اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر اور بہترین نمونۂ عمل ہے، جس کی پیروی ہر مسلمان کے لیے باعثِ نجات ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو شخص آپ ﷺ کی سنت سے اعراض کرے وہ آپ ﷺ کے طریقے پر نہیں۔

موجودہ دور میں جہاں دینی شعور میں کمی اور دنیاوی رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں سنت کو ترک کرنا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف فرد کی روحانی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر آقا علیہ السلام نے سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کی ترغیبات ارشاد فرمائی اور ترک سنت کی مذمت فرمائی ۔

(1)عَنْ اَ بِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:كُلُّ اُمَّتِيْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبیٰ.قِيلَ:وَمَنْ يَاْبٰى يَارَسُولَ اللهِ صَلىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبیٰ.

ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ،حدیث نمبر:158)

(2)عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوْهُ وَمَا اَمَرْتُكُمْ بِهٖ فَافْعَلُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّمَا اَهْلَكَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَآئِلِہِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلٰى اَنْبِيَآئِهِمْ.رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم

ترجمہ حدیث : حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں تو اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلوں کو زیادہ سوال کرنےاور اپنے انبیاء کی مخالفت نے ہلاک کردیا۔‘‘(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول، ۴/ ۵۰۲، حدیث: ۷۲۸۸ ، بتغیر قلیل ۔ مسلم، کتاب الحج، باب فی الحج مرة فی العمر،ص۵۳۶، حدیث:۳۲۵۷، بتغیر)(شرح اربعین نوویہ(اردو) ،حدیث نمبر:9 ، زیادہ سوال کرنے سے بچو)

(3)عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ فاِنَّ كلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ. ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیح عِرباض بن سارِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے، (حاکم کی) بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ کسی غلام کو تم پر حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ، بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 , حدیث نمبر:157)

(4)عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَعُوْ نِي مَا تَرَكْتُكُمْ :اِنَّمَا اَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى اَنْبِيَائِهِمْ ، فَاِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوْهُ ، وَاِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَیْءٍ فَاْ تُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ. ترجمہ حدیث :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ تم اس معاملے میں مجھے چھوڑ دو جس میں ، مَیں تمہیں چھوڑ دوں ۔بے شک! تم سے پہلے لوگوں کو کثرتِ سوال اوراپنے نبیوں سے اختلاف نےہلاک کر دیا۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اُس سےبچو اور جب کسی بات کا حکم دوں تو اُسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 , حدیث نمبر:156)

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ہر قسم کی بدعات اور ترکِ سنت سے محفوظ رکھے آمین ۔


سنت رسول اللہ ﷺ دین کی بنیاد ہے اسےچھوڑنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے تعلق توڑنا ہے۔ صرف قرآن کا دعویٰ کر کے سنت چھوڑنا گمراہی ہے۔ ذیل میں چند احادیث بیان کی گئی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسم کی سنت کو ترک کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔

(1)جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے۔( صحیح البخاری،ج2،کتاب النکاح ،باب الترغیب فی النکاح،حدیث 5063،صفحہ263)

(2)حضرتِ سَیِّدُناابو مسلم یا ابو ایاس سلمہ بن عَمرو بن اَکْوع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی موجودگی میں الٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تو کبھی طاقت نہ رکھے۔ (راوی فرماتے ہیں کہ ) اسے (حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کاحکم ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔(فیضان ریاض الصالحین،ج2،حدیث159،باب16 سنت اور اسکی محافظت کا بیان)

(3) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا پھر اس کی اجازت ہوگئی مگر ایک گروہ نے اس سے پرہیز کیا یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے خطبہ پڑھا اوراللہ کی حمدکی پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان چیزوں سے بچتے ہیں جو میں کرتا ہوں اللہ کی قسم میں ان سب سےاللہ کو زیادہ جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ سے خوف والا ہوں۔(مشکوة المصابیح، ج 1، کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنة،حدیث 138،ص 28)

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے اسی حالت پر رہنے دو جس پر میں تمہیں چھوڑے ہوئے ہوں۔ تم سے پہلی امتیں صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوئیں کہ وہ اپنے نبیوں سے بہت زیادہ بے جا سوالات کیا کرتی تھیں اور پھر ان کی بات نہ مان کر ان سے اختلاف کرتی تھیں۔لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی طاقت و استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ، اور جب میں تمہیں کسی کام سے روک دوں تو اس سے مکمل طور پر رک جاؤ، بالکل باز آ جاؤ۔ (سنن ابن ماجہ،ج1،باب اتباع سنۃ رسول،حدیث 2،صفحہ 96)

(5)حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔ خبردار! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے گا: تم پر لازم ہے قرآن، پس جو حلال تم اس میں پاؤ اسے حلال سمجھو، اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ خبردار! بے شک جو چیز رسول اللہ ﷺ نے حرام کی ہے وہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے حرام کی ہے۔خبردار! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ ہر کچلی والا درندہ حلال ہے، اور نہ ذمی کی گری پڑی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے بے نیاز ہو جائے۔ اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان اترے تو ان پر لازم ہے کہ اس کی مہمان نوازی کریں، اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے اتنا لے لے جتنی اس کی مہمان نوازی بنتی تھی۔(ابو داود،ج2،کتاب السنہ،باب فی لزوم سنتہ،حدیث4604،ص287)

یہ حدیث منکرین حدیث کو ماننے والے کے بارے میں ہے۔مثال اسکی قرآن میں کتے، بلی، گدھے کا گوشت حرام نہیں لکھا، لیکن نبی ﷺ نے حرام کیا تو وہ حرام ہو گیا۔ جو صرف قرآن کو مانے گا وہ ان کو حلال سمجھے گا اور گمراہ ہو گا۔یہ حدیث ترکِ سنت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جو سنت چھوڑے گا وہ "تخت والے پیٹ بھرے" لوگوں میں شمار ہو گا۔اللہ پاک ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنےاور ترک سنت کے وبال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


سنتِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ سنت کو چھوڑنا یا اس سے اعراض کرنا ایمان کے لیے خطرہ ہے۔ ذیل میں آیات، صحیح احادیث اور اقوالِ بزرگان کی روشنی میں اس موضوع کو بیان کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید نے نبی ﷺ کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور مخالفت پر فتنہ و عذاب کی وعید سنائی۔ احادیثِ صحیحہ میں ترکِ سنت کرنے والے سے نبی ﷺ نے لاتعلقی کا اظہار فرمایا۔ سلف صالحین کے نزدیک سنت سے اعراض کرنا ہلاکت، گمراہی اور بدعت کا راستہ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سنت کو دلیل کے ساتھ سمجھے، اس پر عمل کرے اور اسے چھوڑنے سے بچے۔ترک سنت کی مذمت پر کثیر آیات مبارکہ مذکور ہیں چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)

 ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لواور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ ( سورۃ الحشر 59: آیت 7)

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

ترجمہ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب پڑے۔ ( سورۃ النور 24: آیت 63)

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔( سورۃ الاحزاب 33: آیت 22)

ترک سنت کی مذمت کے بارے میں بہت سی احادیث کتابوں میں مذکور ہیں لہٰذا چند صحیح احادیث مندرجہ ذیل ہیں :حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:فمن رغب عن سنتي فليس مني پس جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ( صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063، صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1401)

ایک اور مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث: 2697، صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث: 1718)

سنت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں سے پکڑ لو۔ ( سنن ابی داود، کتاب السنۃ، حدیث: 4607، جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2676، امام ترمذی نے حسن صحیح کہا)

سنت پر عمل کا اجر بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کے بگاڑ کے وقت میری سنت کو تھامنے والے کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے۔( المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5414)

حضورِ اکرم ﷺ کی اتباع داخلہ جنّت کا سبب عظیم ہے ارشاد ہوا: میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ عرض کیا: انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ ( صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، حدیث: 7280)

اقوالِ بزرگانِ دین :امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فقہ مالکیہ کے عظیم پیشوا آپ فرماتے ہیں : سنت نوح علیہ السلام کی کشتی ہے، جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔ ( تاریخ دمشق لابن عساکر، ج14 ص9)

صحابی ابنِ صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اتباع کرو، بدعت نہ گھڑو، تمہیں کفایت کر دی گئی ہے ۔( سنن دارمی، مقدمہ، حدیث: 205، سند صحیح)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ: من رد حديث رسول الله ﷺ فهو على شفا هلكة جس نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو رد کیا وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے ۔( طبقات الحنابلہ، ابن ابی یعلی، ج1 ص56)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ : أجمع المسلمون على أن من استبانت له سنة رسول الله ﷺ لم يكن له أن يدعها لقول أحد مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جس پر رسول اللہ ﷺ کی سنت واضح ہو جائے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کے قول کی وجہ سے اسے چھوڑ دے ۔( اعلام الموقعین، ابن قیم، ج2 ص361)

تمام آیات و احادیث و اقوال اِس بات كو واضح کرتے ہے کہ بندہ جس طرح احکامِ رب الانام بجا لانے میں کوشاں رہتا ہے بایں اسی طرح سنّت رسولِ اکرم ﷺ پر عمل کی سعی کرتا رہے اور ترہیبات پر نظر رکھتے ہوئے ترک سنت سے بچنے کیلئے ہر گام کوشش کرے ۔

اللہ کریم ہمیں سنّت رسولِ کریم سے محبت اور ترک سنت سے بچنے کی توفیق عمل عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک مکمل دین ہے جو قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ رسول ﷺ دراصل قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے، اور اسی پر عمل کے بغیر دین کی تکمیل ممکن نہیں۔ اسی لیے اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک سنت کی پیروی ایمان کی علامت ہے، جبکہ اس کو چھوڑ دینا دین میں کمزوری اور گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں متعدد مقامات پر ترکِ سنت کی سخت مذمت اور سنت پر عمل کی تاکید بیان ہوئی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:"تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور دانتوں سے تھام لو"۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ: 4607)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے پوری قوت کے ساتھ اختیار کرنا ضروری ہے۔"دانتوں سے پکڑنے" کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے اور کسی صورت اس سے غفلت نہ برتی جائے۔

ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ترکِ سنت کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح: 5063)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے، کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو اپنی امت کے راستے سے خارج ہونے کے معنی میں بیان فرمایا ہے، یعنی وہ شخص حقیقی پیروی سے محروم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے سنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:"جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا"۔(جامع ترمذی، کتاب العلم: 2678)

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سنت سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے، اور محبت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، نہ کہ اسے ترک کرے۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جب معاشرے میں دین سے دوری اور غفلت بڑھ جائے تو سنت پر عمل کرنا اور اسے زندہ کرنا بہت بڑی فضیلت کا کام ہے، اور اس کے برعکس سنت کو چھوڑ دینا فساد اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔


ترکِ سنت اسلامی تعلیمات میں ایک ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ سنتِ نبوی ﷺ دراصل قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بارہا اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے طریقے کو اپنانا ہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے، جبکہ اس سے روگردانی گمراہی اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔ جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سنت کو چھوڑنا محض ایک معمولی کوتاہی نہیں بلکہ ایمان و عمل کی کمزوری کی علامت ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنتِ نبوی ﷺ کو اختیار کرے اور ترکِ سنت سے بچتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنے کی کوشش کرے۔

نیز ایک اور مقام پہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنت لازم ہے اسے اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لو۔( سنن ابی داود، حدیث: 4607)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے میری کسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹا دی گئی تھی، اس کے لیے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اجر ہے۔( جامع ترمذی، حدیث: 2677)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے۔( صحیح مسلم، حدیث: 867)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔( صحیح بخاری، حدیث: 7280)

(1)سنتِ نبوی ﷺ سے وابستگی ہی نجات کا راستہ ہے:تمام احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپنانا دراصل دینِ اسلام کی صحیح پیروی ہے۔ جو شخص سنت کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ ہدایت، کامیابی اور اللہ و رسول ﷺ کی رضا حاصل کرتا ہے۔

(2) ترکِ سنت گمراہی اور محرومی کا سبب ہے:احادیث میں سنت سے روگردانی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، یہاں تک کہ اسے نبی ﷺ سے تعلق کے کمزور ہونے کی علامت قرار دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی اور دینی نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔

(3) سنت کا احیاء عظیم اجر اور امت کی اصلاح کا ذریعہ ہے:جو شخص ایسے ماحول میں سنت کو زندہ کرتا ہے جہاں وہ مٹ رہی ہو، اسے بہت بڑا اجر ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی اپنی آخرت سنورتی ہے بلکہ معاشرے میں دین کی صحیح روح بھی دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔


اسلامی معاشرے میں سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت محض ایک ثانوی فعل کی نہیں، بلکہ یہ دین کی اساس اور روح ہے۔ سنت سے اعراض یا اسے معمولی سمجھ کر ترک کر دینا درحقیقت اطاعتِ الہیٰ سے دوری کا پیش خیمہ ہے۔ مسلکِ حقہ اہل سنت (برکاتِ رضویہ) کے جلیل القدر علماء اور ائمہ نے احادیثِ طیبہ کی روشنی میں اس موضوع پر انتہائی سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔

دینِ اسلام کی تکمیل قرآن و سنت کے حسین امتزاج سے ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے جہاں "اطیعوا اللہ" کہا، وہیں "اطیعوا الرسول" کو لازم قرار دیا۔ سنتِ رسول ﷺ کی پیروی ہی وہ کسوٹی ہے جس پر ایک مومن کے ایمان کی سچائی کو پرکھا جاتا ہے۔ ترکِ سنت کی مذمت میں امامِ اہل سنت، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر معتبر علماء نے صحیح احادیث سے استدلال کیا ہے۔

(1) سنت سے اعراض کرنے والا "میری امت سے نہیں:سب سے سخت وعید وہ ہے جہاں حضور ﷺ نے سنت چھوڑنے والے سے اپنا تعلق ختم کرنے کا ذکر فرمایا۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے:فمن رغب عن سنتی فلیس منیترجمہ: جس نے میری سنت سے منہ پھیرا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح؛ صحیح مسلم، کتاب النکاح)

(2) بدعتی اور ترکِ سنت پر حوضِ کوثر سے دوری:امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف "فتاویٰ رضویہ" میں نقل فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو حوضِ کوثر سے دور ہٹایا جائے گا۔حضور ﷺ فرمائیں گے کہ یہ میرے امتی ہیں، مگر فرشتے عرض کریں گے: "آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا تبدیلیاں کیں اور آپ کی سنتوں کو کیسے پسِ پشت ڈالا۔" تب حضور ﷺ فرمائیں گے: "سحقاً سحقاً" (دوری ہو، دوری ہو)۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 21؛ مشکوۃ المصابیح، باب الحوض والشفاعۃ)

(3) سنت کو ترک کرنا گمراہی کی علامت:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (جن کی روایات کو علماءِ احناف و بریلویہ سند مانتے ہیں) فرماتے ہیں:اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب صلاۃ الجماعۃ)

اس روایت کی شرح میں اکابرینِ اہل سنت فرماتے ہیں کہ سنتِ راشدہ کو چھوڑنا انسان کو آہستہ آہستہ واجبات اور پھر فرائض کی توہین تک لے جاتا ہے، جو صریح گمراہی ہے۔

علماءِ اہل سنت (بریلوی) کا موقف اور کتابی حوالے:محدثِ اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری اور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان کے فتاویٰ کے مطابق، سنتِ مؤکدہ کو بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اور گناہگار ہے۔

شفاعت سے محرومی:امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا جسے محدثینِ اہل سنت نے کثرت سے نقل کیا:

جس نے میری سنت کو ترک کیا، اسے میری شفاعت نصیب نہ ہوگی۔(الجامع الصغیر، امام سیوطی؛ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت)

فتنے کا خوف:قرآن پاک کی آیت "فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ..." (سورۃالنور) کے تحت مفسرینِ کرام بشمول علامہ نعیم الدین مراد آبادی (خزائن العرفان) لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور سنت کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں فتنے اور آخرت میں دردناک عذاب سے ڈرنا چاہیے۔

ترکِ سنت محض ایک عمل کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ قلبی تقویٰ کی کمی کی علامت ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ جو شخص چھوٹی سنتوں کی پرواہ نہیں کرتا، وہ جلد ہی بڑی سنتوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ایک سچے عاشقِ رسول کا شیوہ یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ کی اداؤں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے۔

آج کے دور میں فیشن اور جدیدیت کے نام پر سنتوں کا مذاق اڑانا یا انہیں "قدامت پسندی" کہنا ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو "بہارِ شریعت" اور "فتاویٰ رضویہ" جیسی مستند کتابوں کی روشنی میں سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی مسکراہٹ اور شفاعت ہمارا مقدر بن سکے۔


اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہ قرآنِ مجید کی عملی تشریح اور تفسیر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسی لیے اہلِ سنت و جماعت، خصوصاً علمائے بریلوی، سنت کی پیروی کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں اور ترکِ سنت کو دینی زوال کا سبب سمجھتے ہیں۔احادیثِ مبارکہ میں سنت کی اہمیت اور اس کے ترک کی مذمت نہایت واضح انداز میں بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من رغب عن سنتی فلیس منی ترجمہ: جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت سے دانستہ روگردانی کرنا نبی کریم ﷺ سے نسبت میں کمی کا باعث بنتا ہے، جو کہ ایک مومن کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین ترجمہ: تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، حدیث: 4607؛ جامع ترمذی، حدیث: 2676)

اس حدیث میں سنت کو لازم قرار دیا گیا ہے، اور اس کی پیروی کو ہدایت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

علمائے اہلِ سنت (بریلوی) نے ہمیشہ سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سنت کی پابندی ہی درحقیقت محبتِ رسول ﷺ کی علامت ہے، اور جو شخص سنتوں کو حقیر جانے وہ گمراہی کے قریب ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 1، صفحہ 208)

اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ سنت پر عمل محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ یہ دل کی کیفیت اور عشقِ رسول ﷺ کا مظہر ہے۔

اسی طرح صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معروف کتاب "بہارِ شریعت"میں لکھتے ہیں کہ سنتوں کا ترک کرنا اگرچہ بعض اوقات گناہِ صغیرہ ہوتا ہے، مگر اس پر اصرار انسان کو محرومی کی طرف لے جاتا ہے۔(بہارِ شریعت، حصہ 16)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل سنتوں کو چھوڑنا روحانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

احوالِ سلف پر نظر ڈالیں تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سنتِ نبوی ﷺ کے سب سے بڑے عاشق اور پیروکار تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ حال تھا کہ وہ حضور ﷺ کے ہر عمل کی پیروی کرتے، حتیٰ کہ جن راستوں سے نبی کریم ﷺ گزرتے، وہ بھی انہی راستوں کو اختیار کرتے تھے ۔(صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 2669)

یہ طرزِ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سنت کی پیروی محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل ہے۔

تابعین اور ائمہ مجتہدین نے بھی سنت کی حفاظت اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ امام اہلِ سنت کے نزدیک بدعات کا فروغ دراصل ترکِ سنت کا نتیجہ ہے۔ جب لوگ سنتوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کر لیتے ہیں، جو دین میں اضافہ اور بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

ترکِ سنت کے اسباب میں سرفہرست جہالت، دنیاوی مشاغل، اور معاشرتی دباؤ شامل ہیں۔ آج کے دور میں بعض لوگ سنتوں کو پرانا یا غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی سنتیں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ترکِ سنت ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ دین سے دور کر دیتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ اور علمائے اہلِ سنت کے اقوال اس بات پر متفق ہیں کہ سنت کی پیروی ہی اصل کامیابی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، اس پر فخر کریں، اور اسے عام کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ترکِ سنت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔


رب تعالی کی طرف سے نازل کردہ احکام کو شریعت میں فرائض کا درجہ حاصل ہے جبکہ جن چیزوں کا حکم نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دیا شریعت میں ان چیزوں کو سنت کا درجہ حاصل ہے سنت سے اعراض کرنے کے متعلق کئی احادیث میں وعیدات وارد ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہے۔

سنت سے رو گردانی کرنے کی وعید: سعید بن ابومریم، محمد بن جعفر، حمید بن ابوحمید طویل، انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں تین آدمی آپ کی عبادت کا حال پوچھنے آئے، جب ان سے بیان کیا گیا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کو بہت کم خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں، آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہوگئے ہیں، ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا اور عورت سے ہمیشہ الگ رہوں گا، اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم لوگوں نے یوں یوں کہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ ڈرنے والا اور خوف کھانے والا ہوں، پھر روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ساتھ ساتھ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یاد رکھو جو میری سنت سے روگردانی کرے گا، وہ میرے طریقے پر نہیں۔(صحیح بخاری، جلد 7، کتاب النکاح ، باب الترغیب فی النکاح ، حدیث نمبر 5063)

سنت کو مضبوطی سے تھامنا :حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز کے بعد بہت جامع اور اثر انگیز نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل لرز اٹھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی نصیحت ہے، تو آپ ﷺ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے (تقویٰ) اور (اپنے امیر کی) بات سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، (ایسے میں) تم نئی باتوں (بدعات) سے بچنا کیونکہ وہ گمراہی ہیں۔ پس تم میں سے جو اس زمانے کو پائے، اسے چاہیے کہ وہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑ لے، اور اسے داڑھوں کے ساتھ (مضبوطی سے) تھام لے۔(ترمذی ، جلد 4، ابواب العلم عن رسول اللہ ﷺ ،باب: الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع، حدیث نمبر 2676)

سنت پر عمل کرنے کا حکم :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان چیزوں کے بارے میں (سوال کرنے سے) چھوڑ دو جن کے بارے میں میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے (یعنی جن کا ذکر نہیں کیا)۔ تم سے پہلے لوگ اپنے (انبیاء سے) زیادہ سوالات کرنے اور پھر ان پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے بچو، اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو۔(صحیح البخاری 7288)

رب تعالی میری اس سعی کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرمائے آمین۔


سنت چھوڑنے والا حضور ﷺ کے طریقے پر نہیں :فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیجس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں ۔

شرحِ حدیث :مذکور حدیث میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔ اس ارشاد میں آپ نے رہبانیت کے رد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کیونکہ عیسائی راہبوں نے اپنی طرف سے دین میں شدت ایجاد کی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں ان کی مذمت بیان کی کہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا اُسے پورا نہ کر سکےاورحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ معتدل ہونے کے ساتھ نرمی وآسانی والابھی ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نفلی ) روزے مسلسل نہ رکھتے، بلکہ کبھی رکھتے کبھی چھوڑ دیتے تاکہ آئندہ روزے رکھنے پر طاقت حاصل ہو۔ رات کو کچھ دیر آرام بھی فرماتے تاکہ رات کے قیام پر قوت حاصل ہو اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کئی حکمتوں کے پیشِ نظر نکاح بھی فرمایا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان”وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی تاویل سے میرے طریقے کو چھوڑا تو وہ میرے طریقۂ محمودہ پرنہیں ہے اور اگر اس بناپرچھوڑاکہ وہ اپنےعمل کوزیادہ راجح سمجھتاہےتو وہ میری ملت پر نہیں ہے کیونکہ اُس کا یہ اِعتقاد کفر ہے۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد 2 حدیث نمبر 143)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ سنت چھوڑنے والے کے بارے میں میں حدیث بیان کی :

من اخذ بسنتي فهو منى ومن رغب عن سنتي جس نے میری سنت کو تھاما وہ مجھ سے ہے اور جس نے ترک کیا تو وہ مجھ سے نہیں۔(التيسير بشرح الجامع الصغير صفحہ 391)

سنت کو چھوڑنے والا شفاعت سے محروم:مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہے کہ سنت مؤکدہ کا ترک قریب حرام کے ہے۔ اس کا تارک مستحق ہے کہ    معاذ اﷲ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو میری سنت کو ترک کرے گا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(بہار شریعت جلد 1حصہ 4 صفحہ نمبر 667 )

الله کریم سے دعا ہے کہ ہمیں سنت کا پابند بنائے آمین۔


سنت کا لغوی معنی ‏:طریقہ کار، طرز عمل یا عادت ہے ۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات مبارکہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے : ‏

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔(پارہ :21 سورۃاحزاب آیت:21)‏

اگر ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلے تو نہ صرف ہم اپنے کردار کو مزین کر سکتے ہیں بلکہ اپنے کردار کے ساتھ ‏ساتھ اپنے اخلاق اور سب سے بڑھ کر ہم اپنی آخرت کو سنوار سکتے ہیں یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب ہم سنتوں کو اپنانا شروع کر ‏دیں۔اگر ہم اپنے اسلاف کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ جاننے کو ملے گا کہ ہمارے اکابرین عظام سنت پر عمل کرنے کے کتنے پابند تھے اس ‏حوالے سے چند احادیث پیش خدمت ہیں :‏

غور کیجیے یہ ہمارے اسلاف تھے جنہوں نے نہ سفر میں اور نہ حضر میں سنتوں کو چھوڑا بلکہ ان سنتوں کو اپنے اوپر فرضوں کی ‏طرح لازم کر لیا اور کیوں نہ ہو کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے:

‏ عليكم بسنتي تم پر میری سنت لازم ہے۔ (جامع ترمذی ،حدیث:2676 )‏

سنتوں کو زندہ کرنے والے سے حضور ﷺ خوش:‏ رسول اللہ ﷺ اپنے ہر اس امتی سے خوش ہیں جو آپ کی سنت کو زندہ کرے :‏‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِترجمہ: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔(جامع ترمذی ،کتاب :علم و فہم دین ،باب سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا ‏بیان ،حدیث :2678)‏

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‏فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ۔(بخاری ،کتاب النکاح ،باب الترغیب فی النکاح،حدیث :5063)‏

اسی کے ساتھ ساتھ ایک اور حدیث بھی پیش خدمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے سنتوں کو چھوڑا اسکو میری شفاعت نصیب نہ ہوگی :‏

ترک سنت پہ شفاعت نصیب نہ ہو گی:‏حضوراقدس صلی ا للہ تعالی ٰعليہ وسلم نے فرمایا: جو میری سنت کو ترک ‏کریگا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(رد المحتار، جلد ،1صفحہ ،232مطبوعہ کوئٹہ)‏

ہمارے اوپر یہ لازم ہے کہ ہم ہروقت سنتوں کو تھامے رکھے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہماری ہر موڑ پر رہنمائی فرمائی ہیں چاہے وہ کھانے کا وقت ہو چاہے وہ غسل کا وقت ہو یا کسی سے ملنے کا ہو الغرض ہر ‏سفر و ہر دہائی میں سنتیں ہمارا ساتھ دیتی ہیں ‏۔

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔


سنتِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کا عملی نمونہ ہے، اور اس کو چھوڑ دینا یعنی ترکِ سنت، درحقیقت ہدایت کے راستے سے انحراف اور گمراہی کی طرف قدم بڑھانا ہے۔آئیے ترک سنت کے متعلق قرآنی آیات کریمہ مطالعہ کریں:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

ترجمہ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب پڑے۔(سورۃالنور،63)

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ

ترجمہ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ۔(سورۃالنساء:65)

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ

ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃآل عمران:31)

اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کی حیثیت محض مستحب اعمال کی نہیں بلکہ دین کی عملی تفسیر کی ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی قرار دیا، وہیں احادیثِ مبارکہ نے سنت سے روگردانی کو خطرناک انجام سے جوڑا ہے۔

ترک سنت کے متعلق احادیث طیبہ درج ذیل ہیں:

عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِين ترجمہ:تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔( سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 460)

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِيترجمہ:جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی۔( سنن ترمذی، حدیث نمبر 2678)

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ۔۔۔۔ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.

ترجمہ:حضرت انس فرماتے ہیں کہ چند لوگ نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے آئے، پھر انہوں نے (اپنے خیال میں) زیادہ عبادت کا ارادہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا:جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5063)

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا سخت ناپسندیدہ اور خطرناک عمل ہےنبی ﷺ کی سنت ہی ہدایت کا اصل راستہ ہےدین میں اپنی طرف سے اضافہ (بدعت) گمراہی ہے۔کامیابی کا دارومدار اتباعِ سنت پر ہے نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ جو سنت سے اعراض کرے وہ آپ ﷺ سے تعلق کھو دیتا ہے۔ یہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ سے محرومی دراصل ایمان کی روح کے ختم ہونے کے مترادف ہے سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا دراصل ہدایت کے چراغ کو بجھانے کے مترادف ہے۔ اگر امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس چاہتی ہے تو اسے دوبارہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔

الله پاک ہمیں ترک سنت سے محفوظ فرمائے حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یاربّ العٰلمین۔


دینِ اسلام کی اساس دو چیزوں پر ہے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت۔ سنتِ نبوی محض چند افعال کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور ہدایت کا وہ روشن راستہ ہے جس پر چلنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور مغفرت کو اتباعِ رسول ﷺ سے مشروط کر دیا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہیں شعوری یا لاشعوری طور پر سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے پسِ پشت ڈالنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سنت کو ترک کرنا محض ایک عمل کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ گمراہی کی پہلی سیڑھی اور بارگاہِ رسالت سے محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت سے اعراض کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں، کیونکہ جو راستہ سنتِ مطہرہ سے ہٹ جائے، وہ سیدھا ہلاکت اور بدعت کی طرف جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی اہم پہلو کا جائزہ لیں گے کہ فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں سنت کو چھوڑنے کے کیا نقصانات اور وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

(1)سنت سے اعراض کرنے والے کا انجام:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)

(2)بدعت اور سنت کے ترک پر وعید:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 2697)

وضاحت: سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا گمراہی کا باعث ہے۔

(3)سنت کی پیروی میں نجات:آپ ﷺ نے ایک طویل حدیث میں ارشاد فرمایا:تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لینا (یعنی مضبوطی سے عمل کرنا)۔(جامع ترمذی، حدیث: 2676)

(5) اطاعتِ رسول اور جنت: آپ ﷺ نے فرمایا:میری تمام امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ! انکار کس نے کیا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت سے) انکار کیا۔(صحیح بخاری، حدیث: 7280)

"اے اللہ! ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور ان پر استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں سنتوں کو چھوڑنے کی نحوست اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ