قرآن کریم اللہ تبارک و تعالی کی وہ مقدس کتاب ہے کہ جسے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا اس کتاب میں ابتداء دنیا سے لے کر انتہاء دنیا تک کے سارے مسائل کو ذکر کیا گیا ہے خاص طور پر انسانی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی موجود ہے ۔ایک مسلمان پر لازم ہے اور اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی رضا والے کام کرے اور ان کاموں سے بچتا رہے کہ جنہیں اللہ تبارک و تعالی اور اس کے نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ منع فرمانے والے کاموں میں سے ایک کام فساد فی الارض بھی ہے جس کی اللہ تبارک و تعالی نے مذمت فرمائی ہے۔اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 11،12)

یہ آیت اللہ تبارک و تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں نازل فرمائی کہ جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور جب مومنین انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ اتراتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو فساد نہیں پھیلاتے بلکہ ہم تو لوگوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:204،205)

یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۱ / ۱۴۴،۱۴۵)

یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں :

(1)ظاہری طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا، (2)اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا، (3)جھگڑالو ہونا، (4)فساد پھیلانا، (5)لوگوں کے اموال برباد کرنا، (6)نصیحت کی بات سن کر قبول کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔( تفسیر صراط الجنان)

اسلام امن اور بھلائی والا دین ہے اور یہ عدل اور انصاف کی تلقین کرتا ہے دنیا کے اندر فساد پھیلانا اللہ تبارک و تعالی کی نافرمانی اور جرم ہے ایک مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی فرمانبرداری کریں اور زمین میں فساد نہ پھیلائے ۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے اور دوسروں سے بھی محبت کا تعلق قائم رکھیں اور جھگڑا اور فساد نہ کریں۔


فساد یہ ایک بہت بڑی چیز ہے آج ہمارے معاشرے میں کئی طرح کے فسادات پائے جاتے ہیں ہمارے مسلمان بھائی بھی کئی طرح کےفساد میں مبتلا ہیں ہم فساد کی مذمت کو قرآنی آیات سے سنیں گے جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کی مذمت بیان فرمائی: چنانچہ

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11،12)

تفسیر صراط الجنان : اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان :اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص،آیت 77)

اور فرماتا ہے :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃالاعراف:آیت56)

تفسیر صراط الجنان:یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

اور فرمایا:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔(سورۃالبقرۃ:آیت205)

تفسیر صراط الجنان: یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔قرآنِ مجید میں فساد فی الارض (زمین میں بگاڑ پھیلانا) ایک بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مختلف پہلو اور قسمیں بیان کی گئی ہیں، جو انسانی زندگی، معاشرے اور دین سب کو متاثر کرتی ہیں۔ ہم نے قرآنی آیات سے فساد کی مذمت کو پڑھ لیا اب آئے ان کی اقسام بھی سن لیجئے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ بھی فساد کی اقسام میں سے ہیں ان سے بھی بچنا چاہیے ۔

(1) عقیدے کا فساد (دینی بگاڑ):اللہ کے ساتھ شرک کرنا،دینِ حق کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا،لوگوں کو دین سے دور کرنا مثلا کفر، شرک، نفاق۔

(2) اخلاقی فساد:جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا،بدکاری، فحاشی پھیلانا،بے حیائی کو عام کرنا، یہ معاشرے کی اخلاقی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔

(3) معاشی فساد:ناپ تول میں کمی کرنا،سود لینا دینا،رشوت اور حرام کمائی، مثال: حضرت شعیب کی قوم کو ناپ تول میں کمی پر عذاب آیا ۔

(4) سماجی فساد:ظلم و زیادتی کرناناانصافی اور حقوق غصب کرنا،لڑائی جھگڑے اور فساد پھیلانا، یہ معاشرتی امن کو تباہ کر دیتا ہے۔

(5)سیاسی فساد:حکمرانوں کا ظلم کرنا،قانون کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا،عوام کے حقوق دبانا۔

(6) امن و امان میں فساد (قتل و غارت):قتل کرنا،دہشت پھیلانا،زمین میں خون خرابہ کرنا، قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے سخت سزائیں بیان ہوئی ہیں۔

(7) ماحولیاتی فساد:زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کرنا،قدرتی نظام کو نقصان پہنچانا، اللہ نے زمین کو توازن کے ساتھ پیدا کیا، اس میں بگاڑ ڈالنا بھی فساد ہے۔

ہم نے قرآنی آیات سے فساد کی مذمت پڑھ لی اور اس کی اقسام بھی سنی اب ان سے بچنے کی کوشش کرنا ہمارے لیے ضروری ہے ورنہ ہم بھی فساد فی الارض کی طرف جانے سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے محفوظ رکھے۔


قرآنِ مجید فرقانِ حمید زندگی کے ہر پہلو میں ہماری اصلاح کرتا ہے اور قدم بہ قدم ہمارے لیے مشعلِ راہ کی مانند ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے زندگی گزارنے کے اصول بیان فرمائے ہیں، ایسے اصول جن پر نجات کا دارومدار ہے، اور ایسے قواعد کہ جن پر عمل پیرا ہو کر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اوامر و نواہی بیان فرمائے ہیں۔ جن چیزوں سے اللہ ربّ العزت نے منع فرمایا، ان میں سے ایک "فساد فی الارض" یعنی زمین میں فساد پھیلانا ہے۔ فساد فی الارض ایک مذموم فعل ہے جو معاشرے میں بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کو سلب کرتا ہے اور ملک و قوم کو ترقی سے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ ربّ العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

تفسیر صراط الجنان: یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد فی الارض کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، جیسے زنا، چوری، ڈاکہ ڈالنا، زکوٰۃ ادا نہ کرنا، قطع تعلقی وغیرہ یہ سب اعمال معاشرے میں بدامنی اور ترقی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔کیونکہ معاشرے کی ترقی اور امن اسی وقت ممکن ہے جب اللہ ربّ العزت کے احکامات پر عمل کیا جائے اور اس کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔ جبکہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃالقصص:77)

تو جس بندے کو ربّ تعالیٰ پسند نہ فرمائے، وہ کس طرح دنیا و آخرت میں نجات پا سکتا ہے؟یقیناً نجات ربّ ذوالجلال کی اطاعت ہی میں ہے۔ آج سے یہ عزم کر لیں کہ ہم معاشرے کی اصلاح کے لیے دن رات کوشاں رہیں گے، نہ خود کسی برائی میں مبتلا ہو کر بدامنی کا سبب بنیں گے اور نہ کسی اور کو بننے دیں گے۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


دین اسلام کامل ہے اور اس کے کامل ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ بندے کو کیا کام کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اسلام ہر لمحے اس بات کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ چیزیں جن سے اسلام نے منع کیا ہے، ان میں سے ایک فساد فی الارض ہے، یعنی زمین میں فساد کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی مذمت اور ممانعت آئی ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کفر کرنا، اسلام کے وہ نظریات جو مسلم ہیں اور ان کا تعلق ضروریات مذہب اہل سنت سے ہے، ان کا انکار اور اس کی ترویج و اشاعت، ڈاکہ زنی، شراب نوشی، فحاشی عریانی اور اس کی ترویج کے لیے نت نئے حیلے بہانے اور ایسی ویبسائٹ کا قیام، اور دیگر فسق و فجور کے اعمال و افعال۔

اللہ عزوجل قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص، آیت نمبر 83)

ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے، اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔(روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: 83، 6/438، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: 83، 7/240، الجزء الثالث عشر)

مزید اس کے بعد مفتی اہل سنت مفتی قاسم صاحب (اطال اللہ عمرہ) فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانا اتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے۔اللہ ہمیں فساد فی الارض جیسے ممنوع و مذموم فعل کے ارتکاب سے محفوظ فرمائے اور ایسے وقت میں کہ جب فساد فی الارض عام ہے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دینی احکام پر عمل پیرا رہے اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رہے۔

حضور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ أُمّتِیْ فَلَہُ أَجْرُ مائَۃِ شَھِیْدٍترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1، حدیث نمبر 176)


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر بھیجا اپنا نائب مقرر فرمایا اور اسے حکم دیا کہ وہ زمین میں امن و سکون سلامتی قائم کرے، عدل و انصاف کو اپنائے اور ہر قسم کے فساد سے بچے لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑتا ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلانے لگتا ہے، جس کی قرآنِ مجید میں سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔فساد فی الارض سے مراد ہر وہ عمل ہے جو زمین میں بگاڑ، ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، دھوکہ بازی اور گناہوں کو عام کرنا ہے اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگ ہرگز پسند نہیں۔

چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

(1) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت 56)

اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر انسان کو بتایا گیا ہے کہ وہ زمین میں ہر گز فساد پیدا نہ کرے بلکہ اس کی اصلاح میں حصہ لے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

(2) وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 64)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ فساد کرنے والے اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(3) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ

ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔(پارہ 21، سورۃ الروم، آیت 41)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو فساد پھیل رہا ہے وہ دراصل انسان کے اپنے کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ ہے۔

آج کے دور میں فساد کی کئی صورتیں ہمارے سامنے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، رشوت لینا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، ظلم کرنا اور معاشرے میں بدامنی پھیلانا، برے اعمال کرنا وغیرہ یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتے ہیں۔قرآنِ کریم ہمیں بار بار اصلاح کا درس دیتا ہے۔ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو درست کریں، سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کر لے تو پورا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اور ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فساد فی الارض ایک بہت بڑا جرم اور بڑا گناہ ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے اور نیکی، بھلائی اور اصلاح کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دینا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور زمین میں امن و سلامتی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


اللہ تعالی نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اور بھیجنے کا مقصد بھی بیان فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے احکام اتارے اور کافی کاموں سے منع بھی فرمایا جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانا اور اس معاملے میں کثیر آیات وارد ہوئی ہیں ۔ ان آیات میں سے چند درج ذیل ہیں۔

(1)الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ (پ1،سورة البقرة،آیت27)

(2)وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(پ8، سورة الاعراف،آیت56)

(3) وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ (پ12،سورةهود ،آیت 85)

(4) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (پ2،سورة البقرة،آیت205)

(5) وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔ (پ13،سورة رعد،آیت 25)


فساد ایک ایسی بری چیز ہے کہ اس کے برا ہونے کو خود قرآن نے بیان فرمایا اور اس کے نقصانات اور طرح طرح کی خرابیوں پر آگاہ کیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ فساد پھیلانا منافقین کی بری صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ، آیت 11)

فساد کو روکنے کے لیے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (پ8 ، الاعراف ،آیت 56)

لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کی ایک ایسی صورت بیان کی گئی کہ جس میں وہ لوگ نیکیاں بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ فساد بھی مگر قرآن نے ان کے فساد کو ان کی نیکی پر زیادہ واضح کیا ارشاد قرآنی :

‏ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (پ،19الشعراء،152)

قرآن کریم میں فساد پھیلانے والوں کی جہاں پر توبیخ کی گئی وہاں پر ان کی سزا کے بارے میں بھی اللہ پاک نے بیان فرمایا اور اس کی ممانعت صریح الفاظ سے فرمائی :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے ۔(پ6 ،سورۃالمائدۃ، آیت 33)

زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر قرآن پاک میں جو آیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ چنانچہ فرمایا:‏ وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے۔(پ2 ،سورۃ البقرۃ، آیت 205 )

آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔ 


میرے اسلامی بھائیو !جہاں اسلام کے مخالفین کی جانب سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں ہی کچھ ایسے بدبخت اور دھتکارے ہوئے لوگوں کی جانب سے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن پسے پردہ اسلام کے مخالفین کے اتحادی ہیں ان کے حوالے سے قرآن میں اللہ رب العالمین نےکیا وعید ارشاد فرمائی ہے اس پر ہم تھوڑی سی گفتگو کریں گے اور قرآن کی روشنی میں ان کی بدبختی کو ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (پ1، البقرۃ، آیت 11)

فساد کو روکنے کے لیے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ (پ8 ، الاعراف ،آیت 56)

لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

فساد کی ایک ایسی صورت بیان کی گئی کہ جس میں وہ لوگ نیکیاں بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ فساد بھی مگر قرآن نے ان کے فساد کو ان کی نیکی پر زیادہ واضح کیا ارشاد قرآنی :

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔ (پ19،الشعراء،152)

قرآن کریم میں فساد پھیلانے والوں کی جہاں پر توبیخ کی گئی وہاں پر ان کی سزا کے بارے میں بھی اللہ پاک نے بیان فرمایا اور اس کی ممانعت صریح الفاظ سے فرمائی :

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے ۔(پ6 ،سورۃالمائدۃ، آیت 33)

زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر قرآن پاک میں جو آیا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ چنانچہ فرمایا: وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا

ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے۔(پ2 ،سورۃ البقرۃ، آیت 205 )

آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔


فساد فی الارض انتہائی مذموم چیز ہے ،جس کی وجہ سے انسان دنیا میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی خسارہ اٹھاتا ہے ، اللہ پاک نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت بیان فرمائی ، اور انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد کیلئے دنیا میں مبعوث فرمایا ان میں سے ایک مقصد فساد فی الارض کو ختم کرنا بھی تھا ، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں اس سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(سورۃ الاعراف:56)

صراط الجنان:یعنی اے لوگو! انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے تشریف لانے ، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان فرمانے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہ،اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ فساد فی الارض کا ایک فرد ظلم کرنا بھی ہے لہذٰا ظلم کے متعلق اس کی تعریف ایک آیۃ کریمہ اور احادیث مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔

ظلم کی تعریف:حضرت امام شریف جرجانی علیہ الرحمہ ظلم کا معنی بیان کرتے ہیں کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ظلم کہلاتا ہے ۔(التعریفات ، باب الظاء، ص 102)

البتہ شریعت میں ظلم سے مراد ہے کسی کا حق مارنا ، کسی چیز کو غیر محل میں خرچ کرنا ، کسی کو بغیر قصور کے سزا دینا وغیرہ ظلم کہلاتا ہے ۔(مرآۃ المناجیح، ج 6، ص 669)

ظلم کی مذمت قرآن مجید سے:

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ

کنزالایمان:اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(پارہ 13، سورۂ ابراہیم، آیۃ 42)

اس آیت کریمہ میں گویا کہ ہر مظلوم کو تسلی اور ہر ظالم کو وعید سنائی گئی ہے، گویا اس مقولے کی طرف اشارہ بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس آیت کے قارئین کو سمجھایا جارہا ہے کہ !تم یہ نہ سمجھنا کہ اللّٰہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا، اور نہ ہی ان سے عذاب مؤخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

ظلم کی مذمت احادیث کریمہ سے:حضرت سیِّدُناابُوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہے نبیِ کریم،رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:بےشک اللہ پاک ظالم کو مُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کونہیں چھوڑتا ۔( بخاری، ۳/۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶)

نبی کریم،رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے فرمایا:ظلم اور قطع رحمی(یعنی رِشتے داری ختم کرنا) کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں، جس کے مُرْتَکِب (یعنی کرنے والے) کو اللہ پاک آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔(سنن الترمذی ، ۴/۲۲۹، الحدیث:۲۵۱۹)

لہذا اس مضمون کے ہر قاری و سامع لازم ہے کہ خود بھی فساد فی الارض خصوصاً ظلم کرنے سے بچے اور اس کیلئے سد باب کی سعی کامل کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد فی الارض سے بچنے اور عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔


فساد فی الارض ایک نہایت اہم موضوع ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں بگاڑ اور خرابی پھیلانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔ (سورۃ الاعراف: 56)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ البقرۃ: 205)

مزید قرآن مجید میں ارشاد ہے:ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔ ( سورۃ الروم: 41)

یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی ، بارش کا رک جانا، پیداوار کی قلت ، کھیتیوں کی خرابی ، تجارتوں کے نقصان ، آدمیوں اور جانوروں میں موت ، آتش زدگی کی کثرت ، غرق اور ہر شے میں بے برکتی ، طرح طرح کی بیماریاں ، بے سکونی، وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز آجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔ ( جلالین، الروم، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۳۴۴)

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا : وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 11،12)

قرآن مجید نے فساد فی الارض کو نہایت سنگین جرم قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہے:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (سورۃ المائدۃ:33)

مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد ایسا جرم ہے جو پورے معاشرے کے امن کو تباہ کر دیتا ہے، اس لیے شریعت نے اس کے خاتمے کے لیے سخت احکام بیان فرمائے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ قرآن و تفاسیر کی روشنی میں فساد فی الارض کا مطلب ہر وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو اور انسانوں کے لیے نقصان دہ ہو، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت اور دین سے دوری۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم زمین میں لوگوں کی اصلاح کریں، عدل و انصاف کو فروغ دیں اور ہر قسم کے فساد سے بچیں، کیونکہ یہی کامیاب اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔


اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:11،12)

تفسیر صراط الجنان:لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(سورۃالاعراف:56)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ۔ (سورۃ الاعراف:85)

فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ: تو ناپ اور تول پورا پورا کرو۔حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں شرک کے علاوہ بھی جو گناہ عام تھے ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا اور دوسرا لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا اور تیسرا لوگوں کو حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دور کرنے کی کوششیں کرنا تھا۔ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی اشیاء گھٹا کر دینے سے منع کیا اور زمین میں فساد کرنے سے روکا کیونکہ ا س بستی میں اللہ تعالیٰ کے نبی تشریف لے آئے اور انہوں نے نبوت کے احکام بیان فرما دئیے تو یہ بستی کی اصلاح کا سب سے قوی ذریعہ ہے لہٰذا اب تم کفر و گناہ کر کے فساد برپا نہ کرو۔

اسلامی سزاؤں کی حکمت: اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور لوگ بے خوف ہوکر سکون اور چین کی زندگی بسر کرسکیں۔ ا س کے علاوہ اور بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔ ایک اس ڈاکہ زنی کی سزا ہی کو لے لیجئے کہ جب تک اس پر عمل رہا تو تجارتی قافلے اپنے قیمتی سازو سامان کے ساتھ بے خوف و خطر سفر کرتے تھے جس کی وجہ سے تجارت کو بے حد فروغ ملا اور لوگ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط ہو گئے اور جب سے اس سزا پر عمل نہیں ہو رہا تب سے تجارتی سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں ، جس ملک میں تجارتی ساز و سامان کی نَقل و حَمل کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہیں وہاں کی بَرآمدات اور دَرآمدات انتہائی کم ہیں جس کی وجہ سے ان کی معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اب تو حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ بینک سے کوئی پیسے لے کر نکلا تو راستے میں لٹ جاتا ہے، کوئی پیدل جا رہا ہے تو اس کی نقدی اور موبائل چھن جاتا ہے، کوئی بس کا مسافر ہے تو وہاں بھی محفوظ نہیں ،کوئی اپنی سواری پر ہے تو وہ خود کو زیادہ خطرے میں محسوس کرتا ہے، سرکاری اور غیر سرکاری اَملاک ڈاکوؤں کی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔ اگر ڈاکہ زنی کی بیان کردہ سزا پر صحیح طریقے سے عمل ہو تو ان سب کا دماغ چند دنوں میں ٹھکانے پر آ جائے گا اور ہر انسان پر امن ماحول میں زندگی بسر کرنا شروع کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا یہ چند قسموں کے گناہ کرنے والے لوگ زمین میں فساد پھیلانے والوں میں سے ہیں۔


رب تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت 11،12)

تفسیر صراط الجنان:اس آیتِ مبارکہ میں منافقین کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہی فساد کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا مگر زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ سب سے خطرناک وہ لوگ ہیں جو فساد کریں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو آزادی کے نام پر بے حیائی، ترقی کے نام پر گمراہی، تہذیب کے نام پر بے دینی اور روشن خیالی کے نام پر اسلامی تعلیمات پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

قرآنِ مجید میں فساد فی الارض کی مذمت:اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فساد فی الارض سے منع فرمایا ہے:

(1) مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 32)

(2) وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف، آیت 56)

(3) وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ( سورۃ القصص، آیت 77)

(4) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ

ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں ۔ (سورۃ الروم، آیت 41)

(5) اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ

ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں ۔(سورۃ المائدۃ، آیت 33)

موجودہ دور میں فساد کی صورتیں:قتل و غارت،چوری، ڈکیتی،رشوت اور دھوکہ دہی،بے حیائی پھیلانا، منشیات فروشی،فرقہ واریت ،دینی احکام کا مذاق اڑانا،ماحولیات کو نقصان پہنچانا۔

قرآنِ مجید نے فساد فی الارض کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ امن، عدل، محبت اور اصلاح کو عام کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل سے معاشرے میں خیر پھیلائیں اور ہر قسم کے فساد سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کرنے اور فساد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔