اللہ کریم نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام کی جماعت مبعوث فرمائی اور انہیں وہ دینِ کامل عطا فرمایا جو انسانیت کو ہمہ گیر اور جامع رہنمائی عطا کرتا ہے۔ وہ تمام عقائد و نظریات جن پر نجاتِ اخروی موقوف ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ کی صورت میں بتا دیے ہیں۔

پیارے اسلامی بھائیو! اگر عقیدہ درست ہے تو اعمال بھی درست ہوں گے، اور اگر عقیدہ میں خرابی آ جائے تو نیک اعمال بھی انسان کو نجات نہیں دلا سکتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقیدہ کیا ہے؟عقیدہ دراصل دل سے کسی بات کو سچ ماننے اور اس پر پختہ یقین رکھنے کا نام ہے۔ اسلام میں بنیادی عقائد: توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور اچھی بُری تقدیر پر ایمان لانا ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مسلمان کی پوری زندگی قائم ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم و حدیث کی روشنی میں مطالعہ عقائد کی اہمیت و ضرورت:

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹) ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔ (سورۃالزمر آیت نمبر 9)

حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عالِم تھا اور دوسرا عبادت گزار، تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر ہے، پھر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے ،آسمانوں اور زمین کی مخلوق حتّٰی کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں لوگوں کو (دین کا) علم سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، 4 / 313، الحدیث: 2694)

موجودہ دور میں مطالعہ عقائد کی ضرورت:پیارے اسلامی بھائیو! اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ دیکھیں گے کہ آج سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور مختلف پلیٹ فارمز(Platforms) پر ہر شخص دین کی بات کر رہا ہے، لیکن ہر بات درست نہیں ہوتی۔ کئی لوگ قرآن و حدیث کی غلط تشریحات پیش کر کے لوگوں کے عقائد خراب کر رہے ہیں۔

آج کے دور میں درج ذیل خطرات عام ہیں:

(1)الحاد بے دینی، دین بیزای۔(2)خرافات ، دین میں نئی نئی باتیں شامل کرنا۔(3)غلط نظریات کو پھیلانا وغیرہ۔

اگر آپ نے اپنے عقائد کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا تو آپ آسانی سے ان فتنوں کا شکار ہو سکتے ہو۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد

(1)ایمان کی مضبوطی:پیارے اسلامی بھائیو! جب آپ اپنے عقائد کو دلائل کے ساتھ سیکھیں گے تو آپ کا ایمان مضبوط ہوگا، کوئی بھی آپ کو بہکا نہیں سکے گا۔

(2)آخرت کی کامیابی:صحیح عقیدہ ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو عبادات بھی قبول نہیں ہوتیں۔

ہماری ذمہ داری کیا ہے؟پیارے اسلامی بھائیو! اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ:

(1)مستند علماء سے عقائد سیکھیں ارشاد باری تعالی ہے:

فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳)

ترجمہ کنزالایمان:تو اے لوگوں علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔ (سورۃنحل آیت 43)

(2)قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں۔(3)اہلِ سنت کے عقائد کو سمجھیں۔(4)ہر سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں۔

یاد رکھیں! عقیدہ دین کی جڑ ہے، اور درخت کی جڑ مضبوط ہو تو ہی وہ سرسبز رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 


عقیدہ ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے اور جس عمارت کی اساس باطل ، فاسد اور کمزور ہو تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت کا کیا اعتبار ہوگا ۔ تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کے لیے عقیدے کا درست ہونا نہایت ضروری ہے ۔ عقیدہ مذہب کے لیے بمزلہ روح اور جان کے ہے اور باقی تمام افعال و اعمال انسانی جسم او ر اعضاءکی مانند ہیں عقیدہ جڑ اور تنے کی مانند ہے اور اعمال و افعال شاخوں کی مانند تو جس درخت کی جڑ ہی خشک ہو اسی کی شاخیں کیسے سر سبز رہ سکتی ہیں ۔ اور اس پر پھل کیسے لگ سکتا ہے ۔ بظاہر انسان جتنا نمازی ، حاجی ، سخی یا پر بیزگار ہو جب تک اس کا عقیدہ درست نہ ہوگا مذکوره اعمال اس کو کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ جب جڑ خشک ہے تو شاخیں کیسے ہری بھری ہو سکتی ہیں ۔

عقیدہ کی تعریف: وہ قلبی تصدیق جو کسی تصور میں یقین کی کیفیت پیدا کردے۔عجیب دور ہے کہ نماز ، روزہ اور دیگر اعمال صالح کی تبلیغ تو بہت کی جاتی ہے لیکن عقیدے کی بات کرنے والے کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید میں 81 مرتبہ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الخ (سورۃ مریم :96)فرما کر عقیدہ کو پہلے اعمال كو بعد میں ذکر کیا گیا ہے ۔ پنجگانہ نماز بمعہ تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوابین پڑھیں اور سو سال تک پڑھتے رہیں ۔ لیکن اس وقت تک عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے جب تک کہ ایمان و عقیده درست نہیں کرلیں گے ۔ کیا اس طرح کے اعمال منافقین کے پاس کم تھے ؟ مگر اس کے باوجود قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ منافقین جہنم کی نچلی تہہ میں ہوں گے ۔ مکان اگر انتہائی خوبصورت سنگ مرمر اور دیگر لوازمات سے مزین ہو لیکن اس کی بنیاد بھی مضبوط نہ ہوتو کسی وقت بھی زمین پر آگرے گا ۔ بنیاد اگر چہ نظر نہیں آتی لیکن مکان کی مضبوطی کا مدار اس بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگرچہ عقیدہ نظر نہیں آتا مگر اعمال صالحہ کے محل کا انحصار عقیدے پر ہی ہے ۔

مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ عقیدہ دینِ اسلام کی بنیادی اساس اور اصل روح ہے، جس کے بغیر تمام اعمالِ صالحہ بے معنی اور بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد پر منحصر ہوتی ہے اور درخت کی سرسبزی اس کی جڑ پر، اسی طرح انسان کے اعمال کی قبولیت کا دارومدار درست عقیدہ پر ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اپنے عقیدے کو درست اور مضبوط بنائے، کیونکہ صحیح عقیدہ ہی دنیا و آخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ 


دین اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔ قرآن کریم وہ سرچشمہ ہدایت ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کے اصول بتاتا ہے، جبکہ سنتِ رسول ﷺ ان اصولوں کی عملی تشریح اور بہترین نمونہ ہے۔ سنت کو چھوڑنا محض ایک عمل کو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کی روح سے دوری اور گمراہی کے راستے پر پہلا قدم ہے۔ جب کوئی انسان سنت سے منہ موڑتا ہے تو وہ درحقیقت اس رہنمائی کا انکار کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا۔ قرآن پاک میں جابجا اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کا واحد راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں پوشیدہ ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ کسی کے دل میں یہ وہم نہ رہے کہ وہ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن پر عمل کر کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5063)

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کی اہمیت کیا ہے۔ سنت کو ترک کرنے والا درحقیقت اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے دور کر رہا ہوتا ہے۔ عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر اپنی مرضی کرے تو وہ استاد کی نسبت کا حقدار نہیں رہتا، بالکل اسی طرح جو شخص سنت کو نظر انداز کرتا ہے، وہ اس فیضان سے محروم ہو جاتا ہے جو صرف اتباعِ رسول ﷺ میں پوشیدہ ہے۔سنت کی مخالفت اور اسے چھوڑنے والوں کے لیے دین میں سخت تنبیہ آئی ہے۔ جو لوگ دین میں اپنی طرف سے نئی چیزیں نکالتے ہیں اور سنتِ نبوی ﷺ کے قائم کردہ طریقے کو ترجیح نہیں دیتے، ان کے اعمال رد کر دیے جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2697)

آج کے دور میں جب ہم معاشرے میں بگاڑ اور فکری گمراہی دیکھتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ سنتِ نبوی ﷺ کے بجائے من مانی کرنا ہے۔ سنت کو چھوڑنے سے دین کی اصل شکل مسخ ہو جاتی ہے اور انسان صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اسلام کی اصل روح سے ہٹا کر گمراہی کی وادیوں میں پھینک دیتی ہے، کیونکہ سنت ہی ہے جو دین کی حفاظت کرتی ہے۔

دین کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی نجات سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ سنت کو ترک کرنا گویا ہدایت کے راستے سے اتر جانے کے مترادف ہے۔

نبی کریم ﷺ نے سنت کی پیروی کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے ڈاڑھوں سے (مضبوط) تھامے رکھو۔(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4607)

اس حدیث میں "ڈاڑھوں سے پکڑنے" کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کتنا ہی مشکل وقت کیوں نہ ہو، سنت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے فیصلوں میں، اپنی خوشی اور غمی میں سنت کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ہدایت کے اس قلعے سے باہر نکل جاتے ہیں جو ہماری حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔ سنت کو ترک کرنا درحقیقت اپنی عقل کو وحی اور نبوی بصیرت پر فوقیت دینا ہے، جو کہ سراسر خسارہ ہے۔سنت کی پیروی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے تفرقے اور گمراہی سے بچا جا سکتا ہے۔ جب امت سنت کو چھوڑ دیتی ہے تو وہ مختلف گروہوں میں بٹ کر اپنی طاقت کھو دیتی ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِترجمہ: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔(مؤطا امام مالک، حدیث نمبر: 1661)

ترکِ سنت کی سب سے بڑی مذمت یہی ہے کہ اسے چھوڑنے والا ہدایت کے یقینی راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ جب انسان سنت کو بوجھ سمجھنے لگے یا اسے محض ایک اختیاری عمل سمجھ کر نظر انداز کر دے، تو وہ درحقیقت اس ضمانت کو کھو دیتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے گمراہی سے بچنے کے لیے دی تھی۔ سنتِ رسول ﷺ وہ روشن شاہراہ ہے جس پر چلنے والے کے لیے منزل کا حصول یقینی ہے۔سنتِ نبوی ﷺ سے منہ موڑنا دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل قیامت تک کے انسانوں کے لیے فلاح کا ذریعہ ہے۔ سنت کو ترک کرنا محض ایک عمل کا چھوٹنا نہیں بلکہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے راستے سے انحراف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنت کو اپنائیں اور اسے کےچھوڑنے سے خود کو بچائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں حقیقی ہدایت نصیب ہو اور ہم فتنوں کے دور میں ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو ہمیں اپنی زندگیوں کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ سنت سے وابستگی ہی دین کی بقا اور کامیابی کی واحد کنجی ہے۔



اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنت دراصل حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ ہے، اور یہی سنت دین کی عملی تصویر ہے۔ لہٰذا سنت کو چھوڑنا (ترکِ سنت) نہایت خطرناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

ترکِ سنت کا مفہوم:ترکِ سنت سے مراد یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کے طریقوں کو چھوڑ دے، ان کی پیروی نہ کرے یا انہیں غیر اہم سمجھے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر: 7)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا دراصل اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ترکِ سنت پر سخت تنبیہ فرمائی:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

ترجمہ: جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)

ایک اور حدیث میں فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ

ترجمہ: تم پر میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔(سنن ابی داود، حدیث: 4607)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا ایمان و محبتِ رسول ﷺ کے خلاف ہے۔

ترکِ سنت کے نقصانات:

دین میں کمزوری:سنت چھوڑنے سے دین کا عملی حسن ختم ہو جاتا ہے۔

بدعات کا فروغ:جب سنت چھوڑ دی جاتی ہے تو اس کی جگہ بدعات آ جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری، نبی کریم ﷺ کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے۔

آخرت میں خسارہ:سنت پر عمل نہ کرنے والا اجرِ عظیم سے محروم رہتا ہے۔

سنت پر عمل کی اہمیت:سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃ آل عمران: 31)

ترکِ سنت ایک سنگین غلطی اور دین سے دوری کا سبب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین و ﷺ 


سنت کی دو قسمیں ہیں سنّتِ مؤ کَّدہ اور سنّتِ غیر مؤکَّدہ ان دونوں کی الگ الگ احکام ہیں۔

سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)

سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ الف صفحہ 283)

ترک سنت کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجئے :۔

قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منیحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں ۔(مسلم حدیث نمبر 3403)

ایک اور حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت کو ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(بہار شریعت جلد 1 حصہ ب صفحہ 662 )

ان احادیث کو پڑھ کر ایک مومن مسلمان کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت پر پابند ہو جائے اور اخلاص و اچھی نیت کے ساتھ اس پر عمل کرے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت کو ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی تو جسے شفاعت نہ ملی تو پھر اس کا بیڑا پار کیسے ہوگا کہ جس کی حضور شفاعت نہ کریں تو ہمیں چاہیے کہ ہم سنت کے پابند بن جائیں ۔ اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا کہ جو میرے سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں تو جس کے حضور نہیں تو اس کا کوئی نہیں ایک عاشق کا اپنے محبوب کی اداؤں کو اپنانا ایک بہت کار خیر ہوتا ہے اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے تو لہذا مومن مسلمان کو چاہیے کہ وہ حضور کی سنت کا پابند بن جائے اور سچے دل سے حضور کی سنت پر عمل کرے ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب تعالی ہمیں اپنے محبوب کی اداؤں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ رسول ﷺ ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دینِ اسلام کی مکمل رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ سنت کو اختیار کرنا ایمان کی علامت ہے جبکہ اس کا ترک کرنا سخت مذمت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ سنت کو چھوڑنے والوں کے بارے میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔"( صحیح بخاری ،5063)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: "تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو اور اسے دانتوں سے تھام لو۔(سنن ابی داؤد، 4607)

احادیث میں سنت کو مضبوطی سے تھامنےاور سنت سے اعراض نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت اور اس کے ترک کی قباحت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَى قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ:"میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو انکار کرے۔"صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کون انکار کرے گا؟"آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔" (صحیح بخاری،7280)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت (یعنی سنت کی پیروی) جنت کا راستہ ہے جبکہ اس سے روگردانی نقصان کا باعث ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا نہایت خطرناک عمل ہے جو انسان کو گمراہی اور اللہ و رسول کی ناراضگی کی طرف لے جاتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اس کی پیروی میں کامیابی تلاش کرے۔


حضور ﷺ کی سنت ہمارے لیے ایک انمول نمونہ ہے ، اسی لیے احادیث میں سنت پر عمل پیرا ہونے ، سنت کو مضبوطی سے تھامنے کے حوالے سے بہت تاکید فرمائی گئی ہے ، جبکہ اس کے برعکس سنت کو ترک کرنے ، سنت سے اعراض کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ لہذا ہمیں ایک مسلمان ہونے اور حضور نبی کریم ﷺ کا امتی ہونے کی حیثیت سے سنتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ ترکِ سنت پر احادیث ملاحظہ کیجئے ۔

(1) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو ہمارے دین میں وہ طریقہ ایجاد کرے جو اس دین سے نہیں وہ مردود ہے ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مخالف کوئی بھی عمل ہو ، جس سے سنت اٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود اور ایسے عمل بھی باطل ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 ، حدیث 140 )

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 176)

(3) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا یقیناً بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد مصطفی کا طریقہ ہے اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 141)

(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گئی عرض کی گئی منکر کون ہے ؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی بہشت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 143)

(5) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑی جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گئے گمراہ نہ ہو گئے ۔(1) اللہ کی کتاب(2) اس کے پیغمبر کی سنت ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 186)

احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ بات سیکھنے کو ملی کہ حضور ﷺ کی کوئی بھی چھوٹی بڑی سنت ہو عمل کرنا چاہیے اور ترکِ سنت سے ہر دم بچتے رہنا چاہیے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مالک کریم ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا اور اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور ایک مضبوط دین ،دین اسلام عطاء فرمایا اور قرآن مجید جیسی عظیم کتاب عطاء فرمائی۔جان لیں کہ دین اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے(1) قرآن مجید(2) سنت مصطفیٰ ﷺ

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور مکمل ضابطہ حیات ہے اور سنت رسول ﷺ کا فرمان ،طریقہ اور عمل ہےاور ضابطہ حیات کی عملی تفسیر ہے ۔قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا سنت کے بغیر ممکن نہیں اور نماز، روزے، زکوٰۃ ،حج ،معاملات اور اخلاقیات الغرض زندگی کا کوئی شعبہ بھی سنت کے بغیر مکمل نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت سے حصہ حاصل کرنے کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پارہ 3،سورۃ آل عمران، آیت 31)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کرےاور بتایا گیا کہ محبت ِالہٰی کا دعویٰ حضورسید ِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہتا ہے وہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غلامی اختیار کرےاور اس کو ترک کرنا دین کے بڑے حصے کو ترک کرنے کے برابر ہے ۔اور جنت کو حاصل کرنا رسول اللہ ﷺ اتباع پر بھی موقوف ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘(ریاض الصالحین،جلد 2، حدیث 158)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔(صحیح البخاری حدیث 5063)

اس سے معلوم ہوا کہ سنت کو حقیر جاننا یا ترک کرنا گمراہی بدعت اور رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی سنت پر بھی عمل کرتے تھے ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔ آمین 


اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت  11 اگست 2026ء کو وہاڑی، پنجاب میں ایک خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں اسپیشل ایجوکیشن سے وابستہ پروفیشنلز نے شرکت کی۔

سیشن میں ڈسٹرکٹ نگران اور ڈویژن ذمہ دار نے خصوصی شرکت کی اور حاضرین کو ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر مشتمل ڈاکومنٹری دکھائی ۔ اس موقع پر ڈیپارٹمنٹ کا تفصیلی تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے تحت دنیا بھر میں جاری دیگر دینی و فلاحی خدمات کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی گیں۔

سیشن کے اختتام پر اسپیشل ایجوکیشن سے وابستہ افراد نے ڈیپارٹمنٹ کے قیام اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: محمد یوسف عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ خانیوال و وہاڑی ڈسٹرکٹ ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ماہِ اگست کی خصوصی شجرکاری مہم کے سلسلے میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت وہاڑی، پنجاب میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں بالخصوص اسپیشل ایجوکیشن سے وابستہ افراد اور ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس دوران ڈسٹرکٹ نگران، ڈویژن ذمہ دار اور ڈسٹرکٹ ذمہ دار کی موجودگی میں پودے لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے سب نے مل کر دعائیں کیں۔

معلومات کے مطابق اس مہم کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور سبزہ زاروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ معذور افراد کو قومی و سماجی سرگرمیوں میں فعال بنانا تھا۔(رپورٹ: محمد یوسف عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ خانیوال و وہاڑی ڈسٹرکٹ ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 30 جولائی 2026ء کو کلاسک مارکی، ٹیکسلا میں ایک عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام الناس کے علاوہ جید علمائے کرام، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور اسپیشل پرسنز (گونگے، بہرے، نابینا اور دیگر معذور افراد) نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس دوران اسپیشل پرسنز کے لیے خصوصی نشست اور حلقے کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں اُن کی سہولت کے لیے پورے اجتماع کا پیغام اشاروں کی زبان (Sign Language) میں بیان کیا گیا تاکہ وہ اس پیغام کو آگے پہنچاسکیں۔

بعدازاں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی وقار المدینہ عطاری نے ” عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلمکے موضوع پر سرشار اور ایمان افروز سنتوں بھرا بیان کیا جس سے حاضرین کے ساتھ ساتھ اسپیشل پرسنز نے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ (رپورٹ: عبدالقیوم عطاری راولپنڈی ڈویژن ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


18، 19 اور 20 صفر المظفر  1448ھ کو حضرت سیّدنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرسِ مبارک کے پرنور موقع پر دعوتِ اسلامی کے شعبہ مزاراتِ اولیاء کے تحت دینی خدمات سرانجام دی گئیں۔

معلومات کے مطابق عرس کے ان ایام میں مدنی مذاکرہ اجتماع منعقد کیاگیا جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے سمیت دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران اور دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ زائرین و عقیدت مندوں کے لیے قرآن خوانی، فاتحہ خوانی،فلوں کے قیام، سنتوں بھرے بیانات، درس، شارٹ کورسز اور سیکھنے سکھانے کے حلقوں سمیت علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

یہ تمام سرگرمیاں دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات اور اولیائے کرام سے محبت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں ۔(رپورٹ: کامران علی عطاری شعبہ مزاراتِ اولیاء ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)