رسول اللہ ﷺ کا تربیت فرمانا نہایت اچھا کردار اور عملی نمونہ تھا، جس میں آپ ﷺ نے تشبیہات (یعنی مثالوں) کا کثرت سے استعمال فرمایا تاکہ بات آسانی سے دل و دماغ میں اتر جائے۔ تشبیہات ایک ایسا تعلیمی و تربیتی ہنر ہے جو کہ سننے والے کو آسانی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے یاد رکھنے میں بھی آسانی فراہم کرتا ہے۔جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

إنما مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير؛ فحامل المسك إما أن يُحذيك، وإما أن تبتاع منه، وإما أن تجد منه ريحًا طيبة، ونافخ الكير إما أن يُحرق ثيابك، وإما أن تجد ريحًا خبيثة (صحیح البخاری: 5534 صحیح مسلم: 2628)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک (خوشبو) اٹھانے والا اور بھٹی پھونکنے والا (لوہار)۔ مشک والا یا تو تمہیں کچھ خوشبو دے دے گا، یا تم اس سے کچھ خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس کی خوشبو پہنچے گی۔ اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔"

اس مضمون میں ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بری صحبت اور اچھی صحبت کے بارے میں بتا دیا ہے۔ آگے مسلمان کی مرضی کہ وہ بری صحبت اختیار کرے یا اچھی ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اچھی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے بدبختوں سے بچائے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین