اَلرِّجَالُ
قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ
بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ
لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے
کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے
مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس
طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔
اسکے
علاوہ کثیر احادیث مبارکہ میں بھی شوہر کی نافرمانی سے بچے رہنے کا ذہین دیا گیا
ہے ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے۔
1۔ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: کسی بھی عورت کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی
میں نفل روزہ رکھے البتہ اپنے شوہر کی اجازت سے روزہ رکھ سکتی ہے اور نہ ہی اسکی
اجازت کے بغیر کسی شخص کو اسکے گھر میں آنے دے۔
اس سے
معلوم ہوا عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے اسکی خدمت میں روزہ رکھنے
سے کوئی خلل نہ آئے اور اسکی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو نہ آنے دے۔ (فیضان ریاض
الصالحین، 3/496، حدیث: 282)
2۔ فورا
حکم بجا لائے جب کوئی آدمی اپنی حاجت کیلئے اپنی بیوی کو بلائے تو وہ آجائے اگرچہ
وہ تنور پر روٹیاں کیوں نہ پکا رہی ہو۔ (ترمذی، 2/386 حدیث 1163)
3۔ فرمان
مصطفیٰ ﷺ: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ وہ زرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا کر
سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سفید پہاڑ پر لے جائے تو عورت
کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)
4۔ اللہ
پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو بچھونے پر بلائے اور وہ نہ آئے
شوہر ناراضگی کی حالت میں رات بسر کرے تو اس عورت پر فرشتے صبح تک لعنت بھیجتے
رہتے ہیں۔ (بخاری، 2/377، حدیث: 3237)
ان
احادیث میں شوہر کی نافرمانی کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں نیز ان احادیث سے معلوم
ہوا کہ بیوی کو ہر حال میں شوہر کی اطاعت و فرمابرداری کرنا ضروری ہے۔
5۔ اگر
میں کسی شخص کو کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ
اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)
6۔ تم
میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اسکی نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا حاکم
نگران ہے آدمی گھر والوں کے بارے میں نگران ہے عورت اپنے شوہر کے گھر اور اسکی
اولاد کی نگران ہے تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اسکی نگرانی کے بارے میں
حساب لیا جائے گا۔ (مسلم، ص 116، حدیث: 1892)