اللہ
اوراس کے رسول کے بعد عورت پر جس بندے کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے وہ اس کا
شوہر ہے اسلام میں عورت کو شوہر کی مکمل فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر
شوہر بیوی کو کسی کام سے منع کر دے تو بیوی پر اس کی بات ماننا لازمی ہے شرط یہ کہ
وہ خلاف شرع نہ ہو حدیث میں ہے کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو عورت
کو حکم ہوتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)
اس سے
معلوم ہوا کہ عورت کے لیے شوہر کی فرمانبرداری میں ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
بہت
سی احادیث مبارکہ میں شوہر کی نافرمانی کرنے والیوں کی مذمت کی گئی:
1۔ شوہر کے ساتھ خیانت: آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں کے
بارے میں مت پوچھو کہ ان کی کتنی سخت سزا ہوگی: 1۔ وہ شخص جو مسلمان کی جماعت سے
الگ ہو جائے اور اپنے امیر کی نافرمانی کرے 2۔ وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے
اور اس کی نافرمانی میں اسے موت آ جائے 3۔وہ عورت جس کا شوہر اس کو ضروریات اور
خرچہ دے کر کہیں چلا جائے وہ اس کے مال اور اپنی عفت کے ساتھ خیانت کرے۔
2۔ شوہر کی ناشکری: حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ آقا
ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جہنم دکھائی گئی تو دیکھا کہ اس میں ایسی عورتیں ہیں جنہوں نے
شوہر کی ناشکری کی اور ان کے احسانات کو فراموش کر دیا اور اگر تم ان میں سے کسی
پر احسان کرو پھر تم سے کوئی بات خلاف مزاج دیکھ لے تو کہہ دے گی کہ میں نےتو کبھی
بھی تم سے خیراوربھلائی نہیں دیکھی۔ (بخاری، 1/9، حدیث: 129)
3۔ نماز قبول نہ ہونا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس عورت
کی نماز اس کے سر سے آگے نہیں بڑھتی جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے جب تک وہ اس سے
(نافرمانی) باز نہ آجائے۔ (طبرانی کبیر3/36)
4️۔فرشتوں کا لعنت کرنا: آقا ﷺ نے ارشاد فرمای:ا جب شوہر اپنی
بیوی کو اپنے بستر پر بلائے وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے
صبح تک اس پرلعنت بھیجتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)
5۔ نظر رحمت سےمحرومی: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک
اس عورت طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا جو خاوند کا شکریہ ادا نہیں کرتی حالانکہ یہ
اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ (الترغیب و الترہیب،3/102، حدیث: 1944)