ہمارے پیارے آقا  ﷺ ہمارے لیے رحمت بن کے آئے اور ساتھ ساتھ ہماری تربیت کرنے کے لیے بھی تشریف لے کے آئے، اپنے قول و فعل سے ہماری تربیت فرمائی اور ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ دیا اور ہم سب کو چاہیے کہ حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ پڑھ کر تربیت حاصل کریں۔

(1)علم کو جادو سے تشبیہ دینا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

ترجمہ: حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا ۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4598)

علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4598)

(2) تصویر سازی سے تشبیہ دینا: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُواذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

(3) بادل کے ٹکروں سے تشبیہ دیتے: وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهٰى عَنِ الْقَزَعِ قِيلَ لِنَافِعٍ: مَا الْقَزَعُ قَالَ: يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصِّبِيِّ وَيُتْرُكُ البَعْضُ

ترجمہ: روایت ہے نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو سنا کہ آپ قزع سے منع فرماتے ہیں نافع سے کہا گیا کہ قزع کیا ہے فرمایا کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جاوے اور کچھ حصہ چھوڑ دیا جاوے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4426)

قزع قاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کوقزع کہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4426)

(4)خلاصہ سے تشبیہ دیتے: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ

ترجمہ: حضرت معاذا بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔

شاذّہ:وہ بکری ہے جو اپنی ہم جنسوں سے متنفر ہو اور گلے سے دور رہے۔قاصیہ:وہ جو متنفر تو نہ ہو چرنے کے لیے ریوڑ سے الگ ہوجائے۔ناحیہ:وہ جو ریوڑ سے الگ تو نہ ہو مگر کنارے کنارے چلے۔خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)

(5)جوتے کے تسمہ سے تشبیہ دیتے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔

مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)


وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُؕ-    اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُۚ- وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ(۲۲) اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ(۲۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور برابر نہیں زندے اور مُردے بےشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے اور تم نہیں سنانے والے اُنہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔ تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو۔(پ 22، فاطر:22، 23)

تفسیر صراط الجنان : وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ : اور تم انہیں سنانے والے نہیں جوقبروں میں پڑے ہیں ۔ آیت کے اس حصے میں کفارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اُٹھا سکتے اور نصیحت قبول نہیں کر سکتے، بد انجام کفار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

یاد رہے کہ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کفار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سننا ہے جس پر ہدایت کا نفع مُرَتَّب ہو، اور جہاں تک مُردوں کے سننے کا تعلق ہے تو یہ کثیر اَحادیث سے ثابت ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد 8 ص 193)

پیارے اسلامی بھائیو ! رب ذوالجلال نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر امت کی تشبیہات کے ذریعے سے تربیت فرمائی اور تشبیہات کے متعلق تاجدارِ مدینہ ﷺ کے فرامین موجود ہیں، اسی ضمن میں پانچ احادیث ذکر کی جاتی ہیں:

(1) بال بکھرے ہوئے نہ رکھیں: حضرت سیدنا عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار دو عالم ، شاہ بنی آدم، رسول اکرم نور مجسم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ ہمارے میٹھے مدنی آقا ﷺ نے اس کی طرف اس انداز سے اشارہ کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اس کو بال درست کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔ وہ شخص بال درست کر کے واپس آیا سر کار مدینہ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔“ (موطا امام مالک ، کتاب الشعر، باب اصلاح الشعر، الحدیث ، 1819، ج 2، ص 435)

میٹھے اسلامی بھائیو! مندرجہ بالا حدیث مبارکہ میں سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا اور بے ترتیب چھوڑنا نا پسندیدہ بتایا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ بالوں کا اکرام کیا کرو یعنی ان کو تیل اور کنگھی کے ذریعے درست رکھا کرو ۔ بلکہ بیان کی گئی حدیث پاک میں تو بکھرے ہوئے بال رکھنے والے کو شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لباس کو پاک وصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے داڑھی اور سر کے بالوں کو بھی درست رکھا کریں۔ بہر حال ہمارا حلیہ سنتوں کے سانچے میں ڈھل کر ایسا ستھرا اور نکھرا ہوا ہونا چاہیے کہ لوگ ہمیں دیکھ کر ہم سے گھن نہ کریں بلکہ ہماری طرف مائل ہوں۔ ( سنتیں اور آداب ،ص75 مکتبۃ المدینہ )

(2) کنجوس اور سخی کی کہاوت: روایت ہے، حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، الفصل الاول، باب، خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد 3 ص 81 حدیث 1768 مکتبہ اسلامیہ)

(3) ویران گھر کی طرح کون: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“( فیضانِ ریاض الصالحین باب قرآن پاک پڑنے کی فضیلت،جلد نمبر 7 حدیث نمبر 1000 مکتبۃ المدینہ )

(4) دین کو نقصان پہنچانے والی چیزیں: ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “( فیضانِ ریاض الصالحین جلد 4 ص 721 حدیث 485 مکتبۃ المدینہ)

(5) شکر گزار کھانے والا کس کی طرح ہے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب کھانوں کا باب، الفصل الثانی،جلد 6 ص 46 حدیث 4022 مکتبہ اسلامیہ )

اللہ پاک ہمیں بھی اچھے انداز میں سمجھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


انسانی ذہن کسی بات کو اس وقت بہتر انداز میں سمجھتا ہے جب اسے کسی مشابہ چیز یا واضح تصویر کے ذریعے سمجھایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے عظیم معلم، حضرت محمد نے اپنے طرزِ تربیت میں تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ آپ کا اندازِ بیان نہایت مؤثر، فطری اور سامع کے ذہنی درجے کے مطابق ہوتا تھا، اور آپ اکثر بات کو ایسے مثال کے ذریعے بیان فرماتے جس سے مفہوم دل میں اتر جاتا۔آپ ﷺ لوگوں کی عقل و فہم، معاشرتی حالات اور روزمرہ کی چیزوں کو سامنے رکھ کر تشبیہات دیتے تاکہ مفہوم دلنشین ہو جائے۔

اسی مناسبت سے چند احادیث پڑھیے:

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح تجارتوں کا بیان ، جلد:4 ، حدیث نمبر:3018 )

دو شخصوں کی تشبیہ: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان باب: خرچ کرنے اور بخل کی برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864 )

اس حدیث میں تشبیہ کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے۔

سبحان الله ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آ جاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے مگر اس کا ارادہ اس پر غالب آجاتا ہے اسی غلبہ پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتےکرتےنفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی،یہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے، ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے،نفس کی مثال شیر خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔

رسول اللہ کا تشبیہات سے تربیت فرمانا ایک ایسا معجز اتی اسلوب تھا جو آج بھی تربیت اور تعلیم کے میدان میں مشعل راہ ہے۔ آپ کے اس انداز سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر بات کو مؤثر انداز میں سمجھانا ہو، تو اسے تشبیہ اور مثال کے ذریعے بیان کرنا نہایت کارگر ہے۔ موجودہ دور کے اساتذہ، والدین، اور رہنما اگر آپ ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تو تعلیم و تربیت کا عمل نہ صرف آسان بلکہ مؤثر بھی ہو جائے گا۔ان شاءاللہ


رسول الله  ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اسلوب جو اسلوب جامع ، مؤثر اور فطری اصولوں پر مبنی تھا۔ آپ نے انسانی ذہن کی ساخت اور نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طریقے اختیار فرمائے تاکہ تعلیم کا اثر دیر پا ہو۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر طریقہ تشبیہات (مثالوں) کا استعمال تھا۔ تشبیہ کے ذریعے نا صرف مشکل مفاہیم کو آسان بنایا جاتا ہے بلکہ سامع کے دل ودماغ پر اس کا گہرا اثر بھی ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی چند مشہور تشبیہات:

(1) صحابہ کی مثال روشنی پھیلانے والوں جیسی حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی مثال اس بارش کی طرح ہے، جس کے پہلے حصے یا آخری حصے میں خیر ہو۔ (سنن ترمذی ،کتاب المثال ۔باب مثل امتی مثل المطر ،حدیث: 2869)

امت کو بارش سے تشبیہ دی کہ جیسے بارش سے زمین زرخیز ہوتی ہے ویسے ہی امت سے خیرو بھلائی پھیلتی ہے۔

(2) منافق کی کیفیت کو تشبیہ سے بیان فرمایا: حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی مانند ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران ہو نہ ادھر کی نہ ہی اُدھر کی ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان فصل: قول النبی: مثل المنافق ،حدیث: 2770)

(3) نماز قائم کرنے والا اور اُس سے غافل:حضور ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس سے ہر دن پانچ مرتبہ نہائے تو کیا اس کے جسم پر کوئی شئ (میل) رہے گئی ۔صحابہ نے عرض کیا نہیں ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں بھی اس کی طرح ہی ہے اللہ تعالٰی ان نمازوں کی وجہ سے اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الصلاۃ،فصل: الترغیب فی الصلوات الخمس ،حدیث نمبر (339/4)

(4) مومنوں کا باہمی تعلق:نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو جوڑ کر دکھایا ۔(صحیح بخاری ،کتاب المظالم ،باب نصر المظلوم ، حدیث:2446)

(5) نیک اور بد ساتھی کی مثال:حضور ﷺ نے فرمایا کہ نیک ساتھی کی مثال عطر فروش کی مانند ہے، وہ یا تو تمہیں کچھ دے گا یا تم اس سے کچھ خرید لوگے، یا تمہیں خوشبو ملے گی اور بد ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی طرح ہے وہ یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گی یا تم اس سے بد بو پاؤ گے ۔ (صحیح مسلم ،کتاب البر و الصلۃ ،باب فصل فی رجل صالح أو شر ، حدیث: 2628 )

تشبیہات کے مقاصد:

(1) فہم میں آسانی پیدا کرنا ۔

(2) توجہ اور دلچسپی قائم رکھنا ۔

(3) موثر یاد داشت پیدا کرنا ۔

(4) عملی پہلو کو اجاگر کرنا ۔

اللہ پاک ہمیں احادیث طیبات پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


انسانی عقل و شعور کو کسی بات کی گہرائی تک پہنچانے کے لیے مثالوں اور تشبیہات کا استعمال ہمیشہ سے ایک مؤثر ذریعہ رہا ہے۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے حقائق کو واضح کرنے کے لیے جگہ جگہ مثالیں بیان فرمائیں، کیونکہ مثالیں پیچیدہ تصورات کو سادہ بنا دیتی ہیں۔ رسول اللہ  ﷺ ، جو سید المعلمین (تمام معلموں کے سردار) ہیں، اپنی دعوت، تعلیم اور تربیت میں حکمت، اور نرمی کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ ﷺ نے انسانی فطرت اور ذہن کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے تشبیہات کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نہ صرف زبان و بیان کے لحاظ سے اعلیٰ تھیں بلکہ ان میں گہری معنویت، فکرانگیزی اور تربیتی پہلو بھی موجود ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کی دی ہوئی مثالیں آج بھی دلوں پر اثر کرتی ہیں اور رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

آئیے اس کے متعلق چند احادیث پڑھیے:

ہبہ دے کر واپس لینے کی مذمت: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِترجمہ حدیث: "روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک انتہائی سخت اور عبرت انگیز تشبیہ کے ذریعے معاشرتی برائی کو واضح فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز دے کر، بعد میں اسے واپس مانگتا ہے وہ انتہائی ذلیل حرکت کرتا ہے، حتیٰ کہ اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ لیتا ہے۔

یہ تشبیہ نہ صرف دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی ہے بلکہ اخلاقی گراوٹ کی انتہائی شکل کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان جب کسی پر احسان کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ احسان جتاتا ہے یا واپس مانگتا ہے تو یہ درست نہیں۔

لہٰذا اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اخلاق کو پاک رکھنا چاہیے، اور اپنے دیے ہوئے مال یا چیز کو واپس لینے کا کبھی نہ سوچنا چاہیے۔

سخی اور کنجوس کی کہاوت: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ حدیث: "روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے۔ جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۔ سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

رسول اللہ ﷺ کی یہ بلیغ تشبیہ ہمیں نہایت اہم اخلاقی اور روحانی سبق دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے بخیل اور سخی کی حالت کو زرہ پہنے ہوئے دو آدمیوں کی مثال سے واضح فرمایا۔ یہ تشبیہ صرف ایک لفظی تصویر نہیں بلکہ ایک عملی پیغام ہے کہ انسان کا دل اور باطن کس طرح بخل اور سخاوت سے متاثر ہوتا ہے۔

یہ تشبیہات نہ صرف تربیتی حکمت کا خزانہ ہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے علم و عمل کی روشنی بھی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان احادیث سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنا کردار ایسا بنائیں جو اللہ کو بھی پسند ہو اور مخلوق کو بھی فائدہ دے۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


نبی کریم  ﷺ ہر موقع پر اپنے اصحاب کی مختلف طریقوں سے تربیت فرماتے رہے اور دیگر تشبیہات کے ساتھ تربیت فرمائی، آئیے چند وہ احادیث پڑھتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کی تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی:

(1) حضرت سیدنا موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور سلطان بحروبر نے ارشاد فرمایا: اچھے اور برے دوست کے مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے مشک اٹھانے والا یا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا وہ تمہارے کپڑے جلائے گا یا اس سے بدبو آئے گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الزبائح ولصید و تسمۃ علی الصید ج2، حدیث 5534ص345 مکتبہ رحمانیہ)

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ ذرا کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشان مٹا دیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی شے خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن کشادہ نہیں ہوتا۔ ( صحیح بخاری ج1کتاب الزکاۃ ص276 حدیث نمبر 1443 )

(3) حضرتِ سَیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:79 )

(4) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:87 )

(5) روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق پر مددکرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر کھینچا جاوے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6)


لوگ دنیوی  تربیت کا حصول چاہتے اور کچھ لوگ دینی تربیت کا حصول چاہتے ہیں اور دنیا میں 50٪ سے زائد لوگ دنیا کے حصول میں لگے ہوئے ہیں مگر دنیوی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تربیت زیادہ اہم ہے اور دینی تربیت کا بہترین ادارہ در مصطفیٰ ﷺ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی دینی تربیت کے لیے بہت سے طریقے اور انداز اختیار فرمائے ہیں۔ تاکہ آپ کی امت امتحان آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے۔آج ہم اپنے آخری نبی ﷺ کے اس انداز بابرکت کا مطالعہ کریں گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے انداز تشبیہات اختیار فرمایا۔چنانچہ

(1) کتے کا قے چاٹنے سے بھی بدتر شخص:وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ یعنی روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، تجارتوں کا بیان، باب: پچھلے باب کا تتمہ، جلد 4، حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اگر ہم نے کسی کو کوئی تحفہ دیا ہے تو اس کو واپس نہیں لینا چاہیے کہ ایسا شخص اس کتے سے بھی بدتر ہے جو اپنی قے (یعنی vomit) کر کے چاٹ لے۔

(2) یعنی حرص و حب جاہ کی مذمت: عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ

یعنی: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “ ( فیضان ریاض الصالحین، زھد و فقر کی فضیلت، جلد 4، حدیث نمبر 485)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ مال و دولت اور عزت و شہرت کی خواہش انسان کے دِین کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہے نیز مال و دولت سے ناجائز محبت کرنے والا حلال و حرام میں امتیاز نہیں کرتا۔

(3) عالم اور عابد کے متعلق دلچسپ تشبیہ: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ"

یعنی روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، علم کی کتاب، باب علم کا بیان، جلد 1 حدیث نمبر 213)

(4) جنت جوتوں کے تسموں سے زیادہ قریب ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ یعنی حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘ ( فیضانِ ریاض الصاحین، باب مجاہدہ کا بیان، جلد 2، حدیث نمبر 105)

(5) ویران گھر:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ یعنی حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسر َضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“( فیضانِ ریاض الصالحین، کتاب الفضائل باب قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت، جلد 7، حدیث نمبر 1000)

اس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔

ان تمام احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کے لیے کس قدر تشبیہات بیان فرمائی ہیں تاکہ آپ ﷺ کی امت امتحان آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے۔ ان احادیث مبارکہ کے علاوہ اور بہت سی احادیث مبارکہ ہیں جن میں خاتم الانبیاء ﷺ نے تشبیہات سے امت مسلمہ کی تربیت فرمائی مگر اس چھوٹے سے مضمون میں انہیں سمیٹنا ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مذکورہ احادیث پاک کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


نبی کریم ﷺ   تشبیہات (مثالوں) کے ذریعے دین کی باتیں لوگوں کو سمجھاتے تھے، تاکہ عام فہم انداز میں پیچیدہ باتیں بھی لوگوں کے دل میں اُتر جائیں۔

قرآن مجید میں تشبیہ کی مثال: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ- مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ- اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ ترجمہ کنزالایمان: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے۔ (پ18، النور: 35)

اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے نور کو ایک چراغ کے ذریعے سمجھایا۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کی ہدایت دلوں کو روشنی بخشتی ہے، جیسے چراغ اندھیرے میں روشنی دیتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں تشبیہات:

(1) علم اور ہدایت کی مثال: مثلی و مثل ما بعثني الله به كمثل رجل أتى قومًا، فقال: يا قوم، إني رأيت الجيش بعيني، وإني أنا النذير العريان (صحیح بخاری، حدیث 6091) ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور اس ہدایت کی مثال جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اس آدمی کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے: ’’اے میری قوم! میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں، لہٰذا بھاگ نکلو۔‘‘

یہ مثال واضح کرتی ہے کہ نبی ﷺ انسانیت کو خطرے (آخرت کے عذاب) سے خبردار کرنے والے ہیں، جیسے ایک شخص خطرے کی صورت میں اپنی قوم کو خبردار کرتا ہے۔

(2) نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال: مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير (صحیح بخاری، حدیث 5534 / صحیح مسلم) ترجمہ: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی ہے۔ مشک بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم خرید لو گے، یا کم از کم خوشبو پاؤ گے۔ جبکہ لوہار یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس کی بدبو محسوس کرو گے۔

یہ حدیث انسان کے ساتھی کے اثر کو بیان کرتی ہے۔ نیک دوست فائدہ دیتا ہے، جبکہ بُرا دوست نقصان۔


نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے   معلم کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے وہ حکیمانہ طریقے اپنائے جو نہ صرف عقل کو قائل کرتے تھے بلکہ دل کو بھی متاثر کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مؤثر اور دلنشین طریقہ تشبیہات کے ذریعے تربیت ہے۔ تشبیہات یعنی کسی بات کو سمجھانے کے لیے اسے کسی معروف چیز سے تشبیہ دینا یہ ایسا انداز ہے جو بات کو نہایت سادہ، واضح اور یادگار بنا دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان، اخلاق، عبادات اور اجتماعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ایسی تشبیہات بیان فرمائیں جو سننے والوں کے ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑتیں۔ آپ ﷺ کی دی گئی تشبیہات صرف الفاظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں حکمت، مثال، اور عملی سبق چھپا ہوتا تھا، جو تربیت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

احادیث کریمہ:

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔(بخاری)( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 3018)

حدیث:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ حدیث:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے (مسلم،بخاری)( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 3 حدیث 1864)

حدیث: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث:روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 213)

نبی کریم ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا نہایت مؤثر، حکیمانہ اور فطری انداز تھا، جو آج بھی تعلیم و تبلیغ کے میدان میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے عام فہم اور دل سے قریب مثالوں سے لوگوں کو نہ صرف قائل کیا بلکہ ان کے دلوں میں بات کو راسخ کر دیا۔ آپ کی تشبیہات علم و حکمت سے بھرپور ہوتی تھیں، جو ہر طبقے کے لیے یکساں مؤثر ثابت ہوتیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ تعلیم و تربیت کے عمل میں اس نبوی اسلوب کو اپنائیں، تاکہ بات صرف زبان سے نہ نکلے بلکہ دل تک پہنچے اور عمل کا ذریعہ بنے۔

اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


رسول اکرم ﷺ   بہترین معلم، مربی، رہنما ہیں ۔ آپ نے جس طریقے سے انسانوں کی تربیت فرمائی، وہ نہایت حکمت، شفقت، فہم اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ تھا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نہ صرف واضح اور بامعنی تھیں بلکہ آپ ان تعلیمات کو مؤثر اور دلنشین بنانے کے لیے تشبیہات کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔

تشبیہ (مثال) ایک ایسا فصیح اور بلاغت سے بھرپور اسلوب ہے جو پیچیدہ مفاہیم کو آسان بنا دیتا ہے۔ یہ طریقہ تفہیم کو گہرا اور مؤثر بناتا ہے، اور سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

تشبیہ کا مفہوم: تشبیہ سے مراد کسی نادیدہ، غیر محسوس یا پیچیدہ حقیقت کو کسی معروف اور محسوس شے سے اس انداز میں بیان کرنا ہے کہ سامع یا قاری فوراً مفہوم کو سمجھ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی فطری انسانی رجحان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تشبیہات کو ذریعۂ تعلیم بنایا۔

رسول اللہ ﷺ کے تشبیہی اسلوب کی حکمتیں:

1 افہام و تفہیم میں آسانی

2 دل پر اثر پیدا کرنا

3 یادداشت کو مضبوط بنانا

4 عبرت و نصیحت کو گہرائی دینا

5 جذبہ بیدار کرنا

تشبیہات کی چند نمایاں مثالیں:

نیک اور بُرے ساتھی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھےاور بُرے ہم نشیں کی مثال مُشک کے اُٹھانے اور بھٹّی سُلگانے والے کی سی ہے مُشک والا تمہیں مُشک ویسے ہی دے گا یاتم اس سے خریدو گے ، اور کچھ نہ سہی تو خوشبو تو آئے گی اور بھٹّی دھونکنے والا تمہارے کپڑے جلادے گا یاتم اس سے بدبوپاؤ گے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار وبیع المسک، ۲/۲۰، الحدیث: ۲۱۰۱)

یہ تشبیہ معاشرتی اثرات کو سمجھانے کے لیے نہایت مؤثر ہے کہ صحبت انسان کے اخلاق و کردار پر کس قدر اثر ڈالتی ہے۔

نماز کی اہمیت کی تشبیہ: آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے صِحْن میں نہر ہو ، ہر روز وہ 5 بار اُس میں غُسْل کرے تو کیا اُس پر کچھ مَیْل رہ جائے گا ؟ لوگوں نے عَرْض کی: جی نہیں ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: نَماز گُناہوں کو ایسے ہی دھو دیتی ہے جیسا کہ پانی مَیل کو دھوتا ہے۔ ( ابن ماجہ ، ۲ / ۱۶۵ ، حدیث: ۱۳۹۷)

یہ ایک انتہائی سادہ مگر گہری تشبیہ ہے جس سے نماز کی روحانی صفائی کو ذہن نشین کروایا گیا۔

دنیا کی حقیقت کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا بیان کرتےہیں کہ اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے میرا کاندھا پکڑکرارشادفرمایا:کُنْ فِی الدُّنْیَاکَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْکَعَابِرِ سَبِیْلٍ یعنی دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم پردیسی یامسافرہو۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی کن فی الدنیا…الخ، 4/ 223، حدیث:6416)

یہ تشبیہ دنیا کی ناپائیداری اور عارضی حیثیت کو واضح کرتی ہے اور انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرتی ہے۔

تربیت کا جامع انداز: آپ ﷺ کی تربیت کا انداز صرف تشبیہات تک محدود نہ تھا بلکہ آپ موقع، مزاج اور ماحول کے مطابق مختلف اسالیب اختیار فرماتے۔ تشبیہات میں وہ نفسیات، حکمت، زبان کی فصاحت اور ذہن پر گہرے اثرات کو بروئے کار لاتے۔ آپ نہ صرف حقائق بیان کرتے بلکہ سامع کے قلب و دماغ میں اُتر جانے والی مثالوں سے اس کی اصلاح کرتے۔

تشبیہات کی اثر پذیری: تشبیہات چونکہ محسوسات کے ذریعے نامحسوسات کو سمجھاتی ہیں، اس لیے یہ انسان کی یادداشت پر گہرا نقش چھوڑتی ہیں۔ آج بھی ماہرینِ تعلیم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مثالوں کے ذریعے تعلیم دینا سیکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو 1400 سال قبل ہی عملًا ثابت کر دیا۔

رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت فطرت انسانی سے ہم آہنگ، اثرانگیز، اور لازوال حکمتوں سے بھرپور تھا۔ تشبیہات کا استعمال آپ کی تعلیمات کا نہایت اہم پہلو تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ نے گہرے مفاہیم کو عام فہم انداز میں پیش کیا۔ یہ انداز نہ صرف تعلیم کے لیے مؤثر تھا بلکہ تربیت، نصیحت، دعوت اور تزکیہ نفس کے لیے بھی نہایت کارگر ثابت ہوا۔

اللہ عزوجل ہمیں حضور کی احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن و حدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


تربیت کے بے شمار نت نئے انداز ہیں تربیت کسی بھی چیز سے کی جا سکتی ہے مثلاً قول کے ذریعے اور فعل کے ذریعے تاکہ سمجھنے والے اچھے سے سمجھ سکیں تمام کائنات کے تربیت کرنے والے ایک جانب محبوب خدا آقا  کریم خاتم النبیین ﷺ کا مبارک انداز ایک جانب، جن کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ان کی زندگی ایک کامل نمونہ ہے جن کی ہر بات وحی خدا ہے آپ ﷺ نے اپنی امت کو تشبیہات کی صورت میں بھی تربیت فرمائی، آئیے ہم انہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کس طرح ہماری تربیت فرمائی:

( 1)دے کر واپس لینے والا: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں (بخاری) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،تجارتوں کا بیان باب: پچھلے باب کا تتمہ، جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

) 2)کنجوس اور سچی کی کہاوت: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے (مسلم،بخاری)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، زکوٰۃ کا بیان/باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی ،جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

( 3)قرآن کی مثال: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضاءل جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

( 4)جنت بھی قریب ہے اور جہنم بھی: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض الصالحین باب مجاھد کا بیان ، جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


اللہ رب العزت انسان کو فہم و ادارک کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ اور تعلیم و تربیت کے عمل میں مؤثر انداز بیان نہایت اہمیت کا حاصل ہے ۔  آپ ﷺ نے مختلف طریقوں سے انسانیت کی رہنمائی فرمائی جن میں تشبیہات یعنی کسی بات کو کسی مثال یا چیز سے تشبیہ دینا ایک نہایت موثر اور دل نشین اسلوب ہے ۔ آئیے ہم اس مضمون کے متعلق چند احادیث پڑھتےہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے عطر بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی والا عطر بیچنے والا یا تو تمہیں کچھ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم خوشبو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا بدبو محسوس کرو گے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 5534)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ وقت کی نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی دروازہ کے سامنے ہو اور وہ ہر دن پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے یا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہ جائے گا صحابہ نے عرض کیا: "نہیں"تو آپ ﷺ نے فرمایا یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 528)

تشبیہات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے دین کی باریکیوں کو عام فہم انداز میں لوگوں تک پہنچایا آپ کی تشبیہات نہ صرف ذہن نشین ہونے والی ہوتی بلکہ ان میں حکمت فصاحت اور مقصدیت بھی نمایاں ہوتی۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبیین ﷺ