رسول اللہ  ﷺ نے اس امت کی ہر طرح سے ہر طریقے سےتربیت فرمائی ہے انہیں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کا بھی ہے اور یہ ایسا طریقہ ہے کہ اس سے مشکل سے مشکل بات بھی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے تو اسی تشبیہات میں چند ایک ملاحظہ فرمائیں ۔

پہلی حدیث مبارکہ نماز پڑھنے کی ترغیب کے متعلق ہےنہر کے ساتھ تشبیہ دینا، حدیث: وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ: روایت ہے ابوھریرہ سےفرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے (مسلم،بخاری) (مشکوٰۃ المصابیح حدیث،565)

دوسری حدیث مبارکہ قرآن پاک پڑھنے اور نہ پڑھنے والے مومن اور منافق کے درمیان تشبیہ دینا، حدیث: عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“(مشکوٰۃ المصابیح،حدیث،995)

تیسری حدیث مبارکہ مومن اور کافر کو کھیت کے ساتھ تشبیہ دینا ،حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ يَفِيءُ وَرَقُهُ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّئُهَا فَإِذَا سَكَنَتْ اعْتَدَلَتْ وَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ يُكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ،ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے لیکن کافر کی مثال شمشاد کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

اسی طرح تشبیہ کی اور بھی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جس میں حضور ﷺ نے اس امت کی تربیت فرمائی ہے۔ اللہ پاک ہمیں ان کو پڑھنے کی پڑھ کر سمجھنے کی اور سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور اسی طرح ہمارے نبی محمد عربی  ﷺ کو بھی لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام کائنات کے لیے معلم بنا کر بھیجا تاکہ آپ ﷺ ان کو دین کے تقاضے کے مطابق جو تربیت کے پہلو ضروری ہیں وہ سب پہلو لوگوں کو سکھا دیں اور تمام لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی مختلف طریقوں سے تربیت واصلاح فرمائی ان طریقوں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کے ساتھ سمجھانا بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے جس کا استعمال بہت حکمت سے کیا۔ ان تشبیہات کے ذریعے صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں کو مفہوم بہتر انداز میں سمجھایا۔ ذیل میں چار ایسی احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن میں تشبیہات کا ذکر ہے :

(1) مومن ایک مومن کے لیے آئینہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ (سنن ابی داود ، كتاب الأدب ، بَابٌ فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ جلد ٤ ، ص٢٨، حدیث: 4918) ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے“۔

(2) دنیا سے بے رغبتی اور لا تعلقی: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ (صحيح البخاری ، کتاب الرقاق ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيل، جلد ٨ ص٨٩ حدیث نمبر 6416)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔

(3) مومن کو کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ: عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها، وهي مثل المؤمن، حدثوني ما هي قال عبد الله: فوقع الناس في شجر البوادي، ووقع في نفسي انها النخلة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هي النخلة، فاستحييت ان اقول، قال عبد الله: فحدثت عمر بالذي وقع في نفسي، فقال: لان تكون قلتها احب إلي من ان يكون لي كذا وكذا (مسند البزار ، مسند عبداللہ بن عباس، جلد٢، ص ٢٣٦، حدیث نمبر 5714)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے؟ عبداللہ کہتے ہیں: لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھجور ہے“، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) عمر رضی الله عنہ کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتا دی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں“۔

(4) مومن اور فاسق کی تلاوت قرآن پاک کے ذریعے تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الفَاجِرِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ القُرْآنَ: كَمَثَلِ الحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلاَ رِيحَ لَهَا (صحيح البخاري، ، كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ، بَابُ فَضْلِ القُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَم، جلد ٦، ص١٩ حدیث نمبر 5020)

ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

ان تمام حدیثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی علیہ السلام اپنی امت کو جس قدر ہو سکے اس قدر آسانی کے ساتھ دین اسلام کو سمجھانے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ ہدایت کے راستے کو مضبوطی سے تھام لیں اور آخرت میں جنت میں داخل ہو سکیں۔

دعا ہے اللہ تعالی سے کہ جو نبی علیہ السلام دین اسلام لے کر آئے اس کو صحیح معنی میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے دین کی ضروری تعلیمات کو نہ صرف الفاظ سے بلکہ تربیتی انداز سے بھی امت تک پہنچایا۔ تشبیہات کا انداز بھی انہی طریقوں میں سے ایک تھا۔حضور ﷺ کی تربیت کا یہ انداز آج کے معلمین، والدین اور رہنماؤں کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ وہ اپنی بات سمجھانے کے لیے تشبیہات کا استعمال کریں تاکہ بات دل میں اُتر جائے۔اکابرینِ امت نے حضورﷺ سے حاصل ہونے والی ان احادیث سے جن میں حضورﷺ نے بذریعہ تشبیہات اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کی تربیت فرمائی، اپنی کتبِ احادیث کو زینت بخشی۔ جن میں سے کچھ احادیث ملاحظہ ہوں:

حضورﷺ کا اپنی اہمیت کو واضح فرمانا: روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے، فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے:"میری اور جو کچھ مجھے اللہ نے دے کر بھیجا، اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے، میں کھلا ڈرانے والا ہوں، بچو بچو! کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے، اور ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا، وہ وہیں رہے، پھر سویرے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا، انہیں ہلاک کر کے تہس نہس کر دیا۔" (مراۃ المناجیح مع شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، باب الاعتصام، ص 137، حدیث 148 نعیمی کتب خانہ)

اس حدیث پاک میں پیارے آقاﷺ نے اپنی اہمیت کو بذریعہ تشبیہ ، امت پر واضح فرمایا۔ حضرت حکیم الامت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس شخص سے مراد وہ امین اور سچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں کو اعتماد ہو اس تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہردنیوی و اُخروی آنے والے عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا، اور آپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے پر مبنی ہے۔"

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہمیت کو واضح فرمانا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔" (مشکاۃ المصابیح، الحدیث: 6018، جلد 2، ص 414)

اس حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کی فضیلت کو ستاروں کی تشبیہ دے کر واضح فرمایا۔

اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی اہمیت کو واضح فرمانا: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "آگاہ رہو! تم میں میرے اہل بیت کی مثال جنابِ نوح کی کشتی کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہو گیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔" (مراۃ المناجیح مع شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 8، باب اہل بیت کے فضائل، ص 446، حدیث 183 نعیمی کتب خانہ)

حضرت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جیسے طوفانِ نوح کے وقت نجات کا واحد ذریعہ کشتی تھی، ویسے ہی قیامت تک نجات کا واحد ذریعہ اہلِ بیت کی محبت اور ان کی اطاعت ہے گویا دنیا سمندر ہے، اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں ضروری ہے۔ اہلِ سنت کا بیڑا پار ہے کیونکہ وہ اہل بیت اور صحابہ دونوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔"

اسی طرح کئی مقامات پر پیارے آقاﷺ نے اپنی امت کی تربیت تشبیہات کے ذریعے فرمائی، جن کا تذکرہ مختلف کتبِ احادیث میں موجود ہے۔


نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ اعظم بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نہ صرف وحی کی روشنی میں تھیں بلکہ  آپ نے لوگوں کو سکھانے کے لیے تشبیہات، مثالوں اور عام فہم انداز اختیار فرمایا تاکہ ہر فرد بات کو بہتر سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔ جدید تدریسی اصول بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مؤثر تعلیم کے لیے مثالوں اور تشبیہات کا استعمال نہایت کارآمد ہوتا ہے اور یہ اصول چودہ سو سال قبل رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں کامل طور پر موجود ہے :

حدیث نمبر (1) : روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے ! اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں (بخاری)

اس حدیث کی بنا پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے ، قے حرام چیز ہے۔ امام اعظم فرماتے ہیں کہ جب تک سات مانع چیزوں میں سے کوئی چیز نہ پائی جائے تب تک ہبہ کی واپسی درست ہے اگر چہ بے مروتی اور بد خلقی ہے ، امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے " الواهب احق بهبته مالم يصب منه "یعنی ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا حقدار ہے جب تک کہ اس کا عوض نہ لے لے اور یہ حدیث تو حرمت رجوع پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ قے کتے پر حرام نہیں، یہ تشبیہ صرف نفرت دلانے کے لیے ہے۔ بشیر نے اپنے بیٹے نعمان کو باغ ہبہ کیا حضور نے فرمایا واپس لے لو جیسا کہ آگے آرہا ہے ، حضرت عبداللہ ابن عمر نے کسی کو گھوڑا ہبہ دیا تھا پھر اس سے واپس خرید نا چاہا، حضور نے فرمایا مت خرید و، وہاں بھی یہی کتے والی مثال دی، حالانکہ اپنا ہبہ خرید ناسب کے ہاں جائز ہے، اگر یہ حدیث حرمت کی ہو تو ان احادیث کے مخالف ہو گی لہذا امام اعظم کا فرمان نہایت قوی ہے اور یہ حدیث نہ انکے خلاف ہے نہ دیگر آئمہ کی مؤید ہے اس جملہ کے دو معنی ہو سکتے ہیں: ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔ اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔ دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔ اس صورت میں لنا سے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور ﷺ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد: 4، حدیث نمبر: 3018)

حدیث نمبر (2) حضرت سید نا عبد الله بن عباس رَضی الله تَعَالَى عَنْهُما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“

ویران گھر سے موازنہ کرنا: حَكِيمُ الْأُمَّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے ، دل کی آبادی قرآن سے، باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگر چہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر ۔ شعر

آباد وہ ہی دل ہے کہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرآن کا سینے میں جمع کرنا گویا اسے آباد کرنا اور قلت و کثرت کے لحاظ سے مزین کرنا ہے۔ جب دل قرآن کی ضروری تصدیق ، اسے حق سمجھنے ، اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں غور و فکر کرنے اور اس کی محبت وصفات میں نظر کرنے سے خالی ہو گا تو وہ دل ویران گھر کی طرح ہو گا جو خوبصورتی اور سامان سے خالی ہوتا ہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہر اس حد یث سے مراد یہ ہے جسے اتنا بھی قرآن یاد نہ ہو جس سے نماز درست ہو سکے اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔ بعض علما نے اس کو عام رکھا ہے اور کہا ہے کہ ناظرہ یا حفظ کسی طرح قرآن نہ پڑھتا ہو اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔

"حرم" کے 3 حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 3 مدنی پھول

(1) گھر کی آبادی انسان و سامان سے ، دل کی آبادی قرآن سے جبکہ روح کی آبادی ایمان سے ہے۔ (2) جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگر چہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان اور سامان سے خالی گھر ۔ (3) قرآن کو اپنے بطن میں جمع کرنا اسے آباد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو قرآن سے روشن کرے۔ آمین، اللہ تعالیٰ محمد پر رحمت نازل فرمائے درود و سلام ہو محبوب پر ( فیضان رياض الصالحین جلد: 7، حدیث نمبر: 1000)

آج کے دور میں ہمیں نبی ﷺ کی سنتِ تدریس سے سیکھ کر تعلیم، تربیت، اور دعوت کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ تشبیہات صرف بیان کی خوبصورتی نہیں بلکہ فہم، شعور، اور کردار سازی کا ذریعہ ہیں جیسا کہ معلمِ اعظم محمد ﷺ نے ہمیں سکھایا ۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے صدقے دین کا پکا سچا طالب بنائے۔ آمین


اللہ رب العزت نے نبی کریم  ﷺ کو اس دنیا میں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا، نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات سے نوازا نبی ﷺ کی ہر ادا ہی نرالی ہے۔اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت سی خصلتیں عطا فرمائی ۔ آپ کی زبان مبارک میں مٹھاس پیدا کی آپ انتہائی نرمی سے گفتگو فرماتے جو کوئی بھی آپ کی گفتگو سنتا تو وہ آپ کی طرف مائل ہو جاتا اور فوراً اسلام قبول کر لیتا جہاں آپ ﷺ کی خصلتیں ہیں وہی پر آپ ﷺ کا تربیت فرمانے کا انداز بھی نرالا ہے، آپ ﷺ نے بہت سے طریقوں سے صحابہ کریم علیہم الرضوان کی تربیت فرمائی ، کبھی آپ نے نقشوں کے ذریعے تربیت فرمائی تو کبھی آپ نے مثالیں دے کر تربیت فرمائی اسی طرح نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے صحابہ کرام اور امت مسلمہ کی تربیت فرمائی تاکہ وہ آپ کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل کر سکیں۔ اسی ضمن میں میں آپ کے سامنے ان احادیث سے مبارکہ کو سامنے رکھوں گا جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نصیحت فرمائی۔

(1) تحفہ دے کر واپس لینے والے کی تشبیہ:وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ۔روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

(2) سخی اور بخیل کی تشبیہ :وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

(3) ویران گھر کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔"( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

جو مذکورہ احادیث مبارکہ ہم نے سنی ہے اللہ تعالی سے دعا ہے ان تمام احادیث مبارکہ پر ہمیں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


یوں تو اللہ تعالی کے آ خری نبی محمد عربی رسول ہاشمی  ﷺ کی ہر بات ہر ادا ہر عمل حکمت سے بھرپور اور اصلاح امت سے معمور ہے اور ”وہ زبان کہ جس کو سب کن کی کنجی کہیں“۔ پھر وہ زبان کہ جس کو اللہ تعالی قرآن پاک میں فرمائے کہ ”محبوب کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ وحی ہوتی ہے “ پھر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا کبھی اپنے امتیوں کو اشارے سے تربیت فرمانا کبھی اقوال کے ذریعے تربیت فرمانا کبھی اپنے عمل کے ذریعے تربیت فرمانا اور اسی طرح بہت سارے مقامات پر آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے امتیوں کو تشبیہات کے ذریعے بھی تربیت فرمائی یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر جیسے کہ بخل کو تشبیہ دے کر سمجھایا، سخاوت کو تشبیہ دے کر سمجھایا، اسی طرح عابد اور عالم کی فضیلت کو تشبیہ دے کر سمجھایا، اسی طرح متعدد مقامات پر آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے تشبیہات کے ذریعے اپنے صحابہ کی اور صحابہ کے ذریعے اپنے امتیوں کی تربیت فرمائی۔ آئیے جن احادیث میں اللہ کے آ خری نبی ﷺ نے تشبیہات سے تربیت فرمائی ان میں سے 5کو ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) ویران گھر کی طرح: آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث میں جو بندہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتا اس کے بارے میں فرمایا کہ اس کا دل ویران گھر کی طرح ہے یعنی کہ جس طرح ایک گھر، گھر والوں کے بغیر ویران ہوتا ہے اسی طرح جس سینے میں قران نہیں وہ بھی ویران گھر کی طرح لہذا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا:

اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: ”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضانِ ریاض الصالحین جلد نمبر 7 باب: قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت حدیث نمبر:1000)

(2) کنجوس اور سخی کی کہاوت: اس حدیث مبارکہ میں کنجوسی کرنے والے کے بارے میں وعید اور سخاوت کرنے والے کے بارے میں بشارت کو تشبیہ دے کر بیان کیا گیا چنانچہ اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے فرمایا:

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے"(مرآةالمناجیح شرح مشکوةالمصابیح جلد نمبر:3 باب:خرچ کرنا اور بخل کی برائی حدیث نمبر:1864)

(3) دو بھوکے بھیڑیوں کی طرح: اس حدیث مبارکہ میں مال و دولت کی حرص اور لالچ کی و عید بیان کی گئی ہے اور ان کو ایک نہایت ہی نفیس تشبیہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے لہذا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “ (فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر: 4 باب:زھدو فقر کی فضیلت حدیث نمبر:485)

(4) اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے: اس حدیث مبارکہ میں کسی کو تحفہ دے کر واپس لینے کے بارے میں وعید کو بیان کیا گیا اور آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی ہی پیاری تشبیہ کے ساتھ سمجھایا کہ تحفہ دینے کے بعد واپس لینے والا کیسا ہے چنانچہ اللہ کے آخری نبی ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ (مرآةالمناجیح شرح مشکوةالمصابیح جلد نمبر:4 باب:تجارتوں کا بیان حدیث نمبر:3018)

(5) مومن اور منافق : اس حدیث میں اللہ تعالی کے آخری نبی ﷺ نے قرآن پاک پڑھنے والے مومن اور نہ پڑھنے والے مومن اور قرآن پاک پڑھنے والے منافق اور نہ پڑھنے والے منافق کو بہت ہی نفیس تشبیہ سے سمجھایا ، لہذا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا:

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر:7 باب: قرآن پاک پڑھنے کے فضائل حدیث نمبر:995)

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے مذکورہ احادیث مبارکہ میں جو کچھ تربیت کے حوالے سے پڑھا اللہ تعالی ان تمام بری عادتوں سے بچنے اور جو اچھی باتیں اس میں سیکھنے کو ملی ان پر عمل کرنے اور ان کو آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


رب العالمین نے ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ کو رحمۃ للعالمین ( دونوں جہانوں کیلئے رحمت) بنا کر بھیجا ۔ ویسے تو حضور تمام جہان والوں کیلئے رحمت ہیں پر مومنوں پر آپ ﷺ کی رحیمی کے کیا کہنے کہ قرآن فرما رہا ہے :لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔( پ11، التوبۃ: 128)

جو بندہ کسی پر کمال مہربان ہو تو اسکی بھلائی کیلئے فکرمند ہوتا ہے اور اسے وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے ۔ حضور بھی گاہے بَہ گاہے امت کی رہنمائی فرماتے رہتے اور مختلف انداز اختیار فرما کر امت کی تربیت فرماتے تاکہ انہیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ انہیں میں ایک انداز تشبیہ دے کر سمجھانے کا ہے ۔ تشبیہ کا انداز سامع کی روح میں بات اتارنے والا انداز ہے ۔ حضور خاتم النبیین ﷺ نے متعدد مقامات پر یہ انداز اختیار فرما کر تربیت فرمائی ۔ چند مقامات ذکر کرتا ہوں:

(1) ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى ؛ فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ ترجمہ: تم میں سے ہر کوئی ایک دوسرے کا آئینہ ہے، اگر اس میں کوئی برائی دیکھے تو مٹا دے ۔(جامع ترمذی، باب ما جاء فی شفقۃ المسلم علی المسلم، حدیث نمبر 1929)

اس حدیث پاک میں مومن کو دوسرے مومن کیلئے آئینہ قرار دیا گیا ہے کہ جس طرح وہ آئینے میں کوئی گندگی وغیرہ دیکھتا ہے تو اسے لوگوں کو نہیں بتاتا بلکہ خود اس کو مٹا کر آئینہ صاف کر دیتا ہے ویسے ہی اپنے مسلمان بھائی میں کوئی بندہ برائی دیکھے تو اسے لوگوں میں ظاہر نہ کرے بلکہ اسکی انفرادی طور پر اصلاح کرے۔

(2) دنیا سے بے رغبتی کی تشبیہ: حضور خاتم النبیین ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا : كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ترجمہ: تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ اجنبی ہو یا مسافر۔ (صحیح البخاری ، باب قول النبی كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، حدیث 6416)

اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی کو مسافر اور اجنبی سے تشبیہ دے کر سمجھایا کہ جس طرح مسافر اور اجنبی کسی جگہ کو ٹھکانہ نہیں بناتا اور ضرورت کا سامان ساتھ رکھتا ہے اسی طرح انسان کو دنیا اور اسکے مال و متاع میں جی نہیں لگا لینا چاہیے اور نہ ہی لمبی امیدیں لگانی چاہیے بلکہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں رغبت رکھنی چاہیے ۔

(3) بے عمل مبلّغ کی تشبیہ: ھادی کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي يُعلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسٰى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّراجِِ يُضِيْءُ لِلنّاسِ ويَحْرِقُ نَفْسَهُ ترجمہ: وہ عالم جو لوگوں کو نیکی کی تعلیم دے اور خود اس پر عمل نہ کرے اس چراغ جیسا ہے جو اوروں کو تو روشنی دے اور اپنے آپ کو جلاتا رہے۔(معجم الطبرانی ، 2/165)

اس حدیث میں بے عمل عالم کو چراغ سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح چراغ دوسروں کو تو فائدہ پہنچاتا ہے پر خود جلتا رہتا ہے اسی طرح بے عمل عالم اپنے علم سے لوگوں کو نیک بنا دیتا ہے پر خود عمل نہ کر کے اپنی آخرت برباد کر رہا ہوتا ہے ۔ اللہ ہمیں عالم با عمل بنائے آمین ۔

(4) حب جاہ و مال کی تشبیہ: ہمارے آقا سیّد الزاھدین ﷺ ( زاھدوں کے سردار) نے ارشاد فرمایا : مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ترجمہ: دو بھوکے بھیڑیے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اس ریوڑ کیلئے اتنا نقصان دہ نہیں جتنا نقصان دہ آدمی کے دین کیلئے اسکی مال و جاہ کی حرص ہے۔ (جامع الترمذی ،ابواب الزھد عن رسول اللہ ﷺ، حدیث 2376)

اس حدیث مبارک میں بھیڑیوں کو حب جاہ و مال کی حرص سے تشبیہ دے کر ان سے بچنے کی ترغیب حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ۔ بھیڑیا بھی نقصان دہ ہے اور حب جاہ اور مال کی حرص بھی نقصان دہ ہے پر حب جاہ اور مال کی حرص زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بھیڑیا انسان کی بکریاں کھا جائے گا جو کہ اسکا مال و متاع ہے جبکہ حب جاہ اور مال کی حرص بعض دفعہ ایمان لے جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے بعض لوگ صرف بیرون ملک ویزہ کی خاطر اپنے نام کیساتھ معاذ اللہ قادیانی لکھوا کر بے ایمان ہو گئے ۔ اللہ کریم کی پناہ حب جاہ اور مال کی حرص سے۔

اللہ کریم ہمیں رسول کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدنا خاتم النبیین


نبی اکرم حضرت محمد ﷺ   ایک کامل معلم ہیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی اخلاقی، روحانی، سماجی اور فکری تربیت کے لیے مختلف حکیمانہ طریقے اختیار فرمائے، جن میں سے ایک مؤثر طریقہ تشبیہات (مثالوں) کے ذریعے تعلیم و تربیت دینا ہے ۔ تشبیہات کا استعمال انسانی فہم کو آسان بناتا ہے۔ ایک پیچیدہ بات جب کسی جانی پہچانی چیز سے تشبیہ دے کر بیان کی جاتی ہے تو وہ سننے والے کے دل و دماغ پر زیادہ گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ آپ ﷺ نے بھی اس طریقے کو اختیار فرمایا اور نہایت سادہ اور جامع مثالوں سے لوگوں کے دلوں میں حقائق بٹھا دیے۔

(1) روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔اس صورت میں لَنَاسے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور ﷺ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

ب25 حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد :مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔

(3) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ: مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔

نبی کریم ﷺ کی دعوت و تربیت کا انداز نہایت حکیمانہ اور دل نشین تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے تعلیماتِ اسلام کو اس انداز میں پیش فرمایا کہ سامعین کے دلوں میں وہ گہرائی سے اتر گئیں۔ آپ ﷺ نے تشبیہات اور مثالوں کا استعمال کر کے دین کی باتوں کو عام فہم، دلچسپ اور مؤثر بنایا۔ کبھی دین دار شخص کو بارش جیسا مفید فرمایا، تو کبھی مسلمان کی مثال کھجور کے درخت سے دی، جو ہر حالت میں فائدہ پہنچاتا ہے۔

آپ ﷺ کی تشبیہات میں حکمت، بصیرت اور فطری مثالوں کی خوبصورتی پوشیدہ تھی، جو نہ صرف دل کو چھوتی تھیں بلکہ عملی زندگی میں راہنمائی بھی فراہم کرتی تھیں۔ ان تشبیہات کے ذریعے اخلاق، ایمان، تقویٰ، اخلاص اور عبادات جیسے موضوعات کو دلنشین انداز میں سمجھایا گیا۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے عمل میں مثالوں اور تشبیہات کا استعمال کس قدر مؤثر ہو سکتا ہے۔

یقیناً، نبی مکرم ﷺ کا یہ اندازِ ترغیب و تربیت ہمارے لیے ایک نمونہ ہے کہ ہم بھی بات کو سمجھانے اور دوسروں کو نیکی کی طرف مائل کرنے کے لیے نرم، حکیمانہ اور پرکشش طریقہ اپنائیں، تاکہ پیغامِ حق دلوں میں اتر جائے۔


تشبیہ وتمثیل ہر زبان میں تعبیر وتفہیم اوراظہار وبیان کا ایک موٴثر اور خوبصورت ذریعہ رہا ہے، بعض اوقات بغیر تشبیہ و تمثیل کے کلام مکمل طور پر سمجھ نہیں آتا کچھ اشکال باقی رہ جاتے ہیں جن کو دور کرنے اور بات کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے تشبیہ و تمثیل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کلام الٰہی عزوجل میں کئی مقامات پر سمجھانے کے لیے تشبیہ وتمثیل کا ذکر ہے جیسا کہ فرمان الٰہی عزوجل ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِۖۚ-اِتَّخَذَتْ بَیْتًاؕ-وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۴۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔ (پ20، العنکبوت:41)

کلام الٰہی کے بعد سب سے زیادہ اہم کلام کلام رسول ﷺ ہے۔ کلام نبوی ﷺ میں بھی کثرت سے اس ذریعہٴ تفہیم کو اختیار کیاگیا ہے۔ چند احادیثِ تشبیہات وتمثیلات اور مختصر وضاحت :

(1) حضور اقدس ﷺ کا فرمان مبارک ہے: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ (سنن ابی داود، حدیث: 4946) ترجمہ:تم میں سے ہر شخص اپنے بھائی کے لیے ایک آئینہ ہے، اگر وہ اُس میں کوئی تکلیف دہ چیز دیکھے تو اُسے دُور کر دے۔

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اخوتِ ایمانی اور اصلاحِ باہمی کو آئینے کی مثال سے سمجھایا ہے: جس طرح آئینہ انسان کو اُس کی عیب داریاں بغیر بغض یا تحقیر کے صاف دکھاتا ہے،اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ اپنے بھائی کی خامی یا غلطی نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ دور کرے،عیب چھپانا نہیں، بلکہ ادب کے ساتھ اس کی اصلاح کرنی چاہیے ۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے نرمی سے دور کرنے والے بنیں۔

(2) نماز کی فضیلت ،اہمیت اور اسکے فوائد کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے بھی حضور ﷺ نے تشبیہ وتمثیل کا استعمال فرمایا ہے جیسا کہ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قالوا: لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قال: فَذَٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا (صحیح البخاری: حدیث 528 – صحیح مسلم: حدیث 667)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟" صحابہ نے عرض کیا: "نہیں، کچھ باقی نہ رہے گا۔" آپ ﷺ نے فرمایا:"یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"

رسول اللہ ﷺ نے نمازوں کی اہمیت کو مثال (تشبیہ) کے ذریعے بیان فرمایا:جیسے کوئی شخص دن میں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر مسلمان دن میں پانچ وقت نمازیں پڑھتا ہے تو اس کے صغیرہ گناہ مٹتے رہتے ہیں۔ اس میں ظاہری اور باطنی صفائی کا تصور موجود ہے۔

ظاہری صفائی: وضو، جسم کی پاکیزگی۔ باطنی صفائی: گناہوں کی معافی، روح کی پاکیزگی۔

(3) نبی کریم ﷺ نے امت کے حال پر ایک مثال کے ذریعے رحم، شفقت اور تنبیہ فرمائی کہ عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ ٱلْفَرَاشُ وَهَٰذِهِ ٱلدَّوَابُّ ٱلَّتِي تَقَعُ فِي ٱلنَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَيَجْعَلُ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا (صحیح البخاری: حدیث 6483، صحیح مسلم: حدیث 2284 )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی نے آگ جلائی، تو پروانے اور وہ کیڑے جو آگ میں گرتے ہیں، اس میں گرنے لگے۔ وہ انہیں (آگ سے) نکالتا ہے لیکن وہ اس پر غالب آ جاتے ہیں اور آگ میں گرتے رہتے ہیں۔"

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی تشبیہ ہے: انسانوں کی حالت ایسی ہے جیسے پروانے اور کیڑے جو آگ کی طرف لپکتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جل جائیں گے۔نبی کریم ﷺ ان کو آگ (جہنم) سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود ہی واپس اسی گناہوں کی طرف پلٹتے ہیں۔یہ حدیث رحمتِ نبوی ﷺ اور امت کی نافرمانی دونوں کو بہت بلیغ اور پراثر انداز میں ظاہر کرتی ہے۔

(4) اچھی اور بری صحبت اور انکے اثرات کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے بھی حضور ﷺ نے تشبیہ وتمثیل کا استعمال فرمایا جیسا کہ فرمان عالیشان ہے:

عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالجَلِيسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ، إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ، إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح البخاری: حدیث 5534، صحیح مسلم: حدیث 2628)

ترجمہ:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور بھٹی دہکانے والے کی طرح ہے۔ مشک بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم اس سے خوشبو خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو ضرور محسوس ہوگی۔ اور بھٹی دہکانے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔

اس حدیث میں تشبیہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ نیک ساتھی کی صحبت ہر حال میں نفع بخش ہوتی ہے، یا وہ تمہیں کچھ سکھائے گا (علمی یا اخلاقی نفع) یا تم اس کی پیروی کرو گے یا کم از کم اس کی نیکی کی خوشبو تم پر اثر کرے گی برا ساتھی تمہیں نقصان پہنچائے بغیر نہیں رہے گا، یا وہ تمہیں گناہ میں مبتلا کرے گا یا تمہیں بدنام کرے گا یا تمہارے اخلاق بگاڑے گا۔

مذکورہ احادیث میں کسی نہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے تشبیہ دی جارہی جس کا مقصد بہتر اور احسن انداز میں سمجھانا اور بات کی وضاحت کرنا ہے ۔ پتا چلا تشبیہات و تمثیلات کا استعمال کرنا اللہ عزوجل اور اسکے محبوب ﷺ کا طریقہ ہے تو ہمیں بھی اپنی بات مخاطب کو سمجھانے کے لیے تشبیہات و تمثیلات کا استعمال کرنا چاہیے ۔

اللہ عزوجل ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


نبی کریم  ﷺ نے اپنی تعلیم و تربیت کے انداز میں تشبیہات کا استعمال نہایت مؤثر انداز میں کیا تاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر سامعین کے لیے بات کو سمجھنا اور ذہن نشین کرنا آسان ہو جائے۔ تشبیہات کے ذریعے تربیت کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بھی پایا جاتا ہے، اور نبی ﷺ نے اس سنت کو جاری رکھا۔ذیل میں کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تعلیم و تربیت فرمائی :

جیسا کہ نیک اور بُرے ساتھی کی مثال دیتے ہوئے حدیث پاک میں فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِیسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ(بخاری: 5534، مسلم: 2628)ترجمہ: نیک اور بُرے ساتھی کی مثال مشک (خوشبو) بیچنے والے اور لوہار کی مانند ہے۔ مشک والا یا تو تمہیں کچھ دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے، یا تمہیں اس کی خوشبو ملے گی۔ اور لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلائے گا یا تم اس سے بُو پاؤ گے۔

یہ حدیث پاک ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کن لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور کن سے بچیں کہ جیسی صحبت ہو گی ویسا ہی اثر ہوگا۔

اسی طرح ایک مقام پر پانچ نمازوں کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا حدیث پاک ہے : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ (بخاری: 528، مسلم: 667)ترجمہ:کیا تم دیکھتے نہیں اگر کسی کے دروازے پر ایک ندی ہو اور وہ دن میں پانچ بار اس میں نہائے، تو کیا اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

جس سے پتہ چلتا ہے کہ نماز پڑھنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اگر دل لگا کر نماز پڑھے گا تو ضرور اس کا دل نماز میں لگے گا اور قرب الہی حاصل ہوگا۔اور اسی میں منافق کی مثال دیتے ہوئے فرمایا :

مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ (مسلم: 5027) ترجمہ:منافق کی مثال ایسی بکری کی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران پھرتی ہے، نہ اِس کی طرف جاتی ہے، نہ اُس کی طرف۔

یعنی منافق ظاہرا تمہارے ساتھ ہوتے ہیں لیکن یہ دلی طور پر تمہارے ساتھ نہیں ہوتے صرف دیکھاوا کرتے ہیں اور صرف اپنے مقصد کے لیے تمہارے پاس آتے ہیں وہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست، خیر خواہ،ہمدرد نہیں ہوسکتے بلکہ صرف اذیت ہی پہنچائیں گے۔

یقیناً  رسول اللہ امت کے لیے ایک بہترین رہنما ہیں جس کے بارے میں خود قراآن کریم میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱) ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہےاس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے ۔(پ21، الاحزاب:21)

رسول اللہ کا تربیت فرمانے کا انداز بھی بالکل ہی الگ تھا آپ کبھی مثالوں سے کبھی نصیحت سے تو کبھی تشبیہات کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی فرماتے۔ آپ کی تشبیہات ایسی تھیں جو دل کو چھو لیتی تھیں۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا مؤثر تھا  جس سے پیچیدہ باتیں بھی نہایت آسان اور دل نشین ہو جاتی تھیں۔ آئیے اس کی کچھ مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں :

نبی پاک نے علم اور اس پر عمل کرنے  اور اسے آگے پہنچانے کو موسلا دھار بارش کے ساتھ تشبیہ دے کر بیان فرمایا  : ‏‏‏‏وعن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل الغيث الكثير اصاب ارضا فكان منها نقية قبلت الماء فانبتت الكلا والعشب الكثير وكانت منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس فشربوا وسقوا وزرعوا واصابت منها طائفة اخرى إنما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلا فذلك مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثني الله به فعلم وعلم ومثل من لم يرفع بذلك راسا ولم يقبل هدى الله الذي ارسلت به

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے جو ہدایت اور علم دے کر مجھے مبعوث کیا ہے، وہ کسی زمین پر برسنے والی موسلادھار بارش کی طرح ہے، پس اس زمین کا ایک ٹکڑا بہت اچھا تھا، اس نے پانی کو قبول کیا اور اس نے بہت سا گھاس اور سبزہ اگایا، اور اس زمین کا کچھ ٹکڑا سخت تھا، اس نے پانی کو روک لیا، پس اللہ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا، لوگوں نے خود پیا، جانوروں کو پلایا اور آب پاشی کی، جبکہ زمین کا ایک ٹکڑا صاف چٹیل تھا، وہاں بارش ہوئی تو وہ پانی روکتی ہے نہ سبزہ اگاتی ہے، پس یہی مثال اس شخص کی ہے جسے اللہ کے دین میں سمجھ بوجھ عطا کی گئی، اور اللہ نے جو تعلیمات دے کر مجھے مبعوث فرمایا ان سے اسے فائدہ پہنچایا، پس اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے (ازراہ تکبر) اس کی طرف سر نہ اٹھایا اور اللہ نے جو ہدایت دے کر مجھے مبعوث فرمایا اسے قبول نہ کیا۔ “ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشكوة المصابيح/كتاب الايمان/حدیث: 150)

ایک اور جگہ پیارے آقا نے یوں ہی تشبیہ کے ذریعے نماز کی فضیلت کو واضح فرمایا :

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارايتم لو ان نهرا بباب احدكم يغتسل فيه كل يوم خمسا هل يبقى من درنه شيء قالوا: لا يبقى من درنه شيء قال: فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی شخص کے گھر کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہوتو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟“ صحابہ نے عرض کیا، اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی، آپ نے فرمایا: ”یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے خطائیں مٹا دیتا ہے۔ “ متفق علیہ۔ (مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 565)

نبی پاک کا مختلف مسائل کو اس طرح تشبیہ کے ذریعے بیان فرمانے میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہوتی تھیں جن میں سے چند عرض کرتا ہوں :

(1) اس سے پیغام دل میں بیٹھ جاتا تھا اور اس کی اہمیت بڑھ جاتی تھی۔

(2)سننے والے کے ذہن میں گہرے اثرات پیدا ہوتے تھے ۔

(3) لوگوں کو مثالوں کے ذریعے باتیں جلدی یاد ہو جایا کرتی تھیں۔

(4) اس سے نبی پاک کا مقصود لوگوں کو قیاس کی تربیت دینا تھا ۔

تشبیہات سے تربیت کا یہ اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ فکر، احساس اور بصیرت کی بیداری کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جو مثالیں بیان فرمائیں، وہ آج بھی اسی طرح تازہ، روشن اور سبق آموز ہیں، جیسے چودہ سو سال پہلے تھیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنی تعلیم و تربیت میں ان تشبیہات کے انداز کو اپنائیں، بات کو مؤثر انداز میں پیش کریں۔ اللہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور ان کے اسالیبِ تربیت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


انسانی ذہن اور فکر کی تربیت کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بات کو مثال اور تشبیہ کے ذریعے سمجھایا جائے، کیونکہ مثال دل کو لگتی ہے اور عقل کو روشن کرتی ہے۔ ہمارے آقا و مولا، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تعلیم و تربیت کا ایسا کامل اسلوب عطا فرمایا کہ آپ ﷺ نہ صرف براہِ راست احکام بیان فرماتے بلکہ کبھی کبھی حکمت سے بھرپور تشبیہات دے کر بات کو دلوں میں بٹھا دیتے۔ آپ ﷺ کی تشبیہات ایسی جاندار اور واضح ہوتیں کہ سننے والا نہ صرف سمجھ لیتا بلکہ وہ منظر گویا اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کا ہر فرمان رہتی دنیا تک ہدایت و روشنی کا مینار ہے۔

انسانی فطرت اس بات کی گواہ ہے کہ مثالوں کے ذریعے سے بات بہت جلد سمجھ آ جاتی ہے ۔ پیارے آقا ﷺ بھی اپنے صحابہ کو مثالیں دے کر سمجھایا کرتے تھے ۔ چنانچہ:

(1) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔"

اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان ، باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

(2) حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔"

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔( فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضائل، قرآن پاک پڑھنے کے فضائل، جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

(3)فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ "اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔"

اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور گویا رحمت کا بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔

اس تشبیہ سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا،زمین کیسی اعلٰی ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے،مگر بارش کی محتاج ہے،دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں۔

دوسرے یہ کہ تاقیامت مسلمان علماء کے حاجت مند ہیں کہ ان کی کھیتیوں کو پانی انہیں تالابوں سے ملے گا حضور کی رحمت انہی کے ذریعہ نصیب ہوگی۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ایمان کا بیان، باب قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 ، حدیث نمبر:150)

ان تمام احادیث کریمہ سے کئی چیزیں معلوم ہوتیں ہیں:

اول تو یہ کہ حضور ﷺ کا سمجھانے کا خوبصورت انداز کہ آپ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سے سمجھایا کرتے تھے کہ اس سے بات بہت جلد سمجھ میں آ جاتی ہے اور ایک چیز ہمیں یہ سیکھنے کو ملی کہ ہمیں بھی اگر موقع ملے کسی کو سمجھانے یا کچھ پڑھانے کا تو حتی الامکان مثالوں کے ذریعے سے سمجھایا جائے تاکہ حضور کی اس ادا پر بھی عمل ہو اور سامنے والے کو بھی فایدہ حاصل ہو ۔

رسول اللہ ﷺ کی تشبیہات سے تربیت کا یہ انداز ہمارے لیے رہنمائی کا عظیم سرمایہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم و تبلیغ میں مثال اور تشبیہ کا استعمال کس قدر مؤثر ہے۔ اگر ہم بھی اپنی گفتگو، نصیحت اور تربیت میں اس سنتِ نبوی کو اپنائیں تو ہمارے الفاظ سننے والے کے دل میں اتر جائیں گے اور اثر بھی پیدا ہو گا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں اور دین کی دعوت و تربیت کو آسان، مؤثر اور دل نشین بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی ﷺ کے طریقۂ تعلیم و تربیت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین