مدثر علی(درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم ،سادھو کی، لاہور ،پاکستان)
تربیتِ انسانی میں مثالیں اور
تشبیہات ایک مؤثر اور دل نشین طریقہ ہیں۔ جب بات کسی نظری یا مشکل حقیقت کی ہو تو
اس کو مثال کے ذریعے واضح کرنے سے سننے والے کے ذہن میں بات جلد بیٹھ جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ معلمِ کائنات ہیں، آپ
نے لوگوں کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت میں تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے
استعمال فرمایا۔ آپ کی مثالیں نہ صرف سادہ
اور فطری ہوتیں بلکہ سننے والے کی عقل و فہم کے مطابق ہوتیں، تاکہ ہر شخص اپنے
درجے کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس اسلوب سے نہ صرف مفہوم واضح ہوتا بلکہ دل
پر اثر اور عمل کی تحریک بھی پیدا ہوتی۔لہذا آپ پانچ احادیث پڑھیے اور اپنی عملی
اور اخلاقی تربیت فرمائیں :
(1) جنت کا قریب ہونا : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی
کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی
جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘( فیضان ریاض
الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے
جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں
جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ
اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں
داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے
والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے
لیے چلنا دشوار ہوجائے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
جنت وجہنم کے قرب کی وجوہات:جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے
بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں اور جس طرح اس تسمے
میں انگوٹھا داخل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے یوں ہی جنت و دوزخ میں داخلہ بھی
بہت سہل، اِسی قُرب و سَہل کو شارِحین نے
مختلف انداز سے بیان کیاہے۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد
بِنْ عَبْدُ اللہ طَیِّبِیْ عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ حدیث میں جنت و دوزخ کی
قُرْبَتْ کو جوتے کے تسمے کی قُرْبَتْ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ثواب وعذاب کا
حصول بندے کی اپنی کوشش سے ہوتا ہے اور کوشش قدموں کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجو شخص کوئی
نیک کام کرے گاوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوگااور جو
بُرا عمل کرےگا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
وعید کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ‘‘ (
فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث
نمبر:105)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی
کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اچھی نیت اور نیک اَعمال کے ساتھ جنت کا
حصول نہایت آسان ہے اور اسی طرح خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بُرے اعمال کے ذریعے
جہنم کا داخلہ بھی۔ ‘‘ (یعنی
اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دائمی طورپر نیک اَعمال کرنے سے جنت میں داخل ہونا آسان
ہوجاتا ہے اور اسی طرح نفس کی اتباع کرنے سے جہنم میں داخل ہونے کے امکانات بھی
بہت زیادہ ہوجاتے ہیں ۔) ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
(2)امین اور سچا آدمی :
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے
فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا
اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں
سے ایک لشکر دیکھا ہے میں کھلا ڈرانے
والاہوں بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک
ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ
رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے
لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو
جھٹلادیا۔(مسلم وبخاری)
یہ تشبیہ مرکب ہے پورے واقعہ کو پورے واقعہ کے
ساتھ مشابہت دی گئی ہے۔اس شخص سے مراد وہ امین اورسچا آدمی ہے جس کی بات پر لوگوں
کو اعتماد ہو۔حضور کی سچائی ظہورنبوت سے پہلے ہی عام خاص میں مشہور ہوچکی تھی۔اس
تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہردنیوی اخروی آنے والے
عذابوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایااور آپ کی بشارت یا ڈرانا مشاہدے سے ہے۔رب
فرماتا ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ
شَاهِدًا عرب میں دستور
تھا کہ خطرناک دشمن کی اطلاع دینے والا اپنا کرتہ لاٹھی پر ٹانگ کر لوگوں میں
اعلان کرتا تھا کہ ہوشیار ہوجاؤ اسے نذیر عریاں کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے
والا۔
یعنی سننے والے دو ٹولہ بن گئے۔ایک ٹولہ نے اس
نذیر کا اعتبارکیا اور دشمن لشکر کے حملے سے قبل اندھیرے ہی بھاگ گئے یہ نفع میں
رہے۔ تو جیسے نجات و ہلاکت کا دارو مدار
اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا
مدار حضور کے ماننے اور نہ ماننے پر ہے۔عذابِ الٰہی گویا لشکر ہے،موت سے پہلے تو
بہ کرلینا گویا بروقت خطرناک جگہ سے نکل جانا ہے اور آخر تک گناہوں میں ڈٹا رہنا
اور حضور کو جھٹلانا گویا خطرناک جگہ میں رہ کر دشمن کے ہاتھوں مارا جانا ہے۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث
نمبر:148)
(3) آگ سے بچانا : حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس
شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور
پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں
تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے)
سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)
انسانوں اورپروانوں کے درمیان
وجہ تشبیہ:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’رسول
اللہ ﷺ نے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے
تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں حالانکہ اُن جاہلوں
کو اُس میں گرنے سے منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ دونوں خود کو
ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)
گرتے ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے
کی وجہ:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب فرماتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی کے
گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی ) جگہ
سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ (کیونکہ یہاں گرفت مضبوط ہوتی ہے۔)شیخ عبد الحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ یعنی یہ مذکورہ حال میرا اور تمہارا ہے کہ
حدودِ الٰہی جو حرام اور ممنوع اُمور پرمشتمل ہیں اُن سے اِجتناب اور دُوری ضروری ہے ۔میں پوری وضاحت سے اُنہیں بیان کر چکا
ہو ں۔جیسے کوئی شخص آگ جلائے اور تم اُس میں گرنا شروع کردو تو میں تمہیں اُس میں
گرنے سے روکتا ہوں ۔ ‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)
(4) آدمی کا بھیڑیا : روایت ہے حضرت معاذا بن جبل سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں
کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔ (احمد)
تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل
ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں
ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)
(5)لوگوں کا سونے اور چاندی کی
طرح کا ہونا: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں
۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر
تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں
جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں
اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ‘‘ بخاری نے یہ حدیث پاک کہ ” روحیں
جمع شدہ لشکر ہیں ۔ “ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کی ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)
انسانوں کی مختلف صفات: مذکورہ حدیث پاک کے دو2 جزء ہیں
۔ پہلے جز ءمیں لوگوں کو سونے اور چاندی کی
کانوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں عزت و
شرف کے حامل تھے وہ اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و اِکرام کے لائق ہیں ۔ حدیث پاک کے دوسرے جُزء میں روحوں کی ایک دوسرے
سے نسبت و تعلق کو بیان کیا گیا ہے ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)
حدیث پاک کی شرح میں ابتداءً پہلے جُزء کی تفصیل
بیان ہوگی اور آخر میں دوسرے جُزء سے متعلق بیان ہوگا ۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ‘‘
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں ہیں مگر سیرت ، اَخلاق
اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف ، نیک سے نیکی ظاہر
ہوگی اور بد سے بدی ۔ ‘‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’یعنی لوگ عُمدہ اَخلاق اور مَحاسِن صفات میں اپنی
قابلیت اور شرافت ذات کے لحاظ سے مُتَفَرِّقْ ہیں جیسے ایک کان وہ ہوتی ہے جو اپنے
اندرلعل و یاقوت پیدا کرنے کی استعداد رکھتی ہے اور ایک کان سونا ، چاندی پیدا کرنے کی
قابلیت رکھتی ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جو لوہا ، تانبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی
ہے اور ایک کان وہ ہوتی ہے جس میں سے سُرمہ اور چُونا وغیرہ پیدا ہوتا ہے ۔ ‘‘ ایسے
ہی انسانوں میں مختلف صفات پائی جاتی ہیں کوئی سخی ہے تو کوئی بخیل ، کوئی شجاع ہے
تو کوئی بُزدِل ، کوئی حُسنِ اَخلاق سے آراستہ ہے تو کسی میں کجی کا غلبہ ہے ۔ (فیضان
ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)
عزت و شرف والے پانچ شخص:حضورنبی اکرم ، شاہِ بنی آدم
ﷺ نے لوگوں کو سونے اور چاندی کی کانوں سے
تشبیہ دینے کے بعد فرمایا کہ جو لوگ زمانہ ٔکفر میں شریف یعنی عزت دار تھے وہ
اِسلام لانے کے بعد بھی شرف و فضیلت کے مستحق ہیں ۔
شارِحِینِ
حدیث نے حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے اِس فرمان کے پانچ 5 معنیٰ بیان کیے
ہیں: ’’ ( 1 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت یعنی کفر کے زمانے میں خصالِ محمودہ یعنی نرمی
اور بُردباری سے متصف تھا اور اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات سے متصف رہا تو وہ
باعزت ہے ۔ ( 2 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں
تو شریف نہ تھا لیکن اِسلام لانے کے بعد باعزت بھی تھا اور علمِ دِین بھی حاصل کیا
تو اس کا مقام و مرتبہ اس شخص سے بڑھ کر ہے جو زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام میں
عزت دار تو ہے لیکن اس نے علمِ دِین حاصل نہیں کیا کیونکہ علم دِین ہی اصل میں
انسان کو شرف و اکرام کا مستحق بناتا ہے ۔ علماء فرماتے ہیں: بے قدر عالِم دِین
باعزت جاہل سے بہتر ہے کیونکہ علم ایسی شے ہے جو پست کو بالا کردیتی ہے ۔ ( 3 ) جو شخص زمانہ ٔجاہلیت اور زمانہ ٔاسلام
دونوں میں شریف ہے اور اس نے علم دِین بھی حاصل کیا تو اس کا مرتبہ مذکورہ بالا
دونوں افراد سے بلند ہے ۔ ‘‘(4 ) شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’ جو شخص زمانہ ٔجاہلیت میں نیک ، قبائل میں برگزیدہ
، اپنے ہم عصروں پر فائق اور اچھی عادات و صفات سے آراستہ تھا ، دِین اسلام میں
آنے کے بعد بھی اس سے حمیدہ اَوصاف اور برگزیدہ اَفعال وجود میں آتے ہیں لیکن
زمانہ ٔجاہلیت میں وہ ظلمت و کفر میں چھپا ہوا تھا جس طرح سونا چاندی کان میں مٹی
سے ملا ہوا ہوتا ہے اور جب انہیں بھٹی میں ڈال کر تپایا جاتا ہے تو یہ صاف ہو کر
پوری آب و تاب سے چمکنے لگتے ہیں ۔ اسی
طرح جس شخص کی اچھی صفات کفر کے اندھیروں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ، اسلام میں آنے
اور ریاضت و مجاہدات کی بھٹی میں تپنے کے بعد اس سے ہر قسم کی مٹی اور گندگی دور
ہو جاتی ہے اور وہ علم و معرفت کے نور سے
روشن و منور ہوکر لوگوں پر فوقیت و برتری حاصل کرلیتا ہے ۔ ‘‘ ( 5 )مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ’’جو لوگ
زمانہ ٔکفر میں اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو
مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے ، اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نو مسلموں کو حقیر جاننا
بہت بُرا ہے اور کفار کا سردارمسلمان ہوکر مسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا نہ جائے گا ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:371)
Dawateislami