آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت فرمایا کرتے تھے، آپ ﷺ آہستہ آہستہ گفتگو فرماتے تاکہ سامنے والے کو بات سمجھ میں آ سکے مزید آسانی کے لیے آپ ﷺ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے فرماتے اس طرح بات اچھی طرح یاد ہو جاتی ہے ، آج ہم آپ ﷺ کا اپنے صحابہ کو تشبیہات سے تربیت فرمانے کے متعلق پڑھتے ہیں :

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ

ترجمہ:ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہیے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب: ہبہ کرنے کا بیان، باب: کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ یا صدقہ واپس لے لے، حدیث نمبر: 2622)

عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ

ترجمہ: کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے ۔( مسند احمد، ٣/٤٥٦، ٤٦٠ ، وسنن الدارمی، الرقاق ٢١ (٢٧٧٢)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال و جاہ کی محبت اور حرص جس کے اندر آ گئی وہ ہلاکتوں سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا، بدقسمتی سے آج امت اسی فتنہ سے دو چار ہے اور اس کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس انتشار اور شدید اختلافات کا یہ امت اور اس کی دینی جماعتیں شکار ہیں ان کے اسباب میں بھی مال وجاہ کی محبت سر فہرست ہے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ (جامع ترمذی، کتاب: فضائل قرآن کا بیان، حدیث نمبر: 2913)

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

مذکور احادیث میں آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو بہت ہی عمدہ انداز سے تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی۔ ان تشبیہات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کہیں ہمارے اندر کوئی ایسا گناہ تو نہیں کہ جو ہمیں ہی نقصان پہنچا رہا ہو اگر ایسا ہے تو ہمیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے اللہ تعالی ہمیں قرآن و حدیث کے احکام پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین