہیں
دیتی مگر یہ کہ اس شخص کی حورعین بی بی یہ کہتی ہے: تم اسے اذیت نہ دو اللہ تعالی
تمہیں رسوا کرے بے شک یہ تمہارے پاس تھوڑے عرصے کے لیے ہے عنقریب یہ تم سے جدا ہو
کر ہمارے پاس آ جائے گا۔ (ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)
اس
فرمان عالی شان میں اس شخص کی حورعین بیوی جس کی بیوی اس کو اذیت پہنچاتی ہے یعنی
اس کی نافرمانی کرتی ہے اس کے حقوق کو ادا نہیں کرتی اس کے لیے رب سے دعا کر رہی
ہے کہ اللہ تمہیں رسوا کرے اس میں ان عورتوں کے لیے عبرت ہے جو شوہر کی نافرمانی
کرتی اور اپنی من مانی کرتی پھرتی ہیں اور شوہر کو اپنے ان افعال سے اذیت میں
مبتلا کر دیتی ہیں۔
ایک
اور روایت میں ہے فرمایا کہ میں نے کسی کو دوسرے کو سجدہ کرنے کی ہدایت دینی ہوتی
تو میں عورت کو یہ ہدایت دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
اللہ
اکبر شریعت محمدیہ ﷺ میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے سجدہ عبادت
تو ہے ہی رب کریم کے ساتھ خاص اور سجدہ تعظیمی بھی ہماری شریعت میں کسی کے لیے
جائز نہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں اگر جائز ہوتا تو میں عورت کو
سجدہ کرنے کا حق دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
شوہر کی اطاعت کس قدر ضروری ہے اور اس کی نافرمانی سے بچنا بھی لازم ہے۔
جو اپنے
شوہر کی فرمانبردار ہوگی ظاہر ہے شوہر اس سے ہی خوش ہوگا اور راضی ہوگا۔
ایک
روایت میں فرمایا گیا کہ جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو
تو وہ جنت میں جائے گی۔ (ترمذی،2/ 273، حدیث: 1173)
سبحان
اللہ اس عورت کے لیے جنت کی بشارت ہے جس کا شوہر اس سے راضی ہو رب کریم ہمیں تمام
حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شوہر کی فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ اپنے
تمام احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

جب
مرد عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کی جانب سے میاں بیوی
پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔شادی شدہ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ شوہر کے
حقوق میں کمی نہ آنے دیں کیونکہ شوہر کی رضا و نافرمانی پوشیدہ ہے اس کی اہمیت کا
اندازہ اس حدیث نبوی سے لگائیے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عورتو! اللہ پاک
سے ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم پکڑ لو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا
ہے تو وہ صبح و شام کا کھانا لیکر کھڑی رہے۔ (کنز العمال،جز 16، 2/145 ، حدیث:
44809)
نبی
کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے
پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے
شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔(ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)
جو
عورت اپنے گھر سے باہر جائے اور اسکے شوہر کو ناگوار ہو جب تک پلٹ کر نہ آئے آسمان
میں ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے اور جن و آدمی کے سوا جس پر گزرے سب اس پر لعنت کریں۔
(معجم اوسط، 6/408،حدیث: 9231)
فرمان
آخری نبی کریم ﷺ: جب آدمی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ فوراً
چلی جائے اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ (ترمذی، 2/238،حدیث: 1163)
حدیث
پاک سے معلوم ہوا ہے کہ شوہر کی اطاعت ہر حالت میں فورآ ضروری ہے جبکہ شریعت کے
خلاف نہ ہو۔
اگر
سجدہ تعظیمی جائز ہوتا تو عورت اپنے شوہر کو کرتی،فرمان مصطفی ﷺ: اگر میں کسی شخص
کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ
کرے۔ (ترمذی، 2/386،حدیث: 1162)
اس سے
معلوم ہو جاتا ہے کہ عورت پر اس کے تمام احباب میں سے سب سے زیادہ حق اس کے شوہر
کا ہے۔
شوہر
نے عورت کو بلایا اس نے انکار کردیا اور غصے میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس
عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری،2/377،حدیث: 3237)
جب تک
شوہر اس سے راضی نہ ہو، اللہ اس سے ناراض رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1436، حدیث: 3853)
جب
عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورعیں کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے، اسے
ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی،2/
372،حدیث: 1177)
رسول
اللہ ﷺ سے بہترین عورت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: بہترین عورت وہ ہے
جسے شوہر حکم دے تو وہ اس کی بات مانتی ہو وہ عورت اپنی اور شوہر کے مال کی حفاظت
کرتی ہو۔ (سنن کبریٰ للنسائی،5/ 310،حدیث: 8961)

ہمارے
دین اسلام میں اللہ پاک نے بہت سے حقوق مقرر کیے ہیں جنکو پورا کرنا ایک دوسرے پر
لازم ہے۔ اسی طرح شوہرکے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر بھی کچھ حقوق مقرر کیے گئے
ہیں۔ جب مرد اور عورت شادی کے ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت کی جانب سے ان
پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہو جاتے ہیں۔ لہذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ہر
حکم پر لبیک کہے اور اسکی نافرمانی سے بچے۔
آپ ﷺ نے
متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے اور نافرمانی پر
سخت وعیدات ارشاد فرمائی ہیں۔
1۔ عورت
ہرگز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے۔کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے۔آجکل خواتین
اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں۔ انہیں اس حدیث سے عبرت حاصل
کرنی چاہئے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق استفسار
کیا گیا تو فرمایا وہ شوہر کی نا شکری کرتیں ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔ (بخاری،
3/463، حدیث: 5197)
2۔ عورت
پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم،لباس،اور گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کے لیے
بناوسنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے چنانچہ رسول ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی یہ
بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حدیث:
2857)
3۔ شادی
کے بعد عورت کو اپنے شوہر کو راضی رکھنا چاہیے۔چنانچہ رسول ﷺ نے جنتی عورتوں کی
پہچان کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت
جب وہ شوہر کو ناراض کردے یا اسے تکلیف دی جائے یا اسکا شوہر اس پر غصہ کرے تو وہ
عورت کہے کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک سوؤں گی نہیں جب تک آپ راضی
نہ ہو جائیں۔ (معجم صغیر، 1/64، حدیث: 118)
4۔ رسول
ﷺ نے فرمایا کہ اس عورت کی نماز اسکے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی
نافرمانی کرے جب تک وہ اس کی نافرمانی سے باز نہ آ جائے۔ (طبرانی کبیر 3/36)
5۔ رسول
ﷺ نے فرمایا: اے عورتو!خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو اس لیے کہ
عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو تو تب تک اس کے پاس کھانا حاضر
رہتا یہ کھڑی رہتی۔ (کنز العمال، 2/145، حدیث:44809)
اللہ
پاک تمام عورتوں کو شریعت کا پابند بنائے۔ شوہر کی فرمانبردار ی کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔

ہمارے
دین اسلام میں اللہ پاک نے بہت سے حقوق مقرر کیے ہیں جنکو پورا کرنا ایک دوسرے پر
لازم ہے۔ اسی طرح شوہرکے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر بھی کچھ حقوق مقرر کیے گئے
ہیں۔میاں بیوی کا رشتہ ایک بہت ہی پاکیزہ رشتہ ہے۔
جب
مرد اور عورت شادی کے ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت کی جانب سے ان پر ایک
دوسرے کے حقوق عائد ہو جاتے ہیں۔اس رشتہ کی مضبوطی اور سلامتی کے لیے میاں بیوی
دونوں ہی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔
لہذا
عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ہر حکم پر لبیک کہے اور اسکی نافرمانی سے بچے۔ اللہ
تعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ
قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ
بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ
لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے
کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے
مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس
طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
آپ ﷺ نے
متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے اور نافرمانی پر
سخت وعیدات ارشاد فرمائی ہیں۔
عورت
ہرگز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے۔کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے۔آج کل خواتین
اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوے زیادہ نظر آتی ہیں آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں پر عورتیں
خلع لے رہی ہیں میاں بیوی جیسے مقدس رشتہ کو معمول سمجھا رہا ہے۔ ایک عورت اپنے
گھر کو سنوارنے اور بگاڑنے دونوں کا اختیار رکھتی ہے اللہ پاک نے مرد کو عورت پر
حاکم بنایا ہے لیکن آج کل عورتیں اپنے شوہروں سے معمولی سی بات پر جھگڑنا شروع کر
دیتی ہیں اور بعض عورتیں تو اس قدر بے باک ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے شوہروں پر ہاتھ
تک اٹھا دیتی ہیں ایسی عورتیں اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کر کے جہنم میں اپنا
ٹھکانہ بنا لیتی ہیں شوہر کی نافرمانی کرنے کی مزمت پر کثیر احادیث ہیں جن میں سے
چند ملاحظہ کیجئے۔ شوہر کی نافرمانی کرنے والی عورتوں کواس حدیث پاک سے عبرت حاصل
کرنی چاہئے۔ چنانچہ
(1) شوہر کی نافرمانی سے بچیں: حضرت عبد اللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے جہنم دکھائی گئی تو
دیکھا کہ اس میں اکثر ایسے عورتیں ہیں جنہوں نے شوہروں کی ناشکری کی اور ان کے
احسانات کو فراموش کر دیا تھا اور اگر تم ان میں سے کسی پر احسان کرو پھر تم سے
کوئی بات خلاف مزاح دیکھ لے تو کہے دے گی کہ میں نے تو کبھی بھی تم سے کوئی خیر
اور بھلائی نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/9، حدیث: 29)
(2) شوہر کو خوش رکھنا چاہیے: عورت کوچاہیے کہ شوہر کو خوش
رکھے عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم،لباس،بچوں اور گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھے
اور شوہر کے لیے بناوسنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے چنانچہ رسول ﷺ نے نیک
بیوی کی ایک خوبی یہ بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔
(ابن ماجہ، 2/414، حدیث: 2857)
(3) شوہر کی نافرمانی کی وعید: رسول ﷺ نے
فرمایا کہ اس عورت کی نماز اسکے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی نافرمانی
کرے جب تک وہ اس کی نافرمانی سے باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر 3/36)
(4) شوہر کا حق: رسول
ﷺ نے فرمایا اے عورتو! اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم پکڑ لو
اگر عورت جان لے کے شوہر کا حق کیا ہے تو وہ صبح و شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔ (کنز
العمال، جز 16، 2/145، حدیث: 44809)
(5) شوہر کی اطاعت: نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا
اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کے پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور
کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا
چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)
ان
احادیث سے وہ خواتین ہم عبرت حاصل کریں جو اپنے شوہر کی اطاعت نہیں کرتی وہ خواتین
جو بات بات پر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔ وہ خواتین اپنا جائزہ لیں جن کی وجہ سے
ان کے شوہر پریشان ہو رہے ہیں۔خدارا اپنے شوہر کی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر
جائز کام پر ان کی اطاعت کرے جس چیز سے جگہ سے شوہر نے منع کیا اس سے بچیں شوہر نے
جس کام کا حکم دیا ہو اگر وہ شریعت سے نہ ٹکرائے تو فورا لبیک کہتے ہوئے اس کام کو
بجا لائیں۔ اپنے شوہر کو راضی رکھیں اور اپنے گھر کو خوبصورت گھر بنائیں۔ اس طرح
آپ نہ صرف اپنے رشتوں کو بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ اپنے گھر کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ تمام عورتوں کو شریعت کی پابند بنائے۔ شوہر کی فرمانبردار ی
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ
پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى
النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا
مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ
اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں
عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں
نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت
رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
میاں بیوی
کا رشتہ ایک بہت ہی پاکیزہ رشتہ ہے۔ اس رشتہ کی مضبوطی اور سلامتی کے لیے میاں
بیوی دونوں ہی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ آج کل چھوٹی چھوٹی باتوں پر
عورتیں خلع لے رہیں ہیں۔میاں بیوی جیسے مقدس رشتہ کو معمولی سمجھا جارہا ہے۔ایک
عورت اپنے گھر کو سنوارنے اور بگاڑنے دونوں کا اختیار رکھتی ہے۔اللہ پاک نے مرد کو
عورت پر حاکم بنایا ہے لیکن آجکل عورتیں اپنے شوہروں سے معمولی سی بات پر جھگڑنا
شروع کر دیتی ہیں اور بعض عورتیں تو اس قدر بے باک ہو جاتیں ہیں کہ وہ اپنے شوہروں
پر ہاتھ تک اٹھا دیتیں ہیں ایسی عورتیں اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کر کے جہنم
میں اپنا ٹھکانا بنا لیتی ہیں شوہر کی نافرمانی کرنے کی مذمت پر کثیر احادیث ہیں جن
میں سے چند ملاحظہ کیجئے۔
حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے
جہنم دکھائی گئی تو دیکھا کہ اس میں اکثر ایسی عورتیں ہیں جنہوں نے شوہروں کی
ناشکری کی، اور ان کے احسانات کو فراموش کر دیا تھا اور اگر تم ان میں سے کسی پر
احسان کرو، پھر تم سے کوئی بات خلاف مزاج دیکھ لے تو کہہ دے گی کہ میں نے تو کبھی
بھی تم سے کوئی خیر اور بھلائی نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/9، حدیث: 29)
حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جب
کوئی عورت اپنے شوہر کو ستاتی ہے تو جنت میں موجود اس کی خوبصورت آنکھوں والی حور
بیوی اس کی دنیاوی بیوی سے کہتی ہے: تیر استیا ناس ہو، اس کو مت ستا، یہ تو تیرے
پاس چند دن کا مہمان ہے اور جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس (جنت) آنے والا ہے۔
(ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی
نافرمانی کرے جب تک وہ اس (نافرمانی) سے باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر، 3/36)
نبی
پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عورتو! اللہ پاک سے ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم
پکڑ لو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو وہ صبح و شام کا کھانا لیکر کھڑی
رہے۔ (کنز العمال، جز 16، 2/145، حدیث: 44809)
نبی
کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے
پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے
شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)
ان
احادیث سے وہ خواتین عبرت حاصل کریں جو اپنے شوہر کی اطاعت نہیں کرتیں۔وہ خواتین
جو بات بات پر گھر چھوڑ کر جاتیں ہیں۔وہ خواتین اپنے جائزہ لیں جن کی وجہ سے ان کے
شوہر پریشان ہو رہے ہیں۔ خدارا اپنے شوہر کی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر جائز
کام پر ان کی اطاعت کرے۔جس چیز یا جگہ سے شوہر نے منع کیا اس سے بچیں اپنے شوہر کو
راضی رکھیں اپنے گھروں کو خوبصورت گھر بنائیں۔شوہر نے جس کام کا حکم دیا کو اگر وہ
شریعت سے نہ ٹکرائے تو فورا لبیک کہتے ہوئے اس کام کو بجا لائیں اس طرح آپ نہ صرف
اپنے رشتہ کو بہتر بنا سکتیں بلکہ اپنے گھر کو بہتر بنا سکتیں۔ آئیے اب ایک حدیث
مبارکہ شوہر کی اطاعت کے متعلق بھی ملاحظہ کر لیتی ہیں، چنانچہ ام المؤمنین حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، سرکار عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت
اس حال میں مری کہ اس کا شوہر اس پر راضی تھا وہ جنت میں داخل ہو گئی۔ (ترمذی، 2 / 386، حدیث: 1164)