حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کسی بھی عورت کے لیے
جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں نفلی روزہ رکھے البتہ اپنے شوہر کی
اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت کے بغیر کسی غیر شخص کو اس کے
گھر میں آنے دے۔ (فیضان ریاض الصالحین، 3/496، حدیث: 282)
اس
حدیث سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہ نفلی روزہ رکھے اور نہ ہی
نفلی عبادت کرے کہ نفلی روزہ رکھنے سے اس کی خدمت میں کوئی خلل نہ آئے۔
حضرت
محمد ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر کے آگے زبان کھولی اور اس کو برابر کے
جواب دیئے اور اس کی عزت کو تار تار کیا فرمایا قیامت کے دن اللہ اس کی زبان کو 70
گز لمبا کر دے گا، اس کے گلے کے ساتھ لپیٹ دے گا اور فرمایا وہ تڑپے گی روئے گی یا
اللہ یہ کیا ہوا رب فرمائے گا تو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی تھی تو اس کا احترام
نہیں کرتی تھی تو اس کا کہنا نہیں مانتی تھی تو اس کی اطاعت نہیں کرتی تھی تو اس
کے حکموں پہ نہیں چلتی تھی اس لیے تم پر یہ عذاب نازل ہوا۔
بیوی
کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر بلا وجہ گھر سے چلے جانا جائز نہیں ہے شرعا وہ
نافرمانی ہے اور ایسی صورت میں شوہر اپنے بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہے
یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے حدیث مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں وعید آئی ہے،
حدیث شریف میں ہے کہ ایک خاتون نبی پاک ﷺ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول
اللہ ﷺ! میرا شوہر تجارت کے سلسلے سے غیر ممالک کیا ہے اور مجھے پیغام ملا ہے کہ
میرا باپ بیمار ہے تو کیا میں اپنے باپ کی عیادت کرنے کے لیے جا سکتی ہوں تو حضور
اکرم ﷺ نے فرمایا تو جا سکتی ہے لیکن تیرے لیے بہتر ہے کہ تم اپنے شوہر کی اجازت
کے بغیر گھر سے نہ نکلے پھر کچھ دن بعد اس عورت کو خبر ملی کہ اس کے باپ کا انتقال
ہو گیا ہے تو وہ روتی ہوئی حضور پاک ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی
یا رسول اللہ ﷺ اب تو میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے تو کیا میں اپنے والد کا آخری
بار چہرہ دیکھ آؤں تو حضور پاک ﷺ نے فرمایا: تو اپنے شوہر کی فرمانبرداری کر یہ
تیرے لیے بہتر ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر ہمیں کوئی
بھی کام نہیں کرنا چاہیے۔
نبی
کریم ﷺ نے فرمایا کہ تقوی کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں اور
وہ کیا ہے فرمایا کہ اگر شوہر بیوی کو حکم دے تو بیوی اس کی اطاعت کرے اور اگر
شوہر بیوی کو دیکھے تو خوش ہو جائے اور وہ اگر اپنے بیوی کے متعلق قسم کھا بیٹھے
تو بیوی اس کی قسم کو سچا کرے اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو بیوی اپنے نفس اور
شوہر کے مال کے معاملے میں بھلائی کرے۔
عورت
پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس اور گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کے لیے
بناؤ سنگار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی خوبی یہ
بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اس سے دیکھے تو وہ اس سے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ،2/414،
حدیث: 285)
بیوی
میں دس قسم کی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے سونے جاگنے
بولنے چلنے دس قسم کی عادتیں ہوتی ہیں یا اخلاقیات خراب ہوتے ہیں یا عبادات کے
معاملے میں کمزوریاں ہوتی ہیں بہت ساری اگر شوہر اپنی بیوی کی باتیں سب کو بتاتا
پھرے یا بیوی اپنے شوہر کی باتیں سب سے کرتی پھرے تو اس سے گھر کا ماحول خود با
خود خراب ہوتا ہے میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی
باتیں اپنے کمرے تک ہی محدود رکھیں تاکہ نہ اولاد کے سامنے کریں اور نہ ہی شوہر
اپنے والدین کے سامنے اپنی بیوی کی خامیاں بیان کرے انہیں چاہیے کہ اپنے اندر کے
حالات کمرے تک ہی محدود رکھیں اگر شوہر کوی پرابلم ہے تو اپنی بیوی سے شیئر کریں
اور اگر بیوی کو کوئی پرابلم ہے تو وہ اپنی باتوں کو اپنے شوہر کے ساتھ شیئر کریں۔
نبی
کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے
پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے
شوہر کا حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)
پیاری
پیاری اسلامی بہنوں ان احادیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ شوہر کا حق بہت بڑا ہے اور
عورت پر ان کی ادائیگی فرض ہے۔ اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں ان حقوق کی پابندی
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین