اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو معلمِ انسانیت بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کا اندازِ تربیت نہایت حکیمانہ اور دلنشین تھا۔ آپ ﷺ لوگوں کی عقل، مزاج اور فہم کے مطابق بات سمجھاتے، جس میں ایک مؤثر اسلوب "تشبیہ" کا بھی تھا۔ تشبیہ کا مطلب ہوتا ہے ایک چیز کو کسی اور چیز کے جیسا قرار دینا تاکہ سننے والا بات کو واضح طور پر سمجھ سکے۔تشبیہ، صرف زبان کی زینت نہیں بلکہ تربیت کا ایک انتہائی پُراثر ذریعہ ہے۔ حضور ﷺ نے قرآن پڑھنے والے، نیک و بد صحبت، مؤمن و منافق، عالم و جاہل، سب کے کردار کو ایسی عمدہ تشبیہات سے واضح کیا کہ وہ دل میں اُتر جائیں۔

مؤمن ،منافق اور قرآن میں تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ (صحيح البخاری: 5427)

ترجمہ: حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہےاور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے۔اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہےاور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔

مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب "فیضان ریاض الصالحین،جلد:7 "میں اس حدیثِ پاک کی تشریح کا خلاصہ کچھ یوں ہے:علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اس حدیثِ پاک میں حضورﷺ نے معقول چیز کو محسوس چیز سے تشبیہ دی ہے۔ قرآن مجید کا بندے کے ظاہر و باطن پر اثر ہوتا ہے" (یعنی مومنوں میں روحانی درجات کا فرق قرآن سے تعلق کے سبب ہوتا ہے؛ کوئی قاریِ قرآن ہے تو کوئی محض ایمان رکھتا ہے، مگر پڑھتا نہیں۔)

مفسرِ شہیر، مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ اس حدیث کی روشنی میں ارشاد فرماتے ہیں:"تلاوتِ قرآن کا اثر ظاہر و باطن دونوں پر ہوتا ہے جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسے ہی قرآن کی تاثیر" آپ نے اس ضمن میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بھی نقل فرمایا کہ جب انہوں نے انڈے پر "قُلْ هُوَ اللَّهُ" پڑھا تو وہ سونا بن گیا، اور فرمایا: "کلامِ ربانی کے ساتھ زبانِ فرید ہونی چاہیے"۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ محض قرآن پڑھنا کافی نہیں، بلکہ دل اور نیت کا تعلق بھی قرآن سے ہونا چاہیے۔ اگر دل مدینہ کی طرف ہو، تو زبان سے مدینہ کا فیضان نکلتا ہے، اور اگر دل دنیا یا شیطان کی طرف ہو تو وہی اثر ظاہر ہوتا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995)

ہدایت و علم اور بارش میں تشبیہ:وَعَنْ أَبِي مُوسٰى رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللہ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللہ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللہ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ (صحیح بخاری، حدیث: 79)

ترجمہ: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا ۔

اچھے اور برے ساتھی کی تشبیہ عطار اور لوہارکے ساتھ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ وَكِيرِ الْحَدَّادِ، لَا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ: إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ: يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ، أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح بخاری، حدیث: 2101)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔

رسولُ اللہ ﷺ کا اندازِ تعلیم ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کی بات کو محبت، حکمت اور مثالوں کے ذریعے سکھایا جائے۔ تشبیہات کی زبان نہ صرف آسان ہوتی ہے بلکہ دل میں اُتر جاتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں کو دین سکھانے کے لیے آپ ﷺ کے طریقے کو اپنائیں، نرمی، وضاحت اور حکمت کے ساتھ۔