اسلام ایک جامع اور مکمل دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ نبی کریم  ﷺ نے تعلیمات اسلام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں سمجھانے کے لیے تشبیہات (مثالوں) کا خوب استعمال فرمایا۔ ان تشبیہات کے ذریعے نہ صرف عقائد اور عبادات کی اہمیت واضح کی گئی بلکہ اخلاق تعلقات اور معاشرتی معاملات کی اصلاح بھی فرمائی گئی۔ زیر نظر احادیث میں بھی مختلف اشیاء سے تشبیہ دے کر ایمان ،نماز حرص تصویر سازی اور تحفے جیسے اہم موضوعات کو واضح کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان ان باتوں کو سمجھ کر اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھال سکے۔

(1)ایمان سمٹ جائے گا: فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)

مفتی صاحب اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)

(2)نماز ہر طرح پاک کر دیتی ہے: ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” پانچوں نمازوں کی مثال اس نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ ‘‘

مفتی احمد خان نعیم الدین مراد آبادی حدیث کے تحت فرماتے ہیں : حضورانور ﷺ نے نماز پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سے ۔ دو وجہ سے: ( 1 ) ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں ، نہر کا پانی جاری ہے ، ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے ، یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:429 )

(3)مال و دولت کی حرص: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “

مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : نہایت نفیس تشبیہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دِین گویا بکری ہے اور اس کی حرصِ مال ، حرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیئے مؤمن کے دِین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:485)

(4)تصویر بنانا حرام: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں

یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے ، یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

(5)تحفہ دیا ہوا واپس لینا کیسا: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: اس حدیث کی بناء پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقًا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے،قے حرام چیز ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)