تمام حمد اس ربّ العزت کے لیے ہے جو نیک اعمال کرنے والوں کو اس دن امن دے گا جس دن لوگ اپنے ہی پسینوں میں ڈوب رہے ہوں گے اور دوسری طرف وہ امن والے ہوں گے جن کواس دن بھی کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔قرآن میں بارہا یہ الفاظ ہمیں سکون دیتے ہیں: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ایمان والوں کے لیے یہی وہ مقامِ عزت و راحت ہے جس کی تمنا ہر دل میں ہونی چاہیے۔

ہدایتِ الٰہی کے پیروکار: رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)

ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

پرہیز گاری اختیار کرنے والے: اللہ ربّ العزت فرماتا ہے: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ کنزالایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)

جو پرہیزگاری اور عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے۔

خیرات کرنے والے: رب العالمین ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

آیت ِ کریمہ میں ان سب خرچ کرنے والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی بشارت ہے۔

اولیاء اللہ: ربّ کریم اپنے اولیا سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)

قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔

آج تم پر کوئی خوف نہیں: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو ۔(پ25، الزخرف:68)

آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا:’’اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے، اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے۔‘‘ (ابو سعود، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۸-۷۰، ۵ / ۵۵۰، ملخصاً)

میدانِ حشر میں اعلانِ امن: حشر کے میدان میں ایک مُنادی یہ اعلان فرمائے گا: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔ (پارہ25، الزخرف: 68)

تو تمام اہلِ محشر اپنے سروں کو اٹھا لیں گے۔پھر وہ مُنادی فرمائے گا: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔(پارہ25، الزخرف: 68)

یہ سن کر مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے۔

زندگی کے چند لمحے اگر اللہ اور اس کے دین کے لیے گزار لیے جائیں، تو قیامت کے دن کے ہزاروں سال کی گھبراہٹ اور پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔رب تعالیٰ ہمیں اپنے اُن وفادار بندوں میں جگہ عطا فرمائے جنہیں روزِ محشر امن، سکون اور جنت کی نعمتیں دی جائیں گی۔ آمین


خوف اور غم دو ایسی کیفیات ہیں جو انسان کی ذہنی، روحانی اور جسمانی حالت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ خوف مستقبل کے اندیشوں کا نام ہے جبکہ غم، ماضی کے نقصانات کا۔ ان دونوں سے نجات کے لیے انسان مختلف راستے تلاش کرتا ہے، مگر قرآن مجید انسان کو وہ راستہ دکھاتا ہے جو اسے اندرونی سکون، اطمینان اور حقیقی امن عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خوف اور غم سے نجات کے ذرائع بیان فرمائے ہیں جن پر عمل انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

(1) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30)

جو لوگ اللہ کو اپنا رب مان کر اس پر استقامت دکھاتے ہیں، اللہ ان پر فرشتے بھیجتا ہے جو ان کے دلوں کو خوف و غم سے پاک کرتے ہیں۔

(2) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

اللہ پر کامل ایمان اور استقامت انسان کو ہر قسم کے باطنی اور خارجی خوف و غم سے بچاتی ہے۔

(3)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)

‎‎ قرآن کریم ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح مسلمان قیامت کے خوف و غم جیسے تباہ کن جذبات سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ پر یقین، اس کی یاد، استقامت اور نیک اعمال ہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو حقیقی امن و سکون عطا کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ان کی زندگی میں نہ صرف باطنی سکون ہوتا ہے بلکہ وہ آخرت کے خوف سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


خوف ایک ایسا احساس ہے جو کسی خطرے یا نقصان کے امکان سے پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان کو لگتا ہے کہ کوئی نقصان ہو سکتا ہے، تو وہ "خوف" محسوس کرتا ہے۔اور غم ایک دکھ یا افسوس کا احساس ہے جو کسی نقصان، جدائی یا تکلیف کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ غم عام طور پر کسی ماضی کے واقعے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

قرآن پاک میں ایمان والوں کے لئے روز قیامت خوف و غم کی نفی کی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اولیاء اللہ کوخوف وغم نہیں ہوگا: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)

غم سے نجات پر رب کی حمد : وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَؕ-اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرٌۙ(۳۴) ترجمہ کنزالایمان: اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا بےشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔(پ 22، فاطر: 34)

اللہ کریم ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


(1)قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور وہ جو کفر کریں گے اور میری آیتوں کوجھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہوں گے،وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (پ1، البقرۃ:38، 39)

تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں:ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔

(2)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَؕ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۶۳)

ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک ایمان والوں نیزیہودیوں اورعیسائیوں اور ستاروں کی پوجا کرنے والوں میں سے جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہار ے سروں پر طورپہاڑ کو معلق کردیا(اور کہا کہ) مضبوطی سے تھامو اس (کتاب) کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے یاد کرواس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ (پ1، البقرة:62، 63)

(3) بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)

(4) اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)

(5) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِــٴُـوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۹) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک (وہ جو اپنے آپ کو ) مسلمان ( کہتے ہیں ) اور یہودی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور عیسائی (ان میں سے) جو (سچے دل سے ) اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے عمل کرے توان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ6، المآئدۃ:69)


عنوان کے مطابق نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے خوف و غم سے امن کے بارے میں بہت سی آیات نازل فرمائی اور ان میں سے کچھ یہ ہیں :اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ(۴۵) اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: بےشک ڈر والے باغوں اور چشموں میں ہیں ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔(پ 14، الحجر: 45، 46)

( تفسیر صراط الجنان)اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ:بیشک متقی لوگ: اس سے وہ لوگ مراد ہیں جوکفر و شرک سے باز رہے اور ایمان لائے اگرچہ گناہگار ہوں گناہگار مومنین کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مَشِیّت پر مَوقوف ہے وہ چاہے تو انہیں ایک مدت تک عذاب میں مبتلا کر دے، پھر اپنے حبیب ﷺ کی شفاعت کے صدقے انہیں معاف فرما دے اور اگر چاہے تو انہیں عذاب ہی نہ دے۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۱۰۴۳)

اُدْخُلُوْهَا:ان میں داخل ہو جاؤ : ایک قول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے جنت کے دروازوں پر پہنچیں گے تو ان سے کہا جائے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب جنتی جنت میں ایک جگہ سے دوسری جنت کی طرف متوجہ ہوں گے تو فرشتوں کی زبانی ان سے کہاجائے گا تم سلامتی اور امن و امان کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے نہ تمہیں یہاں موت آئے گی نہ تم پر کوئی آفت رونما ہو گی نہ یہاں کوئی خوف اور پریشانی ہوگی۔ (روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۴۷۱، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۵۸۲، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۱۰۳، ملتقطاً)

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِؕ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۰)ترجمۂ کنز الایمان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے اور جو بدی لائے تو اُن کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے۔(پ20، النمل:89، 90)

تفسیر صراط الجنان:مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ: جو نیکی لائے: نیکی سے مراد کلمۂ تَوحید کی شہادت ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد عمل میں اخلاص ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ہر وہ نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت اور ثواب ہے اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوگی یاد رہے کہ یہاں جس گھبراہٹ کا ذکر ہے وہ اس گھبراہٹ کے علاوہ ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ( خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳ / ۴۲۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۸۵۸، ملتقطاً) 


خوف مستقبل کے اندیشوں کا نام ہے جبکہ غم ماضی کے نقصانات کا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روز قیامت کے خوف اور غم سے نجات کے روحانی ذرائع بیان فرمائے ہیں جن پر عمل انسان کو قیامت کے خوف و غم سے امن کی ضمانت دیتا ہے۔

(1) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30)

‎‎جو لوگ اللہ کو اپنا رب مان کر اس ایمان پر استقامت رکھنے والوں پر اللہ فرشتے بھیجتا ہے جو ان کے دلوں کو خوف و غم سے پاک کرتے ہیں۔

(4) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

‎‎اللہ پر کامل ایمان اور استقامت انسان کو ہر قسم کے باطنی اور خارجی خوف و غم سے بچاتی ہے۔

(4)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277 )

اللہ پر یقین، اس کی یاد، استقامت، اور نیک اعمال ہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو حقیقی امن و سکون عطا کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ان کی زندگی میں نہ صرف باطنی سکون ہوتا ہے بلکہ وہ آخرت اور قیامت کے خوف سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمائش کے لئے پیدا فرمایا ہے، اہل ایمان کو اپنے ایمان کی حفاظت، اللہ کے غضب سے بچاؤ، اور قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ڈر رہتا ہے۔ مگر قرآن مجید ہمیں یہ خوش خبری دیتا ہے کہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ یہ مضمون ان خوش نصیب بندوں اور ان کی صفات کے بیان کے بارے ہے جن پر رب کریم کی رحمت چھائی ہوتی ہے اور جو امن و اطمینان کے حقدار قرار دیے گئے ہیں۔

جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے: ایمان صرف زبانی دعویٰ کا نام نہیں، بلکہ دل سے یقین، زبان سے اقرار کا نام ہے۔ ایسے ایمان والے جو اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے طالب رہتے ہیں، ان کے لیے قرآن میں بشارت ہے:رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ- ترجمہ کنز العرفان: وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے ۔(پ11، یونس:63، 64)

اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور تقویٰ کو اپنا شعار بناتے ہیں، ان کے دلوں سے اللہ دنیا و آخرت کے خوف دور فرما دیتا ہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے، یعنی امن، سکون، رحمت اور جنت کی نعمتیں۔

اللہ کے ولی خوف و غم سے محفوظ: اللہ تعالیٰ کے نیک بندے، جنہیں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے لیے ایک جامع اور پرنور بشارت دی ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کے قرب کے طلبگار ہوتے ہیں، جن کی زندگیاں اطاعتِ الٰہی سے مزین ہوتی ہیں، ان کے لیے خوف اور غم کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن جب سب کانپ رہے ہوں گے، یہ بندے مطمئن ہوں گے۔

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں، ان میں سے 3 معنی درج ذیل ہیں:

(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہوگا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔(البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱ / ۳۲۳۔جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۸۸۰)

(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔

ان تین کے علاوہ مزید اَقوال بھی تَفاسیر میں مذکور ہیں۔

جنت میں داخل ہونے والوں کی حالت: ایمان والوں کے لیے آخرت میں جنت کا وعدہ بھی ایک اطمینان کا باعث ہے۔ وہاں داخلے کے وقت فرشتے انہیں کہتے ہیں: رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: -اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)

یہ آیت اُس وقت کی تصویر پیش کرتی ہے جب نیک بندے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان پر ہر طرح کے دنیاوی و اخروی اندیشے ختم ہو چکے ہوں گے۔ نہ ماضی کا غم، نہ مستقبل کا خوف، بس رب کی رضا اور جنت کی نعمتیں۔

توکل کرنے والوں کے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے: قرآن میں بارہا اللہ پر بھروسہ کرنے والے بندوں کو تسلی دی گئی ہے، رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) ترجمۂ کنزالایمان: بےشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ(اَجر) ضائع نہیں کرتا۔ (پ13، یوسف: 90)

یہ پیغام حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصہ میں دیا گیا۔ اہلِ ایمان جو تقویٰ اور صبر کے راستے پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے دنیا و آخرت میں عزت، کامیابی اور خوف و غم سے نجات عطا فرماتا ہے۔

ایمان، تقویٰ، صبر، نیکی، اللہ پر بھروسہ اور صالح عمل ایسے اوصاف ہیں جن سے بندہ نہ صرف دنیا میں سکون پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی جنت کا حق دار بنتا ہے۔ قرآن مجید کی ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ خوف و غم سے بچاؤ کا راستہ اللہ کے دین کو اختیار کرنا، اس کی رضا کو مقدم رکھنا، اور مسلسل نیکی کی راہ پر گامزن رہنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جن پر نہ دنیا میں خوف ہوتا ہے نہ آخرت میں غم۔ آمین


ہر طبقہ کا انسان اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں قبر سے قیامت تک کی ہولناکیوں سے وحشتوں سے اور موت کے غم سے اپنے آپ کو امن دلا سکتا ہے ۔ اپنے لئے دائمی امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ آئیے قرآن مجید فرقان حمید کی روشنی میں جانتے کہ کن اوصاف ،خوبیوں ، کن راستوں پر چل کر ، کن اعمال کو بجا لا کر انسان قیامت کے خوف اور غم سے امن حاصل کر سکتا ہے جانتے ہیں:

(1) ایمان لانے والے اور اپنی اصلاح کرنے والے امن میں رہیں گے: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ7، الانعام:48)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفتی اہلسنت تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں ضروری ہیں ،ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے دونوں احمقوں کی دنیاکے باسی ہیں البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ِ ایمان قطعاً بے ایمان سے بہتر ہے۔

(2) ہمارا رب اللہ ہے اس پر استقامت قائم کرنے والے: قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سب سے آخری نبی محمد عربی ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)

(3) ہدایت کی پیروی کرنے والے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)

(4) اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہو گا نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں آتا ہے کہ مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے چند ایک معنی درج ذیل ہیں:

(1) مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔

(5) رب تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے امن میں ہوں گے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

اِن آیات کریمہ کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ کن کن اوصاف کے حامل لوگوں کو خوف اور غم نہیں ہو گا وہیں اللہ عزوجل کے مقرب بندوں کی شان و عظمت کا بھی معلوم ہوا ۔ ان تمام تر اوصاف میں جو بیان کیا گیا کہ ایمان والا ہونا ، ہدایت یافتہ ہونا پھر اس کی پیروی کرنا ، رب تعالیٰ کی واحدانیت کا اقرار کرنا اس پر قائم رہنا دیگر شرعی احکامات کو بجا لانا ، مزید فرمایا استقامت کے ساتھ قائم رہنے والے اور ہر وقت اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہنے والے ، راہ خدا میں اعلانیہ پوشیدہ خرچ کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جنہیں دنیا و آخرت میں امن ہی امن ہے ۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ان تمام تر اوصاف کو خوبیوں کو اپنائیں اور ان کی صحبت اختیار کریں جو اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ قرآن کریم کی آسان تفسیر بنام تفسیر صراط الجنان اس کو مطالعہ میں لائیں کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے سے بھی بندہ اصلاح کی طرف مائل رہتا ہے اور علم کا خزانہ حاصل ہو گا تبھی عمل کی طرف بھی آئے گا ۔

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں ان میں شامل فرمائے جو دنیا و آخرت میں ہر لحاظ سے خوف اور غم سے امن میں رہیں گے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


انسان کی فطرت میں خوف اور غم جیسے جذبات شامل ہیں کبھی ماضی کے غم ستاتے ہیں تو کبھی مستقبل کا خوف پریشان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا اپنے مومن بندوں کو تسلی دی ہے کہ اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ انہیں روز قیامت خوف اور غم دونوں سے نجات دے گا۔ خوف اور غم کا علاج، ایمان، عملِ صالح، توکل اور اللہ کی یاد میں پوشیدہ ہے آیئے اس کے متعلق چند آیات پڑھیے:

(1) قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38،39)

(2) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)

(3) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ (پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30)

قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان، تقویٰ، اور اللہ پر بھروسہ انسان کو روز قیامت کے خوف اور غم سے نجات دلاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ہر حال میں دل مطمئن اور روح پر سکون رہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ہدایت ، تسلی، سکون اور امن کا سرچشمہ بھی بنایا ہے۔ یہ دلوں کی بیماریوں کا علاج، اور اہلِ ایمان کے لیے نور ورحمت ہے۔  قرآن پاک کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو اہلِ ایمان کو خوش خبری دیتی ہیں کہ اگر وہ ایمان اور تقویٰ پر قائم رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت کے خوف اور غم سے نجات دے گا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر خوف وغم سے امن کا ذکر کیا ہے۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے ساتھ پڑھتے ہیں:

امن کا وعدہ کن لوگوں کے لیے؟: ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام: 82)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان خالص ہونا چاہیے، کسی قسم کا شرک یا نافرمانی اسے آلودہ نہ کرے، تب ہی اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے دلوں میں امن ہو گا۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام علیھم الرضوان بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ ۴۵۱، الحدیث۳۴۲۹)

ایمان اور تقویٰ، امن کی کنجی: قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا کہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہی حقیقی امن اور ہدایت کے مستحق ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ- ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے۔(پ3، البقرۃ:257)

یہ آیت بتاتی ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور انہیں خوف و غم کے اندھیروں سے نکال کر امن اور اطمینان کی روشنی میں داخل کرتا ہے۔

اولیاء اللہ کے لیے بشارت: ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

اس آیت میں دو صفات والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے: ایمان اور تقویٰ۔ اور اللہ کے ولیوں پر کسی قسم کا خوف یا غم نہیں۔

قیامت کے دن کی سلامتی: قرآن کریم میں بارہا قیامت کا ذکر آیا ہے اور مومنین کے لیے اس دن کے خوف سے نجات کی بشارت بھی دی گئی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالعرفان: بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے ۔ (پ30، عبس:38، 39)

یہ آیات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ ایمان والوں کے چہرے قیامت کے دن پرنور ہوں گے، جبکہ گناہ گاروں کے چہرے سیاہ اور خوف زدہ۔

قرآن پاک ایک ایسا کلامِ ربانی ہے جو اہلِ ایمان کو دنیا اور آخرت کے ہر خوف اور غم سے نجات دینے والا ہے، بشرطیکہ وہ ایمان اور تقویٰ کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔ وہ جو اللہ سے جڑتے ہیں، ان کے دلوں سے خوف کے سائے چھٹ جاتے ہیں اور انہیں حقیقی امن نصیب ہوتا ہے۔ آج اگر ہم بھی قرآن سے تعلق مضبوط کرلیں تو ہمیں نہ صرف انفرادی سکون حاصل ہوگا بلکہ اجتماعی فلاح کا دروازہ بھی کھلے گا۔

(1) ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں دنیا و آخرت میں خوف اور غم سے محفوظ رکھتا ہے۔

(2) ہدایت پر چلنے والوں کا امن: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

یہ اصول قیامت تک کے لیے ہے کہ اللہ کی ہدایت پر چلنے والا بروز قیامت سکون اور امن کا مستحق ہو گا۔


خوف مطلب ڈر اور غم مطلب پریشانی، قرآن مجید میں کئی مقامات پر خوف و غم کے بارے میں آیات ہیں ، یہ آیات اولیاء کرام نیک اور متقی لوگوں کے بارے میں آئی ہے کہ وہ قیامت کے دن نہ خوف میں ہوں گے اور نہ وہ غمگین ہوں گے کیونکہ وہ دنیا میں اللہ تعالی سے ڈرتے تھے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتے تھے اور ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتے تھے ۔ آئیے آج ہم خوف و غم کے متعلق قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:

ایمان والوں کے لیے بشارت: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

خیرات کرنے والوں کا اجر: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

مذکور آیات میں اولیاء کرام نیک اور متقی لوگوں کی شان بیان ہوئی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور اس کی راہ میں خیرات دیتے ہیں، اللہ تعالی نے انہیں قیامت کے خوف سے بری کر دیا اور ان سے جنت کا وعدہ فرمایا ، جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔

ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈریں اس کی نافرمانیوں والے کام سے ڈریں تاکہ ہم بھی نیک لوگوں میں شامل ہو جائیں اور قیامت کے دن ہمیں خوف اور غم نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔