اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک کے حقوق بنائے ہیں جس طرح والدین پروسیوں کے حقوق ہیں اسی طرح جب میاں بیوی شادی کے ایک بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت کی جانب سے ان پر حقوق عائد ہوتے ہیں واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا عورت کا شوہر کی نافرمانی کرنا اسکو تکلیف پہنچانا شرعا ناجائز و حرام ہے۔

اس بات کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو خدا کے علاوہ کسی اور کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم کرتا۔ (ابن ماجہ،2/411، حدیث: 1853)

شوہر کی نافرمانی کی بہت سی مثالیں ہیں چند درج ذیل ہیں:

جب شوہر کام کرنے کے لیے باہر نکلے تو عورت گھر میں کسی غیر مرد کو نہ آنے دے اور نہ ہی اس کے بستر پر کسی غیر مرد کو بٹھائے۔

بیوی کو ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے اس کا شوہر ناراض ہو کیونکہ شوہر کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔

حدیث نبوی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے عورتو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے شوہر کی رضا کو لازم پکڑو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو صبح شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔ (کنز العمال، جز 16، 2/ 145، حدیث: 44809)

عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم لباس گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش ہو چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی یہ بیان فرمائی کہ اگر اس کا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ، 2/44، حدیث: 2857) عورت ہر گز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے آج کل خواتین اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں چنانچہ نبی کریم ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق استفسار کیا گیا تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔ (بخاری، 3/463، حدیث: 5197)

نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجالانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)