انسان  مجرد تصورات کو سمجھنے میں اکثر دشواری محسوس کرتا ہے، مگر جب کوئی بات کسی مثال یا کسی تشبیہ ، جس سے وہ واقف ہو اس کے ذریعہ بیان کی جائے تو وہ دل میں اتر جاتی ہے اور دیر تک ذہن میں باقی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ جلّا شانہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ (پ28، الحشر:21) اسی لیے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو "وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ" کے منصب پر فائز تھے ، جب تعلیم و تربیت فرماتے تو اس میں ایسی تشبیہات اور مثالیں بیان فرماتے کہ وہ بات نہ صرف سمجھ میں آتی بلکہ دل پر بھی نقش ہو جاتی ۔

(1) آگ اور اس کے گرد جمع ہونے والے پتنگے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: میری کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی جب آگ نے ارد گرد کو چمکا دیا تو پتنگے اور یہ جو آگ میں گرا کرتے ہیں (جانور) اس میں گرنے لگے اور انہیں روکنے لگا اور وہ جانور اس پر غالب آئے جاتے ہیں آگ میں گرے جاتے ہیں چنانچہ میں تمہاری کمر پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جاتے ہو  یہ بخاری کی روایت ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:1 ، حدیث نمبر:149)

(2) بخل اور اسراف کرنے والے کو تشبیہ سے ظاہر کرنا: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ

ترجمہ: "حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔"( فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 ، حدیث نمبر:560)

(3) صحابہ کرام کو برا نہ کہو: عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفِهِ

ترجمہ:"روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد(پہاڑ) بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو پہنچے نہ آدھے کو" ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:8 ، حدیث نمبر:6007)

(4) قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال: عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے  جس کی خوشبو بھی اچھی اور  ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال  کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995 )

(5) رب کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کو تشبیہ دینا:وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

ترجمہ:"روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  اللہ ﷺ نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:3 ، حدیث نمبر:2263)

ان تمام احادیث ، قرآن اور دیگر سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت دنیا کے تمام معلمین کے لیے ایک ابدی مثال ہے۔ آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نہ صرف دلوں کو مسخر کیا ، بلکہ کردار سازی کی بنیاد بھی رکھی، اور امت کو حق و صداقت کی طرف راغب کیا۔آج اگر ہمیں اپنی نسلوں کو اخلاق، کردار، ایمان اور شعور سے آراستہ کرنا ہے، تو ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسی طرزِ تربیت کو اپنانا ہوگا،جہاں تعلیم صرف زبانی نہیں، بلکہ عمل سے جڑی ہو، جہاں نصیحت محض الفاظ نہیں، بلکہ مثال ہو، اور جہاں اصلاح محض الزام نہیں، بلکہ جذبہ محبت سے آراستہ ہو۔