دعوتِ اسلامی کے تعلیمی ادارے دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی  میں یومِ آزادی پاکستان کے سلسلے میں14 اگست 2026ء کو اسٹوڈنٹس کے لیے ایک خصوصی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی اس تقریب کا بنیادی مقصد اسٹوڈنٹس میں خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیتوں کی نشو و نما اور قومی ذمہ داری کے احساس کو بیدار کرنا تھا۔

تقریب کے دوران مختلف مقابلہ جات بشمول تقاریر، مباحثوں اور پریزنٹیشنز کا اہتمام کیا گیا جن میں اسٹوڈنٹس نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

اس کے علاوہ اسٹوڈنٹس نے اپنے مقالوں اور تقاریر میں پاکستان کے سفرِ آزادی، ذمے دارانہ شہریت کے تقاضوں اور ملک کی تعمير و ترقی میں نوجوان نسل کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔(رپورٹ: سید ذیشان بخاری، سوشل میڈیا منیجر ایجوکیشن کونسل دعوت اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (دعوتِ اسلامی) میں 14 اگست 2026ء کو یومِ آزادی پاکستان کے پرمسرت موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خصوصی ٹریننگ سیشن، پرچم کشائی اور شجرکاری مہم شامل تھیں۔

تقریب میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی وقار المدینہ عطاری بطورِ مہمانِ خصوصی جبکہ اسٹوڈنٹس سمیت دیگر کثیر عاشقانِ رسول شریک تھے جنہوں نے بھرپور انداز میں پرچم کشائی کی۔

یہ تقریب دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اس عزم کی عکاس تھی جس کا مقصد طلبہ کی اخلاقی و روحانی تربیت، حبُ الوطنی کا فروغ اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانا ہے تاکہ وہ معاشرے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگائے گئے۔(رپورٹ: سید ذیشان بخاری سوشل میڈیا منیجر ایجوکیشن کونسل دعوت اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 29 جولائی 2026ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں ایک خصوصی اسپیشل پرسنز پروفیشنلز میٹ اپ کا انعقاد کیا گیا  جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے ”اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ“ کی خدمات اور کارکردگی پر مبنی ایک تفصیلی ڈاکومنٹری دکھائی گئی جبکہ میٹ اپ میں خصوصی طور پر دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی منصور عطاری بھی موجود تھے ۔

ڈاکومنٹری کے بعد سوال و جواب کی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں رکنِ شوریٰ حاجی منصور عطاری نے پروفیشنلز کی جانب سے کیے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔رکنِ شوریٰ نے اپنی گفتگو کے دوران حاضرین کو باہم مل کر اور مزید بہتر انداز میں اسپیشل پرسنز کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی ترغیب دلائی۔

میٹ اپ میں موجود تمام پروفیشنلز نے اسپیشل پرسنز کی بہتری کے لیے دعوتِ اسلامی کی ان کاوشوں کو سراہا اور اس مشن میں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔(رپورٹ: محمد عمیر ہاشمی عطاری نگران اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

ڈویژن ساہیوال، پنجاب میں شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کے متعلق مختلف موضوعات پر مشاورت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق 10 اگست 2026ء کو ہونے والے اس میٹنگ میں صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے ساہیوال ڈویژن میں ماہانہ دینی کاموں کی کارکردگی، نیو مقامات کے ایڈریسز اور تنظیمی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کا ذہن دیا۔

میٹنگ میں بالخصوص صوبائی ذمہ دار نے عطیات بڑھانے کے اہداف اور رواں سال آنے والے ٹیلی تھون 2026ء کی تیاریوں سے متعلق چند اہم نکات پر تفصیلی گفتگو کی ۔ اس موقع پر فیصل آباد ڈویژن، ڈسٹرکٹ/میٹرو اور تحصیل سطح کے تمام ذمہ دار اسلامی بھائی موجود تھے جنہوں نے شعبے کے کاموں میں مزید بہتری لانے کے لیے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: محمد علی رفیق عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 8 اگست 2026ء کو ڈویژن فیصل آباد میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیاجس میں تنظیمی پیش رفت اور عطیات (ڈونیشن) اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈویژن فیصل آباد میں منعقد ہونے والے اس مدنی مشورے میں صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے فیصل آباد ڈویژن کے نئے مقامات کے ایڈریسز کا اندراج کرنے اور ماہانہ دینی کاموں کی کارکردگی کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے آئندہ کے اہداف بتائے۔

اسی طرح مدنی مشورے کے دوران صوبائی ذمہ دار نے عطیات بڑھانے کے اہداف اور اس سال آنے والے ٹیلی تھون 2026ء کی تیاریوں سے متعلق اہم نکات پر گفتگو کی ۔

صوبائی ذمہ دار نے شعبے کے کاموں کو مزید بہتر بنانے اور طے شدہ نکات کے مطابق ضروری اقدام کرنے کے حوالے سے ذمہ داران کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔اس موقع پر فیصل آباد ڈویژن، ڈسٹرکٹ/میٹرو اور تحصیل سطح کے تمام ذمہ دار اسلامی بھائی موجود تھے ۔(رپورٹ: محمد علی رفیق عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

لاہور سٹی، پنجا ب میں شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز دعوتِ اسلامی کے تحت 10 اگست 2026ء کو مدرسۃ المدینہ آن لائن اچھرہ برانچ (مارننگ شفٹ) کے ذمہ داران اور مدرسین کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق اس میٹنگ میں مدرسۃ المدینہ آن لائن لاہور سٹی کے ڈویژن تعلیمی ذمہ دار نے اچھرہ برانچ کی مارننگ شفٹ کے اساتذہ کرام کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

ڈویژن تعلیمی ذمہ دار نے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے طریقے بیان کرتے ہوئےطے شدہ تعلیمی اہداف کو بروقت و احسن طریقے سے پورا کرنے کا ذہن دیا۔

میٹنگ کے اختتام پر اساتذہ کرام اور وہاں موجوددیگر ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شعبے میں ترقی لانے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی اچھی اچھی نیتیں کیں۔ (رپورٹ:مولانا محمد وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز دعوتِ اسلامی کے تحت گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن کے شفٹ تعلیمی ذمہ داران کا ایک اہم آن لائن مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں تعلیمی امور اور اس میں بہتری کے حوالے سے اہم نکات پر کلام کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 10 اگست 2026ء کو منعقد ہونے والے اس مدنی مشورے کی ابتدا میں گوجرانوالہ و راولپنڈی ڈویژن کے تعلیمی امور ذمہ دار حافظ جواد عطاری نے شفٹ تعلیمی ذمہ داران سے شعبے کے متعلق گفتگو کی۔

اس دوران تعلیمی امور ذمہ دار نے حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے فضول گفتگو کے نقصانات بتائے بالخصوص تین ماہ کی میٹنگ کے اصول و ضوابط، تعلیمی نظام کی بہتری اور تفتیشی امور سے متعلق اہم باتیں بتائیں۔

مدنی مشورے کے اختتام پر تمام شفٹ تعلیمی ذمہ داران نے طے شدہ نکات پر عمل پیرا ہونے اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ:مولانا وقارعطاری مدنی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


قرآن پاک میں جن امور سے روکا گیا ہے ان امور میں ایک معاملہ فساد فی الارض بھی ہے۔ فساد فی الارض معاشرے کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (رعد:25)

ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان)

ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ (محمد،22)

اسلامی جہاد رحمت ہے یا فساد؟اس سے معلوم ہوا کہ منافقین اسلامی جہاد کو زمین میں فساد اور خرابیوں کاسبب سمجھتے تھے اس لئے جہاد سے منہ موڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا جو رد فرمایا اس سے معلوم ہواکہ منافقوں کااسلامی جہاد کے بارے میں یہ نظریہ غلط و باطل تھا اوراس سے ان کا مقصد صرف جہاد میں جانے سے بچنا اور دوسروں کو جہاد میں شرکت سے روکنا تھا۔فی زمانہ بھی اسلام کے دشمن اسلامی جہاد پر اسی طرح کے اعتراض کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے اسلام کی محبت اور اس سے قلبی تعلق ختم کر کے اس کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں انسانیت پر بے انتہا ظلم و ستم کی تعلیم دی گئی ہے،اسی طرح اسلام دشمنوں کے افکار و نظریات اور ان کی تعلیمات سے مرعوب کچھ نام نہاد مسلمان بھی اسلامی جہادسے متعلق ایسا کلام کرتے ہیں جو اس کی حقیقت اوراس کے اصل مقاصد کے بالکل بر خلاف ہوتا ہے، حالانکہ ان میں بہت سے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے حتّٰی کہ تاریخ سے ادنیٰ سی واقِفِیَّت رکھنے والا شخص بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ دینِ اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے انسانوں کا حال کیا تھا اور وہ ظلم و ستم کی کس چَکِّی میں پِس رہے تھے اور لوگ کس طرح غلامی کی زنجیروں میں قید اور اپنے آقاؤں کے ظلم و ستم کا شکار تھے ،بچے، جوان،بوڑھے،مرداور عورت الغرض ہر سطح کے انسان جس ظلم و زیادتی اور بے رحمی کا شکار تھے وہ تاریخ کے واقِف کار سے ڈَھکی چُھپی نہیں اور ا س کے مقابلے میں دینِ اسلام کے تاریخی کارناموں پر نظر دوڑائی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ دینِ اسلام نے ہی انسانیت کو ظلم و ستم کے گہرے اندھیرے سے نکالا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں کو سر اُٹھا کر جینا سکھایا،دینِ اسلام نے ہی انسانوں میں انسانیت کی قدر اور عظمت پیدا کی ،دینِ اسلام نے ہی زمین میں فساد کوختم کر کے پُر سکون معاشرہ اور امن کی فضا قائم کی ،انسانوں کو ان کے حقوق دلائے اور ان کے حقوق پر دست اندازی کرنے والوں کو شکنجے میں جکڑا اور بڑے فسادیوں کے فساد سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کے ذریعے ہونے والے فساد سے دوسرے انسانوں کی حفاظت ہو اور یہ دوسروں کے لئے عبرت کا مقام بنیں اور وہ فساد برپا کرنے سے باز رہیں ،اسی تناظُر میں اسلامی جہا د کو انصاف کی نظر سے دیکھا جائے اور ا س کے بنیادی مقاصد پر سچے دل سے غور کیا جائے تو ہر عقلِ سلیم رکھنے والے شخص پر واضح ہو جائے گاکہ اسلامی جہاد سراپا رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے فساد کا خاتمہ ہو تا اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان)


قرآن پاک وہ جامع کتاب ہے جس میں اگلو اور پچھلوں سب کی ہدایت کا سامان ہیں قرآن کریم میں فساد سے بچنے کے کئی پہلو موجود ہیں معاشرے میں روز نت نئے فساد رونما ہوتے ہیں ان میں سے ایک زمین میں فساد کرنا بھی ہے اور ساتھ ہی اسکو اصلاح کا نام دے دیتے ہیں ، قرآنِ پاک میں اسکی مذمت اس طرح کی:

(1) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 12،11)

بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔بعض لوگ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دنیا میں فساد قتل و غارت اور چوری ڈکیتی سے ہی ہو سکتا ہے بلکہ ایسا نہیں ہے ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اسکی مثال قرآن پاک میں اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے کردار سے دی۔

(2)وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃالبقرۃ، آیت 205،204)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 204، 1 / 144،145)

اسی طرح یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بعض لوگ اشیاء کو کم تول کر بھی زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور ان کی مذمت کے لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

(3)وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے میری قوم !انصاف کے ساتھ ناپ اور تول پوراکرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو بچ جائے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ (سورۃھود آیت 85)

مذکورہ آیات سے یہ معلوم ہو گیا کہ بعض لوگ فساد کو اصلاح کا نام دے کر یا میٹھی باتیں کر کے یا ناپ تول میں کمی کر کے فساد پھیلاتے ہیں لیکن بعض لوگ تو ایسے جری ہوتے ہیں کہ وہ صراحتا فساد کرتے ہیں اُن میں نہ خوف خدا نہ شرم نبی ہے بے جھجک ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد کرتے ہیں اس کی مذمت قرآن پاک میں اس طرح ہوئی:

(4)اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ الشوریٰ، آیت 42)

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یعنی گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جو ابتداء ً لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور تکبُّر اور گناہوں کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: 42، ص1091، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: 42، 4 / 99، ملتقطاً)

جس طرح قرآنِ پاک میں فساد فی الارض کی مذمت آئی ہے اسی طرح اس فساد سے بچنے والوں کے لیے آخرت کے گھر کی خوشخبری عطا کی اور ساتھ ہی ان کو پرہیزگاروں کا نام عطا کیا اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ قصص، آیت 83)

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر۔ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔( روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : 83 ، 6 / 438 ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7 / 240، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً)

فساد فی الارض کا معاملہ صرف یہیں پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس کی اور بھی بہت سی صورتیں دنیا میں موجود ہیں

اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اس قبیح گناہ یعنی فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے آمین۔


اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃالمائدۃ:33)

اسلامی سزاؤں کی حکمت:اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔

ایک مقام پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌؕ-غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْاۘ-بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِۙ-یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاؕ-وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِؕ-كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُۙ-وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اِنہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں عطا فرماتا ہے جیسے چاہےاور اے محبوب یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کوشرارت اور کفر میں ترقی ہوگی اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بَیر(بغض)ڈال دیا جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُسے بجھا دیتا ہے اور زمین میں فساد کےلیے دوڑتے پھرتے ہیں اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (سورۃالمائدۃ:64)

كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ: جب کبھی یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔جب بھی یہودیوں نے فساد ،شر انگیزی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی ایسے شخص کو ان پر مُسَلَّط کر دیا جس نے انہیں ہلاکت اور بربادی سے دوچار کردیا، پہلے جب انہوں نے فتنہ و فساد شروع کیا اور تورات کے احکام کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان کی طرف بھیج دیا جس نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا، کچھ عرصے بعد پھر جب انہوں نے سر اٹھایا تو طیطوس رومی نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب انہوں شر انگیزی شروع کی تو فارسی مجوسیوں نے ان کا حشر نشر کردیا، پھر کچھ عرصے بعد جب فساد کا بازار گرم کیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر تَسلُّط اور غلبہ عطا فرمادیا۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۴، ۱ / ۵۱۰۵۱۱)


حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہماری ہر طرح سے ہر معاملہ میں رہنمائی فرمائی چاہے وہ عقائد سے ہوں یا عبادات سے ہوں اسی طرح وہ چیزیں کہ جن کی وجہ سے بندہ اللہ و رسول و بندگان خدا سے دور ہو جاتا ہے ۔ انہیں اسباب میں سے ایک سبب فساد فی الارض ہے کہ جس کے سبب کئی نسلیں تباہ ہوئی، رشتوں میں رکاوٹ و آپس میں اختلافات پیدا ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کی مذمت بیان کی گئی اور اس کے سبب انسان گناہگار بھی ہوتا ہے اور جنت جیسی عظیم نعمت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں شیخ الحدیث و التفسیر مفتی قاسم صاحب فرماتے لکھتے ہیں:

جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ (صراطالجنان )

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص ،آیت نمبر 83)

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ اشخاص ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں ہمارے معاشرے میں بھی ایسے اشخاص کی کمی نہیں جو پھیلاتے تو فساد ہیں اور علماء کی رہنمائی کرنے کے باوجودوہ اسے نام اصلاح و ہدایت کا دیتے ہیں ۔

فساد کئی طرح کا ہوتا ہیں:توحید کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی گستاخی کرنا، تفریح کے نام پر بسنت میلہ کا انعقاد کرنا جو ناجائز و حرام،جشن کے نام پر حرام کام سرانجام دینا اور یاد رہے کہ یہاں آیت میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں اللہ کریم ہمیں فسادسے محفوظ رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔


قرآن کریم رب کائنات کی طرف سے نازل ہونے والا ایسا دستور حیات ہے جو انسانیت کے لیے زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا میں اپنی زندگی کو گزارے اور ہر اس فعل سے بچے کہ جو اللہ تبارک و تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے بندہ مومن کو جن امور سے منع فرمایا ہے ان میں سے ایک فعل فساد فی الارض یعنی زمین میں فتنہ و فساد پھیلانا بھی ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر اس فعل کی مذمت آئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)ترجمۂ کنز العرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر11،12)

ان دو آیات میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

اللہ کریم اس آفت سے ہماری حفاظت فرمائے۔(صراط الجنان)

زمین میں فساد کرنے کی سزا:ایک مقام پر زمین میں فساد کرنے والوں کے لیے سزا بیان فرمائی ارشاد باری تعالٰی ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ آیت نمبر 33)

اللہ کریم ہمیں اس بری آفت سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین۔