ہمارے
معاشرے میں کچھ عورتیں اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہیں جو عورتیں اپنے شوہر کو
تکلیف دیتی ہیں اس کی نافرمانی کرتی ہیں بطور سزا ایسی عورت پر اللہ کے فرشتے تک
لعنت کرتے ہیں۔
حدیث
مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے
ہیں: میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس
جہنم میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ
کیوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے کہا گیا کہ کیا
وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: وہ خاوند کی نافرمانی
کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر
احسان کرے پھر وہ آپ میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہے میں نے تجھ میں کبھی
خیر نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 29)
حدیث
مبارکہ میں ہے: اس عورت کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی
نافرمانی کرے جب تک وہ اس نافرمانی سے باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر،3/36)
ایک
اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا میں جب کوئی عورت اپنے شوہر کو ستاتی ہے تو جنت میں
موجود اس کی خوبصورت انکھوں والی حور بیوی اس کی دنیاوی بیوی سے کہتی ہے تیرا
ستیاناس ہو اس کو مت ستا یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے اور جلد ہی تجھ سے جدا
ہو کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔ (ترمذی، 2/392، حدیث: 1177)
حضرت
امام موسی کاظم سے دریافت کیا گیا کہ جو عورت اپنے شوہر سے بدزبانی کرتی ہے اس پر
غضبناک ہوتی ہے کیا اس کی نماز قبول ہوگی اور خدا کے نزدیک اس کا کیا مرتبہ ہے
فرمایا جب تک شوہر راضی نہیں ہوگا وہ گنہگار رہے گی۔
نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: اس عورت کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو خاوند کا شکر ادا
نہیں کرتی حالانکہ یہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔