محمد آصف رضا مدنی ( مدرس جامعۃالمدینہ
فیضان ر ضا کاہنہ بازار لاہور ،پاکستان)
انسان کی فطرت میں خوف اور غم
دونوں کا احساس رکھا گیا ہے۔ خوف اُس نقصان یا انجام کا ہوتا ہے جو آگے پیش آنے
والا ہے، اور غم اُس محرومی یا تکلیف کا جو گزر چکی ہو۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ
تعالیٰ نے اہلِ ایمان اور متقی بندوں کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اُن کے لیے قیامت
کے دن نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ یہ انعام صرف اُن کے لیے ہے جو ایمان اور تقویٰ
پر ثابت قدم رہیں۔
ایمان اور استقامت کا انعام: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)
اللہ کے دوستوں کے لیے امن: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
قیامت کے دن نیکوکاروں کا حال: وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ
مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ہنستے خوشیاں مناتے ۔(پ30،
عبس:38، 39)
جنت والوں کا امن: لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ- ترجمہ کنز العرفان:ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری
ہے ۔(پ11، یونس:64)
قیامت کے دن جنت میں داخلے کی
بشارت: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی
خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان: یہ جنتیوں
کو قیامت کے دن ملنے والا پہلا کلام ہوگا، کہ تم ہمیشہ کے لیے امن میں ہو، نہ کوئی
ڈر باقی رہا نہ غم۔
محمد شاہ زیب سلیم عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ،پاکستان)
غم کی تعریف:غم ایک ایسا داخلی احساس ہے جو
دکھ افسوس یا صدمے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور انسان کو جذباتی طور پر متاثر
کرتا ہے۔
خوف کی تعریف: خوف ایک ایسی ذہنی اور جذباتی کیفیت
ہے جو کسی حقیقی یا خیالی خطرے نقصان یا اذیت کے اندیشے سے پیدا ہوتی ہے۔
آئیے کچھ ایسی آیات ملاحظہ ہوں
جن میں روز قیامت کے خوف و غم سے امن کو بیان کیا گیا ہے:
(1) اللہ عزوجل کو ماننا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے
ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(2) اللہ کے ولیوں پر نہ خوف اور
نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ:اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہوگا اور نہ
وہ غمگین ہوں گے: مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان
کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:
(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا
خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔
(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز
میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر
غمگین ہوں گے۔
(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف
ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہتعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں
ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (تفسیر
صراط الجنان ،پارہ 11،سورۃیونس،آیت62،63)
(3)ایمان والوں کو نہ خوف اور نہ
غم: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ
الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر
خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور
جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔ (پ7، الانعام:48،
49)
(4)نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے
والوں کا اجر: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ
جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ(اجروثواب)
ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)
(5)مال خرچ کرنے کا اجر: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں
رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان
کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
تفسیر :اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ: وہ لوگ جو اپنے
مال خیرات کرتے ہیں: یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت
شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں یعنی دن رات، خفیہ اعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ آیت
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے راہِ
خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے۔ دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس
ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر ۔(تفسیرصراط الجنان ،پارہ3،سورۃالبقرہ،آیت274)
حافظ محمد حسین عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
قرآن مجید ، جو کہ انسان کی ہدایت
کا کامل سرچشمہ ہے، ان جذبات کو نظرانداز نہیں کرتا بلکہ نہایت حکمت و رحمت کے
ساتھ خوف و غم کا تذکرہ کر کے انسان کو صبر، ایمان، تقویٰ اور اللہ پر توکل کا پیغام
دیتا ہے۔ خوف و غم کے متعلق چند قرآنی آیات :
(1) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)
اس آیت میں فرمایا گیا کہ بیشک
وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد
المرسَلین ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے
اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ
ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔
(2) قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
ہدایتِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
(3) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ
تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمہ
کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو۔(پ25،
الزخرف:68)
اس آیت میں فرمایا گیا کہ دینی
دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے
کے لئے ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین
ہوگے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے،ان
سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اورجنت میں تمہارا
اکرام ہوگا، نعمتیں دی جائیں گی اورایسے خوش کئے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی
کے آثار نمودار ہوں گے۔
قرآن کریم کا پیغام خوف و غم کے حسین توازن پر
قائم ہے۔ جہاں اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے روکتا ہے، وہیں اس کی رحمت پر یقین
اسے امید اور سکون عطا کرتا ہے۔ بندہ جب تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خوف اس کے لیے بیداری
کا ذریعہ بنتا ہے، اور جب وہ اللہ کے وعدوں پر ایمان لاتا ہے تو دل کو اطمینان نصیب
ہوتا ہے۔ یہ توازن ہی دراصل مؤمن کی اصل روحانی غذا ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ
ہم قرآن کی روشنی میں خوف اور امن دونوں کو اپنے قلب و عمل کا حصہ بنائیں تاکہ نہ
تو ناامیدی کا شکار ہوں، اور نہ ہی غفلت کا۔ یہی راہ ہدایت ہے، اور یہی ہمیں اللہ
کی رضا اور نجات تک پہنچا سکتی ہے۔
عبد الرحیم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قرآن پاک اللہ پاک کی پیاری
کتاب ہے، قرآن پاک میں اللہ پاک نے ان لوگوں کا بھی ذکر فرمایا جو بروز قیامت خوف
و غم سے امن میں ہونگے، آئیے ہم بھی ان لوگوں کے چند اوصاف پڑھنے کی سعادت حاصل
کرتے ہیں :
(1) ھدایت کی پیروی: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
(2)نیکی کرنے والا: بَلٰىۗ- مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ
اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪- وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا
دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ
کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)
(3) مال خرچ کرنا : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ
سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور
اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)
(4) عمل صالح: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا
الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز
العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی
اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ
غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)
(5) اللہ کی عطا پر خوش: فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ
بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل
سے دیا ہے اور اپنے پیچھے(رہ جانے والے) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان
سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ (پ4، آل عمران: 170)
اللہ پاک ہمیں ان اوصاف کو اپنانے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین
عدیل رمضان عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
بروز قیامت خوف و غم سے امن میں
رہنے والوں کا قرآنی تذکرہ پڑھیے:
(1) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ
مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں
شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام:
82)
(2) اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
(3) مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ
هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ
بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو
تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے
میں ان کا اجر دیں گے۔(پ14، النحل:97)
(4) اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ(۴۵) اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ
اٰمِنِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: بےشک ڈر والے
باغوں اور چشموں میں ہیں ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔(پ 14، الحجر: 45،
46)
(5) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر)
ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور
اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)
پیارے اسلامی بھائیو! اس تمام
سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان اور تقویٰ قیامت کے خوف و غم کا علاج ہیں ، اور آخرت میں
اسے دائمی امن جنت اور اللہ کی رضا نصیب ہوتی ہے۔
محمد اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قیامت کا دن انتہائی ہولناک اور
خوفناک ہو گا، جب ہر شخص کو اپنی فکر ہو گی۔جس دن اللہ عزوجل کے عرش کے سائے کے
علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا لیکن قرآن و حدیث میں کچھ خوش نصیب لوگوں کا ذکر ہے جنہیں
اس دن کوئی خوف اور غم نہیں ہو گا اور وہ سب امن کے گہوارے میں ہونگے یہ وہ لوگ ہیں
جو دنیا میں اللہ ورسول عزوجل و ﷺ کے احکام پر عمل کرتے رہے ہونگےاور اللہ عزوجل
کے خوف سے گناہوں سے بچتے رہےاور نیک اعمال کرتے رہےاور انہوں نے دنیا میں ایمان،
تقویٰ اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی وہ قیامت کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے۔
آئیے ایسے لوگوں کا ذکر خیر قرآن پاک کی روشنی میں پڑھتے ہیں:
(1)اللہ عزوجل کو رب ماننے والے:وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب
اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلینﷺ کی شریعت پر آخری دم
تک ثابت قدم رہے، تو اللہ عزوجل نے اپنے ایسے بندوں کی تعریف قرآن کریم میں یوں
فرمائی: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ
اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ وہ جنت والے
ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(2)پرہیز گاری اختیار کرنے والے:
ارشاد باری تعالٰی ہے: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ
عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ
کنزالایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے
تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)
تفسیر:اس آیت میں اولادِ آدم
سے خطاب ہے کہ اے اولادِ آدم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو
تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اُسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار
کرے گا اور ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت
کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں
کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے ۔ چنانچہ
ا س دن کتنے ہی لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے، جیسا
کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے جلال کی وجہ سے
آپس میں محبت کرنے والوں کیلئے (قیامت کے دن) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاءعَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہدا بھی رشک کریں گے۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء
فی الحب فی اللہ، 6/ 176، الحدیث: 2397)
(3)نیک اعمال کرنے والے: ایمان کی حالت میں نیک اعمال
کرنے والے خوف و غم سے محفوظ ہوکر امن کے گہوارے میں ہونگے جیسا کہ ارشاد باری
تعالٰی ہے : وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ
فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ
زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
(4)اولیاء اللہ: وہ لوگ ہے جو فرائض کی ادائیگی
سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور
ان کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی
کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں
حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ تو ان
کے متعلق ارشاد باری تعالٰی ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
(5)دینی دوستی اور اللہ کی خاطر
محبت رکھنے والے : دینی
دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے
کے لئے ان سے فرمایا جائے گا: اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا
الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ
تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا
مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ
تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: گہرے دوست اس
دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل
ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25، الزخرف:67تا70)
اللہ عزوجل سے دعا ہے ہمیں اپنے
مقبول بندوں میں قبول فرما کر ہم سب کی بے حساب مغفرت وبخشش فرمائے ۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین۔
محمد شاف عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ فیضان
عثمان غنی، کراچی ،پاکستان)
بروز قیامت خوف و غم سے امن والا
کون ہے ، اس کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے ، چند آیات ملاحظہ کیجیے:
قرآنی بیان نمبر1: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی
آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)
قرآنی بیان نمبر:2 فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ کنزالایمان: جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف
اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)
"تقوی" کا ایک معنی
ڈرنا(خوف) بھی ہے۔(علم القرآن،صفحہ:46، مكتبۃ المدينہ) تو معنی یہ ہوا کہ جس نے
خوفِ خدا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اُس پر آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور
نہ وہ غمگین ہوگا۔
قرآنی بیان نمبر:3 اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)
الله تعالی نے حدیثِ قدسی میں
ارشاد فرمایا:میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو غم جمع نہیں کروں
گا: اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں قیامت کے دن اسے امن میں رکھوں گا اور
اگر وہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہے(بے خوف) رہے تو میں بروزِ قیامت اسے خوف میں
مبتلا رکھوں گا۔ (شعب الایمان ،باب فی الخوف من الله تعالی،جلد:1،صفحہ:483، حدیث:حدیث:777،
دار الکتب العلمیہ بیروت )
خوف اور غم سے چھٹکارا: اس ضمن میں ایک آیت کریمہ میں
بتایا جاتا ہے کہ قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ
كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ- هُمْ فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں
جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38، 39)
اس آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے
کہ ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی
گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
ایمان پرامن: ایمان پر امن کے حوالے سے ایک آیت کریمہ میں ارشاد باری
تعالیٰ ہے کہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی
آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)
اس آیت کے ضمن میں ایک واقعے میں
ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم
بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں سے ایسا
کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس سے یہ
مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے
!اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب
احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)
ان آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے
کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کا اصل سکون اور امن صرف اپنے رب پر
کامل یقین، اس کی یاد، اور اس کی طرف رجوع میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کے خوف، غم، تکلیفیں
اور آزمائشیں انسان کو وقتی طور پر کمزور کر سکتی ہیں، مگر قرآن اسے ایک ایسی روشنی
فراہم کرتا ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔
جب انسان اپنے رب کی طرف پوری
توجہ کے ساتھ رجوع کرتا ہے، تو دل مطمئن ہو جاتا ہے، اور ذہن کو وہ امن نصیب ہوتا
ہے جو دنیا کی کسی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ خوف و غم کی کیفیت میں قرآن انسان کو
ثابت قدمی، امید، اور یقین عطا کرتا ہے، اور اسے سکھاتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی
ہے، اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی۔
احمد حسن عطاری (درجہ سابعہ جامعہ المدینہ
فضان عطار ڈیفنس، لاہور ،پاکستان)
آخرت کے خوف و غم کی پریشانی ہر
مسلمان کو ہوتی ہے کچھ اللہ تعالیٰ کے خاص
بندے ایسے بھی ہے جن کو روز قیامت میں کوئی خوف اور غم
نہیں ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے اپنی لاریب کتاب میں فرمایا: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
تفسیر صراط الجنان: وَلِیُّ
اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ
تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں
مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور
جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے
جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے
خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے
تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔
( آیات کریمہ سے چند اہم نکات )
(1)حضور ﷺ پر نبوت ختم ہوئی ہے
ولایت ختم نہیں ہوئی۔
(2)ہر زمانہ میں ایک دو ولی نہیں
بلکہ بہت سارے ولی رہیں گے۔ ولایت بر حق ہے قیامت تک ولی رہیں گے۔
(3)ولی اللہ کبھی عمداًبرا کام
نہیں کرتے جس سے انہیں آگے چل کر غم ہو۔
(4)کوئی مشرک ، کافر ، بد مذہب ،
ولی اللہ نہیں بن سکتا۔
(5)خبردار کوئی فاسق و فاجر بے
نمازی بھنگی چرسی اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔
آخرت کا خوف و غم کیسے دور کرے :
رب تعالٰی نے خود فرمایا میرے نیک بندے پر نہ
خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوگا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ ایسے ہو گا ،جب ہم اللہ
ورسول کی اطاعت اور فرمابراری والے کاموں میں اپنی زندگی گزاریں۔ ہر وقت اللہ
تعالٰی کی یاد میں گزاریں۔ںکثرت سے قرآن مجید کی تلاقت کریں۔ نیک لوگوں کی صحبت
اختیار کریں۔ حضور علیہ اسلام سے پکی سچی محبت اور حضور علیہ اسلام کی سنتیں پر
عمل کریں۔ نیک لوگوں سے محبت کریں اورحقوق اللہ اور حقوق العباد بھی پورے کریں۔ حسد،
تکبر، غیبت، چغل خوری اور اپنے آپ کو گناہ کے کاموں سے بچائیں، نیکی کا حکم دیں
اور نیک اعمال پرعمل کریں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف عطا
فرمائے اور آخرت کے خوف وغم سے محفوظ فرمائے، آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ
وسلم۔
قرآن مجید میں روز قیامت کے خوف (ڈر) اور غم
(پریشانی) سے امن کی بشارت بار بار دی گئی ہے۔ یہ تصور بنیادی طور پر ایمان، صبر
اور اللہ پر توکل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چند اہم نکات اور آیات درج ذیل ہیں:
(1) اہلِ ایمان کے لیے خوف و حزن
سے نجات :اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
(2) اللہ کی مدد ساتھ ہونا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ
اَنْ یَّطْغٰى(۴۵) قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ
اَرٰى(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان:
دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب بےشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت
سے پیش آئے۔فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا(پ16، طٰہٰ:45،
46)
قرآن کا پیغام یہ ہے کہ ایمان،
تقویٰ، صبر، اور اللہ پر بھروسہ انسان کو دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات دلاتا
ہے۔ جو شخص اللہ کا ولی اور دوست بن جاتا ہے، اس کے لیے اللہ کی طرف سے سکون، اطمینان
اور امن کی ضمانت ہے۔
احمد افتخار عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قرآن پاک کے اندر اللہ پاک نے
بہت سے کاموں کی بہت وعیدیں بیان فرمائی ہیں اور برے اعمال کرنے والوں کے لیے بھی
وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں، اسی طرح اللہ پاک نے اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کے لیے
بشارتیں بھی نازل فرمائی ہیں، آئیے میں آپ کے سامنے چند آیات ذکر کرنے کی سعادت
حاصل کرتا ہوں :
(1) ھدایت کا پیروکار : قُلْنَا اهْبِطُوْا
مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ
هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
(2) نیک کام کا ثواب : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ
الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ
لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور
نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں
اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ
کچھ غم۔ (پ1، البقرة: 62)
(3) اپنا منہ جھکانا : بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ
مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ
یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالایمان: ہاں کیوں نہیں
جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لیے اور وہ نیکو کار ہے تو اس کانیگ (بدلہ) اس کے
رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم ۔ (پ1، البقرۃ:112)
جنت میں داخلے کا حقیقی معیار ایمانِ
صحیح اور عملِ صالح ہے اور کسی بھی زمانے اور کسی بھی نسل و قوم کا آدمی اگر صحیح
ایمان و عمل رکھتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ کے
اعلانِ نبوت کے بعد آپ کی نبوت نہ ماننے والے کا ایمان قطعاً صحیح نہیں ہوسکتا
اور کوئی بھی عمل ایمان کے بغیر صالح نہیں ہوسکتا،گویا جو حضور پرنور ﷺ پر ایمان
رکھے اور عملِ صالح کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔
(4) مال خرچ کرنا : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے
مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے
ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
(5) اچھے کام کا صلہ : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے
کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ (اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے
اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)
احمد رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
دینی دوستی اور اللہ تعالی کی
خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے
گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو
ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور
تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا ،نعمتیں
دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں
گے۔(ابو سعود، سورت الزخرف جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 550، دارالکفر بیروت)
(1) بھلائی کی بات پر عمل کرنا: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
تفسیر: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،جلد نمبر: 1، پارہ:
1 ، سورۃ بقرہ ، آیت نمبر: 38 ، صفحہ نمبر: 119-120 مکتبۃ المدینہ)
(2) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:
274)
(3) اللہ کے ولیوں کی حرمت: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں: لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی
قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ
کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ۔ ( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، جلد نمبر:
4 ، پارہ نمبر: 11 ، آیت نمبر: 62 - 63 ، صفحہ نمبر: 344 ، مکتبۃ المدینہ )
(4) دین پر ثابت قدم رہنا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ
ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)
(5) نیک اعمال کرنا: وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ
ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ
نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر
صراط الجنان: وَ مَنْ یَّعْمَلْ
مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ:اور
جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے: ارشاد فرمایا
کہ جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ
وعدے کے مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے
گی اور نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔( صراط الجنان فی تفسیر
القرآن ، جلد نمبر: 6 ، پارہ نمبر: 16 ، آیت نمبر: 112 ، صفحہ نمبر: 246 مکتبۃ
المدینہ )
Dawateislami