اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت 25 جولائی 2026ء کو ملتان کے علاقے سورج میانی، بستی آرائیاں میں اسپیشل پرسنز کے لیے اجتماعی طور پر  مدنی مذاکرہ دیکھنے کا اہتمام کیا گیاجس کا مقصد انہیں علمِ دین سکھانا اور اُن کی رہنمائی کرنا تھا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اجتماعی طور پر دیکھے جانے والے اس مدنی مذاکرے میں خصوصی شرکت دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی منصور عطاری کی ہوئی جن کے ہمراہ دیگر ذمہ دار اسلامی بھائی بھی موجود تھے۔

اجتماع کے دوران ڈیف افراد کی سہولت کے لیے مدنی مذاکرے کی اشاروں کی زبان (Sign Language) میں ترجمانی بھی کی گئی تاکہ اسپیشل پرسنز اس سے بھرپور فائدہ حاصل کر سکیں۔(رپورٹ:مولانا محمد جمال عطاری مدنی اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ملتان ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کےاسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت 25 جولائی 2026ء کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ملتان میں اسپیشل پرسنز کے اساتذہ، پرنسپلز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کے اعزاز میں ایک خصوصی میٹ اپ کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی منصور عطاری نے اسپیشل پرسنز کی دینی، دنیاوی، اخلاقی اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے نیز رکنِ شوریٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اسپیشل پرسنز کو معاشرے کا باوقار اور فعال فرد بنانے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنی چاہیئے۔

اس میٹ اپ میں مختلف تعلیمی اداروں کے پرنسپلز، اساتذہ، سوشل ویلفیئر آفیسرز، لیکچرار، اسپورٹس مین، انتظامی شخصیات اور دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران شریک تھے جنہوں نے اسپیشل پرسنز کی دینی و فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

تقریب کے اختتام پر حاضرین کو مکتبۃالمدینہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ فیضانِ مدینہ، اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کا تعارفی رسالہ اور دیگر تحائف بھی پیش کیے گئے جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔(رپورٹ:مولانا محمد جمال عطاری مدنی اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ملتان ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 17 اگست 2026ء کو اسلام آباد کے مقامی ہال نوویل ایونٹس میں بسلسلہ” استقبالِ ربیع الاول “ایک پروقار اجتماع کا انعقاد کیا گیاجس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکنِ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے خصوصی بیان کیا۔

اس روحانی تقریب میں رکنِ شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری، نمایاں تاجر برادری (بزنس مینز)، دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے اسلامی بھائیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

معمول کے مطابق اجتماع کا آغاز تلاوتِ قراٰنِ پاک سے کیا گیا اور وہاں موجود نعت خواں اسلامی بھائیوں نے تمام عاشقانِ رسول کے ہمراہ مل کر حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی بارگاہِ اقدس میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔

تلاوت و نعت کے بعد رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے حاضرین کی اخلاقی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں گناہوں سے بچنے، نیکیوں کی راہ پر گامزن رہنے اور ماہِ ربیع الاول میں جوش و جذبے اور احترام کے ساتھ جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم منانے کی ترغیب دی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

اجتماع کےاختتام پر تمام عاشقانِ رسول دعا اور صلوٰۃ و سلام میں شریک ہوئے نیز رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری اور رکنِ شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری سے ملاقات کا سلسلہ بھی ہوا۔

بعدازاں اراکینِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری اور حاجی وقار المدینہ عطاری کا بعض شخصیات سے میٹ اپ ہوا جس میں عالمی سطح پر ہونے والی خدماتِ دعوتِ اسلامی کو بیان کیا گیا۔

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام کل بروز اتوار 23 اگست 2026ء  کو شہرِ کراچی میں ایک منفرد اور پروقار انداز میں جلوسِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو لانچوں (کشتیوں) پر نکالا جائے گا۔

تفصیلی معلومات کے مطابق یہ جلوسِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کیماڑی بندرگاہ جیٹی ، کراچی کے مقام پر منعقد ہوگا جس کا باقاعدہ آغاز بعد نمازِ ظہر تقریباً دوپہر 02:30 بجے تلاوتِ قراٰنِ پاک سے ہوگا۔

اس جلوسِ میلاد میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری خصوصی شرکت فرمائیں گے اور وہاں موجود عاشقانِ رسول کے درمیان سنتوں بھرا بیان کرنے عاشقانِ رسول کے ہمراہ لانچوں پر سوار ہو کر سمند ر کے بیچ میں مرحبایا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے نعرے لگائیں گے۔

ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی کی جانب سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ عقیدت مند باآسانی اور نظم و ضبط کے ساتھ اس روحانی جلوس کا حصہ بن سکیں۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ اس رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ سنت دراصل نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ ہے جو امتِ مسلمہ کے لیے بہترین نمونہ اور کامل رہبر کی حیثیت رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بارہا اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سنت کی پیروی دینِ اسلام کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(الحشر:7)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت واجب ہے اور آپ ﷺ کی نافرمانی سخت عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی سنت پر عمل کرنے اور اسے مضبوطی سے تھامنے کی بڑی تاکید آئی ہے، جبکہ ترکِ سنت کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ:

(1) رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:من رغب عن سنتی فلیس منییعنی جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

(2) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائے۔ (شرح السنۃ للبغوی، حدیث: 110)

ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت انسان کو گمراہی اور محرومی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخرکار ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی کے لیے رہنمائی ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے وہ درحقیقت حضور ﷺ کی محبت اور اطاعت کا ثبوت دیتا ہے، اور جو سنت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک عظیم نعمت سے محروم کر لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو زندہ کریں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اسے عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین


اسلام دینِ کامل ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اور سنت سے روگردانی کو گمراہی سے تعبیر کیا۔ سنتِ نبوی ﷺ دین کا عملی نمونہ ہے جسے چھوڑنا ایمان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

‎‎سنت کی اہمیت قرآن و حدیث میں:

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھجا۔(سورۃالنساء:80)

ترجمۂ کنز الایمان:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (الحشر: 7)

ان آیات سے واضح ہوا کہ سنت کی پیروی لازم ہے۔

‎‎ ‎‎ترکِ سنت پر سخت وعیدیں:نبی کریم ﷺ نے سنت چھوڑنے والوں کی مذمت فرمائی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ تین آدمی نبی ﷺ کے گھر آئے اور آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا۔ ایک نے کہا میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا۔ جب نبی ﷺ کو خبر ہوئی تو فرمایا: "تمہارا کیا حال ہے جو ایسی ایسی باتیں کرتے ہو؟ سنو! اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور متقی ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں"۔ (بخاری: 5063)

‎‎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں بھی غلو کرکے سنت کا طریقہ چھوڑنا ناپسندیدہ ہے۔ سنت کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔

‎‎بدعت اور ترکِ سنت کا تعلق:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ (بخاری: 2697، مسلم: 1718)

ترکِ سنت ہی بدعت کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب لوگ سنت چھوڑ دیتے ہیں تو اس کی جگہ من گھڑت رسم و رواج لے لیتے ہیں۔

‎‎آپ ﷺ نے خطبہ میں فرمایا : "سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور نئے ایجاد کردہ امور ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ (مسلم: 867)

‎‎صحابہ کا طرزِ عمل:صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا: "میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا"۔ (بخاری: 1597)

یہ سنت کی اتباع کی اعلیٰ مثال ہے کہ وجہ سمجھ نہ بھی آئے تب بھی عمل کرنا ہے۔‎‎

ترکِ سنت کے نقصانات

(1) گمراہی کا خطرہ: نبی ﷺ نے فرمایا: "میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے"۔ پوچھا گیا وہ کون ہے؟ فرمایا: "جو اس طریقے پر ہو جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں"۔ (ترمذی: 2641)

(2) محبتِ رسول میں کمی: آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں"۔ (بخاری: 15) اور محبت کا تقاضا اتباع ہے۔

(3) شفاعت سے محرومی: حوضِ کوثر پر کچھ لوگوں کو فرشتے ہٹائیں گے۔ نبی ﷺ فرمائیں گے: "یہ تو میرے امتی ہیں"۔ کہا جائے گا: "آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں"۔ (بخاری: 6584)

‎‎ترکِ سنت دنیا و آخرت میں خسارے کا باعث ہے۔ سنتِ رسول ﷺ چراغِ ہدایت ہے جسے چھوڑ کر انسان اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں سنت کو اپنائے، خواہ وہ عبادات ہوں، معاملات ہوں، یا اخلاقیات۔ اللہ ہمیں سنت پر چلنے اور اسے مضبوطی سے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ رسول ﷺ دراصل قرآنِ پاک کی عملی تفسیر ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے، وہ درحقیقت دینِ اسلام کو مکمل طور پر اختیار کرتا ہے، جبکہ سنت کو چھوڑ دینا (ترکِ سنت) گمراہی اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔"( صحیح مسلم: 1401)

یہ حدیث مبارکہ نہایت سخت تنبیہ پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کے لیے یہ بہت بڑا نقصان ہے ۔

ایک اور حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى ۔۔مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ: میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ عرض کیا گیا: کون انکار کرے گا؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔(صحیح بخاری: 7280)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ کی اطاعت ہے، اور اطاعت جنت کا راستہ ہے، جبکہ نافرمانی (یعنی سنت کو چھوڑ دینا) ہلاکت کا سبب ہے۔

یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ دین میں اپنی طرف سے نئی چیزیں شامل کرنا (بدعت) اور سنت کو چھوڑ دینا دونوں ہی قابلِ مذمت ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ صرف وہی راستہ اختیار کرے جو نبی کریم ﷺ نے دکھایا۔

ترکِ سنت کے نقصانات

دین میں کمی واقع ہونا:سنت کے بغیر دین مکمل نہیں رہتا، کیونکہ سنت قرآن کی عملی شکل ہے۔

گمراہی کا خطرہ:سنت کو چھوڑنے والا آہستہ آہستہ دین کے اصل راستے سے ہٹ جاتا ہے۔

اللہ اور رسول ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری دراصل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری ہے۔

معاشرتی بگاڑ:جب سنتیں ختم ہوتی ہیں تو بدعات اور برائیاں عام ہو جاتی ہیں۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس کامل دین میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ قرآنِ مجید کے عملی مفہوم کو دنیا کے سامنے نبیِ کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا۔ لہٰذا سنت پر عمل کرنا درحقیقت قرآن پر ہی عمل ہے، اور اس کو ترک کرنا دین کے ایک عظیم حصے سے محرومی ہے۔ آج کے دور میں جہاں نت نئی رسمیں اور خودساختہ طریقے عام ہو رہے ہیں، وہیں سنتوں سے دوری ایک بڑا فتنہ بنتی جا رہی ہے، جس کی مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔قرآنِ کریم میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃ النساء، آیت 80)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے، اور جو شخص سنت کو چھوڑتا ہے وہ درحقیقت اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:ترجمہ کنزالایمان:اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بُری جگہ پلٹنے کی ۔ (سورۃ النساء، آیت 115)

یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو جان بوجھ کر سنتِ رسول ﷺ کو ترک کرتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ترکِ سنت کی مذمت:

سنت سے روگردانی پر تنبیہ:جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، حدیث: 5063،صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1401)

یہ حدیث نہایت سخت ہے، جس میں سنت سے دوری کو نبی ﷺ سے نسبت ختم ہونے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم:تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت، اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، حدیث: 4607،جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2676)

یہ حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ نجات کا راستہ سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔

بدعت اور سنت چھوڑنے کا انجام:جو ہمارے اس دین میں نئی بات نکالے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث: 2697،صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث: 1718)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا اللہ کے نزدیک مردود ہے۔

ترکِ سنت دراصل دین میں کمزوری، غفلت اور دنیاوی رغبت کا نتیجہ ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، چاہے وہ کھانے پینے کے آداب ہوں، عبادات ہوں یا معاملات۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سنتوں کو سیکھیں،ان پر عمل کریں،دوسروں تک پہنچائیں،کیونکہ نبی کریم ﷺ کی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ کی سنت کو زندہ کریں۔

آخر میں ایک فکر انگیز جملہ:جو سنت کو چھوڑتا ہے، وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہو جاتا ہے اور جو سنت کو اپناتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب ہو جاتا ہے۔


دینِ اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ عزوجل کی کتاب اور سنتِ رسول اللہ ﷺ۔سنتِ رسول ﷺ محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے اور ایسی راہِ ہدایت ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہاں سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے معمولی سمجھ کر ترک کر دینے کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ جان بوجھ کر سنت کو ترک کرنا یا اسے حقیر سمجھنا محرومی اور گمراہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ کے اسوہ کو "اسوۂ حسنہ" یعنی بہترین نمونہ قرار دے دیا، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر سنتِ رسول ﷺ کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔

ترکِ سنت پر وعیدیں:احادیثِ مبارکہ میں سنت کو چھوڑنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ ذیل میں چند حدیث پیش کیے جاتے ہیں:

حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ پھیرا)، وہ مجھ سے نہیں ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5063)

علمائے کرام اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ سنت رسول ﷺ سے اعراض کرنے کا مطلب اسے ناپسند کرنا یا اسے بوجھ سمجھنا ہے۔ جو شخص دانستہ طور پر سنتِ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، وہ کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی خصوصی توجہ اور شفاعت سے محروم ہو سکتا ہے۔

وَعَن مَالك بن أنس مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ ۔ رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأحضرت مالک بن انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ،پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، حدیث نمبر 186)

آج کل بہت سے لوگ یہ کہہ کر سنت کو چھوڑ دیتے ہیں کہ "یہ کون سا فرض ہے، سنت ہی تو ہے۔" یہ جملہ انتہائی خطرناک ہے۔

سنت کو حقیر سمجھنا ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب انسان چھوٹی چھوٹی سنتوں (جیسے کھانے پینے کے آداب، لباس کی سنتیں، داڑھی وغیرہ) کو معمولی سمجھ کر چھوڑتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کا دل فرائض و واجبات کے معاملے میں بھی سست ہو جاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بے سکونی، بے برکتی اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے شادی بیاہ سے لے کر غمی تک، اور تجارت سے لے کر سیاست تک ہر جگہ سنتِ نبوی کو ترک کر کے غیروں کے طریقے اپنا لیے ہیں۔ جب سنت رخصت ہوتی ہے تو وہاں بدعت اور نفسانی خواہشات ڈیرہ جما لیتی ہیں۔

ترکِ سنت محض ایک عمل کا چھوٹ جانا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم رشتے کی کمزوری کی علامت ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ تب ہی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب انسان کی زندگی سنت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور جہاں جہاں ہم سے سنتیں چھوٹ رہی ہیں، وہاں توبہ کریں اور اتباعِ سنت کا عزم کریں۔

اللہ پاک ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جنہیں کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی زیارت اور رفاقت نصیب ہوگی۔ (آمین)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سنت دراصل وہ طریقہ ہے جو حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں اختیار فرمایا اور امت کو اس پر چلنے کی تعلیم دی۔ سنت پر عمل کرنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت انسان کو گمراہی اور دین سے دوری کی طرف لے جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور اس کے ترک سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔

(1) سنت کی اہمیت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔(ترمذی: 2678)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت سے محبت دراصل حضور ﷺ سے محبت ہے، اور یہی محبت جنت کا راستہ ہے۔

(2) سنت سے روگردانی کی مذمت:ایک اور حدیث میں آتا ہے:جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ میں سے نہیں۔(بخاری: 5063، مسلم: 1401)

یہ حدیث ترکِ سنت کی شدید مذمت بیان کرتی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ جاتا ہے۔

(3) بدعت اور ترکِ سنت کا تعلق:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ہر نئی چیز (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(مسلم: 867)

جب انسان سنت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ بدعات کی طرف مائل ہوتا ہے، جو اسے سیدھے راستے سے دور کر دیتی ہیں۔

(4) سنت پر عمل کی تاکید:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔(ابو داؤد: 4607، ترمذی: 2676)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کامیابی صرف سنت پر عمل کرنے میں ہے۔

(5) قیامت کے دن ندامت:ایک حدیث میں آیا ہے کہ کچھ لوگ حوضِ کوثر سے دور کر دیے جائیں گے، تو نبی ﷺ فرمائیں گے: "یہ میرے امتی ہیں"مگر جواب ملے گا"آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعتیں نکالیں۔"(بخاری: 6582)

یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو سنت کو چھوڑ کر نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔

(6) سنت چھوڑنے کے نقصانات:ترکِ سنت سے دل سخت ہو جاتا ہے، ایمان کمزور پڑ جاتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دین سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد دنیا میں بھی بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی خسارے میں رہتے ہیں۔سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات کا بھی راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو اپنائیں اور ترکِ سنت سے بچیں۔ کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلیں اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔


ترکِ سنت (یعنی نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو چھوڑ دینا) اسلام میں ایک ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی دین کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ سنت قرآنِ مجید کی عملی تفسیر اور رسول اللہ ﷺ کے طریقۂ حیات کی نمائندہ ہے۔ اسی لیے احادیثِ مبارکہ میں ترکِ سنت پر سخت تنبیہات وارد ہوئی ہیں۔نبی کریم ﷺ نے اپنی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے دانتوں سے تھام لو"۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، حدیث: 4607)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کی پیروی ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے، جبکہ اس کو چھوڑ دینا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں"۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

یہ حدیث ترکِ سنت کی شدید مذمت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس میں سنت کو چھوڑنے والے کے بارے

میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت کو نظر انداز کرے، وہ نبی کریم ﷺ کی حقیقی پیروی سے محروم ہو جاتا ہے۔

ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا"۔(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2678)

یہ حدیث سنت پر عمل کی فضیلت کو بیان کرتی ہے اور بالواسطہ طور پر ترکِ سنت کی مذمت بھی کرتی ہے، کیونکہ جو شخص سنت کو چھوڑ دیتا ہے وہ اس عظیم فضیلت سے محروم ہو جاتا ہے۔

مزید برآں، ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جب میری امت میں فساد پھیل جائے تو جو میری سنت کو زندہ کرے اسے سو شہیدوں کا اجر ملے گا"۔(شعب الایمان للبیہقی، حدیث: 176)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت پر عمل کرنا اور اسے زندہ رکھنا بہت بڑی نیکی ہے، اور اس کے برعکس ترکِ سنت فساد اور بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنت سے مراد وہ طریقے، اقوال اور افعال ہیں جو حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی میں اختیار فرمائے اور امت کو ان کی پیروی کا حکم دیا۔ سنت دراصل قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے، اس لیے اس کو چھوڑ دینا یا اس سے روگردانی کرنا نہایت قابلِ مذمت عمل ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں ترکِ سنت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ ایک مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔( صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا دراصل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری اختیار کرنا ہے، جو ایک مسلمان کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت کا راستہ صرف قرآن اور سنت کی پیروی میں ہے۔ اگر کوئی شخص سنت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ گمراہی کے راستے پر جا سکتا ہے۔

مزید برآں، ایک حدیث میں بدعت (دین میں نئی بات شامل کرنے) کے بارے میں فرمایا گیا:جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کرے جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔( صحیح مسلم، حدیث: 1718)

یہ حدیث اس امر کو واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرنا قابلِ قبول نہیں، بلکہ یہ دین میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔ترکِ سنت کے کئی نقصانات ہیں۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی مول لیتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں بگاڑ، دین میں تحریف اور امت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ سنت پر عمل نہ کرنے سے اسلامی شناخت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سنتِ نبوی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کھانے پینے، عبادات، معاملات اور اخلاقیات ہر شعبے میں سنت کی پیروی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف خود سنت پر عمل کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔