فساد فی الارض سے مراد زمین میں فساد کرنا ہے اور فساد یہ بری صفت ہے اور شیطانی صفت ہے جس سے ہر ایک کو بچنا ضروری ہے تاکہ شیطان کی پیروی سے بچا جا سکے شیطانی صفت سے موصوف ہونے سے بچا جا سکے زمین میں فساد کرنے والا اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور مفسد شخص کامیاب نہیں ہو پاتا ۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ (پارہ1،سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 30)

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ شخص کسی طرح خلافت کا حقدار نہیں ہے جو مفسد فی الارض یعنی زمین میں فساد پھیلانے والا ہو ۔لفظ خلیفہ سے کئی مدنی پھول لیے جا سکتے ہیں :

(1) گھر کا بڑا یعنی سربراہ اگر گھر میں فساد برپا کرنے والا ہے وہ گھر کا سربراہ بننے کا حقدار نہیں ۔

(2) جو قاضی شریعت کے موافق و مطابق فیصلہ نہ کرے اور شہر میں فساد برپا کرے وہ قاضی بننے کا حقدار نہیں۔

(3)اسی طرح جو بادشاہ یا سلطان اپنے ملک کی حفاظت نہ کرے اور لوگوں پر ظلم و ستم کر کے انکو انکا حق نہ دے اور فساد برپا کرے تو وہ بھی بادشاہت اور سلطان بننے کا مستحق نہ ہو گا۔

شریعت کی رو سے اگر لوگوں میں دیکھا جائے تو فساد کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل دو صورتیں بھی ہیں۔

(1)فسادفی العقائد:اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں میں ایسے عقائد کی ترویج واشاعت کرے جس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں اور وہ سراسر اسلام کے خلاف اور جہالت پر مشتمل ہوں جیسے خدا تعالی کا جسمیت سے پاک ہونا ثابت ہے لیکن لوگوں میں یہ ظاہر کرنا کہ خدا تعالی بھی جسم والاہے جیسے ہم جسم والے ہیں اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں ایسا کلام کرنا جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کا ثبوت ہو حالانکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان تو وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا۔(سورۃ النساء آیت نمبر 95)

اس کی شان میں گستاخی کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے جس کی پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے اسی طرح محبت اہل بیت کا دعوی کر کے اتنا محبت میں غلو کرنا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے حق میں گستاخی ہو جائے ایسے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و شان کا اقرار کر کے اہل بیت کرام علیہم رضوان کی شان و عظمت کو گھٹانا وغیرہ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں اور ایسے کرنے والے سارے کے سارے مفسدین فی الارض کہلائیں گے اور ان وعیدوں کے حقدار قرار پائیں گے جو قرآن و حدیث میں مفسدین کے حق میں وارد ہوئیں ۔

(2)فساد فی الاعمال: اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے اعمال میں فساد برپا کرنا مثلا کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کے وقت کسی فضول اور برے کام میں مصروف کر دینا، کوئی روزے رکھتا ہے تو اسے کہہ دینا کہ روزے نہ رکھو کمزور ہو جاؤ گے، نیکی کی دعوت دینے والوں میں غیبت کی عادت ڈالنا ،چغلی کی عادت ڈالنا، کوئی درود شریف پڑھتا ہے تو اسے فضول باتوں میں لگا دینا یعنی ایسے کام کروانا جس سے کسی کے نیک اعمال میں ایسا فساد ہو جائے کہ اعمال سے توجہ ہٹ جائےاور نیک اعمال نہ کر پائے وغیرہ ایسے تمام فسادات پیدا کرنے والا شیطانی صفت کو اپنانے والا ہے اور خدا و ررسول کے حکم سے اعراض یعنی منہ پھیرنے والا ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(سورۃ المائدۃ : آیت نمبر 33)

فساد فی الارض کے اسباب:زمین میں فساد کرنے کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں سب سے بڑا سبب شیطان کا دھوکہ ہے وہ شیطان جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) ترجمۂ کنز العرفان:اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر168)

جس سے انسان اس کے دھوکے میں آ کر اعمال ،افعال ،عقائد اور اقوال میں فساد ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور مفسدین کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے اس طرح اگر شیطان کے وارسے انسان بچ بھی جائے تو انسان کے اندر موجود نفس امارہ موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ترجمۂ کنز العرفان: ا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے ۔(سورۃیوسف آیت نمبر53)

اس نفس امارہ کی وجہ سے انسان فساد فی الارض کو اپناتا ہے اور وعیدوں کا حقدار قرار پاتا ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہوئے انبیاء و صلحا اور ملائکہ کی صفت یعنی اصلاح کو اپنائے نہ کہ فساد کو اپنائے اور جو بھی مفسد ہو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے امت کی اصلاح کرتے ہوئے زندگی گزار دے ۔خدا تعالی تمام انسانوں کو فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے اور اصلاح و نیکی کی دعوت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


ہر ہفتے کی طرح اس ہفتے بھی عاشقانِ رسول کے دینی علم میں اضافے کرنے اور  اُن کی اخلاقی تربیت کے لیے بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا اابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے 44 صفحات پر مشتمل رسالہ اربعینِ عطار (قسط 4) پڑھنے اور سننے کی ترغیب دلائی ہے۔

امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اس ہفتہ وار رسالے کا مطالعہ کرنے اور اسے سننے والے تمام افراد کو اپنی خصوصی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

واضح رہے کہ امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے ہر ہفتے ایک دینی و اصلاحی رسالے کے مطالعے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام الناس میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا اور اسلامی تعلیمات کی آگاہی عام کرنا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک !جوکوئی 44 صفحات رسالہ پڑھ یا سُن لے اُسے خواب میں اپنے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کا جلوہ دکھا اُس کو ایمان پر مدینے میں موت عطا فرماکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں ایلس اسپرنگ (Alice Springs)، نیو کاسل (Newcastle) اور کوئینزلینڈ (Queensland) کے ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا۔

اس مدنی مشورے میں مختلف اہداف طے کیے گئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

انگلش تفسیر حلقہ: انگریزی زبان بولنے والی اسلامی بہنوں اور جوان بچیوں کو دین کی تعلیمات سے روشناس کروانے کے لیے ”انگلش تفسیر حلقے“ میں انگلش کمیونٹی کی اسلامی بہنوں اور بچیوں کی شمولیت کو بڑھانا۔

اجتماعات کے شیڈول اور پمفلٹ: سنتوں بھرے اجتماعات کے شیڈول اور پمفلٹس کی تقسیم کے اہداف۔

کورسز کی تشہیر و مدرسۃ المدینہ بالغات:مختلف کورسز کی تشہیر اور مدرسۃ المدینہ بالغات کے کلاسز کو مزید بڑھانے اور منظم کرنا۔


ایسٹ کاؤنسل میں دینی، تعلیمی و اصلاحی کاموں کو مزید بہتر اور منظم بنانے کے حوالے سے عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت وکٹوریا  کی نگران اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا۔

اس دوران دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کو وسعت دینے اور بالخصوص اسلامی بہنوں و یوتھ کی تربیت کے لیے مختلف اہم نکات پر تفصیلی تبادلہ ٔخیال کیا گیا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭شعبہ مشاورت کی تقرری٭رہائشی کورسز کا انعقاد٭یوتھ سیشنز (جوان بچیوں کے لیے) ٭فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول کا آغاز ۔


سڈنی (10 جون 2026ء) :

سڈنی میں ہونے والے دینی کاموں کا فالواپ لینے اور اُن میں مزید بہتری لانے کے لیے 10 جون 2026ء کو نگران اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ منعقد ہوا ۔

اس موقع پر ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں ترقی اور آئندہ کے اہداف کے حوالے سے مختلف نکات پر مشاورت کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭محرم کے اجتماعات کا انعقاد٭ اجتماع کے پمفلٹ کی تیاری٭اوبرن کاؤنسل میں دینی کام اور اجتماعات٭مقامی اسلامی بہنوں کے لیے سیشنز کا انعقاد۔

اس کے علاوہ ذمہ دار اسلامی بہنوں نے دیگر موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے حوالے سے ذمہ دار اسلامی بہنوں کی ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔


10 جون 2026ء کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت دینی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے ایک مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں کینبرا کی نگران و ذمہ دار اسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔

مدنی مشورے کے دوران کینبرا میں محرم اور فیملی اجتماعات کے انعقاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر غور کیا گیا کہ اجتماعات کی ترتیب اور انعقاد کے لیے بہترین جگہ کا انتخاب کیسے کیا جائے؟۔

اسی طرح کمیونٹی سینٹر میں اجتماعات کے لیے درست مقام تلاش کرنے، اس کی مناسب نشست، سہولیات اور دینی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاننگ کی گئی۔


عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 8 جون 2026ء کو ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں نیوزی لینڈ کی نگران و ذمہ دار اسلامی بہنوں کی شرکت ہوئی۔

اس میٹنگ میں مختلف اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

٭2 نئے ریجن میں اجتماعات کا انعقاد٭ایک نئے ریجن میں ”تربیت اولاد سیشن“ کا اہتمام٭دینی ماحول سے منسلک نئی اسلامی بہنوں کا فیڈبیک اور فرض علوم کورس کی نیتیں٭مدنیہ اسلامی بہن کا شیڈول اور اُن کی دینی کاموں میں شمولیت٭نئی جگہ پر اسلامی بہنوں کو دینی کاموں میں شامل کرنے کے طریقے٭مدرسۃ المدینہ بالغات کی کلاسز میں اضافہ کرنا٭اسلامی بہنوں کی مختلف امور پر تربیت و رہنمائی٭دینی کاموں کے دوران پیش آنے والے مسائل پر صبر کا ذہن۔


5 جون 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے تحت سڈنی کی نگران اسلامی بہنوں کا اہم مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں مختلف دینی امور  کی پلاننگ اور اور اُن میں مزید بہتری کے لیے مشاورت کی گئی۔

مدنی مشورے میں درج ذیل موضوعات پر گفتگو ہوئی:

اوبرن کونسل نگران کی تبدیلی: اوبرن کی کاؤنسل نگران کی تبدیلی ۔

اوبرن کے ذمہ داران کی تربیت: اوبرن کی دیگر ذمہ داران کی تربیت کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ ٔخیال کیا گیا تاکہ ذمہ داریوں فالو اپ کیا جا سکے۔

سیکھنے سکھانے کے حلقے اور اجتماع ذکر شہادت: اوبرن میں ہونے والے سیکھنے سکھانے کے حلقوں اور اجتماع ذکر شہادت کے حوالے سے تفصیلی کلام تاکہ اسلامی بہنوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

کینٹربری کاؤنسل میں فیضان صحابیات: کینٹربری کاؤنسل میں فیضانِ صحابیات کے طور پر اپنی ذاتی جگہ فراہم کرنے پر گفتگو جس سے خواتین کی دینی تربیت کو فروغ دیا جائے گا۔

بلیک ٹاؤن کاؤنسل کے دینی کام: بلیک ٹاؤن کاؤنسل میں موجود عاشقانِ رسول کی مساجد کے دینی کاموں کا جائزہ تاکہ دینی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

پوسٹ اور اجتماعات: اجتماع ذکر شہادت کی پوسٹ کے حوالے سے اہداف طے کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامی بہنوں کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

لوورپول کاؤنسل میں دینی کام: لوورپول کاؤنسل میں دینی کاموں کو مزید بہتر کرنے کرنے اور ذمہ داران کو مزید فعال بنانے پر کلام کیا گیا تاکہ دینی سرگرمیاں مؤثر طریقے سے انجام دی جائیں۔

بچوں کے لیے سیشنز اور ایکٹوٹیز: بچوں کے درمیان مزید سیشنز اور سرگرمیاں کروانے کے اہداف دیے گئے تاکہ وہ دینی تعلیم میں دلچسپی لیں اور فعال حصہ لیں۔


دعوتِ اسلامی کے تحت 4 اور 5 جون 2026ء کو وکٹوریا، آسٹریلیا کی نگران اسلامی بہنوں کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں مختلف دینی پروگرامز اور دینی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

میٹنگ میں درج ذیل نکات پر گفتگو ہوئی:

عید ملن ایونٹ کی کامیابی کے بعد دیگر اجتماعات: عید ملن ایونٹ کی کامیابی کے بعد آئندہ اجتماعات کی پلاننگ کی گئی تاکہ دینی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔

ڈیلی کلاسز اور فقہ کے حلقے: روزانہ کی دینی تعلیم کے لیے کلاسز کے شیڈول اور فقہ کے حلقوں کے موضوعات پر تفصیلی کلام کیا گیا تاکہ شرکا کے علم و عمل میں اضافہ ہو۔

اجتماعات برائے ذکر شہادت اور ربیع الاول: اجتماع ذکر شہادت اور ربیع الاول کے گرینڈ اجتماعات کو منعقد کرنے کے اقدامات۔

فیملی ایونٹس اور نوجوانوں کی شرکت: فیملی اور نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ایونٹس منظم کرنے کا ہدف دیا گیا تاکہ خاندان اور نسلِ نو میں دینی جذبہ بڑھے۔

نئی مسلم بہنوں کی تربیت: نئی مسلم اور اسلامی بہنوں کی تربیت کے لیے پروگرام مرتب کیے جائیں جس میں مدنیہ اسلامی بہنوں کے ذریعے سیشنز کروائے جائیں۔

شعبہ محبتیں بڑھاؤ: شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے تحت دینی ماحول میں آنے والی اسلامی بہنوں کی لسٹ تیار کرنا۔

مدنیہ اسلامی بہن کی تربیت: نئی مسلم بہنوں کے حوالے سے مدنیہ اسلامی بہن کی تربیت ۔

نیو مسلم خواتین کے لیے سیشن: نئی مسلم خواتین کے درمیان مدنیہ ذریعہ سیشن کروانا تاکہ ان میں دینی شعور بیدار کیا جا سکے۔

فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول: وکٹوریا میلبرن میں فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول کے نظام کو نافذ کرنے پر مشاورت ہوئی جس کے لیے اساتذہ کی ہائرنگ اور فیس کے حوالے سے بھی اہداف طے کیے گئے۔

رہائشی کورسز اور کارکردگی: رہائشی کورسز کروانے کے حوالے سے بھی اہداف طے کیے گئے اور فیضان صحابیات کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔


2 جون 2026ء کو  اسٹیٹ نگران اسلامی بہنوں کا ایک اہم مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے مختلف دینی سرگرمیوں کے اہداف پر مشاورت کی گئی۔

مدنی مشورے میں درج ذیل نکات شامل تھے:

٭ماہانہ مدنی مشورے کے بیانات: آئندہ ماہانہ مدنی مشوروں کے بیانات کے ساتھ دیگر اہم نکات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جن میں اجتماعات کے ایڈریس کی سافٹ ویئر میں انٹری کے حوالے سے اہداف شامل تھے٭مدنی کورسز اور ونٹر کیمپ: مدنی کورسز کے تحت ونٹر کیمپ کروانے کے حوالے سے اہداف دیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامی بہنوں کو تربیتی مواقع فراہم کیے جا سکیں٭تفسیر کا حلقہ: انگلش میں تفسیر کا حلقہ شروع کرنے کا طے کیا گیا جس کا مقصد اسلامی بہنوں میں قرآنِ کریم کے معانی و مفاہیم کا فہم بڑھانا تھا٭شعبہ محبتیں بڑھاؤ: شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے تحت دینی ماحول میں آنے والی اسلامی بہنوں کی فہرست تیار کرنے کا بھی طے کیا گیا ۔ 


دعوتِ اسلامی کے تحت ایلس اسپرنگ، آسٹریلیا میں  ذمہ دار اسلامی بہنوں کامدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں دینی کاموں کے فروغ کے لیے درج ذیل اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا:

٭اجتماعات کا شیڈول: اجتماعات کا شیڈول بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں عربی کلام اور دعائیں یاد کروانا٭انفرادی کوشش و ترغیب: اجتماع کے اختتام پر تمام اسلامی بہنوں پر انفرادی کوشش کرنا اور ان میں درودِ پاک کے کارڈز اور پرنٹس تقسیم کرنا ٭نئی اسلامی بہنوں کی تربیت: دینی ماحول سے وابستہ ہونے والی نئی اسلامی بہنوں میں دینی کام کے انداز اور کارکردگی کو بہتر بنانا۔ 


پرتھ، آسٹریلیا میں دینی و تعلیمی امور کو مزید منظم اور وسیع کرنے کے لیے 23 مئی 2026ء کو  نگران اسلامی بہنوں کی اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مقامی سطح پر دینی کاموں کی کارکردگی اور مختلف شعبہ جات کی بہتری کے لیے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

میٹنگ کے بعض نکات:

٭نئے علاقے Atwell میں دینی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دعوتِ اسلامی کا کام شروع کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال ٭ماریشس کی اسلامی بہنوں کی کریول زبان کے اجتماع میں شرکت اور اس زبان میں نئی مبلغات تیار کرنے پر کلام٭گجراتی زبان کے اجتماع میں آسٹریلیا کی مبلغہ کے بیان کی اپڈیٹس ٭شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات میں ذمہ دار اسلامی بہن کی نئی تقرری ٭انگلش تفسیر کلاسز میں جوان بچیوں (Young Girls) کی شرکت کو یقینی بنانا اور انہیں کلاسز جوائن کروانا٭ پرتھ میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے فیضان ویک اینڈ اسلامک اسکول شروع کرنا٭ پرتھ میں مقیم فجی کی اسلامی بہنوں کو فجی میں جاری دینی کاموں کی تفصیل۔