اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور خیر خواہی پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس "فساد فی الارض" یعنی زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، بددیانتی اور اخلاقی تباہی کو قرآنِ کریم نے نہایت سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ یہ مضمون قرآنِ مجید کی آیات، صحیح احادیثِ نبویہ ﷺ اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔

فساد فی الارض کا مفہوم:"فساد" کے لغوی معنی بگاڑ، خرابی اور نظام کا درہم برہم ہونا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو انسانی معاشرے کے امن، عدل اور اخلاقی اقدار کو تباہ کرے، جیسے: ظلم و زیادتی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور کرپشن، فتنہ انگیزی، حقوق العباد کی پامالی۔

فساد کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی :قرآنِ مجید میں فساد کی مذمت پر ارشاد ہوا :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ ۱۱ـ۱۲)

یہ آیت ان لوگوں کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنے غلط اعمال کو نیکی کا نام دیتے ہیں۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا فساد اللہ کو ناپسند ہے:

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (البقرۃ:۲۰۵)

یہاں واضح کیا گیا کہ فساد صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی اور ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنز العرفان: جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(المائدۃ:۳۲)

یہ آیت انسانی جان کی عظمت اور فساد کی سنگینی کو بیان کرتی ہے۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ:۳۳)

یہ آیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ فساد ایک سنگین جرم ہے جس کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔ (الروم:۴۱)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں بگاڑ کی اصل وجہ انسان کے اپنے اعمال ہیں۔

احادیثِ نبویہ ﷺ میں بھی جا بجا فساد کی مذمت بیان ہوئیں چنانچہ احادیث درج ذیل ہے

مسلمان وہ ہے جس سے لوگ محفوظ رہیں:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 10)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ فساد سے بچنا ایمان کا حصہ ہے۔

ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 2578)

یہ حدیث معاشرتی فساد اور انتشار سے بچنے کی تاکید کرتی ہے۔

بزرگانِ دین کے اقوال سے فساد کی مذمت :

فساد کے اسباب:دین سے دوری، ظلم اور ناانصافی، لالچ اور حرص، جہالت، اقتدار کا غلط استعمال۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ فساد فی الارض ایک سنگین جرم اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب ہے۔ اسلام ایک پرامن، عادل اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جہاں ہر فرد دوسرے کے حقوق کا احترام کرے۔ اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تو نہ صرف فساد کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ بھی قائم ہو سکتا ہے۔


فساد فی الارض ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان زمین پر ظلم، ناانصافی اور بگاڑ پھیلاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس عمل کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے ایک بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔

فساد فی الارض کی تعریف:فساد فی الارض کا مطلب ہے زمین پر بگاڑ اور ظلم پھیلانا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنی خود غرضی اور ناانصافی کی وجہ سے زمین کے نظام کو خراب کرتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (البقرۃ: 11،12)

فساد فی الارض کی اقسام:فساد فی الارض کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) ظلم و ناانصافی: زمین پر ظلم و ناانصافی کرنا فساد فی الارض ہے۔

(2) قتل و خونریزی: بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا یا زخمی کرنا فساد فی الارض ہے۔

(3) مال و دولت کی چوری: لوگوں کا مال و دولت چوری کرنا یا ان کے حقوق ماری کرنا فساد فی الارض ہے۔

(4) زمین کی خرابی: زمین کو خراب کرنا یا اس کے وسائل کو ضائع کرنا فساد فی الارض ہے۔

فساد فی الارض کی سزا:قرآن مجید میں فساد فی الارض کی سخت سزا بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (المائدۃ: 33)

فساد فی الارض سے بچنے کا طریقہ:فساد فی الارض سے بچنے کے لیے ہمیں چند باتوں پر عمل کرنا ہوگا:

(1) عدل و انصاف: ہمیں اپنے معاملات میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

(2) تقویٰ: ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

(3) صلح و صفائی: ہمیں لوگوں کے ساتھ صلح و صفائی سے پیش آنا چاہیے۔

(4) زمین کی حفاظت: ہمیں زمین کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کے وسائل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

فساد فی الارض ایک بڑا گناہ ہے جس کی سخت مذمت قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ ہمیں اس سے بچنے کے لیے عدل و انصاف، تقویٰ، صلح و صفائی اور زمین کی حفاظت کرنی چاہیے۔


الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:‏ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ ( سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

ایک اور مقام پر ہے: كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)

ترجمۂ کنزالعرفان: (اور ہم نے فرمایاکہ)اللہ کا رزق کھاؤ اور پیواور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ (سورۃالبقرۃ:60)

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم سے فرمایا گیا کہ آسمانی طعام مَن و سَلْوٰی کھاؤاور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الہٰی سے بغیر محنت کے میسر ہے اوراس بات کا خیال رکھو کہ فتنہ و فساد سے بچو اور گناہوں میں نہ پڑو۔ ہر امت کو یہی حکم تھا کہ اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ لیکن فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی رزق کے استعمال سے منع نہیں فرمایا بلکہ حرام کمانے، حرام کھانے، کھاکر خدا کی ناشکری و نافرمانی سے منع کیا گیا ہے۔

سورۃ رعد میں فرمایا:وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (سورۃ رعد:25)

اور ارشاد فرمایا:وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ (سورۃالشعراء،183)


فساد فی الارض کی قرآنِ مجید میں سخت مذمت کی گئی ہے کیونکہ یہ معاشرے کے امن و سکون کو تباہ کر دیتا ہے۔قرآن مجید انسانوں کو زمین میں اصلاح کرنے اور بھلائی پھیلانے کا حکم دیتا ہے۔جو لوگ ظلم، ناانصافی اور فساد پھیلاتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔فساد نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

اسی لیے اسلام امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ زمین پر فساد ختم ہو۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص:77)


انسانی معاشرہ امن، عدل اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، لیکن جب اس میں ظلم، ناانصافی اور بدامنی پھیل جائے تو اسے قرآنِ مجید کی زبان میں "فساد فی الارض" کہا جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو زمین میں امن و سکون کو قائم رکھنے اور ہر قسم کے فساد سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں بار بار فساد پھیلانے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور انہیں سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

فساد فی الارض صرف لڑائی جھگڑے یا قتل و غارت تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو معاشرے کے امن کو خراب کرے، دوسروں کے حقوق سلب کرے یا اخلاقی بگاڑ پیدا کرے، اس میں شامل ہے۔ آج کے دور میں بھی مختلف شکلوں میں فساد ہمارے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے، جس سے بچنے کے لیے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنزالایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ،آیت 32)

(1)ظلم کی ممانعت: اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ:ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2579)

(2) مسلمان کی پہچان (دوسروں کو نقصان نہ دینا):المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح البخاری، کتاب الإيمان، حدیث نمبر 10)

صحابہ اور سلف و صالحین کا انصاف

(1) حضرت عمراور انصاف:حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ایک شخص نے دوسرے پر ظلم کیا۔ مقدمہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فوراً انصاف کیا اور فرمایا کہ ظلم معاشرے میں فساد کو جنم دیتا ہے۔(ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7)

(2) صلح کروانے کی فضیلت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان صلح کروانا بہت بڑا نیک کام ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ دو لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا فساد کو ختم کرتا ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، حدیث نمبر 4919)

اسلام ایک ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو زمین میں امن، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور ہر قسم کے فساد سے سختی سے منع کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فساد فی الارض کی شدید مذمت کی گئی ہے اور انسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زمین میں اصلاح کے بعد بگاڑ پیدا نہ کریں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں ظلم، چغل خوری، دھوکہ دہی اور دوسروں کو نقصان پہنچانے جیسے اعمال کو فساد قرار دے کر ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔حکایات اور اسلامی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انصاف، سچائی، صلح جوئی اور امانت داری معاشرے میں امن قائم کرتی ہیں، جبکہ ظلم اور برے اعمال فساد کو جنم دیتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ خود بھی فساد سے بچے اور دوسروں کو بھی اس سے روکے تاکہ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم ہو سکے۔


فساد فی الارض ایک نہایت اہم اور حساس موضوع ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی معاشرے کے امن و سکون سے ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جو رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہی بگاڑ "فساد فی الارض"کہلاتا ہے، جو ظلم، ناانصافی، بددیانتی اور بدامنی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا فساد پھیلانے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا ۔(المائدۃ آیت ٦٤)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (الشعراء آیت ١٥٢)

یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳ / ۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲،ص۸۲۷، ملتقطاً)

فساد کی کئی صورتیں ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11)

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقین کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔(صراط الجنان جلد 1 البقرۃ الآیۃ 11ـ12)

حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلماً قتل سے زیاد سہل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً، ۳ / ۲۶۱، الحدیث: ۲۶۱۹)

فساد فی الارض معاشرے کی تباہی کا سبب ہے، جبکہ اصلاح، عدل اور نیکی اس کا علاج ہیں۔ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی سے بچے اور بھلائی کو فوقیت دے، تاکہ زمین پر امن و سکون قائم ہو سکے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قسم کے فساد سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم۔


اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(سورۃالمائدۃ:33)

اسلامی سزاؤں کی حکمت: اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان: لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔


زمین میں فساد پھیلانا یہ ایک برا عمل ہیں۔ اور اس عمل کیوجہ سے لوگ اس شخص سے متنفر اور بد ظن ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ لوگ انکے ساتھ چلنےپھرنےاور بیٹھنے کو بھی ناپسند قرار دیتے ہیں ۔ کہ کہی ایسا نہ ہو کہ اسکی نحوست ہم پر پڑ جائے۔

فساد کی کئی صورتیں ہیں جیسا کہ : آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں ۔

اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر انکے خلاف وعیدیں ارشادفرمائی:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنزالایمان : جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 5)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 33)

وضاحت :ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں رسوا اور ذلیل ہونگے ۔

اس طرح فساد فی الارض سے بچنے کی تاکید فرمائی :

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃالاعراف:آیت56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔


وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃابقرۃ:11،12)

لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔ (سورۃ البقرۃ:30)

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ:اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کے واقعات پر ضمنی تبصرے سے پہلے ایک مرتبہ آیات کی روشنی میں واقعہ ذہن نشین کرلیں۔واقعے کا خلاصہ: اللہ تعالٰی نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے فرشتوں سے فرمایاکہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے عرض کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو زمین میں اس کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح و تحمید کرتے ہیں (یعنی تیری خلافت کے مستحق ہم ہیں۔ )اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے بعد انہیں تمام چیزوں کے نام سکھادیے اورپھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ تم ہی خلافت کے مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے یہ سن کر عرض کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا،ساری علم و حکمت تو تیرے پاس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: اے آدم!تم انہیں اِن تمام اشیاء کے نام بتادو ۔ جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے فرشتو!کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں تمہاری ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃالاعراف:56)

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو امن، عدل اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بارہا زمین میں فساد پھیلانے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معاشرتی بگاڑ کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ فساد فی الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو انسانی زندگی، معاشرے اور اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچائیں، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ دہی اور بدامنی پھیلانا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن اور پرامن نظام کے ساتھ پیدا فرمایا، اور انسان کو اس کا نگہبان بنایا۔ لیکن جب انسان اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر اس توازن کو بگاڑتا ہے تو وہ فساد کا مرتکب ہوتا ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11)

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھائی کا نام دے کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت معاشرے کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ فساد کو اصلاح کے پردے میں چھپاتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد پھیلانے والوں کے انجام کے بارے میں بھی سخت وعید آئی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: 77)

یہ اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ فساد اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتی ہیں۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ معاشرے میں امن قائم کرنے، حق و انصاف کو فروغ دینے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے سے ہی ہم ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فساد فی الارض نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہمیں قرآنِ مجید کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں اور معاشروں کو فساد سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور دنیا میں امن و سکون قائم ہو۔


رواں ماہ 27 اور 28 اگست 2026ء کی درمیانی رات دنیا کے متعدد حصوں میں 96.2 فیصد ”جزوی چاند گرہن“ (Partial Moon Eclipse) دیکھا جا سکے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ گرہن شمالی و جنوبی امریکہ اور افریقہ کے تمام حصوں جبکہ ایشیا کے کچھ علاقوں میں نمایاں ہوگا ۔

گرین وچ (GMT) ٹائم کے مطابق یہ گرہن 28 اگست 2026ء کو 02:34 پر شروع ہو کر 05:52 پر اختتام پذیر ہوگا۔

٭چاند گہن کب ہوتا ہے:چاند گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان میں آ جاتی ہے جس سے زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے اور وہ بے نور ہو جاتا ہے، اسے چاند گرہن (Moon Eclipse) کہتے ہیں٭چاند گہن کی اقسام: ”چاند گہن“مکمل (Total) بھی ہوتا ہے اور جزوی (Partial)بھی٭ سائے کی دو اقسام ہیں:ہلکا سایہ (Penumbra): یہ سایہ عام آنکھ سے واضح نظر نہیں آتا۔گہرا سایہ (Umbra): یہ سایہ بالکل واضح ہوتا ہے جسے عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

چاند گہن کی نماز

جدید سائنس دونوں قسموں پرگہن کا اطلاق کرتی ہے لیکن جس گہن پر نماز مستحب ہے وہ گہرے سائے والا گہن (Umbral Eclipse) ہے۔مسئلہ : سورج گہن کی نماز سُنَّتِ مُؤَکَّدہ اور چاند گہن کی نمازمُستَحَب ہے ۔ (دُرِّمُختار،3/ 80 دار المعرفۃ بیروت)

مختلف ممالک میں چاند گہن کے آغاز و اختتام کے اوقات

Time Zones

Countries

Partial Eclipse Begin

Partial Eclipse end

28th Aug

GMT+3:00

Tanzania, Kenya, Saudi Arabia etc

05:34

Sunrise

GMT+2:00

South Africa, France, Norway etc

04:34

Sunrise

GMT +1:00

UK, Portugal, Morocco etc.

03:34

06:52

GMT +0:00

Ghana, Mauritania, Iceland etc.

02:34

05:52

GMT -1:00

Greenland

01:34

04:52

27th Aug

GMT -3:00

Brazil (Brasilia)

23:34

02:52

(Next day)

GMT -4:00

Toronto (Canada), New York (USA)

22:34

01:52

(Next day)

GMT -5:00

Texas (USA), Peru

21:34

00:52

(Next day)

GMT -6:00

Mexico City (Mexico)

20:34

23:52

GMT -7:00

California (USA)

19:34

22:52

GMT -8:00

Alaska (USA)

Sunset

21:52

نوٹ : پاکستان میں یہ گہن نظر نہیں آسکے گا۔

گرہن اور حاملہ خواتین

سورج یا چاند گرہن کے حاملہ عورت پر کسی قسم کے منفی اثرات نہیں پڑتے لہذا توہمات سے بچیں اور ان مواقع پر توبہ و استغفاراورنمازکا اہتمام کریں۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کے تحت 14 جولائی 2026ء کو پنجاب میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک خصوصی ”معلم کورس “کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کے معلمین اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

کورس کے دوران استاذالحدیث مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدظلہ العالی نے حاضرین کے درمیان خصوصی بیان کرتے ہوئے بنیادی عقائد اور علمِ دین سیکھنے اور سکھانے کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی نیز تمام معلمین کو عقائد کا علم سیکھنے اور اسے آگے عام کرنے کی ترغیب دلائی۔

شعبے کے رکن مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی کے مطابق اس کورس کا بنیادی مقصد معلمین کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ان میں دینی امور کی ترویج و اشاعت کا جذبہ بیدار کرنا تھا۔(رپورٹ:مولانا محمداحمدسیالوی عطاری مدنی رکن شعبہ مدنی کورسز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)