نبی کریم   ﷺ کو اللہ تعالی نے بے شمار خوبیوں سے نوازا انہی میں سے دو عظیم اوصاف فصاحتِ لسان اور ملکۂ تفہیم بھی ہیں کہ نہ آپ سے بڑھ کر کوئی فصیح ہے نہ کو مُفہِم ،خود فرماتے ہیں "انا افصح العرب " (شرح السنۃ للبغوی:4/202، المكتب الإسلامی) )یعنی میں اہل عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں،اور صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا اندازِ تفہیم ایسا تھا کہ دوران گفتگو نہ صرف بات سمجھ لی جاتی بلکہ یاد بھی ہو جاتی ہے ،آپ علیہ السلام مختلف انداز سے صحابہ کی تربیت فرمایا کرتے انہی میں سے ایک مؤثر انداز تشبیہ وا مثلہ کے ذریعےتفہیم و تربیت ہے کہ مشاہَد و مرئی چیزوں کے ذریعہ تفہیم سے بات دل میں جلدی قرار پکڑتی ہے۔ بہت ساری احادیث میں تشبیہات کے ذریعے تربیت کی گئی چند امثلہ پیش خدمت ہیں۔

صحابہ کا مقام: مثل أصحابي مثل الملح في الطعام ‌لا ‌يصلح ‌الطعام ‌إلا به (مسند البزار: 13/219 ، مکتبۃ العلوم والحکم) یعنی لوگو! میرے صحابہ کی مثال نمک کی مانند ہے کہ نمک اگرچہ تھوڑا ہوتا ہے لیکن کھانا اس کے بغیر درست نہیں ہوتا۔

یونہی صحابہ تعداد میں کم ہیں لیکن دین کا قیام اور شان و شوکت انہی کے ساتھ ہے۔

اہلبیت کا مرتبہ:مثل ‌أهل ‌بيتي ‌كمثل ‌سفينة ‌نوح من ركب فيها نجا، ومن تخلف عنها غرق یعنی میری اہل بیت سفینہ نوح کی مانند ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو پیچھے رہ گیا غرق ہوگیا۔ (مسند البزار:9/343،مکتبۃ العلوم والحکم)

علم غیر نافع:إن ‌مثل علم لا ينفع، ‌كمثل كنز لا ينفق في سبيل الله یعنی علم غیر نافع کی مثال اس خزانے کی طرح ہے جس سے اللہ کی راہ میں بالکل بھی خرچ نہ کیا گیا ہو۔ (مسند لامام احمد:16/289،مؤسسۃ الرسالۃ)

جس طرح وہ نفع بخش نہیں بلکہ آخرت میں نقصان دہ ہے اسی طرح یہ بھی نقصان دہ ہے۔

بغیر عمل کے دعا:مثل الذي يدعو بغير عمل، ‌كمثل الذي يرمي بغير وتر یعنی عمل(صالح) کے بغیر دعا بغیر ڈوری والی کمان سے چلائے گئے تیر کی طرح ہے۔ (السنن الکبری للنسائی:10/409،الرسالۃ العالمیۃ)

کہ نہ وہ تیر منزل تک پہنچ سکتا ہے اور نہ یہ دعا ۔

نماز کی عظمت: مثل الصلوات الخمس ‌كمثل نهر جار غمر على باب أحدكم، يغتسل منه كل يوم خمس مرات یعنی پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کسی ایک کے دروازہ کے قریب نہر بہتی ہو اور وہ ہر دن اس سے پانچ مرتبہ غسل کرے (صحیح مسلم:2/132،دار الطبعۃ العامرة) اور ایک روایت میں الفاظ ہیں تو کیا اس کا میل کچیل باقی رہے گا؟یعنی نمازی بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔

صحبت کا اثر: ‌مثل الجليس الصالح والجليس السوء، ‌كمثل صاحب المسك وكير الحداد یعنی اچھے اور برے ہم نشین کی مثال ایسے ہی ہے جیسے عطر والا اور لوہار کی بھٹی (صحیح البخاری:3/184،دار التاصیل) مزید تشبیہ کو کھولتے ہوئے فرمایا عطر والے سے تم خالی ہاتھ نہیں لوٹو گے یا تو کچھ خرید لو گے ورنہ(کم ازکم ) خوشبو تو پاؤ گےجبکہ لوہار کی بھٹی یا تو تمہارے کپڑے یا بدن جل آئے گی ورنہ تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔

اللہ پاک ہمیں نبی ﷺ کے ان فرامین سے تربیت لینے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)