شوہر
کی نافرمانی از بنت ساجد حسین ہاشمی، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
عورتوں
میں جو عام کمزوری پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ شوہر کی زرا سی بدسلوکی پر اس کے عمر
بھر کے حسن سلوک کو بھلا کر صرف کچھ وقت کے برے سلوک کو یاد کرتی ہیں اور ہمیشہ
اسے بھی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ شوہر کی اس قدر اہمیت ہے کہ خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے
کئی مقامات پر شوہر کی اہمیت و مقام کو بیان فرمایا ہے۔ حضور پاک ﷺ نے ارشاد
فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو
حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)
ہمارے
معاشرے کی عورت اتنی خود سر ہو گئی ہے کہ شوہر جسے الله اور اس کے رسول نے اتنی
اہمیت و عزت دی ہے کہ اس کی بے عزتی و نا فرمانی میں مشغول ہے اپنے شوہر کے حقوق
سے بالکل بے خبر اپنی آخرت کو برباد کر رہی ہے ہمیشہ کسی نہ کسی طرح شوہر کو تکلیف
پہنچاتی ہے ایسی عورتیں حضور پاک ﷺ کے اس فرمان سے بھی بالکل بے خبر ہیں۔
حضور ﷺ
نے فرما یا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف پہنچاتی ہے تو اس کی (جنت والی) بیوی
یعنی بڑی آنکھوں والی حور کہتی ہے کہ تجھ پر اللہ کی مار پڑھے (یعنی الله تجھے جنت
اور اپنی رحمت سے دور رکھے) اپنے شوہر کو تکلیف مت پہنچا کیونکہ وہ دنیا میں(تیرا
مہمان ہے) جو جلد ہی تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس جنت میں آ جائے گا۔ (ترمذی، 2/392،
حدیث: 1177)
شوہر
کی نافرمانی کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے آج کسی بھی گھر کی بربادی اور میاں بیوی کے آپسی
جھگڑے کی سب سے بھری وجہ سوشل میڈیا ہےاگر بیوی نیٹ استعمال کر رہی ہے اسی وقت
شوہر اسے کہے کہ ایک کپ چائے بنا دو تو بجائے اسے وہ دس بہانے بنا دے گی بدتمیزی
کرے گی اور بات کرتے ہوئے لحاظ ہی بھول جائے گی ایسی عورتوں کے بارے میں فرمان ہے:
زیادہ تر دوزخ میں ڈالی جانے والی عورتیں وہ ہو گی جو نا شکری کی وجہ سے عذاب کی
مستحق ہو گی یعنی وہ عورتیں جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہیں۔
اس
حدیث میں عبرت ہے ان عورتوں کے بارے جو شوہروں کے ساتھ بدسلوکی اور ناشکری کرتی ہیں
وہ اپنے شوہروں کے ساتھ احسان شناسی کا رویہ اختیار کرے شوہر اپنی محنت سے جو کما
کر دے اس میں اللہ کا شکر ادا کرو البتہ شوہر اگر آسانی کی وجہ سے بیوی کے جائز
حقوق ادا نہیں کرتا تو اس کی ملاقات احسان نا شاسی نہیں ہو گی۔