عرفان
علی عطّاری (درجہ دورہ حدیث جامعۃُ المدینہ فیضان غوث اعظم کراچی ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ نے
اپنی دعوت و تربیت کے دوران مختلف مواقع پر تشبیہات کا استعمال فرمایا، تاکہ
مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم آسانی سے سمجھائے جا سکیں۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت عملی تعلیم و
تربیت کے میدان میں بے مثال ہے۔
تشبیہات کی تعریف: تشبیہ سے مراد کسی چیز کو اس کی مشابہت کی بنا پر کسی دوسری چیز سے
تشبیہ دینا ہے، تاکہ مفہوم کو واضح اور قابل فہم بنایا جا سکے۔
(1) مومن کی مثال کھجور کے درخت سے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے، جس
کا ہر حصہ فائدہ مند ہوتا ہے۔(صحیح بخاری: 5444)
یہ تشبیہ مومن کی نفع بخشی اور
استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔
(2) علم و ہدایت کی مثال بارش سے: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور اس ہدایت کی مثال جو اللہ نے
مجھے دے کر بھیجی ہے، اس بارش کی مانند ہے جو زمین پر برسی۔(صحیح بخاری: 79)
یہ تمثیل علم و ہدایت کے اثرات
کو واضح کرتی ہے ۔
(3) نیک اور برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی کی مثال عطار
کی مانند ہے، اور برے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔(صحیح بخاری: 2101)
یہ تشبیہ صحبت کے اثرات کو بیان
کرتی ہے۔
(4) پانچ نمازوں کی مثال بہتی نہر سے: آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس بہتی نہر کی مانند ہے جو کسی کے دروازے کے سامنے ہو، وہ
اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔(صحیح مسلم: 668)
یہ تمثیل نماز کی روحانی صفائی
اور گناہوں کی معافی کو ظاہر کرتی ہے۔
(5) مومن کی مثال خوشبودار پھل سے: آپ ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والا مومن خوشبودار پھل کی مانند ہے، جس کی خوشبو اور ذائقہ
دونوں اچھے ہیں۔(صحیح بخاری: 5020)
یہ تشبیہ قرآن کی تلاوت اور اس
پر عمل کرنے والے مومن کی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔
(6) میری اور انبیا کی مثال ایک عمارت کی مانند: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال اس شخص کی مانند
ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔(صحیح بخاری:
3535)
یہ تمثیل آپ ﷺ کے خاتم النبیین
ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
(7) سیدھا راستہ اور دیواروں کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے ایک سیدھا راستہ بنایا، جس کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان دیواروں
میں دروازے ہیں جن پر پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ (مسند احمد: 17634)
یہ تمثیل شریعت کی حدود اور ان
کی حفاظت کو بیان کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
تشبیہات کے ذریعے تعلیم و تربیت کا جو طریقہ اپنایا، وہ نہایت مؤثر اور حکیمانہ
تھا۔ ان تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ نے گہرے مفاہیم کو آسان اور قابل فہم انداز میں
بیان فرمایا، جو آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
تفہیم یعنی کسی کو بات سمجھانا
ایک ایسا فن ہے اللہ پاک جس کو عطا فرمادے۔ اس کو تسخیر قلوب کی دولت نصیب ہو
جاتی اور اس کائنات میں سب سے بہتر جس کو
فنِ تفہیم عطا کیا گیا وہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی ذات ہے آپ ﷺ نے مختلف اندازِ تفہیم
میں سے ایک تشبیہ کے ذریعے بات سمجھانا بھی ہے جو کہ نہایت قابلِ اثر ہے۔ آئیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے تشبیہات سے بات سمجھانے کی
چند مثالیں پڑھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں:
(1) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور لوگوں کی مثال
اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے گرد پروانے اور کیڑے مکوڑے جمع ہونے لگے
اور وہ اس میں گرنے لگے، تو وہ انہیں اس سے بچانے لگا، لیکن وہ اس کی بات نہ مانے
اور آگ میں گرتے رہے۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6)
اللہ اکبر کتنا پیارا انداز ہے
کہ اپنے آپ کو مہربان شخص کے ساتھ تشبہ دی اور جہنم کو دنیا کی آگ سے اور لوگوں کو
کیڑے مکوڑوں کے ساتھ کہ جس طرح یہ شخص آگ سے بچا رہا ہے اسی طرح آپ ﷺ اپنی امت کو گناہوں اور جہنم سے
روکنے کے نصیحت،دعوت اور محنت فرماتے ہیں،لیکن بعض لوگ اپنی خواہشات اور گناہوں کی
وجہ سے خود کو نقصان پہنچاتے ہیں، اسی
انداز کو اپناتے ہوئے آپ ﷺ نے
اپنی ختم نبوت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال
اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ
خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے ہیں، اسے پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ
اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔(
صحیح البخاری: حدیث نمبر 3535)
(3) قربان جاؤں حضور ﷺ کے
انداز تفہیم پر کہ آپ ﷺ نے
منافق کا تذبذب ،بے یقینی اور دوغلی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
کہ منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو
ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی ہے، نہ اس ریوڑ میں جاتی ہے نہ اس میں۔(صحیح مسلم،
کتاب الزکوٰۃ، حدیث نمبر 27) یعنی جس طرح یہ بکری کسی کی نہیں ہوتی اسی طرح منافق
بھی نہیں ہوتا۔
اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ کے
فرامین کو پڑھ کر ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
حماد خان ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان غوث اعظم ولیکا کراچی ، پاکستان)
انسان کی فطرت ہے کہ وہ محض
الفاظ سے کم اور تصویری و تمثیلی انداز سے زیادہ اثر لیتا ہے۔ جب کوئی بات مثال کے
قالب میں ڈھل کر سامنے آتی ہے تو وہ نہ صرف ذہن میں اترتی ہے بلکہ دل پر نقش اور
عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اور جب یہ مثال کسی ایسے معلم اکمل کی
زبانِ مبارک سے نکلے ، جو خود ”یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ“ کا مصداق ہو ، تو وہ مثال دل و دماغ میں اتر جاتی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کی ذات
گرامی معلم کامل تھی۔ آپ نے انسانیت کو
راہ ہدایت دکھانے کے لیے جتنے انداز اپنائے ، اُن میں تشبیہات کے ذریعے تربیت
فرمانے کا انداز نہایت مؤثر ، دلنشین اور دل میں اتر نے والا اند از ہے ۔ آپ ﷺ نے ایمان، نفاق، حسن معاشرت،
اخوت، قرآن، دعا اور دیگر بے شمار مضامین کو زندگی سے جڑی مثالوں اور تشبیہات
کے ذریعے سمجھایا بلکہ دلوں کو جیت لیا۔
حضور جان عالم ﷺ کی
تشبیہات کی خوبی یہ تھی کہ وہ مختصر الفاظ میں وسیع معانی کی جامعیت رکھتی تھیں
اور نصیحت ، اثر ، فہم و عمل ہر اعتبار سے قلوب پر گہرا نقش چھوڑ تیں، یہاں چند مثالیں درج ذیل ہیں:
حضور جانِ دو عالم ﷺ کی مؤمنین کی
باہمی محبت کی تشبیہ : حضور
جان عالم ﷺ نے مؤمنین کی باہمی محبت کیسی ہونی چاہیے ، اس
کی تشبیہ سے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
ترجمہ: مومنوں کی آپس کی محبت ،
رحم دلی اور ایک دوسرے پر شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب جسم کے کسی ایک حصے
کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔ ( صحیح
مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین، جلد 2، صفحہ نمبر 325)
اس حدیث مبارکہ میں حضور جانِ
عالم ﷺ اس بات کو واضح فرما رہے ہیں کہ سچے مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں ،
اگر کسی ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے (چاہے وہ کسی بھی ملک یا قوم کا ہو) تو باقی
تمام مسلمانوں کو اس کی تکلیف محسوس ہونی چاہیے جس طرح جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف
ہوتی ہے تو وہ تکلیف پورا جسم محسوس کرتا ہے۔
حضور جانِ دو عالم ﷺ کااچھے اور برے دوست کی مثال کے ذریعے تشبیہ دینا:
حضور جانِ عالم ﷺ نے
اچھے اور بُرے دوست میں فرق کو مثال سے
واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ
السَّوْء، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ ترجمہ: اچّھے بُرے ساتھی کی مثال مُشک کے اُٹھانے اور
بھٹّی دَھونکنے والے کی طرح ہے۔( صحیح بخاری، کتاب الذبائح والصيد ، باب المسک ،
جلد 2، صفحہ نمبر 345)
اس حدیث مبارکہ میں تشبیہ کے ذریعے
سمجھا گیا ہے کہ نیک دوست خوشبو فروش کی طرح ہوتا ہے ، اُس سے بہر صورت فائدہ ہی
ہوتا ہے۔ جیسے خوشبو فروش سے بہر صورت فائدہ ہی ہوتا ہے ، خواہ اُس سے خوشبو خرید
و یا نہ خریدو، کیوں کہ اُس کے پاس بیٹھنے سے جسم خوشبو دار ہو جاتا ہے اور بُرے دوست کی مثال لوہار کی بھٹی میں کام
کرنے والے شخص کی طرح ہے کہ وہ بہر صورت تمہیں نقصان ہی پہنچائے گا۔ جیسے لوہار کی
بھٹی نقصان پہنچ آتی ہے ، یا تو کپڑے جلا
دے گی یا جسم بد بو دار کر دے گی۔
حافظ محمد عمر نقشبندی ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
قرآن مجید ہمیں ایسے الفاظ عطا
کرتا ہے جو ہمیں حوصلہ، سکون، اور امن عطا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک
بندوں کو خوف و غم سے نجات دینے کی ضمانت دی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن قیامت کے
خوف و غم سے نجات کے بارے میں کیا بیان
کرتا ہے:
(1) وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا
وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی
کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
یہ آیت مؤمنوں کو حوصلہ دیتی ہے
کہ ایمان کے ساتھ مشکلات میں بھی وہ سربلند رہیں گے۔ غم اور کمزوری وقتی ہیں، مگر
ایمان پائیدار قوت ہے۔
(2) اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ11، یونس:62)
جو لوگ اللہ سے دوستی رکھتے ہیں
(یعنی نیک عمل کرتے ہیں)، اللہ انہیں دنیا و آخرت میں خوف و غم سے محفوظ رکھتا ہے۔
(3) فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ
لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی
خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
اللہ کی ہدایت پر چلنے والا شخص
اللہ کی خاص حفاظت میں ہوتا ہے، جسے خوف اور غم چھو بھی نہیں سکتا۔
ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان
اُتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے۔(پ26، الفتح:4)
اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو
سکون عطا کرتا ہے، جو خوف و غم کے خلاف ایک زبردست قوت ہے۔
جو اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے،
جو ایمان لاتا ہے، جو اللہ پر توکل کرتا ہے اور جو اللہ کا دوست بن جاتا ہے، اللہ
اسے خوف و غم سے نجات دے دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان، توکل، اور اللہ کی
اطاعت کے ذریعے اپنے قیامت کے خوف و غم سے سکون حاصل کریں۔
اللہ عزوجل ہمیں روز قیامت کے
خوف و غم سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
پیارے اسلامی بھائیو! خوشی و
غم، خوف و سکون، آسانی و تنگی ، یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔لیکن اصل غم تو آخرت کا ہے
، قرآن پاک کی تعلیمات انسان کو ایسے اعمال بتاتی ہیں جو اسے روز قیامت کے خوف و
غم سے نجات دلا کر دل کا سکون عطا کرتی ہیں۔
خوف و غم سے نجات: اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)
تفسیر نعیمی: بیشک وہ لوگ جنہوں
نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین ﷺ کی شریعت
پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت
غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ جنت میں رہیں
گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر ، الاحقاف ، تحت
الآیۃ: ۱۳-۱۴ ، ۱۰ / ۱۳-۱۴ ، مدارک ، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ص۱۱۲۶، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۸ / ۴۷۲، ملتقطاً)
امن کن کے لیے ہے؟: ارشادِ باری تعالیٰ: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی
آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس
آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔
البتہ معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف
ہے اس لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں
سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس
سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے
بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری،
کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صرف ایمان
کافی نہیں، بلکہ خالص توحید کے ساتھ ایمان ہو۔ شرک سے مکمل پرہیز ہو تو خوف و غم
سے امن و سکون نصیب ہوتا ہے۔ سیاق و سباق یہ
ہے کہ امان انہی کے لیے ہے جو ہدایت پر رہے اور کفر نہ کیا۔
دلوں کو قرار کیسے ملے؟ فرمانِ الٰہی: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں
دلوں کا چین ہے۔(پ13، الرعد:28)
ایک اور مقام پر اللہ رب العزت
نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ
الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے
اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
حضرت یونس علیہ السلام کی نجات: دعاِ یونس علیہ السلام: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنز الایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے
تجھ کو بےشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پ17، الانبیآء: 87)
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ
الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو ہم نے اس کی پکار سُن لی اور
اُسے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (پ17، الانبیآء: 88)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آخرت کے خوف و غم سے
نجات اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے دین حق کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اور دین کےاحکام
پر عمل کریں۔
جو ہم نے پڑھا اللہ اس پر عمل کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ نبی الامینﷺ
عامر فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
خوف کی تعریف: لغوى تعريف: خوف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے
معنی ہیں: ڈر اندیشہ دل میں گھبراہٹ یا کسی نقصان یا خطرے کا تصور۔ اصطلاحی
(شرعی) تعریف: ایسا دل کا اضطراب جو کسی آنے والے نقصان، عذاب یا ناگوار انجام
کے اندیشے سے پیدا ہو۔
قرآن مجید انسان کی صرف انفرادی زندگی نہیں بلکہ
اجتماعی و معاشرتی نظام کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ ان پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے
انفاق فی سبیل اللہ ، ایمان ، تقوی ، نیکی اور خوف خدا کی تعلیمات دی ہیں۔ ان پر
عمل کرنا قیامت کے خوف و غم سے نجات کا سبب ہو سکتا ہے ۔
(1)اللہ تعالیٰ کی راہ میں دن کے
خرچ سے رات کا خرچ افضل ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ
سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور
اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)
تفسیر صراطِ الجنان : آیت ِکریمہ
میں رات کے خرچ کو دن کے خرچ سے اورخفیہ خرچ کواعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا
،اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔ ان سب خرچ کرنے
والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی
بشارت ہے۔
(2)اعراف والوں کے لئے بشارت : اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ
اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاکر
کہتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں کرے گا( ان سے تو فرمایا گیا ہے کہ) تم جنت میں
داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ (پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان: اعراف والے غریب جنتی
مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں
تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے
کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے
دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا
ہو۔
(3)ولیوں پر نہ خوف ہے نہ ہی غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور
ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان: مفسرین نے
اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:
(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا
خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔
(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز
میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر
غمگین ہوں گے۔
(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف
ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں
ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔
(4)نیکی کا اجر ملتا ہے : وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ
الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال
کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر صراط الجنان: جو کوئی
اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے
مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی اور
نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔
ان اعمال پر عمل کر کےہم قیامت
کےخوف و غم سے نجات حاصل کر سکتےہیں، اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
شان احمد (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
عطّار، ڈیفنس لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں
انسان کی فطرت، مزاج، جذبات اور نفسیات وغیرہ کے کئی پہلوؤں کو بیان فرمایا ہے۔ ان
میں ایک اہم پہلو “خوف و غم“ اور ”امن“ کا ہے۔ انسان کبھی مستقبل کے خطرات سے ڈرتا
ہے (خوف) اور کبھی ماضی کے حادثات یا نقصان پر افسوس کرتا ہے (غم)۔ قرآن ان فطری کیفیات
کا نہ صرف تذکرہ کرتا ہے بلکہ ان سے نجات کا روحانی اور عملی حل بھی عطا فرماتا
ہے۔
(1) خوف و غم سے نجات کا وعدہ: قرآن مجید اہلِ ایمان کو خوش
خبری دیتا ہے کہ وہ اللہ کے ولی بن جائیں تو خوف و غم سے محفوظ ہو جائیں گے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
(2) امن کی اصل بنیاد ، ایمان: ایمان، جب شرک جیسے ظلم سے پاک
ہو، تو انسان کو دنیا و آخرت میں حقیقی امن حاصل ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ
مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں
شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام:
82)
(3) خوف و غم آزمائش بھی ہیں اور
علاج بھی : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ
خوف و غم دنیاوی امتحان کا حصہ ہیں، لیکن صبر کرنے والوں کو خوشخبری ہے: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور ہم
ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں
گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔(پ2، البقرۃ:155)
(4) قرآن دلوں کی شفا، روح کا
سکون: قرآن وہ عظیم کتاب ہے جو ہدایت دینے
کے ساتھ ساتھ دلوں کے زخموں پر مرہم بھی رکھتی ہے۔ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ
مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ
لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور
مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔(پ11، یونس: 57)
(5) جنت امن کا آخری مقام:
قرآن آخرت میں کامیاب ہونے
والوں کے لیے ہمیشہ کی سلامتی کی نوید سناتا ہے: اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: ان میں داخل
ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔(پ 14، الحجر: 46)
پیارے اسلامی بھائیو: قرآن مجید
صرف ایک کتابِ شریعت نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی، روحانی اور معاشرتی علاج ہے۔ جو
اس سے جُڑ گیا، وہ خوف و غم سے آزاد ہو گیا، اور جو اس سے دور ہو گیا، وہ دنیا و
آخرت کی بے چینیوں میں مبتلا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان، تقویٰ، صبر اور قرآن
سے وابستگی کو خوف و غم کا علاج بنایا اور امن کی ضمانت عطا فرمائی۔
قرآن سے دوستی اختیار کرو، دل کا سکون پاؤ
صبر، تقویٰ، اور توحید ہی خوف و غم کا علاج ہیں
جو قرآن کے سائے میں آیا، دنیا
و آخرت کے امن میں آ گیا۔
محمد عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے کہ
سچا ایمان، صبر، اور اللہ پر توکل ہی وہ راستے ہیں جو انسان کو روز قیامت خوف و غم
سے نکال کر امن و سکون عطا کرتے ہیں۔ قرآن میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان
لوگوں کے لیے” فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ “کی بشارت دی ہے، جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔
یہ تمہید اسی قرآنی پیغام کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ خوف اور
غم کے بدلے امن، اطمینان اور امید عطا فرماتا ہے۔
(1) اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی
کرنے والے:قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ
پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے
انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:38)
تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔ہدایت ِ
الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف
ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے
ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے
جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔
(2) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ
کرنے کا اجر:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:274)
تفسیر صراط الجنان:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ: وہ لوگ جو اپنے مال خیرات
کرتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے
ہیں اور ہر حال میں یعنی دن رات، خفیہ اعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ آیت حضرت
ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے راہِ خدا
میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے۔ دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس
ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر۔
(3) انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کا
انعام:وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ
خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح
کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ7، الانعام:48)
تفسیر صراط الجنان:اس آیت اور
ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ
کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات طلب کرتے پھریں بلکہ اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ
اپنی قوم کو اطاعت پر ثواب کی بشارت اور نافرمانی کرنے پر عذاب کی وعید سنائیں تو
جو اپنے کفر کو چھوڑ کر ان پر ایمان لے آیا اور ا س نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی
تو ان پر دنیوی یا اخروی عذاب کاکوئی خوف ہے اور نہ وہ ثواب ضائع ہونے کے اندیشے
سے غمگین ہوں گے۔
(4) اللہ کے ولیوں پر رحمت:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
تفسیر صراط الجنان: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں
لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو
فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت
میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو۔
(5) اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ
اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ
اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹)ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاکر
کہتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں کرے گا( ان سے تو فرمایا گیا ہے کہ) تم جنت میں
داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ (پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان:اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ
اَقْسَمْتُمْ:کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم
قسمیں کھاتے تھے ۔ اعراف والے غریب جنتی مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں
گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی
فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے
گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں
اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا ہو۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ
تعالیٰ ہمیں انبیاء علیہم السلام اور تمام بزرگان دین کے نقشِ قدم پر چلنے اور
اپنے خوف سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم
اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید
ہدایت کی کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ قلب و ذہن کو سکون، دل کو اطمینان اور زندگی
کو امن عطا کرنے والا پیغام بھی ہے۔ قرآن پاک نے ان
دونوں کی جڑ کاٹ کر انسان کو حقیقی امن، قلبی سکون اور روحانی طمانیت عطا کی ہے۔ آئیے ہم اسے قرآن مجید فرقان حمید
سے واضح کرتے ہیں چند درج ذیل آیات پڑھیے:
(1) قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ
كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا:
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور وہ جو
کفر کریں گے اور میری آیتوں کوجھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہوں گے،وہ ہمیشہ اس میں رہیں
گے۔ (پ1، البقرۃ:38، 39)
(2) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس
پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت
پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)
(3) اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ
سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور
اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)
(4) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ
ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام: 82)
قرآن پاک خوف اور غم جیسے جذبات کے لیے مکمل
راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے دلوں کو ایمان، ذکر، صبر اور توکل کی دولت سے
سکون نصیب ہوتا ہے۔ آج کے بےچین اور پریشان دور میں قرآن سے جڑ جانا ہی حقیقی امن
کی کنجی ہے ۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علی حبیبہ محمد وآلہ وسلّم
ضمیر احمد رضا عطاری (دورہ حدیث شریف مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
خوف اور غم کا احساس انسان میں
فطرتاً موجود ہے۔ وہ کبھی مستقبل کے اندیشوں سے لرزتا ہے، کبھی ماضی کے نقصانات پر
غمگین ہوتا ہے۔ خصوصاً ایک بندۂ مومن کے دل میں آخرت کا خوف، قبر کی تنہائی، اس کی
وحشتوں اور حساب کتاب کا تصور دل کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ لیکن قرآنِ حکیم،
جو دلوں کا سکون ہے، کچھ ایسے خوش نصیب بندوں کا ذکر کرتا ہے
جنہیں اللہ پاک نے دنیا و آخرت میں خوف و غم سے آزادی کی بشارت دی ہے۔ آئیے قرآن
مجید کی اُن آیات کا جائزہ لیتے ہیں جن میں اللہ پاک نے اپنے پیاروں کے لیے بروز
قیامت خوف و غم سے نجات ، امن و سکون اور راحتِ قلبی کی
ضمانت دی ہے۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ پاک نے اپنے
نیک بندوں کو یہ خوشخبری دی ہے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت اور ایمان کے ساتھ زندگی
گزاریں تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ (۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
یہ آیت انسانی دل کو ایک عجیب سی
طمانیت عطا فرماتی ہے۔ اولیائے کرام جن کا تعلق دنیاوی اسباب سے زیادہ ربِ کائنات
سے ہوتا ہے ، جو ایمان و تقویٰ کے جامع ہوتے ہیں، وہ دنیا کے تمام ہنگاموں اور ہر
طرح کے اضطراب سے بھی سکون میں رہتے ہیں۔ اور اُخروی مصائب وآلام سے بھی بے خطر
رہتے ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں
کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام:
82)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی
ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38
)
اللہ پاک کی عطا کردہ ہدایت کے
پیرو کاروں کے لیے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی وہ آخرت میں غمگین ہوں
گے یعنی ایسوں کو دنیا اور آخرت کے تمام غموں اور پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔
سورہ حم السجدہ میں عقیدہ توحید
کے اقرار اور اس پر استقامت رکھنے والوں کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ
تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ
ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ
السجدۃ: 30)
قرآن کریم کی ان آیات کا اگر
بنظرِ عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ خالص ایمان جس کے ساتھ شرک کی
آمیزش نہ ہو ، تقوی ، اللہ پاک کے عطا کردہ احکامات کی پیروی اور ثابت قدمی، یہ
صفات جس شخص کے اندر ہوتی ہیں اللہ پاک اس کو دنیوی اور اخروی ہر طرح کے خوف و غم
سے امن عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم بھی ان صفات کے جامع بننے میں کامیاب ہو
جائیں ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
قرآن پاک کے اندر ہر قسم کا بیان ہے اور یہ اپنے
ماننے والوں کو ہر لحاظ سے رہنمائی مہیا کرتا ہے اور قرآن پاک کا یہ خاصہ ہے کہ قرآن پاک حق سچ اور واضح
بات کو بیان کرتا ہے کہیں پر تو قرآن پاک کفار و مشرکین کے لیے، منافقین کے لیے، برے
لوگوں کے لیے وعید یں اور سزائیں سناتا ہے اور کہیں پر قرآن پاک اپنے ماننے والوں
کے لیے، اللہ تعالی پر ایمان لانے والوں کے لیے ،تمام نبیوں پر ایمان لانے والوں
کے لیے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خاتم النبیین ماننے والوں کے لیے خوشخبری اور
ہدایت کی بشارت سناتا ہے اور اسی طرح جو اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرے اور
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں پر عمل کرے اور تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے
تو قرآن پاک اس کو خوف و غم سے امن کی بشارت دیتا ہے، اسی طرح قرآن پاک کے اندر اللہ
تعالی نے متعدد مقامات پر ایسی آیات کہ جن کے اندر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو مومنین
کو پریشانیوں مصیبتوں شیطان کے وسوں مشرکین اور کفار اور منافقین کی چالوں سے اللہ
تعالی نے مومنین کو امن کی خوشخبری سنائی ہے۔ آئیے ہم بھی قرآن پاک کی ان آیات جن
میں اللہ تعالی نے مومنین کو خوف و غم سے امن کی خوشخبری سنائی ہے ان میں سے چار
آیات کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) جو ایمان لائے اور اپنی
اصلاح کر لے: اللہ تعالی اپنے رسولوں کا
خاصہ بیان کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ رسولوں کو اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ کفار ان
سے اپنی من مرضی کے معجزات کا مطالبہ کریں بلکہ لوگوں کو امن کی طرف بلانے کے لیے
بھیجا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی اس آیت میں فرمایا: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ
اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ
الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں
بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ
اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان
کی بے حکمی کا۔ (پ7، الانعام:48، 49)
(2) ان کا اجر ان کے رب کے پاس : اللہ تبارک و تعالی نے ایمان والوں کو اللہ تعالی کی راہ
میں خرچ کرنے کا خواہ پوشیدہ ہو یا اعلانیہ ہو یا دن میں ہو یا رات میں ہو اس کا
اجر و ثواب کا بیان اور خوف و غم سے نجات کی بشارت سنائی ہے لہذا اللہ تعالی کا
فرمان ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ
النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات
میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو
نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
(3)تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو: اللہ تعالی نے
فرمایا کہ جو بندہ یہ کہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور اس پر ثابت قدم بھی رہا ، استقامت
بھی اختیار کی اللہ تعالی ان پر فرشتے نازل فرماتا ہے جو ان کو جنت کی بشارت دیتے
ہیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ
اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ
ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ
السجدۃ: 30)
(4)تم سب جنت سے اتر جاؤ: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ
النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں
ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38 ،39)
تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف
ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے
ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے
جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان
آیات میں ہم نے جو کچھ پڑھا اور جو کچھ سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ان آیات کے اندر جو احکامات بیان ہوئے جن پر عمل کرنے کے بارے میں اللہ تعالی
نے ارشاد فرمایا اس پر ہمیں اللہ تعالی استقامت عطا فرمائے اور سیکھ کر دوسروں تک
پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
وسلّم
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ
پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے
نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ
الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت
کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں
گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی
اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں
تھی۔
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں: لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔
وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی
معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے
ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام
میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور
چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر
پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰)ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر
قائم رہے اُن پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس
کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔(پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30، 31)
تفسیر صراط الجنان:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے: اس سے پہلی آیات میں کافروں کے لئے وعیدیں بیان ہوئیں اور اب
یہاں سے ایمان والوں کے لئے وعدہ کا بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ
ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اور اس کی وحدانیّت کا اقرار
کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے،پھر وہ اس اقرار اور اس کے تقاضوں
پر ثابت قدم رہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں اور انہیں یہ بشارت
دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم آخرت میں پیش آنے والے حالات سے نہ ڈرواوراہل و عیال وغیرہ
میں سے جو کچھ پیچھے چھوڑ آئے اس کا نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم
سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مُقَدّس
زبان سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔( روح البیان، حم السجدۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۸ / ۲۵۴-۲۵۵)
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ
اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے
اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
تفسیر صراط الجنان:وَ
لَا تَهِنُوْا: اور سستی نہ کرو: غزوۂ احد میں
نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف
مائل تھے۔ ان کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس
کی وجہ سے غم نہ کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان
کافروں نے ہمت نہ ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی
سُستی اور کم ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے
ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالاخر تم ہی کامیاب ہوگے۔
چنانچہ مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ
میں مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔
Dawateislami